Search This Blog

Showing posts with label اسلامی تحریک. Show all posts
Showing posts with label اسلامی تحریک. Show all posts

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟

Wednesday, December 21, 2016

اسلامی تحریکوں کے کارکن متوجہ ہوں

سیدعبدالوہاب شیرازی
میری یہ تحریر ان لوگوں کے لئے ہے جو دینی اور مذہبی جماعتوں یا اسلامی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔
عامر: تبلیغی جماعت دین کا بہت بڑا کام کررہی ہے ، وہ جو کام کررہی ہے کوئی جماعت نہیں کررہی۔
جاوید: مجھے آپ کی اس بات سے باالکل اتفاق نہیں کیونکہ تبلیغی جماعت فلاں فلاں کام نہیں کرتی، وہ دین کی پوری فکر لوگوں کو نہیں دیتی، وہ تو بس میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں۔دین کا بہت بڑا حصہ ان کا موضوع ہی نہیں اور نہ ہی وہ اس طرف آرہی ہے۔
عامر: بھائی آپ کو آدھا گلاس خالی ہی دکھتا ہے، آدھا بھرا ہوا کیوں نہیں دکھتا۔ آدھا گلاس خالی ہی دکھنا منفی سوچ ہے، آپ اس منفی سوچ سے باہر نکلیں اور مثبت سوچیں۔
جاوید: میں یہ کہہ رہا................
عامر: ایک منٹ مجھے بات مکمل کرنے دیں اب مجھے تھوڑا سا بولنے دیں۔ جس طرح آپ سوچ رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت یا آپ کی جماعت کے علاوہ کوئی بھی دوسری جماعت فلاں فلاںکام نہیں کررہی یہی اعتراض آپ پر بھی ہوسکتا ہے کہ آپ بھی تو دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہے۔ آپ نے بھی ایک ہی شعبے کو اختیار کیا ہوا ہے اور بیسیوں سال گزر گئے صرف وہی ایک کام کرتے جارہے ہیں۔
          دیکھیں ہمارے معاشرے میں چوڑے چمار بھی ہیں، کیا وہ انسان نہیں، کیا وہ کتے بلیاں ہیں؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ رسول کی طرف آئیں، عمل کریں اور جنت کے مستحق ٹھہریں۔ ان کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ ان کا دادا یہ کام کرتا تھا، پھر باپ کرتا تھا اور اب وہ بھی یہی کام کررہے ہیں ان کی یہی ساری دنیا ہے، انہیں کون جاکر بتائے گا کہ بھائی یہی ساری زندگی نہیں، یہ آپ کا فن یہ ذریعہ روزگار ہے اصل زندگی کچھ اور ہے۔ تبلیغی جماعت کے علاوہ کون سی جماعت ہے جو معاشرے کے ایسے نچلے اور پسے ہوئے طبقات کو احساس ذمہ داری دلاتی ہے۔ آپ غور کریں کبھی آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی وفد ایسے لوگوں سے ملا؟ ان کو دعوت دین دی؟ یا کم از کم اپنی میٹنگ میں ہی ان کا تذکرہ کیا؟ ۔ یقینانہیں۔ ہاں جب گٹر بند ہوا ہوگا تو لازما فون کرکے بلایا ہوگا اور پھر سو پچاس دے کر فارغ کردیا ہوگا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تبلیغی جماعت کے اس مثبت کام پرنظر رکھیں اور خود بھی مثبت سوچیں۔
          کیا آپ کی جماعت نے کبھی اس بارے مشورہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں ہزاروں کی تعداد میں ہیجڑے بھی ہیں، وہ بھی انسان ہیں اور اللہ کے احکامات کے اسی طرح مکلف ہیں جس طرح 22گریڈ کا افسریا اونچے سٹیٹس ،مرسڈیزگاڑی،کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس شخص۔؟ کتنے ہیجڑوں کو آپ راہ راست پر لائے؟ آپ کی جماعت کے رجسٹر ممبران میں کتنے ہیجڑے ہیں جو آپ کی تحریک سے وابستہ ہیں۔؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ کے دین کا وہ کام کریں جو آپ کرکے شاید اللہ پر احسان کررہے ہیں۔ تبلیغی جماعت نے ہزاروں ہیجڑوں پر محنت کی انہیں ٹھیک کیا اور اب وہ اپنے غلط کام چھوڑ کر ایک عام مسلمان کی طرح زندگی بھی گزار رہے ہیں اور اپنے باقی ساتھیوں پر بھی محنت کررہے ہیں۔
          کیا کبھی آپ نے یاآپ کی جماعت کے وفد نے لاہور اور ملتان کی ہیرا منڈی کا دورہ کیا۔؟ وہاں کی عورتوں سے ملاقات کی۔؟ آپ کی نظر میں تو وہ بازاری عورت ہے، اس کا کیا کام کہ وہ توبہ کرے، وہ غلط کام چھوڑے، وہ نماز پڑھے، وہ پردہ کرے؟ ۔ ہاں آپ نے دو چار کتبے ضرور لکھے ہوں گے فحاشی بندکرو، اخباری بیان اور جلسے کی تقریر میں ضرور انہیں بُرا بھلا کہا ہوگا۔ ان کا صرف اتنا قصور ہے کہ سینکڑوں سال سے وہ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کے آباءواجداد سے نسل در نسل یہی ان کا پیشہ ہے۔انہیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ زندگی صرف یہی نہیں بلکہ اصل زندگی کچھ اور ہے۔ جی ہاں تبلیغی جماعت نے بے شمار طوائفوں کے سر پر شفقت کی چادر رکھی، ان کو یہ احساس دلایاکہ یہ اصل زندگی نہیں، ان سے توبہ کروائی، انہیں قرآن پڑھنے پر لگایا، انہیں نمازی بنایا، انہیں باعزت زندگی عطاءکی، ان کی شادیاں کروا کررخصت کیا۔
          کیا آپ گونگوں ،بہروں اور نابینوں کو انسان سمجھتے ہیں یا نہیں۔؟ کیا وہ صرف اس لئے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ پر معذوری کا نشان ڈال دیا جائے اور معذوروں کی کیٹگری میں شمار کیا جائے۔؟ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بھی پیدائشی نابینا تھے، لیکن صحابہ نے ان سے یہ کام لیا کہ جنگوں میں لشکر کا علم ان کے ہاتھ میں پکڑا ہوتا تھا اور قادسیہ کی جنگ میںمیدان جنگ میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپ کی جماعت میں کتنے نابینا، کتنے گونگے وہ دین کا کام کررہے ہیںجو آپ نے امیروں، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے سنبھال کررکھا ہوا ہے۔ تبلیغی جماعت میں سینکڑوں نابینا، گونگے بہرے دین کی محنت کررہے ہیں، ان کا الگ اجتماع ہوتا ہے، ان کی جماعتیں نکلتی ہیں، جو دوسرے گونگوں کو اپنی مخصوص اشاروں والی زبان میں دین سکھاتی ہیں۔
          ہمارے معاشرے میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو کروڑوں میں ہے، جو اَن پڑھ ہیں، یا انتہائی کم تعلیم یافتہ ہیں، مزدور ہیں، جو اپنی مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں سمجھتے، ہمارے نزدیک ان کی حیثیت بس یہی ہے کہ ہم سے پیسے لے کر ہمارے کام کریں، ہماری گاڑی صاف کریں، ہمارے پودوں کو پانی لگائیں، ہمارا فرش دھوئیں، ہمارے دروازے پر پہرہ دیں اورہمارے بچوں کو بیکن ہاوس چھوڑ آئیں۔لیکن ان لوگوں کے دل میں ایمانی چنگاری جب بھڑکتی ہے تو پھر یہ آپ کے گھر کا سارا کام نمٹا کر عصر کے بعد محلے کی مسجد میں پندرہ بیس منٹ تعلیم وگشت کی مجلس میں شرکت کرتے ہیں،سورة اخلاص اور التحیات کے تلفظ درست کرتے ہیں، کیونکہ وہاں پر ان کی ذہنی قابلیت کے برابر دین کی بات سمجھائی جاتی ہے، انہیں عزت دی جاتی ہے۔ جبکہ عین اسی وقت آپ شیشے کے محل میں، سرخ کالینوںپر، سرینا ہوٹل کے بڑے ہال میں کیمروں کے جھرمٹ میں تقریر کررہے ہوتے ہیں کہ اسلامی نظام ایسے ایسے آئے گا، پھر تکبیر کے نعرے لگتے ہیں، ٹی وی پر خبر چلتی ہے اور آپ اپنے بیڈ پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنے بچوں کو کہہ رہے ہوتے ہیںکہ ذرا دوسرا چینل لگاو انہوں نے خبر دی یا نہیں۔؟
          جی ہاں تبلیغی جماعت یہ سب کررہی ہے۔ وہ جو نہیں کررہی تو وہ آپ کررہے ہیں ، یااگر نہیں کررہے تو کرناشروع کردیں۔تبلیغی جماعت کبھی آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر ان کے ساتھ چلیں۔
          یہاں تک دین کا صرف ایک شعبہ بیان ہوا ہے۔ دین کا ایک شعبہ دین اسلام کی علمی میراث بھی ہے جو سینکڑوں سال سے سینہ بہ سینہ اور کتابوں کی شکل میں منتقل ہوتی آرہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو اس کام پر لگایا ہوا ہے، یہ لوگ دنیا جہاں کی رنگینیوں سے بے خبریہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کا اپنا طریقہ ہے، وہ اپنے کام کو بحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی تنخواہوں میں اضافے کے لئے احتجاج نہیں کیا، آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ آج ظہر کی نماز نہیں ہوگی کیوں کہ ہڑتال ہے۔ وہ ینگ ڈاکٹرز کی طرح تڑپتے لاشے چھوڑ کر او پی ڈی بند نہیں کرتے۔ وہ اگر کسی دینی مطالبے کے لئے ہڑتال کرتے بھی ہیں تو ان کے کام اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہر سال ایک لاکھ حافظ قرآن پیدا کرتے ہیں، ہر سال تیس سے چالیس ہزار کے لگ بھگ علماءپیدا کررہے ہیںجن میں60فیصد خواتین اور40فیصد مرد ہوتے ہیں۔
          دین کا ایک شعبہ سیاست بھی ہے۔ پھر سیاست کے مختلف پہلو ہیں۔ موجودہ دور میں جب کہ دین مغلوب ہے، مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کفر کے سامنے ایک طرف دیوار سے لگ جائیں۔ چنانچہ کچھ لوگ سفارتکاری کرتے ہوئے ان طاغوتوں سے اٹھتے بیٹھتے ہیں ، مسلمانوں اور ان کی تحریکوں کے لئے بیچ بچاو کرانے میں لگے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ جتنا ممکن ہو ان کو غلط کاموں سے روکنے کی حتی المقدور کوششیں کررہے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ان ہی کفریہ طاغوتوں کے کھلے چھوڑے راستوں پر دینی محنت کررہے ہیں۔
           جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان تمام سے ہٹ کر لوگوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی مراحل سے گزار کر جماعت تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بعثت قرآن میں تین بار ایک ہی الفاظ کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن اور شریعت دے کر دین اسلام غالب کرنے کے لئے بھیجا اور آپ نے اپنی زندگی میں اسے جزیرة العرب کی حد تک غالب کرکے دکھایا، پھر صحابہ کرام نے بائیس لاکھ مربع میل تک غالب کیا اور پھر آہستہ آہستہ مغلوب ہوتے ہوتے مکمل مغلوب ہوگیا۔ اس لئے بحیثیت مسلمان غلبہ دین بھی بہت بڑا فریضہ ہے جسے سیکھنا،سکھانا،سمجھنا،سمجھانا اور اس کے لئے جدجہد کرنا بھی فرض ہے۔
تبلیغی جماعت سمیت کوئی بھی جماعت،تحریک یاتنظیم ، دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہیں۔ اور نہ ہی کوئی جماعت دین کے سارے شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ قدرتی طور پر خدائی نظام ہے کہ دین کے سارے شعبوں میں کام ہورہا ہے، ہرمیدان آباد ہے ۔ یہ مختلف موتی ہیں، جب اللہ کو منظور ہوگا یہ سب ایک لڑی میں پرو دیے جائیں گے۔ اہل حق کی کسی بھی جماعت میں حق اس طرح بند نہیں کہ کہیں اور موجود نہ ہو۔ اس لئے اللہ نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے آپ اس صلاحیت کے مطابق ان تمام اسلامی تحریکوں،جماعتوں اور تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، اس کے ساتھ کام کریں اور باقی تحریکوں کے کام کی قدر دانی کریں، حتی المقدور ان کے ساتھ بھی تعاون کریں، خاص طور پر تبلیغی جماعت جو اسلام کی نرسری ہے، اسی نرسری سے پودے مختلف باغوں میں جاتے ہیں اور پھر پھل دیتے ہیں۔بس بات اتنی سی ہے جو اس نرسری کے خلاف جتنی نفرت پھیلاتاہے اسے اتنے ہی کم پودے یہاں سے ملتے ہیں۔ جن جن باغبانوں کا اس نرسری سے اچھے تعلقات ہیں انہیں اتنے ہی زیادہ پودے اپنے باغ کے لئے یہاں سے مل جاتے ہیں۔