Search This Blog

Thursday, December 29, 2016

بچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات

(سید عبدالوہاب شیرازی)
جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نام رکھ کر عقیقہ کردیا جائے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بیماری یہ بھی پائی جاتی ہے کہ لوگ ایسا کوئی نام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو پہلے سے کسی اور نے رکھا ہوا ہو۔ چنانچہ خاص طور پر عورتیں کئی کئی مہینے بچے کو بغیر نام کے پال رہی ہوتی ہیں اور اس تلاش میں رہتی ہیں کہ ہمیں کوئی نیا، انوکھا نام مل جائے جو کسی اور نے نہ رکھا ہوا ہو۔ بعض لوگ تو زیادہ اسلامی بننے کے چکر میں قرآنی نام رکھنے کے لئے خود ہی قرآن اٹھا کر پڑھنا شروع کرتے ہیں اور پھر پڑھتے پڑھتے جو لفظ اچھا لگے تو اسے بچے کا نام رکھ لیتے ہیں، چنانچہ ایسا ہی ایک صاحب نے کیا جب بچہ کافی بڑا ہوگیا تو بعد میں پتہ چلا کہ اس بچے کا جو نام رکھا گیا ہے وہ تو جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے۔اسی طرح بعض لوگ آنکھیں بند کرکے قرآنی صفحے پر انگلی رکھتے ہیں، انگلی کے نیچے جو لفظ آجائے وہی نام رکھ لیتے ہیں۔
البتہ اب کچھ شعور اور تعلیم عام ہوئی ہے تو لوگ نام کا معنی بھی دیکھتے اور پوچھتے تو ہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ نام ایسا ہونا چاہیے جو ہم نے کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ سنا نہ دیکھا ہو۔ چنانچہ اگر مجھ سے کوئی نام پوچھے تو میں جو بھی نام بتاتا ہوں لوگ کہتے ہیں نہیں نہیں یہ تو فلاں کا ہے، یہ تو ہمارے پڑوسی کا ہے، یہ تو دبئی میں ہمارے رشتہ دار رہتے ہیں ان کے بچے کا ہے، کوئی ایسا نام بتائیں جو کسی کا نہ ہو تو پھر میرا جواب ہوتا ہے وہ نام ابلیس ہی ہے جو کسی انسان کا نہیں ہے۔
ناموں کے سلسلے میں شریعت کی طرف سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہےوہ یہ ہے کہ ایک تو ساتویں دن تک نام رکھ دیا جائے۔ دوسرا انبیاء اور صحابہ کرام کے ناموں میں سے کوئی سا نام رکھ دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ اور عبدالرحمن ناموں کی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ یہ دو نام ایسے ہیں جو مسلمانوں خصوصا صحابہ وتابعین کے بچوں میں بہت عام ہوتے تھے۔اسی طرح لوگوں میں ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ بچے کا نام محمد نہیں رکھ سکتے۔ حالانکہ ایک حدیث میں اس نام کی  فضیلت بھی بیان ہوئی ہے جسے لوگوں نے اس طرح حاصل کرنا شروع کردیا ہے کہ ہر نام سے پہلے محمد لکھ دیا جاتا ہے، یہ بھی اچھی بات ہے لیکن فضیلت صرف اسی بچے کے لئے ہے جس کا نام صرف محمد ہو۔ اسی طرح بعض نام لوگوں میں غلط العام بھی ہوگئے ہیں، مثلا شُرَحْبِیْل کئی صحابہ،تابعین اور محدثین کا نام ہے۔لیکن آج کل یہ نام غلط ہو کر شرجیل مشہور ہوگیا ہے۔
اچھا نام ضرور رکھا جائے لیکن اچھے کے چکر میں نئے نام کے لئے اتنی تلاش نہ کی جائے کہ کئی کئی مہینے گزر جائیں۔ اچھا نام اگرچہ آپ کے محلے یا برادری میں کئی بچوں کا ہو آپ بھی بلا جھجک رکھ سکتے ہیں، یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایسے پسندیدہ نام بلا جھجک رکھ دیا کرتے تھے جو پہلے  سے اپنے محلے کے کئی کئی بچوں کا ہوتا تھا۔چنانچہ آج یہ حقیقت بھی جانیے کہ جنگ بدر میں صرف 313 صحابہ کرام نے شرکت کی تھی اور ان تین سو تیرہ میں کئی اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کا نام ایک ہی تھا۔ چنانچہ یہ نام پڑھتے ہوئے حیران ہوں گے کے اس وقت کے معاشرے میں کیسے لوگ ایک ہی نام رکھا کرتے تھے۔
ایک نام والے بدری صحابہ کرام:
2 ایاس، 2 جابر، 2 حاطب، 2 حمزہ، 2 خالد، 2 خباب، 2 ربیع، 2 سالم، 2 سُراقہ، 2 سنان، 2 سواد، 2 ضحاک، 2 عباد، 2 عبدالرحمن، 2 عثمان،2 عمارہ، 2 کعب، 2 محرز، 2 معبد، 2 معن، 2 معوذ، 2 وہب
3 اوس، 3 تمیم، 3ثعلبہ، 3 حارثہ، 3 زیاد، 3 سلمہ، 3 طفیل، 3 عتبہ، 3 قیس، 3 معتب، 3 منذر
4 خلاد،4 رفاع، 4 سلیم، 4 عاصم، 4 عقبہ
5 ثابت، 5 رافع،5 عبید،5 عمیر،5 معاذ
6 زید،6 سہل،6 مسعود،6 یزید
7 نعمان
8 عامر،8 مالک
11 عمرو
12 حارث
13 سعد
26 عبداللہ
32 نام ایسے ہیں جو ابو سے شروع ہوتے ہیں۔
یہ بات دبارہ ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ تعدادصرف تین سو تیرا میں سے ہے ہزاروں میں سے نہیں۔ یعنی تین سو تیرا میں سے 231 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کے ایک جیسے نام تھے اور 32 صحابہ کرام ایسے تھے جن کے نام میں ابو آتا ہے، اور صرف 48 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کا الگ سے نام تھا۔ یہ 48 نام بھی بالکل مختلف نہیں ہیں صرف ایک آدھ لفظ کا ہی فرق ہے مثلاجابر،جبر،جبار،جبیر وغیرہ
صحابہ اور تابعین کے دور میں تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ جو نئے آنے والے بچے کا نام ہے وہی اس کے باپ کا نام ہے اور وہی اس کے دادا کا نام ہے۔ مثلا محمد بن محمد بن محمدبن محمد۔
موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت کے بزرگ مفتی زین العابدین رحمہ اللہ نے اپنے چاروں بیٹوں کا نام یوسف رکھا ہوا تھا جنہیں یوسف اول دوم سوم چہارم سے فرق کیا جاتا تھا۔

Monday, December 26, 2016

عمر کے چالیس سالوں میں”علم وفکر“ کے ارتقائی اَدوار

سید عبدالوہاب شیرازی
انسان جب دنیا میں آتا ہے سب پہلے اسے صرف اتنا علم ہوتا ہے کہ ماں کی چھاتی سے دودھ کیسے پینا ہے، دنیا میں آکر اسے کوئی نہیں سکھاتا اور نہ ہی سکھانا ممکن ہوتا ہے بلکہ پیدائش کے فورا بعد اسی دن وہ ایسے دودھ پینا شروع کردیتا ہے جیسے اسے اچھا خاصا تجربہ ہے۔ یہ اللہ کی ذات ہے جو اسے یہ علم وتجربہ دے کر اس دنیا میں بھیجتی ہے،اللہ اکبر۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان عمر کے جس حصے میں ہوتا ہے اپنے آپ اور اپنی سوچ وفکر اور علم کو کامل ومکمل سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے دوسروں سے جھگڑے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ میری معلومات ناقص ہیں تو کبھی بھی جھگڑا پیدا ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحدید کی آیت نمبر بیس میں ایک انسان کی زندگی میں اس کی فکر،سوچ،علم اور ترجیحات کے مراحل کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اِعلموا انما الحیوة الدنیا لعب ولھو وزینة وتفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاولاد۔کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یہیج فترہ مصفرا ثم یکون حطاما۔ ترجمہ: خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات نے کاشت کاروں کو خوش کردیا، پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی، پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔
عام طور پر اس آیت کا لفظی ترجمہ کرکے ہم آگے گزر جاتے ہیں اور اس بات میں غور وحوض نہیں کرتے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پانچ مختلف الفاظ میں انسانی زندگی کے پانچ ادوار بیان کیے ہیں، جنہیں ہم ایک انسان کا علمی یا ترجیحاتی ارتقاءبھی کہہ سکتے ہیں۔ لعب پانچ سال سے دس گیارہ سال کی عمر کا دور ہے۔ پھر”لہو“اٹھارہ انیس سال تک کی عمر کا دور ہے۔ پھر”زینہ“اٹھائیس تیس سال تک کا دور ہے۔ پھر”تفاخر“ اڑتیس چالیس سال تک کا دور ہے اور پھر اس کے بعد تکاثر فی الاموال والاولاد کا دور ہے۔
ذرا غور کیجیے! فرمایا: جان لو دنیا کی زندگی ”لعب“ ۔”لھو“۔ ”زینت“۔ ”تفاخر“۔ اور ”مال میں کثرت کی خواہش“ کا نام ہے۔ اب آپ ہرہر لفظ کو کسی ڈکشنری کی مدد سے دیکھیں کہ ان کے معانی کیا ہیں۔
1۔مثلا پہلا لفظ ہے ”لعب“، المنجد میں اس کا معنی لکھا ہے۔ بچے کے منہ سے رال ٹپکنا، کھیلنا، ایسا فعل کرنا جس پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہو۔ چنانچہ بچوں کے اکثر افعال ایسے ہی ہوتے ہیں جن پر کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا، جیسے ریت کے گھر بنانا، کھلونا گاڑیاں چلانا، وغیرہ وغیرہ تمام کام بالکل فضول اور کھیل برائے کھیل ہوتے ہیں۔ جن میں کوئی جسمانی لذت بھی نہیں ہوتی، لیکن وہ بچہ انہیں فضول نہیں سمجھتااس کے علم اور فکرکے مطابق یہ بہت بڑے کام ہوتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص کسی بچے کی گاڑی توڑ دے تو وہ روتا ہے اور اس کو اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا دکھ تیس سال کے شخص کو ایک کروڑ کا نقصان ہونے سے ہوگا۔
2۔اس کے بعد پھر دوسری سٹیج آتی ہے (نودس سال کے بعد)جسے Teen ager stage کہاجاتا ہے۔ یہ نہایت خطرناک دور ہوتا ہے، یہاں انسان صرف کھیلتا ہی نہیں بلکہ اب اس کے کھیلوں میں لذت کا حصول بھی شامل ہوجاتا ہے، یہ آوارگیوں کا دور ہوتا ہے، اس عمر میں کھیل برائے کھیل نہیں بلکہ کھیل برائے لذت ہوتا ہے۔ اس کے لئے قرآن نے ”لھو“ کا لفظ استعمال کیاجس کا معنی المنجد میں کھیل۔بہلاوا۔شغل اور غافل کرنے کی چیز کیا گیاہے۔
3۔اس کے بعد انسان پر تیسرا دور آتا ہے، جسے قرآن نے زینت کے الفاظ سے بیان کیا ہے، اس عمرکے نوجوان خصوصا لڑکیوں کے ذہن پر جو چیز ہروقت سوار ہوتی ہے وہ فیشن ہے۔ میں خوبصور ت لگوں، خوبصورت پہنوں۔ بال، چہرہ،لباس،جوتی سمیت ہرچیز خوبصورت ہو۔ گویا ساری سوچ وفکر،احساسات اور نفسیات میں نمایاں چیز یہی زینت ہوتی ہے۔
4۔پھرچھبیس ستائیس سال کے بعد زندگی کا وہ دور آتا ہے جس میں انسان ”تفاخر“ کا شکار ہوجاتا ہے۔وہ فخریہ طور پر دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ فخر علم پر بھی ہوسکتا ہے اور مال پر بھی۔ خوبصورتی پر بھی ہوسکتا ہے اور عبادت پر بھی، اپنے کنبے قبیلے پر بھی ہوسکتا ہے اور اپنے مسلک ومذہب پر بھی۔گویا اس دور میں آدمی ہر حال میں اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
5۔پھر پینتیس چالیس سال کی عمر سے انسانی ذہن پچھلی ساری چیزوں کو فضول سمجھتے ہوئے بس ایک ہی دھن میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقے سے مال زیادہ سے زیادہ جمع ہوجائے، جسے قرآن نے ”تکاثر فی الاموال والاولاد“ سے تعبیر کیا ہے۔یعنی اس عمر میں آدمی سوچتا ہے مونچھ کٹتی ہے تو کٹ جائے لیکن پیسہ آجائے۔ یاد رہے مذکورہ پانچوں ادوار کے ہر دور میں آدمی اسی دور کو سب سے اعلیٰ،حتمی اور کامل ومکمل سمجھتے ہوئے پاگلوں کی طرح اس کام میںلگا رہتا ہے، نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحت کا اثر قبول کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ڈراوا دھمکی اس کے آڑے آتی ہے۔
علم اور ترجیحات کے اس ارتقاءسے ہر انسان کا گزر ہوتا ہے، علم ،عمر اور مشاہدہ جیسے جیسے بڑھتا ہے انسان کی سوچ میں تبدیلی آتی رہتی ہے، پہلے دو ادوار میں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ تیسرے اور چوتھے دور میں خاندان،پھربرادری اور پھر مسلک اور فرقے کے بارے سوچتا ہے۔ لیکن چالیس سال کی عمر میں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ عقل مکمل ہوجاتی ہے انسان اپنے سے باہر نکلتا ہے اور پوری قوم، ساری امت اور پھرتمام انسانیت کے بارے سوچنا شروع کردیتا ہے۔سوچ کا یہ تغیرجتناجلدی مکمل ہواتنا ہی بہتر ہے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی۔
آپ زندگی کے جس دور سے بھی گزر رہے ہیں آپ اس دور اور اس سے پہلے کے ادوار کو دیکھیں یہ حقیقت آپ کو صاف دکھائی دے گی۔ پھر آپ اپنے معاشرے کو دیکھیں، لوگوں کو دیکھیں، تنظیموں اور جماعتوں کو دیکھیں ان جماعتوں کی عمروں کو دیکھیں ان کے اندر بھی آپ کو یہی حقیقت نظر آئے گی۔اگر ایک جماعت کسی وقت اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کررہی تھی تو اب تیس چالیس سال کے بعد مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری جماعت ابھی بھی وہی سوچ رکھتی ہے جو چوبیس پچیس سال کے نوجوان کی ہوتی ہے۔

Thursday, December 22, 2016

احساس ذمہ داری اور غیرفعالیت

سیدعبدالوہاب شیرازی
          احساس ذمہ داری

ذمہ داری کا احساس یا احساس ذمہ داری ایک خاص ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت جس وقت کسی انسانی پر سوار 

ہوتی ہے تو وہ شخص اس کام کے بارے سخت بے چینی محسوس کرتا ہے، ہر وقت اسی کام کے بارے سوچتا رہتا ہے، 

اپنی توجہ کسی دوسری طرف کرنا محال ہوجاتا ہے، یہ کیفیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ کام مکمل نہ ہوجائے، 

جب کام ہوجاتا ہے تو تب انسان سکون کا سانس لیتا ہے۔چنانچہ جب یہ کیفیت طاری ہوتی ہے اس وقت انسانی ذہن 

چند باتیں مسلسل سوچ رہا ہوتا ہے۔ یہ کام کیسے ہو، یہ کام جلداز جلد ہو، یہ کام ضرور ہو، یہ کام سب کریں وغیرہ۔

شدید بے چینی کی اس کیفیت میں ہمارے ذہن پر صرف تین باتیں سوار رہتی ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ 

ضروری نہیں کہ ہمیشہ کسی کام میں تاخیر احسان ذمہ داری کے فقدان سے ہی ہوگی، کبھی کبھی اس کے کچھ دیگر عوام 

بھی ہوتے ہیں، مثلا: اگر کوئی شخص وہمی قسم کا ہے تو وہ ہروقت سوچتا ہی رہے گا، اسے کام ہونے کے بعد اطمینان 

نہیں ہوگا وہ پھر کرے گا، پھر اطمینا نہیں ہوگا تو پھر کرے گا اور اس طرح سارا وقت برباد کربیٹھے گا۔اسی طرح اگر 

کوئی شخص ریاکار یا شیخی باز ہے تو وہ بھی کام نہیں کرسکے گا کیونکہ وہ دکھلاوے کے لئے ہرکام اپنے ذمہ لے لے گا 

اور پھر کرنہیں سکے گا۔ اسی طرح بعض لوگ حد اعتدال سے زیادہ فرماں برداری کرتے ہیں وہ بھی کام کے بگاڑ کا 

باعث بن جاتے ہیں، یعنی جب انہیں کوئی کام سپرد کیا جاتا ہے تو فورا قبول کرلیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ آیا یہ کام 

میری طاقت کے بقدر ہے یا نہیں، یا کبھی کبھی ہرکام لیتے رہتے ہیں کبھی ناں نہیں کرتے اور اتنا زیادہ کام لے لیتے 

ہیں کہ پھر اسے کرنا محال ہوجاتا ہے۔

          قیادت

انسان کی بہت سی ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت اجتماعیت ہے، اس میں اللہ نے برکت رکھی ہے اور اس میں اس 

کی مدد بھی شامل حال رہتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے: ید اللہ علی الجماعة (ترمذی) جماعت پر اللہ کا ہاتھ 

ہے۔ اس لیے اجتماعیت سے الگ ہوکر زندگی گزارنا پسندیدہ نہیں ہے۔ایسی حالت میں خاتمے کو میتہ الجاہلیہ (جاہلیت کی 

سی موت) سے تعبیر کیا گیا۔ اجتماعیت ہوگی تو لازما اس کا ایک امیر اور سربراہ ہوگا جو اس کی قیادت کا فریضہ انجام 

دے گااور عوام اس کی راہ نمائی میں اپنا سفر حیات جاری رکھتے ہوئے منزل کی طرف کام یابی کے ساتھ گامزن ہوں 

گے۔ قیادت وسربراہی کی اس ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے آپﷺکا ارشاد ہے: اذاکان ثلاثة فی سفر 

فلیومراحدہم(ابوداود) جب تین آدمی سفرمیں ہوں تو ان میں ایک کو امیربنالیناچاہیے۔

          ذمہ داری کا احساس

 قوم کا سربراہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ قوم کی خیر خواہی کرنا ،ہر طرح کی ضرویات کا خیال رکھنا اور اس کی بہتری کی 

فکر کرنا ،اس کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ عین فرض منصبی ہے۔ اسے اس کا احساس ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد 

ہے: والذین ہم لامانٰتہم وعہدہم راعون (مومنون)

امانتیں اللہ کی ہوں یا لوگوں کی، اسی طرح عہد اللہ کے ہوں یا لوگوں کے ان کا خیال رکھنا مومن کا وصف ہے۔ ذمہ 

داری قبول کرنا بھی اللہ اور لوگوں سے عہد ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: لا ایمان لمن لا امانة لہ، ولا دین 

لمن لا عہد لہ (ابن ماجہ) اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو اور اس شخص میں دین کا پاس ولحاظ 

نہیں جس کے اندر عہد کی پاس داری نہ ہو۔

ہم نے کلمہ پڑھ کا اللہ اور اس کے رسول سے کچھ عہد کرلیا ہے اس کلمے کی برکت سے ہمارے کاندھوں پر بہت 

بھاری ذمہ داری آن پڑھی ہے اور وہ ذمہ داری وہی ہے جو پہلے انبیائے کرام کی ہوتی تھی لیکن اب اللہ نے اس 

امت کو اس ذمہ داری کے لئے چن لیا ہے، چنانچہ کلمہ پڑھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہو گئے اور 

بس۔ بلکہ کلمہ پڑھ کر ہم نے عہد کرلیا کہ ہم نبیوں والا کام کریں گے ، اگر ہمیں اس کا احساس نہیں تو یہ بہت 

گھاٹے کا سودا ہے۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: الاکلکم راع وکلکم مسل عن رعیتہ۔(متفق علیہ) تم میں کا ہرشخص ذمہ دار ہے، ہرایک سے 

اس کی رعیت کے بارے باز پرس ہوگی۔

          ایک روایت میں ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اس نے اس کی خیر خواہی کا خیال 

نہ رکھا اللہ اس پر جنت کو حرام کردیگا۔(بخاری جلد2
)
          ایک روایت میں ہے جو نگران اپنے ماتحتوں سے خیانت کرے وہ جہنم میں جائے گا۔(مسند احمد)

          ایک روایت میں ہے جو آدمی دس آدمیوں پر بھی نگران بنادیا گیا قیامت کے دن اس طرح پیش کیا جائے گا 

کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے پھر اس کا عدل اسے چھڑائے گا یا اس کا ظلم اسے عذاب شدید میں ڈال 

دے گا۔ (السنن الکبریٰ بیہقی)

           احساس جوابدہی کا یہی وہ محرک تھا جس نے صحابہ کرامؓ کو ذمہ دارشخصیت بنادیا، جو دنیاوالوں کے لیے نمونہ 

بنے۔ پھر دنیا نے آپﷺکے تربیت یافتہ خلفائے راشدین کا دور بھی دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب امیر 

بنے تو ان کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ رعایا کے احوال سے نہ صرف باخبر رہتے تھے بلکہ ان کی 

ضروریات پوری کرنے کے لیے خود پیٹھ پر غلوں کا بوجھ اٹھالیتے تھے۔ کیوں کہ انھوں نے اپنے قائد سرور عالم کو 

بدست خودخندق کھودتے دیکھا تھا۔

          1۔یہی احساس حضرت عمررضی اللہ عنہ کو رات سونے نہیں دیتا تھا، چنانچہ وہ رات کو گشت کرتے تھے، ایک 

دن ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز آئی، گھر والوں سے پوچھا تو پتا چلا بچے بھوکے ہیں اور گھر میں کچھ کھلانے 

کے لئے نہیں، ماں نے بچوں کو بہلانے کے لئے خالی دیکچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے کہ کھانا پک رہا ہے۔ چنانچہ 

حضرت عمر فورا واپس آئے اور غلے کی ایک بوری اپنے کندھوں پر اٹھائی، خادم نے کہا میں اٹھاتا ہوں تو فرمایا قیامت 

والے دن سوال مجھ سے ہوگا تم سے نہیں اس لئے میں خود ہی اٹھاوں گا۔ بوری اس گھر میں پہنچائی، پھر جتنی دیر ان 

کی ماں کھانا تیار کرتی رہی اتنی دیر بچوں کے سامنے ایسے بیٹھ گئے جیسے کوئی جانور بیٹھتا ہے، کھانا تیار ہوا، بچوں نے 

کھایا اور پھر جب تک بچے ہنسی خوشی کھیلنے نہیں لگے وہیں رکے رہے۔

          2۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے زخمی اونٹ کا زخم دھورہے تھے اور فرمارہے تھے کہ میں ڈرتا ہوں قیامت 

والے دن مجھ سے اس زم کی پوچھ نہ ہو۔(تاریخ الخلفا110
)
          3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک باغ میں گیا وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمررضی اللہ 

عنہ کہہ رہے ہیں کہ:

عمر۔۔۔خطاب کا بیٹا۔۔۔امیرالمومنین کا منصب۔۔۔واہ کیا خوب۔۔۔اے عمر اللہ سے ڈر ورنہ سخت عذاب ہوگا تجھے۔

(تاریخ الخلفا102
)
یہ وہی عمر ہیں جن کے بارے حضور نے فرمایا: اللہ نے عمر کے دل اور زبان پر حق جاری کردیا ہے(ترمذی)

          4۔ ایک بار آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی ے کہا کچھ نصیحت فرمائیں۔ تو فرمایا: سنو جب میں نے دیکھا میرے 

کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے تو مجھے دور دراز کے بھوکوں ضرورت مندوں اور مفلسوں کا خیال آیا، اور 

میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قیامت والے دن اللہ مجھ سے میری رعایہ کے بارے پوچھے گا۔ اللہ کے رسول 

صلی اللہ علیہ وسلم ان مفلوک الحا ل لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دیں گے۔ یہ سوچ کر میرے دل میں 

خوف طاری ہوگیا کہ اللہ میرا کوئی عذنہیں قبول کرے گا۔ پھر یہ سوچ کر مجھے خود پر ترس آیا اور آنکھوں میں آنسو 

آگئے۔ اب میں اس حقیقت کو جتنا یاد کرتا ہوں اتنا ہی احساس ذمہ داری بڑھتا چلا جاتا ہے۔( تاریخ الخلفا 189
)
          جب ایک ذمہ دار شخص کا احساس ذمہ داری ختم ہوتا ہے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں، 

مامورین اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں، غیر فعالیت پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا 

ہوگاکہ آیا ہماری قربانی اللہ کے لئے ہے یا نہیں۔

          سوچنے کی تین باتیں

دین کے کاموں میں ایک فعال اور متحرک مسلمان کے لئے مایوسی کے ان اندھیروں میں امید کی تین کرنیں روشن 

ہیں۔

          1۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان دوسرے انسانوں کی ہدایت، اور اخروی نجات کا ذریعہ بن کر اپنے لئے صدقہ 

جاریہ کا سامان بنا لیتا ہے۔

          2۔ ہرفعال اور متحرک مسلمان اپنے دوسرے رفقاءکے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ایثار 

وقربانی سے دوسرے رفقاءکو بھی قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلے کی فضا قائم 

ہوتی ہے۔

          3۔ چونکہ محاسبہ اخروی انفرادی ہوگا،(وکلہم آتیہ یوم القیامة فردا۔مریم) اس لئے ایک فعال اور متحرک مسلمان 

اللہ کہ سامنے کہہ سکے گا کہ اے اللہ میں نے اپنے حصے کا کام پورا کیا تھا۔

اس کے مقابلے میں وہ مسلمان جو حقیقی عذر کے بغیر غیر فعال ہیں انہیں بھی تین باتیں سوچنا چاہیے کہ:

          1۔ اللہ نے اس پر کتنا بڑا احسان کیا کہ اسے مسلمان بنایا، قرآن وسنت کی روشنی میں فرائض دینی کے ایسے 

تصور کا فہم دیا جو قرآن وسنت کی واضح تعلیمات پر مبنی ہے، پھر توفیق عطا فرمائی کہ ان فرائض کی ادائیگی کے لئے 

تنظیم میں شامل ہو۔ اس کے بعد اب غیر فعال ہونا اللہ کے احسانات کی ناشکری ہے، اور اللہ کا فرمان ہے: لئن شکرتم 

لازیدنکم ولئن کفرتم فان عذابی لشدید۔

          2۔ غیر فعال ساتھی فرائض دینی میں کوتاہی کرکے نہ صرف خود گناہ گار ہوتا ہے بلکہ دوسرے ساتھیوں کو 

بھی مایوس کرتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ تنظیم میں تو حصول ثواب کے لئے آئے تھے لیکن اب اپنی ذمہ داری سے کوتاہی اور 

دوسرے ساتھیوں کی حوصلہ شکنی کرکے وبال لپیٹ رہے ہوں۔؟

          3۔ مسلسل کوتاہی بھی بہت بڑی محرومیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

          تین ہی بڑی محرومیاں

          1۔یاایہاالذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم، واعلموا اَن اللہ یحول بین المرء وقلبہ وانہ الیہ 

تحشرون(انفال24)۔

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو لبیک کہو اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جبکہ وہ اللہ تمہیں پکارے تاکہ اس کے 

ذریعے سے وہ تمہیں زندگی دے، جان لو کہ اللہ حائل ہو جایا کرتا ہے بندے اور اس کے دل کے درمیان اور اسی کی 

طرف تم سب جمع کیے جاو گے۔

          2۔واللہ الغنی وانتم الفقراءواِن تتولوا یستبدل قوما غیرکم، ثم لایکونوا امثالکم(محمد38)۔

ترجمہ: اور اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو اور اگر تم نے پیٹھ دکھائی تو وہ بدل کر لے آئے گا تمہارے سوا کسی اور قوم کو 

اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوگی۔

          3۔رب لولااخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین(منافقون10)۔

ترجمہ: اے میرے پروردیگار مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہیں دے دیتا کہ میں صدقہ کرلوں اور ہو جاوں بالکل نیک۔

لیکن پھر مہلت نہیں ملے گی۔