Search This Blog

Showing posts with label اختلاف. Show all posts
Showing posts with label اختلاف. Show all posts

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟

Thursday, November 10, 2016

علماء کے اختلاف کا حکمرانوں پر اثر

سیدعبدالوہاب شیرازی
علماء حق انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، ان کے کاندھوں پر وہی ذمہ داری ہوتی ہے جو انبیاء پوری کرتے آئے ہیں، چنانچہ صحیح علماء میں وہی اوصاف ہوتے ہیں جو حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم الصلوۃ و السلام کے قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ علماء کاکام انذار وتبشیر ہوتا ہے، علماء عوام کو تذکیر کراتے اور رہنمائی کرتے ہیں۔پھر سب سے بڑھ کریہ کہ علماء خود نمونہ ہوتے ہیں، جیسے تمام انبیاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملی نمونہ بن کر تبلیغ کی۔ جب تک علماء اس روش پر قائم رہے پوری امت مجموعی لحاظ سے صحیح ڈگر پر چلتی رہی، لیکن جیسے جیسے علماء میں خرابی پیدا ہوئی ساتھی ہی امت میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ علماء کی مثال امت کے جسم میں دل کی سی ہے، جیسا کے حدیث میں ہے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔ باالکل یہی معاملہ علماء کا ہے جب علماء ٹھیک ہوتے ہیں پوری امت ٹھیک ہوتی ہے جب علماء خراب ہوتے ہیں پوری امت خراب ہوجاتی ہے۔ 
آج کے اس مضمون ایک واقعہ کی روشنی میں اس بات کو ملاحظہ فرمائیں کہ علماء کی خرابی کا اثر حکمرانوں پر کیسے پڑتا ہے اور اس دل کی خرابی سے کتنی بڑی خرابی وجود میں آتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے سمر قند وترکستان سے کیسے خواجہ باقی بااللہ کو ہندوستان بھیج کر اصلاح کی کوششوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔
منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے ۔موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں ۔ اور اس کے دربارمیں رہے ہیں ۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا ۔ اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا ۔ اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکھے تھے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا۔ اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا ۔شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع ہونے لگے ۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی ۔ اس مقصد کے لئے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا ، ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بھی اوپر تک پہنچ گء تھی ۔ بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے ۔ بس یہیں سے وہ حالات پیداہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا ۔
ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا ۔ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے ۔اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں مبتلا ہوتا ۔ اسی طرح بادشاہ کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو ۔
علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بیہودگی ظاہر ہوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا ۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں ، آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا ۔علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا ۔ اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں ۔ اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں ۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا ۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا ۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی ، یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ۔
درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے ۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا ۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا جو لاہور میں تھا ۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا ،حتی کے سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنہیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا "۔شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انہیں اختیار تھا ۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا ، مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی ۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے ۔ ایک نے دوسرے کے بابت لکھا کہ چونکہ انہیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز نا جائز ہے ۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمہارے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا ۔
شہنشاہ اکبر ابتدامیں نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے ۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا ۔
ملا بدایونی لکھتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجھتا تھا ۔جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا ۔اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا ۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی ، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔(اسباق تاریخ از مولانا عبدالقادر بدایوانی)۔
چنانچہ ابوالفضل اور فیضی جیسے لوگوں کے کہنے پر ہی ایک نئے دین’’دین الٰہی یا دین اکبری‘‘ کوبنایا گیا جس نے ہندوستان میں اسلام کی بنیادوں کو ہلاکررکھ دیا اور پھر علمائے حق جن میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سرفہرست ہیں کی کوششوں سے اس گمراہی کو مٹایا گیا۔
اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علماء کی آپس کی لڑائیوں،ضد،ہٹ دھرمی نے کتنا بڑا فتنہ کھڑا کیا۔

Friday, January 1, 2016

باہمی اختلافات ،ہماری سوچ اور پیغمبرانہ سوچ میں فرق

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
مولوی انیس احمدؒ ایک گمنان مجاہد ، تحریک ریشمی رومال کے سرگرم کارکن اور اسیرمالٹا تھے۔ 1912ءمیں علیگڑھ سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریز کی عطا کردہ”ڈپٹی کلکٹری“ یعنی جج کا عہدہ چھوڑ کر علومِ قرآنی حاصل کرنے کے لئے دہلی پہنچے۔ دہلی میں قائم مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے ادارے ”ادارہ نظارة المعارف“ میں داخلہ لیا، کافی عرصہ علوم قرآنی کی تحصیل کرتے رہے اور پھر سندِ فراغت لے کردیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں داخل ہوگئے۔دیوبند میں حضرت شیخ الہندؒ سے تبلیغ قرآن اور علوم دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت شیخ الہندؒ ہی کے زیرِسایہ تحریک ریشمی رومال میں سرگرم ہوگئے،تحریک میں حیدرآباد دکن کے ذمہ دار رہے۔ بعد ازاں بغاوت کے جرم میں انگریز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر کالاپانی میں قید رہے اور پھر چندسالوں کے بعد وہاں سے رہائی ہوئی۔ان کی علمی وجاہت کی یہ شان تھی کہ خواجہ حسن نظامی جیسے لوگ ان سے عاجزانہ ملتے تھے، علامہ مشرقی، علامہ اقبال، اکبر الٰہ آبادی، سرعبدالقادر سمیت بڑے بڑے لیڈر ان سے مشورے لیا کرتے اور اس کو اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔رہائی کے بعد بھی انگریز ان کو بہت تنگ کرتے رہے، ان کے بیٹے شاہداحمد کو مقابلے کے امتحانوں میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا۔
مولوی انیس احمدؒ کا مختصر تعارف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ایک کتاب ”انوارالقرآن “آج کل میرے زیر مطالعہ ہے، میری علماءسے گذارش ہے کہ وہ مولوی انیس احمدؒ کی یہ کتاب اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی کتاب ”وحدت امت “کو ضرور مطالعہ کریں۔مولوی انیس احمدؒ ”انورالقرآن“ میں لکھتے ہیں: ایک پیغمبر ”نااتفاقی “کے مقابلہ میں قوم کا عارضی ”گمراہی “میں رہنا پسند کرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوم متفق رہتی ہے اسی وقت تک عمدہ نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہوگیا ہوگا کہ قرآن شریف کا ایک حصہ کا تو مفہوم ہی بدل گیا ، ایک حصہ بھلا دیا گیا اور ایک حصے کی تعلیم کو کہانیوں کا درجہ دیا گیا ہے، اس سے مستفید ہونے کی کوشش نہیں کی جاتی، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے کہ اب قرآن مجید سے وہ نتیجے پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہیے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے ہیں۔
مولوی انیس احمدؒ کی یہ بات کہ پیغمبراناسوچ کیسی ہوتی ہے ہمیں بلاشبہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ہماری سوچ آج کیسی بن گئی ہے، معمولی اور فروعی اختلافات میں پڑھ کر ہم نے قوم کو کئی حصوں میں تقسیم بھی کیا ہوا ہے اور پھر اس بات کا رونا بھی روتے ہیں کہ اسلام غالب نہیں ہورہا۔ حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، جب حضرت موسی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا: اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہو گئے تو تم کو کیا وجہ مانع ہوئی کہ تم نے میری ہدایت کی پیروی نہ کی۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟(طہ۳۹) یعنی جب وہ گمراہ ہورہے تھے تو تم نے ان کو منع کیوں نہ کیا، توحضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا: اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑو، میں اس بات سے ڈرا کہ تم واپس آکر یہ کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی(طہ) یعنی حضرت ہارون علیہ السلام کو جب اپنی اصلاح کی کوششوں میں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کی عارضی گمراہی کو پسند کیا بجائے اس کے کہ آپ اس کو روکنے کے لئے ایسی پرزور کوشش کرتے جس سے قوم کے ٹکڑے ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت موسی کی قوم کا واقعہ اور شرک میں مبتلا ہونا محض شک والی بات نہیں تھی بلکہ واضح طور پر انہوں نے شرک کیا تھا، اب اگر ہم اپنے اردگرد کو دیکھیں، یا ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟ ہم تو محض شک اور گمان کی بنیاد پر بلادلیل کفر وشرک کے فتوے ٹھوک دیتے ہیں، اور کسی کو کافر بنانے یا گمراہ قرار دینے کا معیار ہم نے اپنا مسلک یا اپنا مدرسہ بنا دیا ہے جو ہمارے مسلک میں ہے یا ہمارے مسلک کے مدرسے میں پڑھا ہے اس کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے اورجو ایسا نہیں وہ گمراہ ہے۔
          مفتی مختار الدین شاہ مدظلہ فرماتے ہیں:محض شک اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کسی پر الزام لگانا چاہیے اور نہ ہی کفر وشرک کے فتوے،ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ”الزام“ اور ”التزام“ میں فرق ہوتا ہے، فتوی ”لازم “پر نہیں بلکہ ”التزام “پر لگتا ہے۔ بولنے والے یا لکھنے والے کی بات اور تحریر سے جو مفہوم نکلتا ہے اس کو ”لازم“ کہتے ہیں، اور معنی کا اگر صاحب تحریر اقرار اور اعتراف کرے یا اس کے کلام کا مکمل سیاق وسباق کوئی معنی متعین کرتا ہے تو اسے معنی التزامی کہتے ہیں، لہٰذا اگرصاحب تحریر کے معنی لازمی اور معنی التزامی میں فرق ہو تو معنی التزامی پر حکم یا فتویٰ لگایا جائے گا نہ کہ معنی لازمی پر۔چنانچہ صرف مفہومِ لازمی کو دیکھتے ہوئے فتویٰ یا حکم لگایا تو یہ اس شخص پرمحض الزام ،غلط اور شریعت کی حدود سے تجاوز اور ظلم ہوگا۔آج کل کی بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ متکلم اور تحریر کنندہ چینخ چینخ کرپکارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ میرے عمل یا تحریر سے نکالتے ہیں لیکن ہم اس کی بات کو سننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کے قول وفعل کو وہ غلط معنی پہناتے ہیں جس کا خود متکلم انکار کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا جسے صحیح مسلم میں نقل کیا گیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا جو مسجد نبوی سے زیادہ دور رہتا تھا اور اس کا حال یہ تھا کہ وہ ہر نماز مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا۔میں نے ایک دن اس سے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تم اندھیری راتوں میں مسجد تک سواری کے لئے ایک گدھا خرید لو، تو وہ کہنے لگا” مجھے تو یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہو“ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی، میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اس شخص کو بلایا گیا اور وضاحت طلب کی گئی تو اس نے وہی کچھ عرض کیا جو پہلے کہا تھا اور ساتھ یہ وضاحت بھی کی کہ میں نے ایسا اس لئے کہا کہ مجھے قدموں کا ثواب مل جائے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہی ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے۔(مسلم) اب بظاہر اس کی بات کا غلط مفہوم لگتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربت نہیں چاہتا،لیکن اس نے اس کی وضاحت کردی کہ میں پانچ وقت روزانہ پیدل چل کر اتنی دور سے آتا ہوں اس کا مجھے ثواب ملتا ہے۔(راہ محبت)
اس طرح کے اختلافی مسائل میں شیطان مسلمانوں کو افراط وتفریط میں مبتلا کردیتا ہے، ہر مکتبہ فکر میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو بلاتحقیق غلط پروپیگنڈا کرکے اختلافات کو پھیلاتے اور تفرقہ بازی کے مرتکب ہو کر قرآنی حکم سے روگردارنی کررہے ہیں۔خاص طور پر علماءکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلاوجہ اور بغیر تحقیق کے کسی کی نیت پر حملہ آوار ہونے کے بجائے حسنِ ظن رکھیں تاآنکہ کھلم کھلا ثبوت نہ مل جائے۔علماءکو عام اجتماعات یا عام بیانات میں اختلافی مسائل کی تبلیغ یا تردید نہیں کرنی چاہیے، امرباالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اور صرف متفقہ معروفات اور متفقہ منکرات میں ہوتا ہے، اختلافی مسائل تو ترجیحی مسائل ہیں،ان میں جو نظریہ اور رویہ جس کے نزدیک رائج ہے وہ اس کو اختیار کرلیتا ہے۔
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے مسلمانو اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(46) اتحاد واتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے، کیونکہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی، ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے گی، کبھی کسی کی تنقید پرغصہ آئے گا،کبھی کسی کی ترقی پر۔اختلاف کوصبر کے ساتھ برداشت کرنے سے اتحاد وجود میں آتا ہے۔سورہ انعام میں فرمایا: اے مسلمانو خدا سے ڈرو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو، اور اس میں متفرق نہ ہو، آپس میں اختلاف کرناآگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے، خدا کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد واتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں، اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنالیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انہیں کی طرح نہ جاو(102)
 اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو، انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد یا تو اپنے اختلاف کو ختم کردیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں، عملی زندگی میں اس اختلاف کو پھیلا کر معاشرے کو خراب نہیں کرتے۔
مولانا زاہدالراشدی مدظلہ فرماتے ہیں: ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ مزاج راسخ ہوتا جارہا ہے کہ ہم نے جس کے خلاف کچھ کہنا ہوتا ہے، اس کا موقف اس سے نہیں پوچھتے بلکہ اس کی چند عبارات کو سامنے رکھ کر خود طے کرتے ہیں اور اگر وہ جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرے تو اسے یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ماضی میں یہ طرز عمل مولانا۔۔۔۔۔۔۔۔نے اختیار کیا تھاکہ علماءکی کتابوں سے اپنے مطلب کی چند عبارات منتخب کرکے ان سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے تھے اور ان پر ایک استفتا کی بنیاد رکھ کر حرمین کے علماءکرام سے فتویٰ حاصل کیا۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر واسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے، ہرجھگڑے کو 302کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے چندواقعات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک معروف ومشہور اہل بدعت عالم جو اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں بہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، ان کا ذکر آگیا تو فرمایا: میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق معذب ہونے کا گمان نہیں، کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔(مجالس حکیم الامت)ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے کہا فلاں پیر صاحب بازاری عورتوں کو بھی مرید کرلیتے ہیں تو حضرت نانوتوی نے فورا خاموش کراتے ہوئے کہا، تم نے ان کی راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے گریہ زاری نہیں دیکھی؟۔ اسی طرح ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے سرسید احمد خان کے خلاف ایک فتویٰ آپ کو دستخط کرنے کے لئے پیش کیا، آپ نے کہا پہلے تحقیقات تو کرلو آیا وہ کافر ہے بھی یا نہیں؟ چنانچہ خود ہی سرسید احمد خان کی طرف تین سوال لکھے:۱۔خدا پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۲۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۳۔قیامت کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ سرسید احمد خان نے جواب میں لکھا:۱۔خدا تعالیٰ مالک ازلی اور صانع تمام کائنات ہے،۲۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر،۳۔قیامت برحق ہے۔ تو پھر حضرت نانوتویؒ نے فرمایا تم اس شخص کے خلاف دستخط کروانا چاہتے ہو جو پکا مسلمان ہے؟۔
حضرت کے اس فیصلے کو آج کے مفتی شاید تسلیم ہی نہ کریں، لیکن حضرت کا اعتقاد اور مقام انہیں خاموش رکھنے کے لئے کافی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طرف کوئی اعلی علمی اور قابل شخصیت ہوتی ہے لیکن اس کی باتوں کو اس لئے قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا کہ ہمارے علم میں یہ نہیں کہ اس کے اساتذہ کون ہیں، یا اگر ہیں تو وہ ہمارے خیال میں مستند نہیں ہیں۔ میں نے دو تین سال قبل ایسا ہی ایک استفتاءکسی معروف شخصیت جو اب اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں لکھا، میرا سوال یہ تھا کہ ان کی دو چار موٹی موٹی گمراہیاں بتادیں کیونکہ لاکھوں لوگ ان کی کتابیں پڑھتے اور ویڈیوز سنتے ہیں، یہ استفتاءدارالعلوم کراچی سمیت کئی بڑے بڑے جامعات کو بھیجاگیا۔ سوائے دارالعلوم کراچی کے کسی نے اس کا جواب دینا ہی نہیں دیا، اور دارالعلوم کراچی کے دارالافتاءسے جو جواب آیا وہ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی مدظلہم کا لکھا ہوا نہیں تھا بلکہ شاید ان کے علم میں بھی نہ ہو، بہر حال کسی مفتی صاحب نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے جواب میں محض اتنا لکھا کہ یہ شخص مستنداساتذہ اور مشائخ سے نہیں پڑھا ہوا لہٰذا اس کی کتابیں اور ویڈیوز نہیں دیکھنی چاہیے۔ یعنی سوال گندم، جواب جو۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جواب دینے والا مفتی محض سنی سنائی بات پر جواب دے رہا ہے۔ آج فتوی دینے کا یہی معیار رہ گیا ہے کہ نہ تحقیق کرنی ہے اور نہ اس کے بارے میں معلومات لینی ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے مدارس میں یہ وباءپھوٹ پڑی ہے کہ ایک ایک سال کے مفتی کورس کروا کر سندیں بانٹی جارہی ہیں چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کے مفتی یا لکیر کے فقیر ہیں یا سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے فتوے جھاڑتے ہیں،فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کیا چیز ہوتی ہے اس بارے میں انگریز جج کا واقعہ ملاحظہ کریں جو نہ دین اسلام سے واقف ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث اور اسلامی قانون سے، سابقہ مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ اہلِ حدیث اور حنفیوں کے درمیان” آمین “ پر لڑائی ہوگئی، خوب مارکٹائی بھی ہوئی ، بالاخر اس کا کیس انگریز جج کے پاس گیا تو اس نے کہا یہ ”آمین“ کیا چیز ہے کوئی بلڈنگ ہے یا پراپرٹی ہے؟ لوگوں نے سمجھایا کہ ایک لفظ ہے، ایک فریق کہتا ہے حدیث میں ہے اسے بلند آواز سے بولنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے حدیث میں ہے آہستہ بولنا ہے۔ تو انگریز جج نے کہا جس کو جو حدیث معلوم ہے وہ اس پر عمل کرے، لڑتے کیوں ہو؟ اور پھر اس نے تفصیلی فیصلے میں لکھا: میں ساری تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاں ”آمین“ کی تین قسمیں ہیں، ایک آمین بالجہریعنی اونچی کہنا، دوسری آمین بالسر یعنی آہستہ کہنا،جبکہ تیسری آمین بالشر یعنی لڑنے کے لئے کہنا، لہٰذا عدالت دونوں فریقوں کوفلاں فلاں سزا سناتی ہے تاکہ آئندہ نہ لڑیں۔قاری طیب صاحب انگریز جج کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ لکھا، یہ تو ہمارے دلوں کا فساد ہے کہ ہم نے مسائل کو اپنے دل کے جذبات نکالنے کی آڑبنا لیا ہے اور ہر دین کا مسئلہ جھگڑا ڈالنے اور گروہ بندیوں کے لئے رہ گیا ہے(خطابات)۔جی ہاں مفتی کی حیثیت بھی جج کی سی ہوتی ہے بس فرق یہ ہے کہ جج کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے اور انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرواتی ہے، جبکہ مفتی کا کام صرف رہنمائی کرنا اور بتانا ہوتا ہے نافذ وہ نہیں کرسکتا۔اس انگریز جج نے اس معاملے کو ویسے ہی نہیں ٹال دیا بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مطالعہ کیا، تحقیقی کی، لوگوں سے معلومات اکھٹی کیں اور پھرایسا دانشمندانہ فیصلہ دیا کہ معاشرے میں اختلاف نہ پھیلے بلکہ لوگ متفق ہو کر رہیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں۔
 قاری طیب صاحبؒ ملتان میں خیر المدارس میں آئے جلسے سے خطاب کیا اور پھر پوچھا یہاں ملتان میں کوئی اور عالم ہیں؟ بتایا گیا کہ مولانا محمد بخش ہیں لیکن بریلوی فرقے سے تعلق ہے، تو مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری طیب ؒ نے فرمایا: ہم انہیں فرقہ ہی نہیں سمجھتے، نہ ہم فرقہ نہ وہ فرقہ۔ اور پھر سب کے منع کرنے کے باوجود ان کی مسجد میں گئے اور ملاقات کی۔اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: میں ہمیشہ اس کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ بھئی منافرت مت پیدا کرو، اپنی رائے ہے، اگر آپ دیانةً صحیح سمجھتے ہو تو اس پر عمل کرو، لیکن نفرتیں پیدا کرنا یہ صحیح نہیں(خطبات حکیم الاسلام ج۵ص۴۲۲)
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ”وحدت امت“ میں ایک واقع لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں، مَیں سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے پاس حاضر ہوا تو دیکھا کہ حجرت سر پکڑے ہوئے بہت مغمم بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں ٹھیک ہی ہے، میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی۔میں نے کہا حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں صرف ہوئی ہے، اگر آپ کی عمر ضائع ہوئے تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟فرمایا تمہیں صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا حضرت آخر بات کیا ہے؟ فرمایا: ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔۔۔۔۔۔اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا: ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا؟۔۔۔۔۔۔قبر میں بھی فرشتے نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا نہ امام ابوحنیفہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔(نوٹ: یہ کافی طویل تقریر ہے جس میں سے کچھ کچھ اقوال ذکر کیے ہیں،رسالہ وحدت امت مطالعہ کریں)۔
مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس جنگ وجدل کا ایک بہت بڑا سبب فروعی اور اجتہادی مسائل میں تخرب وتعصب اور غلو ہے۔۔۔۔بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور اُن کو تارکِ قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہو۔معلوم نہیں یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفان سے واقف نہیں ؟۔۔۔۔۔۔اور اگر محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے سوال کرلیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہورہے تھے تم وراثتِ نبوت کے دعوے دار کہاں تھے؟ تو کیا ہمارا یہ جواب کافی ہو جائے گا کہ ہم نے رفع یدین کے مسئلے پر ایک کتاب لکھی تھی۔۔۔۔۔۔ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد وتلقین یا دعوت وتبلیغ کے لئے قائم ہیں۔۔۔۔اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست وبازو سمجھے تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔ علمی غلو ہر جماعت میں یہ پایا جاتا ہے کہ اپنے مجوزہ نظام عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دے دیا گیا جو شخص اس نظام عمل میں شریک نہیں اگرچہ اس کا مقصد کتنا ہی عظیم ہو اس کو اپنا بھائی نہیں سمجھا جاتا، اور اگر کوئی اس نظام عمل میں شریک تھا پھر الگ ہوگیا تو عملا اسے اصل مقصد سے منحرف سمجھ لیا جاتا ہے اگرچہ وہ اصل مقصد یعنی اقامتِ دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے۔(وحدت امت)
مفتی شفیع رحمہ اللہ کی اس دلسوز تقریر میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس سمت جارہے ہیں، کہیں کوئی نادیدہ ہاتھ مخیرحضرات کی شکل میں فنڈ دے کر فرقہ واریت اور باہمی اختلافات کو ہمارے ذریعے سے جاری تو نہیں رکھ رہا، تاکہ دینی طبقہ اسی فضول کام میں لگا رہے اور اقامت دین کی جدوجہد کی طرف اس کا دیہان ہی نہ ہو، یاد رکھیں ایسے مخیرحضرات کے پیچھے مقامی ہاتھ بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔ذرا دیہان سے!
...............
پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں