Search This Blog

Showing posts with label سید عبدالوہاب شیرازی. Show all posts
Showing posts with label سید عبدالوہاب شیرازی. Show all posts

Monday, October 22, 2018

عورت کو طلاق کا حق


سیدعبدالوہاب شیرازی
میڈیا کا کام معاشرے میں افراتفری اور نفرت پھیلانا ہے۔ چنانچہ میڈیا ہر منفی خبرکی کھوج میں لگا رہتا ہے۔ اگر منفی خبر نہ بھی ملے تو مثبت خبر کو بھی منفی بنا کر بریکنگ نیوز نشر کی جاتی ہے۔ اس کی تازہ مثال عورتوں کو طلاق کا حق دینے والی خبر ہے۔ جسے سن کر میں خود بھی اور یقینا آپ بھی بہت حیران ہوئے ہوں گے۔
لیکن آج ایک ٹاک شو میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب نے اس کی  جو اصل حقیقت بتائی وہ تو پہلے سے ہی علمائے کرام مسلسل حکومتوں سے کہتے آئے ہیں کہ یہ قانون بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ
1۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک تو اس بات پر غور کررہی ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے تو اسے تعزیر یعنی سزا ملنی چاہیے۔ اور بیک وقت تین طلاق کو جرم قرار دیا جائے۔ کیونکہ بیک وقت تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں اور پھر مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں، اگر اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے گا تو جس نے طلاق دینی ہوئی وہ ایک ہی طلاق دے گا۔
2۔ نکاح نامے میں ایک شق پہلے سے شامل ہے جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ کیا خاوند طلاق کا حق بیوی کو بھی تفویض کرتا ہے یا نہیں؟ اور عام طور پر نکاح کے موقع پر اس شق پر کراس مار دیا جاتا ہے، تو اسلامی نظریاتی کونسل نکاح خواں کو اس بات کی پابند بنانا چاہتی ہے کہ وہ اس شق کو باقاعدہ خاوند کو پڑھ کر سنائے اور خاوند جو بھی جواب دے اسے نکاح نامے میں شامل کردیا جائے۔ یعنی اگر خاوند ہاں کرے تو ہاں اور نا کرے تو نا لکھ دیا جائے۔
(ظاہر ہے شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، )
3۔جس طرح نکاح نامہ پرنٹڈ بنا ہوا ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل ایک طلاق نامہ بھی پرنٹڈ بنانا چاہتی ہے تاکہ جس نے طلاق دینی ہے وہ طلاق کے برسٹ چلانے کے بجائے اس طلاق نامے کو فل کرکے اور اس پر دستخط کرکے طلاق دے۔
( اور ظاہر ہے اس طرح کا طلاق نامہ بنا تو اس پر ایک ہی طلاق کا ذکر ہوگا۔ اور اس طرح بعد میں اگر صلح ہو گئی تو رجوع آسانی سے ہو سکے گا۔)
میرے خیال میں قبلہ ایاز صاحب کی بتائی ہوئی تینوں باتیں ایسی ہیں جو عائلی قوانین کو بہتری کی طرف لانے کی ایک کوشش ہے۔


Friday, October 19, 2018

رزق کے پانچ دروازے ہیں

 (سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ہر شخص رزق کے حصول کے لیے اپنا سارا وقت، ساری توانائیاں، اور ساری زندگی لگا دیتا ہے۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں،جنکو وافر مقدار میں رزق ملتا ہو، اور وہ اپنی ہر ضرورت پوری کرتے ہوں۔ اور ایک بہترین اور باعزت زندگی گزارتے ہوں۔
رزق کے پانچ  دروازے ہیں۔ پہلے تین تو صرف مسلمانوں کے لیے ہیں اور چوتھا ،پانچواں ساری دنیا کے لیے ہے یعنی مسلم، غیر مسلم ، بت پرست ، دہریے وغیر۔ اگر ہمیں رزق کے دروازوں کا علم ہوگا تو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی۔ہم ادھر ادھر وقت ضائع نہیں کریں گے اور سیدھے اندروازوں پر پہنچ کر رزق حاصل کریں گے۔ اس کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ جیسے کوئی بھی شخص کوئی کاروبار وغیرہ شروع کرنا چاہتا ہے تو پہلے کتنا غور  وفکر کرتا ہے کہ میں ایسا کون سا کام شروع کروں کہ میرا وقت ضائع نہ ہو اور اچھا منافع ہو، اس کے لیے وہ اعلیٰ تعلیم، کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں سے مشورہ بھی کرتا ہے۔پھربڑی جستجو، غور وفکر، اور مشاورت کے بعد وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے بعد وہی کام شروع کرتا ہے جس سے زیادہ پیسہ آنے کی امید ہوتی ہے۔
بالکل ایسے ہی آج ہم آپ کو پانچ  ایسے راز بتا رہے ہیں، جو رزق کو ایسے کھینچتے ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو۔ اور یہ پانچ رزق کے دروازے کسی عام انسان کے بتائے ہوئے نہیں بلکہ رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔
تو ان پانچ  میں سے پہلے تین دروازے صرف مسلمانوں کو ہی مل سکتے ہیں، کوئی غیر مسلم ان تین دروازوں کو حاصل نہیں کرسکتا۔البتہ اگلے دو دروازے ایسے ہیں جو غیر مسلموں کے لیے بھی کھلے ہیں۔ یعنی ان دو دروازوں سے غیر مسلم بھی رزق حاصل کرتے ہیں۔
1۔ہرزق حاصل کرنے کا سب سے پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو شخص بھی نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ پاک اس کو برکت والا رزق عطا فرماتے ہیں۔ اہتمام یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پہلے یا وقت ہوتے ہی اس کی تیاری میں لگ جانا اور وقت پر نماز ادا کرنا۔
2۔رزق حاصل کرنے کا دوسرا دروازہ استغفار ہے۔جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے غیب سے رزق عطا فرماتے ہیں کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے ہر غم سے نجات عطا فرماتے ہیں، ہر پریشانی میں راستہ دیتے ہیںاور ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں کہ جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو۔ ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ کثرت کا مطلب ہے کہ کم از کم تین سو مرتبہ۔ تو جو روزانہ تین سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کرے گا ان شاءاللہ اسے بہترین رزق ملے گا۔
3۔رزق حاصل کرنے کا تیسرا دروازہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے معنی گناہوں سے بچنا ہے۔ یاد رہے کہ مسلمان کے ذمہ ہر نیکی کرنا نہیں ہے لیکن ہر گناہ سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ جو ہر گناہ سے بچتا ہے وہ اللہ کے ہاں متقی کہلاتا ہے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ اس کام سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع تو نہیں فرمایا۔ اگر منع فرمایا ہے تو ہم رک جائیں ۔
تو جوتقویٰ اختیار کرے گا اللہ پاک اسے بغیر محنت کے رزق عطا فرمائیں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ومن یتق اللہ یجعلہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔
جو اللہ کا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ اپنے بندوں کو اسکی خدمت پر مامور فرمادیتے ہیں۔
4۔ انفاق اور صدقہ۔ رزق حاصل کرنے کا چوتھا دروازہ دوسروں پر خرچ کرنا ہے۔ خرچ کرنے کے بہت سارے مصرف ہیں۔ خاص طور  پر اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنا، سب سے زیادہ ضروری، اور رزق کو کھینچتا ہے۔ جو اپنے رشتہ داروں خاص طور پر قریبی رشتہ داروں(مثلا، چچا، ماموں،پھوپھی، بہنیں،خالائیں، وغیرہ) ان پر خرچ کرے اللہ اس کی عمر اور رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں۔
اس بات کو حضور علیہ السلام نے بیان فرمایا:کہ جو یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور رزق میں وسعت ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے اور ان پر خرچ کرے۔رشتہ داروں کے بعد باقی غریب غربا، فقیر مسکین۔ سوالی۔ پر بھی خرچ کرنا چاہیے۔ اور پھر خاص طور پر دین کے کاموں میں خرچ کرنے کو تو اللہ نے اپنے ذمہ قرض قرار دیا ہے ، اور جو اللہ کو قرض دے اللہ اس کا 10 فیصد دنیا میں اور 70 فیصد آخرت میں لوٹائیں۔ یعنی جس نے ایک ہزار دین کی محنت میں خرچ کیا تو اللہ دس ہزار اس کی زندگی میں ہے اسے لوٹا دیں گے۔ اور ستر فیصد آخرت میں ملے گا۔
دوسروں پر خرچ کرکے اپنے لیے رزق کے دروازے کھولنا یہ وہ دروازہ ہے جو مسلمانوں اور کافروں سب کے لیے ہے۔جو کافر بھی کسی محتاج پر خرچ کرتا ہے اللہ اسے بھی دنیا میں عطا کرتے ہیں، البتہ آخرت میں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا۔
5۔رزق حاصل کرنے کا چوتھا دروازہ ذریعہ معاش اختیار کرنا ہے اور یہ دروازہ بھی سب کے لیے ہے، کوئی کافر ہو یا مسلم، بتوں کو پوجنے والا ہو یا آتش پرست۔ اگر وہ معاش کا کوئی ذریعہ اختیار کرے گا تو اللہ اسے رزق عطا فرمائیں گے۔مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے پہلےچار دروازے بھلا دیے اور آخری دروازے کو ہی لازمی سمجھ لیا۔ جبکہ ان  چار  دروازوں سے رزق حاصل کرنا بہت آسان ہے.یہاں کوئی میری بات سے یہ مطلب نہ لے کہ ملازمت ، کاروبار یا معاش کا کوئی بھی دوسراذریعہ جو ہم نے اختیار کیا ہوا ہے اسے چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کام نہ کریں۔ کام ضرور کریں لیکن اگر ہم پانچویں  دروازے کے ساتھ ساتھ پہلے چار  دروازوں کو بھی استعمال کریں گے تو ہم تھوڑی محنت میں ہی زیادہ رزق ملے گا۔ہماری مشقت کم ہوجائے گی۔ اور ہماری کمائی غیر ضروری جگہوں پر نہیں لگے گی اور ہمارا مال ضائع نہیں ہوگا .گھر میں رکھی ہوئی مرغی کو آپ اس کی خوراک ایک جگہ برتن میں رکھ کر دے دیں تو وہ کم وقت اور کم مشقت میں اپنا پیٹ بھر لے گی اور اگر وہی خوراک آپ پورے صحن میں بکھیر دیں تو اسے وہی خوراک حاصل کرنے کے لیے وقت بھی زیادہ لگے گا اور مشقت بھی۔اب فیصلہ آپ پر ہے کہ آپ کس دروازے کو اختیار کرتے ہیں ؟۔

Thursday, October 11, 2018

انسانوں کی جنریشن ایکس x generation of humans

انسانوں کی جنریشن ایکس
(سیدعبدالوہاب شیرازی)

آپ نے ٹیکنالوجی کی چیزوں مثلا لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ میں جنریشن کا لفظ استعمال ہوتے دیکھا ہوگا۔ جیسے آئی تھری فورتھ جنریشن۔ آئی سیون نائن جنریشن وغیرہ۔ بالکل اسی طرح انسانوں کی تقسیم بھی مختلف جنریشن میں کی جاتی ہے۔ چنانچہ جو  لوگ انیس سو اکسٹھ(1961) سے انیس سو اکیاسی(1981) کے درمیان پیدا ہوئے  ہیں انھیں جنریشن ایکس کہا جاتا ہے،کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تبدیلیاں جنریشن ایکس نے ہی دیکھی ہیں ، کیونکہ جنریش ایکس کے دور میں زمانے اتنا زیادہ اور اتنی تیزی سے بدلا ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی انسان آج آجائے تو چکرا کر رہ جائے گا۔ جنریش ایکس اس انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی اور سائنس کی ترقی کے عین موقع پر پیدا ہونے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے ان چیزوں کو بھی دیکھا جو صدیوں سے انسانوں کے زیر استعمال تھیں اور ان کو بھی دیکھا جو اچانک سے ایجاد ہوئیں اور چھا گئیں۔

مہمان کے آنے پر مرغی کو بھگا بھگا کر پکڑنے سے لے کر فارمی مرغی کے پھٹے پر ٹھک ٹھکا ٹھک تک۔سارا دور اس جنریشن نے دیکھا۔
پردہ سکرین سے لے کر ہولوگرام اور وی آر ٹیکنالوجی تک۔ ٹانگے سے لے کر میٹرو ٹرین تک۔ تجوریوں سے لے کر ماسٹر کارڈ تک۔تار مارنے ، فیکس کرنے سے لے کر ایس ایم ایس اور وٹس اپ تک۔ پرانے ریکارڈر سے یوایس بی سٹک تک۔بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے لے کر سمارٹ ایل سی ڈی تک۔ڈائل گھمانے والے فون سے لے کر ٹچ سکرین اور وائس ڈائل سمارٹ فونز تک۔پتنگ اڑانے سے ڈرون اڑانے تک۔ صدیق دی ہٹی سےلے کر ایمازون اور دراز پی کے تک۔پیتل کی تار سے لے کر وائی فائی تک۔ چور پکڑنے والے کتوں سے لے کر سی سی ٹی وی کیمروں تک۔عشاء کے بعد دادی جان کی کہانیوں سے لے کر فیس بک اور سوشل میڈیا میں گم ہونے تک۔ ڈسپرین کے فضائل سے لے کر ڈسپرین کے نقصاندہ قرار دیے جانے تک۔سڑک کنارے لگی مداری دیکھنے سے لے کر  سوشل میڈیا کی لائیو سٹریم تک۔ سپیرے کی پٹاری میں چھپے عجیب سانپ کو دیکھنے کی جستجو سے لے کر یوٹیوب پر جدید چیزوں کی اَن باکسنگ دیکھنے تک۔دلہن کی ڈولی سے لے کرپھولوں سے سجی  لیموزین کارتک۔ شکر ، دیسی گھی  ملے سفید چاولوں کے ولیمے سے لے کر میرج ہال کی بے شمار ڈشوں تک۔کلینڈر سے لے کر ٹکٹنگ آفیسر تک۔ پھیری والے بابوں سے لے کرایم بی اے کیے ہوئے  مارکیٹنگ کے بابووں تک۔ہاتھ والے پنکھوں سے لے کر سولر اے سی تک۔ لالٹین اور دیے جلانے سے ایل ای ڈی تک۔جندر سے لے کر فلور مل تک۔ سحری و افطاری کے وقت ڈاکٹر اسرار احمد کے دروس قرآن سے لے عامر لیاقت کی فنکاریوں تک۔ صدرپاکستان ایوب خان کے امریکا میں تاریخی استقبال سے لے کر وزرائے اعظم کے جوتے اتارنے تک۔ علاقے کی پنچائیتوں اور جرگوں  سے لے کر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس تک۔سدھائے ہوئے کتےاور بندروں  سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی ٹیکنالوجی) تک،اپنے سینوں میں عروج و زوال ، تغیر و تبدیلی کی ہزاروں داستانیں چھپائے ہوئے ہیں۔


 انسانوں کی یہ جنریشن بڑی قیمتی ہے،کبھی جنریشن ایکس سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کے پاس بیٹھ کر ماضی کی یادیں ، حالات کی تبدیلیاں اور وقت کے تغیرات کریدنا شروع کریں، مجھے یقین ہے کہ آپ کو بہت کچھ سننے کو ملے گا۔بعض ممالک میں  ان کے پاسپورٹ پہ بھی باقاعدہ ایکس جنریشن درج ہوتا ہے۔جنریش ایک 1961 سے 1981 کے دورا ن پیدا ہونے والوں کو جبکہ جنریشن وائی 1982 سے 1995 تک پیدا ہونے والوں کو۔ اور جنریشن زیڈ 1995 سے 2012 کے دوران پیدا ہونے والوں کو کہا جاتا ہے۔ جنریشن ایکس چونکہ پچھلے اور اگلے یعنی پرانے اور جدید دور اور ان کی چیزوں کو دیکھ چکی ہے اس لیے اگلے پندرہ بیس سال بعد جب دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی، اور یہ جنریشن دادا ابو اور دادی جان کی سیٹ پر بیٹھ جائے گی، تب پوتے پوتیاں اور نئی نسل کے نوجوان ان کی پرانی اور اپنے بچپن کے زمانے کے حالات، کہانیوں اور روز مرہ کی زندگی کی چیزوں کے بارے سن کر حیرت زدہ بھی ہوں گے اور شاید یقین بھی نہ آئے۔

......................
x generation of humans

The Names of Generations in the U.S. 

While some generations are known by one name only, such as the Baby Boomers, names for other generations is a matter of some dispute among experts. 
Neil Howe and William Strauss define recent generational cohorts in the U.S. this way:
  • 2000 to present: New Silent Generation or Generation Z
  • 1980 to 2000: Millennials or Generation Y
  • 1965 to 1979: Thirteeners or Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1925 to 1945: Silent Generation
  • 1900 to 1924: G.I. Generation
The Population Reference Bureau provides an alternate listing and chronology of generational names in the United States:
  • 1983 to 2001: New Boomers
  • 1965 to 1982: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1929 to 1945: Lucky Few
  • 1909 to 1928: Good Warriors
  • 1890 to 1908: Hard Timers
  • 1871 to 1889: New Worlders
The Center for Generational Kinetics lists the following five generations who are currently active in America's economy and workforce:
  • 1996 to present: Gen Z, iGen, or Centennials
  • 1977 to 1995: Millennials or Gen Y
  • 1965 to 1976: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1945 and before: Traditionalists or Silent Generation

Saturday, August 18, 2018

فرد اور اجتماعیت

فرد اور اجتماعیت
(سیدعبدالوہاب شیرازی)
پہلی بات:
*
۔۔۔زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے،(یعنی اپنا کام کررہی ہے) زمین اپنی اس گردش کے دوران سورج کے گرد بھی گھومتی ہے۔
*
۔۔۔زمین اپنی اس انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی نظام ’’نظام شمسی‘‘ کا بھی حصہ ہے۔ اور وہ پورا نظام شمسی بھی (اپنے سیاروں اور چاندوں سمیت)رواں دواں ہے، پھر وہ بھی اپنے سے بڑی ایک اور اجتماعیت ’’کہکشاں ‘‘ کا حصہ ہے۔پھر یہ کہکشائیں بھی اپنے سے بڑی ایک اور اجتماعیت ’’گلیکسی‘‘ کا حصہ ہیں۔الغرض ہر کرہ حرکت میں بھی ہے اور کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے۔
اسی طرح دنیا کی ہر چیز اپنی انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے۔ چاہے وہ درخت ہوں یا پھل پھول پودے۔ درند، چرند، پرند ہوں یا خشکی تری کے جاندار وغیرہ۔ ہر کوئی کسی نا کسی اجتماعیت کا حصہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کائنات کا مزاج اجتماعیت والا ہے۔

دوسری بات:
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
یاایہاالذین آمنوا اتقواللہ وکونوا مع الصادقین۔
اے ایمان والو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ جڑ جاو۔ اس آیت کریمہ میں دو باتوں کا حکم ہے:
۱۔ انفرادی سطح پر تقویٰ اور خدا خوفی پیدا کرو۔ ۲۔ اس کے ساتھ ساتھ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ جڑ جاو۔
یعنی اپنی ذات میں تقوے والی زندگی (جس میں فرائض، واجبات اور اللہ رسول کی اطاعت ۔ اور حرام اور نافرمانی سے بچتے ہوئے)گزارو۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ جڑنا بھی شروع کرو، اکیلے نہ رہو۔

تیسری بات:
آخرت کا منظر اور سین: قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وکلہم آتیہ یوم القیامۃ فردا۔
اور وہ سب کے سب قیامت والے دن اکیلے اکیلے آئیں گے۔
یعنی قیامت والے دن اللہ کے حضور پیشی انفرادی ہوگی، ایک ایک فرد کو اکیلے اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر حساب کتاب دینا ہوگا، وہاں پیشی قوموں، قبیلوں، جماعتوں کی شکل میں نہیں ہوگی، کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا ۔وہاں اپنے ہی اعمال کام آئیں گے، کوئی دوسرا کسی کے کام نہیں آئے گا، نہ اپنی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالی جاسکے گی۔یہاں تک کہ شیطان پر بھی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکے گی حالانکہ دنیا میں وہ بہکاتا بھی رہا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ انسان کو اعمال صالحہ کی حفاظت اور پابندی کے لیے پاکیزہ اجتماعیت کا حصہ بننا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اکیلا ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے۔ جیسے اکیلے کو چور ڈاکو آسانی سے لوٹ سکتے ہیں اور آٹھ دس کو لوٹنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح دین ایمان کے ڈاکو شیاطین اور انسان نما شیاطین بھی اکیلے آدمی کا دین ایمان آسانی سے لوٹ لیتے ہیں جبکہ جہاں’’ کونوا مع الصادقین‘‘ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے چند سچے اور نیک لوگ اپنی اجتماعیت قائم کردیں ان کو لوٹنا یا گمراہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لہٰذا فرد اور اجتماعیت کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
اجتماعیت کی اہمیت
*
۔۔۔علیکم باالجماعۃ، وایاکم والفُرقۃ، فان الشیطان مع الواحد، وھو من الاثنین اَبعدُ۔
تم جماعت کو لازم پکڑو، اور فرقہ فرقہ ہونے سے بچو۔ کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ اور دو سے دور ہوتا ہے۔
*
۔۔۔یداللہ علی الجماعۃ، ومَن شَذَّ شُذَّ الی النار۔
اجتماعیت اور جماعت کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے، اور جو جماعت سے کٹا وہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔
*
۔۔۔انہ لا اسلام الا باالجماعۃ، ولا جماعۃً الا بِاَمارۃٍ، ولا امارۃ الا بطاعۃٍ۔
جماعت کے بغیر کوئی اسلام نہیں۔ اور امیر کے بغیر کوئی جماعت نہیں۔ اور اطاعت امیر کے بغیر کوئی امارت نہیں۔
*
۔۔۔مَن مات ولیس فی عنقہٖ بیعۃٌ مات میتۃً جاھلیۃً۔
جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (امیر جماعت کی)بیعت کا قلادہ نہ ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
یعنی بغیر جماعت اور بغیر بیعت امیر کے زندگی گزارنا اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور کی باتیں ہیں، اسلام نے اپنا ایک نظام دیا ہے جس میں ہر فرد اجتماعیت کی لڑی میں پرویا ہوا اور امیر کی بیعت میں بندھا ہوا ہے، شتر بے مہارکی طرح کوئی نہیں۔

*
۔۔۔عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: قرآن میں ’’حبل اللہ‘‘ سے مراد جماعت اور اجتماعیت ہے
*۔۔۔یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان فطرتاً اجتماعیت پسند ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام جنت میں بھی اکیلے اداس اداس تھے لیکن جب حضرت حوا کو پیدا کیا گیا تو تب ان کی اداسی ختم ہوئی کیونکہ اب دو افراد کی چھوٹی سی اجتماعیت قائم ہوگئی۔ اس سے یہ بھی پتا چلا کے اجتماعیت پسند فطرت انسانی میں رکھی ہوئی ہے۔
*
۔۔۔انسان گروہوں، قبیلوں، اور جماعتوں کی شکل میں رہنا پسند کرتا ہے۔چنانچہ تاریخ انسانی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ مل جل کر رہتے رہے ہیں۔
*
۔۔۔ماہرین نفسیات بھی کہتے ہیں: ایک طرف انسان میں ’’انا‘‘ خودی اور انفرادیت ہے تو دوسری طرف اجتماعیت کا حصہ بننا بھی پسند کرتا ہے۔
*
۔۔۔اسلام میں ایک طرف اپنی ذات اور اعمال کا ذمہ دار انسان کو خود قرار دیا گیا ہے تو دوسری طرف اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم بھی اسلام نے ہی دیا ہے۔

