Search This Blog

Showing posts with label مسلک. Show all posts
Showing posts with label مسلک. Show all posts

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟

Saturday, March 18, 2017

اختلاف کب رحمت کب زحمت

(سید عبدالوہاب شیرازی)

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔
ماضی قریب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری بہت بڑے مناظر تھے، قادیانیوں،عیسائیوں،آریوں سمیت مختلف فرق باطلہ سے مناظرے کیے لیکن مناظرے کے بعد مخالف فریق نہ صرف کھانا کھلاتے بلکہ اس دن لازما اپنے گھر ٹھہرا کر خوب مہمان نوازی کرتے تھے۔
تفرقہ کیسے بنتا ہے؟
ایک طبقہ دین کا ایک شعبہ لے کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ دوسرا طبقہ دین کا دوسرا شعبہ پکڑ کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچ، وفاداریاں ہرچیز تقسیم ہوجاتی ہے۔ پھر محبت بھی تقسیم ہوجاتی ہے، چنانچہ ایک کہتا ہے محبت صرف اللہ کے لئے خالص ہے۔ دوسرا کہتا ہے محبت رسول اللہ کے لئے ہے، تیسرا کہتا ہے صحابہ کے لئے ہے ۔چوتھا محبت کو صرف اہل بیت کے لئے خالص کردیتا ہے۔اس طرح دین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ہر طبقہ اپنی اسی سوچ کے ساتھ تعبیر وتشریح کرتا ہے۔
موجودہ صدی میں بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی، جنہوں نے لوگوں کو سنگل پوائنٹ ایجنڈا دیا، اور اسی سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کیا۔ دراصل سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کرنا نہایت ہی آسان معاملہ ہے۔ دین کا ہمہ گیر تصور دینا اور اس پر لوگوں کو اکھٹا کرنا مشکل کام ہے چنانچہ لوگوں نے دین کا ہمہ گیر تصور ایک طرف رکھتے ہوئے سنگل پوائنٹ ایجنڈے سے کام لیا اور کسی ایک بات یا نظریے پر لوگوں کو اس طرح اکھٹا کرنا شروع کیا کہ اب ہرجماعت اور طبقہ کے لوگ صرف اسی ایک بات کو مکمل دین سمجھتے ہوئے باقی تمام جماعتوں اور دین کے شعبوں کا انکار کررہے ہیں۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر اور علم بڑھتا ہے اور چالیس پنتالیس سال کی عمر میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ میری پچھلی ساری سوچیں غلط اور محدود تھیں۔

اس صورت میں ایک اور نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسا شخص اپنے ان اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے متنفر ہوجاتا ہے جن کے پاس اس نے آٹھ دس سال لگائے تھے اور انہوں نے اسے وہ سوچ نہیں دی جو اسے چالیس سال کی عمر میں مختلف تجربات ، مشاہدات، معاشرے کے رویوں، خارجی مطالعے، اور ٹھوکریں کھا کر حاصل ہوئی۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا مسلک ضرور پڑھایا جائے لیکن اسے اختلاف کی حد تک رکھتے ہوئے خلاف سے بچنے کی تعلیم بھی دی جائے اور بچوں کو سمجھایا جائے کہ اصول اور فروع میں فرق کیا ہے۔ اصول اور فروع میں وہی فرق ہے جو فرض اور واجب یا فرض اور سنت یا فرض اور مستحب میں ہے۔ جب تک یہ فرق نہ سمجھ آئے چھوٹا ذہن ہر اختلاف کو فرض اور حرام کا فرق سمجھتے ہوئے اپنے مسلک کے علاوہ ہر مسلک کو مکمل باطل،مردود اور کافر تک سمجھتا ہے، پھر جب وہ عملی طور پر معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو انتشار ، افتراق و تشتت پیدا کرتا ہے۔
ہم جب مسلکی جھگڑے چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلک کو چھوڑدیا جائے بلکہ اس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ دوسرے کا مسلک چھیڑو نہ۔ ہر کوئی اپنے مسلک میں رہتے ہوئے اس جھگڑے کو ختم کرسکتا ہے۔ دلائل کے ساتھ اپنا مسلک اپنے طلباءکو ضرور سمجھایا جائے لیکن اسے عوام میں بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں پائے جانے والے تینوں مسالک یعنی دیوبندی، بریلوی،اہلحدیث کا صرف پانچ فیصد باتوں میں اختلاف ہے باقی پچانویں فیصد باتوں میں مکمل اتفاق ہے۔ پھر ان پانچ فیصد میں سے بھی تین فیصد میں محض ظاہری اختلاف یا تعبیر کا فرق ہے بات دونوں فریق ایک ہی کررہے ہوتے ہیں محض تعبیر کا فرق ہوتا ہے، یعنی دونوں ایک ہی کان پکڑ رہے ہوتے ہیں بس ایک دائیں طرف سے تو دوسرا بائیں طرف سے۔ یہ غلط فہمی آپس میں مل بیٹھنے سے ختم ہوسکتی ہے۔ جب آپس میں دوریاں ہوتی ہیںاور ملنا ملانا نہیں ہوتا تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر علماءآپس میں ملنا ملانا رکھیں تو یہ تین فیصد مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور محض دو فیصد واقعی اختلاف رہ جائے گا جو فطری عمل ہے کوئی بری چیز نہیں۔اپنی جماعت اور اپنے مسلک پرلوگ کتنے سخت ہیں اور ان کا رویہ کیاہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت بھی ہوا جب میں نے فیس بک پر فرقہ واریت کے حوالے سے مختلف علماءکے اقوال پوسٹ کرنا شروع کیے، جب ایک مسلک کے علماءکے اقول پیش کیے تو کوئی خاص ہلچل نہیں مچی مگر جب میں نے دوسرے مسلک کے علماءکے فرقہ واریت کے خلاف اقول پیش کرنا شروع کیے تو بے شمار لوگ اشتعال میں آگئے، یعنی وہ کسی دوسرے مسلک والے کی بات سننے تک گوارا نہیں کرسکتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ اس کا نام لکھنا گوارا کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے ہی مسلک کے اکابرین کے مسلک پرستی اور فرقہ واریت کے خلاف موقف کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں.

Wednesday, March 8, 2017

علماء اپنی دکانیں بند کریں

علماءاپنی دکانیں بند کریں
 علماء سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنے مسلکی اور فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لئے متحد ہوجائیں ، یہ مسئلہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے، علماء سے اپیل کرتا ہوں کے کچھ عرصے کے لئے اپنی دکانیں بند کردیں، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت سے زیادہ دین کی اور کوئی خدمت نہیں ہوسکتی۔ 
#جسٹس #شوکت_عزیزی_صدیقی , عدالتی ریمارکس 7مارچ 2017
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو