Search This Blog

Showing posts with label الحاد. Show all posts
Showing posts with label الحاد. Show all posts

Wednesday, May 10, 2017

مشال خان واقعہ پر زبردست تجزیہ

►►======مفتی منیب الرحمن======►►

اب جب کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سانحے کی جذباتی کیفیت میں ٹھیراؤ آگیا ہے، پختونخوا کی پولیس نے تفتیش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، تو اب مناسب ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں پر غیر جذباتی انداز میں گفتگو کی جائے۔ اکثر پرائیویٹ چینلز نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا، ایک تو میں اس دوران اَسفار میں تھا، دوسرا یہ کہ ہمیں پوری بات کرنے کا موقع نہیں ملتا اور سیاق وسباق سے ہٹ کر ہماری بات کا کوئی جملہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا جاتا ہے یا کسی جملے کو اپنے کڑوے کسیلے تبصرے کا ہدف بنا کر چاند ماری شروع کردی جاتی ہے۔ یہ اعزا ز صرف جناب شیخ رشید کو حاصل ہے کہ وہ بعض اوقات تین چار ٹیلیویژن چینلز کے اینکر پرسنز کو ون آن ون بیٹھ کر انگلی پکڑ کر چلا رہے ہوتے ہیں، نوکری اور ریٹنگ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دو متوازی شریعتیں چل رہی ہیں، ایک شریعتِ اسلامی اور دوسری لبرل ازم اور تجدُّد کی خود ساختہ شریعت ہے،جس کو مختلف زبانوں کے کم وبیش سو چینلز کی خدمات رضاکارانہ طور پر دستیاب ہیں، این جی اوز، سوشل میڈیا کی مختلف اصناف اور پرنٹ میڈیا کی خدمات اضافی ہیں۔ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنا ہوتا ہے،جب کہ شریعتِ اسلامی کے لیے یہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔لبرل عناصر سیاست دانوں کی طرح علماء کو بھی وقتاً فوقتاً آمنے سامنے بٹھاکر مناظرے کراتے ہیں تاکہ ناظرین کو شعور ی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ مذہب کا کام توڑنا ہے، جوڑنا نہیں ہے۔ یہ مناظرین اپنے اپنے حلقوں میں جاکر داد وتحسین کی سوغات وصول کرتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ مجالسِ مناظرہ برپا کرنے والوں کو ان میں سے کسی کے مسلک سے غرض نہیں ہے، ان کانشانہ مذہب ہے اور نئی نسل کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ جو چند مذہبی چینل ہیں، وہ اپنے برانڈ کو لے کر چل رہے ہوتے ہیں، وہ اچھے بچوں کی طرح پروگراموں کو چلاتے ہیں، کیونکہ نہایت اخلاص کے ساتھ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہے، ملکوں ملکوں جانا ہے، سو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے لیے دروازے بند ہوجائیں۔اس لیے دین کا پورا موقف اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ عوام کے سامنے آنا مشکل ہے۔

صرف جناب جاوید غامدی کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اپنی پسند کا عنوان چن کر اپنی پسند کے میزبان کے ساتھ پروگرام کریں۔ سوال وجواب بھی اپنی پسند کے ہوں اور ہر مسئلے میں اباحت کی گنجائش بھی نکال دی جائے، تو لبرل طبقے میں پذیرائی ملنا یقینی ہے۔ان کی فکر کے ایک شارح کہہ چکے ہیں کہ کفر وشرک، نفاق، ضلالت، فسق وفجور اور حق وباطل کے لیے دارالافتاء حشر میں کھلے گا یا عدالت لگے گی، اس دنیا میں ان باتوں کی اجازت ریاست کے سوا کسی کو نہیں ہونی چاہیے اور ریاست کو کیا پڑی ہے کہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالے؟ کیونکہ ان کی آرزو عافیت کے ساتھ حکمرانی سے لطف اندوز ہونا ہے۔