حاصل سبق
اگر کوئی فرد بہت متحرک ہو لیکن کسی اجتماعیت کا حصہ نہ بنے تو یہ مطلوب نہیں، کیونکہ یہ فطرت کے خلاف بھی ہے اور اسلام کے خلاف بھی۔
اگر کوئی فرد ساکت ہولیکن ساتھ ہی کسی اجتماعیت کا حصہ بن جائے تو یہ بھی پسندیدہ نہیں کیونکہ اپنی ذات اور اعمال کا وہ خود ذمہ دار ہے۔
ایک فرد اپنی ذات میں کتنا ہی متقی کیوں ہو لیکن قرآن اسے سچوں کے ساتھ جڑنے کا حکم دیتا ہے تاکہ یہ انفرادی نیکی کسی بڑے اجتماعی نظام کے قیام میں حصہ ڈال سکے۔
ایک فرد نافرمان ہو، بدی کے راستے پر چل رہا ہو، لیکن ساتھ وہ کسی اجتماعیت کا حصہ بن کر یہ سمجھے کہ یہ اجتماعیت مجھے آخرت میں بچا لے گی تو یہ بھی اس کی بھول ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


اجتماعیت مضبوط کیسے ہوتی ہے؟
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً کأنہ بنیانٌ مرصوص۔
بے شک اللہ کو وہ لوگ محبوب ہیں جو اس کی راہ میں صف بنا کر ایسے قتال کریں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔
یہ بہت جامع آیت ہے جس میں کئی سبق مضمر ہیں:
۱۔یقاتلون:۔۔۔۔۔۔ اللہ کو اپنے بندوں میں سے وہ بندے محبوت ہیں جو اس کی خاطر اس کی راہ میں جان کی بازی لگانے اور خطرات مول لینے کے لیے تیار بیٹھے ہوں۔
۲۔فی سبیل اللہ۔۔۔۔۔۔ وہ بندے شعوری طور پر سوچ سمجھ کر اس کی راہ (فی سبیل اللہ) میں قتال کریں۔ نہ کہ کسی اور راہ یا کسی اور مقصد کے لیے۔
۳۔صفا۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ بدنظمی اور انتشار کا شکار نہ ہوں بلکہ مضبوط تنظیم کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑیں۔ یعنی وہ منظم اجتماعیت میں پروئے ہوئے ہوں۔صرف بھیڑ یا رش نہ ہو بلکہ انتہائی منظم اور ڈسپلن کی پابند اجتماعیت والے ہوں۔
۴۔بنیان مرصوص۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی اجتماعیت اس وقت تک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بن سکتی جب تک چار صفات پیدا نہ ہوں:
۱۔عقیدے اور نصب العین میں مکمل اتفاق: اگر اس میں اختلاف ہوگا تو مضبوطی قائم نہیں رہ سکتی لہٰذا ایک عقیدے پر جمع ہونا اور ایک مقصد پر فوکس کرنا ضروری ہے۔
۲۔ایک دوسرے پر اعتماد: ایک دوسرے کے خلوص پر اعتماد کرنا، نہ کہ شک کیا جائے۔ اگر اعتماد نہیں ہوگا تو یہ اجتماعیت سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بن سکتی ۔
۳۔اخلاق اور احترام کا اعلیٰ معیار:اگر یہ نہیں ہوگا تو نہ ایک دوسرے کی محبت پیدا ہوگی اور نہ عزت و احترام۔ نتیجۃً آپس میں ہی تصادم کا خطرہ ہے۔
۴۔اپنے مقصد اور نصب العین کے ساتھ عشق اور ایسا جذباتی لگاو جو سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ کردے۔
یہ وہ اوصاف تھے جو صحابہ کرام کی جماعت میں پیدا ہوئے تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئیں۔
یہ وہ اوصاف تھے جو اجتماعیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ البتہ جہاں تک تعلق ہے اجتماعیت کو قائم رکھنے والی بنیادوں کا تو وہ مندرجہ ذیل ہیں:

