Search This Blog

Friday, June 2, 2017

فروٹ بائیکاٹ مہم

پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔  ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔  ایک ٹرک  پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو  فی ٹرک کمیشن  ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔  جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے،  اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان  کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ  زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور

No comments:

Post a Comment