Search This Blog

Wednesday, November 4, 2015

فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

(سید عبدالوہاب شیرازی)
فرقہ واریت کتنا گھناؤنا عمل ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں بارہا اس کی مذمت اور ممانعت بیان ہوئی ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے، ہمارے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کو انگریز دور میں خاص طور پر پروان چڑھایا گیا، پاکستان بننے کے بعد بھی اس سانپ کو تازہ دودھ ملتا رہا۔
دوسری طرف فرقہ واریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد جاری رہی، ہر طبقے نے اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے والے نادیدہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں، فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد نے اس گھناؤننے عمل کو اتنا بدنام کیا کہ لوگ اس نام کے اپنے اوپر چسپاں ہونے سے گھبراتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پوری دنیا خصوصا ہمارے خطے میں جو جو تبدیلیاں واقع ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے سے مذہبی فرقہ واریت پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔ مختلف مسالک خاص طور پر اھل سنت والجماعت کے مسالک نے دوریاں ختم کی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوس، فتوے اور مناظروں کے چیلنج آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
یہ تو فرقہ واریت کا وہ پہلو تھا جو معروف اور مشہور ہے اور جب بھی فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا ذہن اسی مذہبی فرقہ واریت کی طرف جاتا ہے۔ لیکن میں آج فرقہ واریت کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ ایک فکری اور انقلابی ذہن رکھنے والے کو اس فرقہ واریت کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہیے، نہ صرف متوجہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے سدباب اور اس شعور کو اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ یہ فرقہ واریت کا وہ پہلو ہے جس کی تاریخ ہمیں قرآن حکیم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ملتی ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیْعًا۔فرعون نے وہاں کے لوگوں کو گِروہ گِروہ بنا رکھا تھا، یعنی فرعون اپنے شہریوں کو تقسیم کرتا اور Divide & Rule کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، کیونکہ لوگ اگر گِروہ گِروہ نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت تختہ الٹ سکتے ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے ہندوستان میں انگریزوں نے اختیار کیااور پھر پچھلے ستر سال سے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے چند خاندان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلکہ اب تو ایسی پالیساں باقاعدہ ملکوں کے خفیہ پلان کا حصہ ہوتی ہیں، چنانچہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، علاقائی اور دیگر بے شمار اقسام کی فرقہ واریتیں حکمرانی کرنے والوں کے پلان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نئی جماعت بنانا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص دو یا زیادہ جماعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی کوشش کرے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں اور اس کام کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم ہر روز سنتے ہیں فلاں نے نئی جماعت بنالی، یا فلاں شخص فلاں جماعت سے الگ ہوگیا اس نے اپنا دھڑا بنا لیا، لیکن ایسا بہت کم سننے میں آتا ہے کہ فلاں دو جماعتیں آپس میں ضم ہو کر ایک جماعت بن گئیں اور ان جماعتوں کے افراد ایک ہی پرچم تلے جمع ہوگئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور دھڑا بندی مذہبی فرقہ واریت سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے جبکہ سیاست کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے ، اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی برتری اور ترقی کے لئے پاکستان میں جتنی بھی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی لیکن کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی، نادیدہ قوتوں نے دھونس، دھمکی اور لالچ سے ایسی ہر کوشش کو مٹی میں ملا دیا، بلکہ اسی طرح کی مخلصانہ کوشش کرنے والے افراد اور علماء کو ٹارگٹ کلنگ کرکے راستے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تنبیہ کردی کہ ان کا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حضرت یحیٰ اور حضرت زکریہ علیھماالسلام کو شہید کرکے یہودیوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور اللہ کے نقد عذاب کے مستحق ہوکر ذلت اور رسوائی کے گڑھوں میں گرے تھے۔
یاد رہے یہاں سیاسی فرقہ واریت سے مراد صرف اسلامی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں تو سب سے زیادہ فرقہ واریت پھیلا رہی ہیں، اگر ہم موجودہ دور کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں کے حالات کو دیکھیں تو یہاں اسی طرح کے فتوے، اور مناظروں کے چیلنج ہیں جو مذہبی فرقہ واریت کے عروج کے وقت ہوتے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اصطلاحات ، طریقہ کار اور انداز تبدیل ہوگیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے پی ٹی آئی والوں کو سیاسی گالیاں دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی والے بددیانتی،رشوت،کرپشن وغیرہ کے فتوے ان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان جماعتوں نے مسلمانوں خصوصا باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو فرعون کی طرح گِروہ گِروہ کررکھا ہے اور مزے سے باری باری حکمرانی کررہے ہیں۔
اس وقت اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت بھی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور غلبے کے لئے ناسور اور رکاوٹ ہے۔

Tuesday, November 3, 2015

جعلی حکیموں کا طریقہ

کچھ دن قبل ایک مشہور حکیم وعامل جاوید خان کو دیکھنے کے لئے کشمیر کے ضلع باغ کے علاقہ بیرپانی جانا ہوا،آج کل موصوف کا تذکرہ اور شہرت پورے پاکستان میں ہے، اس حکیم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے ساتھ افریقہ کے مشہور طبیب جنات کی ایک جماعت کام کررہی ہے چنانچہ حکیم صاحب ہر مرض کا علاج اور جنات کے ذریعہ ہر قسم خصوصا دل کا آپریشن بھی کرتے ہیں۔ مذکورہ حکیم کی سب سے اہم اور متاثر کن بات ہے کہ حکیم صاحب نے تبلیغی جماعت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے چنانچہ سر پر سُنت کے مطابق تبلیغی بھائیوں والی پگڑی، عربیوں والا جُبّہ، شلوار ٹخنوں سے اوپر اور مونچھوں پر استرا بھی پھیرا ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ موصوف نے مریضوں کی انتظار گاہ میں ایک بڑا بینر لگایا ہوا ہے جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا ہے: ”اللہ سے ہوتا ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا“۔ چنانچہ ہمارے ساتھ ایک بہت ہی سمجھدار شخصیت جو صرف اور صرف حکیم صاحب کو پرکھنے کے لئے گئی تھی اور وہاں پہنچتے ہیں انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ سب ڈھکوسلا ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس بینر پر نظر پڑتے ہی وہ بھی حکیم صاحب سے متاثر ہوگئے۔

حکیم جاوید کے ساتھ کئی لوگوں کا ایک پورا گروپ کام کررہا ہے، جن کی مختلف ذمہ داریاں ہیں، کچھ لوگ مریضوں کی رش کو کنٹرول کرتے اور لائنیں سیدھی کرنے پر مامور ہیں اور کچھ الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے چند ایک جڑی بوٹیوں کو پیسنے اور پانی میں ابال کر مکس کرکے ڈیڑھ لیٹر والی بوتلیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔جو جڑی بوٹیاں کوٹ کر مریضوں کو دی جاتی ہیں وہ کسی خاص مرض کی نہیں ہوتی بلکہ اینٹی بائیوٹیک قسم کی ہوتی ہیں یا معدہ جگر کی اصلاح اورجسم سے گرمی ختم کرنے والی ہوتی ہیں۔ پانی مختلف قسم کی چار پانچ بالٹیوں میں بھرا ہوا ہوتا ہے۔ حکیم جاوید مریض پر ”شُف“ کرتا ہے اور پھر ایک زور دار تھپڑ سینے پر مارتا ہے اور ایک پرچی پر دوائی لکھتا ہے، لکھتا کیا ہے چند ایک لکیریں پھیرتا ہے جو حکیم اور دوائی دینے والے کے درمیان کوڈ ورڈ کا کام کرتی ہیں۔حکیم کے پنسل پکڑنے کے انداز سے ہی پتا چلتا ہے کہ موصوف ”چِٹا اَن پڑھ“ ہے۔ پھر دوائی دینے والا ڈیڑھ لیٹر کی بوتل دے کر شکرانہ بکس میں اپنی مرضی سے کچھ ڈالنے کا کہتا ہے، اسی طرح پھکی دینے والا پھکی دے کر شکرانہ بکس میں کچھ رقم ڈالنے کا کہتا ہے۔اگر کوئی شخص کم رقم ڈالے تو اسی وقت میٹھی میٹھی بے عزتی بھی سب کے سامنے کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔

آپریشن کے لئے ایک بے ضرر قسم کا انجیکشن لگایا جاتا ہے ، پھر بلیڈ کے ساتھ آپریشن والے مقام پر معمولی سا کٹ لگا کر چار پانچ تھپڑ رسید کیئے جاتے ہیں اور پٹی کردی جاتی ہے۔ بے چارے لوگ گاڑیاں بک کرکے کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرکے وہاں پہنچتے ہیں، ظاہر ہے جو ایک بار اتنی دور جاتا ہے وہ دوبارہ اتنا سفر کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا جبکہ نئے نئے مریض ایک بار آزمانے کے لئے ہمت کرلیتے ہیں۔ اس طرح یہ فراڈ کاروبار جاری ہے۔

کچھ مردوں اور عورتوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خود مریض بن کر باقی مریضوں کو جھوٹے قصے کہانیاں اور جاوید خان کی کرامات سناتے ہیںکہ ہمیں فلاں بیماری تھی ہم حکیم صاحب کے دم سے ٹھیک ہوگئے۔ مردان کا ایک سرجن ڈاکٹر دل کا مریض تھا حکیم صاحب نے جنات کے ذریعہ اس کے دل کا آپریشن کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ اس طرح کے کچھ مرد اور خواتین کو پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی چھوڑا ہوا ہے، جو مختلف پبلک مقامات مثلا پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، پارکوں، اور ہسپتالوں کی انتظار گاہوں میں لوگوں کو حکیم صاحب کی کرامات اورشفایابی کی داستانیں سناتے ہیں۔

حکیم جاوید کے ڈیڑے پر پہنچتے ہیں کچھ خواتین فورا حرکت میں آجاتی ہیں اور مریض خواتین کو گھیرنا شروع کردیتی ہیں، حکیم جاوید بظاہر کسی قسم کی رقم کا مطالبہ تو نہیں کرتا مگر ہدیہ اور شکرانے کے نام پر بے حساب اوپن چندہ بکس لگائے ہوئے ہیں جو صبح سے شم تک بھر جاتے ہیں۔ خصوصا حکیم جاوید کے منہ کے آگے رکھا ہوا بکس تو ہزار ہزار کے نوٹوں سے بھر جاتا ہے۔حکیم جاوید کے چیلوں نے تو یہ بات تک مشہور کی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ آرمی والے آئے اور حکیم جاوید کو اٹھا کر لے گئے لیکن دوسرے دن معافی مانگتے ہوئے اپنی گاڑی میں واپس لا کر چھوڑ دیا، یعنی راحیل شریف بھی حکیم صاحب کے مرید ہیں۔

ایسے جعلی حکیموں اور عاملوں کی بہتات ہے جو معروف اشتہاری مہم کی جگہ نفسیاتی طور پر متاثر کرنے والی اشتہاری مہم چلاتے ہوئے مارکیٹنگ کے لےے ایسے خواتین وحضرات کو استعمال کرتے ہیں جو خود شفایافتہ مریض بک کر پبلک مقامات پر تشہیر کرکے جعلی عاملوں اور حکیموں سے بھاری معاوضہ لیتے ہیں۔عوام کو کسی بھی دھوکہ دہی سے بچنے کے لئے ہر ایک کی بات پر یقین نہیں کرنا چہیے، اصل ذمہ داری تو حکومت کشمیر کی بنتی ہے کہ وہ اس فراڈ کو ختم کرے لیکن شاید کشمیری حکومت اس لئے کچھ نہیں کررہی کہ اس فراڈ کے چنگل میں پھنسنے والے زیادہ تر پاکستانی ہوتے ہیں اور حکومت کشمیر کو روزانہ لاکھوں روپے زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے جس سے وہاں کی حکومت چل رہی ہے