اجتماعیت کو قائم رکھنے والی بنیادیں۔
1۔ بیعت
بیعت کا معنی ہے عہد وپیمان۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت لیتے تھے۔عام عہد باہمی رضامندی سے منسوخ ہو سکتے ہیں لیکن بیعت شرعی منسوخ نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ایک دیہاتی نے بیعت کی اور مدینہ میں آباد ہوگیا، پھر آب وہوا موافق نہ آئی تو جاتے ہوئے بیعت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن حضورﷺ نے یہ مطالبہ رد فرمادیا، اس نے باربار بیعت کی منسوخی کا مطالبہ کیا لیکن حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا۔
2۔ سمع و طاعت
اطاعت فی المعروف واجب ہے۔علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: اگر امیر خود تو فاسق و فاجر ہو لیکن معروف کا حکم کرے، یہاں تک کہ معروف مباح کا حکم بھی کرے تو اس کی اطاعت واجب ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا امیر ’’حبشی‘‘ ’’غلام‘‘ ’’کان ناک کٹا‘‘ ہو تو بھی اطاعت کی جائے۔ (مسلم)
چنانچہ آپ ﷺ نے امیر کی اطاعت کو اطاعت الٰہی قرار دیا۔
3۔ نصح و خیر خواہی
یہ دونوں طرف سے ضروری ہے۔ مامور اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے اور امیر زیادتی اور ظلم نہ کرے۔ چنانچہ جہاں ایک طرف مامور کو ہر حال میں اطاعت امیر کا حکم دیا گیا ہے وہی امیر کو بھی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ فرمایا:
جس امیر نے رعیت کے ساتھ دھوکہ کیا اس پر جنت حرام ہوگی۔(مسلم)
جس امیر نے رعیت کو مشقت میں ڈالا اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا اور جس نے نرمی برتی اللہ اس سے نرمی برتے گا۔(مسلم)
*
۔۔۔اگر امیر میں کمزوریاں ہوں توشرعی حدود اور ادب واحترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کو دور کرنے کی اسی طرح کوشش کرے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا، چنانچہ فرمایا:
جو شخص کسی امیر یا صاحب منصب کو نصیحت کرنا چاہے تو اعلانیہ نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑے اور تنہائی میں(ون ٹوون ملاقات، یا متعلقہ فورم پر) کرے۔ اگر تو وہ قبول کرلے تو ٹھیک، ورنہ نصیحت کرنے والے نے اپنا فرض ادا کرلیا۔
4۔عدل وانصاف
کسی بھی اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لیے ’’عدل‘‘ بنیادی پتھر ہے۔اس کے بغیر اجتماعیت بکھر جاتی ہے۔ اسی لیے فرمایا:
ان اللہ یأمرباالعدل والاحسان
یعنی اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔
احادیث میں عادل حکمران کے بارے فرمایا: یوم محشر وہ عرش کے سائے تلے ہوگا۔
عمربن عبدالعزیز ؒ نے کعب القرطی سے پوچھا عدل کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
تم چھوٹوں کے حق میں باپ بن جاو، اور بڑوں کے حق میں بیٹا بن جاواور ہمسروں کے حق میں بھائی بھائی بن جاو۔
5۔مشاورت
یعنی دوسروں سے رائے لینا۔ اس سے دوسروں میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ غووفکر اور تبادلہ خیال کا طریقہ آتا ہے۔ خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مشاورت میں اپنی رائے خلوص اور دلائل کے ساتھ دینے کے بعد دوسروں کی رائے کا احترام بھی ضرور ی ہے۔
6۔ تنقید و احتساب
کسی بھی اجتماعیت میں تنقید برائے اصلاح بہت اہم ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی تنقید جو برائے اصلاح ہو اس کی حوصلہ افزائی لازما کرنی چاہیے۔ کیونکہ اجتماعیت میں کمزوریوں کا پیدا ہونا کوئی حیرت انگیز یا عجیب بات نہیں، بلکہ ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔
*
۔۔۔تنقید کی بھی کچھ حدود ہیں۔ اگر تنقید مناسب وقت، مناسب انداز، مناسب ماحول میں مناسب طریقہ کار سے کی جائے تو فائدہ مند ہوتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو نقصادہ ثابت ہوتی ہے۔
*
۔۔۔مخلصانہ تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ جو جتنا بڑا ذمہ دار ہے اسے اتنی ہی زیادہ تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔
*
۔۔۔تنقید کرنے والے کو بھی بڑے چھوٹے کے آداب اور مراتب کا خیال رکھتے ہوئے تنقید کرنی چاہیے، کیونکہ :
جراحات السنان لہاالتیام ولا یلتام ماجرح بہ اللسان
تلواروں کے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم نہیں بھرتے۔
چھری کا، تیرکا، تلوار کا گھاوبھرا
لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا۔
*
۔۔۔اگر کوئی غلط انداز سے تنقید کررہا ہو تو اس کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے ورنہ مسلسل غلط انداز سے تنقید، اجتماعیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
*
۔۔۔غلط تنقید کرنے والوں کو بھی اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ: ان کی بیجا اور حدود سے نکلی ہوئی تنقید ان لوگوں کی قدرومنزلت میں بے جا اضافہ کررہی ہے جو ہر وقت تعریف وتحسین کرتے رہتے ہیں۔
*
۔۔۔ہر فرد کو اپنی اصلاح ’’بے دردی‘‘ سے کرنی چاہیے۔ جبکہ دوسروں کی اصلاح میں نرمی برتنی چاہیے۔

Tuesday, May 22, 2018

قرآن کیوں نازل ہوا۔؟

(سیدعبدالوہاب شاہ)
سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔البقرة، 2: 185
اللہ تعالیٰ نے رمضان کا تعارف قرآن کے ساتھ کرایا ہے، یعنی رمضان کی عظمت اور فضیلت اس وجہ سے ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا، ورنہ رمضان بھی باقی مہینوں کی طرح ایک مہینہ ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز نے رمضان کے مہینے کو عظیم بنا دیا وہ قرآن ہے تو قرآن کیا ہے۔؟ چنانچہ آگے کے چند الفاظ میں قرآن کا تعارف یوں کروایا کہ وہ انسانوں کو ہدایت دینے والی کتاب ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ قرآن کا تعارف ہدایت کے ساتھ کروارہے ہیں کہ یہ ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن کا یہ تعارف یعنی ہدایت کی کتاب ہونا صرف اسی مقام پر نہیں بلکہ قرآن کی مختلف سورتوں میں کئی مقامات پر آیا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں قرآن کا یہ تعارف ہے۔؟؟ عام طور پر عوام میں قرآن  کوایصال ثواب کی کتاب سمجھا جاتا ہے۔ یا برکت کی کتاب سمجھا جاتا ہے ، جب کوئی نئی دکان یا مکان بنایا جاتا ہے تو بچوں کو بلا کر ختم شریف پڑھ لیا جاتا ہے تاکہ برکت حاصل ہوجائے، یا کسی کے انتقال کے بعد ختم کرلیا جاتا ہے کہ ایصال ثواب ہوجائے۔یا پھر مختلف سورتوں کے من گھڑت فضائل کہ فلاں سورت کو اتنی بار پڑھنے سے کاروبار تیز ہوجائے گا۔ فلاں سورت کو بوتل میں بند کرکے کچن میں رکھنے سے کچن کبھی خالی نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ باتیں مشہور ہوچکی ہیں۔اور عام عوام میں قران کا یہی تعارف مشہور و معروف ہے اور لوگ قرآن کو اسی طرح کے کاموں کی کتاب سمجھتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قرآن کا یہ تعارف کہیں نہیں کروایا۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ جس سورت کو بوتل میں بند کرکے کچن میں رکھنے سے روزی میں برکت کا عقیدہ ہم اختیار کیے ہوئے ہیں کیا وہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب صحابہ کرام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر کھانا نہ ہونے کی وجہ سے دو دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔کیا جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحابہ صفہ کے طالبعلم بھوک سے بیہوش ہوجائے کرتے تھے، تو اللہ نے کوئی آیت یا کوئی سورت اس بیہوشی کو دور کرنے کے لیے نازل فرمائی کہ اس آیت کو اتنی بار ورد کرو، یا گلے میں لٹکاو تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیہوشی جسے لوگ مرگی سمجھتے تھے دور ہو جائے گی۔؟
اس آیہ کریمہ میں ’’ہدی للناس‘‘ کے الفاظ ہمیں پکار پکار کر یہ دعوت دے رہے ہیں کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے۔ قرآن ہمیں کیوں عطا کیا گیا اور قرآن کو ہمارے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کیوں کیا گیا۔ قرآن کے پڑھنے کی ہمیں ترغیب کیوں دی گئی۔ قرآن کے ایک ایک حرف کو پڑھنے پر دس نیکیوں کا وعدہ کیوں کیا گیا؟ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من قرا حرفا من کتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر امثالها ولا اقول الم حرف ولکن الف حرف و لام حرف و ميم حرف.
جس شخص نے قرآن حکیم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ اس میں الف الگ حرف ہے لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے۔ ہر ایک حرف پر ثواب دس نیکیوں کا ہے۔
(جامع ترمذی، فضائل القرآن)
قرآن کے الفاظ و کلمات کو پڑھنے پر اتنا زیادہ اجر و ثواب عطا کرنے کا وعدہ کیوں کیا گیا۔ ان ساری ترغیبات کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھنے کی طرف راغب ہوجائیں اور قرآن پڑھتے پڑھتے اس سے ہدایت اخذ کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے دین کو سیکھ لیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے مولا کو پالیں اور قرآن کے ذریعے اس کی توحید کی معرفت حاصل کرلیں اور قرآن کے ذریعے ہم اس کی بندگی کی حقیقت کو پالیں۔
یہ معاملہ صرف قرآن کا نہیں بلکہ اللہ کی جتنی بھی کتابیں ہیں ساری کی ساری دراصل ہدایت کے لیے ہی نازل ہوئی ہیں، چنانچہ تورات کے بارے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ.
’’اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پا جائیں‘‘۔المومنون، 23: 49
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما کتاب الله وسنة نبيه. (رواه مالک والحاکم عن ابی هريره رضی الله عنه)
’’میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری تمہارے نبی کی سنت‘‘۔
یہ حدیث مبارکہ بھی ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمسک میں ہی ہدایت ہے۔ جس نے کتاب اللہ کو اور سنت رسول  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سختی سے پکڑ لیا وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوگا۔ وہ ہدایت پر ہی رہے گا۔
 لیکن اب سوال یہ ہے کتاب اللہ یعنی قرآن کا تمسک کیسے کیا جائے، قرآن کو مضبوطی سے کیسے پکڑا جائے۔؟ تو فرمایا:
وان تطيعوه تهتدوا.
’’اگر تم ان کی (رسول کی) اطاعت کرو تو ہدایت پاجاؤ گے‘‘۔النور،24: 54
گویا رسول کی اطاعت میں تمہارے لئے ہدایت کا سامان رکھ دیا گیا ہے۔اب رسول کی اطاعت تمہیں کیسے اختیار کرنی ہے۔ اس اطاعت کی عملی صورت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہی ہوئی ہر بات کو، ہر حدیث کو، ہر فرمان کو اپنا عمل بنالو۔
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی صورت اطاعت رسول ہے ۔جبکہ  دوسری صورت کا بھی قرآن ذکر کرتا ہے اور وہ ہے اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ.
’’اور تم انہی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاسکو‘‘۔الاعراف، 7: 158
یعنی جو خودکو اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر بنائے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔
اطاعت اور اتباع میں معمولی سا فرق بھی ملاحظہ فرمالیں۔ اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل پر چلنا ہے۔ جبکہ اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ اطاعت میں عقل کا غلبہ ہوتا ہےاور اتباع میں دل کا غلبہ ہوتا ہے ۔اطاعت، رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و فعل  کی وجہ جانتی ہے۔جبکہ اتباع،  رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے قول فعل کی وجہ بھی نہیں جانتی۔
اطاعت میں محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ ہوتا ہے اور اتباع میں عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ  ہوتا ہے۔ اطاعت، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی اداؤں کو اختیار کرنے کا نام ہے اور اتباع، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ اطاعت میں اپنی شخصیت کا احساس رہتا ہے اور اتباع میں رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت ہی باقی رہ جاتی ہے۔ اطاعت میں اپنے وجود کا خیال رہتا ہے۔ اتباع میں اپنا وجود بھی وجود مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کردیا جاتا ہے۔
رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی انسان کو ’’لعلکم تهتدون‘‘ کا اعزاز بھی دیتی ہے اور ’’يحببکم الله‘‘ کا  بلند مقام بھی دیتی ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ وَيَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ.
’’ اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔آل عمران، 3: 31
پھر قرآن نے جو دعویٰ اور چیلنج کیا ہے دنیا کی کوئی کتاب نہ اس طرح کا دعویٰ کرسکتی ہے اور نہ اس طرح کا چیلنج کرسکتی ہے۔ قرآن کا اعلان ہے:
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ.
’’بے شک یہ قرآن درست منزل کی طرف ہدایت کرتا ہے۔بنی اسرائيل،17: 9
چنانچہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میرے بعد ہدایت پر ہی رہو گے۔ جب تک تم ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں میری سنت و حدیث کو تھامے رہو گے۔
 قرآن سے تعلق توڑنا ہدایت سے تعلق توڑنا ہے۔ آج کے مسلمانوں نے قرآن کو قلباً اور ذہناً نہیں چھوڑا ہے بلکہ عملاً چھوڑا ہے۔ اسی کا شکوہ قیامت کے روز رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کی بابت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یوں کریں گے۔
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا.
’’اور رسولِ (اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا‘‘۔فرقان، 25: 30
قرآن سے ہدایت لینے کے لیے مسلسل اس کی تلاوت جاری رکھنا نہایت ضروری ہے اور قرآن ہی اس کا حکم دیتا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ
اس قرآن کی تلاوت کیا کرو۔’’جو آپ کے رب کی طرف وحی کیا گیا ہے‘‘۔الکهف، 18: 27
قرآن کی تلاوت اس لیے ضروری ہے کہ یہ انسانوں کو ہدایت کی طرف لے جاتی ہے، انسانوں کو بندگی اور اطاعت پر چلاتی ہے، اور اللہ کی طرف سے انعامات کا مستحق بناتی ہے۔ فرمایا:
وَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ. وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج فَمَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهِ.
’’اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں۔ نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لیے راہِ راست اختیار کی‘‘۔النحل، 27: 91 تا 92
اسی طرح تلاوت قرآن میں تسلسل بھی ضروری ہے، ایسا نہیں کہ کبھی جوش آیا تو تین سپارے پڑھ لیے اور پھر مہینہ بھر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں، تلاوت تسلسل کے ساتھ ہو اگرچہ تھوڑی مقدار میں ہو، اسی لیے فرمایا:
فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ.
’’پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو‘‘۔المزمل، 73: 20
پھر اس تلاوت کا مقصد بھی محض تلاوت ہی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تلاوت کا مقصد حصول ہدایت اور احکامات کو سمجھ کر عمل کرنا ہونا چاہیے، اس بات کو سمجھانے کے لیے فرمایا:
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْئٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
’’بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔‘‘يوسف، 12: 2
قرآن کی تلاوت اور قرآن کا مقصد بھی یہی ہے کہ لعلمکم تعقلون کہ قرآن کو سمجھا جائے۔
 دوسرے مقام پر فرمایا یہ قرآن اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعے لقوم يعلمون (حم السجده/ فصلت41/ 3) علم حاصل کیا جائے۔ اس قرآن کے ذریعے نئے نئے حقائق جانے جائیں۔
جولوگ اس قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں اور اس قرآن کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ہم نے ان لوگوں کے لئے قرآن سے نصیحت حاصل کرنا  آسان کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ.
’’اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟‘‘۔القمر، 54: 22
یہ قرآن ہماری انفرادی اجتماعی اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی تذکرہ و نصیحت ہے۔
 انفرادی زندگی کے لئے اس طرح کہ ان ھذہ تذکرۃ (المزمل:19) یہ قرآن نصیحت ہے۔
 اور اجتماعی  زندگی کے لئےاس طرح کہ انہ لذکر لک ولقومک۔ یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی پوری قوم کے لئے بھی نصیحت ہے ۔
اور بین الاقوامی زندگی کے لئے اس طرح کہ ان هوا الا ذکر للعلمين (انعام: 91) یہ قرآن تمام عالم کے لئے نصیحت و ہدایت ہے۔
قرآن محض تلاوت (بغیر سمجھے) کے بجائے تفکر اور تدبر پر زور دیتا ہے اور جھنجھوڑتے ہوئے یوں بیان کرتا ہے:
اَفَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا.
’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں‘‘۔محمد، 47: 24
 قرآن اپنے ماننے والوں کو جھنجھوڑتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا ہے تو تفکر فی القرآن کا عمل اختیار کرو۔ قرآن کو جاننا ہے تو تدبر فی القرآن کا وظیفہ اپناو، قرآن میں فہم حاصل کرنا ہے تو تذکیر بالقرآن پر عمل کرو، قرآن سے ہدایت لینی ہے تو تمسک بالقرآن پر کاربند ہوجاو۔ قرآن سے قول و فعل اور خلق و سیرت کی خیرات اور روشنی لینی ہے تو تلاوت بالقرآن کو اپنا معمول بناو۔ اقوامِ عالم میں عزت اور رفعت کے ساتھ جینا ہے تو ہدیات بالقرآن کو اپنا قومی وملی شعار بناو۔
قرآن یہ سبق بھی دیتا ہے کہ تم کلمہ پڑھنے کے بعد بھی قرآن کے بغیر کچھ نہیں، ۔ تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی بھی ساری عظمتیں تورات اور انجیل پر عمل کرنے سے وابستہ تھیں۔ اس حقیقت کو قرآن میں یوں فرمایا گیا:
قُلْ يٰـاَهْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَئٍ حَتّٰی تُقِيْمُوا التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ.
’’فرما دیجیے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو‘‘۔المائدة، 5: 68
اس لئے تمہاری ساری عزتیں ، تمہاری ساری عظمتیں ، تمہاری ساری رفعتیں، تمہاری ساری فضیلتیں اور بلندیاں قرآن سے ہیں۔
قرآن تمہاری شناخت ، تمہاری پہچان ، تمہارا عمل ، تمہارا قول ، تمہاری سیرت ہے۔ اور قرآن سے تمہاری شخصیت ، تمہاری وحدت ، تمہاری اجتماعیت ،اور تمہاری زندگی ہے ۔قرآن ہی  میں تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی عزت وابستہ ہے بصورت دیگر تمہار اقبال کے اس شعر کا مصداق ہوگا۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کی طرف لوٹنے کا عہد کریں، قرآن سے اپنا  اطہ مضبوط کریں۔ قرآن سے ہی فکر حاصل کریں، قرآن سےہی تزکیہ نفوس کریں، قرآن کو کتاب ہدایت جانیں، قرآن سے اپنی انفرادی زندگی سنواریں اور قرآن سے اپنی اجتماعی زندگی کی اصلاح کریں، قرآن کو رسول اللہ کا زندہ معجزہ جانیں اور قرآن کی زندہ فکر کو اپنائیں۔