Search This Blog

Monday, October 22, 2018

کاروباری ترقی کے لئے پانچ سادہ اصول


کاروباری ترقی کے لئے پانچ سادہ اصول
آپ کوئی نیا کاروبار کرنے جارہے ہیں یا آپ کامیابی سے کوئی کاروبار پہلے سے چلارہے ہیں ایک بات تو طے ہے کہ کاروبار میں ترقی کے ہر وقت مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں اس میں سے اپنا حصہ لینے کےلئے اپنےآپ کو تیار کرنا ہوتاہے۔ ٹاپ پوزیشن ہمیشہ خالی ہی رہتی ہے۔ کاروبار میں آگے بڑھنے کے لئے نئ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ جتنا بھی کاروباری منافع کیوں نہ کما رہے ہوں۔ مندرجہ ذیل پانچ اصولوں پر تھوڑی توجہ دے کر آپ اس منافع کو دوگنا بلکہ تین گنا تک بڑھا سکتےہیں۔ بزنس کو ترقی دینے کے پانچ سادہ سے اصول ہیں۔
۔۱۔ تجربہ اور تعلیم:
 کسی بھی کام میں آگے بڑھنے اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس کام سے متعلق مکمل معلومات اور تعلیم حاصل کریں۔ اور پھر اس تعلیم کو عملی طور پر آزمائیں۔ آپ کا کام جتنا زیادہ تجربہ کی آگ سے گزرے گا اتنا ہی زیادہ اس میں ترقی کے مواقع واضع تر ہوتے جائیں گے۔ موجودہ دور انفارمیشن کا دور ہے۔ آپ اپنے بازوں کے زور پر ترقی نہیں کرسکتے بلکہ دماغ کی طاقت سے ترقی کرسکتے ہیں۔ اور دماغ کی طاقت تعلیم سے حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کے امیرترین لوگ جسمانی لحاظ سے اتنے کمزور ہیں کہ اگر کوئی ریڑھی والا ایک مکا مارے تو مر جائیں گے لیکن پیسے کو اپنی طرف کھینچنے کے لحاظ سے ریڑھی والے اور اس تعلیم والے میں بہت فرق ہے۔ ریڑھی والا اور مزدور اپنی جسمانی طاقت کا استعمال کرتا ہے اور رات کو چار پانچ سو لے کر آتا ہے۔ جبکہ تعلیم یافتہ شخص اپنی تعلیم کی روشنی میں عقل استعمال کرکے دو دو لاکھ بھی شام کو گھر لاتا ہے۔
۔۲۔ اشیاء یا سروسز کا اعلی معیار ہے۔
 اپنے کاروبار کو دوسروں سے منفرد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز دوسروں کے مقابلے میں اعلی معیار کی ہوں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ اعلی معیار کی پراڈکٹس اسی قیمت یا اس سے بھی کم قیمت پر لوگوں کو مہیا کی جائیں۔ کیونکہ اشتہار بازی سے لوگ ایک ہی بار دھوکہ کھائیں گے دبارہ نہیں آئیں گے۔ جبکہ اس کے برعکس اگر آپ کی چیز اچھی اور سروس معیاری ہوگی تو لوگ ہی آپ کا اشتہار بن جائیں گے۔ آپ کو کوئی اشتہار بازی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کاروبار میں ترقی کا راز یہ ہے کہ آپ پرنٹنگ پریس سے کاغذ پر اشتہار نہ بنوائیں بلکہ چلتے پھرتے زندہ انسان کو ہی اشتہار بنا دیں۔ جو مفت میں آپ کی مشہوری کرتے رہیں گے۔یہ کام کرنے کے لیے ایمانداری۔ اعلی اخلاق۔
۔۳۔ کسٹمر کئیر:   یعنی گاہک کا خیال رکھنا
 اگر آپ کاروبار کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے گاہکوں کی ضروریات اور ان کی تکالیف کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز میں کیا ایسا ہے جو لوگوں کے لئے مفید ہے۔ اپنی پراڈکٹس میں افادیت کے عنصر کا اضافہ کریں۔ اپنی پسند نا پسند سے زیادہ اپنے گاہکوں کی پسند یا ناپسند کا خیال رکھیں۔ اس طرح جو پراڈکٹس تیار ہونگی وہ مستقل طور پر اپکے کسٹمرز کی ڈیمانڈ لسٹ میں جگہ بنا پائیں گی۔کسی چیز کے انتخاب میں گاہک کو اپنی دیانت دارانہ رائے کے مطابق اچھا مشورہ ضرور دیں لیکن اتنا زیادہ دباو نہ ڈالیں کہ گاہک مجبورا چیز لے جائے اور گھر جا کر اسے پسند نہ آئے۔
۔۴۔ کسٹمر ہمیشہ درست ہوتا ہے:
 غلطی سب سے ہوتی ہے اگر ہم غلطی کرتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہم سے بازپرس نہ کرے بلکہ اس کو بھلا کر آگے بڑھ جائیں۔ یہی اصول آپ کے گاہکوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کبھی وہ غلط بات پر بھی اسرار کریں تو ان کے ساتھ بحث میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے تھوڑا ایکسٹرا ان کو سروس مہیا کرنے میں صرف کیا جائے۔ کسٹمر سروسز کا بہترین معیار آپ کے گاہکوں کو مطمئن کرے گا جس پر آپ کے گاہک نہ صرف خود دوبارہ آپ سے کاروبارکریں گے بلکہ دوسروں کو بھی آپ کی طرف ریفر کریں گے۔
۔۵۔ ڈیٹابیس سافٹ وئیر:
 بزنس کی ترقی میں جس چیز کی بہت اہمیت ہے وہ ہے اپنے کاروبار کی صحیح صورتحال کو سمجھنا۔ مخصوص اوقات میں کیا سیل ہوا؟ کس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے کس میں منافع زیادہ حاصل ہوا؟ کس چیز کی کاسٹ آف سیل زیادہ ہے؟ کون سے کسٹمر سے کتنا بزنس کیا اور کتنا منافع کمایا؟ سٹاک کتنا پڑا ہے اور اس کی قیمت کیا ہے؟ کون سی اشیاء اسٹاک میں ختم ہونے والی ہیں؟ کتنے پیسے واجب الادا ہیں اور کتنے لوگوں سے لینے ہیں؟ خرچوں میں کتنا اضافہ ہوا اور کس مد میں زیادہ خرچہ ہوا؟۔۔۔۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا بروقت جواب ملنا بزنس کی ترقی کے لئ بہت ضروری ہے۔ ان سوالات کے جواب کتابی حساب کتاب سے حاصل کرنا  اگر نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ اگر ہم اپنے کاروبار کو کمپیوٹرائیز کرلیں تو ان جوابات کا حصول ایک کلک کی دوری پر رہ جاتاہے۔ اور اس طرح آپ کو اپنے پورے کاروبار کی صحیح صورتحال کا علم رہتا ہے اور آئندہ کے لیے آپ اسی صورتحال کے تناظر میں اپنی پالیسی بناتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ جس طرح ہمارا خالق اللہ ہے اسی طرح ہمارا رازق بھی اللہ ہے۔ کاروبار تو اسباب کے درجے کی چیز ہے جسے اختیار کرنے کا ہمیں حکم ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم رزق دیتا ہے۔ رزق کی کمی اور زیادتی کے اللہ نے اصول بھی بنا رکھے ہیں جنہیں قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔ مثلا
قرآن پاک میں ارشاد ہے: ویمحق اللہ الربا ویربی الصدقات۔
اللہ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اس سے ہمیں بزنس میں کامیابی حاصل کرنے کا راز پتا چلا کہ سودی کاروبار میں نقصان اور غیرسودی کاروبار  اور پھر صدقہ و خیرات میں برکتیں ہیں۔
اسی طرح، ارتکاز دولت۔ناپ تول میں کمی۔ملاوٹ۔دھوکہ دہی۔ فراڈ۔ دونمبری۔ جھوٹ۔ ذخیرہ اندوزی۔ یہ ساری وہ چیزیں اور وہ اصول ہیں جنہیں قرآن و حدیث میں نہ صرف کاروبار دنیا بلکہ انسان کی آخرت کے لیے بھی تباہی کا ذریعہ بتایا گیاہے۔
بزنس میں کامیابی کا سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ آپ مال کو اپنا نہ سمجھیں بلکہ اللہ کا مال سمجھیں۔

No comments:

Post a Comment