سو ہم بھی کہتے ہیں :قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے، انار کی نہیں پھیلنی چاہیے،اسی طرح انسانی میت کی بے حرمتی کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی،لیکن یہ تخیلاتی معراج وہاں ہوسکتی ہے،جہاں قانون،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں مکمل با اختیار ہوں، ہر ادارہ کسی جبر واکراہ اور خوف کے بغیر اپنا کام کر رہا ہو، سب اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ سمجھیں اور آئین وقانون کی مکمل بالادستی ہو، لیکن ہمارے ہاں چند مستثنیات کے سوا ایسا نہیں ہے۔جنابِ عمران خان چار سال سے پختونخوا پولیس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں، ہماری نظر میں اُن کے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے، کیونکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے سانحے میں مذہبی جماعتیں اور مذہبی افراد ملوث نہیں ہیں، یونیورسٹی میں لبرل سیکولر جماعت اے این پی کی چھاپ واضح ہے، اسٹوڈنٹس تنظیموں میں بھی ان کی ذیلی تنظیم نمایاں ہے، اس لیے اس واردات کا ملبہ مذہبی عناصر پر براہ راست نہیں ڈالا جاسکا، اس میں پی ٹی آئی اورپی پی پی کے لوگ بھی شامل تھے۔ لہٰذا اس وقوعے کا ایک واضح پیغام یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز بلکہ پورے خطے کے مسلمان، خواہ وہ عام معنوں میں با عمل مسلمان نہ ہوں، دینی مقدسات کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔

چنانچہ مردان میں کل جماعتی ’’دینی محاذ‘‘تشکیل پاچکا ہے، وہ مردان اور چارسدہ میں بڑے احتجاجی جلوس نکال چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور شعائرِ دین کی توہین اتنی خباثت کے ساتھ کی گئی ہے کہ کوئی مسلمان نہ اس کا تصور کرسکتا ہے اور نہ اسے نقل کرسکتا ہے، یہ سب کچھ وہاں کے لوگوں کے پاس ریکارڈ اور شہادت کے لیے موجود ہے۔لہٰذا اس مقدمے کی تحقیقات جامع انداز میں ہونی ضروری ہے، اس کے لیے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز سیل کو بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا جائے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں کہ اس سارے موادکی شروعات کہاں سے ہوئیں، اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔جناب خان سے گزارش ہے کہ ان سب امور کی غیر جانبدارانہ مکمل تحقیقات کرائیں، ورنہ آئندہ الیکشن پر بھی یہ مقدمہ سایہ فگن رہے گا۔سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے بتایا کہ مردان میں ایک کذاب مدعیِ نبوت کو لوگوں نے پولیس کے حوالے کیا، ایس ایس پی کے سامنے بھی اس نے اقرار جرم کیا، لیکن اس کے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکمرانوں کو کسی غیر قانونی طریقۂ کار کی مذمت کا حق توحاصل ہے، لیکن عدالتی تحقیق سے پہلے کسی کی براء ت کا اعلان درست نہیں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پختونخوا جناب پرویز خٹک نے ایسا ہی کیا ہے۔

اسی طرح الیکٹرانک میڈیا پر جو لبرل مفتیانِ کرام اورمنصفین والا شان بیٹھے ہیں، وہ بھی فوری فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ 295-C کا غلط استعمال ہورہا ہے، وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یونیورسٹی پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگوں کا ادارہ ہوتا ہے، وہاں ماسٹرزسے ڈاکٹریٹ کی سطح تک تعلیم دی جاتی ہے، پھر ان میں سے ہر ایک کو سوشل میڈیا تک رسائی بھی ہوتی ہے، کیا بقائمی ہوش وحواس یہ مانا جاسکتا ہے کہ اچانک سب پر جنون طاری ہوگیا اور ہوش و خرد کھو بیٹھے۔

مغرب سے متاثر ذہن کی تان تو اس پر آکر ٹوٹتی ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کو یکسر ختم کردیا جائے، تو کیا اس کے ذریعے آپ مسلمانوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسول مکرم ﷺ کی محبت، قرآن اور شعائرِ دین کی حرمت نکال سکیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا، اس کے پیچھے عہدِ رسالت مآب ﷺ سے لے کر عہدِ حاضر تک ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر محض شور شرابے سے مسائل کا حل ممکن ہو تو ہمارے اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں سے بڑا انقلابی اس آسمان کے نیچے اور کون ہے، کئی ایک ہیں جو ہرروز سر شام ’’حق الیقین‘‘ اور ’’اعتقاد جازم‘‘ کی حد تک قطعی فیصلے صادر کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی حیاتِ مستعار چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف چونکہ ہمارے نظام ریاست وحکومت میں ہمہ مقتدر اور عقلِ کل تھے، ڈرتے ورتے بھی کسی سے نہیں تھے، لیکن 2007ء کے بعد چشمِ فلک نے بہت کچھ دیکھا، آخرِ کار قرآن کا فرمان ہی سچ ثابت ہوتا ہے:’’اس زمین پر جو کوئی بھی ہے (ایک دن) فنا ہونے والا ہے اور (صرف) تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے، باقی رہ جائے گی، ( الرحمٰن :20-21)‘‘۔

ہم نے ہمیشہ کہا کہ دیگر تمام مقدمات کی طرح 295سی کی ایف آئی آر بھی براہ راست درج کی جائے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جس شخص پر الزام ہے، وہ پولیس کی تحویل میں چلا جائے گا اور عوام کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف نے خاص اس دفعہ کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ضابطۂ فوجداری میں یہ ترمیم کی کہ جب تک ایس ایس پی سطح کا پولیس افسر مطمئن نہ ہو، ایف آئی آردرج ہی نہیں ہوسکے گی۔عقل کا اندھا بھی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں عام آدمی کی رسائی ایس ایچ او تک ممکن نہیں ہے، ایس ایس پی تک کیسے ہوگی۔ سوآپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، جتنی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، وہ اس وقت ہوئیں جب لوگوں نے پولیس تھانوں پر چڑھائی کردی یا کسی عدالت سے حکمنامہ لے کر آئے۔

ہم نے یہ بھی تجویز کیا تھاکہ قانون میں ترمیم کر کے اس کا ٹرائل براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں کیا جائے تاکہ اگر بے قصور ہے توجلد با عزت بری ہوجائے گا اور قصور وار ہے تو سزا پائے گا۔ ہمارے میڈیا کے لبرل حضرات کا اصل ہدف قانونِ تحفظِ ناموس رسالت کا خاتمہ ہے، لیکن ایسی خواہش پالنا آسان اور پانا مشکل ہے۔ پاکستان میں مسلمان سر عام اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور مقدساتِ دین کی اہانت برداشت نہیں کریں گے۔ پس لازم ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی باتوں کی تَقْطِیْر (Filtration) کا کوئی انتظام ہو، مذہب اور اہلِ مذہب کو ملامت کرنااس مسئلے کا حل نہیں ہے، ورنہ یہ کار خیر تو ہمارے ہاں صبح وشام ہوتا ہے۔ اس ملک کو کسی غریب یا جاہل نے لوٹ کر کنگال نہیں کیا، اس کو لوٹنے والے وہ ہیں جن کے پاس پہلے سے سونے کی ایک وادی ہوتی ہے اور جو بیرون ملک یا ملک کے اندر رؤساء کے لیے قائم اداروں میں پڑھے ہوتے ہیں۔اس مسئلے کے قابل قبول اور دیر پا حل کے لیے میری تجویز ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ سرکردہ علماء کی تفصیلی میٹنگ ہو، اس میں غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب بھی ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ ہمارے مقدسات کی توہین کرنا چاہتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نہیں، اس کا غلط استعمال روکا جائے۔سوالزام کے صحیح یاغلط ہونے کا معاملہ عدالت ہی طے کرسکتی ہے،اس کے لیے تفتیشی اور عدالتی طریقۂ کار کو سہل اور تیز تر بنانے کی ضرورت ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ہجوم عدالت لگائے، بازاروں اور چوراہوں پر فیصلے ہوں، لیکن یہ بھی تو ماننا پڑے گا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب قانونی عمل مفلوج یا بے اثر ہوجاتا ہے

Monday, March 27, 2017

ایاز نظامی اور مدرسہ

سید عبدالوہاب شیرازی
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون میں یہ بات عرض کی تھی کہ عام طور پر ہمارے ہاں پاکستان وہندوستان میں عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام قرآن کا ترجمہ پڑھے گی تو گمراہ ہوجائے گی۔ (نعوذبااللہ من ذالک)
حالانکہ قرآن کو کتاب ہدایت کہا گیا ہے، اس سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسانوں کے دل سیرات ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بدبخت بھی ہوتے ہیں جن کے حصے میں گمراہی بھی آتی ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آغاز ہی بری نیت سے کرتے ہیں، ورنہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص اخلاص کے ساتھ ہدایت کے حصول کے لئے قرآن کا ترجمہ پڑھے اور گمراہ ہوجائے۔عوام تو جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ان کی نظر ظاہری احکامات پر ہوتی ہے، مثلا نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جنت، جہنم، عذاب، اقوام سابقہ کے قصص وغیرہ۔ عوام  گہرائی میں جا ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایک عام شخص جب بھی قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے اس سے اسے ہدایت ہی ہدایت میسر آتی ہے۔
اگر ہم گمراہ لوگوں اور گمراہی کے فتنے ایجاد کرنے والوں کی فہرست پر ایک نظر دوڑائیں تو وہ ہمیں عوام نہیں بلکہ علماء ہی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی فتنے کو کھڑا کرنے کے لئے جو صلاحیت اور قابلیت چاہیے ہوتی ہے وہ عوام میں نہیں ہوتی۔ آپ ماضی کے فتنے دیکھیں یا حال پر نظر دوڑائیں تمام فتنوں کے موجد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دینی علوم میں آٹھ دس سال لگا کر مہارت حاصل کی اور پھر اس قابلیت کو گمراہی پھیلانے میں استعمال کیا۔ مثلا
ہندوستان کا سب سے بڑا فتنہ دین اکبری یا دین الہٰی تھا، جسے ایجاد کرنے والے ابوالفضل اور فیضی جیسے زبردست عالم دین تھے۔
قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد ہو یا فتنہ انکار حدیث کا موجد غلام احمد پرویز۔ دینی شعائر کی غلط تعبیر کرنے والا سرسید احمد خان ہو یا حکیم نورالدین بھیروی۔مولوی عبداللہ چکڑالوی ہو یا علامہ اسلم جیراج پوری۔
اسی طرح کئی مسائل میں اجماع امت سے کٹ کر الگ راہ اختیار کرنے والے مولانا امین احسن اصلاحی ہوں یا پھر علامہ فراہی جیسے محقق قرآن۔ جاوید احمد غامدی ہو یا جماعت المسلمین کے بانی ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی یہ سب علماء ہی ہیں۔ یاد رہے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی بنوری ٹاون کراچی کے فارغ التحصیل اور علامہ بنوری رحمہ اللہ خاص شاگرد اور معالج بھی رہے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کا دارومدار علم پر نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف دو چیزوں پر ہے: ایک انسان کی اپنی نیت وارادہ اور دوسرے اللہ کی توفیق وتیسیر۔ اگر انسان کے اپنے دل میں کجی اور نیت میں فتور ہو اور اللہ تعالیٰ بھی اپنی سنت کے مطابق کہ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم اس سے توفیق خیر سلب فرمالے تو ایسا انسان جتنا بڑا عالم وفاضل ہو گا اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھائے گا۔چنانچہ اسی بات کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں بھی اشارہ ہے:
ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، آسمان تلے کی بدترین مخلوق(نام نہاد) علماء ہوں گے، فتنے ان ہی کے اندر سے اٹھیں گے اور ان ہی میں لوٹ جائیں گے۔
اب اگر دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل ایاز نظامی کا فتنہ سامنے آیا ہے تو یہ اتنی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ایسے فتنوں کی مثال دے کر عوام کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت میں علماء ہی رکاوٹیں کھڑی کردیں

Saturday, December 31, 2016

سیکولر حضرات کی مناظرانہ چالاکی

 از مولانا زاہد مغل

 "ھم سب" پر شائع ہونے والی 'دوپٹے کے دس فوائد' تحریر نظر سے گزری۔ تحریر کی ابتداء میں فاضل مصنفہ فرماتی ہیں کہ تحریر سے 'زیادہ اثر کے لئے تحریر کو مذھبی و معاشرتی جذبات کو ایک طرف رکھ کر پڑھا جائے'۔ فی الوقت تحریر کے دس مندرجات پر بحث مقصود نہیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی پہلو تبصرے کے لائق نہیں۔ یہاں صرف درج بالا مطالبے پر کچھ عرض کرنا ہے۔
 یہ مطالبہ عین سیکولر طرز استدلال کی بنیادی روح ہے کہ پہلے آپ مذھبی عقائد، تعلیمات و جذبات کو ایک طرف رکھ دیں پھر ہماری بات پر غور کریں۔ یعنی پہلے میں اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجاؤں پھر مخالف کی بات پر غور کروں۔ بھائی اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجانے کے بعد ظاہر ہے مجھے وہی بات معقول معلوم ہونے لگے گی جو آپ کہتے ہو، مگر اس قسم کی "داخلی معقولیت" تو دنیا کے تقریبا ہر نظرئیے میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سیکولر تعلیمات کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مذھبی جذبات و تعقل سے دستبرداری اور خود کو سیکولر تناظر میں رکھنا لازم امر ہے۔
 آخری بات، اگر کوئی آپ کو شام میں بم و میزائل سے مارے جانے والے انسانوں کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہے کہ "انسانی جذبات کو ایک طرف رکھ کر دیکھئے" تو بھلا آپ کو اس میں سوائے اس کے اور کیا دکھائی دے گا جیسے ایک شیر کسی زیبرے کا شکار کرنے کی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا مرنے والے انسانوں کا ان جذبات سے ماوراء رہ کر کیا جانے والا مشاہدہ درست و بامعنی ہوسکتا ہے؟ ایک جابر مرد کسی خاتون کو پیٹ رہا ہے اور میں آپ سے کہوں کہ "فیمنسٹ اخلاقی جذبات ایک طرف رکھ کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عقلیت کے تحت مشاہدہ فرمائیں" تو کیا دکھائی دے گا؟ چنانچہ بنیادی سوال یہی ہے کہ مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دینے کے بعد جس مشاہدے کی طرف دعوت دی جارہی ہے اس کے درست ہونے کی دلیل کیا ہے؟
 انسان کا مشاہدہ اس کے جذبات کے ماتحت ہے، جذبات بدل جائیں تو مشاہدہ (یعنی اس کا معنی) بدل جاتا ہے۔ معروضیت جذبات کی تطہیر سے حاصل ہوتی ہے، دماغی عقلیت (آلاتی عقلیت) کی لم ٹٹول سے نہیں۔ جو شخص مردوں کا کفن نکال کر بیچ ڈالتا ہے اسکی عقل میں نہیں جذباتی توازن میں خلل واقع ہوجاتا ہے، عقل (آلاتی) تو وہ بھی بلا کی استعمال کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ "پہلے مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دو" کا معنی اس کے سواء کچھ نہیں کہ جسے مذھب عقلی و بامعنی کہتا ہے پہلے اسے رد کردو۔ یہ طریقہ استدلال اپنی وضع میں نہ تو "تبلیغی" ہے اور نہ ہی "عقلی"، یہ صرف ایک "مناظرانہ چالاکی" ہے۔