Search This Blog

Sunday, June 18, 2017

CPEC and Yajooj Majooj | China Pakistan Ecnomic Corridor | 2017 | Nukta


یاجوج ماجوج کا چائنہ اور سی پیک سے کیا تعلق ہے۔۔؟؟
سلک روڈ کی طرف کیا اشارے ہیں۔۔؟

دوٹکےکی تحقیق

یہ ہے سلیم صافی کا وہ کالم جسے پڑھ کر یوتھئیے پاگل ہوگئے اور عمران نے جیئو اور جنگ کا بائیکاٹ کردیا                   
*دوٹکےکی_تحقیق*
پی ٹی آئی اس حکمت عملی پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران اس نے سیاست اور الزام تراشی کے سارے کھیل کو اس ہوشیاری کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے کورٹ میں رکھا کہ خود اس کی پارٹی کی اندرونی حالت اورخیبر پختونخوا کی ناکام ترین حکومت کی طرف کسی کی توجہ کو جانے ہی نہیں دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال دنیا کی نظروں کے سامنے آچکی ہوتی تو آج پی ٹی آئی کے ترجمان کسی کے سامنے آنے کی جرات ہی نہ کرسکتے ۔ اسی طرح اگر میڈیا خیبر پختونخوا کی حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں ، اقربا پروریوں اور احتساب کے نام پر تاریخ کے بدترین ڈراموں کو سامنے لاچکا ہوتا تو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف پارٹیوں کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ مثلاً خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک نے عمران خان کے ایما پر اپنے نامزد کردہ احتساب کمشنر کی چھٹی کرادی ۔ دو سال ہونے کو ہیں اور نیا ڈی جی مقرر نہیں کیاجارہا ۔ وزیراعلیٰ اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھی نئے ڈی جی کو میرٹ پر مقرر کرنے پر آمادہ نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنے ایک اور منظور نظر شخص کو ڈی جی احتساب بنانے کے لئے اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کروایا ۔ ڈان نیوز کے اسماعیل خان اور میں نے یہ ڈرامہ بازی آشکار ا کرلی تو انصاف کی علمبردار حکومت نے ایک شخص کی خاطر قانون میں تبدیلی کا ارادہ ترک کرکے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ سے نئے احتساب کمشنر کا تقرر کروائیں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قائمقام ڈی جی جو ان کا خاص بندہ ہے ،سے کام چلااور مخالفین کو ہراساں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پی ایس او زیب اللہ خان جو ان کے ساتھ پولیس بھرتیوں کے کیس میں ملوث تھے کو دہرا چارج دے کر اینٹی کرپشن کا ڈی جی بنا دیا ہے ۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ رولز کے خلاف ایک پولیس افسر کو ڈی جی اینٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ صحت کا حال دیکھنا ہو تو ینگ ڈاکٹروں پراسپتال کے اندر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو ملاحظہ کیجئے ۔ خان صاحب نے اپنے ایک عزیز کو صحت کے محکمے میں پالیسی بنانے کا اختیار دے رکھا ہے جو امریکہ میں رہتے اور مہینے میں صرف دو دن کے لئے حکمرانی کا مزہ لینے پشاورآجاتے ہیں ۔ پولیس کا حال دیکھنا ہو تو ڈی ایس پی کی موجودگی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کی مثال دیکھ لیجئے اور پھر پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے کہ سب ملزم پکڑے گئے لیکن جس کا پی ٹی آئی سے تعلق تھا وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ یونیورسٹیوں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب مشال قتل ہورہا تھا تو مردان یونیورسٹی سمیت نویونیورسٹیاں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وائس چانسلروں کے بغیرچل رہی تھیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی ایک دن میں تین پرچے دینے کے معاملے میں انکوائری کرنے کے جرم میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کے لئے تو صوبائی حکومت نے گورنر کو سمری ارسال کردی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں پر اس کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ مرکز میں تو انکوائریاں بڑی کروائی جارہی ہیں اور پی ٹی آئی کے ترجمان ماڈل ٹائون انکوائری کا بہت ذکر کررہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بنوں جیل توڑنے کی انکوائری رپورٹ سامنے لاسکی نہ آرمی پبلک اسکول واقعہ کی انکوائری کرواسکی ، نہ اپنے ایم پی اے کے قتل کے مجرم سامنے لاسکی اور نہ صوبائی وزیر سردار اسراراللہ گنڈا پوری کے قتل کی تحقیقات ہوسکیں ۔ یہ تماشہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ پرویز خٹک کابینہ کے وزیر اسراراللہ گنڈاپور جو دھماکے میں مارے گئے ،کے بھائی اکرام اللہ گنڈاپور جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے اور زراعت کے وزیر ہیں ، اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں اپنے ساتھی وزیر کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنے بھائی کےقتل کی تحقیقات کے لئے اپنی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اس وزیر نے نوازشریف کابینہ کے وزیر چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائے ۔ یہ چند مثالیں ہیں بدلے ہوئے پاکستان کی ۔ اس حکومت کی ساری توجہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مہم پر مرکوز ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پرویز خٹک کو پانچ مرتبہ اپنا وزیراطلاعات تبدیل کرنا پڑا ۔ اس مد میں اتنے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں کہ بنی گالہ میں براجماں افتخار درانی جیسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے شاید پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آزمالیں لیکن خود پختونخوا کے لوگ کتنے پچھتارہے ہیں ، اس کا اندازہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد لوگ مروانے کے باوجود پی ٹی آئی عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ ان انتخابات میں ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے علاوہ کوئی بھی ایم این اے یا وزیر اپنے یونین کونسل نہیں جتواسکا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور انشاء اللہ وقت آنے پر ایک ایک چیز ثابت ہوجائے گی اور الحمد للہ جن جن باتوں پر مجھ جیسوں کو گالیاں پڑی ہیں ، اب دھیرے دھیرے ثابت ہورہی ہیں ۔اپنے دائیں جانب فردوس عاشق اعوان اور بائیں جانب نذر محمد گوندل کو بٹھا کر خان صاحب نے بڑی حد تک اپنی اور اپنی جماعت کی حقیقت عیاں کردی ۔ ایک اور تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا میں ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے ادارے (پیڈو) سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ ہوا یوں کہ اقتدار ملنے کے بعد جب خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کے ٹھیکے جب بنی گالہ میں براجماں پنجاب اور سندھ کے لیڈروں کو الاٹ کئے جارہے تھے تو پیڈو کا ادارہ محترم اسد عمر صاحب کے حصے میں آیا چنانچہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے قواعد کی خلاف ورزی کروا کر اینگرو کے دور کے اپنے ساتھی اکبر ایوب کو اس کا سربراہ بنوادیا۔ میرے پاس سارے شواہد آئے توانصاف کے نام پر صوبے کے ساتھ اس بے انصافی کا تذکرہ 8اگست 2015کے کالم میں کردیا۔ کیونکہ اس شخص کا ہائیڈل جنریشن کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے یقین تھا کہ بھاری معاوضہ لینے کے باوجودوہ اس ادارے کو تباہ کردیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ اصلاح کی جاتی ، اسد عمر صاحب نے میرے خلاف مہم خود بھی شروع کی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کو بھی میرے خلاف لگا دیا۔ میں ان کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاتا رہا لیکن وہاں آنا شاید انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھا اور ایک ویب ٹی وی پر بیٹھ کر میرے خلاف ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اس میں انہوںنے اکبر ایوب کی تعیناتی کو خیبر پختونخوا کے عوام پر احسان عظیم ثابت کرانے کی کوشش کی اور بار بار مجھے طنز و تشنیع کا نشانہ اس فقرے کے ساتھ بناتے رہے کہ ’’یارسلیم صافی ۔ اتنے بڑے تم صحافی ہو ۔ کم از کم دو ٹکے کی تو تحقیق کرلیتے‘‘ ۔ بہر حال ان کے پاس طاقت تھی چنانچہ ان کے اکبرایوب پیڈو کے مختار بنے رہے ۔ کچھ عرصہ بعد اس کے بورڈ کے چیئرمین شکیل درانی نے بھی ان بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجاًاستعفیٰ دے دیا لیکن چونکہ اکبر ایوب کی سفارش مضبوط تھی اس لئے وہ براجماں رہے ۔ انہوںنے اپنے ماتحت مزید اٹھارہ افراد کوپیڈو میں قواعد کے خلاف بھرتی کیا اور ان بھرتیوں کو صوبائی انسپکشن ٹیم غیرقانونی قرار دے چکی (رپورٹ میرے پاس ہے ) ۔ بالآخر محکمے کے ایک اکائونٹنٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ الحمد للہ پشاور ہائی کورٹ نے 7 جون 2017 کو اپنے فیصلے میں میری گزارشات پر حرف بحرف مہرتصدیق ثبت کرکے اکبر ایوب کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا ، لیکن نقصان یہ ہوا کہ اس غریب صوبے کا یہ امیر ادارہ گزشتہ چار سالوں میں چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکا۔ اے این پی دور کے شروع کردہ دو پروجیکٹ مشکل سے مکمل ہوئے اور بس۔ اسد عمر صاحب تک یقینا یہ فیصلہ پہنچ گیا ہوگا کیونکہ یہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں ان کا ذکر بھی موجود ہے ۔
بقول اسد عمر صاحب ، میری تحقیق یقینا دو ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن الحمد للہ اس دو ٹکے کی تحقیق کو صوبے کی سب سے بڑی اور باوقار عدالت نے اپنے فیصلے میں حرف بحرف درست ثابت کیا جبکہ ان کے اینگرو کے دنوں کے دوست کوگھر بھیج دیا۔ یقینا اپنے کئے پر وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے ہاں ایسا کرنے کی روایت نہیں ۔ میں بس اس موقع پر ان کی خدمت میں انہی کے الفاظ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسد عمرصاحب ۔ اتنے بڑے آپ سیاسی لیڈر ہیں ۔ کچھ تو سوچا کریں ۔ خیبرپختونخوا کا ہر رہنے والا آپ کے ایم این ایز اور وزیروں کی طرح بنی گالہ کا غلام اور آپ کا تابعدار نہیں کہ جو آپ جیسے لوگوں کے خوف سے یا پھر آپ کے کارندوں کی گالیوں کے ڈر سے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرتا پھرے ۔وہاں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو یہی رویہ تھا۔ وہاں اے این پی کی حکومت تھی اور پرویز خٹک اس میں وزیر تھے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ اب آپ لوگوں کی حکومت ہے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ آپ لوگوں کے رول اور پارٹیاں بدلتی رہیں گی لیکن میرا رول یہی رہے گا۔ سندھ ، پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کی خبر لینے والے تو بہت ہیں ۔ آپ کی حکومت کی خبر لینے والا صرف میں رہ گیا ہوں اور وہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اسد عمر صاحب آپ دونوں بھائی اتنے بڑے سیاستدان ہیں کہ ایک بھائی نوازشریف کا دست راست اور دوسرا عمران خان کا رازدان بن گئے ہیں۔ایک بھائی نے سندھ کی گورنری لے لی اور دوسرے اسلام آباد سے ایم این اے بن گئے ۔ لیکن ہم جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی دو ٹکے کی تحقیق پر مبنی تنقید بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتی۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔
*سلیم صافی 17جون 2017 جنگ*
#نکتے ہی #نکتے

