Search This Blog

Showing posts with label فرقہ واریت. Show all posts
Showing posts with label فرقہ واریت. Show all posts

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟

Saturday, March 18, 2017

اختلاف کب رحمت کب زحمت

(سید عبدالوہاب شیرازی)

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔
ماضی قریب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری بہت بڑے مناظر تھے، قادیانیوں،عیسائیوں،آریوں سمیت مختلف فرق باطلہ سے مناظرے کیے لیکن مناظرے کے بعد مخالف فریق نہ صرف کھانا کھلاتے بلکہ اس دن لازما اپنے گھر ٹھہرا کر خوب مہمان نوازی کرتے تھے۔
تفرقہ کیسے بنتا ہے؟
ایک طبقہ دین کا ایک شعبہ لے کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ دوسرا طبقہ دین کا دوسرا شعبہ پکڑ کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچ، وفاداریاں ہرچیز تقسیم ہوجاتی ہے۔ پھر محبت بھی تقسیم ہوجاتی ہے، چنانچہ ایک کہتا ہے محبت صرف اللہ کے لئے خالص ہے۔ دوسرا کہتا ہے محبت رسول اللہ کے لئے ہے، تیسرا کہتا ہے صحابہ کے لئے ہے ۔چوتھا محبت کو صرف اہل بیت کے لئے خالص کردیتا ہے۔اس طرح دین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ہر طبقہ اپنی اسی سوچ کے ساتھ تعبیر وتشریح کرتا ہے۔
موجودہ صدی میں بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی، جنہوں نے لوگوں کو سنگل پوائنٹ ایجنڈا دیا، اور اسی سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کیا۔ دراصل سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کرنا نہایت ہی آسان معاملہ ہے۔ دین کا ہمہ گیر تصور دینا اور اس پر لوگوں کو اکھٹا کرنا مشکل کام ہے چنانچہ لوگوں نے دین کا ہمہ گیر تصور ایک طرف رکھتے ہوئے سنگل پوائنٹ ایجنڈے سے کام لیا اور کسی ایک بات یا نظریے پر لوگوں کو اس طرح اکھٹا کرنا شروع کیا کہ اب ہرجماعت اور طبقہ کے لوگ صرف اسی ایک بات کو مکمل دین سمجھتے ہوئے باقی تمام جماعتوں اور دین کے شعبوں کا انکار کررہے ہیں۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر اور علم بڑھتا ہے اور چالیس پنتالیس سال کی عمر میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ میری پچھلی ساری سوچیں غلط اور محدود تھیں۔

اس صورت میں ایک اور نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسا شخص اپنے ان اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے متنفر ہوجاتا ہے جن کے پاس اس نے آٹھ دس سال لگائے تھے اور انہوں نے اسے وہ سوچ نہیں دی جو اسے چالیس سال کی عمر میں مختلف تجربات ، مشاہدات، معاشرے کے رویوں، خارجی مطالعے، اور ٹھوکریں کھا کر حاصل ہوئی۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا مسلک ضرور پڑھایا جائے لیکن اسے اختلاف کی حد تک رکھتے ہوئے خلاف سے بچنے کی تعلیم بھی دی جائے اور بچوں کو سمجھایا جائے کہ اصول اور فروع میں فرق کیا ہے۔ اصول اور فروع میں وہی فرق ہے جو فرض اور واجب یا فرض اور سنت یا فرض اور مستحب میں ہے۔ جب تک یہ فرق نہ سمجھ آئے چھوٹا ذہن ہر اختلاف کو فرض اور حرام کا فرق سمجھتے ہوئے اپنے مسلک کے علاوہ ہر مسلک کو مکمل باطل،مردود اور کافر تک سمجھتا ہے، پھر جب وہ عملی طور پر معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو انتشار ، افتراق و تشتت پیدا کرتا ہے۔
ہم جب مسلکی جھگڑے چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلک کو چھوڑدیا جائے بلکہ اس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ دوسرے کا مسلک چھیڑو نہ۔ ہر کوئی اپنے مسلک میں رہتے ہوئے اس جھگڑے کو ختم کرسکتا ہے۔ دلائل کے ساتھ اپنا مسلک اپنے طلباءکو ضرور سمجھایا جائے لیکن اسے عوام میں بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں پائے جانے والے تینوں مسالک یعنی دیوبندی، بریلوی،اہلحدیث کا صرف پانچ فیصد باتوں میں اختلاف ہے باقی پچانویں فیصد باتوں میں مکمل اتفاق ہے۔ پھر ان پانچ فیصد میں سے بھی تین فیصد میں محض ظاہری اختلاف یا تعبیر کا فرق ہے بات دونوں فریق ایک ہی کررہے ہوتے ہیں محض تعبیر کا فرق ہوتا ہے، یعنی دونوں ایک ہی کان پکڑ رہے ہوتے ہیں بس ایک دائیں طرف سے تو دوسرا بائیں طرف سے۔ یہ غلط فہمی آپس میں مل بیٹھنے سے ختم ہوسکتی ہے۔ جب آپس میں دوریاں ہوتی ہیںاور ملنا ملانا نہیں ہوتا تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر علماءآپس میں ملنا ملانا رکھیں تو یہ تین فیصد مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور محض دو فیصد واقعی اختلاف رہ جائے گا جو فطری عمل ہے کوئی بری چیز نہیں۔اپنی جماعت اور اپنے مسلک پرلوگ کتنے سخت ہیں اور ان کا رویہ کیاہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت بھی ہوا جب میں نے فیس بک پر فرقہ واریت کے حوالے سے مختلف علماءکے اقوال پوسٹ کرنا شروع کیے، جب ایک مسلک کے علماءکے اقول پیش کیے تو کوئی خاص ہلچل نہیں مچی مگر جب میں نے دوسرے مسلک کے علماءکے فرقہ واریت کے خلاف اقول پیش کرنا شروع کیے تو بے شمار لوگ اشتعال میں آگئے، یعنی وہ کسی دوسرے مسلک والے کی بات سننے تک گوارا نہیں کرسکتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ اس کا نام لکھنا گوارا کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے ہی مسلک کے اکابرین کے مسلک پرستی اور فرقہ واریت کے خلاف موقف کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں.

Friday, March 17, 2017

::::::: اختلاف اور اخلاق :::::::​

بشکریہ :‌ عادل سہیل ظفر
خلاف اور اختلاف معروف الفاظ ہیں اور غالباً ان کے مفاہیم بھی معروف ہیں ، لغوی طور پر اختلاف کا اصل مادہ """ خَلَفَ """ ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :::

خَلَفَ ، یَخلِفُ ، خِلاف ٌ ، مُخلاف ٌ ، اور ،
باب """ اِفتَعلَ "" سے ، اَختَلفَ ، یَختلفُ ، اِختلافٌ ، مُختَلِفٌ ، ہے
مفہوم کے اعتبار سے دونوں کا ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں کہ ::: """ الخِلاف ھو ضد الاتفاق و ھو ان یذھبَ احدُھُما اِلیٰ ما یُخلاف الآخر ::: خلاف ، اتفاق کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ دو (اشخاص یا جاندار اور ذی عقل چیزوں )میں سے ایک اُس طرف جائے جو دُوسرے کے خلاف ہو """
پس خلاف اور اختلاف میں لغوی طور پر کوئی اختلاف نہیں اور اسی طرح اصطلاحی استعمال میں بھی کوئی خِلاف نہیں ،
اس کے ہم معنی الفاظ میں """ فرق ، اور ، افتراق """ ، """ نزعٌ ، اور ، اِنتَزاعٌ """ ہیں ،
اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام پاک میں ان تینوں کے مذکورہ بالا مفاہیم کے مطابق استعمال کی مثالیں میسر ہیں جو اس بات کی تائید ہیں کہ اصطلاحی طور پر بھی اِن کے مفاہیم میں کوئی فرق نہیں ،
اور یہ بھی بہت واضح ہوتا ہے کہ اختلاف ، تفرقہ ، تنازع ، اللہ کو ناپسند ہیں اور اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہیں ، اور دُنیا اور آخرت کی ذلت اور عذاب کے اسباب میں سے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے [QH] كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتَابَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النَّاسِ فِيمَا اختَلَفُوا فِيهِ وَمَا اختَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعدِ مَا جَاءتهُمُ البَيِّنَاتُ بَغياً بَينَهُم فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اختَلَفُوا فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ وَاللّهُ يَهدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّستَقِيمٍ[/QH] ::: 
پہلے سب ہی لوگ ایک اُمت تھےتو اللہ نے نبی بھیجے ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے اور اُن کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ، حق کے ساتھ ، تا کہ وہ نبی اُس کے بارے میں (اس کتاب کے ذریعے ) فیصلے کریں جِس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، اور اُس (جو کچھ ) اُنہیں دیا گیا اُس میں انہوں نے اس وقت اختلاف کیا جب کہ ان کے پاس واضح روشن دلائل آ چکے ، انہوں نے(یہ اِختلاف ) آپس میں بغاوت کرتے ہوئے کیا ، تو اللہ نے اِیمان لانے والوں کو اپنی اجازت سے حق میں سے اُس کے بارے میں ہدایت فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا ، اور اللہ جسے چاہے اِستقامت والے راستے کی ہدایت دیتا ہے ))))) سورت البقرة /آیت ۲۱۳ ،
اللہ پاک کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ اِختلاف """ کی مذمت بہت واضح ہے ، یہ صرف ایک موقع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت اور بھی کئی دفعہ فرمائی ، مثلاً :::

((((( [QH]وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ العِلمُ بَغياً بَينَهُم وَلَولَا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الكِتَابَ مِن بَعدِهِم لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ [/QH]:::
اور وہ (سابقہ اُمتیں )اُن کے پاس عِلم آنے کے بعد ہی ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور اگر اللہ کی طرف سے ایک (حساب ، اور جزا و سزا کے لیے )مقررہ وقت کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو فیصلہ ہو جاتا ، اور بے شک جنہیں اِن (اختلاف کرنے فرقوں میں بٹ جانے والوں) کے بعد کتاب کی وراثت ملی وہ بھی اُس کے بارے میں شک کا شکار ہیں )))))) [QH]سورت الشُوریٰ /آیت 14،[/QH]
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آیت مبارکہ میں [AR]""" لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِي[/AR]بٍ """" میں مذکور """ مِّنهُ """ میں سے """ ہُ""" سے مراد مُحمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ہیں ، بہر حال اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو سابقہ لوگوں امتوں کو دی گئی اور جس کا ذکر کیا گیا ، یا رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارکہ لی جائے ، بہر صورت اختلاف کو ایک مذموم عمل کے طور پر ذکر کیا گیا ،
اس نا پسندیدہ کام کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیےجائز نہ رکھتے ہوئے حُکم فرمایا ((((([QH] وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا [/QH]::: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور الگ الگ مت ہو ))))) [QH]سورت آل عمران / آیت103[/QH]
اور اس مذموم عمل یعنی اِختلاف اور گرو ہ بندی کی بہت وضاحت کے ساتھ مذمت فرماتے ہوئے ، اُس سے منع فرماتے ہوئے اور اس کا خوفناک نتیجہ بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((([QH] وَلاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواوَاختَلَفُوا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ البَيِّنَاتُ وَأُولَـئِكَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ :[/QH]:
: اور تُم لوگ اُن کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اُن کے پاس روشن نشانیاں آ جانے کے بعد (بھی)گروہوں میں بَٹ گئے اور اختلاف کیا اور وہی ہیں جِن کے لیے بڑا عذاب ہے ))))[QH]) سورت آل عمران/آیت105،[/QH]
اللہ سبُحانہ و تعالیٰ نے ہمیں مزید یہ بھی بتایا کہ اختلاف اور گروہ بندی کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہ ہو گا بلکہ دُنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب ہو گا ، پس فرمایا ((((( [AR]وَأَطِيعُوا اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذهَبَ رِيحُكُم وَاصبِرُوا إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ :[/AR]::
اور اللہ کی تابع فرمانی کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی تابع فرمانی کرو اور تنازع مت کرو ورنہ تُم لوگ ناکام ہو جاؤ گے اور تُم لوگوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ))))) [QH]سورت الأنفال / آیت46،[/QH]
اختلاف ، تنازع اور گروہ بندی کے منفی نتائج کے باوجود کئی اور ایسے ہی منفی نتائج والوں کاموں کی طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی مکمل بے عیب حکمت سے مقرر فرمایا کہ سابقہ امتوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ مذموم عمل پایا جائے گا ، اور اس کی خبر بھی فرمائی ، ((((( [QH]وَلَو شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُختَلِفِينَ O إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُم وَ تَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَملأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ:::[/QH]
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سارے ہی لوگوں کو ایک ہی اُمت بنا دیتا (لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا ) اور وہ ابھی تک مُختلف ہیں O سوائے اُن کے جِس پر آپ کے رب نے رحمت کی (اور اختلاف سے محفوظ رکھا )اور اللہ نے لوگوں کو اسی لیے ہی بنایا اور اللہ آپ کے رب کا فرمان پورا ہو(کر رہے )گا(کہ)میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جِنّات سے بھروں گا ))))) [QH]سورت هود/آیات 118 ، 119،[/QH]
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مُسلمانوں میں اختلاف ختم ہو جائے ، یہ رہے گاخواہ بہت ہی معمولی رہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہے ، پس یہ ختم نہ ہوسکنے والی چیز ہے ، لیکن یہ ضرور کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کچھ زیادہ محنت بھی درکار نہیں کہ اختلاف کی صورت میں اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کے حقوق اور احترام کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور نہ اپنے دِل میں ان کے لیے کوئی بُغض رکھا جائے ، یہاں تک کہ کسی کے بارے میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ معاذ اللہ وہ حق جانتے ہوئے باطل پر عمل پیرا ہے ،
ایسا قطعاً نا مُمکن نہیں کہ ہم اپنے اختلاف کی بنا پر وجود میں آنے والی تفریق کو صرف اُس موضوع ، اُس بات ، اُس کام کے اندر تک محدود رکھیں جس میں وہ ہوا ہے ، اور اُس اختلاف کے بارے میں بات چیت کریں ، ایک دوسرے کے دلائل سنیں ، مانیں یا رد کریں ، اور ایک دوسرے سے اسلامی بھائی چارہ بھی قائم رکھیں ،
بے شک ہم سب کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک ہر کام میں ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے ، اور معاملہ صرف نمونہ ہونے کا ہی نہیں بلکہ اُن کی اتباع فرض ہے اور ان کی عطا کردہ ہدایت اور ترغیب پر عمل کرنے سے بڑھ کر درستگی اور خیر والا کام اور کوئی نہیں ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((([AR] خَيرُ الناس قَرنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم :[/AR]:: سب سے زیادہ خیر والے لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں ، پھر جو اُن کے بعد ہیں ))))) صحیح البُخاری /حدیث 3451 /کتاب فضائل الصحابہ /باب اول ، صحیح مُسلم/حدیث ۲۵۳۳/کتاب فضائل الصحابہ /باب ۲۵،

آیے دیکھتے ہیں کہ تمام تر لوگوں میں سے زیادہ خیر والے لوگ جو اُن تین زمانوں میں تھے ، اُن لوگوں کا ایک دووسرے سے اختلاف ہونے کی صورت میں کیا رویہ رہتا تھا ،
أمیر المؤمنین عُمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما ، کےبارےمیں معروف ہے کہ وہ تقریباً ایک سو مسائل میں ایک دوسرے کے خِلاف تھے ، یعنی ان میں تنازع تھا ، لیکن اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہُ أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ کی یاد میں رو پڑتے اور اُن کےبارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ """""[AR] إِنَّ عُمَرَ رضي اللَّهُ عنه كان لِلإِسلامِ حِصنًا و حصيناً يَدخُلُونَ في الإِسلامِ وَلا يَخرُجُونَ فلما أُصِيبَ عُمَرُ انثَلَمَ الحِصنُ [/AR]::: عُمر رضی اللہ عنہُ اسلام کے لیے ایک قلعہ تھے کہ لوگ اِسلام میں داخل ہوتے تھے جس میں لوگ داخل ہو کر نکلتے نہ تھے جب عُمر (رضی اللہ عنہ ُ ) فوت ہو گئے تو یہ قلعہ میں دڑار پڑ گئی """ اور امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کو دوسرے شہروں میں دینی معاملات کے لیے اُستاد بنا کر بھیجتے اور اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ """"" کنیفٌ ملیء عِلماً ::: ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فقہ سے بھرا ہوا برتن ہیں """"""( کنیف ، مترادف وعاء اور وعا کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہی جو کسی دوسری چیز کو اپنے اندر چھپا سکے )،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ میں بھی اسی طرح دادا کی وراثت سے متعلق کئی مسائل میں اختلاف تھا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ """ کیا زید اللہ کا خوف نہیں کرتے کہ پوتے کو دادا کا وارث بتاتا ہے اور دادا کو پوتے کا نہیں """ لیکن وہ اختلاف بھی صرف مسائل کی حد تک ہی تھا اوروہ ایک دوسرےکااحترام اس طرح کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ سوار ہونے لگے تو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما زید رضی اللہ عنہ ُ کی سواری کی رکاب تھام لی تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اس کی رکاب چھوڑ دیجیے """ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ ہمیں اِسی طرح اپنے عُلماء کی عِزت کرنا سکھایا گیا ہے """" اور جب زید رضی اللہ عنہ ُ فوت ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ اس طرح عِلم ختم ہوتا ہے ، آج بہت زیادہ عِلم چلا گیا """"
یونس الصدفی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ """ میں نے (اِمام) شافعی سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں دیکھا ، ایک دِن میں نے اُن کے ساتھ کسی مسئلہ پر مناظرہ کیا اور ہم الگ الگ ہو گئے ، اُس کے بعد جب شافعی مجھے ملے تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر کہا """ عیسیٰ کے باپ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی رہیں خواہ کسی مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہ ہی ہو """"
امام الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ ابو عیسیٰ الصدفی سےپوچھا ہوا یہ سوال ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے ، اور پھر ایک دوسرے کے حقوق جانتےاورسمجھتےہوئےاورانہی ں ادا کرتے ہوئے ، اپنے اختلاف کو اپنے اخلاق کا اتلاف نہ بننے دیں ، اور کسی مسلمان کے عزت پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہیں کہ اس پر کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہوئے اس کو اسلام سے خارج قرار دیں ، اور اس کی حق تلفی سے بچے رہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت دے کہ ہم اختلافات کو بد اخلاقی اور اسلامی بھائی چارے کا قاتل نہ بننے دیں ، اختلافی مسائل اور معاملات کو اسلامی بھائی چارے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے سلجھانے کی کوشش کریں نہ کہ بد اخلاقی کر کے مزید بگاڑ پیدا کریں ، چھوٹی چھوٹی دڑاڑیں بھرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب اُنہیں بھرنے کی بجائے کِھینچا جانے لگے تو وہ بڑی بڑی خلیجیں بن جاتی ہیں جنہیں بھرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ، اور ہم مسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مُصیبت بداخلاقی،ذاتی پسند نا پسند ، شخصیت پرستی پر مبنی اختلاف بھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایسی ہی خلیجیں پیدا کرتا ہے ،
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے

اختلاف کے باوجود احترام کی ضرورت

مفتی نصیرالدین قاسمی ندوی
    مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے افراد کے درمیان متعدد موضوعات اور مسائل میں نقطہ نظر کا اختلاف پایاہے،اور اسی اختلاف کی وجہ سے الگ الگ جماعتیں اور فرقے بھی وجود میں آتے ہیں۔ان میں سے بہت سارے مسائل میں اختلاف معمولی نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔اختلافات کو اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔دوسری بات یہ کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا،سب وشتم اور طعن وتشنیع سے پرہیز کرنا اورایک دوسرے کو برداشت کرنا بھی ضروری ہے ۔یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے۔ہمیں تو یہی سوچنا ہے کہ اپنے اختلافات کے باوجود ہم کیسے ایک دوسرے سے مل کر رہ سکتے ہیں۔ ہمارے دین نے ہماری کیا رہنمائی کی ہے۔ اس سلسلے میں علمائے کرام کی ذمہ داری کیا ہے۔
قرآن پڑھیے، مومن کے اوصاف کیابیان کیے گئے ہیں؟ (أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ) مومن کے لیے یہ نرم ہوتے ہیں اور اہل کفر کے لیے سخت ہوتے ہیں۔ مومن کے اوصاف میں یہ ہے کہ مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کے لیے نرم رہے اور اہل کفر کے لیے سخت رہے۔ صحابہ کرام کے اوصاف میں بیان کیا گیا (أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُم)
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
آج ہماری فولادیت کہاں نظر آتی ہے؟ آپسی مسائل ہوتے ہیں تو ہم بڑے سخت ہوجاتے ہیں۔مسلک کو ہم نے دین کا درجہ دے رکھا ہے۔ مسلک کی تبلیغ کو دین کی تبلیغ سمجھتے ہیں اور مسلک کے دفاع کو دین کا دفاع سمجھتے ہیں۔ ہماری یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے۔ ہمارے جو اختلافات ہیں بہت معمولی ہیں ۔ پانچ سے سات فی صد مسائل ہی میں اختلاف ہوگا، لیکن یہ پانچ سات فی صد مسائل ہی ہمیشہ غالب رہتے ہیں اور یہ ترانوے چورانوے فیصد جو متفق علیہ مسائل ہیں، جن میں کوئی اختلاف نہیں ہے ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتاہے۔ کیوں ایسا ہے؟ جب ہمارا اتفاق اتنے مسائل میں ہے اور اختلاف چند مسائل میں تو پھر یہ اختلاف ہی ہمیشہ کیوں غالب رہتا ہے اور یہی ہمارے ذہنوں پر اور ہمارے معاشرے پر کیوں مسلط رہتا ہے؟
اسلامی موضوعات میں کتابوں کے اندر ایک موضوع ہے *’’أدب الخلاف‘‘* یعنی اختلاف کو کیسے برتا جائے، ہم اختلاف کے باوجود کیسے ایک دوسرے سے مل کرکے رہیں، اس موضوع پر جدید دور میں عربی زبان میں بہت کام ہوا ہے، بہت ساری کتابیں أدب الخلاف، أدب الاختلاف فی الاسلام وغیرہ نام سے آچکی ہیں، اردو میں بھی دھیرے دھیرے کام ہورہا ہے۔ ادب الخلاف کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا آپ سے مسئلے مسائل میں اختلاف ہے، اس اختلاف کے باجود ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے اور دوسرے سے قریب رہنے کی کوشش کریں،ایک دوسرے کاادب و احترام کریں۔ اس کی بڑی ساری مثالیں دے دے کر علماء نے سمجھایا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں: 
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دونوں کے درمیان سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف تھا، غور کریں،سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف تھا، لیکن کیا دونوں ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے؟ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے؟ نہیں، ان حضرات کی سوانح میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے تھے: ’’کنیف ملیء علما وفقھا آثرت بہ اھل القادسیۃ‘‘، عبد اللہ بن مسعود علم وفقہ کا پٹارہ ہیں، یہ علم وفقہ کی گٹھری ہیں، اس گٹھری کو میں اہل قادسیہ کے حوالے کرتا ہوں۔* سوچیے سو مسئلہ میں اختلاف لیکن اس کے باوجود تعریف کررہے ہیں۔ *ادھر دوسری طرف عبد اللہ بن مسعود کا حال یہ تھا کہ حضرت عمر کے انتقال کے بعدکہا کرتے تھے کہ’’رحم اللہ عمر، کان للاسلام حصنا حصینا...‘‘ اللہ رحم کرے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر، یہ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھے ، اب وہ قلعہ منہدم ہوگیا۔*
*امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی دونوں کا ایک مرتبہ کسی مسئلہ کو لے کر آپس میں اختلاف ہوا ، علی بن مدینی امام احمد بن حنبل کے پاس ایک سواری سے آئے تھے اور سواری سے اتر نے کے بعد اس مسئلہ پر بحث ومباحثہ ہوا اور راوی کہتے ہیں کہ آوازیں بلند ہوگئیں، تیز تیز آواز میں بحث ہونے لگی۔ لیکن جب بحث ختم ہوئی اورعلی بن مدینی جانے لگے تو امام احمد بن حنبل نے اٹھ کر ان کی سواری کی لگام پکڑ لی اور ان کو سواری پر بیٹھایا۔ غور کیجیے ابھی مناظرہ ہوا، اور دیکھیے احترام کا یہ عالم۔*
یہ تو ماضی بعید کی بات تھی، *ماضی قریب میں مولانا ثناء اللہ امرتسری ایک مشہور عالم گذرے ہیں، بہت بڑے مناظر تھے اور ہر مسلک کے لوگ ان کو اپنے مناظرے میں بلاتے تھے۔ انہوں نے قادیانیوں سے مناظرہ کیا، عیسائیوں سے مناظرہ کیا، آریوں سے مناظرہ کیا، جتنے فرق باطلہ تھے سب سے مناظرہ کیا۔ ان کا حال یہ ہوتا تھا کہ جب مناظرہ ختم ہوتا تو چاہے مناظر مخالف حریف کوئی بھی ہو اس کو اپنے یہاں قیام وطعام کی دعوت دیتے تھے ۔ مناظرہ کررہے ہیں، بحث ومباحثہ ہورہا ہے، مخالفت ہورہی ہے، لیکن مناظرہ ختم ہوتا ہے تو اپنے حریف سے کہتے ہیں کہ آپ کو ہمارے یہاں کھانا کھانا ہے اور ہمارے یہاں آج رات قیام کرنا ہے۔*
*مولانا اسماعیل سلفی گجرانوالہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حجاج کرام کا قافلہ حج کے لیے روانہ ہورہا تھا، حجاج کوروانہ کرنے والے لوگوں کی اسٹیشن پر بھیڑ بھاڑ تھی، نماز کا وقت ہوگیا اور لوگوں نے وہیں ایک طرف ہوکر صف لگالی، لوگوں نے مولانا اسماعیل صاحب کونماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا ،مولانا کے مصلی پر کھڑے ہونے کے بعدپیچھے سے ایک صاحب کہتے ہیں کہ مولاناآپ کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوگی ۔ مولانا نے اپنا رومال اٹھایا، کندھے پر رکھا، مصلے سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ حضرت آپ نماز پڑھا دیجیے، آپ کے پیچھے میری نماز ہوجائے گی۔ وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اور اس نے معافی مانگی اور مولانا ہی سے نماز پڑھوائی۔ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ کم سے کم اگر ہوتا تو دو جماعت تو فوراً بن جاتی۔ جاؤ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھو، ہم اپنے لوگوں کو لے کر الگ ہورہے ہیں، اور ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی تو کوئی بعید یا قابل تعجب نہیں۔*
میرے بھائیو! اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ایک دوسرے کو سمجھنا، برتنا ان سب چیزوں کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے۔ ایک عالم کسی عالم کی تنقیص کرے یا مسئلے مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اس کے پیچھے پڑ جائے ،یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ بلکہ ایسا تو ایک عام مومن کو بھی زیب نہیں دیتا چہ جائے کہ عالم ایسا کرے۔ *سفیان بن حسین یہ اسلاف میں سے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایاس بن معاویہ کے سامنے ایک آدمی کا ذرا خراب الفاظ میں تذکرہ کیا۔ ایاس بن معاویہ ایک بڑے ہی سنجیدہ اور صاحب فراست انسان تھے۔ ان کے سامنے میں نے کسی کی شکایت کی، غیبت کی۔ ایاس بن معاویہ نے مجھ کو گھور کر دیکھا اور کہا کہ أغزوت الروم؟ کیا تم روم والوں سے جنگ کرچکے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہا کہ السند والھند والصین؟ کیا تم سندھ والوں سے ، ہند والوں سے ، چین والوں سے قتال کرچکے ہو؟ لڑائی کرچکے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہا کہ سبحان اللہ، رومی تم سے محفوظ ہیں، ہندو سندھ والے تم سے محفوظ ہیں، چین والے تم سے محفوظ ہیں، لیکن تمہارا مسلمان بھائی تم سے محفوظ نہیں ہے۔؟*
میر ے بھائیو۱ ہم اپنے مسلک پر رہیں، ہم اپنے موقف پر رہیں لیکن دوسرے کا احترام کرنا جانیں، دوسرے کو سمجھنا جانیں۔اور پھر یہ بھی سوچیں کہ کچھ مسائل ہمارے ایسے ہیں جن پر غور کرنے کے لیے مسلک ومذہب سے اوپر اٹھنے کی بھی ضرورت ہے، جو مشترک مسائل ہیں، جن میں مسلک اور مذہب کا کوئی معاملہ نہیں، بلکہ انسانیت کے مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر صحت وبیمار ی کے مسائل ہیں، یہ منشیات ، یہ گٹکھا تمباکو ، کھینی ،پان مسالہ ..ہمارا نوجوان اس میں لت پت ہے، وہ مسلم ہے کہ غیر مسلم ؟ حنفی ہے کہ اہل حدیث؟ دیوبندی ہے کہ بریلوی ؟شیعہ ہے کہ سنی؟ ۔کیا ان مسائل پر غور کرنے کے لیے ہم اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ 

*ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے مسجدوں کو بانٹ رکھا ہے، ہم نے اپنے مدرسوں کو بانٹ رکھا ہے، ہم نے اپنی عبادتگاہوں کو بانٹ رکھا ہے، کتابوں کو بانٹ رکھا ہے، پھر اس کے باوجودللچائی نظروں سے دوسروں کی مسجدوں کو تاکتے رہتے ہیں ، اس کے لیے مقدمے دائر ہوتے ہیں، پیسے خرچ کیے جاتے ہیں، مسجدوں میں لڑائیاں ہو تی ہیں ، مسجدوں میں پولیس بلائی جاتی ہے اور سالہا سال تک مقدمے چلتے ہیں اور دل کھول کر پیسہ خرچ کیا جاتاہے۔کیا ایسے کاموں کی کوئی گنجائش ہے؟ کیا ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیں گے یابہ دستورغیر ضروری لڑائیوں کے ذریعے اپنے آپ کو کمزور سے کمزور تر کرتے رہیں گے ۔

فرقہ واریت اور مذہبی انتہاء پسندی

جیسے سیاست میں بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ایسے ہی مذاہب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بنیادی اصول یہی ہے کہ آپ رواداری، بردباری اور اعتدال پسندی کو عملاً تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔
اگر آپ اس اصول کو مدنظر نہیں رکھتے تو پھر آپ فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہوے فرقہ وارانہ استعارے ہی استعمال کرتے ہیں۔ یوں فرقہ وارانہ ماحول بدستور برقرار رہتا ہے۔
اس تحریر کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ 21ویں صدی میں ہم فرقہ پرستی کے جنجال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ حیرت تو ان میڈیا دانشوروں پر ہے جو اکثر فرقہ واریت کی مخالفت بھی فرقہ وارانہ استعاروں سے کرتے ہیں۔
دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا نظریہ یا مذہب نہیں جس کے ماننے والوں میں سو فی صد ہم آہنگی ہو کہ ہر مذہب یا نظریے میں چھوٹے بڑے اختلافات موجود ہوتے ہیں۔
تنوع، رنگا رنگی یعنی diversity تو انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جبکہ یکسانیت یعنی uniformity کسی بھی لحاظ سے مثبت نہیں۔ اختلافات کی موجودگی بذات خود منفی نہیں اور اختلاف رکھنے والے اپنا اپنا الگ مکتبہ فکر یعنی School of Thought بنا لیتے ہیں۔
یہودیت، مسیحیت، اسلام، بدھ مت، ہندومت، سکھ مت ہی نہیں بلکہ سوشلسٹوں، قوم پرستوں اور لبرلوں میں بھی لاتعداد مکتبہ فکر ہیں۔ اختلافات کے عمل کو "چھری" سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ آپ اختلافی نقطہ نظر کی بدولت نئی راہیں بھی ڈھونڈھ سکتے ہیں اور انہی اختلافات کو منفی رنگ دے کر دنگے فساد کو بھی بڑھاوا دے سکتے ہیں۔
ہر مکتبہ فکر خود کو "حق" اور دوسروں کو "باطل" قرار دیتا ہے۔ اسی طرح ہر مکتبہ فکر میں اعتدال پسند اور انتہا پسند پیروکار ہوتے ہیں۔
اعتدال پسند وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر دم رواداری اور بردباری کو اولیت دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اختلافات کو گلدستے میں لگے مختلف پھولوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ جیسے گلدستہ میں مختلف پھول باہم مل کر اک ملی جلی خوشبو سے فضا معطر کرتے ہیں، ویسے ہی کسی بھی فکر، لہر یا مذہب میں موجود مختلف خیالات اس فکر ہی کو جلا بخشتے ہیں۔ اسی لیے اعتدال پسند تو معاشرے کو گلدستہ کی خوشبو ہی سے معطر کرنے پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ وہ اختلافی امور پر عام بحث نہیں کرتے کہ یہی صوفیا کا راستہ تھا۔
اس کے برعکس انتہاپسند ہر وقت اختلاف کو سامنے رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی انہی کے مکتبہ فکر کو معتبر سمجھے۔ یہی نہیں بلکہ انتہاپسند اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ وہ اگر اقلیت میں ہوں یا ان کے پاس نسبتاً کم طاقت ہو تو وہ اپنی مظلومیت کی رام کہانی سناتے ہیں اور اگر وہ اکثریت میں ہوں یا ان کے پاس اقتدار کی طاقت آ جائےتو وہ ہر مرد و عورت پر اپنی فقہہ تھوپنے کو ضروری گردانتے ہیں۔
یہ انتہا پسند ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی مکتبہ فکر کو "فرقہ" میں ڈھال دیتے ہیں۔ یوں جس نقطہ نظر پر پہرہ دینے کے لیے وہ مکتبہ فکر بنایا گیا ہوتا ہے اس کا اصل مقصد تو کہیں کھو جاتا ہے اور فرقہ پرستی ہی کو عروج حاصل ہوتا ہے۔
انتہا پسند درحقیقت، مخالف یا متحارب نقطہ نظر کو برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ اسے نیست و نابود کرنا اپنا فرض گردانتے ہیں۔ یوں یاد رکھیں، ہر انتہا پسند فرقہ پرست ہوتا ہے اور ہر فرقہ پرست انتہا پسند۔ یہ لوگ رنگارنگی یعنی diversity کے خلاف ہوتے ہیں اور اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے طاقت سے مٹانا چاہتے ہیں۔
اب ذرا ان باتوں کی روشنی میں اپنے خطے، اپنے مکتبہ فکر اور اپنے پنڈ، محلہ، خاندان، تعلیمی ادارے یا دفتر کے ماحول کا جائزہ لیں تو حقیقت حال آپ پر خود بخود واضح ہو جائے گی۔ آپ کو خود بخود معلوم ہوتا جائے گا کہ کہاں کہاں اعتدال پسند ہیں اور وہ کون ہیں جو انتہا پسندیوں اور فرقہ پرستیوں کے پرستار ہیں۔
1970 کی دہائی سے ہمارے ہاں ہر مکتبہ فکر میں انتہاپسندوں اور فرقہ پرستوں کا زور بڑھ چکا ہے جبکہ اعتدال پسند پیچھے کی صفوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔
ان انتہاپسندوں اور فرقہ پرستوں کو استعمال کرنے والے گروہ و طاقتیں بھی بہت سی ہیں۔ کیونکہ ان میں غصہ اور تعصب حد سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے انہیں استعمال کرنا بھی قدرے آسان ہوتا ہے۔ 19ویں صدی سے استوار کیے گئے جدید ریاستی بندوبست یعنی وطنی ریاستوں کی دنیا میں تو انہیں استعمال کرنا اور بھی آسان ہو چکا ہے کہ اقتدار یا طاقت کی لڑائی میں اولیت نہ ہی فقہا کو حاصل ہوتی ہے نہ ہی نظریے کو بلکہ اصل مدعا یا مقصد اقتدار پر قبضے یا طاقت کا حصول ہی ہوتا ہے۔
جہاں فرقہ پرست و انتہا پسند خیالات ہوں گے وہیں ان کو اپنے مقاصدکے تحت استعمال کرنے والوں کو بھی کامیابی ملے گی۔ جہاں نصاب اور میڈیا میں فرقہ وارانہ استعارے استعمال کرنے کی آزادی ہو وہاں باہر والوں کی تو موجیں ہو جاتی ہیں۔
یاد رکھیں کہ جب سے دنیا بنی ہے اس میں اختلافات بدرجہ اتم موجود رہے ہیں۔ کون سا گھر یا خاندان ہے جس میں اختلاف نہ ہو؟ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ "اختلافات کے ساتھ جینا" ہے۔
جنھیں اختلافات کے ساتھ جینے کا ہنر آتا ہے وہی اعتدال، رواداری اور بردباری کا رستہ اپناتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافات کو یکسر ختم کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی کوئی مثبت عمل البتہ یہ ممکن ہے کہ ہم سب اختلافات کے ساتھ جینا سیکھ جائیں۔ جو اختلافات کے ساتھ جینا نہیں جانتا وہی فرقہ پرست بھی ہے اور انتہا پسندیوں کا مبلغ بھی۔
جب 1920 میں عدم تعاون کی تحریک کو بڑھاوا دینے کے لیے تحریک خلافت کے رہنماؤں نے نومولود علیگڑھ یونیورسٹی میں چند طلباء کو ساتھ لے کر "جامعہ ملیہ" بنائی تھی تو مہاتما گاندھی نے اس مجوزہ یونیورسٹی کے لیے علامہ اقبال کو خط لکھ کر پہلا وائس چانسلر بننے کی دعوت دی تھی۔ زیرک اقبال نے مہاتما گاندھی کو جو جواب میں لکھا تھا اسے کراچی کے خرم علی شفیق نے علامہ پرلکھی جارہی 6 جلدوں پر مشتمل ضحیم سوانح کی تیسری جلد میں نقل کیا ہے۔ یہ کتابیں لاہور کی اقبال اکیڈیمی مسلسل چھاپ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ بظاہر تو مسلمانوں کی قومی تعلیم کے لیے بنائی جارہی تھی مگر اقبال کا استدلال تھا کہ مسلمانوں کی تعلیم سے قبل تمام مسلم مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی ہونا لازم ہے وگرنہ ایسی تعلیم سے فرقہ واریت پھوٹے گی۔
اقبال نے جس اندیشے کا اظہار کیا تھا وہ آج حقیقت بن چکا ہے۔ یہی استدلال انہوں نے خطبہ الہٰ آباد میں بھی دہرایا اور 11۔اگست 1947 کی تقریر میں بھی قائداعظم نے اسی سوچ کو اولیت دی تھی کہ اس میں رنگارنگی کو تسلیم کرنے اور رواداری کو اپنانے کا درس بدرجہ اتم موجود تھا۔
اب آپ سوچیں کہ ہم نے آج اس ملک میں فرقہ واریت اور انتہا پسندیوں کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں اعتدال، رواداری اور معقولاتی (Rational) سلسلوں کو ہی آگے بڑھانا ہوگا


(رائٹر نامعلوم)

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں
سید اسرار احمد

* بریلوی مشرک نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ نبی علیہ السلام اور بزرگوں سے عقیدت و محبت کےاظہار میں اعتدال سےبڑھ جاتےہیں, یہ بنیادی طور پر ایک قلبی رحجان ھے فی نفسہ اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ درست سمت اور سلیقے سے ہو تو نہایت ہی پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب شرک و بدعات کے رد میں نیک جذبوں کو بھی روندتےچلےجاتےہیں یہ سوچےسمجھے بغیر کہ آپ کا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!

* دیوبندی اکابر پرست نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ دین کےفہم و تشریح میں باقاعدہ سند یافتہ علماء کرام اور صدیوں سے چلتی دینی روایات کو اہمیت دینے کی کوشش میں اکثر اعتدال کی راہ سے ہٹ جاتےہیں,

یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان ھے اور درست سمت و سلیقے سے ہو تو نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب اکابر پرستی پر نقد و تبصرہ کرتےہوئے الفاظ و محاورات کےاستعمال میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھتےکہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!

* اہلحدیث اور سلفی حضرات بزرگوں اور پیغمبروں کی عظمت کے انکاری نہیں ہوتے, بات صرف اتنی ھے کہ اللہ کے سامنے ہردوسری ہستی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور توحید ہی کو اسلام کی اساس سمجھتےہوئےشرک کے ادنی سے شائبے کو بھی ایمان کےخلاف سمجھتےہیں,

یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان اور اپنی حقیقت میں نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب ان کی اس حساسیت کو اپنے مسلک اور قلبی رحجان کےخلاف سمجھتےہوئے ان سے متوحش ہوتےہیں, یہ بات سمجھے بغیر کہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں,

* ان تینوں مکاتب فکر کے فالوورز اگر اس طرز پر سوچنا شروع کردیں تو بالیقین فاصلےسمٹ جائیں اور غیرضروری اختلاف کا بھی خاتمہ ہوجائے,

لیکن معاملہ چونکہ فرقہ پرستی کا ھے اور فرقہ پرستی اپنی حقیقت میں دینداری کےعنوان پر دکانداری چمکانےکا نام ھے اسلیے بےجا طورپر ایک دوسرے کے رحجانات کو بجائے خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور وسعت قلبی اپنانےکے ایک دوسرے کےرد میں کتابیں اور رسالے چھاپتےرہتےہیں,

اور بعض ظالم تو قرآن کی آیات اور احادیث نبوی کو بھی اپنےحق میں توڑ مروڑ کرپیش کرنےسے دریغ نہیں کرتے,

مجھے اچھی طرح اندازہ ھے کہ احباب فروعی اختلاف کی شدت ثابت کرنےکےلیے ان تینوں مکاتب فکر کی کتابوں سے بہت کچھ خرافات جمع کرکےلاسکتے ہیں, لیکن اپنی حقیقت میں وہ سارا مواد دریا برد کردینےکےقابل ھے, اتفاق رائے کےلیے امت کے پاس اتنا وسیع زخیرہ موجود ھے کہ اس قسم کا بےجا اختلاف سوائے اناپرستی کےاور کچھ نہیں,

* محض ان تین ہی مکاتب فکر کی بات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر) دیگر بہت سے مکاتب فکر کےہاں بھی اختلاف کی نوعیت اکثر ایسی ہی ھے کہ اپنی بنیادوں میں جسے آپ رحجانات اور بعض صورتوں میں زاویہ نگاہ کا فرق کہہ سکتےہیں,

اور جہاں اختلافات کی وجوہات گہری ہیں تب بھی قرآن جیسی محفوظ کتاب جسے اللہ نے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنےوالی کتاب کہا) اور نبی علیہ السلام کی محفوظ سنت کی موجودگی میں رائے کا اختلاف کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا, اور جو کچھ علمی اختلاف ھے بھی تو وہ  ہرحال میں رہےگا اور قیامت تک رہےگا,

لوگ جب تک سوچتےرہیں گے مکاتب فکر بنتےرہیں گے, اگر یہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر اور نفرت و شرانگیزی کی حدوں تک نہیں پنہنچتا تو نبی علیہ السلام نے اس اختلاف کو امت کےلیے رحمت کہا ھے, کیونکہ اختلاف رائے سوچنےوالوں کو نئے نئے زاوئیے عطاکرتا ھے,

لہذاہ اتحاد اختلاف رائے کو ختم کرنےسے نہیں بلکہ اختلاف رائے کو گوارا کرنےسےپیدا ہوگا,

اور اس کی سب سے بڑی بنیاد تقوی اور خدا کےحضور جوابدھی کا سچا احساس ھے,

* ایک جگہ کچھ لوگ بحث و جدال میں مصروف تھے, کسی نکتےپر اتفاق ہی نہیں ہورہا تھا کہ اچانک وہاں سانپ نکل آیا, گھبرا کر سارے اس سانپ کو مارنےکےلیے متحد ہوگئے,

حالت سکون میں جو لوگ کسی بھی نکتےپر متفق نہیں تھے حالت خوف میں سوفیصد متحد اور یک جان ہوگئے,

یہی معاملہ آخرت کی جوابدھی کےخوف کا بھی ھے اگر حقیقی معنوں میں اللہ کےحضور جوابدھی کا خوف امت کےتمام طبقات میں ذندہ ہوجائے تو اتحاد کا قائم ہونا ویسا ہی یقینی ہوجائے جیسا سورج کےطلوع ہوتےہی دن کے نکلنے کا!!!

#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو

Wednesday, March 8, 2017

علماء اپنی دکانیں بند کریں

علماءاپنی دکانیں بند کریں
 علماء سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنے مسلکی اور فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لئے متحد ہوجائیں ، یہ مسئلہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے، علماء سے اپیل کرتا ہوں کے کچھ عرصے کے لئے اپنی دکانیں بند کردیں، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت سے زیادہ دین کی اور کوئی خدمت نہیں ہوسکتی۔ 
#جسٹس #شوکت_عزیزی_صدیقی , عدالتی ریمارکس 7مارچ 2017
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو

Thursday, November 10, 2016

علماء کے اختلاف کا حکمرانوں پر اثر

سیدعبدالوہاب شیرازی
علماء حق انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، ان کے کاندھوں پر وہی ذمہ داری ہوتی ہے جو انبیاء پوری کرتے آئے ہیں، چنانچہ صحیح علماء میں وہی اوصاف ہوتے ہیں جو حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم الصلوۃ و السلام کے قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ علماء کاکام انذار وتبشیر ہوتا ہے، علماء عوام کو تذکیر کراتے اور رہنمائی کرتے ہیں۔پھر سب سے بڑھ کریہ کہ علماء خود نمونہ ہوتے ہیں، جیسے تمام انبیاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملی نمونہ بن کر تبلیغ کی۔ جب تک علماء اس روش پر قائم رہے پوری امت مجموعی لحاظ سے صحیح ڈگر پر چلتی رہی، لیکن جیسے جیسے علماء میں خرابی پیدا ہوئی ساتھی ہی امت میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ علماء کی مثال امت کے جسم میں دل کی سی ہے، جیسا کے حدیث میں ہے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔ باالکل یہی معاملہ علماء کا ہے جب علماء ٹھیک ہوتے ہیں پوری امت ٹھیک ہوتی ہے جب علماء خراب ہوتے ہیں پوری امت خراب ہوجاتی ہے۔ 
آج کے اس مضمون ایک واقعہ کی روشنی میں اس بات کو ملاحظہ فرمائیں کہ علماء کی خرابی کا اثر حکمرانوں پر کیسے پڑتا ہے اور اس دل کی خرابی سے کتنی بڑی خرابی وجود میں آتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے سمر قند وترکستان سے کیسے خواجہ باقی بااللہ کو ہندوستان بھیج کر اصلاح کی کوششوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔
منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے ۔موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں ۔ اور اس کے دربارمیں رہے ہیں ۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا ۔ اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا ۔ اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکھے تھے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا۔ اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا ۔شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع ہونے لگے ۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی ۔ اس مقصد کے لئے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا ، ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بھی اوپر تک پہنچ گء تھی ۔ بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے ۔ بس یہیں سے وہ حالات پیداہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا ۔
ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا ۔ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے ۔اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں مبتلا ہوتا ۔ اسی طرح بادشاہ کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو ۔
علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بیہودگی ظاہر ہوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا ۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں ، آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا ۔علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا ۔ اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں ۔ اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں ۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا ۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا ۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی ، یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ۔
درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے ۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا ۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا جو لاہور میں تھا ۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا ،حتی کے سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنہیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا "۔شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انہیں اختیار تھا ۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا ، مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی ۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے ۔ ایک نے دوسرے کے بابت لکھا کہ چونکہ انہیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز نا جائز ہے ۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمہارے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا ۔
شہنشاہ اکبر ابتدامیں نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے ۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا ۔
ملا بدایونی لکھتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجھتا تھا ۔جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا ۔اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا ۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی ، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔(اسباق تاریخ از مولانا عبدالقادر بدایوانی)۔
چنانچہ ابوالفضل اور فیضی جیسے لوگوں کے کہنے پر ہی ایک نئے دین’’دین الٰہی یا دین اکبری‘‘ کوبنایا گیا جس نے ہندوستان میں اسلام کی بنیادوں کو ہلاکررکھ دیا اور پھر علمائے حق جن میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سرفہرست ہیں کی کوششوں سے اس گمراہی کو مٹایا گیا۔
اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علماء کی آپس کی لڑائیوں،ضد،ہٹ دھرمی نے کتنا بڑا فتنہ کھڑا کیا۔

