Search This Blog
Sunday, June 18, 2017
CPEC and Yajooj Majooj | China Pakistan Ecnomic Corridor | 2017 | Nukta
دوٹکےکی تحقیق
یہ ہے سلیم صافی کا وہ کالم جسے پڑھ کر یوتھئیے پاگل ہوگئے اور عمران نے جیئو اور جنگ کا بائیکاٹ کردیا
*دوٹکےکی_تحقیق*
پی ٹی آئی اس حکمت عملی پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران اس نے سیاست اور الزام تراشی کے سارے کھیل کو اس ہوشیاری کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے کورٹ میں رکھا کہ خود اس کی پارٹی کی اندرونی حالت اورخیبر پختونخوا کی ناکام ترین حکومت کی طرف کسی کی توجہ کو جانے ہی نہیں دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال دنیا کی نظروں کے سامنے آچکی ہوتی تو آج پی ٹی آئی کے ترجمان کسی کے سامنے آنے کی جرات ہی نہ کرسکتے ۔ اسی طرح اگر میڈیا خیبر پختونخوا کی حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں ، اقربا پروریوں اور احتساب کے نام پر تاریخ کے بدترین ڈراموں کو سامنے لاچکا ہوتا تو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف پارٹیوں کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ مثلاً خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک نے عمران خان کے ایما پر اپنے نامزد کردہ احتساب کمشنر کی چھٹی کرادی ۔ دو سال ہونے کو ہیں اور نیا ڈی جی مقرر نہیں کیاجارہا ۔ وزیراعلیٰ اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھی نئے ڈی جی کو میرٹ پر مقرر کرنے پر آمادہ نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنے ایک اور منظور نظر شخص کو ڈی جی احتساب بنانے کے لئے اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کروایا ۔ ڈان نیوز کے اسماعیل خان اور میں نے یہ ڈرامہ بازی آشکار ا کرلی تو انصاف کی علمبردار حکومت نے ایک شخص کی خاطر قانون میں تبدیلی کا ارادہ ترک کرکے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ سے نئے احتساب کمشنر کا تقرر کروائیں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قائمقام ڈی جی جو ان کا خاص بندہ ہے ،سے کام چلااور مخالفین کو ہراساں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پی ایس او زیب اللہ خان جو ان کے ساتھ پولیس بھرتیوں کے کیس میں ملوث تھے کو دہرا چارج دے کر اینٹی کرپشن کا ڈی جی بنا دیا ہے ۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ رولز کے خلاف ایک پولیس افسر کو ڈی جی اینٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ صحت کا حال دیکھنا ہو تو ینگ ڈاکٹروں پراسپتال کے اندر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو ملاحظہ کیجئے ۔ خان صاحب نے اپنے ایک عزیز کو صحت کے محکمے میں پالیسی بنانے کا اختیار دے رکھا ہے جو امریکہ میں رہتے اور مہینے میں صرف دو دن کے لئے حکمرانی کا مزہ لینے پشاورآجاتے ہیں ۔ پولیس کا حال دیکھنا ہو تو ڈی ایس پی کی موجودگی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کی مثال دیکھ لیجئے اور پھر پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے کہ سب ملزم پکڑے گئے لیکن جس کا پی ٹی آئی سے تعلق تھا وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ یونیورسٹیوں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب مشال قتل ہورہا تھا تو مردان یونیورسٹی سمیت نویونیورسٹیاں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وائس چانسلروں کے بغیرچل رہی تھیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی ایک دن میں تین پرچے دینے کے معاملے میں انکوائری کرنے کے جرم میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کے لئے تو صوبائی حکومت نے گورنر کو سمری ارسال کردی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں پر اس کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ مرکز میں تو انکوائریاں بڑی کروائی جارہی ہیں اور پی ٹی آئی کے ترجمان ماڈل ٹائون انکوائری کا بہت ذکر کررہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بنوں جیل توڑنے کی انکوائری رپورٹ سامنے لاسکی نہ آرمی پبلک اسکول واقعہ کی انکوائری کرواسکی ، نہ اپنے ایم پی اے کے قتل کے مجرم سامنے لاسکی اور نہ صوبائی وزیر سردار اسراراللہ گنڈا پوری کے قتل کی تحقیقات ہوسکیں ۔ یہ تماشہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ پرویز خٹک کابینہ کے وزیر اسراراللہ گنڈاپور جو دھماکے میں مارے گئے ،کے بھائی اکرام اللہ گنڈاپور جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے اور زراعت کے وزیر ہیں ، اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں اپنے ساتھی وزیر کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنے بھائی کےقتل کی تحقیقات کے لئے اپنی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اس وزیر نے نوازشریف کابینہ کے وزیر چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائے ۔ یہ چند مثالیں ہیں بدلے ہوئے پاکستان کی ۔ اس حکومت کی ساری توجہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مہم پر مرکوز ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پرویز خٹک کو پانچ مرتبہ اپنا وزیراطلاعات تبدیل کرنا پڑا ۔ اس مد میں اتنے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں کہ بنی گالہ میں براجماں افتخار درانی جیسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے شاید پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آزمالیں لیکن خود پختونخوا کے لوگ کتنے پچھتارہے ہیں ، اس کا اندازہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد لوگ مروانے کے باوجود پی ٹی آئی عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ ان انتخابات میں ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے علاوہ کوئی بھی ایم این اے یا وزیر اپنے یونین کونسل نہیں جتواسکا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور انشاء اللہ وقت آنے پر ایک ایک چیز ثابت ہوجائے گی اور الحمد للہ جن جن باتوں پر مجھ جیسوں کو گالیاں پڑی ہیں ، اب دھیرے دھیرے ثابت ہورہی ہیں ۔اپنے دائیں جانب فردوس عاشق اعوان اور بائیں جانب نذر محمد گوندل کو بٹھا کر خان صاحب نے بڑی حد تک اپنی اور اپنی جماعت کی حقیقت عیاں کردی ۔ ایک اور تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا میں ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے ادارے (پیڈو) سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ ہوا یوں کہ اقتدار ملنے کے بعد جب خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کے ٹھیکے جب بنی گالہ میں براجماں پنجاب اور سندھ کے لیڈروں کو الاٹ کئے جارہے تھے تو پیڈو کا ادارہ محترم اسد عمر صاحب کے حصے میں آیا چنانچہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے قواعد کی خلاف ورزی کروا کر اینگرو کے دور کے اپنے ساتھی اکبر ایوب کو اس کا سربراہ بنوادیا۔ میرے پاس سارے شواہد آئے توانصاف کے نام پر صوبے کے ساتھ اس بے انصافی کا تذکرہ 8اگست 2015کے کالم میں کردیا۔ کیونکہ اس شخص کا ہائیڈل جنریشن کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے یقین تھا کہ بھاری معاوضہ لینے کے باوجودوہ اس ادارے کو تباہ کردیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ اصلاح کی جاتی ، اسد عمر صاحب نے میرے خلاف مہم خود بھی شروع کی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کو بھی میرے خلاف لگا دیا۔ میں ان کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاتا رہا لیکن وہاں آنا شاید انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھا اور ایک ویب ٹی وی پر بیٹھ کر میرے خلاف ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اس میں انہوںنے اکبر ایوب کی تعیناتی کو خیبر پختونخوا کے عوام پر احسان عظیم ثابت کرانے کی کوشش کی اور بار بار مجھے طنز و تشنیع کا نشانہ اس فقرے کے ساتھ بناتے رہے کہ ’’یارسلیم صافی ۔ اتنے بڑے تم صحافی ہو ۔ کم از کم دو ٹکے کی تو تحقیق کرلیتے‘‘ ۔ بہر حال ان کے پاس طاقت تھی چنانچہ ان کے اکبرایوب پیڈو کے مختار بنے رہے ۔ کچھ عرصہ بعد اس کے بورڈ کے چیئرمین شکیل درانی نے بھی ان بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجاًاستعفیٰ دے دیا لیکن چونکہ اکبر ایوب کی سفارش مضبوط تھی اس لئے وہ براجماں رہے ۔ انہوںنے اپنے ماتحت مزید اٹھارہ افراد کوپیڈو میں قواعد کے خلاف بھرتی کیا اور ان بھرتیوں کو صوبائی انسپکشن ٹیم غیرقانونی قرار دے چکی (رپورٹ میرے پاس ہے ) ۔ بالآخر محکمے کے ایک اکائونٹنٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ الحمد للہ پشاور ہائی کورٹ نے 7 جون 2017 کو اپنے فیصلے میں میری گزارشات پر حرف بحرف مہرتصدیق ثبت کرکے اکبر ایوب کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا ، لیکن نقصان یہ ہوا کہ اس غریب صوبے کا یہ امیر ادارہ گزشتہ چار سالوں میں چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکا۔ اے این پی دور کے شروع کردہ دو پروجیکٹ مشکل سے مکمل ہوئے اور بس۔ اسد عمر صاحب تک یقینا یہ فیصلہ پہنچ گیا ہوگا کیونکہ یہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں ان کا ذکر بھی موجود ہے ۔
بقول اسد عمر صاحب ، میری تحقیق یقینا دو ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن الحمد للہ اس دو ٹکے کی تحقیق کو صوبے کی سب سے بڑی اور باوقار عدالت نے اپنے فیصلے میں حرف بحرف درست ثابت کیا جبکہ ان کے اینگرو کے دنوں کے دوست کوگھر بھیج دیا۔ یقینا اپنے کئے پر وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے ہاں ایسا کرنے کی روایت نہیں ۔ میں بس اس موقع پر ان کی خدمت میں انہی کے الفاظ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسد عمرصاحب ۔ اتنے بڑے آپ سیاسی لیڈر ہیں ۔ کچھ تو سوچا کریں ۔ خیبرپختونخوا کا ہر رہنے والا آپ کے ایم این ایز اور وزیروں کی طرح بنی گالہ کا غلام اور آپ کا تابعدار نہیں کہ جو آپ جیسے لوگوں کے خوف سے یا پھر آپ کے کارندوں کی گالیوں کے ڈر سے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرتا پھرے ۔وہاں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو یہی رویہ تھا۔ وہاں اے این پی کی حکومت تھی اور پرویز خٹک اس میں وزیر تھے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ اب آپ لوگوں کی حکومت ہے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ آپ لوگوں کے رول اور پارٹیاں بدلتی رہیں گی لیکن میرا رول یہی رہے گا۔ سندھ ، پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کی خبر لینے والے تو بہت ہیں ۔ آپ کی حکومت کی خبر لینے والا صرف میں رہ گیا ہوں اور وہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اسد عمر صاحب آپ دونوں بھائی اتنے بڑے سیاستدان ہیں کہ ایک بھائی نوازشریف کا دست راست اور دوسرا عمران خان کا رازدان بن گئے ہیں۔ایک بھائی نے سندھ کی گورنری لے لی اور دوسرے اسلام آباد سے ایم این اے بن گئے ۔ لیکن ہم جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی دو ٹکے کی تحقیق پر مبنی تنقید بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتی۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔
*سلیم صافی 17جون 2017 جنگ*
#نکتے ہی #نکتے
ستر سال بعد وہی دن دبارہ آگیا
Thursday, June 8, 2017
مولانا، مولوی ، ملا
Friday, June 2, 2017
فروٹ بائیکاٹ مہم
پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔ ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔ ایک ٹرک پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو فی ٹرک کمیشن ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے، اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور
حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے –
محمد ابراہیم شہزاد
پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟
ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔
سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔
سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔
اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا