Search This Blog

Sunday, July 10, 2016

10 جولائی 2007

آ ج صبح آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل زور دار دھماکوں سے اچانک میری آنکھ کھلی، پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوتا اور میرے کمرے کی کھڑکی لرزجاتی۔ایسی گھبراہٹ جو عام طور پر کسی اچانک واقع یا زلزلے سے ہوتی ہے اور آدمی فورا ادھر ادھر بھاگتا ہے ایسی گھبراہٹ تو نہیں ہوئی۔ لیکن کلیجہ منہ کو آرہا تھا اور میں خلاف معمول اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا، یہ دھماکے ایک تسلسلے کے ساتھ تقریبا ہمارے گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہورہے تھے۔ میں گھر کے باہر سروس روڈ کے کنارے لگے درختوں کے نیچے فٹ پاتھ پر کافی آگے تک ٹہلتا اور پھر دوسری طرف ٹہلتا ٹہلتا کافی دور تک چلا جاتا۔
یہ باالکل ایسا ہی منظر تھا جیسے کسی پھانسی کے مجرم کو گھر والوں سےآدھی رات کو آخری ملاقات کروائی جاتی ہے اور پھر وہ جیل کے باہر فجرکا انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ اپنے پیارے کی لاش وصول کرلیں۔ جی باالکل میں بھی اسی کیفیت میں فجر اور پھر فجر کے بعد والی صورتحال کے انتظار میں ٹہلتا رہا۔
دھماکے مارٹر گولوں اور راکٹ لانچر کے لگ رہے تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک آدھ دھماکہ اتنا زور دار ہوتا کہ زمین بھی کانپ جاتی،شاید ٹینک یا توپ کا گولا فائر ہوتا ہوگا۔اب دھماکوں کے ساتھ ساتھ گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی شروع ہوچکی تھی، کچھ دیر کے بعد ہمارے محلے کی الفلاح مسجدکے موذن نے فجر کی آذان دی،اس کی آواز بھی دھیمی تھی، غم اور دکھ کی کپکپاہٹ سے بھری آذان ختم ہوئی تو میں سیدھا مسجد گیا،وضو کیا، موذن صاحب دوست تھے ہم نے خلاف معمول ایک دوسرے سے صرف نظریں ہی ملائیں بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
نماز کے بعد تازہ ترین صورتحال کو جاننا پہلی ترجیح تھی، میرے پاس ٹی وی،انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولت نہیں تھی۔ چنانچہ میں انتظار کرنے لگا کہ سروس موڑ پر واقع پٹھانوں کا چائے والا چھپر ہوٹل کھلے اور وہاں ایک کپ چائے کے بدلے ٹی وی پر خبریں سن لوں۔ چنانچہ ایک بار میں وہاں گیا لیکن ابھی ہوٹل بند تھا، کچھ دیر سڑک پرٹہلتا رہا، اب دھماکوں کی آوازیں کم پڑھ گئیں تھیں لیکن گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھی بھی آرہی تھی۔ اتنے میں ہوٹل والے بھی آگئے، جنہوں نے خلاف معمول صفائی کرنے پہلے ہی ٹی وی آن کردیا، اور چند لمحوں میں ہوٹل کھچاکھچ بھر گیا۔
جب ٹی وی آن ہوا تو نیوزکاسٹر نے کہا ہم غازی عبدالرشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چنانچہ اچانک ان سے رابطہ ہوا اور انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں نیوزکاسٹر کےسوالوں کے جواب دینے کے بجائے اپنی چند وصیتیں کیں، پھر جامعہ حفصہ کی اندر کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہرطرف لاشوں کے دھیڑ لگے ہوئے ہیں، میری والدہ کو ابھی ابھی ایک گولی ہے اور میں ان کے سرہانے بیٹھا ان کو رخصت کررہا ہوں۔ یہ میرے آخری الفاظ ہیں شاید پھر میں آپ کو انٹرویو نہ دے سکوں کیونکہ ہمیں ہر صورت قتل کردیاجائے گا۔عبدالرشید غازی کی ٹیلی فون کال پر بھی مسلسل گولیوں کی آواز آرہی تھی اور پھر اچانک ٹیلی فون لائن کٹ گئی۔
پورے ہوٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا کسی کو غم کے مارے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، میں بھی گھر واپس آگیا اور پھر چند گھنٹوں کے بعد اطلاع ملی کہ مسجد فتح ہوگئی ہے اور غازی عبدالرشید اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ تو سات جولائی 2007 کا واقع ہے۔ اس سے ٹھیک ایک سال قبل جولائی کا پہلا ہفتہ تھا، میں کسی روزنامے میں ملازمت کے حصول کے لئے گیا تو انہوں نے مجھے کام کے لئے فائنل کرنے کے بعد کہا آپ کسی معروف شخصیت سے اپنے حق میں ایک تصدیق نامہ بنا کر لائیں تو آپ کو رکھ لیں گے۔ چنانچہ میں اس سلسلے میں ایک معرف صحافی جو میرے دوست تھے ان کے پاس گیا، انہوں نے اپنی طرف سے ایک چھوٹا سا خط غازی عبدالرشید کے نام لکھا کہ ان کو تصدیق نامہ بنا کردیں۔ وہ خط لے کر میں غازی عبدالرشید کے پاس گیا، جب میں جامعہ حفصہ میں داخل ہوا تو پوچھتے پوچھتے غازی صاحب کے کمرے تک پہنچا اس وقت ان کے پاس کسی یونیورسٹی کے چند سٹوڈنٹ بیٹھے ہوئے تھے، میں سلام کرنے کے بعد ایک طرف بیٹھ گیا، کافی دیر کے بعد جب وہ سٹوڈنٹ چلے گئے تو میں نے کہا کہ فلاں روزنامے میں کام کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا ہے کہ کسی مشہور شخصیت سے تصدیق نامہ بناکرلائیں، لہٰذا میں آپ کے پاس حاضرہوا ہوں کہ آپ مجھے تصدیق نامہ بنا کردیں۔ پہلے تو غازی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا میں تو مشہور شخصیت نہیں ہوں آپ کسی صحافت کی لائن کے بندے کے پاس چلے جائیں تو میں نے کہا میں فلاں صحافی کے پاس گیا تو انہوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ غازی صاحب نے میرا بہت اکرام کیا، ساری صورتحال معلوم کی اور پھر مجھے کہا کہ تصدیق نامے میں یہ لکھنا ہوتا ہے کہ  میں اس شخص کو جانتا ہوں یہ بہت ایمان دار اور اچھا انسان ہے،میں آپ کے بارے میں بدگمانی نہیں کرتا  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں، میں آپ کو جانتا نہیں، کیا جب میں ایسی بات لکھوں گا تو یہ جھوٹ نہیں ہوجائے گا؟
میں خاموش رہا ، تو انہوں نے پھر مجھے کہا آپ بتائیں نا کیا یہ جھوٹ نہیں ہوگا؟ میں نے کہا جی ! ایسا ہی ہے یہ جھوٹی تحریر ہوگی۔ تو فرمایا۔ میرے دوست میری جھوٹ بھولنے کی عادت نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں مجھے جھوٹ لکھنا چاہیے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر غازی صاحب بار بار مجھ سے سوری اور معذرت کرتے رہے کہ ناراض نہیں ہونا ، مجھے بڑے احترام سے کھڑے ہوکرملے اور رخصت کیا۔اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ٹھیک ایک سال بعد اسی جگہ اتنا عظیم سانحہ ہوگا تو شاید میں کچھ دیر اور بیٹھ کر ان سے کچھ اور باتیں بھی کرتا، لیکن اللہ کا ایک نظام ہے آنے والے لمحے کا کسی کو کچھ معلوم نہیں کیا ہوگا

Monday, July 4, 2016

ر سالت سے تکلیف کن لوگوں کوہے۔؟۔

فرقہ واریت کیا چیز ہے۔؟
اس امت میں جتنے فتنے اٹھے ہیں وہ سارے انکار سنت ہی کی بدولت اٹھے ہیں، چنانچہ پہلافتنہ مسیلمہ کذاب کا اٹھا، جن کا نعرہ تھا: کفاناہدایۃ القرآن۔ یعنی ہمارے لیے قرآن کی ہدایت کافی ہے۔اس خوبصورت نعرے میں ساری انکار سنت موجود ہے۔ اس کے بعد خوارج کا فتنہ کھڑا ہوا، ان کا نعرہ تھا: حسبنا کتاب اللہ، ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اسی طرح منافقین کا بھی یہی مسئلہ تھا، وہ کہتے تھے ہم اللہ کو مانتے ہیں، آخرت پر یقین ہے، ہم محمد کی شخصی اطاعت کیوں کریں، لیکن سورہ نساء میں سارا زور ہی اسی بات پر دیا گیا ہے کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی اطاعت نہ کروتمہارا ایمان معتبر ہے ہی نہیں۔یہ انکار رسالت کا فتنہ ہر دور میں رہا، یہاں تک کہ ابھی قریب کے زمانے میں غلام احمد پرویز آیاجس نے قرآن سے رسالت کا تعلق توڑنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہا، البتہ اس کا اثر کافی لوگوں پر ہوا ہے۔چنانچہ اب موجودہ زمانے میں اس شیطانی کام کا جھنڈا جاوید احمد غامدی نے تھاما ہوا ہے، اور دجالی میڈیا اور ہمارے بعض چینلز جیونیوز،دنیا نیوز وغیرہ اس نئے فرقے کو خوب پروموٹ کررہے ہیں۔
اس ضمن میں ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید کے ساتھ سنت کا تعلق کیا ہے؟ قرآن نے جس چیز کو بینہ قرار دیا ہے یعنی وہ روشن چیز جو حق وباطل میں تمیز کرے وہ اللہ کے رسول ہیں جو صحیفے پڑھتے ہوئے آئے۔ رسول کو پہلے ذکر کیا جبکہ کتابوں کو بعد میں ذکرکیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب کوہِ صفا پر کھڑے ہوکر اعلان کیا تھا، اس وقت تو یہ پورا قرآن نہ تو موجود تھا اور نہ ہی آپ نے قرآن کی طرف دعوت دی بلکہ وہاں دلیل کے طور پر اپنی ذات کو پیش کیا اور کہا میں نے تمہارے درمیان چالیس سال گزارے ہیں، میں تمہیں کہوں پہاڑی کے پیچھے لشکر ہے تو مانو گے یا نہیں۔ پھر ہماری زیادہ تر فقہ قرآن میں بعد میں آئی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پہلے سے عمل کروانا شروع کردیا تھا کیونکہ وماینطق عن الہوا ان ہوا الا وحی یوحی، آپ جو بھی بولتے تھے وہ سارا وحی ہی ہوتا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: کان خلقہ القرآن۔ یعنی حضور کی سیرت واخلاق قرآن ہی تھی۔ اوراللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے، جس کا مطلب ہے آپ کی پوری سیرت اور سنت کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ ہی نے اٹھایا ہوا ہے اور آپ کی ساری سیرت اور سنت بالکل محفوظ ہے۔
اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ فرقہ واریت کیا چیزہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تہتر فرقے بنیں گے، بہتر جہنمی ہوں گے صرف ایک جنتی ہوگا، پوچھا گیا وہ کون سا ہوگا؟ تو فرمایا: ماانا علیہ واصحابی۔ یعنی وہ فرقہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہتر فرقے کون سے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں مختلف مسالک جو بنے ہوئے ہیں وہ فرقے ہیں؟ یا ہمارے ہاں مختلف مذہبی تنظیمیں جیسے تنظیم اسلامی، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت،جمعیت علمائے اسلام وغیرہ یہ فرقے ہیں؟ اس حوالے سے اچھی طرح جان لیجئے ان میں سے کوئی بھی فرقہ نہیں ہے۔ یہ سب ماانا علیہ واصحابی پر ہی ہیں۔ فرقہ واریت کی جامع مانع تعریف یہ ہے کہ جس چیز کی دین میں گنجائش ہی نہ رکھی گئی ہو، یا جہاں دین میں اختلاف کرنے کی گنجائش نہ رکھی گئی ہو وہاں اختلاف کرنا یہ فرقہ واریت ہے۔ مثلا دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی اختلاف کرنے کی گنجائش ہے، اب یہاں جو کہے نماز فرض نہیں یا نمازیں پانچ نہیں تین ہیں تو یہ فرقہ واریت ہے کیونکہ اس بات میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی۔ جبکہ نماز پڑھنی کیسے ہے اس میں اختلاف کی گنجائش ہے لہٰذا اس اختلاف کو فرقہ واریت نہیں کہہ سکتے۔ پھر اسی طرح جہاں اللہ نے اختلاف کی گنجائش چھوڑی ہو وہاں اختلاف کی گنجائش نہ چھوڑنا یہ بھی فرقہ واریت ہے۔مثلا اللہ کے نبی نے ایک مرتبہ حکم دیا کہ جلدی سے فلاں جگہ پہنچو اور عصر کی نماز وہاں پڑھنا، اب راستے میں عصر کا ٹائم نکل رہا تھا تو کچھ صحابہ نے راستے میں ہی نماز پڑھ لی اور کچھ نے کہا نہیں ہم تو وہاں پہنچ کر نماز پڑھیں گے، بعد میں اللہ کے نبی سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا دونوں نے ٹھیک کیا۔ اسی طرح ایک حدیث میں آیا داڑھی لمبی رکھو جبکہ ایک حدیث میں داڑھی کے کچھ حساب کتاب کا ذکر بھی ہے ، اب کوئی شخص کہے کہ کسی نے داڑھی کو قینچی لگائی تو وہ بدعتی ہے تو گویا اس نے اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود نہ چھوڑی تو یہ بھی ایک نوعیت کی فرقہ واریت ہے۔
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا میرے بعد تم بہت اختلاف دیکھو گے، اس وقت تم پر لازم ہے کہ تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ پھر ان خلفاء کی تشریح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے کی ہے کہ حضور کی تین خلافتیں ہیں۔ایک آپ کی سیاسی خلافت ہے، ایک آپ کی علمی خلافت ہے اور ایک آپ کی باطنی خلافت ہے۔ یہاں سیاسی خلافت کے لئے تو ہم جدجہد کررہے ہیں کیونکہ وہ ابھی موجود نہیں ہے البتہ خاص طور پر آپ کی علمی خلافت جس کے لئے ہمارے لئے رہنماء کے طورپر چاروں ائمہ(امام ابوحنیفہ،امام شافعی،امام مالک،امام احمدبن حنبل)ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی خلافت کا حق ادا کیا ہے اس کے ساتھ وابستگی اور اس خلافت کے ساتھ چمٹنے کا حکم ہے۔اس وقت جو طرح طرح کے فتنے کھڑے ہورہے ہیں ان حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس دائرے میں اپنے آپ کو پابند کریں۔جیسا کہ کہا گیا کہ درخت کی جڑوں کے ساتھ چمٹ جاو، تو وہ یہ شجرہ طیبہ ہے جس کے ساتھ چمٹنے کا حکم دیا جارہا ہے۔اگر روشن خیالی کے طوفان سے ہم بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو اس دائرے میں بند کرنا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا اصل فرقہ واریت فتنہ انکار حدیث ہے، اصل فرقہ واریت سیکولرازم ( ہمہ مذہبیت ، لادینیت ) ہے۔چنانچہ ہمارا میڈیا اس فرقہ واریت کو خوب پھیلا رہا ہے اور الزام دینی طبقات پر لگایا جارہا ہے کہ وہ فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں

Monday, June 6, 2016

سیاسی فرقہ واریت

(سید عبدالوہاب شیرازی)
سیاسی فرقہ واریت یہ عنوان شاید آپ کو عجیب سا لگے، ممکن ہے یہ لفظ آپ نے پہلے کبھی سنا بھی نہ ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کی تاریخ نہ صرف بہت پرانی ہے بلکہ یہ عنوان سیاہ ترین تاریخ رکھتا ہے۔ سیاسی تفرقہ باز ہمیشہ اپنے کالے کرتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مذہبی تفرقہ بازی کا واویلا کرتے رہے ہیں۔سیاسی تفرقہ بازی کے مختلف لیول ہیں، ایک انٹرنیشنل سطح کی سیاسی تفرقہ بازی ہے اور ایک ملکی سطح کی تفرقہ بازی۔
جس طرح تمام شعبوں میں سیاست کو تفوق حاصل ہے، باقی دنیا جہان کے شعبے سیاست کے ماتحت ہی ہیں اسی طرح فرقہ واریت میں بھی سیاسی فرقہ واریت کو باقی تمام فرقہ واریتوں پر برتری حاصل ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مذہبی فرقہ واریت کی خفیہ سرپرستی اور قیادت درحقیقت سیاسی لوگ ہی کرتے آئے ہیں، یعنی مذہبی فرقہ واریت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ سیاستدانوں کی پشت پناہی کے بغیر چل سکے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاستدان ایسا کیوں کرتے ہیں، تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے مذہبی لوگوں کو استعمال کرنا صدیوں پرانی بات ہے۔
فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کوئی بھی ہو، چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، لسانی ہو یا علاقائی ہر ایک انتہائی بُری اور بیانک نتائج رکھتی ہے۔لیکن سیاسی تفرقہ بازی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیںکہ مذہبی فرقہ واریت معاشرے کے لئے ناسور ہے۔ جی! یقینا یہ بات بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور تفرقہ بازی صرف معاشرے ہی نہیں بلکہ پوری انسایت کے لئے ناسور ہے۔
اگرملکی سطح کی سیاسی فرقہ واریت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ ایک پاکستانی قوم کو سینکڑوں سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا ایسا دشمن بنا دیا گیا ہے کہ اب سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے عسکری ونگ بھی بنالئے ہیں۔ہمارے ملک میں تین چار بڑے سیاسی فرقے ہیں، باقی چھوٹی چھوٹی فرقیاں تو بے حساب ہیں۔ ان فرقوں کے نمائندے روزانہ شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک مختلف چینلز پر آکر اپنے اپنے فرقے کی مدح سرائی اور مخالف فرقے کی خرابیوں کو بیان کرنا جہاد سمجھتے ہیں۔سیاسی فرقہ بازوں میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی وقت اپنا فرقہ تبدیل کرلیتے ہیں چنانچہ کل کا یزید آج کا حسین بن جاتا ہے۔
مذہبی فرقہ واریت سے جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی درحقیقت سیاسی فرقہ واریت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ خالصتا سیاسی فرقہ واریت نے اس دنیا کو کیا دیا:
٭پچھلے چند سالوں میں صرف کراچی شہر میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں 25ہزار لوگ قتل ہوئے۔ ٭مقبوضہ کشمیر میںسیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ ٭برما میں ہزاروں مسلمانوں کو بدھ متوں نے قتل اور دو لاکھ کو ملک بدر کیا۔ ٭2001سے اب تک امریکا افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔ ٭80ءکی دہائی میں روس نے افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،50لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے۔ ٭90ءکی دہائی میں امریکا نے عراق پر حملہ کرکے15لاکھ انسانوں کو قتل کیا اور بعد میں سوری کرکے فرشتہ بن گیا۔ ٭1992ءبوسنیا میں ایک لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا،20لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے،20ہزار عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1994ءمیں روانڈا (عیسائی ملک) میں صرف اور صرف100دنوں میں 10 لاکھ انسانوں کو قتل اور5لاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1975ءکمبوڈیا میں صرف4سالوں میں20لاکھ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭امریکا نے پچھلے 200سال میں دنیا کے70ملکوں میں1ارب30کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔
1948 سے اب تک اسرائیل 51لاکھ فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ٭1945ءامریکا نے ایک منٹ میں بم گرا کر80ہزار جاپانیوں کو سیاسی تفرقہ بازی میں قتل کیا۔ ٭1943ءبرطانوی حکمران چرچل نے بنگلہ دیش میں مصنوعی قحط پیدا کرکے 70لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا۔ ٭1942میں اسٹالن نے کریمیا کے اڑھائی لاکھ شہریوں کو صرف30منٹ میں شہر سے نکلنے کا حکم دیا اور پھرزبردستی اٹھا اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ٭پہلی جنگ عظیم میں2کروڑ انسان قتل کیے گئے۔ ٭دوسری جنگ عظیم میں6کروڑ انسان قتل ہوئے۔ ٭ہٹلر نے اپنے دور حکومت میں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭لینن روسی حکمران نے اپنے دور حکومت میں2کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭اسٹالن نے اپنے دور حکومت میں6کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭نپولین(عیسائی لیڈر) نے 50لاکھ انسانوں کوقتل کیا۔ ٭سری لنکا میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر حکومت اور باغیوں کی لڑائی میں ایک لاکھ انسان قتل ہوئے۔ ٭یگوڈا (کمیونسٹ پولیس آفیسر) نے 10لاکھ انسانوں کو تشدد کرکے قتل کیا۔ ٭جنرل لوتھر وون نے لمیبیا میں ایک لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭شاکازولو افریقہ کا حکمران، جس نے 20لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭ماوزے تنگ چین کے کمیونسٹ حکمران نے 5کروڑ انسانوں کو سیاسی بنیادوں پر قتل کیا۔ ٭روس نے اٹھارویں صدی کے آخر میں قفقاز کے15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،نقل مکانی کرنے والے اس سے الگ ہیں۔ ٭گیارہویں صدی میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں25000000 اڑھائی کروڑ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭سکندر اعظم (عیسائی حکمران) نے 10لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭چنگیز خان نے ایک گھنٹے میں17لاکھ 48ہزار انسانوں کو قتل کرنے کا ریکارڈ بنایا، کل 4کروڑ انسان قتل کیے۔
یہ ساری تاریخ نہیں بلکہ چند ایک نمونے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کو ختم کرکے پورے ملک کی عوام کو ایک امت بنایا جائے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم قرآن وسنت کی رہنمائی میں اسلام کے درخشندہ اصولوںکے مطابق اپنا سیاسی نظام وضع کریں۔

Tuesday, April 5, 2016

د و اہم خبریں

گذشتہ ایک دو ماہ سے پاکستان میں قائم دینی اداروں، مدارس ومساجد کے منتظمین کی طرف سے مدارس ومساجد کو دہشت گردی کے اڈے قرار دے کر ان کے خلاف کریک ڈاون،چھاپے،بلاجواز گرفتاریوںاور ڈرانے دھمکانے کے خلاف پُرزور تحریک شروع کرنے کے حوالے سے تیاریاں کررہے تھے۔ اس سلسلے میں لاہور کے گلشن اقبال پارک میں3اپریل کو عظیم الشان استحکامِ پاکستان کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور تشہیر بھی زور شور سے جاری تھی، توقع کی جارہی تھی کہ اس کانفرنس میں لاکھوں کی تعداد میں علمائ، ائمہ اور مدارس کے طلباءشرکت کریں گے، اور حکومت کو ایک واضح پیغام دیں گے۔ لیکن کانفرنس سے دو تین روز قبل جب کانفرنس کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں اور سٹیج تیار کیا جارہا تھا اس دوران اسی گلشن اقبال پارک لاہور میں سٹیج سے کچھ فاصلے پر بم دھماکہ ہوا جس میں 74کے لگ بھگ بے گناہ بچے اور خواتین شہید ہوگئیں اور300لوگ زخمی ہوئے۔ فوری طور پر اس دھماکے کا الزام بھی ایک قاری صاحب یا دوسرے الفاظ میں مدارس پر لگا دیا گیا۔انتظامیہ نے اس دھماکے کو خود کش حملہ قرار دیا۔ حالانکہ کہ یہ بات اب بہت پرانی ہوچکی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے اکثر دھماکے خود کش نہیں بلکہ بم دھماکے ہوتے ہیں، جنہیں انتظامیہ خود کش قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتی ہے۔ کیونکہ بم دھماکے کی صورت میں پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ خود کش حملہ آور کو روکنا ناممکن ہوتا ہے اس لئے ہر دھماکے کو خود کش قرار دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔اب تک کی تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور انتظامیہ بھی اقرار کر چکی ہے کہ گلش اقبال پارک میں خود کش حملہ نہیں ہوا بلکہ بم دھماکہ ہوا ہے جو کسی بیگ،یا گاڑی وغیرہ میں رکھا گیا تھا۔
دوسری اہم خبر یہ ہے کہ مدارس،علماءاور دینی طبقات کو ڈرانے،دھمکانے اور دہشت گردی کے الزامات لگانے اور ملک کو سیکولرریاست قرار دینے کے خلاف ملک کی تمام دینی،مذہبی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔اس سلسلے میں منصورہ لاہور میں ایک عظیم الشان اجتماع ہوا جس میں 35جماعتوں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 77ئ کی نظام مصطفی تحریک کی طرز پر موجودہ حالات میں ایک تحریک شروع کی جانی چاہیے۔77ئ کی نظام مصطفی تحریک جس وقت کامیابی کے قریب پہنچی تو جنرل ضیاءالحق سے مارشلاءلگوا کر اس تحریک کو بڑی چالبازی سے ختم کردیا گیا۔اور دینی قیادت بھی ان چالبازیوں میں آگئی اور ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ اس کے مقابلے میں اگر بھارت کے مسلمانوں کو دیکھا جائے تو وہاں صرف11فیصد مسلمان ہیں لیکن انہوں نے 1985ئ میں بھرپور تحریک چلا کر اسلام کے عائلی قوانین کے حوالے سے اپنے مطالبات منظور کروالئے چنانچہ اب بھارت میں مسلمانوں کے عائلی قوانین وہاں کی کسی عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ جبکہ پاکستان میں96فیصد مسلمان ہیں لیکن یہاں کے مسلمانوں کی بے حسی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ 1967ءسے ہمارے عائلی قوانین غیر شرعی ہیں جو ایک منکر حدیث پرویز کے بنائے ہوئے ہیں۔اگر ہندوستان کے گیارہ فیصد مسلمان پرامن تحریک چلا کر عظیم ہندو اکثریت سے اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں تو کیا پاکستان کے 96فیصد مسلمان اپنے مطالبات نہیں منوا سکتے۔؟
چنانچہ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ دینی قیادت ایک پرامن تحریک چلانے جارہی ہے۔ ابتدائی طور پر 25رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو تحریک کے کام کا طریقہ کار وضع کرے گی، اور پروگراموں کو تشکیل دے گی۔ منصورہ میں ہونے والے اس عظیم اجتماع سے حکومت کتنی بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کو فون کرکے کہا کہ جب بھی ملک پر کڑا وقت آیا ملک کی مخلص اور محب وطن قیادت نے صوفیاءکرام کی تعلیمات کے عین مطابق حکمت اور تدبر کے ساتھ قوم کو درپیش مشکلات سے نکالا، آئندہ بھی میں ذاتی طور پر آپ سے سمیت تمام معاملہ فہم اور تحمل مزاج قیادت سے رابطہ رکھوں گا تاکہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے میں مدد مل سکے۔گفتگو میں طے پایا کہ معاشرے میں برداشت اور تحمل کا ماحول پیدا کرنے کےلئے کوششیں کی جائیں گی۔
وزیر داخلہ کی ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی نظام مصطفی کی بات کی جاتی ہے تو اس طبقے کو تحمل وبرداشت اور صوفیائے کرام کی تعلیمات یادآجاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا صوفیائے کرام کی تعلیمات یہ تھیں کہ نظام مصطفی کو نہ لایا جائے؟ ملک کو لبرل اور سیکولر قرار دینے کے اعلانات حکمران خود کریں۔؟چنانچہ ہمیشہ کی طرح اب بھی یہ خطرات ہیں کہ ملک میں کوئی بڑا حادثہ،سانحہ کروا کر یا دینی قیادت میں اختلافات کو ہوا دے کر اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ خاص طور پر ایسے مواقع پر فرقہ وارانہ فسادات کو چھیڑنے کی کوشش پرانا طریقہ ہے، لہٰذا اس پرانے طریقے کو بھی آزمایا جاسکتا ہے اور نئے نئے طریقے بھی لانچ کیے جاسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی قیادت اللہ اور اس کے رسول کے لئے اتحاد اور اتفاق کا مظاہر کرتے ہوئے، کسی قسم کی چالبازی میں آنے سے اپنے آپ کو بچائے۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان قائم ہونے کے بعد 1949ءمیں قرارد مقاصد کے منظور ہونے کے بعد پاکستان اپنے وجود کے مقصد یعنی نفاذ اسلام کی طرف بڑھ رہا تھا بلکہ قریب پہنچ چکا تھا اس وقت 1953ءمیں قادیانی فتنہ کھڑا کرکے تحفظ ختم نبوت کی تحریک لانچ کروا کر سب کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا گیا۔اب بھی اگر کوئی تحریک واقعتا شروع ہوتی ہے تو ایسا کچھ بھی ہوسکتا ہے جس کے لئے دینی قیادت کو پہلے سے سوچنا چاہیے، کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔
(سید عبدالوہاب شیرازی)
fb.com/nukta313


Monday, February 22, 2016

تیسری جنگ عظیم شروع ہوچکی ہے۔۔؟

سعودی فوج کے میجنر جنرل فہد بن عبداللہ المطیر نے ”شمال کی گرج“ کے عنوان سے جاری فوجی مشقوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تیاری کرنا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبداللہ المطیرنے جمعہ کے روز’شمال کی گرج‘ مشقوں کا دورہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سےبڑی مشقوں کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجی افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے جنرل المطیر کا کہنا تھا کہ شمال کی گرج مشقوں میں حصہ لینے والے جوانوں کو شیڈول کے مطابق اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ہدف کے تعین، عسکری تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے عسکری اور جنگی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’شمال کی گرج‘ مشقوں کے ذریعے ہم ان مشقوں میں شامل ممالک کی فوج کی جنگی مہارتوں کو بہتربنانے میں معاونت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حربی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان مشقوں کے بہترین اور مثبت نتائج جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے جنگی مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مشقیں اسلامی دنیا کی جانب سے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا اعتراف ہے۔ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جیتنا اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن واستحکام کا پیغام پہنچانا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مشقوں ’شمال کی گرج‘ میں متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سینیگال، سوڈان، کویت، مالدیپ، مراکش، پاکستان، چاڈ، تیونس، جزائرالقمر، جیبوتی، سلطنت آف اومان، قطر، ملائیشیا، مصر، موریتانیہ، مارشیس اور دیگر ممالک کے فوجیں حصہ لے رہیں۔ یہ فوجی مشقیں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔
“شمال کی گرج” کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں شریک ممالک کی تعداد اور مختلف اقسام کے فوجی ساز وسامان کے علاوہ جدید ترین ہتھیاروں اور اسلحے کے لحاظ سے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشق ہے۔ مشقوں میں 20 ممالک کے جدید ترین جنگی طیاروں، توپوں، ٹینکوں، فوجی دستوں، طیارہ شکن نظام، بحری افواج کی وسیع پیمانے پر شرکت صلاحیتوں کے اس حجم اور اعلی درجے کی عکاس ہے جو یہ ممالک رکھتے ہیں۔یہ مشقیں اس بات کا بھی واضح پیغام ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے شریک دوست اور برادر ممالک تمام تر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور خطے کا امن واستحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ان متعدد مقاصد کو بھی باور کرا رہی ہیں جو خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے مکمل تیاری کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
گذشتہ چھ سات ماہ پہلے سے ہی حالات کے تیور دیکھ کر ہی کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ 2016کے شروع تک تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، بلکہ کئی ماہرین نے تو یہاں تک بھی حساب کتاب لگالیا ہے کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ کون کون سے ملک متاثر ہوں گے اور کون کون سے ملک کم متاثر ہوں گے۔ اب چونکہ واقعتا حالات تیسری جنگ عظیم کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ جہاں تک اس جنگ کی تباہ کاریوں کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ ابھی سے ہی شام کے حالات، وہاں کے مختلف شہروں ”حمص‘ وغیرہ کے کھنڈرات، کروڑوں لوگوں کی ہجرت، لاکھوں کی شہادت اور بے یارومددگار بھوکے پیاسے پڑے ہوئے لوگوں سے کیاجاسکتا ہے۔شام ہی وہ ملک ہے جو حقیقی قیامت کا میدان بنے گا، لیکن اس حقیقی قیامت کے آنے سے پہلے بھی وہاں قیامت کا منظر ہے، عجیب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف ایران ،روس اور بشارالاسد کی فوجیں ہیں تو دوسری طرف امریکا کی سربراہی میں نیٹو اتحاد۔ بظاہر دونوں کے مفادات الگ الگ ہیں لیکن دونوں فریق شام کے مظلوم مسلمانوں کو ہی بمباری کا نشانہ بنا رہے ہیں۔جبکہ تیسری طرف 34اسلامی ممالک کا اتحاد سعودی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔ اسی طرح ترکی نے بھی شام میں گھس کر کاروائیاں شروع کردی ہیں، اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کا اس طرح کاروائیاں کرنا دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دھکیلنا ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد مسلمان ممالک نے ہمت کرکے کھلے عام نہ صرف اتنا بڑا اتحاد قائم کیا ہے بلکہ سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کرکے دنیا کو واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جنگی مشقیں شروع ہوتے ہی ان کا سب سے پہلا اثر روس پر پڑا ہے چنانچہ روس نے بشارالاسد کو وارننگ دی ہے کہ شام کے مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے ورنہ روس کسی بھی وقت اس اتحاد سے الگ ہوسکتا ہے۔ان تمام حالات سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ یہ جنگ مزید تیز ہوگی، اور حالات بالکل اسی طرف جارہے ہیں جن کی طرف احادیث میں واضح طور پر اشارے موجود ہیں۔ایسے حالات میں ہمیں بھی ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت کی دعا کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

Wednesday, February 17, 2016

فرقہ واریت اور مولانا طارق جمیل

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
گذشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں زید حامد نے مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف کافی باتیں کیں، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی شور شرابہ ہوا، اور پھر ایک دو ن بعد پنجاب حکومت نے بھی تبلیغی جماعت پر تعلیمی اداروں میں تبلیغ کرنے پر پابندی لگا دی۔ چنانچہ اس شور شرابے میں مَیں اس طرف متوجہ ہوا کہ دیکھوں تو سہی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے، میں نے پہلے ایک ویڈیو دیکھی پھردوسری اور کرتے کرتے ایک ہفتے میں بیسیوں ویڈیو اور بیانات مولانا طارق جمیل صاحب کے سن لیے۔ وہ چند باتیں جو ان کے ہر بیان میں تھیں ان کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔ان باتوں کو پڑھ کر آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پابند ی کس کے حکم سے لگی۔
اللہ کے واسطے میری سنو! آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو،فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو، مسلم بن کے رہو،مومن بن کے رہو۔جس فرقے سے ہو تمہیں مبارک ہو،جس مسلک پر ہو تمہیں مبارک ہو۔ اللہ کے واسطے اور وںکو بھی مسلمان سمجھو۔اوروں کو بھی ایمان والا سمجھو، اوروں کے لئے بھی جگہ بناو۔اوروں کو بھی راستہ دو، جنت بہت بڑی ہے۔خود جنت کے ٹھیکیدار نہ بنو، اسلام کے ٹھیکیدار نہ بنو، اللہ کے ٹھیکیدار نہ بنو، تھانیدار نہ بنو اوروں کے لئے بھی راستہ کھلا رکھو۔جوبھی تمہارا مسلک ہے دل میں رکھو، اوپر چھاپ نہ لگاو، چھاپ امت کی لگاو۔ایک دوسرے پر توپیں کَسی ہوئی ہیں، یہ کافر وہ کافر۔پھر دنیا میں مسلمان ہے کون؟میری فریاد ہے، نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، شہائیوں میں کسی کا نوحہ کون سنتا ہے؟لیکن میں کہوں گا(روتے ہوئے)مجھے پتا ہے میں اس فرقہ واریت کی آگ کو نہیں بجھا سکتا لیکن میں اللہ کی بارگاہ میں ابراہیم کا کبوتر بن کر پیش ہوں گا۔
ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں علماءسے کہتا ہوں اللہ کے واسطے امت کو دین سمجھاو فرقے نہ سمجھاو۔ اس ممبر کو محبت کے لئے باقی رکھو۔ اس ممبر سے آگ نہ بڑکاونفرتوں کی۔میں تمہیں کہتا ہوں بچو ایسی تقریروں سے ایسی کتابوں سے جن سے تم دوسرے مسلمان کے لئے نفرت لے کر اٹھو۔ہروقت دوسروں پر چڑہائی، کبھی اپنے اوپر بھی چڑہائی کیا کرو۔میں علماءکو ہاتھ جوڑتا ہوں، ہاتھ جوڑتا ہوں جب ممبر پر آو تو اسلام پیش کرو، امت کو ٹکڑوں میں تقسیم مت کرو۔
ایک اور بیان میں کہا:
مجھے بتاو تم میرے نبی کے ساتھ کیا کررہے ہو؟ وہ تمہیں فرقوں میں بانٹ کر گئے تھے یا امت بنا کر گئے تھے؟ کیوں اس نادان کھیل میں اپنی زندگی برباد کرتے ہو؟کیوں نہیں مسلمان بن کر رہتے ہو؟ اس امت میں اختلاف شروع سے ہے ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک نہ جاو کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا شروع کردو۔سنیوں نے کہا وہابی کافر، وہابیوں نے کہا سنی کافر۔بریلویوں نے کہا دیوبندی کافر، دیوبندیوں نے کہا بریلوی کافر۔جنت میں کون جائے گا؟کچھ بھائیو میرے نبی کی محنت کی قدر کرو۔میرے نبی تو غیروں کو اپنا بنانے آئے تھے ہم نے اپنوں کو غیر بنادیا۔اس نفرت کی آگ سے کتنے سر کٹ چکے، کتنے سہاگ اجڑ گئے،کتنی مائیں بے آسرا ہوگئیں، کتنی جوان بیٹیوں کی مانگ ویران ہوگئی،(روتے ہوئے) کیا اسی کا نام اسلام ہے؟ اسی کا نام عشق رسول ہے؟اسی کو دین کہتے ہیں؟
ایک دوسرے کی مسجدوں میں نہیں جاتے ہو، ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھتے ہو۔جنت کے ٹھیکیدار بن گئے ہو۔میرے نبی تو عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھانے کھڑے ہو گئے تھے، جس کا کفر ابوجہل سے بھی بڑا ہے۔ ابوجہل اوپر کی دوزخ میں ہے، عبداللہ بن ابی نیچے کی دوزخ میں ہے۔یہ دین تم کہاں سے لائے ہو جس میں تم فرقوں میں بٹ گئے ہو۔نفرتوں کی آگ تم نے لگا دی ہے۔ یہ کہاں سے اسلام آیا ہے؟میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں امت بن کر رہو، مسلم بن کر رہو۔ اپنے اپنے عقیدے پر پکے رہو، دوسرے کے لئے گنجائش رکھو۔
پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
 ہائے کفر کے فتوے،میں دھماکوں سے اتنا پریشان نہیں، کیونکہ جو مررہے ہیں شہید ہو رہے ہیں، اور جو ظالم ہیں اگر یہاں نہ پکڑے گئے تو ایک دن اللہ نے رکھا ہے۔ اس سے میرا ملک تباہ نہیں ہوگا اس سے میرے ملک میں طاقت آئے گئی، کیونکہ قربانی سے طاقت آتی ہے۔حضرت حسین نے قربانی دی جبکہ شمر،یزید نے ظلم کیا ان کا نام ونشان مٹ گیا۔جوچیز مجھے تڑپاتی ہے، رولاتی بھی پھر میں فریاد بن کر بولتا ہوں۔فرقہ واریت،فرقہ واریت،فرقہ واریت۔ممبر رسول محبت کے لئے ہے فرقہ واریت کے لئے نہیں ہے۔لیکن ہمارا خطیب آتا ہے ایسی تقریر کرتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں آگ لگا دیتا ہے۔اور ایک کو دوسروں سے متنفر کرکے نکل جاتا ہے، وہ اپنے پیسے کھرے کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں آگ بھر کے چلا جاتا ہے۔یہ میرے دیس کا سب سے بڑا روگ ہے۔معاملات میں سود،سود ، سب سے بڑا روگ ہے۔دین میں فرقہ واریت سب سے بڑا روگ ہے۔اور معاشرت میں بداخلاقی سب سے بڑا روگ ہے۔یہ وہ سوراخ ہیں جہاں سے پانی گیا تو کشتی ڈوب جائے گی، ملاحوں کو کیا گلا دینا کہ جب مسافر ہی کلہاڑیاں لے کر، کدالیں لے کر، آریاں لے کر تختوں کو کاٹ رہے ہیں۔میں ہواوں کو کیا کہوں میں طوفانوں کا کیوں گلہ کروں۔
تواِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں،تیری رہبری کا سوال ہے
انگلینڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
اللہ کے واسطے امت بنو، اس امت میں اختلاف رہے گا۔ اختلاف کے باوجود محبت کا حکم دیا گیا ہے۔لیکن ہماری نفرت یہاں تک چلی گئی ہے کہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے،ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں۔ کسی کو کافر کہنا اتنا آسان ہے؟، اچھا چلو وہ اگر کافر ہے لیکن کہتا یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں تو ایسے شخص کو میرے نبی نے سینے سے لگانا سکھایا ہے، دھکہ دینا تو نہیں سکھایا۔عبداللہ بن ابی سے بڑکر کون کافر ہوگا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا۔ جہنم کے ساتھ قید خانے ہیں، ۱۔جہنم۲۔حطمہ۳۔لظی۴۔سعیر۵۔سقر۶۔جحیم۷۔ہاویہ۔ ابوجہل چھٹے درجے جحیم میں ہے جبکہ عبداللہ بن ابی ساتویں درجے ہاویہ میںہے۔میرے نبی نے تو منافقوں کو بھی سینے سے لگایا، (اس کا جنازہ پڑھایا،کرتا دیا، اپنا لعاب اس کے منہ میں ڈالا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا)۔عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اپنے باپ کو دیا تو اس نے یہ کہہ کر پینے سے انکار کردیا کہ پیشاب لے آو وہ پی لوں گا یہ نہیں پیوں گا۔ اس کے بیٹے نے اپنے باپ اس توہیں پر قتل کرنے کی اجازت مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لوگ کہیں گے محمد اپنے پاس بیٹھنے والوں کو قتل کرتا ہے۔تم اس کی امت ہوکر فرقہ واریت میں بٹ گئے، تم کیا میسج دے رہے ہو پوری دنیا کے مسلمانوں کو۔چھوٹے چھوٹے اختلاف پر یہ کافر وہ کافر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک منافق کا پتا تھا کہ فلاں فلاں منافق ہے لیکن آپ نے زندگی بھر کسی کو نہیں بتایا، سب کو سینے سے لگایا ہے۔
اپنے مدرسے کے طلباءکو خطاب کرتے ہوئے کہا:
 میں آپ سے کہتا ہوں اپنے عقائد پر پختہ رہو لیکن دیوبندی بن کرنہ چلو، بلکہ امتی بن کر چلوامتی بن کرچلو، اس بھڑکتی آگ کو بجھانا ہے، بڑھانا نہیں بجھانا ہے۔تبلیغ کے کام نے یہ فاصلے مٹائے ہیں، تبلیغ کا کام نہ ہوتا تو کتنی بڑی تباہیاں انسانیت کو دیکھنی پڑتیں۔تو آپ کا سال شروع ہورہا ہے، آپ بہت اچھے بچے ہو، بہت نیک بچے ہو۔میری مدد کرو میں آپ کی مدد کا محتاج ہوں۔جس کی اتنی زیادہ اولاد ہو،دو تین سو بیٹے ہوں اور سارے دعا کررہے ہوں تو اللہ کسی کی تو سنے گانا، ایک یہ کہتا ہوں کہ دیوبندی بن کر نہ چلوامت بن کر چلو، ہم عقائد میں اہل سنت والجماعت ہیں۔بریلوی مفتی محمدخان قادری صاحب کی اس بات پر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ دیوبندی، بریلوی،اہل حدیث سب اہل سنت والجماعت ہیں۔میں یہ سینہ دیکھنا چاہتا ہوں، گھٹا ہوا سینہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ آپ اپنے سوا کسی کو جنتی ہی نہ سمجھو، اپنے سوا سب کو گمراہ سمجھو۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
مذہبی تعصب کی آگ زرعی یونیورسٹی سے نہیں اٹھی، وہ گورنمنٹ کالج، گورنمنٹ یونیورسٹی سے نہیں اٹھی،وہ فیصل آباد کے آٹھ بازاروں سے نہیں اٹھی۔یہ آگ ممبر سے بھڑکائی گئی ہے۔اس کے قصور وار پروفیسر نہیں ہیں، عوام نہیں ہیں، اس کے قصور وار ممبر والے ہیں۔جو ممبر محبت کے لئے تھا وہی ممبر نفرت کی آگ آگ آگ، تقریر نہیں ہوتی شعلے نکل رہے ہوتے ہیں۔اور اس میں گھر نہیں جلتے بدن جل رہے ہیں، ایمان جل رہے ہیں۔اور اس حد تک نفرت ہے کہ ایک دوسرے کو سلام بھی نہیں کرتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔ اس نفرت کے ساتھ ہم اللہ کی قسم اللہ کی نظروں سے گِر جائیں گے۔جو تمہارا عقید ہے اس پر پکے رہو لیکن کسی کو جہنمی نہ کہو، کسی کو جھٹ سے کافر نہ کہو۔

Monday, February 15, 2016

رشتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
اس وقت پاکستان میں تین کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ تین لاکھ سے زائد لڑکیاں شادی کے خواب دیکھتے دیکھتے شادی کی عمر گزار چکی ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں دو سے زائد لڑکیاں ہیں۔ہر آٹھویں گھر میں لڑکیوں کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور انہیں موزوں رشتے دستیاب نہیں۔
لڑکیوں کے والدین اچھے کھاتے پیتے لڑکے کے انتظار میں لڑکیوں کو گھر بٹھائے رکھنے پر مجبور ہیں جب ان لڑکیوں کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور 35 سال کی ہو جاتی ہیں تو پھر وہ اَن پڑھ اور عام رشتے ہی قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جبکہ لڑکے لڑکیوں سے تعلیم کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔ بیس سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شرح دس فیصد بھی نہیں رہی لڑکے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا بہانہ اور نوکری لگنے کا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ لڑکیوں کی شرح پیدائش بھی لڑکوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں شادی مزید گھمبیر مسئلہ بن جائے گی ان خطرناک حالات میں ترغیب نہیں بھر پور تحریک کی ضرورت ہے۔
جب کسی چیز کی بہتات ہوجائے تو اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے، لوگ اس کی قدر نہیں کرتے، اس کی حفاظت نہیں کرتے، اس پر چوکیدار نہیں بٹھاتے، اسے چھپاتے نہیں، اگر کوئی اس کی ناقدری کرے تو پرواہ نہیں کرتے۔ مثلا آپ پانی کو لے لیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ نے پانی وافر مقدار میں دیا ہے ، پینے کے لئے ہمیں مفت میں دستیاب ہے، آپ کسی سے پانی کا گلاس مانگیں ، کسی ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے پانی کا گلاس پی لیں آپ سے کوئی پیسے نہیں مانگے گا، آپ پانی کا گلاس گرا دیں آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔پانی کے مقابلے میں آپ پٹرول یا سونے کو لے لیں یہ دونوں قیمتی چیزیں ہیں لوگ ان کی قدر کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، چوکیدار بٹھاتے ہیں اگر کسی کے پاس سونا ہوتو ہرکسی کو نہیں بتاتا کہ میرے پاس سونا ہے اسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہ دونوں قیمتی ہیں ، مقدار میں کم ہیں، مانگ زیادہ ہے۔یہ اصول تقریباً ہر چیز کا ہے۔بالکل اسی طرح کا معاملہ اس وقت عورت کا بھی ہے۔ دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔اس قدروقیمت کو ختم کرنے میں ہمارے دشمن کے ساتھ ساتھ ہماری عورت کا اپنا قصور بھی ہے۔لوگوں کی بیٹیوں کو رشتے نہیں مل رہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ، زنا عام ہورہے ہیں، جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہوجائے اس معاشرے میں زنا سستا ہوجاتا ہے۔آپ نکاح کا تصور کریں آپ کے ذہن میں فوراً ڈیڑھ دو لاکھ کا بجٹ آجائے گا، لیکن زنا کا سوچیں تو صرف چار پانچ سو میں دستیاب ہے(نعوذ بااللہ)۔بعض والدیں اپنی بیٹیوں کو کسی کے ساتھ دوستی لگاتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں مگر صرف نظر کرلیتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ کسی طریقے سے دوستی لگ جائے اور ہماری بیٹی کو رشتہ مل جائے۔اگر آج کے مسلمان نبیوں اور صحابہ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے ایک سے زائدشادیاں کرنا شروع کردیں تو کنواری عورتوں کی تعداد کم ہوجائے گی، جس سے ان کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا۔ مانگ زیادہ ہوگی تو قیمت بڑھ جائے گی، لوگ اپنی بیٹی کو چھپا کر رکھیں گے بے دین بھی اپنی بیٹی سے پردہ کروائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے سے پیدا کی ہے:(انا کل شءخلقناہ بقدر)ہم نے ہر چیز کو ایک متعین اندازے سے پیدا کیا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شی کو حکمت کے ساتھ ایک اندازے سے پیدا کیا ہے تو جس خالق نے مردوں میں عورتوں سے زائد جنسی رغبت رکھی اس نے اسی حساب سے مردوں کے مقابلے میں زائد عورتوں کو پیدا بھی کیا ہوگا، تاکہ ایک مرد اپنی اس فطرت کے موافق عورتوں کو خواہ وہ عورتیں اپنی قوم کی ہوں یا اگر اپنی قوم میں عورتوں کی تعداد کم ہو تو دوسری اقوام کی عورتوں سے نکاح کرکے بیک وقت متعدد کو بسہولت نکاح میں جمع بھی کرسکتے۔بیل ، گائے، بکرا، بکری اور مرغا، مرغی وغیرہ میں نرومادہ کی شرح پیدائش اس لئے برابر ہوتی ہے کہ ان اجناس میں ”نر“ ذبح ہونے اور گوشت کھانے کے لئے یا کسی اور طرح سے مرنے کے لئے ہوتے ہیں، توالدوتناسل کے لئے صرف ایک نر متعدد مادہ کے لئے رکھا جاتا ہے۔عین اسی اصول کے مطابق عجیب بات ہے کہ وہ قوم جس کے مرد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے کثرت سے قربان اور شہید ہونے لگیں تو مشاہدہ ہے کہ اس قوم میں اللہ تعالیٰ لڑکوں کی شرح پیدائش بڑھادیتے ہیں۔چنانچہ افغانوں کے ہاں سنا ہے کہ لڑکوں کی شرح پیدائش لڑکیوں سے زیادہ ہے۔فلسطین میں بھی یہی صورتحال ہے۔
اولیا کی طرف سے نکاح میں بے جا تاخیربھی تشویش ناک صورتحال اختیار کرچکی ہے،بعض والدین کی یہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچی کے لئے آنے والے پیغام نکاح کو فضول قسم کی باتوں کی وجہ سے رد کردیتے ہیں۔ مثلا بعض والدین کئی کئی پیغام نکاح مہر کی زیادتی کی تلاش میں ٹھکرا دیتے ہیں، بعض لڑکے میں یا اس کے خاندان میں فضول قسم کے عیب نکال کر پیغام نکاح ٹھکرا دیتے ہیں، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی عمر کا ایک بہترین حصہ گزار لیتی ہے اس کے بعد اس کے پیغام آنا بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ ساری عمر گھر میں گزارتی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب کسی گھر میں کوئی بچی جوان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کے دل میں یہ الہام کرو کہ وہ جا کر اس بچی کا رشتہ مانگیں ، فرشتے مختلف لوگوں کے دلوں میں یہ الہام کرتے ہیں کہ وہ جا کر فلاں لڑکی کا رشتہ اپنےلڑکے کے لئے مانگیں ، اس طرح کچھ لوگ اس بچی کا رشتہ مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔ اب اگر بچی کے والدین سمجھدار ہوں تو وہ اس پیغام نکاح کو قبول کرلیتے ہیں ورنہ جب وہ اس پیغام نکاح کو ٹھکراتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اب اپنی بچی کے لئے رشتہ خود تلاش کرو اس طرح پھر انہیں رشتہ نہیں ملتا اور وہ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ ہماری بچی کا رشتہ نہیں آرہا۔
ایسے والدین کے بارے میں علمائے حنابلہ جن کا مذہب ہے کہ بلا اجازت ولی عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک بھی اگر کسی لڑکی کا باپ زیادہ مہر کی لالچ میں لڑکی کو گھر میں بٹھائے رکھے اور پے درپے متوجہ ہونے والے رشتوں کو مسلسل رد کرکے بچی کے نکاح میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بن رہا ہو تو اس عمل سے لڑکی کے باپ کی ولایت ساقط ہو جائے گی۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک جید حنبلی عالم شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ ایک فتوے میں فرماتے ہیں:آپ نے بعض لوگ دیکھے ہوں گے کہ جنہیں ان کی بچی کےلئے نکاح کا پیغام بھیجا جاتا ہے اور پیغام بھیجنے والا اس لڑکی کا ہم پلہ(کفو) بھی ہوتا ہے مگر اس کا باپ اسے مسترد کردیتا ہے، پھر ( اس جیسا) کوئی دوسرا پیغام بھیجتا ہے اسے بھی اور پھر اس کے بعدایسے کسی تیسرے کو بھی مسترد کرتا رہتا ہے تو جو شخص ایسی عادت کا ہو تو بچی کے نکاح کے معاملے میں اس کی ولایت ساقط ہوجائے گی اور اس باپ کے سوا کسی دوسرے قریبی ولی کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرادے(اگرچہ باپ راضی نہ ہو)۔
آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔
 خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
poly

Tuesday, February 2, 2016

اپنے بچوں کو سوشل سائنس پڑھائیں

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
دنیا کے کامیاب ترین لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یا دنیا پر حکمرانی کرنے والے لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اور اس پر کچھ تبصرہ آج کا میرا موضوع ہے۔دنیا میں کامیاب ترین رہنماوں کی 55فیصد تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سائنسی علوم نہیں حاصل کیے، بلکہ ان کی کامیابی کا راز غیر سائنسی علوم تھے۔یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ برٹش کونسل کی ایک تحقیق اور سروے کی رپورٹ ہے جو اس نے 30سے زائد ممالک کے 1700افراد پر کی۔تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماوں نے سوشل سائنس اور ہیو مینٹیز کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیو مینٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔
پولٹیکل سائنس اور سوشل سائنس یعنی سماجی علوم یا معاشرتی علوم وہ علوم ہیں جن میں ہم لوگ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ یہی وہ علوم ہیں جن کو پڑھ کر یا مہارت حاصل کرکے کچھ لوگ دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں، چونکہ ان کو ان علوم کی اہمیت کا خود اندازہ ہے اسی لئے وہ اپنے بچوں کو بھی یہی علوم پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ یورپ وغیرہ میں ڈاکٹری،انجینئرنگ وغیرہ سیکھنے یا پڑھنے کا اتنا زیادہ رجحان نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک کے ڈاکٹر اور انجینئرز دھڑا دھڑ یورپ ایکسپورٹ ہورہے ہیں۔ یورپ والوں کی نظر میں میڈیکل سائنس، الیکٹریکل سائنس، کمپیوٹر سائنس وغیرہ عام سے کام ہیں اسی لئے ان کاموں کے لئے وہ دوسرے محکوم ممالک سے لوگوں کو بلاکر ملازم رکھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ڈاکٹری ایک پیشہ ہے لہٰذا وہ اس پیشے والے کو تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں جبکہ اپنے بچوں کو وہ سوشل سائنس،پولٹیکل سائنس پڑھاتے ہیں تاکہ ہمارے بچے حکمرانی کریں اور باقی لوگ ڈاکٹر،انجینئرز وغیرہ ہمارے ملازم ہوں اور ہمارے ماتحت رہ کر ہماری خدمت کریں۔ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی سے فراغت حاصل کرکے پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والے لڑکوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات کی لالچ دے کر امریکا لے گیا۔ میرا ایک جاننے والا سپین میں رہتا ہے ایک دن فون پر بات ہورہی تھی اس نے کہا میرے دانت میں درد ہے آج ڈاکٹر کے پاس گیا تھا اس نے ٹوکن دے دیا ہے اب پندرہ دن بعد میری باری آئے گی پھر وہ چیک کرے گا اور دوا دے گا، اس نے بتایا یہاں ڈاکٹر بہت کم ہیں اس لئے چیک اپ کروانے کے لئے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ ہمارے پاکستان میں ہسپتالوں میں مریضوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں، اگر کسی مریض کو دس منٹ بھی انتظار کرنا پڑے تو منہ چڑھا لیتا ہے۔ہرسال ہزاروں پاکستانی میڈیکل،انجینئرنگ اور دیگر فنون میں اعلیٰ تعلیم سے فراغت کے بعد بڑی آسانی سے یورپ میں سیٹ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہاں ان کی بہت ڈیمانڈ ہے وہاں کے مقامی لوگ ان چیزوں میں خود دلچسپی نہیں رکھتے وہ یہ کام دوسرے لوگوں سے لیتے ہیں، خود نگرانی اور ایڈمنسٹریشن کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی جو چند خاندان پچھلے ساٹھ ستر سال سے سیاست کرتے آرہے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو سوشل سائنس اور پولٹیکل سائنس ہی پڑھاتے ہیں کیونکہ ان کو بھی اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔
یہ علوم اصل میں تو ایک مسلمان کے لئے ضروری تھے، کیونکہ اللہ نے اسے زمین پر اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا، نبی اللہ کے خلیفہ ہوتے تھے،اللہ کا آخری خلیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے، پھر ان کے بعد نائبین تھے۔ لیکن مسلمانوں نے نبی کا نائب بننے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی چنانچہ آج غیرمسلم اقوام دنیا پر حکمرانی کررہی ہیں اور مسلمان ان کی غلامی میں ان کی خدمت اور محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے بھی بکریاں چَرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں، میں قریش کی بکریاں چرایا کرتا تھا چند قیراط پر(مشکوة)۔ علماءنے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی نے آگے جاکر قوم کی قیادت کرنی ہوتی ہے، قوم کو لے کر چلنا ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ بچپن میں نبی سے بکریاں چروا کر اس کی تربیت فرماتے ہیں ، کیونکہ ایک چرواہا سینکڑوں بکریوں کو کنٹرول کرتا ہے کبھی کوئی بکری ایک طرف بھاگتی ہے کبھی دوسری طرف اسے بھاگ بھاگ کر ان کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اس طرح اس کی تربیت ہوتی ہے کہ انسانوں کے بے لگام ہجوم کو کس طرح اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔
موجودہ دور میں جس طرح ہر چیز نے ترقی کی ہے اسی طرح بکریاں چروا کر جو تربیت ہوتی تھی وہ بھی اب باقاعدہ ایک علم بن گیا، جو بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔اسی علم کو آج سوشل سائنس، پولٹیکل سائنس ،عمرانیات وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے۔سمجھدار لوگ ان علوم میں مہارت حاصل کرکے لوگوں کے دل ودماغ اور وجود سے کام لیتے ہیں ۔سوشل سائنس اور سماجی علوم کی کئی شاخیں ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے اپنے کاروبار چلاتی ہیں، وہ ماہرین لوگوں کی نفسیات کے مطابق پروڈکٹ میں تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں، اسی طرح ایڈورٹائزنگ کا شعبہ بھی ایسے ہی لوگ چلاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی طبقہ جن کے اخلاص للٰہیت اور دینی خدمات میں کوئی شک نہیں، بدقسمتی سے ان علوم سے نابلد رہا۔ بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ایک خاص سازش کے تحت اس طبقے کو باقاعدہ منظم منصوبہ بندی سے محروم رکھا گیا، اور اس کام کے لئے علماءکی سادگی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ جس طرح ایک تین چار سال کا بچہ ضدی ہوتا ہے، کبھی اسے کہیں دودھ پیو تو وہ کہتا ہے میں نہیں پیوں گا۔ پھر اسے کہو یہ دودھ نہیں پینا تو وہ کہتا ہے میں ضرور پیوں گا، اسی طرح علماءکو مرحلہ وار اس سٹیج پر لایا گیا کہ وہ ضد میں آگئے اور انہوں نے جدید علوم کو سیکھنے سکھانے سے انکارکردیا۔ جن لوگوں نے اس سٹیج تک لایا انہوں نے اس بات پر اور پکا کرنے کےلئے کئی حربے آزمائے، الٹے سیدھے کام کرکے علماءکو کہتے کہ یہ پڑھاو ، علماءضد میں آکر کہتے نہیں ہم نہیں پڑھائیں گے۔ چنانچہ اس طرح پچھلی دو صدیوں سے دینی طبقے کو بالکل دیوار سے لگا دیا گیا۔ اب چند سال ہوئے کہ دینی طبقے کو ہوش آیا اور انہوں نے کچھ نہ کچھ اس طرف توجہ کی ہے،لیکن ظاہر ہے اس کے نتائج برآمد ہونے میں چالیس پچاس سال تو لگیں گے، اگر یہ کام پچاس سال پہلے کیا ہوتا تو آج بڑے بڑے دینی ماہرین حکومت،فوج،عدلیہ اور دیگر اداروں میں قیادت کررہے ہوتے۔ان علوم سے ناواقفیت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ علماءکو یہ لوگ اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس بات کا احساس تک علماءکو نہیں ہوتا، ویسے تو اس کی کئی مثالیں ہیں لیکن میں ایک مثال دیتا ہوں، چند سال قبل ایک چینل پر ایک طویل ڈرامہ قسط وار چلنا شروع ہوا، اس چینل نے روٹین کے مطابق اس کی ایڈورٹائزنگ کی یعنی ٹی وی، اخبارات وغیرہ میں۔ اس کے ساتھ ساتھ علماءکے ذریعے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ کرانے کا فیصلہ ہوا، چنانچہ چند لوگوں کوایسے مختلف علماءکے پاس بھیجاجو خطیب اور مقرر تھے، ان لوگوں نے مختلف شہروں میں علماءسے مل کر انتہائی نیازمندی سے کہاحضرت فلاں چینل پر ایک ڈرامہ شروع ہونے والا ہے، اس ڈرامے میں قرآن پاک کی توہین کی گئی ہے،آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ چنانچہ خطیب صاحبان نے نہ تحقیق کی اور معلومات لیں، بس ایک سنی سنائی بات پر جمعے کی تقریروں میں مسجد کے ممبر ومحراب سے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ شروع ہوگئی،کہ فلاں ڈرامے کو بندکیا جائے، حکومت ایکشن لے، اب لوگوں میں بھی تجسس پیدا ہوا اور پورے ملک کی عوام اس ڈرامے کو دیکھنے لگی۔ ظاہر ہے اس ڈرامے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی اس لئے حکومت یا عدلیہ کو کسی قسم کا ایکشن لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
اگر ہم ان مفید علوم سے اسی طرح کنارہ کش رہے تو دوسرے لوگ ہمیں اسی طرح اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہیں گے۔ اگر ہم قوم کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں قیادت کرنے علوم میں مہارت ،تعلیم اور تربیت بھی ضرور حاصل کرنی ہوگی۔ڈاکٹر محمد رفعت پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ لکھتے ہیں: مسلمان طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ سماجی علوم کی اہمیت کو طبعی علوم سے کم نہ سمجھیں۔ ان علوم کو مغربی دنیا میں جس طرح ترتیب دیا گیا ہے اس کا تنقیدی جائزہ لیں۔ صحیح اور غلط تصور کائنات میں امتیاز کریں اور انسانی وجود اور کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ان نشانیوں کا ادراک کریں جو درست تصور کائنات کی تصدیق کرتی ہیں۔ مغربی افکار پر تنقید کے ساتھ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ مبنی برحقیقت تصور انسان و کائنات کے مطابق، معلومات کو ترتیب دیں اور نئی معلومات کی دریافت و تحقیق کا کام اس جذبے کے ساتھ انجام دیں کہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جو ان عالم گیر قدروں پر استوار ہو جن کو انسان کی فطرت صالحہ پہچانتی ہے اور وحی الٰہی جن کی تصدیق کرتی ہے۔

Friday, January 29, 2016

امیر ہونے کا نسخہ

یہ خواہش تو ہر ایک کے دل میں ہوتی ہے کہ میں امیر ہوجاوں۔ امیر ہونے کا نسخہ ایک اعتبار سے نہایت آسان بھی ہے اور ثابت قدمی دکھانے کے اعتبار سے نہایت مشکل بھی۔تو لیجئے چند واقعات ملاحظہ کریں اور پھرہوجائیں امیرترین۔
اس وقت دنیا کی امیر ترین قوم یہودی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے مال میں سے 20% نکال کر خیرات کرلیتے ہیں، چونکہ اللہ کا یہ قانون دنیا میں سب کے لئے برابر ہے کہ خرچ کرنے والے کو 10 گنا منافع ملے گا، اسی وجہ سے ان کو اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔یہ بات بڑی عجیب سی ہے کہ صرف ایک کروڑ یہودی دنیا کی 60 پرسنٹ دولت کے مالک ہیں جب کہ سات ارب انسان 40 پرسنٹ دولت پر تصرف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اہم ترین 90فیصد ادارے ان کے ہیں مثلاآئی ایم ایف،نیویارک ٹائمز، فنانشل ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ریڈرزڈائجسٹ، سی این این، فاکس ٹی وی، وال سڑیٹ جرنل، اے ایف پی، اے پی پی، سٹار ٹی وی کے چاروں سٹیشن سب یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ شائد ہم میں سے چند ایک نے ہی اس بات پر غور کیا ہوکہ یہودیوں کی دن دوگنی رات چوگنی دولت بڑھنے کا راز کیا ہے؟عقدہ یہ کھلا کہ ہزاروں سال سے یہ قوم اس بات پر سختی سے قائم ہے کہ ہر یہودی اپنی آمدنی کا 20 فیصد لازمی طور پر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں فیس بک کے مالک نے اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں اپنی دولت میں سے 45ارب ڈالر خیرات کرلئے۔
لاہور میں ایک ہسپتال ہے شائد آپ میں سے کسی نے دیکھی ہو، اس ہسپتال کا نام ہے منشی ہسپتال۔یہ ہسپتال جس شخص نے بنایا اس کا نام منشی محمد تھا یہ نہایت ہی غریب شخص تھا ، بازار میں کھڑا ہوکر کپڑا بیچا کرتا تھا، اسے کسی نے بتایا تم اپنے مال میں سے کچھ فیصد مقرر کرکے مستحق لوگوں پر خرچ کرو بہت فائدہ ہوگا، چنانچہ اس نے 4فیصد مقرر کردیئے اور ہر مہینے اپنے منافع میں سے 4فیصد خرچ کرتا رہا ، کچھ ہی عرصے بعد اس کا کاروبار بڑھنے لگا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فیکٹری کا مالک بن گیا وہ اسی طرح چار فیصد خرچ کرتا رہا اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اس کی آمدن کا چار فیصد کروڑوں میں نکلنے لگا،چنانچہ اس نے کروڑوں روپے مالیت کی ایک ہسپتال بنائی، جنرل ضیاالحق نے اس کا افتتاح کیا ، وہ ہسپتال آج بھی لاہور میں منشی ہسپتال کے نام سے فلاحی کام کررہی ہے۔
میرے ایک جاننے والے نے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے باقاعدگی کے ساتھ پانچ فیصد خرچ کروں گا چنانچہ اس نے اپنے جیب پرس کے ایک خانے میں ٹرسٹ قائم کیا، بال پن کے ساتھ اس پر ٹرسٹ بھی لکھ دیا اور پھروہ اپنی تنخواہ جو اس وقت 8000ہزار تھی اس میں سے ہر مہینے 5فیصد نکال کر کسی مسجد مدرسے یا غریب کو دینے لگا ، وہی آٹھ ہزار جن سے اس کے اپنے ذاتی اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے ان میں اتنی برکت ہوگئی کہ اس نے گھر والوں کو بھی دینا شروع کردیا ، کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے کام چھوڑ کر ایک اور جگہ پر گیا وہاں اس کی تنخواہ صرف چھ ہزار مقرر ہوئی یعنی آٹھ سے دو ہزار کم، لیکن وہ پانچ فیصد دیتا رہا اللہ نے ان چھ ہزار میں اتنی برکت رکھی کہ پہلے تو آٹھ ہزار سے اپنے ذاتی خرچے پورے نہیں کرسکتا تھا لیکن اب ایک سال بعد مہنگائی کے باوجود صرف چھ ہزار میں نہ صرف اپنے بلکہ اپنے بیوی بچوں کے تمام اخراجات پورے کرنے لگا۔اس دوران اسے کیا کیا اور کیسے کیسے فائدے ہوئے وہ بیان نہیں کرسکتا اس سے متاثر ہو کر اس نے پانچ فیصد کو بڑھا کر 10 فیصد کردیا جس سے مزید مجھے فائدہ ہونا شروع ہوا، پھر ایک سال کے بعد اس نے مزید اضافہ کر کے 20 فیصد کردیا اور اب الحمداللہ میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ 20 فیصد اپنی آمدن میں سے فورا نکال لیتا ہے۔اس کا کہنا ہے مجھے احساس ہے کہ میں ابھی بھی کوئی کمال نہیں کررہا کیونکہ 20 فیصد تو یہودی بھی خرچ کرتے ہیں انشااللہ میرا عزم ہے کہ عنقریب میں بحیثیت مسلمان ہونے کے یہودیوں کو پیچھے چھوڑوں گا۔
لاہور کے ایک نوجوان نے 1997میں ایم ایس سی کیا، پھر وہ جاب کے سلسلے میں بہت پریشان تھا، اسلام آباد میں ایک روحانی بزرگ کے پاس دعا کروانے کے لئے حاضر ہوا، انہوں نے اس نوجوان سے کہا بیٹا دو کام کرو، ایک تو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرو اور دوسرا اس کاروبار میں اللہ کو اپنا پارٹنر بنالو، یہ کام مردوں کا ہے ، صرف عزم با لجزم رکھنے والا مرد ہی کر سکتا ہے اگر کاروبار کے نیٹ پرافٹ میں پانچ فیصد اللہ تعالیٰ کا شیئر رکھ کر اللہ تعالی کے بندوں کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری نہ کریں تو لازما آپ کا کاروبار دن رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا۔یہ 1997 کا سال تھا ،اس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ تھا ، اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اسی ایک ہزار روپے سے اس نے بچوں کے پانچ سوٹ خریدے اور انار کلی بازار میں ایک شیئرنگ سٹال پر رکھ دیے۔دو دن میں تین سو روپے پرافٹ ہواتھا تین سو روپے میں سے اس نے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کی راہ میں دے دیئے تھے۔پھر اور سوٹ خریدتا اور اصل منافع میں سے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کے نام کا شیئر مخلوق پر خرچ کرتارہا۔ یہ پانچ پرسنٹ بڑھتے بڑھتے چھ ماہ بعد 75 روپے روزانہ کے حساب سے نکلنے لگے یعنی روزانہ کی آمدنی تقریبا سات سو روپے ہو گئی ایک سال بعد ڈیڑھ سو روپے ، تین سال بعد روزانہ پانچ پرسنٹ کے حساب سے تین سو روپے نکلنے لگے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ تین سال بعد اسے روزانہ چھ ہزار بچنا شروع ہو گئے تھے۔ اب سٹال چھوڑ کر اس نے تین کروڑ روپے کی دوکان لے لی تھی۔اس نے بتایا کہ روزانہ میری آمدن کا پانچ فیصد ایک ہزار نکل آتا ہے جو خلق خدا پر خرچ کر دیتا ہے۔گویا اب آمدنی روزانہ بیس ہزار روپے ہے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ " بزنس" میں اس نے آج تک بےمانی نہیں کی۔
ایک محاورہ ہے " دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنا" آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد کا کیا وطیرہ ہے۔
٭51 سالہ ٹی وی میزبان " اوہراہ دنفرے " ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی مالک ہے وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بے سہارا بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کرتی ہے۔
٭ اٹلی کے سابق وزیراعظم "سلویابرلسکونی" اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ مشہور زمانہ فٹبال کلب " اے سی میلان" انہی کی ملکیت ہے۔ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں ، سالانہ تقریبا پانچ کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔
٭ بل گیٹس دس سال تک دنیا بھر کا امیر ترین شخص رہا، اس کی دولت کا اندازہ 96 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، وہ اپنی آرگنائزیشن "بل اینڈ اگیٹس فاونڈیشن" کے پلیٹ فارم سے سالانہ 27 کروڑ ڈالر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔
٭ مشہورومعروف یہودی " جارج ساروز" دس ارب ڈالر سے زائد کے مالک ہیں ہر سال دس کروڑ ڈالر انسانی فلاحی اداروں کو دیتے ہیں۔
 انفاق فی سبیل اللہ قرآن کی ایک خاص اصطلاح ہے جو تقریبا ہر سپارے میں آپ کو نظر آئے گی۔قرآن حدیث میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے ایمان والو جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کر لو اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ بیع ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارش۔یعنی قیامت سے پہلے پہلے ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ خرچ کرلو کیونکہ قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ وہاں دنیا کی طرح خرید وفروخت نہیں ہوگی کہ آپ پیسہ لگا کر کسی کو خرید لو اور وہ تمہاری جان بچا لے ، نہ ہی وہاں دنیا کی طرح دوستیاں کام آئیں گیں اور نہ ہی سفارشیں چلیں گیں۔ایک اور جگہ فرمایا:اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتاہے۔ یعنی سود سے بظاہر کتنا ہی مال بڑھتا رہے مگر انجام کار نقصان ہوگا، اور صدقات سے بظاہر کتنا ہی مال کم ہوتا رہے مگر اللہ تعالیٰ اس آدمی کے مال کو بڑھاتے ہیں۔اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں دس گنا فائدہ دیتے ہیں اور آخرت میں ستر گنا منافع ملے گا۔
ایک بار مدینے میں قحط آگیا بازاروں سے بھی غلہ ختم ہوگیا، لوگ سخت پریشان تھے، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ 1200 اونٹ غلے کے مدینے کی منڈی میں آگئے لوگ حیران تھے کہ کس تاجر کا مال ہے ، پھر پتا چلا کہ یہ مال حضرت عثمان کا ہے جو انہوں نے شام سے منگوایا ہے ، چنانچہ مدینے کے تمام تاجر مال خریدنے کے لئے آگئے ، بولی لگنا شروع ہوئی کسی نے کہا ہم 40 روپے من کے حساب سے لیں گے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کم ہے ، دوسرے تاجر نے کہا میں 50 روپے من کے حساب سے لوں گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کم ہے الغرض بولی بڑتی رہی اور بالاخر ایک جگہ پر آکر تمام تاجر خاموش ہوگئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے اس سے زیادہ بولی تو کوئی تاجر نہیں دے گا آپ کو کتنا منافع چاہئے؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس تاجر سے میں نے سودا لگایا ہوا ہے وہ مجھے دس گنا منافع دے گا اور آخرت میں ستر گنا دے گا یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سارا مال لوگوں میں فری تقسیم کردیا۔
 حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے زمانے میں دو بھائی تھے جنہیں ایک وقت کا کھانا میسرآتا تھاتو دوسرے وقت فاقہ کرنا پڑتا تھا۔ ایک دن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی خدمت میں عرض کیا:آپ جب کوہ طور پر تشریف لے جائیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ ہماری قسمت میں جو رزق ہے وہ ایک ہی مرتبہ عطا کر دیا جائے تاکہ ہم پیٹ بھر کر کھالیں" چنانچہ بارگاہ الہیٰ میں دعا قبول ہوئی اور دوسرے دن انسانی شکل میں فرشتوں کے ذریعے تمام رزق دونوں بھائیوں کو پہنچا دیا گیا۔انہوں نے پیٹ بھر کر تو کھایا لیکن رزق خراب ہونے کے ڈر سے انہوں نے تمام رزق اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا۔ اگلے دن پھر ملائکہ کے ذریعے انہیں رزق مہیا کر دیا گیاجو کہ شام کو پھر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا گیا اور روزانہ ہی خیرات ہونے لگی۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: یا باری تعالی ان دونوں بھائیوں کی قسمت میں تو تھوڑاسا رزق تھا۔ پھر یہ روزانہ انہیں بہت سا رزق کیسے ملنے لگ گیا؟۔ندا آئی موسیٰ جو شخص میرے نام پر رزق تقسیم کر رہا ہے اسے میں وعدے کے مطابق دس گنا رزق عطا کرتا ہوں۔ یہ روزانہ میرے نام پر خیرات کرتے ہیں اور میں روزانہ انہیں عطا کرتا ہوں۔
اگر کسی کو یہ توفیق مل جائے تو اس عمل کو برقرار رکھنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، ایک ریاکاری سے بچیں اور دوسری تکبر سے بچیں کیونکہ انسان کے دل میں خیال آتا ہے کہ میرا پیسہ بہت لوگوں میں تقسیم ہورہا ہے ، چنانچہ شیطان دل میں تکبر پیدا کرتا ہے اور پھر یہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔

Monday, January 18, 2016

امت اور فرقہ

’’امت‘‘ امت ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو ہم خیال اور ہم مقصد لوگوں پر مشتمل ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 23سال محنت کرکے امت بنائی، اور ایسی امت بنائی کہ دشمن بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسی تعلیمات دیں کہ ان تعلیمات کو صرف دیکھ کر ہی کافر،دشمن،منافق مسلمان ہوجاتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے امت کو توڑ کر فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک حدیث میں ہے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطہ حیات اور نظام علم وعمل ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرات سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ،کتاب العلم)
چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فرقہ باز علماء( اتنے سخت حالات میں بھی جب پوری دنیا کا کفر ایک ایک کرکے مسلمان ملکوں میں تباہی پھیلا رہا ہے) فرقہ پرستی پھیلا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر اور شرک کے فتوے دیے جارہے ہیں۔ انڈیا کے ایک شہر مراد آباد میں ایک بریلوی مسلک کا شخص فوت ہوگیا، اس کا جنازہ دیوبندی مولوی نے پڑھایا تو ایک مفتی نے فتویٰ دے دیا جس جس نے اس دیوبندی کے پیچھے جنازہ پڑھا ہے ان سب کا نکاح ٹوٹ گیا، چنانچہ جوجو لوگ اس مفتی کی بات پر یقین کرنے والے تھے ان سب کا اجتماعی نکاح ایک حال میں ہورہا تھا جسے انڈیا کا میڈیا بریکنگ نیوز کے طور پر دکھا رہا تھا۔ اسی طرح ایک مفتی نے فتویٰ دیا کہ مسجد نبوی اور حرم کے اماموں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، سوچنے کی بات ہے کہ ہم تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کو گھسنے نہیں دیتے جبکہ اللہ اتنا کمزور ہوگیا کہ اس کے محبوب کی مسجد پر صدیوں سے گستاخ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں؟۔ ایسے مولوی،مفتی اور نام نہاد علماء زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہیں جو امت کو توڑ توڑ کر فرقوں میں تقسیم کرکے ان کے مال پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔کبھی یہ فتوے دیے جاتے ہیں کہ فلاں مسجد میں نماز نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں مسجد سوائے اللہ کے کسی کی نہیں ہے۔ ہارون الرشید نے ایک بار غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تو آج رات تک میرے ملک سے باہر نہ نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ بعد میں ہارون الرشید نے فورا علماء کو طلب کیا کہ اس کا کوئی حل بتائیں، سب نے کہا اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ رات آنے سے پہلے پہلے اپنی بیوی کو اپنے مُلک سے باہر نکال دیں، لیکن ملک اتنا بڑا تھا کہ یہ ناممکن تھا کہ رات آنے سے پہلے باہر نکال دیا جائے۔ پھر ہارون الرشید نے کہا امام ابوحنیفہ کا کوئی شاگرد ہو تو اسے بلائیں اس سے بھی کوئی حل پوچھ لیتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب کے شاگرد یعقوب (قاضی ابویوسف) کو بلایا گیا، انہوں نے کہا اس کا تو آسان حل ہے، اپنی بیوی کو آج رات مسجد میں ٹھہرا دو، کیونکہ مسجد آپ کا ملک نہیں یہ اللہ کا گھر ہے کسی کی ملکیت نہیں اور دلیل قرآن سے دی کہ: وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ مسجدیں اللہ کی ہیں پس اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
آج ہم نے مسجدوں کو تفرقہ بازی کا مورچہ بنالیا ہے، مسجد کا ممبر جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور وہ ممبر رسول ہے، اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہاں سے مسلمانوں کے لئے کفر کے فتوے سنائے جارہے ہیں۔ چلیں باالفرض اگر کسی مسلک والا کافر بھی ہو کیا اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا جائز ہے جیسا رویہ ہم اپنے مقتدیوں اور شاگردوں کو سکھا رہے ہیں؟ ابی ابن کعب سے بڑا کافر کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے بھی کافر تھے ان کے بارے میں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو نہیں معلوم تھا، ایک عبداللہ بن ابی تھا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ یہ پکا منافق ہے، اس کی اسلام اور رسول دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی رہے تھے،عبداللہ بن ابی کے بیٹا جو پکا مسلمان تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا پانی مجھے دے دیں میں اپنے والد کو پلاوں گا شاید وہ ٹھیک ہوجائے۔ چنانچہ وہ جوٹھا پانی اپنے والد کے پاس لے گیا اور پیش کیا کہ یہ پانی پی لیں،عبداللہ بن ابی نے کہا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے کہارسول اللہ کا جوٹھا ہے۔ تو اس بدبخت نے کہا پیشاب لے آو وہ پی لوں گالیکن یہ نہیں پیوں گا۔بیٹے کو سخت غصہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل کردوں لیکن آپ نے اجازت نہ دی کہ لوگ کہیں گے یہ رسول اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے(کیونکہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتا تھا اورمسلمانوں میں شمار ہوتا تھا)۔ اس منافق کی موت قریب آئی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتا مانگا کہ اس میں اسے کفن دینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا اپنا کرتا اس منافق کے کفن کے لئے دے دیا، پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا، حالانکہ قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ اے رسول آپ 70مرتبہ بھی جنازہ پڑھائیں میں نہیں بخشوں گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی پڑھایا کہ اللہ نے مجھے پڑھانے سے منع تو نہیں کیا شاید اللہ بخش دے۔ پھر اس سے بھی آگے جب اسے قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے دوبارہ قبر سے نکلوایا اور اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اپنا لعاب مبارک لگایا اور اس لعاب کو اس کے منہ میں ڈال دیا، اس عمل کو دیکھ کر ایک سو منافق پکے مسلمان بن گئے۔ آپ اندازہ لگا لیں یہ منافق ابوجہل سے بھی بڑا کافر تھا کیونکہ ابوجہل جہنم کے چھٹے درجے میں ہوگا جبکہ یہ ساتویں درجے میں ہوگا، ابوجہل سے بھی نیچے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیمات دیں کہ جو بھی کلمہ پڑھتا ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے۔ آج ہم بات بات پر گمراہی اور کفر کے فتوے دیتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ امت میں انتشار اور افتراق ہے ،جس کی وجہ سے کفر اور ان کے ایجنٹ اسلام کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔وہ ہمارے اسی طرح کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور فرقہ باز مولویوں کو مخیرحضرات بن کر خوب چندے بھی دیتے ہیں تاکہ یہ فرقہ بازی والا کام اسی طرح چلتا رہے۔
آج جس ممبر رسول سے محبت پھیلنی چاہیے تھے وہاں سے نفر پھیلائی جارہی ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: اَیُّ عُرِی الاسلام اَوْثَقْ؟ یعنی اسلام کا مضبوط ترین عمل کون سا ہے؟صحابہ کرام نے فرمایا: نماز۔ آپ نے فرمایا نماز بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: زکوۃ، تو آپ نے فرمایازکوۃ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: روزہ۔ آپ نے فرمایا روزہ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: حج۔ آپ نے فرمایاحج بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا:جہاد۔ آپ نے فرمایا جہاد بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر خود ہی آپ نے فرمایا اسلام کا سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کے لئے بغض کیا جائے۔بریلوی،دیوبندی،اھل حدیث سب ایک اللہ ایک قرآن ایک رسول کو مانتے ہیں، سب مسلمان ہیں سب کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسلام کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اختلافی اور فروعی مسائل میں عوام کو ڈال کر فرقہ وایت پھیلائی جائے۔