Monday, June 6, 2016

سیاسی فرقہ واریت

(سید عبدالوہاب شیرازی)
سیاسی فرقہ واریت یہ عنوان شاید آپ کو عجیب سا لگے، ممکن ہے یہ لفظ آپ نے پہلے کبھی سنا بھی نہ ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کی تاریخ نہ صرف بہت پرانی ہے بلکہ یہ عنوان سیاہ ترین تاریخ رکھتا ہے۔ سیاسی تفرقہ باز ہمیشہ اپنے کالے کرتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مذہبی تفرقہ بازی کا واویلا کرتے رہے ہیں۔سیاسی تفرقہ بازی کے مختلف لیول ہیں، ایک انٹرنیشنل سطح کی سیاسی تفرقہ بازی ہے اور ایک ملکی سطح کی تفرقہ بازی۔
جس طرح تمام شعبوں میں سیاست کو تفوق حاصل ہے، باقی دنیا جہان کے شعبے سیاست کے ماتحت ہی ہیں اسی طرح فرقہ واریت میں بھی سیاسی فرقہ واریت کو باقی تمام فرقہ واریتوں پر برتری حاصل ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مذہبی فرقہ واریت کی خفیہ سرپرستی اور قیادت درحقیقت سیاسی لوگ ہی کرتے آئے ہیں، یعنی مذہبی فرقہ واریت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ سیاستدانوں کی پشت پناہی کے بغیر چل سکے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاستدان ایسا کیوں کرتے ہیں، تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے مذہبی لوگوں کو استعمال کرنا صدیوں پرانی بات ہے۔
فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کوئی بھی ہو، چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، لسانی ہو یا علاقائی ہر ایک انتہائی بُری اور بیانک نتائج رکھتی ہے۔لیکن سیاسی تفرقہ بازی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیںکہ مذہبی فرقہ واریت معاشرے کے لئے ناسور ہے۔ جی! یقینا یہ بات بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور تفرقہ بازی صرف معاشرے ہی نہیں بلکہ پوری انسایت کے لئے ناسور ہے۔
اگرملکی سطح کی سیاسی فرقہ واریت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ ایک پاکستانی قوم کو سینکڑوں سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا ایسا دشمن بنا دیا گیا ہے کہ اب سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے عسکری ونگ بھی بنالئے ہیں۔ہمارے ملک میں تین چار بڑے سیاسی فرقے ہیں، باقی چھوٹی چھوٹی فرقیاں تو بے حساب ہیں۔ ان فرقوں کے نمائندے روزانہ شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک مختلف چینلز پر آکر اپنے اپنے فرقے کی مدح سرائی اور مخالف فرقے کی خرابیوں کو بیان کرنا جہاد سمجھتے ہیں۔سیاسی فرقہ بازوں میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی وقت اپنا فرقہ تبدیل کرلیتے ہیں چنانچہ کل کا یزید آج کا حسین بن جاتا ہے۔
مذہبی فرقہ واریت سے جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی درحقیقت سیاسی فرقہ واریت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ خالصتا سیاسی فرقہ واریت نے اس دنیا کو کیا دیا:
٭پچھلے چند سالوں میں صرف کراچی شہر میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں 25ہزار لوگ قتل ہوئے۔ ٭مقبوضہ کشمیر میںسیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ ٭برما میں ہزاروں مسلمانوں کو بدھ متوں نے قتل اور دو لاکھ کو ملک بدر کیا۔ ٭2001سے اب تک امریکا افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔ ٭80ءکی دہائی میں روس نے افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،50لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے۔ ٭90ءکی دہائی میں امریکا نے عراق پر حملہ کرکے15لاکھ انسانوں کو قتل کیا اور بعد میں سوری کرکے فرشتہ بن گیا۔ ٭1992ءبوسنیا میں ایک لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا،20لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے،20ہزار عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1994ءمیں روانڈا (عیسائی ملک) میں صرف اور صرف100دنوں میں 10 لاکھ انسانوں کو قتل اور5لاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1975ءکمبوڈیا میں صرف4سالوں میں20لاکھ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭امریکا نے پچھلے 200سال میں دنیا کے70ملکوں میں1ارب30کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔
1948 سے اب تک اسرائیل 51لاکھ فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ٭1945ءامریکا نے ایک منٹ میں بم گرا کر80ہزار جاپانیوں کو سیاسی تفرقہ بازی میں قتل کیا۔ ٭1943ءبرطانوی حکمران چرچل نے بنگلہ دیش میں مصنوعی قحط پیدا کرکے 70لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا۔ ٭1942میں اسٹالن نے کریمیا کے اڑھائی لاکھ شہریوں کو صرف30منٹ میں شہر سے نکلنے کا حکم دیا اور پھرزبردستی اٹھا اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ٭پہلی جنگ عظیم میں2کروڑ انسان قتل کیے گئے۔ ٭دوسری جنگ عظیم میں6کروڑ انسان قتل ہوئے۔ ٭ہٹلر نے اپنے دور حکومت میں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭لینن روسی حکمران نے اپنے دور حکومت میں2کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭اسٹالن نے اپنے دور حکومت میں6کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭نپولین(عیسائی لیڈر) نے 50لاکھ انسانوں کوقتل کیا۔ ٭سری لنکا میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر حکومت اور باغیوں کی لڑائی میں ایک لاکھ انسان قتل ہوئے۔ ٭یگوڈا (کمیونسٹ پولیس آفیسر) نے 10لاکھ انسانوں کو تشدد کرکے قتل کیا۔ ٭جنرل لوتھر وون نے لمیبیا میں ایک لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭شاکازولو افریقہ کا حکمران، جس نے 20لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭ماوزے تنگ چین کے کمیونسٹ حکمران نے 5کروڑ انسانوں کو سیاسی بنیادوں پر قتل کیا۔ ٭روس نے اٹھارویں صدی کے آخر میں قفقاز کے15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،نقل مکانی کرنے والے اس سے الگ ہیں۔ ٭گیارہویں صدی میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں25000000 اڑھائی کروڑ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭سکندر اعظم (عیسائی حکمران) نے 10لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭چنگیز خان نے ایک گھنٹے میں17لاکھ 48ہزار انسانوں کو قتل کرنے کا ریکارڈ بنایا، کل 4کروڑ انسان قتل کیے۔
یہ ساری تاریخ نہیں بلکہ چند ایک نمونے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کو ختم کرکے پورے ملک کی عوام کو ایک امت بنایا جائے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم قرآن وسنت کی رہنمائی میں اسلام کے درخشندہ اصولوںکے مطابق اپنا سیاسی نظام وضع کریں۔