Search This Blog

Showing posts with label سیکولرازم. Show all posts
Showing posts with label سیکولرازم. Show all posts

Monday, February 20, 2017

کیا سیکولرازم لادینیت کانام ہے

کیا سیکولرازم لادینیت کا نام ہے۔۔؟
آصف محمود

کس معصومیت اور تجاہل عارفانہ سے سوال اٹھایا جاتا ہے کیا سیکولرزم لادینیت کا نام ہے؟اور پھر سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیا جاتا ہے کہ سیکولرزم تو محض انسان دوستی اور اعلی اخلاقیات کا نام ہے اسے لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے معاملے میں جملہ کوتاہیوں کے باوجود جب مذہب کی بات آتی ہے تو ’دل ہے کہ کھنچتا سا چلا جائے ہے‘ والا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔ایسے معاشرے میں مذہب کو عظوِمعطل بنانا آسان کام نہیں ہوتا۔چنانچہ اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے سیکولرزم کی داعی قوتوں نے سماج کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ سیکولرزم تو محض اخلاقیات، انسانیت اور محبت کا نام ہے جو کسی طرح بھی مذہب سے متصادم نہیں۔یہ الجھن اب ایک ہی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ ہم مغرب کے اپنے علمی ماخذ کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ سیکولرزم کا مطلب کیا ہے.

انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے مطابق:’’سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد عام پندونصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہواور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو۔سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلا خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے‘‘

وبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امیرکن لینگوئج میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:’’سیکولرزم اعتقاد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرتا ہو۔‘‘اسی ڈکشنری میں لفظ سیکولرائز کے معنی ہیں :’’کسی چیز سے مذہبی کردار کو نکال دینا‘‘.

اب آپ غور فرمائیے،مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرنا،گویا مذہب کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور مذہبی کردار کو نکالے بغیر کوئی چیز سیکولرائز نہیں ہو سکتی۔ یہ لادینیت نہیں تو کیا ہے؟

پھر بھی کوئی خوش فہمی باقی ہو تو انسائیکلو پیڈیا آف ری لی جن کھول لیجئے،اس کے مطابق:’’سیکولرزم ایک ایسا نظریہِ حیات ہے جو غیر مذہبی اور مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے۔مختصر یہ کہ سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل ہے جس میں مذہبی حساسیت،فعالیت اور مسلمہ مذہبی قوانین اپنی سماجی وقعت کھو دیتے ہیں‘‘۔

غور فرمائیے، سیکولرزم مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے اور اس میں مسلمہ مذہبی قوانین اپنی وقعت کھو بیٹھتے ہیں ،مذہبی حساسیت بھی ختم ہو جاتی ہے فعالیت بھی ، لیکن کس بے نیازی سے کہا جا رہا ہے کہ سیکولرزم لادینیت نہیں ہے۔یہ احباب بتایں گے کہ اگر یہ سب کچھ لادینیت نہیں تو لادینیت اور کیا ہوتی ہے؟کیا اس رویے کو فکری دیانت کے باب میں لکھا جا سکتا ہے؟

انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی کو بھی دیکھتے جائیے:’’سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر جیسے آراء ، رسوم و رواج،سماجی طرزِعمل حتی کہ اشیاء اور انسانوں پر بھی اس بات کی پابندی ہو کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں‘‘۔۔

آپ کو پابند کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنی رائے ، رسوم و رواج اور طرز عمل کا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں لیکن ساتھ ہی کہا جا رہا ہے کہ پیارے بھائی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ،سیکولرزم کا مطلب لادینیت تو نہیں ہے۔

لرنر ٹائپ کنسائز انگلش ڈکشنری کے مطابق سیکولرزم وہ نظریہ ہے ’’جو مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دے‘‘۔

اصطلاحات قابلِ غور ہیں، مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی ۔لیکن فکری بد دیانتی دیکھیں پھر بھی ہمیں کہا جا رہا ہے ’ سیکولرزم لادینیت تو نہیں ہے‘۔

اب اسلام کے سارے قوانین آپ نے ایک طرف رکھ چھوڑے۔اس کا نظامِ تعزیر،اس کا قانونِ شہادت،اس کا معاشی ضابطہ،اس کے فیملی لاز،سب آپ نے چھوڑ دیے۔عقیدے کی کسی بھی صورت کی آپ نے نفی کردی،اپنی رائے،اپنی ذت،اپنے طرزِعمل اور اپنی پوری حیاتِ اجتماعی پر آپ نے قدغن لگا دی کی یہ اپنا تعین مذہب کے حوالے سے نہیں کر سکتے،آپ نے مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرنے والا طرزِحیات اپنا لیا،آپ نے مذہبی حساسیت،مذہبی فعالیت اور مذہبی قوانین کو معمولی سی اہمیت دینے سے بھی انکار کر دیااور آپ نے مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دی۔۔۔۔اگر یہ سب دین کی نفی نہیں ہے تو کیا ہے۔یہ لادینیت نہیں تو اور کیا ہے؟ اہم چیز یہ. نہیں کہ سیکولرازم آپ کو انفرادی طور پر مذہب پر عمل. پیرا ہونے کی جزوی آزادی دیتا ہے یا نہیں اہم چیز یہ ہے کہ سیکولرازم اللہ کی حاکمیت اعلی کی نفی کرتا ہے.

دین کے ساتھ یہ مذاق نہیں ہوسکتا کہ اسے محض انفرادی معاملہ قرار دیا جائے۔دین محض انفرادی معاملہ ہے بھی نہیں۔قرآن واضح طور پر یہ کہ چکا ہے کہ ’’ ادخلو فی السلم کافۃ‘‘، یعنی پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی اجتماعی زندگی سے اس کو نکال باہر کریں اور اسے ایک فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کر دیں۔اسلام کے قوانین محض عبادات تک محدود نہیں۔یہ تعزیر سے معیشت تک پھیلے ہوئے ہیں۔حیاتِ اجتماعی کا کون سا ایسا پہلوہے جس کے بارے میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو؟اب ہمیں خود سے ایک سوال پوچھ لینا چاہیے: کیا ہم مسلمان ہیں؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں اسلام کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہیے۔دوسری صورت میں صاف کہ دینا چاہیے کہ ہمیں اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں۔دین سے بیزار لوگوں میں اتنی جرات تو ہونی چاہیے کہ وہ کھل کر بات کریں بجائے اس کے کہ وہ لادینیت کی ایک نئی تشریح پیش کرنا شروع کر دیں اور سیکولرزم کو خوش کن لبادہ اوڑھا کر قابل قبول بنانے کی کوشش کریں۔

ایک آدی مسلمان ہوتے ہوئے سیکولر نہیں ہوسکتا۔اور اگر کسی کا یہ دعوی ہے کہ وہ مسلمان بھی ہے اور سیکولر بھی تو اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا وہ خود دھوکے میں ہے یا وہ دوسروں کودھوکہ دے رہاہے۔اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکولرزم مذہب کی نفی نہیں کرتا تو وہ خود دھوکے میں ہے۔اور اگر وہ ایک اسلامی معاشرے میں اپنے نظریات کو خوش کن تصورات میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہے تا کہ انہیں قبولیت مل سکے تو وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔

احباب کہیں سیکولرزم کو اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے ردِ عمل میں ایک ناگزیر برائی کے طور پر تو نہیں لے رہے؟اگر ایسا ہے تو انہیں جان لینا چاہیے وہ ایک خوفناک غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مغرب نے جب کلیسا کے خلاف بغاوت کی تو یہ ایک قابلِ فہم بات تھی کیونکہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق بحق پوپ محفوظ تھے اور یہ تعبیر اتنی ناقص تھی کہ کسی صاحبِ فہم آدمی کیلئے اس پر صاد کرنا ناممکن تھا۔اہلِ مغرب کے پاس حقیقی دین تک پہنچنا ناممکن تھا اس لئے کلیسا کی ناقص تعبیر کے رد عمل میں وہ سیکولر ہو گئے۔ہمارا مذہبی طبقہ بھی آج اپنے مقام پرنہیں۔ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ہم اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے خلاف بغاوت کر دیں۔لیکن ہمیں سیکولر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مغرب کے بر عکس ہمارے پاس اپنا مذہب قرآن و سنت کی صورت میں حقیقی شکل میں موجود ہے۔ہم ملائیت کو رد کریں گے تو سیکولر نہیں ہوں گے بلکہ قرآن و سنت سے رجوع کریں گے ۔اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ہم مذہبی ملائیت سے بیزار ہو کر سیکولر ملائیت کی لعنت میں گرفتار کیوں ہوں؟ہم قرآن اور سنت سے رہنمائی کیوں نہ لیں؟۔۔۔۔۔نومولود سیکولر احباب اس سوال پر غور فرما سکیں تو عین نوازش ہو گی۔

   جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:سیکولرزم عملا لادینیت ہی کا نہیں انتہا پسند لادینیت کا نام ہے۔ مذہبی مُلائیت ایک انتہا ہے اور لادین مُلا ئیت یعنی سیکولرزم دوسری انتہاء۔یہ رد عمل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو اتنی ہی خوفناک ہے جتنی کہ مذہبی مُلائیت۔مُلائیت حلیے کا نہیں ، افتادِ طبع کا نام ہے۔چنانچہ اب اس سماج کو ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیکولر انتہا پسندی موجود ہے۔سماج نے اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے ان دو انتہاوں کے بیچ اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔میرے نزدیک مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر انتہا پسندی کے درمیان اعتدال کا راستہ ، اسلام ہے

Saturday, December 31, 2016

سیکولر حضرات کی مناظرانہ چالاکی

 از مولانا زاہد مغل

 "ھم سب" پر شائع ہونے والی 'دوپٹے کے دس فوائد' تحریر نظر سے گزری۔ تحریر کی ابتداء میں فاضل مصنفہ فرماتی ہیں کہ تحریر سے 'زیادہ اثر کے لئے تحریر کو مذھبی و معاشرتی جذبات کو ایک طرف رکھ کر پڑھا جائے'۔ فی الوقت تحریر کے دس مندرجات پر بحث مقصود نہیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی پہلو تبصرے کے لائق نہیں۔ یہاں صرف درج بالا مطالبے پر کچھ عرض کرنا ہے۔
 یہ مطالبہ عین سیکولر طرز استدلال کی بنیادی روح ہے کہ پہلے آپ مذھبی عقائد، تعلیمات و جذبات کو ایک طرف رکھ دیں پھر ہماری بات پر غور کریں۔ یعنی پہلے میں اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجاؤں پھر مخالف کی بات پر غور کروں۔ بھائی اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجانے کے بعد ظاہر ہے مجھے وہی بات معقول معلوم ہونے لگے گی جو آپ کہتے ہو، مگر اس قسم کی "داخلی معقولیت" تو دنیا کے تقریبا ہر نظرئیے میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سیکولر تعلیمات کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مذھبی جذبات و تعقل سے دستبرداری اور خود کو سیکولر تناظر میں رکھنا لازم امر ہے۔
 آخری بات، اگر کوئی آپ کو شام میں بم و میزائل سے مارے جانے والے انسانوں کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہے کہ "انسانی جذبات کو ایک طرف رکھ کر دیکھئے" تو بھلا آپ کو اس میں سوائے اس کے اور کیا دکھائی دے گا جیسے ایک شیر کسی زیبرے کا شکار کرنے کی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا مرنے والے انسانوں کا ان جذبات سے ماوراء رہ کر کیا جانے والا مشاہدہ درست و بامعنی ہوسکتا ہے؟ ایک جابر مرد کسی خاتون کو پیٹ رہا ہے اور میں آپ سے کہوں کہ "فیمنسٹ اخلاقی جذبات ایک طرف رکھ کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عقلیت کے تحت مشاہدہ فرمائیں" تو کیا دکھائی دے گا؟ چنانچہ بنیادی سوال یہی ہے کہ مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دینے کے بعد جس مشاہدے کی طرف دعوت دی جارہی ہے اس کے درست ہونے کی دلیل کیا ہے؟
 انسان کا مشاہدہ اس کے جذبات کے ماتحت ہے، جذبات بدل جائیں تو مشاہدہ (یعنی اس کا معنی) بدل جاتا ہے۔ معروضیت جذبات کی تطہیر سے حاصل ہوتی ہے، دماغی عقلیت (آلاتی عقلیت) کی لم ٹٹول سے نہیں۔ جو شخص مردوں کا کفن نکال کر بیچ ڈالتا ہے اسکی عقل میں نہیں جذباتی توازن میں خلل واقع ہوجاتا ہے، عقل (آلاتی) تو وہ بھی بلا کی استعمال کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ "پہلے مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دو" کا معنی اس کے سواء کچھ نہیں کہ جسے مذھب عقلی و بامعنی کہتا ہے پہلے اسے رد کردو۔ یہ طریقہ استدلال اپنی وضع میں نہ تو "تبلیغی" ہے اور نہ ہی "عقلی"، یہ صرف ایک "مناظرانہ چالاکی" ہے۔