ستر سال بعد وہی دن دبارہ آگیا

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
اس سال (رمضان المبارک 2017) میں ستائیس رمضان المبارک کو وہی دن دبارہ آرہا ہے جو آج سے ستر سال قبل آیا تھا۔ یعنی 14اگست 1947ءکو جب پاکستان معرض وجود میں آیا اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ تھا، اور ستائیس ویں کی رات تھی اور اگلا دن یعنی ستائیسویں کا دن جمعہ کا دن تھا۔ اس سال پھر وہی مہینہ، وہی مبارک رات، وہی مبارک دن دبارہ آرہا ہے۔کیا آپ اس گھڑی کا تصور کرسکتے ہیں جس گھڑی میں یہ ملک بنا تھا۔27رمضان المبارک، لیلة القدر، جمعہ کی رات اور وہ بھی رات کے بارہ بجے؟ کیا ایسے میں ملک بنا کرتے ہیں۔

پاکستان اس خطہ میں وقوع پذیر ہے جس طرف سے نبی اکرم ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آئی تھی(اطیب ریح فی ارض الہند۔ الحاکم مستدرک)۔ اور پھر اس پاکستان کو بنانے میں چھ لاکھ انسان قربان ہوئے، ہزاروں عورتوں کی عزتیں پامال ہوئیں، ہزاروں بچے ذبح ہوگئے، ہزاروں علماءکو سولیوں پر لٹکا دیا گیا، توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، 1857ءکی جنگ آزادی ہوئی، تحریک شہیدین چلی، سید احمد شہیداور شاہ اسماعیل شہید نے ہندوستان سے چل کر بالاکوٹ کے پہاڑوں میں لاشے کٹوا دیے۔تحریک استخلاص وطن چلائی گئی۔تحریک ریشمی رومال چلی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ نے مالٹا کے جزائر میں چار سال تک تنہائی کی جیل کاٹی۔ پھر علامہ اقبال نے تصور پاکستان دیا، اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بہت بڑی تحریک آزادی چلی ، جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، اس نظریے پر یہ تحریک چلی کہ ہمیں ایک الگ وطن چاہیے جہاں ہم اللہ کے دین کو نافذ کرکے اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا: ہمیں پاکستان اس لئے مطلوب ہے کہ عہد حاضر میں اسلام کے اصولِ حریت واخوت ومساوات کا ایک عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔
ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا: اے اللہ ہمیں انگریز اور ہندووں کی دوہری غلامی سے نجات دے، اس لئے کہ ہم پر انگریز کی غلامی کے ساتھ ہندو کی غلامی بھی تھی۔ ہم ہندو کی معاشی غلامی میں مبتلا تھے، ہندو بنیا ایک گاوں میں بیٹھا ہوتا تھا اور وہ سود پر رقمیں دے کر مسلمانوں کی زمینیں ہتھیا لیتا تھا، ہندوستان میں پورا کاروبار، پوری صنعت ہندوں کے ہاتھ میں تھی۔ بہت سے دانشور جب پاکستان کی برکات بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پورے انار کلی بازار میں مسلمانوں کی صرف ایک دکان تھی، جبکہ آبادی میں مسلمان زیادہ تھے۔دوسری غلامی انگریز کی تھی، انگریز عسکری سیاسی اور ریاستی لحاظ سے ہمیں غلام بنائے ہوئے تھے، ہم ہندووں کے سماجی غلام تھے، ہم ہندووں کے رسوم ورواج اور تہوار مناتے تھے، تو ہم نے اللہ تعالیٰ سے ان سے نجات کی دعائیں مانگی تھیں۔چنانچہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور ہمیں ایک آزاد ملک 27رمضان المبارک جمعہ کی رات کو عطاءکیا بلکہ نازل کیا۔پھر کیا ہوا ہم اللہ سے کیے ہوئے سارے وعدے بھول گئے، ہم اپنی دنیا کی زندگی میں مست ہوگئے۔
