Search This Blog

Showing posts with label شادی. Show all posts
Showing posts with label شادی. Show all posts

Thursday, January 11, 2018

امام احمد بن حنبل نے اپنے بیٹے کو شادی کے موقع پر یہ نصیحتیں کیں۔

اے میرے لخت جگر!
دس خصلتیں اور عادتیں ایسی ہیں کہ جب تک تم اپنی اہلیہ کے ساتھ معاملات میں ان کی رعایت نہ کرو تو تم اپنے گھر میں ہر گز بھی خوشی وراحت نہیں پاسکتے۔لہذا تم انہیں مجھ سے سن کر یاد رکھو اور اچھی طرح سے ان کا اہتمام کرنا۔
1۔عورتیں لاڈ پیار، مزاح کی باتوں اور محبت کے اظہار میں صراحت کو پسند کرتی ہیں، اس معاملہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بخل سے کام مت لینا۔ اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی۔
2۔اگر تم نے اس بارے میں بخل سے کام لیا تو اپنے اور اس کے درمیان بے رخی وبے مروتی اور محبت میں کمی کا حجاب وپردہ قائم کردو گے۔
3۔عورتیں انتہائی سخت اور بہت ہی محتاط مزاج مرد کو ناپسند کرتی ہیں۔ جبکہ کمزور اور نرم مزاج کو جیسے چاہتی ہیں اسی طرح استعمال بھی کرلیتی ہیں، یعنی زن مرید بنا لیتی ہیں۔ سختی اور نرمی دونوں کو مناسب طریقہ سے کام میں لاو۔اسی میں طمانیت ہے۔
4۔ جیسے مرد چاہتا ہے اس کی بیوی خوبصورت لگے اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کی شیریں گفتگو، خوبصورت نظر آنے ، لباس کی صفائی ستھرائی اور عمدہ خوشبو کو پسند کرتی ہیں۔ لہٰذا تم اس کے ساتھ ہر حال میں خوبصورت اور صاف ستھرے رہو۔
(مرد کام سے آتا ہے پسینے سے شرابور ہوتا ہے، اسے تو محسوس نہیں ہوتا لیکن عورت کی حس مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔)

5۔شوہر کا گھر عورت کی سلطنت ہوتی ہے، لہذا گھر میں اسی کا حکم چلنا چاہیے۔ خبردار تم اس کی اس سلطنت کو منہدم نہ کرنا اور تم اسے گھر کی بادشاہت کے اس تخت سے اتارنے کی کوشش مت کرنا، اگر ایسا کیا تو پھر وہی ہوگا جو کسی سے سلطنت چھیننے سے ہوتا ہے۔
(ساس بہو کے جھگڑے عام طور پر اسی وجہ سے ہوتے ہیں)
6۔عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنے شوہر کی محبت بھی حاصل ہو اور اپنے والدین کی بھی۔ خبردار! تم اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خودکو یوں ایک پلڑے میں کھڑا نہ کردینا کہ وہ یا تو تمہیں اختیار کرے یا اپنے گھر والوں کو۔ اگر اس نے اس طرح تمہیں اختیار کر بھی لیا تو رنج وغم کی کیفیت سے پورا گھر متاثر ہوگا۔
7۔ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور یہی اس کے جمال اور اس کی طرف میلان کا راز ہے۔ یہ اس میں عیب نہیں اسی ٹیڑھے پن سے اسے زینت بخشی گئی ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس پر چڑھائی کرکے اس کی کجی کی اصلاح کے پیچھے مت ہونا، ورنہ تم اسے توڑ بیٹھو گے یعنی طلاق ہوجائے گی۔اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اتنی ڈھیل بھی نہ دو کہ شیر بن جائے، سختی اور نرمی کے درمیان رہ کر برتاو کرو۔
8۔ عورت کی فطرت ہے کہ وہ شوہر کی ناشکری ہوتی ہے، اور اچھائی کا انکار کرتی ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر کبھی ایک بار ناخوشگوار سلوک کرو، تو وہ یہ کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں پائی، اس کی یہ عادت تمہیں اسے ناپسند کرنے اور اس سے متنفر ہونے نہ دے، اس لئے اگر تمہیں اس کی یہ عادت ناپسند ہو تو اس کی اور بہت ساری عادتیں تمہیں پسند ہوں گی۔
9۔عورت جسمانی کمزوری اور نفسانی تھکاوٹ کے ایسے مراحل سے گزرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان مخصوص حالات اور دنوں (حیض ونفاس) میں نماز کا فریضہ باالکل معاف کردیا ہے اور روزہ بھی وقتی طور پر معاف کردیا ہے۔لہذا ان حالات اور دنوں میں تم اس کے ساتھ ربانی برتاو کرو۔ جس طرح اللہ نے اس کے ساتھ تخفیف کا معملہ فرمایا ہے تم بھی اپنے مطالبات اور معاملات میں تخفیف کرو۔
(زیادہ تر لڑائیاں اسی پیڑیڈ میں ہوتی ہیں۔)
10۔یاد رکھو! عورت گویا تمہاری قید میں ہے یعنی تمہاری پابند ہے اس کی قید پر رحم کھاو اور اس کی خطا پر درگزر سے کام لو، تو وہ تمہارے لئے بہترین متاع اور شریک حیات ثابت ہوگی

Monday, February 15, 2016

رشتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
اس وقت پاکستان میں تین کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ تین لاکھ سے زائد لڑکیاں شادی کے خواب دیکھتے دیکھتے شادی کی عمر گزار چکی ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں دو سے زائد لڑکیاں ہیں۔ہر آٹھویں گھر میں لڑکیوں کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور انہیں موزوں رشتے دستیاب نہیں۔
لڑکیوں کے والدین اچھے کھاتے پیتے لڑکے کے انتظار میں لڑکیوں کو گھر بٹھائے رکھنے پر مجبور ہیں جب ان لڑکیوں کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور 35 سال کی ہو جاتی ہیں تو پھر وہ اَن پڑھ اور عام رشتے ہی قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جبکہ لڑکے لڑکیوں سے تعلیم کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔ بیس سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شرح دس فیصد بھی نہیں رہی لڑکے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا بہانہ اور نوکری لگنے کا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ لڑکیوں کی شرح پیدائش بھی لڑکوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں شادی مزید گھمبیر مسئلہ بن جائے گی ان خطرناک حالات میں ترغیب نہیں بھر پور تحریک کی ضرورت ہے۔
جب کسی چیز کی بہتات ہوجائے تو اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے، لوگ اس کی قدر نہیں کرتے، اس کی حفاظت نہیں کرتے، اس پر چوکیدار نہیں بٹھاتے، اسے چھپاتے نہیں، اگر کوئی اس کی ناقدری کرے تو پرواہ نہیں کرتے۔ مثلا آپ پانی کو لے لیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ نے پانی وافر مقدار میں دیا ہے ، پینے کے لئے ہمیں مفت میں دستیاب ہے، آپ کسی سے پانی کا گلاس مانگیں ، کسی ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے پانی کا گلاس پی لیں آپ سے کوئی پیسے نہیں مانگے گا، آپ پانی کا گلاس گرا دیں آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔پانی کے مقابلے میں آپ پٹرول یا سونے کو لے لیں یہ دونوں قیمتی چیزیں ہیں لوگ ان کی قدر کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، چوکیدار بٹھاتے ہیں اگر کسی کے پاس سونا ہوتو ہرکسی کو نہیں بتاتا کہ میرے پاس سونا ہے اسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہ دونوں قیمتی ہیں ، مقدار میں کم ہیں، مانگ زیادہ ہے۔یہ اصول تقریباً ہر چیز کا ہے۔بالکل اسی طرح کا معاملہ اس وقت عورت کا بھی ہے۔ دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔اس قدروقیمت کو ختم کرنے میں ہمارے دشمن کے ساتھ ساتھ ہماری عورت کا اپنا قصور بھی ہے۔لوگوں کی بیٹیوں کو رشتے نہیں مل رہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ، زنا عام ہورہے ہیں، جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہوجائے اس معاشرے میں زنا سستا ہوجاتا ہے۔آپ نکاح کا تصور کریں آپ کے ذہن میں فوراً ڈیڑھ دو لاکھ کا بجٹ آجائے گا، لیکن زنا کا سوچیں تو صرف چار پانچ سو میں دستیاب ہے(نعوذ بااللہ)۔بعض والدیں اپنی بیٹیوں کو کسی کے ساتھ دوستی لگاتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں مگر صرف نظر کرلیتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ کسی طریقے سے دوستی لگ جائے اور ہماری بیٹی کو رشتہ مل جائے۔اگر آج کے مسلمان نبیوں اور صحابہ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے ایک سے زائدشادیاں کرنا شروع کردیں تو کنواری عورتوں کی تعداد کم ہوجائے گی، جس سے ان کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا۔ مانگ زیادہ ہوگی تو قیمت بڑھ جائے گی، لوگ اپنی بیٹی کو چھپا کر رکھیں گے بے دین بھی اپنی بیٹی سے پردہ کروائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے سے پیدا کی ہے:(انا کل شءخلقناہ بقدر)ہم نے ہر چیز کو ایک متعین اندازے سے پیدا کیا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شی کو حکمت کے ساتھ ایک اندازے سے پیدا کیا ہے تو جس خالق نے مردوں میں عورتوں سے زائد جنسی رغبت رکھی اس نے اسی حساب سے مردوں کے مقابلے میں زائد عورتوں کو پیدا بھی کیا ہوگا، تاکہ ایک مرد اپنی اس فطرت کے موافق عورتوں کو خواہ وہ عورتیں اپنی قوم کی ہوں یا اگر اپنی قوم میں عورتوں کی تعداد کم ہو تو دوسری اقوام کی عورتوں سے نکاح کرکے بیک وقت متعدد کو بسہولت نکاح میں جمع بھی کرسکتے۔بیل ، گائے، بکرا، بکری اور مرغا، مرغی وغیرہ میں نرومادہ کی شرح پیدائش اس لئے برابر ہوتی ہے کہ ان اجناس میں ”نر“ ذبح ہونے اور گوشت کھانے کے لئے یا کسی اور طرح سے مرنے کے لئے ہوتے ہیں، توالدوتناسل کے لئے صرف ایک نر متعدد مادہ کے لئے رکھا جاتا ہے۔عین اسی اصول کے مطابق عجیب بات ہے کہ وہ قوم جس کے مرد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے کثرت سے قربان اور شہید ہونے لگیں تو مشاہدہ ہے کہ اس قوم میں اللہ تعالیٰ لڑکوں کی شرح پیدائش بڑھادیتے ہیں۔چنانچہ افغانوں کے ہاں سنا ہے کہ لڑکوں کی شرح پیدائش لڑکیوں سے زیادہ ہے۔فلسطین میں بھی یہی صورتحال ہے۔
اولیا کی طرف سے نکاح میں بے جا تاخیربھی تشویش ناک صورتحال اختیار کرچکی ہے،بعض والدین کی یہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچی کے لئے آنے والے پیغام نکاح کو فضول قسم کی باتوں کی وجہ سے رد کردیتے ہیں۔ مثلا بعض والدین کئی کئی پیغام نکاح مہر کی زیادتی کی تلاش میں ٹھکرا دیتے ہیں، بعض لڑکے میں یا اس کے خاندان میں فضول قسم کے عیب نکال کر پیغام نکاح ٹھکرا دیتے ہیں، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی عمر کا ایک بہترین حصہ گزار لیتی ہے اس کے بعد اس کے پیغام آنا بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ ساری عمر گھر میں گزارتی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب کسی گھر میں کوئی بچی جوان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کے دل میں یہ الہام کرو کہ وہ جا کر اس بچی کا رشتہ مانگیں ، فرشتے مختلف لوگوں کے دلوں میں یہ الہام کرتے ہیں کہ وہ جا کر فلاں لڑکی کا رشتہ اپنےلڑکے کے لئے مانگیں ، اس طرح کچھ لوگ اس بچی کا رشتہ مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔ اب اگر بچی کے والدین سمجھدار ہوں تو وہ اس پیغام نکاح کو قبول کرلیتے ہیں ورنہ جب وہ اس پیغام نکاح کو ٹھکراتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اب اپنی بچی کے لئے رشتہ خود تلاش کرو اس طرح پھر انہیں رشتہ نہیں ملتا اور وہ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ ہماری بچی کا رشتہ نہیں آرہا۔
ایسے والدین کے بارے میں علمائے حنابلہ جن کا مذہب ہے کہ بلا اجازت ولی عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک بھی اگر کسی لڑکی کا باپ زیادہ مہر کی لالچ میں لڑکی کو گھر میں بٹھائے رکھے اور پے درپے متوجہ ہونے والے رشتوں کو مسلسل رد کرکے بچی کے نکاح میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بن رہا ہو تو اس عمل سے لڑکی کے باپ کی ولایت ساقط ہو جائے گی۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک جید حنبلی عالم شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ ایک فتوے میں فرماتے ہیں:آپ نے بعض لوگ دیکھے ہوں گے کہ جنہیں ان کی بچی کےلئے نکاح کا پیغام بھیجا جاتا ہے اور پیغام بھیجنے والا اس لڑکی کا ہم پلہ(کفو) بھی ہوتا ہے مگر اس کا باپ اسے مسترد کردیتا ہے، پھر ( اس جیسا) کوئی دوسرا پیغام بھیجتا ہے اسے بھی اور پھر اس کے بعدایسے کسی تیسرے کو بھی مسترد کرتا رہتا ہے تو جو شخص ایسی عادت کا ہو تو بچی کے نکاح کے معاملے میں اس کی ولایت ساقط ہوجائے گی اور اس باپ کے سوا کسی دوسرے قریبی ولی کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرادے(اگرچہ باپ راضی نہ ہو)۔
آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔
 خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
poly