Search This Blog

Monday, December 28, 2015

کیا عوام الناس کو ترجمہ قرآن پڑھنا منع اور ناجائز ہے۔۔؟؟

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ایک غلط بات مشہور کردی گئی ہے کہ عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا یاکسی آیت،رکوع کا مفہوم علماءکی تفاسیر سے ذہن نشین کرکے بیان کرنا ناجائز ہے۔چنانچہ اس غلط بات کو پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں اور عوام نے قرآن کریم کو محض برکت حاصل کرنے کی کتاب سمجھ کا طاقِ نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہندوستان کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں 200سال تک انگریز حکومت کرکے گیا ہے، اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے جتن کیے، کبھی مدارس منہدم کیے تو کبھی علماءکو توپوں کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا گیا، کبھی علماءکو پھانسیاں دیں تو کبھی لاکھوں قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے، لیکن انگریز کو اندازہ ہوگیا کہ بزور طاقت اور اسلحہ کے بل بوتے پر ہم مسلمانوں سے اسلام اور قرآن سے لگاو نہیں ختم کرسکتے، چنانچہ انہوں نے مختلف تکنیک اور حربوں پر تحقیقات کیں اور باالاخر انگریز فرقہ واریت اور اختلافات کا بیج بو کر چلا گیا اور آج تک ہم اسی فرقہ واریت اورآپس کے فروعی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں، اسی طرح قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے ایسی باتیں مشہور کردیں کہ عوام کا تعلق قرآن سے نہ ہو۔ حالانکہ اگر ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی زندگیوں اور تحریروں کو دیکھیں تو انہوں نے ساری زندگی عوام کو قرآن سے جوڑنے میں لگائی اور اسی بات کی دہائی دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے۔
میں نے اپنے ان گناہ گار کانوں سے یہ بات بھی سنی ہے کہ اگر عام لوگ ترجمہ قرآن پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، یہ ترجمہ پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔ حیرت ہوتی ہے دشمن نے کتنی محنت کی، قرآن کریم کے متعلق کیسی کیسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں، چنانچہ آج لوگ قرآن کو ہاتھ میں لینا گوارہ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کا احترام ان کے دلوں میں بہت ہے، اسے چومتے ہیں، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، اس سے اونچا نہیں ہوتے، لیکن پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔
فہم قران کے دو پہلو ہیں، ایک تدبر فی القرآن اور دوسرا تذکّر بالقرآن۔ تدبر فی القران کے لئے بلاشبہ بہت سے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا کہ تیرا چودہ علوم پر دسترس ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ بات بھی پرانی ہوچکی ہے، آج کل تدبر فی القرآن کے لئے کم از کم بیس پچیس علوم جن میں جدید علوم اور فلسفے بھی شامل ہیںان سب پر مہارت ہونا ضروری ہے، آج کل مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب اتنا ناقص ہے کہ وہ ایسے علماءپیدا ہی نہیں کرسکتا جو تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں، چہ جائیکہ ہم دورہ حدیث سے فارغ ہوکرسند لینے والے کو اس قابل سمجھیں کہ وہ تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتا ہے۔البتہ جہاں تک تعلق ہے تذکر باالقرآن یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا تو اس بارے میں خود قرآن کہتا ہے: ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر؟ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، اور یہ نصیحت کا پہلو بلاشبہ محض ترجمہ پڑھنے والے کو بھی میسر ہوتا ہے۔