سورہ توبہ کی آیات 75تا77 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ان میں ایک قسم ان کی ہے جنہوں نے اللہ سے ایک عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے دے گا تو ہم خوب صدقہ اور خیرات کریں گے اور نیک لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا، وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور اللہ سے اعراض کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری پیدا کردی۔
یعنی جب کوئی قوم اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اللہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیتا ہے، آج پاکستانی قوم کے ساتھ یہی کچھ ہوگیا ہے، ساری قوم کے دلوں میں نفاق پڑ چکا ہے۔
ہمارے ہاں دو قسم کے نفاق پیدا ہوچکے ہیں ایک قومی نفاق ہے۔ پہلے ہم ہندووں کے مقابلے میں ایک قوم تھے اور ہم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر تحریک آزادی چلائی تھی، لیکن آج ہم نفاقِ باہمی کا شکار ہو کر قومیتوں میں تقسیم ہوچکے ہیںہم پنجابی، پٹھان، بلوچی او رسندھی بن چکے ہیں۔ دوسرا نفاق کردار کا نفاق ہے یعنی جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت، یہ تینوں چیزیں مجموعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی آج ہر پاکستانی میں موجود ہیں۔ ہمارا لیڈر بھی جھوٹ بولتا، وعدہ خلافی کرتا اورخائن ہے ۔اور ہمارا ریڑھی والا بھی جھوٹ بولتا،وعدہ خلافی کرتا اور خائن ہے۔
سورة السجدة آیت 21 میں ارشاد ہے:
ہم انہیں مزہ چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔
چنانچہ اللہ نے بیس بائیس سال بعد ہم پر عذاب کا کوڑا برسایا اور ملک دو ٹکڑے ہوگیا، لیکن ہم پھر بھی نہ سدھرے اور نافرمانی اور وعدہ خلافی کو جاری رکھا ہوا ہے، اللہ وقتا فوقتا سیلاب، زلزلہ ، بدامنی، مہنگائی کی صورت میں ہم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے کہ ہم واپس پلٹیں اور اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔اگر ہم اسی روش پر چلتے رہے تو پھر ان چھوٹے عذابوں کے بعد بڑا عذاب بھی آئے گا اور ہماری داستان نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سال ستائیس رمضان کو اسی دن جب یہ پاکستان بنا تھا ہم اپنے عہد کو تازہ کریں، سب سے پہلے اس مبارک رات جو لیلة القدر بھی ہوسکتی ہے ہم توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں کہ ستر سال بیت گئے ہم وعدہ پورا نہیں کرسکے اس پر ہمیں معاف فرما۔ اور پھر اگلے ہی دن سے ہم یہ عزم لے کر نکلیں کہ اب ہم اس ملک میں اور پھر ساری دنیا میں اسلام کو نافذ اور قائم کرنے کی جدجہد کریں گے۔ دین کو قائم کرنا اللہ کاکام ہے، ہمارا کام اس کے لئے اپنے صلاحیت اور قابلیت کے حساب سے کوشش کرنا ہے۔ ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ دین قائم ہوا یا نہیں بلکہ ہم سے یہ سوال ہوگا تم نے کوشش کی یا نہیں۔

Thursday, June 8, 2017

مولانا، مولوی ، ملا

( مولانا، مولوی ، ملا وغیرہ کے سلسلے میں مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تحقیق)
مولانا :۔ یہ لقب دو لفظوں سے مرکب ہے ، ایک ’’مولی‘‘ اور دوسرا ضمیر ’’نا‘‘ مولیٰ کے معنی یہاں پر آقا اور سردار کے ہیں، اور ’’نا‘‘ جمع متکلم کی ضمیر ہے ، دونوں کی ترکیب سے ’مولانا‘‘ ہوا، جس کے معنی ہمارے سردار اور آقا کے ہیں ۔
یہ لفظ اس اضافت کی شکل میں عہد صحابہ و تابعین میں علمائے دین اور دوسرے عمائد امت اور امراء کے لئے رائج ہوا، چنانچہ حضرت حسن بصری ؒ متوفی ۱۱۰؁ھ کے تذکرے میں علامہ ابن سعد لکھتے ہیں ۔
ان انس بن مالک سئل عن مسئلۃ فقال علیکم مولانا الحسن ، فقالوا یا ابا حمزۃ نسألک و تقول سلوا مولانا الحسن فقال انا سمعنا و سمع فحفظ و نسینا۔  حضرت انس بن مالک ؓ سے ایک مرتبہ ایک سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ تم لوگ مولانا حسن کے پاس جاو ٔ ، سائلوں نے کہا ابوحمزہ ہم تو آپ سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ مولانا حسن سے پوچھو اس  پر آپ نے فرمایا کہ ہم نے اور انھوں نے علم پڑھا اور سنا مگر انھوں نے یاد رکھا اور ہم بھول گئے ( یہ حضرت انسؓ کی کسر نفسی اور خدا پرستی پر دلیل ہے)
اس میں مولانا کا لفظ خاص طور سے امام حسن بصری کے لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ا ستعمال فرمایا ہے اور سائلوں نے بھی اسے دہرایا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ارباب علم و فضل کے لئے یہ لفظ بولا جانے لگا تھا ، البتہ اصطلاحی طور سے اس کا عام رواج نہیں ہوا تھا ۔
اسی طرح علامہ ابن ندیم نے کتاب الفہرست میں ایک شیعی فقیہ کے تذکرے میں لکھا ہے ۔
الحسن بن محبوب السراد ،وھو الزراد من اصحاب مولانا الرضا ومحمد ابنہ۔  (کتاب الفہرست ص:۲۰۹،طبع مصر) 
حسن بن محبوب سراد جسے زراد کہتے ہیں مولانا رضا اور ان کے صاحبزادے محمد کے شاگردوں میں سے ہے۔
حضرت امام رضا کے لئے مولانا کا یہ لفظ بتا رہا تھا کہ چوتھی صدی ہجری میں ارباب دین و دیانت اور اہل علم و فضل کے لئے یہ لقب جاری تھا ۔ ابن ندیم نے اپنی کتاب ۳۷۷؁ھ میں لکھی ہے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ابتداء میں لفظ مولانا صرف علمائے دین ہی کیلئے خاص نہیں تھا بلکہ خلفاء سلاطین ، امراء وزراء اور دوسرے ارباب خدم و حشم کے لئے عوام اور خواص تعظیم کے لئے مولانا کا لفظ استعمال کرتے تھے ۔
چنانچہ امیر مصر کافوراخشیدی کے تذکرے میں علامہ ابن خلکان نے ابوالفضل بن سحباس کا یہ دعائیہ جملہ نقل کیا ہے ۔ ادام اللہ ایام مولانا ، یعنی مولانا کے اقبال کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رکھے ، اس عبارت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ کافور اخشیدی متوفی ۳۵۶؁ھ کے لئے مولانا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔(تفصیل کے لئے ابن خلکان ج:۲ص:۲ ملاحظہ ہو)
البتہ اب یہ لفظ صرف علمائے دین کے لئے استعمال ہونے لگا ہے بلکہ اب تو عوام کی علوم دین پر جفا کاری کا یہ حال ہے کہ بے لکھے پڑھے لوگوں کوداڑھی کو دیکھ کر مولانا کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں ، اور یہ جہلاء اس پر خوش ہوکر اپنے جہل سے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
مولوی :۔ علمائے دین اور دوسرے ارباب عزت و شرف کے لئے ’’مولوی‘‘کا عظیم الشان لقب غالباً ترکی زبان کالفظ ہے ۔
       صاحب غیاث اللغات نے  لفظ ’’مولوی‘‘ کی تحقیق میں لکھا ہے کہ :
’’مولوی بفتح میم و فتح لام منسوب بمولی ٰکہ بمعنی خداونداست بعد الحاق یای نسبت الفی را رابع بود بواوبدل شد زیراکہ الف مقصورہ درآخر کلمہ سہ حرفی و چہار حرفی بوقت نسبت بواو بدل می شود ( غیاث اللغات ص:۴۷۶)
خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ’’مولیٰ‘‘کی طرف منسوب ہے اور نسبت کے وقت آخر کا لفظ واو سے بدل گیا ہے ۔ گویا ’’مولانا‘‘ کی طرح مولوی کا لفظ بھی ’’مولیٰ‘‘ سے بنایا گیا ہے ، اور مولانا میں جمع متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، اور مولوی میں واحد متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، حالانکہ یہ تحقیق صحیح نہیں ہے اور مولوی کا لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے لفظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر مولوی کا لفظ مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنا ہوتا تو پھر اس پر الف اور لام داخل نہیں ہو سکتا ، حالانکہ عام طور سے ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا پایا جاتا ہے ، مثال کے طور پر علامہ چلپی جیسے علوم اسلامیہ کے محقق کی کتاب ’’کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ‘‘میں دیکھا جائے کہ جگہ جگہ مصنفین کے نام کے ساتھ ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا ہے چنانچہ جلال الدین رومی المولوی اور شیخ اسماعیل الفردی المولوی الف لام کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ (کشف الظنون ج:۱ص:۲۰۹)نیز اس قسم کی بہت سی مثالیں کشف الظنون اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔ پس اگر مولوی کالفظ اضافت کے ساتھ ہوتا تو مولانا کی طرح مولوی پر بھی الف لام داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔
نیز علامہ ابوالفداء صاحبِ حماۃ کو جب سلطان مصر محمد بن قلاؤذون نے حماۃ ( شام) کی سلطنت دی تو ان کو ان القاب سے نوازا ’’ المقام الشریف العالی المولوی السلطانی العمادی الملکی الموئدی ان کے شاہی القاب میں بھی ’’المولوی‘‘ کا لفظ الف لام کے ساتھ موجود ہے۔(تاریخ صلاح صفدی)
مولانا کی طرح مولوی کا لقب بھی ابتدا میں علماء کے لئے خاص نہ تھا ، بلکہ امراء و سلاطین کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جیسا کہ ابھی ابوالفداء صاحبِ حماۃ ۷۳۲؁ھ کے لقب میں معلوم ہوا۔ 
ابتدا میں مولوی کا لقب نہایت عظیم الشان لقب تھا اور آج کی طرح پامال نہیں تھا ۔ اس کی عظمت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ سلطان مصر محمد بن قلاؤذن نے اپنے تمام امراء کو حکم دیا تھا کہ الملک الموئد ابوالفداء کے القاب میں وہ مولوی بھی لکھا کریں مگر خود سلطان مصر جب ابوالفداء کو خط لکھا کرتا تھا تو ’’مولوی‘‘ کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتا تھا کیونکہ اسی نے ابوالفداء کو حماۃ کا سلطان بنایا تھا ۔
اس لفظ مولوی کی عظمت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شیخ جلال الدین رومی صاحب مثنوی جیسے اونچے انسان کو مولوی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا چنانچہ ایک شعر میں ہے :
  مثنوی    مولویٔ    معنوی  ہست قرآں در زبان پہلوی 
مولانا روم خود ایک شعر میں فرماتے ہیں :
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم  تا غلام شمس  تبریزی  نہ  شد
ہمارے اردو کے ایک شاعر نے مولوی کی اہمیت و عظمت کو ایک شعر میں یوں ظاہر کیا ہے۔
     علم مولیٰ ہو جسے ہے مولوی جیسے حضرت مولویٔ معنوی
آٹھویں صدی کے بعد ’’مولوی‘‘ کا لفظ عام طور سے مدرسین حضرات کے لئے استعمال ہونے لگا اورا س کا رواج زیادہ تر علمائے کرام کے یہاں ہوا ،ا ور پھر وہاں سے عجم میں پھیلا حتی کہ بعض علماء مولوی زادہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آج یہی مولوی کا لفظ عوام اور خود علماء کے نزدیک بہت ہی معمولی حیثیت کا رہ گیا ہے ۔ اور کسی عالم کو صرف مولوی کہنا یا لکھنا اس کی شان کم کردینے کے مرادف ہو جاتا ہے اورویسے بھی  ہرکہ ومہ کے لئے ا ستعمال ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭
ملا ۔منلا۔ مولٰی:۔ ملا ، منلا اور مولیٰ کے القاب بھی مولوی کے ساتھ کی پیداوار ہیں اور ان کا استعمال بھی اہل علم کیلئے  ہی علماء روم سے شروع ہوا اور بڑے بڑے فضلائے روزگاراور یکتائے زمانہ ان القاب سے یاد کئے جاتے تھے۔ حضرت شیخ الرحمن جامی ؒ کو ملا اور منلا کہا جاتا تھا ۔ ملا جلال الدین بیضاوی کے محشی منلا عوض وغیرہ اس لقب کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں ، کشف الظنون میں متاخرین کے بڑے بڑے ماہرین فن اور مصنفین کے لئے یہ الفاظ ملتے ہیں ، آخر زمانہ تک یہ الفاظ علمی عظمت اور فنی مہارت کی خبردیا کرتے تھے ، چنانچہ ملا محمود جونپوری ، ملا مسکین ، ملا محب اللہ بہاری، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ، ملا علی قاری جیسے اکابر علم و فضل ان القاب و خطابات کے مستحق قرار پائے ہیں ، انگریزی حکومت میں بھی پہلے سرکاری امتحانات میں ملا فاضل کا امتحان ہوتا تھا اورا سکی سند دی جاتی تھی ۔
)المرسل: ضیاء الحق خیرآبادی ، مدرسہ تحفیظ القرآن ۔سکٹھی ، مبارکپور)

Friday, June 2, 2017

فروٹ بائیکاٹ مہم

پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔  ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔  ایک ٹرک  پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو  فی ٹرک کمیشن  ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔  جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے،  اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان  کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ  زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور

حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے – 


محمد ابراہیم شہزاد

 پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟

ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔

سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔

سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔

اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا