Search This Blog

Friday, January 29, 2016

امیر ہونے کا نسخہ

یہ خواہش تو ہر ایک کے دل میں ہوتی ہے کہ میں امیر ہوجاوں۔ امیر ہونے کا نسخہ ایک اعتبار سے نہایت آسان بھی ہے اور ثابت قدمی دکھانے کے اعتبار سے نہایت مشکل بھی۔تو لیجئے چند واقعات ملاحظہ کریں اور پھرہوجائیں امیرترین۔
اس وقت دنیا کی امیر ترین قوم یہودی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے مال میں سے 20% نکال کر خیرات کرلیتے ہیں، چونکہ اللہ کا یہ قانون دنیا میں سب کے لئے برابر ہے کہ خرچ کرنے والے کو 10 گنا منافع ملے گا، اسی وجہ سے ان کو اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔یہ بات بڑی عجیب سی ہے کہ صرف ایک کروڑ یہودی دنیا کی 60 پرسنٹ دولت کے مالک ہیں جب کہ سات ارب انسان 40 پرسنٹ دولت پر تصرف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اہم ترین 90فیصد ادارے ان کے ہیں مثلاآئی ایم ایف،نیویارک ٹائمز، فنانشل ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ریڈرزڈائجسٹ، سی این این، فاکس ٹی وی، وال سڑیٹ جرنل، اے ایف پی، اے پی پی، سٹار ٹی وی کے چاروں سٹیشن سب یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ شائد ہم میں سے چند ایک نے ہی اس بات پر غور کیا ہوکہ یہودیوں کی دن دوگنی رات چوگنی دولت بڑھنے کا راز کیا ہے؟عقدہ یہ کھلا کہ ہزاروں سال سے یہ قوم اس بات پر سختی سے قائم ہے کہ ہر یہودی اپنی آمدنی کا 20 فیصد لازمی طور پر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں فیس بک کے مالک نے اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں اپنی دولت میں سے 45ارب ڈالر خیرات کرلئے۔
لاہور میں ایک ہسپتال ہے شائد آپ میں سے کسی نے دیکھی ہو، اس ہسپتال کا نام ہے منشی ہسپتال۔یہ ہسپتال جس شخص نے بنایا اس کا نام منشی محمد تھا یہ نہایت ہی غریب شخص تھا ، بازار میں کھڑا ہوکر کپڑا بیچا کرتا تھا، اسے کسی نے بتایا تم اپنے مال میں سے کچھ فیصد مقرر کرکے مستحق لوگوں پر خرچ کرو بہت فائدہ ہوگا، چنانچہ اس نے 4فیصد مقرر کردیئے اور ہر مہینے اپنے منافع میں سے 4فیصد خرچ کرتا رہا ، کچھ ہی عرصے بعد اس کا کاروبار بڑھنے لگا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فیکٹری کا مالک بن گیا وہ اسی طرح چار فیصد خرچ کرتا رہا اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اس کی آمدن کا چار فیصد کروڑوں میں نکلنے لگا،چنانچہ اس نے کروڑوں روپے مالیت کی ایک ہسپتال بنائی، جنرل ضیاالحق نے اس کا افتتاح کیا ، وہ ہسپتال آج بھی لاہور میں منشی ہسپتال کے نام سے فلاحی کام کررہی ہے۔
میرے ایک جاننے والے نے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے باقاعدگی کے ساتھ پانچ فیصد خرچ کروں گا چنانچہ اس نے اپنے جیب پرس کے ایک خانے میں ٹرسٹ قائم کیا، بال پن کے ساتھ اس پر ٹرسٹ بھی لکھ دیا اور پھروہ اپنی تنخواہ جو اس وقت 8000ہزار تھی اس میں سے ہر مہینے 5فیصد نکال کر کسی مسجد مدرسے یا غریب کو دینے لگا ، وہی آٹھ ہزار جن سے اس کے اپنے ذاتی اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے ان میں اتنی برکت ہوگئی کہ اس نے گھر والوں کو بھی دینا شروع کردیا ، کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے کام چھوڑ کر ایک اور جگہ پر گیا وہاں اس کی تنخواہ صرف چھ ہزار مقرر ہوئی یعنی آٹھ سے دو ہزار کم، لیکن وہ پانچ فیصد دیتا رہا اللہ نے ان چھ ہزار میں اتنی برکت رکھی کہ پہلے تو آٹھ ہزار سے اپنے ذاتی خرچے پورے نہیں کرسکتا تھا لیکن اب ایک سال بعد مہنگائی کے باوجود صرف چھ ہزار میں نہ صرف اپنے بلکہ اپنے بیوی بچوں کے تمام اخراجات پورے کرنے لگا۔اس دوران اسے کیا کیا اور کیسے کیسے فائدے ہوئے وہ بیان نہیں کرسکتا اس سے متاثر ہو کر اس نے پانچ فیصد کو بڑھا کر 10 فیصد کردیا جس سے مزید مجھے فائدہ ہونا شروع ہوا، پھر ایک سال کے بعد اس نے مزید اضافہ کر کے 20 فیصد کردیا اور اب الحمداللہ میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ 20 فیصد اپنی آمدن میں سے فورا نکال لیتا ہے۔اس کا کہنا ہے مجھے احساس ہے کہ میں ابھی بھی کوئی کمال نہیں کررہا کیونکہ 20 فیصد تو یہودی بھی خرچ کرتے ہیں انشااللہ میرا عزم ہے کہ عنقریب میں بحیثیت مسلمان ہونے کے یہودیوں کو پیچھے چھوڑوں گا۔
لاہور کے ایک نوجوان نے 1997میں ایم ایس سی کیا، پھر وہ جاب کے سلسلے میں بہت پریشان تھا، اسلام آباد میں ایک روحانی بزرگ کے پاس دعا کروانے کے لئے حاضر ہوا، انہوں نے اس نوجوان سے کہا بیٹا دو کام کرو، ایک تو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرو اور دوسرا اس کاروبار میں اللہ کو اپنا پارٹنر بنالو، یہ کام مردوں کا ہے ، صرف عزم با لجزم رکھنے والا مرد ہی کر سکتا ہے اگر کاروبار کے نیٹ پرافٹ میں پانچ فیصد اللہ تعالیٰ کا شیئر رکھ کر اللہ تعالی کے بندوں کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری نہ کریں تو لازما آپ کا کاروبار دن رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا۔یہ 1997 کا سال تھا ،اس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ تھا ، اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اسی ایک ہزار روپے سے اس نے بچوں کے پانچ سوٹ خریدے اور انار کلی بازار میں ایک شیئرنگ سٹال پر رکھ دیے۔دو دن میں تین سو روپے پرافٹ ہواتھا تین سو روپے میں سے اس نے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کی راہ میں دے دیئے تھے۔پھر اور سوٹ خریدتا اور اصل منافع میں سے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کے نام کا شیئر مخلوق پر خرچ کرتارہا۔ یہ پانچ پرسنٹ بڑھتے بڑھتے چھ ماہ بعد 75 روپے روزانہ کے حساب سے نکلنے لگے یعنی روزانہ کی آمدنی تقریبا سات سو روپے ہو گئی ایک سال بعد ڈیڑھ سو روپے ، تین سال بعد روزانہ پانچ پرسنٹ کے حساب سے تین سو روپے نکلنے لگے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ تین سال بعد اسے روزانہ چھ ہزار بچنا شروع ہو گئے تھے۔ اب سٹال چھوڑ کر اس نے تین کروڑ روپے کی دوکان لے لی تھی۔اس نے بتایا کہ روزانہ میری آمدن کا پانچ فیصد ایک ہزار نکل آتا ہے جو خلق خدا پر خرچ کر دیتا ہے۔گویا اب آمدنی روزانہ بیس ہزار روپے ہے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ " بزنس" میں اس نے آج تک بےمانی نہیں کی۔
ایک محاورہ ہے " دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنا" آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد کا کیا وطیرہ ہے۔
٭51 سالہ ٹی وی میزبان " اوہراہ دنفرے " ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی مالک ہے وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بے سہارا بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کرتی ہے۔
٭ اٹلی کے سابق وزیراعظم "سلویابرلسکونی" اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ مشہور زمانہ فٹبال کلب " اے سی میلان" انہی کی ملکیت ہے۔ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں ، سالانہ تقریبا پانچ کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔
٭ بل گیٹس دس سال تک دنیا بھر کا امیر ترین شخص رہا، اس کی دولت کا اندازہ 96 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، وہ اپنی آرگنائزیشن "بل اینڈ اگیٹس فاونڈیشن" کے پلیٹ فارم سے سالانہ 27 کروڑ ڈالر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔
٭ مشہورومعروف یہودی " جارج ساروز" دس ارب ڈالر سے زائد کے مالک ہیں ہر سال دس کروڑ ڈالر انسانی فلاحی اداروں کو دیتے ہیں۔
 انفاق فی سبیل اللہ قرآن کی ایک خاص اصطلاح ہے جو تقریبا ہر سپارے میں آپ کو نظر آئے گی۔قرآن حدیث میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے ایمان والو جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کر لو اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ بیع ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارش۔یعنی قیامت سے پہلے پہلے ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ خرچ کرلو کیونکہ قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ وہاں دنیا کی طرح خرید وفروخت نہیں ہوگی کہ آپ پیسہ لگا کر کسی کو خرید لو اور وہ تمہاری جان بچا لے ، نہ ہی وہاں دنیا کی طرح دوستیاں کام آئیں گیں اور نہ ہی سفارشیں چلیں گیں۔ایک اور جگہ فرمایا:اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتاہے۔ یعنی سود سے بظاہر کتنا ہی مال بڑھتا رہے مگر انجام کار نقصان ہوگا، اور صدقات سے بظاہر کتنا ہی مال کم ہوتا رہے مگر اللہ تعالیٰ اس آدمی کے مال کو بڑھاتے ہیں۔اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں دس گنا فائدہ دیتے ہیں اور آخرت میں ستر گنا منافع ملے گا۔
ایک بار مدینے میں قحط آگیا بازاروں سے بھی غلہ ختم ہوگیا، لوگ سخت پریشان تھے، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ 1200 اونٹ غلے کے مدینے کی منڈی میں آگئے لوگ حیران تھے کہ کس تاجر کا مال ہے ، پھر پتا چلا کہ یہ مال حضرت عثمان کا ہے جو انہوں نے شام سے منگوایا ہے ، چنانچہ مدینے کے تمام تاجر مال خریدنے کے لئے آگئے ، بولی لگنا شروع ہوئی کسی نے کہا ہم 40 روپے من کے حساب سے لیں گے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کم ہے ، دوسرے تاجر نے کہا میں 50 روپے من کے حساب سے لوں گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کم ہے الغرض بولی بڑتی رہی اور بالاخر ایک جگہ پر آکر تمام تاجر خاموش ہوگئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے اس سے زیادہ بولی تو کوئی تاجر نہیں دے گا آپ کو کتنا منافع چاہئے؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس تاجر سے میں نے سودا لگایا ہوا ہے وہ مجھے دس گنا منافع دے گا اور آخرت میں ستر گنا دے گا یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سارا مال لوگوں میں فری تقسیم کردیا۔
 حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے زمانے میں دو بھائی تھے جنہیں ایک وقت کا کھانا میسرآتا تھاتو دوسرے وقت فاقہ کرنا پڑتا تھا۔ ایک دن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی خدمت میں عرض کیا:آپ جب کوہ طور پر تشریف لے جائیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ ہماری قسمت میں جو رزق ہے وہ ایک ہی مرتبہ عطا کر دیا جائے تاکہ ہم پیٹ بھر کر کھالیں" چنانچہ بارگاہ الہیٰ میں دعا قبول ہوئی اور دوسرے دن انسانی شکل میں فرشتوں کے ذریعے تمام رزق دونوں بھائیوں کو پہنچا دیا گیا۔انہوں نے پیٹ بھر کر تو کھایا لیکن رزق خراب ہونے کے ڈر سے انہوں نے تمام رزق اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا۔ اگلے دن پھر ملائکہ کے ذریعے انہیں رزق مہیا کر دیا گیاجو کہ شام کو پھر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا گیا اور روزانہ ہی خیرات ہونے لگی۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: یا باری تعالی ان دونوں بھائیوں کی قسمت میں تو تھوڑاسا رزق تھا۔ پھر یہ روزانہ انہیں بہت سا رزق کیسے ملنے لگ گیا؟۔ندا آئی موسیٰ جو شخص میرے نام پر رزق تقسیم کر رہا ہے اسے میں وعدے کے مطابق دس گنا رزق عطا کرتا ہوں۔ یہ روزانہ میرے نام پر خیرات کرتے ہیں اور میں روزانہ انہیں عطا کرتا ہوں۔
اگر کسی کو یہ توفیق مل جائے تو اس عمل کو برقرار رکھنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، ایک ریاکاری سے بچیں اور دوسری تکبر سے بچیں کیونکہ انسان کے دل میں خیال آتا ہے کہ میرا پیسہ بہت لوگوں میں تقسیم ہورہا ہے ، چنانچہ شیطان دل میں تکبر پیدا کرتا ہے اور پھر یہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔

Monday, January 18, 2016

امت اور فرقہ

’’امت‘‘ امت ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو ہم خیال اور ہم مقصد لوگوں پر مشتمل ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 23سال محنت کرکے امت بنائی، اور ایسی امت بنائی کہ دشمن بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسی تعلیمات دیں کہ ان تعلیمات کو صرف دیکھ کر ہی کافر،دشمن،منافق مسلمان ہوجاتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے امت کو توڑ کر فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک حدیث میں ہے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطہ حیات اور نظام علم وعمل ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرات سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ،کتاب العلم)
چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فرقہ باز علماء( اتنے سخت حالات میں بھی جب پوری دنیا کا کفر ایک ایک کرکے مسلمان ملکوں میں تباہی پھیلا رہا ہے) فرقہ پرستی پھیلا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر اور شرک کے فتوے دیے جارہے ہیں۔ انڈیا کے ایک شہر مراد آباد میں ایک بریلوی مسلک کا شخص فوت ہوگیا، اس کا جنازہ دیوبندی مولوی نے پڑھایا تو ایک مفتی نے فتویٰ دے دیا جس جس نے اس دیوبندی کے پیچھے جنازہ پڑھا ہے ان سب کا نکاح ٹوٹ گیا، چنانچہ جوجو لوگ اس مفتی کی بات پر یقین کرنے والے تھے ان سب کا اجتماعی نکاح ایک حال میں ہورہا تھا جسے انڈیا کا میڈیا بریکنگ نیوز کے طور پر دکھا رہا تھا۔ اسی طرح ایک مفتی نے فتویٰ دیا کہ مسجد نبوی اور حرم کے اماموں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، سوچنے کی بات ہے کہ ہم تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کو گھسنے نہیں دیتے جبکہ اللہ اتنا کمزور ہوگیا کہ اس کے محبوب کی مسجد پر صدیوں سے گستاخ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں؟۔ ایسے مولوی،مفتی اور نام نہاد علماء زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہیں جو امت کو توڑ توڑ کر فرقوں میں تقسیم کرکے ان کے مال پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔کبھی یہ فتوے دیے جاتے ہیں کہ فلاں مسجد میں نماز نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں مسجد سوائے اللہ کے کسی کی نہیں ہے۔ ہارون الرشید نے ایک بار غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تو آج رات تک میرے ملک سے باہر نہ نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ بعد میں ہارون الرشید نے فورا علماء کو طلب کیا کہ اس کا کوئی حل بتائیں، سب نے کہا اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ رات آنے سے پہلے پہلے اپنی بیوی کو اپنے مُلک سے باہر نکال دیں، لیکن ملک اتنا بڑا تھا کہ یہ ناممکن تھا کہ رات آنے سے پہلے باہر نکال دیا جائے۔ پھر ہارون الرشید نے کہا امام ابوحنیفہ کا کوئی شاگرد ہو تو اسے بلائیں اس سے بھی کوئی حل پوچھ لیتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب کے شاگرد یعقوب (قاضی ابویوسف) کو بلایا گیا، انہوں نے کہا اس کا تو آسان حل ہے، اپنی بیوی کو آج رات مسجد میں ٹھہرا دو، کیونکہ مسجد آپ کا ملک نہیں یہ اللہ کا گھر ہے کسی کی ملکیت نہیں اور دلیل قرآن سے دی کہ: وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ مسجدیں اللہ کی ہیں پس اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
آج ہم نے مسجدوں کو تفرقہ بازی کا مورچہ بنالیا ہے، مسجد کا ممبر جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور وہ ممبر رسول ہے، اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہاں سے مسلمانوں کے لئے کفر کے فتوے سنائے جارہے ہیں۔ چلیں باالفرض اگر کسی مسلک والا کافر بھی ہو کیا اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا جائز ہے جیسا رویہ ہم اپنے مقتدیوں اور شاگردوں کو سکھا رہے ہیں؟ ابی ابن کعب سے بڑا کافر کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے بھی کافر تھے ان کے بارے میں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو نہیں معلوم تھا، ایک عبداللہ بن ابی تھا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ یہ پکا منافق ہے، اس کی اسلام اور رسول دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی رہے تھے،عبداللہ بن ابی کے بیٹا جو پکا مسلمان تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا پانی مجھے دے دیں میں اپنے والد کو پلاوں گا شاید وہ ٹھیک ہوجائے۔ چنانچہ وہ جوٹھا پانی اپنے والد کے پاس لے گیا اور پیش کیا کہ یہ پانی پی لیں،عبداللہ بن ابی نے کہا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے کہارسول اللہ کا جوٹھا ہے۔ تو اس بدبخت نے کہا پیشاب لے آو وہ پی لوں گالیکن یہ نہیں پیوں گا۔بیٹے کو سخت غصہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل کردوں لیکن آپ نے اجازت نہ دی کہ لوگ کہیں گے یہ رسول اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے(کیونکہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتا تھا اورمسلمانوں میں شمار ہوتا تھا)۔ اس منافق کی موت قریب آئی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتا مانگا کہ اس میں اسے کفن دینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا اپنا کرتا اس منافق کے کفن کے لئے دے دیا، پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا، حالانکہ قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ اے رسول آپ 70مرتبہ بھی جنازہ پڑھائیں میں نہیں بخشوں گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی پڑھایا کہ اللہ نے مجھے پڑھانے سے منع تو نہیں کیا شاید اللہ بخش دے۔ پھر اس سے بھی آگے جب اسے قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے دوبارہ قبر سے نکلوایا اور اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اپنا لعاب مبارک لگایا اور اس لعاب کو اس کے منہ میں ڈال دیا، اس عمل کو دیکھ کر ایک سو منافق پکے مسلمان بن گئے۔ آپ اندازہ لگا لیں یہ منافق ابوجہل سے بھی بڑا کافر تھا کیونکہ ابوجہل جہنم کے چھٹے درجے میں ہوگا جبکہ یہ ساتویں درجے میں ہوگا، ابوجہل سے بھی نیچے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیمات دیں کہ جو بھی کلمہ پڑھتا ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے۔ آج ہم بات بات پر گمراہی اور کفر کے فتوے دیتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ امت میں انتشار اور افتراق ہے ،جس کی وجہ سے کفر اور ان کے ایجنٹ اسلام کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔وہ ہمارے اسی طرح کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور فرقہ باز مولویوں کو مخیرحضرات بن کر خوب چندے بھی دیتے ہیں تاکہ یہ فرقہ بازی والا کام اسی طرح چلتا رہے۔
آج جس ممبر رسول سے محبت پھیلنی چاہیے تھے وہاں سے نفر پھیلائی جارہی ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: اَیُّ عُرِی الاسلام اَوْثَقْ؟ یعنی اسلام کا مضبوط ترین عمل کون سا ہے؟صحابہ کرام نے فرمایا: نماز۔ آپ نے فرمایا نماز بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: زکوۃ، تو آپ نے فرمایازکوۃ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: روزہ۔ آپ نے فرمایا روزہ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: حج۔ آپ نے فرمایاحج بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا:جہاد۔ آپ نے فرمایا جہاد بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر خود ہی آپ نے فرمایا اسلام کا سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کے لئے بغض کیا جائے۔بریلوی،دیوبندی،اھل حدیث سب ایک اللہ ایک قرآن ایک رسول کو مانتے ہیں، سب مسلمان ہیں سب کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسلام کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اختلافی اور فروعی مسائل میں عوام کو ڈال کر فرقہ وایت پھیلائی جائے۔


Wednesday, January 13, 2016

ہم کس دور میں موجود ہیں

اس وقت امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان سخت پریشان ہیں، پریشانیوں کی وجوہات بہت ساری ہیں لیکن میں آج ایک خاص پریشانی کے حوالے سے چند گذارشات پیش کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شاءاللہ اس پریشانی کا کافی وشافی علاج اور حل بھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔
پریشانی یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی اندوہناک حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس وقت یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درست تھا یا غلط تھا، جائز ہے یا ناجائز ہے، اس میں کون ملوث ہے؟ کسی مسلمان نے کیا یا کافر نے کیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ عدل وانصاف ہے یا ظلم اور سربریت ہے؟ ایسی صورتحال میں لوگوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو ناجائز اور حرام قرار دے دیتا ہے، دوسرا وہ جو جائز بلکہ افضل اور بہتر قرار دیتا ہے اور تیسرا وہ گروہ جو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں احادیث کی روشنی میں دے کر پھر اس کے حل اور بچاو کی طرف آتا ہوں۔
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچابنایا جائے گا، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا، اور ان میں ”رویبضہ“ بات کریں گے، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد،السنن الواردہ فی الفتن)۔ اس دور پر یہ حدیث کتنی مکمل صادق آتی ہے، نام نہاد مہذب دنیا کا بیان کردہ جھوٹ جس کو پڑھے لکھے لوگ بھی سچ مان لیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے سچ ہیں جن پر دنیا کے دجالی میڈیا نے لفاظی اور فریب کی اتنی تہیں جما دی ہیں کہ عام انداز میں ساری عمر بھی کوئی ان کو صاف کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے اگر میڈیا اس کو دبا دے تو وہ دب جاتا ہے(جیسے تھر میں روزانہ اوسطا دس بچے بھوک سے مرجاتے ہیں) اور اگر کسی واقعہ کو میڈیا اچھال دے تو ہر آدمی کا موضوع سخن وہی ہوتا ہے۔
ابوداود کی ایک روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ دو خیموں(جماعتوں) میں تقسیم ہو جائیںگے ، ایک اہل ایمان جن میں بالکل نفاق نہیں ہوگا اور ایک اہل نفاق جن میں بالکل ایمان نہیں ہوگا تو تم دجال کا انتظار کرو کہ آج نکلے یا کل نکلے۔
 یہ دو خیمے(جماعتیں) مسلمان خود تو نہ بنا سکے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کام کفر کے سردار سابق صدر بش سے لیا، چنانچہ اس نے نائن الیون کے بعد واضح اعلان کیا کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے ساتھ نہیں؟ اس اعلان کے فوری بعد دنیا کے مختلف خطوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران اور دیگر بے شمار لوگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ لوگ درمیان میں ہی رہے اور اس وقت سے آج تک یہ چھانٹی جاری ہے اور لوگ مسلسل دو حصوں میں تقسیم ہورہے ہیں، اور ہر گروہ باقی لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
”دجال “ دجل سے ہے اور دجل دھوکہ وفریب کو کہتے ہیں چنانچہ یہ دھوکہ وفریب اس وقت عروج پر ہے ۔ ضروری نہیں کہ کوئی شخص بظاہر معزز داڑھی والا لگ رہا ہے اور میڈیا پر بہت خوبصورت انداز میں بول لیتا ہے یا بہترین پیرائے میں لکھ لیتا ہے اپنے نام کے ساتھ سید،صدیقی یا فاروقی لکھتا ہے تو وہ دھوکہ نہیں دے رہا ہوگا، اصل دھوکہ تو یہی ہے کہ چار دن بہت اچھی بات بول کر یا لکھ کر پانچویں دن ایسی بات کردی کہ دوسرے کا ایمان اس کے دل سے ایسے نکال دیا جیسے مکھن سے بال۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دجال اور اس کے آنے سے پہلے والا دور سارا کا سارا دجل وفریب اور دھوکہ پر مبنی ہوگا لہٰذا آج ہم اسی دور میں موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں اس کے حل کی طرف: اس دجل سے بچنے اور فتنہ وفساد سے اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دجل سے ہمارا ایمان خراب کرنے کی کوشش کرے اور ہم اس کو پہچان لیں اور اپنے ایمان کو بھی محفوظ کرلیں، ساری دنیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھائے لیکن ہمیں جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ نظر آئے۔ جی ہاں! ایسا ممکن ہے ایک حدیث میں حضرت خذیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا اس فتنہ اور فساد سے بچنے کا کوئی حل ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی ایسا فتنہ نہیں جس سے نجات نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث ہے جو ابوداود، مسلم،ترمذی،احمداور نسائی میں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنے سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے ، اس کی تلاوت دجال کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے ۔اس میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں سے متاثر ہو جائے گی اس سورت کی تلاوت کرنے والا اللہ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا، دجالی فتنہ اور میڈیا اس کے دل ودماغ کو متاثر نہیں کرسکے گا۔ ان شکوک شبہات اور دھوکہ وفریب سے بچنے کے لئے اپنا معمول بنائیں ہرروز صبح سورہ کہف یا کم از کم ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کریں، ان شاءاللہ فریب کے پردوں کے پیچھے حقیقت کیا ہے وہ خود آپ کو نظر آئے گی اور جان وایمان کی حفاظت بھی ہوگی۔لیکن یاد رکھیں اصل فائدہ تبھی ہوگا جب ہم سورہ کہف کو سمجھ کر پڑھیں یا کم از کم اس کی تعلیمات کا استحضار ہو کہ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا سبق دیا ہے۔
ظہور امام مہدی،خروج دجال اور نزول عیسی علیہ السلام کے قریبی زمانے کی بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں جنہیں علامات قیامت کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کو مکمل طور پر اس مختصر مضمون میں لکھنا ممکن نہیں البتہ صرف ان علامات کی ایک فہرست بتادیتا ہوں، تاکہ ہمیں یہ احساس ہوسکے کہ ہم کس دور میں موجود ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
۱۔پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا،۲۔مساجد کو سجانا، ۳۔مدینے سے آگ کا نکلنا، ۴۔سود کا عام ہوجانا، ۵۔خلافت کا ختم ہوجانا، ۶۔علماءکا پے درپے قتل ہونا، ۷۔ فالج کا عام ہوجانا، ۸۔وقت کا تیزی سے گزرنا، ۹۔چاند کی پہلی تاریخ میں اختلاف ہونا، ۰۱۔جدید ٹیکنالوجی،کمپیوٹرز، چِپ اور ریکارڈنگ سسٹم کا عام ہوجانا، ۱۱۔منافق لوگوں کا حکمران بننا،۲۱۔تیسری جنگِ عظیم، ۳۱۔ فتنوں کا ظہور ،۴۱۔ دین پر چلنا اتنا مشکل ہوجائے کہ جیسے ہاتھ میں انگارے پکڑنا(یاد رہے دین صرف نماز روزے کا نام نہیں،بلکہ دین عقائد،عبادات،رسومات، معاشرت،معیشت،اور سیاست کے مجموعے کا نام ہے۔ آج کل پہلی تین چیزوں پر چلنا آسان ہے جبکہ دوسری تین چیزوں پر شریعت کے مطابق عمل کرنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔)،۵۱۔شہروں میں اپنا دین ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا، وہی محفوظ ہو گا جو پہاڑوں یا دور دراز دیہاتوں میں نکل جائے، ۶۱۔مسلمان ممالک خاص طور پر عراق،شام وغیرہ پر اقتصادی پابندیاں لگنا، ۷۱۔اہل شام پر غلہ اور پیسہ بند کردیا جائے گا، ۸۱۔عرب کی بحری ناکہ بندی، ۹۱۔مدینہ کی ناکہ بندی، ۰۲۔مسجد نبوی کا دور سے سفید محل کی طرح نظر آنا، ۱۲۔یمن اور شام میں بڑے بڑے فتنوں اور شیطان کے سینگ کا ظاہر ہونا، ۲۲۔بیت المقدس میں یہودیوں کا قوت پکڑنا، ۳۲۔عرب عورت پچیس درہم میں فروخت ہوگی، ۴۲۔دریائے فرات پر جنگ۔