یاد رکھیئے! قرآن اللہ کی معجزانہ کتاب ہے اس کو پڑھ کر گمراہی نہیں ہدایت پھیلتی ہے، یہ انسان کے دل میں اس حقیقی ایمان کو اپیل کرتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر رکھاہوا ہے، یہ اس حقیقی ایمان کی چنگاری کے لئے پٹرول کا کام کرتا ہے،اور اسے یک دم بھڑکا دیتا ہے۔سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یورپ میں جدی پشتی انگریز غیر مسلم قرآن کریم کا محض ترجمہ پڑھ کر مسلمان کیوں ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو عربی زبان اور ناظرہ قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا، وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بھی فطری طور پر ایمان کی چنگاری موجود ہوتی ہے قرآن کو پڑھ اور سن کر وہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔یورپ کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ موبائل پر تلاوت لگا کر مارکیٹوں اور بازاروں میں غیرمسلموں کی طرف ہینڈفری آگے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیس سیکنڈ تک یہ آڈیو سن کر اپنے کمنٹس دو، چنانچہ وہ مختلف چلنے پھرنے والے خواتین وحضرات کو اس طرح قرآن سنا کر ان سے کمنٹ لیتا ہے، وہ لوگ سنتے ہوئے بہت حیران ہوتے ہیں ان کے چہرے کے تاثرات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت متاثر ہوئے ہیں، بعض تو رو بھی پڑتے ہیں۔
بی بی سی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جان بِٹ کا بیٹا یحی بِٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، مسلمان ہوگیا، پھر PHDکے لئے اسے جو مقالہ تیار کرنا تھا اس کا عنوان تھا ”یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے“چنانچہ اس نے دو تین سال تک یورپ میں اس بات پر تحقیق کی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں اس نے بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں تیرا ہزار لوگ مسلمان ہوئے جن میں سے 80%لوگ قرآن سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ انہیں میں سے ایک امریکی خاتون ”ایم کے ہرمینسن“ بھی تھی۔ جب اس سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میں سپین میں پڑھتی تھی، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیو کی سوئی گماتے گماتے اچانک ایک عجیب آواز آنا شروع ہوئی چنانچہ میں نے اسے سننا شروع کردیا، مجھے ایسے لگا کہ یہ میرے دل کے اندر سے آواز آرہی ہے، یا مجھے میرے گمشدہ متاع مل گئی ہے۔ چنانچہ میں کئی دن تک سنتی رہی، باالاخر میں نے سوچا کسی سے پوچھوں یہ کس چیز کی آواز ہے اور کیا ہے؟ میں نے جب پوچھا تو مجھے کسی نے بتایا یہ مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن ہے۔ چنانچہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگوا کر پڑھنا شروع کیا اور مکمل پڑھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو ترجمہ ہے جب تک اصل سورس کو نہ دیکھا جائے اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ اصل سورس کو سمجھنے کے لئے میں مصر گئی اور قاہرہ یونیورسٹی میں عربی زبان کو سیکھنے کے لئے داخلہ لیا، دو سالہ عربی کورس کرنے کے بعد پھر اصل عربی قرآن کو پڑھا تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔یہ ہے قرآن کی ہدایت، اسی لئے قرآن میں بار بار کہا گیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے، اس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے لیکن عوام میں یہ مشہور کردیا گیا کہ نعوذ بااللہ یہ کتاب گمراہ کرتی ہے، کتنی بڑی توہین کی بات ہے جولوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔
میرے خیال میں جتنے بھی فرقے اٹھے اور گمراہیاں پھیلی ہیں وہ عوام نے نہیں پھیلائیں، وہ ایسے لوگوں نے ہی پھیلائی ہیں جو قرآن وحدیث کے عالم تھے، مثلا مرزا غلام احمد قادیانی عام آدمی نہیں تھا، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والا تھا، تبھی تو اس نے اپنے نبی اور مہدی ہونے کی قرآن وحدیث سے من گھڑت دلیلیں بناکر دیں۔ اسی طرح غلام احمد پرویز بھی کوئی عام شخص جو محض کسی عالم کے لکھے ہوئے ترجمے پر اکتفاءکرنے والا نہیں بلکہ دینی علوم کا ماہر اورحنفی سنی گھرانے میں پیداہونے کے علاوہ چشتیہ سلسلے کے صوفی بزرگ مولوی رحیم بخش کا پوتا تھا،ابتدائی دینی تعلیم بھی اپنے والد اور دادا سے حاصل کی، تبھی توغلام احمد پرویز نے حدیث کی ایسی ایسی تعبیریں کیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ نام میں نے بطور مثال پیش کیے ہیں باقی فرقوں کے بانیوں کے نام پیش کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، ورنہ آج جتنے فرقے ہمارے ہاں ہیں ان کے بانیوں کو دیکھیں سب قرآن وحدیث کے عالم تھے، عربی کے ماہر تھے، صرف نحو، ادب، علم کلام، منطق پر عبور حاصل تھا۔ عام آدمی کے تو بس کی بات ہی نہیں کہ وہ کوئی گمراہی بنا یا پھیلا سکے، میرے پاس ایسی ایک بھی مثال نہیں کہ ایک عام آدمی جسے نہ عربی آتی ہو اور نہ دیگر علوم ، اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کوئی گمراہی ایجاد کی ہو اور پھر وہ آج تک چلی آرہی ہو، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے اس کی نظر اور دیہان قرآن کے تذکیری پہلو کی طرف ہوتا ہے، اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ شراب، جوا، سود، مردار حرام ہیں، جنت میں نعمتیں ہیں، جہنم میں عذاب ہیں، دنیا امتحان کی جگہ ہے وغیرہ۔البتہ جو خدشات اس حوالے سے پیدا ہوسکتے ہیں ان کے سدِباب کے لئے علماءکی طرف سے مسلسل ہدایات مسلمانوں کو ملتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔
یہاں اس بات سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں کہ بلاشبہ ان گمراہیوں کا سدباب بھی علمائے حق نے ہر دور میں اپنا خون دے کر کیا ہے، اور علماءکی خدمات اور محنت سے ہی یہ قرآن وسنت آج اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہیںاور آج بھی علمائے حق قرآن وسنت کی حفاظت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں، اگرچہ ایسے علماءکو وقفے وقفے سے چن چن کا ٹارگٹ بھی کیا جارہا ہے۔
اس موضوع کے حوالے سے اکابر علماءاور اسلاف کے چند اقوال پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمایئے:
حضرت شیخ الہند کے شاگردِ خاص، تحریک ریشمی رمال کے سرکردہ رکن، اسیر مالٹا مولوی انیس احمد رحمہ اللہ” انوار القرآن “میں لکھتے ہیں:
جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے جید عالم ہونے کی ضرورت ہے(صفحہ35)
شاہ اسماعیل شہید تقویة الایمان میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں دین کی بات میں جو لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں، کوئی پہلوں کی رسموں کو پکڑتے ہیں، کوئی قصے بزرگوں کے دیکھتے ہیں اور کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انہوں نے اپنی ذہن کی تیزی سے نکالی ہیںسند پکڑتے ہیں۔ اور یہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے، اس کو بڑا علم چاہیے، ہم کو وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں اور اس راہ پر چلنا پڑے، یہ بزرگوں کا کام ہے، سو ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہم کو یہی باتیں کفایت کرتی ہیں۔ سو یہ بات بہت غلط ہے، اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں باتیں بہت صاف صریح ہیں، ان کا سمجھنا مشکل نہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے میں بہت علم نہیں چاہیے کہ پیغمبر تو نادانوں کو راہ بتانے اور جاہلوں کو سمجھانے اور بے علموں کو علم سکھانے کو آئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بنا کر بھیجا، وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔(الجمعہ2)
سو جو کوئی یہ آیت سن کر پھر کہنے لگے کہ پیغمبرکی بات سوائے عالموں کے کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان کی راہ پر سوائے بزرگوں کے کوئی نہیں چل سکتا۔ سو اس نے اس آیت کا انکار کیا۔ اس بات کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک بڑا حکیم ہو اور ایک بہت بیمار، پھر کوئی شخص اس بیمار سے کہے کہ فلانے حکیم کے پاس جاو اور اس سے علاج کراوتو وہ کہے اس سے علاج کروانا تو بڑے بڑے تندرستوں کا کام ہے میں تو بہت بیمار ہوں۔ سو وہ بیمار احمق ہے اور اس حکیم(قرآن) کی حکمت سے انکار رکھتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے فارسی ترجمے ”فتح الرحمن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
جس طرح لوگ مثنوی مولانا جلال الدین، گلستان شیخ سعدی ومنطق الطیر شیخ فرید الدین عطار وقصص فارابی ونفحات مولانا عبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اسی طرح قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اگر وہ کتابیں اولیاءاللہ کا کلام ہیں تو قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اگر ان میں حکماءکے وعظ ہیں تو قرآن مجید میں احکم الحاکمین کے فرمان ہیں۔
اسیر مالٹا مولوی انیس احمد ؒ قرآن سے استفادہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ پانی سے اِس زمانے میں بھاپ حاصل کرکے مختلف کام لئے جاتے ہیں اور ریل گاڑیاں وغیرہ چلائی جاتی ہیں۔ پانی سے یہ کام صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جو سائنس(کے علم)سے واقف ہیں، لیکن ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی جاہل ہو پانی سے اپنی پیاس بجھا کر زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور روحانی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے جس آبِ حیات کی ضرورت ہے اس کو ہر شخص خواہ وہ جاہل ہو یا عالم، قران مجید کے بحرذخائر سے باآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ جو شخص زیادہ عالم ہو گا وہ علم وحکتم کے زیادہ موتی اس سمندر سے حاصل کرسکتے گا۔ہم اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں کہ چونکہ ہم بڑے عالم نہیں اور ہم قرآن مجید کے زیادہ نکات نہیں سمجھتے اس لئے ہم کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس تباہ اور برباد کردینے والی غلطی کی وجہ سے ہمیں قرآن مجید سے محرومی ہوتی جارہی ہے اور ہماری مذہبی اور روحانی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے۔(انوارالقرآن صفحہ41)
مولوی انیس احمدؒ اسے خطرناک اور تباہ وبرباد کردینے والی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ اسی بات کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے: ان اللہ یرفع بھٰذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین۔ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت ساری قوموں کو عروج اور بہتوں کو زوال دیتا ہے۔ یعنی جو اس سے تعلق توڑ دیتے ہیں وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہو جاتے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں جب سے ہم قرآن کی اصلی تعلیم سے دور ہوتے گئے ہیں ہم برابر تنزل کر رہے ہیں۔ اور جیسی قوم کی حالت ہوتی ہے ویسے ہی اس کے اخلاق ہوتے ہیں، اگر قوم زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد میں جرات، ہمت،استقلال،ترقی کی امنگ، ایثار، قربانی جیسے عمدہ اخلاق ہوتے ہیں۔ اور اگر قوم مردہ ہو تو اس کے افراد پست ہمت، سست، بزدل ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام میں اس قدراثر وہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں میں کچھ جان تھی تو اُن میں وعدہ اور قول وقرار کا دوسرا مفہوم تھا اور جب اُن پر مُردنی چھا گئی تو انہی الفاظ کا دوسرا مفہوم ہوگیا۔ چنانچہ پہلے مشہور تھا:
”قول مرداں جان دارد“
 پھر یہ حالت ہوئی
”وعدہ آساں ہے ولے اس کی وفا مشکل ہے“
 پھر اس کے بعد یہ حالت ہوگئی
”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“
اسی طرح جب ہم نے قرآن کو چھوڑا، ہماری حالت خراب ہوئی تو قرآن کے مفہوم بھی بدل گئے۔
واقعی آج ہم اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں، اس مفہوم کے بدلنے کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہماری ایسی جماعتیں جو بلاشبہ دین کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک ہی آیت کے مفہوم کو اپنے اپنے کام پر چسپاں کرنے کے لئے آپس میں ہی لڑ رہی ہیں۔جس کا نقصان دین کو بھی ہورہا ہے اور خود ان کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔
اس مضمون کی پی ڈی ایف 
Quran ka Tarjuma Paharna

Tuesday, December 15, 2015

سود کے بعد موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں

سود کے حوالے سے آنے والے فیصلے کے بعد سود کے خاتمے کے لئے مختلف تنظیمیں اور تحریکیں احتجاج کر رہی ہیں۔ جس طرح سود حرام ہے بالکل اسی طرح جوئے کی حرمت بھی قرآن کے صریح اور واضح حکم سے ثابت ہے، ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ قرآنی احکامات سے نہ صرف روگردانی کی جارہی ہے بلکہ حکومت خود سودی اور جوئے کا کاروبار کرنے اور اس کی ترغیب اور لالچ دینے والوں کو نہ صرف اجازت بلکہ لائسنس دیتی اور رجسٹر بھی کرتی ہے۔سود کے خلاف تو کافی حد تک لوگوں میں شعور پایا جاتا ہے لیکن جوئے کی نت نئی اقسام مارکیٹ میں متعارف ہو چکی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوئے کی ان اقسام کا پوسٹ مارٹم کرکے انہیں عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے۔ امید ہے کوئی ماہر معیشت یہ خدمت سرانجام دے کر ذخیرہ آخرت کرے گا۔جوئے کی اقسام میں سے ایک قسم انشورنس ہے جس پر کافی علماء نے کتابیں لکھی ہیں۔
ابھی چند سالوں سے موبائل کمپنیاں آئی ہیں ان کا اصل کرنے کاکام تو لوگوں کو آپس میں رابطے میں رکھنا تھا لیکن حکومتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ان کمپنیوں نے کئی کئی بزنس اور عوام کو بیوقوف بنا کر لوٹنے کے طریقے شروع کررکھے ہیں۔ موبائل کمپنیوں کی روزانہ کی کمائی اربوں میں ہے جس کا اندازہ ان کمپنوں کے ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات سے ہی لگایا جاسکتا ہے، کیونکہ چینلز پر سیکنڈکے حساب سے پے منٹ کرنی ہوتی ہے جو کروڑوں میں بنتی ہے۔ ان کمپنیوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ عوام کو لوٹنے کے لئے الفاظ کا ہر پھیر کرکے طرح طرح کے پیکجز متعارف کروائے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ موبائل کمپنیوں نے سرعام جوا سکیمیں شروع کردی ہیں، اور عوام کو باربار میسجز کے ذریعے ان جوا سکیموں میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ زونگ کی طرف سے مسلسل کئی دن سے ہرروز ایک میسج موصول ہورہا جس کے شروع میں صارف کا موبائل نمبر لکھا ہوتا ہے اور آگے لکھا ہوتا ہے: اس پیغام کو نظر انداز مت کریں، زونگ نے آپ کو چنا ہے دس لاکھ کے لئے، حصہ لیں مفت ایس ایم ایس کے ذریعہ۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے یہ ایس ایم ایس مفت نہیں ہوتا بلکہ عام ایس ایم ایس سے کئی گنا مہنگا ہوتا ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
تم سے شراب اور جوئے کا جو حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔(البقرہ آیت نمبر 219 )
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں۔ شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے۔ شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ عزوجل کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے( المائدہ کی آیت نمبر 90 تا 91 )
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوا کھیلنے کے سامان سے جوا کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبودیا۔(سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 231، حدیث 3863)
حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا ’’آؤ جوا کھیلیں‘‘ تو اس کہنے والے کو چاہئے کہ صدقہ کرے (صحیح مسلم، ص 893، حدیث 1637)
محترم قارئین آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ ان میں سے 6 یہ ہیں۔
1۔لاٹری: اس طریقہ کار میں لاکھوں، کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ بھی جوا کی ایک صورت ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
2۔موبائل میسجز اور جوا: موبائل پر مختلف میسجز جوکہ سوالات پر مبنی ہوتے ہیں، بھیجے جاتے ہیں۔ جس میں مثلا کون سی ٹیم میچ جیتے گی؟ پاکستان کس دن بنا تھا؟ درست جوابات دینے والوں کے لئے مختلف انعامات رکھے جاتے ہیں۔ شرکت کرنے والے کے ’’موبائل بیلنس‘‘ سے قلیل رقم مثلا دس روپے کٹ جاتی ہے۔ جن کا انعام نہیں نکلتا، ان کی رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جوا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

3۔ پرائز بانڈ کی پرچی: حکومت پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 اور 40000 روپے کی مالیت کے انعامی بانڈز بینک کے ذریعے جاری کرتی ہے اور جدول کے مطابق ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے کروڑوں روپے کے انعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے۔ جس کا انعام نہیں نکلتا، اس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہے۔ وہ اسے جب چاہے کیش کرواسکتا ہے۔ یہ جوا ہے ۔ بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں۔ ان پرچیوں کی خرید وفروخت غیر قانونی ناجائز حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے ہیں) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جوا ہے ۔
4۔معمہ: اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سوالات حل کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابق نکل آئے، اسے انعام دیا جاتا ہے۔ انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے بھی زائد ہوتی ہے لہذا درست حل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ ہوتا ہے۔اس کھیل میں بہت سارے افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے۔
(1۔ مفت) (2۔ معمولی فیس دے کر)
اگر شرکاء سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے اور کوئی مانع شرعی نہ ہونے کی صورت میں انعام لینا جائز ہے جس میں شرکاء سے فیس لی جاتی ہے، اس میں انعام ملے یا نہ ملے، رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ صورت جوئے کی ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا: بعض دوست یا افراد مل کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا، ساری رقم اس کو ملے گی۔ یہ بھی جوا ہے کیونکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات پیسے جمع کرکے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا۔ اسے یہ کتاب دے دی جائے گی۔ یہ بھی جوا ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات خریدنے والوں کو قرعہ اندازی کرکے انعامات دیتی ہیں، یہ جائز ہے کیونکہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔

6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا: ہمارے یہاں مختلف کھیل مثلا گھڑ دوڑ، کرکٹ، کیرم، بلیئرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فلاں چیز دے گا۔ یہ بھی جوا ہے اور ناجائز و حرام۔ کیرم، بلیئرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وقت عموما یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کرے گا۔ یہ بھی جوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں میں مثلا تاش، لوڈوں پر دو طرفہ شرط لگا کرکھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعث اس میں کوئی حرج نہیں رکھتے۔ وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ جوا حرام اور جہنم میں لے جانے والاکام ہے۔
آج کل موبائل ہر ایک استعمال کرتا ہے، موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں اور ان کی ترغیب ہر کو دی جارہی ہے حکومت کو چاہیے ان سکیموں کو بندکرے اور ان کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو لوٹنے کے حربے ختم کردیں۔


Wednesday, November 4, 2015

فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

(سید عبدالوہاب شیرازی)
فرقہ واریت کتنا گھناؤنا عمل ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں بارہا اس کی مذمت اور ممانعت بیان ہوئی ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے، ہمارے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کو انگریز دور میں خاص طور پر پروان چڑھایا گیا، پاکستان بننے کے بعد بھی اس سانپ کو تازہ دودھ ملتا رہا۔
دوسری طرف فرقہ واریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد جاری رہی، ہر طبقے نے اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے والے نادیدہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں، فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد نے اس گھناؤننے عمل کو اتنا بدنام کیا کہ لوگ اس نام کے اپنے اوپر چسپاں ہونے سے گھبراتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پوری دنیا خصوصا ہمارے خطے میں جو جو تبدیلیاں واقع ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے سے مذہبی فرقہ واریت پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔ مختلف مسالک خاص طور پر اھل سنت والجماعت کے مسالک نے دوریاں ختم کی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوس، فتوے اور مناظروں کے چیلنج آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
یہ تو فرقہ واریت کا وہ پہلو تھا جو معروف اور مشہور ہے اور جب بھی فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا ذہن اسی مذہبی فرقہ واریت کی طرف جاتا ہے۔ لیکن میں آج فرقہ واریت کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ ایک فکری اور انقلابی ذہن رکھنے والے کو اس فرقہ واریت کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہیے، نہ صرف متوجہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے سدباب اور اس شعور کو اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ یہ فرقہ واریت کا وہ پہلو ہے جس کی تاریخ ہمیں قرآن حکیم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ملتی ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیْعًا۔فرعون نے وہاں کے لوگوں کو گِروہ گِروہ بنا رکھا تھا، یعنی فرعون اپنے شہریوں کو تقسیم کرتا اور Divide & Rule کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، کیونکہ لوگ اگر گِروہ گِروہ نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت تختہ الٹ سکتے ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے ہندوستان میں انگریزوں نے اختیار کیااور پھر پچھلے ستر سال سے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے چند خاندان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلکہ اب تو ایسی پالیساں باقاعدہ ملکوں کے خفیہ پلان کا حصہ ہوتی ہیں، چنانچہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، علاقائی اور دیگر بے شمار اقسام کی فرقہ واریتیں حکمرانی کرنے والوں کے پلان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نئی جماعت بنانا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص دو یا زیادہ جماعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی کوشش کرے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں اور اس کام کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم ہر روز سنتے ہیں فلاں نے نئی جماعت بنالی، یا فلاں شخص فلاں جماعت سے الگ ہوگیا اس نے اپنا دھڑا بنا لیا، لیکن ایسا بہت کم سننے میں آتا ہے کہ فلاں دو جماعتیں آپس میں ضم ہو کر ایک جماعت بن گئیں اور ان جماعتوں کے افراد ایک ہی پرچم تلے جمع ہوگئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور دھڑا بندی مذہبی فرقہ واریت سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے جبکہ سیاست کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے ، اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی برتری اور ترقی کے لئے پاکستان میں جتنی بھی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی لیکن کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی، نادیدہ قوتوں نے دھونس، دھمکی اور لالچ سے ایسی ہر کوشش کو مٹی میں ملا دیا، بلکہ اسی طرح کی مخلصانہ کوشش کرنے والے افراد اور علماء کو ٹارگٹ کلنگ کرکے راستے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تنبیہ کردی کہ ان کا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حضرت یحیٰ اور حضرت زکریہ علیھماالسلام کو شہید کرکے یہودیوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور اللہ کے نقد عذاب کے مستحق ہوکر ذلت اور رسوائی کے گڑھوں میں گرے تھے۔
یاد رہے یہاں سیاسی فرقہ واریت سے مراد صرف اسلامی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں تو سب سے زیادہ فرقہ واریت پھیلا رہی ہیں، اگر ہم موجودہ دور کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں کے حالات کو دیکھیں تو یہاں اسی طرح کے فتوے، اور مناظروں کے چیلنج ہیں جو مذہبی فرقہ واریت کے عروج کے وقت ہوتے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اصطلاحات ، طریقہ کار اور انداز تبدیل ہوگیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے پی ٹی آئی والوں کو سیاسی گالیاں دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی والے بددیانتی،رشوت،کرپشن وغیرہ کے فتوے ان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان جماعتوں نے مسلمانوں خصوصا باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو فرعون کی طرح گِروہ گِروہ کررکھا ہے اور مزے سے باری باری حکمرانی کررہے ہیں۔
اس وقت اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت بھی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور غلبے کے لئے ناسور اور رکاوٹ ہے۔

Tuesday, November 3, 2015

جعلی حکیموں کا طریقہ

کچھ دن قبل ایک مشہور حکیم وعامل جاوید خان کو دیکھنے کے لئے کشمیر کے ضلع باغ کے علاقہ بیرپانی جانا ہوا،آج کل موصوف کا تذکرہ اور شہرت پورے پاکستان میں ہے، اس حکیم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے ساتھ افریقہ کے مشہور طبیب جنات کی ایک جماعت کام کررہی ہے چنانچہ حکیم صاحب ہر مرض کا علاج اور جنات کے ذریعہ ہر قسم خصوصا دل کا آپریشن بھی کرتے ہیں۔ مذکورہ حکیم کی سب سے اہم اور متاثر کن بات ہے کہ حکیم صاحب نے تبلیغی جماعت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے چنانچہ سر پر سُنت کے مطابق تبلیغی بھائیوں والی پگڑی، عربیوں والا جُبّہ، شلوار ٹخنوں سے اوپر اور مونچھوں پر استرا بھی پھیرا ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ موصوف نے مریضوں کی انتظار گاہ میں ایک بڑا بینر لگایا ہوا ہے جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا ہے: ”اللہ سے ہوتا ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا“۔ چنانچہ ہمارے ساتھ ایک بہت ہی سمجھدار شخصیت جو صرف اور صرف حکیم صاحب کو پرکھنے کے لئے گئی تھی اور وہاں پہنچتے ہیں انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ سب ڈھکوسلا ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس بینر پر نظر پڑتے ہی وہ بھی حکیم صاحب سے متاثر ہوگئے۔

حکیم جاوید کے ساتھ کئی لوگوں کا ایک پورا گروپ کام کررہا ہے، جن کی مختلف ذمہ داریاں ہیں، کچھ لوگ مریضوں کی رش کو کنٹرول کرتے اور لائنیں سیدھی کرنے پر مامور ہیں اور کچھ الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے چند ایک جڑی بوٹیوں کو پیسنے اور پانی میں ابال کر مکس کرکے ڈیڑھ لیٹر والی بوتلیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔جو جڑی بوٹیاں کوٹ کر مریضوں کو دی جاتی ہیں وہ کسی خاص مرض کی نہیں ہوتی بلکہ اینٹی بائیوٹیک قسم کی ہوتی ہیں یا معدہ جگر کی اصلاح اورجسم سے گرمی ختم کرنے والی ہوتی ہیں۔ پانی مختلف قسم کی چار پانچ بالٹیوں میں بھرا ہوا ہوتا ہے۔ حکیم جاوید مریض پر ”شُف“ کرتا ہے اور پھر ایک زور دار تھپڑ سینے پر مارتا ہے اور ایک پرچی پر دوائی لکھتا ہے، لکھتا کیا ہے چند ایک لکیریں پھیرتا ہے جو حکیم اور دوائی دینے والے کے درمیان کوڈ ورڈ کا کام کرتی ہیں۔حکیم کے پنسل پکڑنے کے انداز سے ہی پتا چلتا ہے کہ موصوف ”چِٹا اَن پڑھ“ ہے۔ پھر دوائی دینے والا ڈیڑھ لیٹر کی بوتل دے کر شکرانہ بکس میں اپنی مرضی سے کچھ ڈالنے کا کہتا ہے، اسی طرح پھکی دینے والا پھکی دے کر شکرانہ بکس میں کچھ رقم ڈالنے کا کہتا ہے۔اگر کوئی شخص کم رقم ڈالے تو اسی وقت میٹھی میٹھی بے عزتی بھی سب کے سامنے کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔

آپریشن کے لئے ایک بے ضرر قسم کا انجیکشن لگایا جاتا ہے ، پھر بلیڈ کے ساتھ آپریشن والے مقام پر معمولی سا کٹ لگا کر چار پانچ تھپڑ رسید کیئے جاتے ہیں اور پٹی کردی جاتی ہے۔ بے چارے لوگ گاڑیاں بک کرکے کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرکے وہاں پہنچتے ہیں، ظاہر ہے جو ایک بار اتنی دور جاتا ہے وہ دوبارہ اتنا سفر کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا جبکہ نئے نئے مریض ایک بار آزمانے کے لئے ہمت کرلیتے ہیں۔ اس طرح یہ فراڈ کاروبار جاری ہے۔

کچھ مردوں اور عورتوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خود مریض بن کر باقی مریضوں کو جھوٹے قصے کہانیاں اور جاوید خان کی کرامات سناتے ہیںکہ ہمیں فلاں بیماری تھی ہم حکیم صاحب کے دم سے ٹھیک ہوگئے۔ مردان کا ایک سرجن ڈاکٹر دل کا مریض تھا حکیم صاحب نے جنات کے ذریعہ اس کے دل کا آپریشن کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ اس طرح کے کچھ مرد اور خواتین کو پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی چھوڑا ہوا ہے، جو مختلف پبلک مقامات مثلا پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، پارکوں، اور ہسپتالوں کی انتظار گاہوں میں لوگوں کو حکیم صاحب کی کرامات اورشفایابی کی داستانیں سناتے ہیں۔

حکیم جاوید کے ڈیڑے پر پہنچتے ہیں کچھ خواتین فورا حرکت میں آجاتی ہیں اور مریض خواتین کو گھیرنا شروع کردیتی ہیں، حکیم جاوید بظاہر کسی قسم کی رقم کا مطالبہ تو نہیں کرتا مگر ہدیہ اور شکرانے کے نام پر بے حساب اوپن چندہ بکس لگائے ہوئے ہیں جو صبح سے شم تک بھر جاتے ہیں۔ خصوصا حکیم جاوید کے منہ کے آگے رکھا ہوا بکس تو ہزار ہزار کے نوٹوں سے بھر جاتا ہے۔حکیم جاوید کے چیلوں نے تو یہ بات تک مشہور کی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ آرمی والے آئے اور حکیم جاوید کو اٹھا کر لے گئے لیکن دوسرے دن معافی مانگتے ہوئے اپنی گاڑی میں واپس لا کر چھوڑ دیا، یعنی راحیل شریف بھی حکیم صاحب کے مرید ہیں۔

ایسے جعلی حکیموں اور عاملوں کی بہتات ہے جو معروف اشتہاری مہم کی جگہ نفسیاتی طور پر متاثر کرنے والی اشتہاری مہم چلاتے ہوئے مارکیٹنگ کے لےے ایسے خواتین وحضرات کو استعمال کرتے ہیں جو خود شفایافتہ مریض بک کر پبلک مقامات پر تشہیر کرکے جعلی عاملوں اور حکیموں سے بھاری معاوضہ لیتے ہیں۔عوام کو کسی بھی دھوکہ دہی سے بچنے کے لئے ہر ایک کی بات پر یقین نہیں کرنا چہیے، اصل ذمہ داری تو حکومت کشمیر کی بنتی ہے کہ وہ اس فراڈ کو ختم کرے لیکن شاید کشمیری حکومت اس لئے کچھ نہیں کررہی کہ اس فراڈ کے چنگل میں پھنسنے والے زیادہ تر پاکستانی ہوتے ہیں اور حکومت کشمیر کو روزانہ لاکھوں روپے زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے جس سے وہاں کی حکومت چل رہی ہے