خروج امام مہدی کی چند علامات: ۵۲۔حج کے موقع پر منی میں قتل عام ہوگا، ۶۲۔رمضان میں ایک آواز آئے گی جس سے لوگ بیہوش اور بہرے ہونگے، ۷۲۔ایک سفیانی شخص شام سے نکلے گا جس کا سر بڑا،چہرہ چیچک زدہ اور آنکھ میں سفید دھبہ ہوگا، شروع میں اسے ایک نجات دہندہ کے طورپر متعارف کرایا جائے گا لیکن بعدمیں وہ بہت قتل عام کرے گا یہاں تک کے عورتوں کے پیٹ سے بچے نکال نکال کر قتل کرے گا،۸۲۔نفس زکیہ یعنی کسی نیک ہستی بزرگ کا قتل ہوگا جس پر ساری امت یہاں تک کہ فرشتے بھی غضبناک ہوں گے اس کے فورا بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا، ۹۲۔خراسان سے کالے جھنڈوں کا نکلنا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور احادیث کے لئے دجال،امام مہدی کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں دجال کے دجل اور فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین


Monday, January 11, 2016

بچے،قرآن اور ہماری ذمہ داری

بچے اورقرآن، ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا میں قرآن کے ماہرین بچپن ہی سے قرآن سے جڑے ہوئے تھے۔ جن بچوں کو ان کے والدین نے چھوٹی عمر میں قرآن سے جوڑا ، ان بچوں کا قرآن سے تعلق ساری زندگی مضبوط رہا، یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بچپن سے قرآن کے ساتھ جوڑنے سے مراد یہ نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے، یعنی بچے کو سکول سے واپس لاکر آدھے گھنٹے کے لئے مسجد کے قاری صاحب کے حوالے کردینا، جب کہ وہ بچہ انتہائی تھکاوٹ کا شکارہوتا ہے، اور پھر والدین نے بھی ساری ذمہ داری قاری صاحب ڈال رکھی ہوتی ہے، سالوں گزر جاتے ہیں اور والدین کبھی قاری صاحب سے ملاقات تک نہیں کرتے۔
اگر چہ موجودہ دور میں الحمدللہ حفظ قرآن کا رجحان زیادہ ہوا ہے لیکن پھر بھی عموما یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کسی ایک بچے کو حفظ کروا کر دس افراد کی بخشش کے پرانے پر خود ہی دستخٰط کرکے بیٹھ جاتے ہیں، یعنی اب جو بھی ہوہم بخشے بخشائے ہیں۔ چنانچہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کو پاکیزہ ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، بچہ مدرسے سے آکر گھر میں موجود شیطانی آلات سے بھی مستفید ہورہا ہوتا ہے، فلمیں ڈرامے اور کارٹون کی شکل میں دجالی ہدایات کے انجکشن اس کے قلب ودماغ پر لگتے رہتے ہیں۔
حفظ کے رجحان میں اضافے کے باوجود اب بھی نوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں جو بچے کو بچپن کی عمر میں قرآن سے نہیں جوڑتے بلکہ جدیدزبانیں اور علوم ہی بچپن میں پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ جو بچے بچپن میں حفظ کرلیتے ہیں ان کا حافظہ دوسرے بچوں سے زیادہ قوی ہوتا ہے، چنانچہ اگر بچوں کو سب سے پہلے یعنی پانچ چھ سال کی عمر میں حفظ کروانا شروع کردیا جائے تو باقی چیزیں بعد میں بچہ بہت اچھی طرح سیکھ لیتا ہے۔
دوسری بات یہ بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بچے کو چھوٹی عمر میں جو چیز سکھائی جائے گی ساری عمر اسی چیز کی چھاپ اس کی عملی زندگی میں بھی نظر آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا حالانکہ سات سال کے بچے پر ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی،ابھی تو مزید سات سال ہیں نماز فرض ہونے میں،یہ سارا ہتمام اسی وجہ سے ہے۔
طبرانی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ:اپنے نبی ﷺ کی محبت، اور ان کے اہل بیت کی محبت، اور قرآن کریم کی تلاوت، اس لئے کہ قرآن کریم کو یاد کرنے والے اللہ کے عرش کے سائے میں انبیاء اور منتخب لوگوں کے ساتھ اس روز ہوں گے جس روز اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔(تربیت الاولاد فی الاسلام،شیخ عبداللہ ناصح علوان)
مسلمان علماء تربیت نے بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اور رسول اللہ ﷺ کے غزوات کی تعلیم اور مسلمانوں کے عظیم قائدوں کے کارنامے بتلانے اور سکھلانے کے ضروری ہونے کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔
امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہ وصیت کی ہے کہ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔
علامہ ابن خلدون نے مقدمہ ابن خلدون میں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے اور یاد کرانے کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی تعلیم ہی اساس اور بنیاد ہے، اس لئے کہ قرآن کریم دین کے شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ مضبوط اور ایمان راسخ ہوتا ہے۔
ابن سینا نے ’’کتاب السیاسۃ‘‘ میں یہ نصیحت لکھی ہے کہ جیسے ہی بچہ جسمانی اور عقلی طور سے تعلیم وتعلم کے لائق ہو جائے تو اس کی تعلیم کی ابتداء قرآن کریم سے کرنا چاہیے تاکہ اصل لغت اس کی گھٹی میں پڑے اور ایمان اور اس کی صفات اس کے نفس میں راسخ ہوجائیں۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ فضل بن زید نے ایک دیہاتی عورت کے بچے کو دیکھا اور بہت متعجب ہوا، اس عورت سے اس بچے کے بارے میں سوال کیا تو اس عورت نے کہا: جب اس بچے کی عمر پانچ سال ہو گئی تو میں نے اسے استاد کے حوالے کردیا، اور اس نے قرآن کریم یاد کرلیا، اور تلاوت وتجوید سیکھ لی، پھر اسے عمدہ اشعار یاد کرائے اور سکھائے اور اپنی قوم کے قابل فخر کارناموں کی تعلیم دی گئی، اور اس کے آباء واجداد کے کارنامے بتائے، جب وہ بلوغ کی عمر کو پہنچ گیا تو میں نے اسے گھوڑوں پر سوار کرایا اور وہ بہترین مشاق شہسوار بن گیا اور ہتھیار سے لیس ہو کر محلہ کے گھروں کا محافظ بن گیا اور مدد کے لئے پکارنے والوں کی آواز کی جانب متوجہ رہنے لگا۔
پہلے زمانے کے لوگ اپنے بچوں کی تربیت کا نہایت اہتمام کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کو جب اساتذہ کے ھوالے کرتے اور ان حضرات و سب سے پہلے جو مشورہ دیتے اور جس بات کی انہیں نصیحت کرتے وہ یہ تھی کہ ان بچوں کو سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم دیں، اس کی تلاوت سکھائیں اور اسے انہیں یاد کرائیں تاکہ ان کی زبان درست ہو اور ان کی ارواح میں پاکیزگی وبلندی اور دلوں میں خشوع وخضوع 
پیدا ہو اور آنکھوں میں آنسو آئیں اور ان کے نفوس میں ایمان اور یقین راسخ ہو جائے۔

Tuesday, January 5, 2016

تدبیر ،رد عمل اور ہیجانی تقاریر

ایک بہترین قائد اور رہنما میں یہ وصف ہونا چاہیے کہ وہ اپنی محنت سے اکھٹی کی ہوئی جمع پونجی(کارکنان) کی حفاظت کا پورا خیال رکھے۔آپ کے لئے یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ستائیس جنگوں میں حصہ لیا اور پچپن سریے روانہ کیے، لیکن مدنی زندگی کے دس سالوں اور ان تمام جنگوں میں مجموعی لحاظ سے صرف اور صرف 969 لوگ قتل اور شہید ہوئے، وہ بھی کافروں اور مسلمانوں کو ملا کر۔حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب کو تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب قرار دیا جاتا ہے لیکن اتنے بڑے انقلاب اوردس سالوں میںصرف1000سے بھی کم لاشیں گریں۔ جبکہ ہمارے ہاں اشتعال انگیز اور ہیجانی تقاریر کرکے ہزاروں نوجوانوں کو ساکت دیواروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا شہید کرایا گیا، ان بیچاروں کو ہم شہید ہی کہیں گے کیونکہ ان کی اکثریت دین کے جذبے سے تو سرشار تھی لیکن دین کی حکمت اور تعلیم سے بے بہرہ تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت اور تدبیر سے مکمل جہالت ،کفراور اندھیر نگری میں اپنی ٹیم پیدا بھی کی اور مسلسل اوپر کی طرف سفر کیا جب کہ ہمارے ہاں ایسے لیڈروں نے ایک دم اوپر کو چھلانگ لگائی اور پھر واپس تندور میں گرپڑے۔چنانچہ وہی لیڈر آج کل سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرکے کوئی تو تندور پر روٹیاں بنانے کا طریقہ سکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کوئی حجامہ سینٹر کھول کر حجامہ کی ٹریننگ اور فضائل سنارہے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی مشہور صوفی بزرگ اور شاعر گزرے ہیں۔ انہوں نے 26ہزار اشعار پر مشتمل مثنوی معنوی لکھی جو آج تک دنیا میں مقبول ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مثالوں کے ذریعے مسلمانوں کو دینی اور دنیوی ترقی کا سبق دیا ہے۔ جب1258میں تاتاریوں نے بغداد تباہ کرکے عباسی سلطنت کا خاتمہ کردیاتھا اس وقت مولانا روم بھی موجود تھے، تاتاریوں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے لیکن مسلمان بے بس ولاچار بنے ہوئے تھے۔ ایسے سخت حالات میں مولانا روم نے اس وقت کے مسائل کے حل کے لئے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ایک مثال بیان کی ہے، وہ لکھتے ہیں:ایک جنگل میں شیر نے تباہی مچائی ہوئی تھی، سارے جنگل کے جانور شیر سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کا ایک حل نکالا، انہوں نے شیر سے بات کرکے اس کو اس پر راضی کیا کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے۔اس تجویز پر عمل ہونے لگا، اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ اندازی کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا، جس جانور کے نام قرعہ نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے۔ آخر کار قرعہ ایک خرگوش کے نام نکلا، یہ خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے تھا کہ جب میرے نام قرعہ نکلے گا تو میں اپنے آپ کو شیر کی خوراک نہیں بننے دوں گا، بلکہ تدبیر کے ذریعہ خود شیر کو ہلاک کردوں گا۔ چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خرگوش ایک گھنٹہ تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا، شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کو ڈانٹنے لگا، دوسرا غصہ اس بات پر بھی تھا کہ خرگوش چھوٹا سا جانور ہے۔ خرگوش نے نہایت ہی نرمی اور لجاجت سے کہا کہ حضور! بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا ہے، آپ کی خوراک کے لئے دو عدد خرگوش بھیجے گئے تھے مگر راستے میں اس دوسرے شیر نے ایک خرگوش کھا لیا میں بڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں۔ اس بات سے شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مُڑ گیا، اس نے چلّا کر کہا: وہ دوسرا شیر کہاں ہے؟ خرگوش نے نہایت ادب سے کہا چلئے حضور میں آپ کو بتاتا ہوں، خرگوش اس کو ایک کنویں پر لے گیا اور کہا نیچے دیکھئے وہ ہے۔ شیر نے نیچے دیکھا تو اپنا عکس پانی میں نظر آیا۔ شیر غرایا تو کنویں کے اندر سے دوسرے شیر کے غرانے کی آواز بھی آئی چنانچہ شیر نے اس پر حملہ کرنے کے لئے کنویں میں چھلانگ لگادی اور کچھ دنوں کے بعد بھوکا مرگیا۔مولانا روم فرماتے ہیں خرگوش کی تدبیر کا جال شیر کی موت کا پھندا تھا۔ یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا نے اپنے وقت کے مسلمانوں کو تاتاریوں کے خلاف دی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تدبیر کے ساتھ کام کرنے سے بڑے سے بڑے اور مشکل سے مشکل کام نہایت آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ہمیں کوئی بھی کام سرانجام دیتے ہوئے جذبات، اشتعال انگیزی اور غصے میں اپنے آپ کو بے قابو کرکے دشمن کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننا چاہیے، ہماری اس طرح کی روش سے آج دشمن ہمیں اپنے مقاصد میں استعمال کررہے ہیں ۔بدقسمتی سے آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تو وہ ہے جو شیر کے منہ کا نوالا بننے کے لئے بالکل ہاتھ باندھ کر تیار بیٹھا ہے اور اپنی باری کا انتظار کررہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بغیر کسی تدبیر،تنظیم،تربیت اور تعلیم کے محض اشتعال انگیزی کرکے اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کررہا ہے۔ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم موقع محل، اوروقت کے تقاضوں سے آگاہ ہوں، کس وقت کیا کرنا ہے اور کس وقت کیا کہنا ہے اس کی قابلیت ہم رکھتے ہوں۔میرے خیال میں ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم دین اور دنیا دونوں سے آگاہ ہوں۔ ہماری یہ دونوں آنکھیں کھلی ہوئی ہوں۔ دشمن نے ہماری قوم کو ایسا تقسیم کردیا ہے کہ کچھ لوگوں نے دین کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دنیا کی آنکھ بند کرلی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے دنیا کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دین کی آنکھ مکمل بند کرلی ہے۔ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم مخالف کے اندر چھپی اس کی کمزوری کو تلاش کریں، اور پھر اس کا رُخ اس طرف موڑ لیں، یاد رکھیں جب دریا بپھرتا ہے تو اس کے سامنے نازک بندباندھنے یا اس کے سامنے کھڑا ہونے سے اسے نہیں روکا جاسکتا،بلکہ ایسے موقع پر اس کا رخ دوسری طرف موڑ کر یا اس کے پانی کو کئی راستوں پر ڈال کر تقسیم کرنے سے ہم اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔آج یہ صلاحیت ہمارے دشمنوں کے پاس ہے وہ میڈیا کے ذریعے ہر روز ہمارے ذہنوں کو کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف موڑ دیتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔ جس طرح کوئی شخص ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے اپنی مرضی سے گیم کے کردار کو آگے پیچھے کرتا یا فاتح اور شکست خوردہ بناتااور اپنا دل بہلاتا ہے بالکل آج ہمارے ساتھ ایسا ہی مغربی قومیں کررہی ہیں، وہ جب چاہتے ہیں اور جدھر چاہتے ہیں ہمیں موڑ لیتے ہیں۔
حضرت ابراہیم بن عیلہ کو خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی نے بلایا، اور اُن کو مصر کے محکمہ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اس کا ہل نہیں ہوں۔ خلیفہ ہشام کو غصہ آگیا، اس نے کہا کہ آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا ورنہ آپ کو سخت سزا دی جائے گی۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے نہایت ہی نرمی کے ساتھ کہا: ”اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں، ہم نے زمین وآسمان کو یہ امانت پیش کی مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا۔ تو جب خدائے بزرگ وبرتر ذمہ داری قبول نہ کرنے پر خفا نہیں ہوئے تو آپ کیوں مجھ پر خفا ہورہے ہیں؟“۔خلیفہ یہ بات سن کر خاموش ہوگیا اور ابراہیم بن عیلہ کو چھوڑ دیا۔
خلیفہ کو پہلے غلطی ابراہیم بن عیلہ میں نظر آرہی تھی لیکن ان کے حکمت بھرے اور موقع محل کی مناسبت سے قرآنی جواب کو سُن کر خلیفہ کو غلطی اپنے میں نظر آنا شروع ہوگئی، اور اس احساس نے اس کی سوچ کو بدل دیا،ظاہر ہے خلیفہ بھی مسلمان تھا،قرآن کے سامنے جرات نہیں کرسکتا تھا، ابراہیم بن عیلہ نے اسی نکتے کو پکڑا۔اس طرح کے واقعات اور مواقع کا ہر آدمی کو سامنا کرنا پڑتا ہے، جب بھی ایسی صورت حال پیش آئے آدمی اچھے رد عمل کے ذریعے ساری مخالف صورت حال کو اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔ یہ ایک فطری ہتھیار ہے جسے استعمال کرنے کا طریقہ ہم سیکھ سکتے ہیں، بس اس کے لئے ایسے مواقع پر دل ودماغ کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم تُندوتیز جوابی تیر برسائیں گے یا مخالفانہ کاروائی کریں گے تو ظاہر ہے معاملہ سنورنے کے بجائے بگڑتا ہی جائے گا۔امام زین العابدین کی لونڈی آپ کو وضوءکرانے کے لئے پانی سے بھرا لوٹا لائی، اچانک اس کے ہاتھ سے وہ لوٹا آپ پر گر گیا۔اور آپ کے کپڑے بھیگ گئے، آپ نے غصے سے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے فوراً قرآن کی آیت پڑھی”والکاظمین الغیظ،اور غصہ پینے والے“۔یہ سن کر آپ نے فرمایا میں نے غصہ پی لیا۔ وہ پھر بولی”والعافین عن الناس، اور لوگوں کو معاف کرنے والے“۔آپ نے فرمایا میں نے معاف کیا، رب تجھے معافی دے۔وہ پھر بولی ”واللہ یحب المحسنین،بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو“۔ آپ نے فرمایا جا تو فی سبیل اللہ آزاد ہے۔پہلے زمانے کی لونڈیاں بھی قرآن کے ساتھ اتنا شغف رکھتی تھیں کہ موقع محل پر مناسب آیت پڑھ لیں، لیکن آج کل بڑی بڑی ڈگریاں اٹھائے لوگ پھرتے ہیں مگر اپنے والد کے جنازے کے موقع پر ڈر لگا رہتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے ہی نہ کہہ دیں اپنے والد کا جنازہ پڑھاو۔ہمیں ہر معاملے میں آسمانی ہدایات سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:برائی کو بھلائی اور احسان کے ساتھ دفع کرو اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے گا(حم سجدہ)

Friday, January 1, 2016

باہمی اختلافات ،ہماری سوچ اور پیغمبرانہ سوچ میں فرق

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
مولوی انیس احمدؒ ایک گمنان مجاہد ، تحریک ریشمی رومال کے سرگرم کارکن اور اسیرمالٹا تھے۔ 1912ءمیں علیگڑھ سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریز کی عطا کردہ”ڈپٹی کلکٹری“ یعنی جج کا عہدہ چھوڑ کر علومِ قرآنی حاصل کرنے کے لئے دہلی پہنچے۔ دہلی میں قائم مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے ادارے ”ادارہ نظارة المعارف“ میں داخلہ لیا، کافی عرصہ علوم قرآنی کی تحصیل کرتے رہے اور پھر سندِ فراغت لے کردیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں داخل ہوگئے۔دیوبند میں حضرت شیخ الہندؒ سے تبلیغ قرآن اور علوم دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت شیخ الہندؒ ہی کے زیرِسایہ تحریک ریشمی رومال میں سرگرم ہوگئے،تحریک میں حیدرآباد دکن کے ذمہ دار رہے۔ بعد ازاں بغاوت کے جرم میں انگریز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر کالاپانی میں قید رہے اور پھر چندسالوں کے بعد وہاں سے رہائی ہوئی۔ان کی علمی وجاہت کی یہ شان تھی کہ خواجہ حسن نظامی جیسے لوگ ان سے عاجزانہ ملتے تھے، علامہ مشرقی، علامہ اقبال، اکبر الٰہ آبادی، سرعبدالقادر سمیت بڑے بڑے لیڈر ان سے مشورے لیا کرتے اور اس کو اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔رہائی کے بعد بھی انگریز ان کو بہت تنگ کرتے رہے، ان کے بیٹے شاہداحمد کو مقابلے کے امتحانوں میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا۔
مولوی انیس احمدؒ کا مختصر تعارف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ایک کتاب ”انوارالقرآن “آج کل میرے زیر مطالعہ ہے، میری علماءسے گذارش ہے کہ وہ مولوی انیس احمدؒ کی یہ کتاب اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی کتاب ”وحدت امت “کو ضرور مطالعہ کریں۔مولوی انیس احمدؒ ”انورالقرآن“ میں لکھتے ہیں: ایک پیغمبر ”نااتفاقی “کے مقابلہ میں قوم کا عارضی ”گمراہی “میں رہنا پسند کرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوم متفق رہتی ہے اسی وقت تک عمدہ نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہوگیا ہوگا کہ قرآن شریف کا ایک حصہ کا تو مفہوم ہی بدل گیا ، ایک حصہ بھلا دیا گیا اور ایک حصے کی تعلیم کو کہانیوں کا درجہ دیا گیا ہے، اس سے مستفید ہونے کی کوشش نہیں کی جاتی، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے کہ اب قرآن مجید سے وہ نتیجے پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہیے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے ہیں۔
مولوی انیس احمدؒ کی یہ بات کہ پیغمبراناسوچ کیسی ہوتی ہے ہمیں بلاشبہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ہماری سوچ آج کیسی بن گئی ہے، معمولی اور فروعی اختلافات میں پڑھ کر ہم نے قوم کو کئی حصوں میں تقسیم بھی کیا ہوا ہے اور پھر اس بات کا رونا بھی روتے ہیں کہ اسلام غالب نہیں ہورہا۔ حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، جب حضرت موسی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا: اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہو گئے تو تم کو کیا وجہ مانع ہوئی کہ تم نے میری ہدایت کی پیروی نہ کی۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟(طہ۳۹) یعنی جب وہ گمراہ ہورہے تھے تو تم نے ان کو منع کیوں نہ کیا، توحضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا: اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑو، میں اس بات سے ڈرا کہ تم واپس آکر یہ کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی(طہ) یعنی حضرت ہارون علیہ السلام کو جب اپنی اصلاح کی کوششوں میں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کی عارضی گمراہی کو پسند کیا بجائے اس کے کہ آپ اس کو روکنے کے لئے ایسی پرزور کوشش کرتے جس سے قوم کے ٹکڑے ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت موسی کی قوم کا واقعہ اور شرک میں مبتلا ہونا محض شک والی بات نہیں تھی بلکہ واضح طور پر انہوں نے شرک کیا تھا، اب اگر ہم اپنے اردگرد کو دیکھیں، یا ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟ ہم تو محض شک اور گمان کی بنیاد پر بلادلیل کفر وشرک کے فتوے ٹھوک دیتے ہیں، اور کسی کو کافر بنانے یا گمراہ قرار دینے کا معیار ہم نے اپنا مسلک یا اپنا مدرسہ بنا دیا ہے جو ہمارے مسلک میں ہے یا ہمارے مسلک کے مدرسے میں پڑھا ہے اس کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے اورجو ایسا نہیں وہ گمراہ ہے۔
          مفتی مختار الدین شاہ مدظلہ فرماتے ہیں:محض شک اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کسی پر الزام لگانا چاہیے اور نہ ہی کفر وشرک کے فتوے،ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ”الزام“ اور ”التزام“ میں فرق ہوتا ہے، فتوی ”لازم “پر نہیں بلکہ ”التزام “پر لگتا ہے۔ بولنے والے یا لکھنے والے کی بات اور تحریر سے جو مفہوم نکلتا ہے اس کو ”لازم“ کہتے ہیں، اور معنی کا اگر صاحب تحریر اقرار اور اعتراف کرے یا اس کے کلام کا مکمل سیاق وسباق کوئی معنی متعین کرتا ہے تو اسے معنی التزامی کہتے ہیں، لہٰذا اگرصاحب تحریر کے معنی لازمی اور معنی التزامی میں فرق ہو تو معنی التزامی پر حکم یا فتویٰ لگایا جائے گا نہ کہ معنی لازمی پر۔چنانچہ صرف مفہومِ لازمی کو دیکھتے ہوئے فتویٰ یا حکم لگایا تو یہ اس شخص پرمحض الزام ،غلط اور شریعت کی حدود سے تجاوز اور ظلم ہوگا۔آج کل کی بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ متکلم اور تحریر کنندہ چینخ چینخ کرپکارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ میرے عمل یا تحریر سے نکالتے ہیں لیکن ہم اس کی بات کو سننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کے قول وفعل کو وہ غلط معنی پہناتے ہیں جس کا خود متکلم انکار کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا جسے صحیح مسلم میں نقل کیا گیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا جو مسجد نبوی سے زیادہ دور رہتا تھا اور اس کا حال یہ تھا کہ وہ ہر نماز مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا۔میں نے ایک دن اس سے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تم اندھیری راتوں میں مسجد تک سواری کے لئے ایک گدھا خرید لو، تو وہ کہنے لگا” مجھے تو یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہو“ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی، میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اس شخص کو بلایا گیا اور وضاحت طلب کی گئی تو اس نے وہی کچھ عرض کیا جو پہلے کہا تھا اور ساتھ یہ وضاحت بھی کی کہ میں نے ایسا اس لئے کہا کہ مجھے قدموں کا ثواب مل جائے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہی ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے۔(مسلم) اب بظاہر اس کی بات کا غلط مفہوم لگتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربت نہیں چاہتا،لیکن اس نے اس کی وضاحت کردی کہ میں پانچ وقت روزانہ پیدل چل کر اتنی دور سے آتا ہوں اس کا مجھے ثواب ملتا ہے۔(راہ محبت)
اس طرح کے اختلافی مسائل میں شیطان مسلمانوں کو افراط وتفریط میں مبتلا کردیتا ہے، ہر مکتبہ فکر میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو بلاتحقیق غلط پروپیگنڈا کرکے اختلافات کو پھیلاتے اور تفرقہ بازی کے مرتکب ہو کر قرآنی حکم سے روگردارنی کررہے ہیں۔خاص طور پر علماءکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلاوجہ اور بغیر تحقیق کے کسی کی نیت پر حملہ آوار ہونے کے بجائے حسنِ ظن رکھیں تاآنکہ کھلم کھلا ثبوت نہ مل جائے۔علماءکو عام اجتماعات یا عام بیانات میں اختلافی مسائل کی تبلیغ یا تردید نہیں کرنی چاہیے، امرباالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اور صرف متفقہ معروفات اور متفقہ منکرات میں ہوتا ہے، اختلافی مسائل تو ترجیحی مسائل ہیں،ان میں جو نظریہ اور رویہ جس کے نزدیک رائج ہے وہ اس کو اختیار کرلیتا ہے۔
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے مسلمانو اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(46) اتحاد واتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے، کیونکہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی، ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے گی، کبھی کسی کی تنقید پرغصہ آئے گا،کبھی کسی کی ترقی پر۔اختلاف کوصبر کے ساتھ برداشت کرنے سے اتحاد وجود میں آتا ہے۔سورہ انعام میں فرمایا: اے مسلمانو خدا سے ڈرو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو، اور اس میں متفرق نہ ہو، آپس میں اختلاف کرناآگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے، خدا کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد واتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں، اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنالیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انہیں کی طرح نہ جاو(102)
 اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو، انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد یا تو اپنے اختلاف کو ختم کردیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں، عملی زندگی میں اس اختلاف کو پھیلا کر معاشرے کو خراب نہیں کرتے۔
مولانا زاہدالراشدی مدظلہ فرماتے ہیں: ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ مزاج راسخ ہوتا جارہا ہے کہ ہم نے جس کے خلاف کچھ کہنا ہوتا ہے، اس کا موقف اس سے نہیں پوچھتے بلکہ اس کی چند عبارات کو سامنے رکھ کر خود طے کرتے ہیں اور اگر وہ جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرے تو اسے یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ماضی میں یہ طرز عمل مولانا۔۔۔۔۔۔۔۔نے اختیار کیا تھاکہ علماءکی کتابوں سے اپنے مطلب کی چند عبارات منتخب کرکے ان سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے تھے اور ان پر ایک استفتا کی بنیاد رکھ کر حرمین کے علماءکرام سے فتویٰ حاصل کیا۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر واسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے، ہرجھگڑے کو 302کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے چندواقعات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک معروف ومشہور اہل بدعت عالم جو اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں بہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، ان کا ذکر آگیا تو فرمایا: میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق معذب ہونے کا گمان نہیں، کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔(مجالس حکیم الامت)ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے کہا فلاں پیر صاحب بازاری عورتوں کو بھی مرید کرلیتے ہیں تو حضرت نانوتوی نے فورا خاموش کراتے ہوئے کہا، تم نے ان کی راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے گریہ زاری نہیں دیکھی؟۔ اسی طرح ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے سرسید احمد خان کے خلاف ایک فتویٰ آپ کو دستخط کرنے کے لئے پیش کیا، آپ نے کہا پہلے تحقیقات تو کرلو آیا وہ کافر ہے بھی یا نہیں؟ چنانچہ خود ہی سرسید احمد خان کی طرف تین سوال لکھے:۱۔خدا پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۲۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۳۔قیامت کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ سرسید احمد خان نے جواب میں لکھا:۱۔خدا تعالیٰ مالک ازلی اور صانع تمام کائنات ہے،۲۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر،۳۔قیامت برحق ہے۔ تو پھر حضرت نانوتویؒ نے فرمایا تم اس شخص کے خلاف دستخط کروانا چاہتے ہو جو پکا مسلمان ہے؟۔
حضرت کے اس فیصلے کو آج کے مفتی شاید تسلیم ہی نہ کریں، لیکن حضرت کا اعتقاد اور مقام انہیں خاموش رکھنے کے لئے کافی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طرف کوئی اعلی علمی اور قابل شخصیت ہوتی ہے لیکن اس کی باتوں کو اس لئے قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا کہ ہمارے علم میں یہ نہیں کہ اس کے اساتذہ کون ہیں، یا اگر ہیں تو وہ ہمارے خیال میں مستند نہیں ہیں۔ میں نے دو تین سال قبل ایسا ہی ایک استفتاءکسی معروف شخصیت جو اب اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں لکھا، میرا سوال یہ تھا کہ ان کی دو چار موٹی موٹی گمراہیاں بتادیں کیونکہ لاکھوں لوگ ان کی کتابیں پڑھتے اور ویڈیوز سنتے ہیں، یہ استفتاءدارالعلوم کراچی سمیت کئی بڑے بڑے جامعات کو بھیجاگیا۔ سوائے دارالعلوم کراچی کے کسی نے اس کا جواب دینا ہی نہیں دیا، اور دارالعلوم کراچی کے دارالافتاءسے جو جواب آیا وہ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی مدظلہم کا لکھا ہوا نہیں تھا بلکہ شاید ان کے علم میں بھی نہ ہو، بہر حال کسی مفتی صاحب نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے جواب میں محض اتنا لکھا کہ یہ شخص مستنداساتذہ اور مشائخ سے نہیں پڑھا ہوا لہٰذا اس کی کتابیں اور ویڈیوز نہیں دیکھنی چاہیے۔ یعنی سوال گندم، جواب جو۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جواب دینے والا مفتی محض سنی سنائی بات پر جواب دے رہا ہے۔ آج فتوی دینے کا یہی معیار رہ گیا ہے کہ نہ تحقیق کرنی ہے اور نہ اس کے بارے میں معلومات لینی ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے مدارس میں یہ وباءپھوٹ پڑی ہے کہ ایک ایک سال کے مفتی کورس کروا کر سندیں بانٹی جارہی ہیں چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کے مفتی یا لکیر کے فقیر ہیں یا سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے فتوے جھاڑتے ہیں،فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کیا چیز ہوتی ہے اس بارے میں انگریز جج کا واقعہ ملاحظہ کریں جو نہ دین اسلام سے واقف ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث اور اسلامی قانون سے، سابقہ مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ اہلِ حدیث اور حنفیوں کے درمیان” آمین “ پر لڑائی ہوگئی، خوب مارکٹائی بھی ہوئی ، بالاخر اس کا کیس انگریز جج کے پاس گیا تو اس نے کہا یہ ”آمین“ کیا چیز ہے کوئی بلڈنگ ہے یا پراپرٹی ہے؟ لوگوں نے سمجھایا کہ ایک لفظ ہے، ایک فریق کہتا ہے حدیث میں ہے اسے بلند آواز سے بولنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے حدیث میں ہے آہستہ بولنا ہے۔ تو انگریز جج نے کہا جس کو جو حدیث معلوم ہے وہ اس پر عمل کرے، لڑتے کیوں ہو؟ اور پھر اس نے تفصیلی فیصلے میں لکھا: میں ساری تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاں ”آمین“ کی تین قسمیں ہیں، ایک آمین بالجہریعنی اونچی کہنا، دوسری آمین بالسر یعنی آہستہ کہنا،جبکہ تیسری آمین بالشر یعنی لڑنے کے لئے کہنا، لہٰذا عدالت دونوں فریقوں کوفلاں فلاں سزا سناتی ہے تاکہ آئندہ نہ لڑیں۔قاری طیب صاحب انگریز جج کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ لکھا، یہ تو ہمارے دلوں کا فساد ہے کہ ہم نے مسائل کو اپنے دل کے جذبات نکالنے کی آڑبنا لیا ہے اور ہر دین کا مسئلہ جھگڑا ڈالنے اور گروہ بندیوں کے لئے رہ گیا ہے(خطابات)۔جی ہاں مفتی کی حیثیت بھی جج کی سی ہوتی ہے بس فرق یہ ہے کہ جج کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے اور انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرواتی ہے، جبکہ مفتی کا کام صرف رہنمائی کرنا اور بتانا ہوتا ہے نافذ وہ نہیں کرسکتا۔اس انگریز جج نے اس معاملے کو ویسے ہی نہیں ٹال دیا بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مطالعہ کیا، تحقیقی کی، لوگوں سے معلومات اکھٹی کیں اور پھرایسا دانشمندانہ فیصلہ دیا کہ معاشرے میں اختلاف نہ پھیلے بلکہ لوگ متفق ہو کر رہیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں۔
 قاری طیب صاحبؒ ملتان میں خیر المدارس میں آئے جلسے سے خطاب کیا اور پھر پوچھا یہاں ملتان میں کوئی اور عالم ہیں؟ بتایا گیا کہ مولانا محمد بخش ہیں لیکن بریلوی فرقے سے تعلق ہے، تو مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری طیب ؒ نے فرمایا: ہم انہیں فرقہ ہی نہیں سمجھتے، نہ ہم فرقہ نہ وہ فرقہ۔ اور پھر سب کے منع کرنے کے باوجود ان کی مسجد میں گئے اور ملاقات کی۔اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: میں ہمیشہ اس کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ بھئی منافرت مت پیدا کرو، اپنی رائے ہے، اگر آپ دیانةً صحیح سمجھتے ہو تو اس پر عمل کرو، لیکن نفرتیں پیدا کرنا یہ صحیح نہیں(خطبات حکیم الاسلام ج۵ص۴۲۲)
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ”وحدت امت“ میں ایک واقع لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں، مَیں سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے پاس حاضر ہوا تو دیکھا کہ حجرت سر پکڑے ہوئے بہت مغمم بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں ٹھیک ہی ہے، میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی۔میں نے کہا حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں صرف ہوئی ہے، اگر آپ کی عمر ضائع ہوئے تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟فرمایا تمہیں صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا حضرت آخر بات کیا ہے؟ فرمایا: ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔۔۔۔۔۔اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا: ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا؟۔۔۔۔۔۔قبر میں بھی فرشتے نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا نہ امام ابوحنیفہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔(نوٹ: یہ کافی طویل تقریر ہے جس میں سے کچھ کچھ اقوال ذکر کیے ہیں،رسالہ وحدت امت مطالعہ کریں)۔
مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس جنگ وجدل کا ایک بہت بڑا سبب فروعی اور اجتہادی مسائل میں تخرب وتعصب اور غلو ہے۔۔۔۔بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور اُن کو تارکِ قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہو۔معلوم نہیں یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفان سے واقف نہیں ؟۔۔۔۔۔۔اور اگر محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے سوال کرلیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہورہے تھے تم وراثتِ نبوت کے دعوے دار کہاں تھے؟ تو کیا ہمارا یہ جواب کافی ہو جائے گا کہ ہم نے رفع یدین کے مسئلے پر ایک کتاب لکھی تھی۔۔۔۔۔۔ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد وتلقین یا دعوت وتبلیغ کے لئے قائم ہیں۔۔۔۔اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست وبازو سمجھے تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔ علمی غلو ہر جماعت میں یہ پایا جاتا ہے کہ اپنے مجوزہ نظام عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دے دیا گیا جو شخص اس نظام عمل میں شریک نہیں اگرچہ اس کا مقصد کتنا ہی عظیم ہو اس کو اپنا بھائی نہیں سمجھا جاتا، اور اگر کوئی اس نظام عمل میں شریک تھا پھر الگ ہوگیا تو عملا اسے اصل مقصد سے منحرف سمجھ لیا جاتا ہے اگرچہ وہ اصل مقصد یعنی اقامتِ دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے۔(وحدت امت)
مفتی شفیع رحمہ اللہ کی اس دلسوز تقریر میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس سمت جارہے ہیں، کہیں کوئی نادیدہ ہاتھ مخیرحضرات کی شکل میں فنڈ دے کر فرقہ واریت اور باہمی اختلافات کو ہمارے ذریعے سے جاری تو نہیں رکھ رہا، تاکہ دینی طبقہ اسی فضول کام میں لگا رہے اور اقامت دین کی جدوجہد کی طرف اس کا دیہان ہی نہ ہو، یاد رکھیں ایسے مخیرحضرات کے پیچھے مقامی ہاتھ بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔ذرا دیہان سے!
...............
پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں