Search This Blog

Monday, February 22, 2016

تیسری جنگ عظیم شروع ہوچکی ہے۔۔؟

سعودی فوج کے میجنر جنرل فہد بن عبداللہ المطیر نے ”شمال کی گرج“ کے عنوان سے جاری فوجی مشقوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تیاری کرنا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبداللہ المطیرنے جمعہ کے روز’شمال کی گرج‘ مشقوں کا دورہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سےبڑی مشقوں کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجی افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے جنرل المطیر کا کہنا تھا کہ شمال کی گرج مشقوں میں حصہ لینے والے جوانوں کو شیڈول کے مطابق اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ہدف کے تعین، عسکری تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے عسکری اور جنگی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’شمال کی گرج‘ مشقوں کے ذریعے ہم ان مشقوں میں شامل ممالک کی فوج کی جنگی مہارتوں کو بہتربنانے میں معاونت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حربی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان مشقوں کے بہترین اور مثبت نتائج جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے جنگی مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مشقیں اسلامی دنیا کی جانب سے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا اعتراف ہے۔ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جیتنا اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن واستحکام کا پیغام پہنچانا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مشقوں ’شمال کی گرج‘ میں متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سینیگال، سوڈان، کویت، مالدیپ، مراکش، پاکستان، چاڈ، تیونس، جزائرالقمر، جیبوتی، سلطنت آف اومان، قطر، ملائیشیا، مصر، موریتانیہ، مارشیس اور دیگر ممالک کے فوجیں حصہ لے رہیں۔ یہ فوجی مشقیں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔
“شمال کی گرج” کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں شریک ممالک کی تعداد اور مختلف اقسام کے فوجی ساز وسامان کے علاوہ جدید ترین ہتھیاروں اور اسلحے کے لحاظ سے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشق ہے۔ مشقوں میں 20 ممالک کے جدید ترین جنگی طیاروں، توپوں، ٹینکوں، فوجی دستوں، طیارہ شکن نظام، بحری افواج کی وسیع پیمانے پر شرکت صلاحیتوں کے اس حجم اور اعلی درجے کی عکاس ہے جو یہ ممالک رکھتے ہیں۔یہ مشقیں اس بات کا بھی واضح پیغام ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے شریک دوست اور برادر ممالک تمام تر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور خطے کا امن واستحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ان متعدد مقاصد کو بھی باور کرا رہی ہیں جو خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے مکمل تیاری کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
گذشتہ چھ سات ماہ پہلے سے ہی حالات کے تیور دیکھ کر ہی کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ 2016کے شروع تک تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، بلکہ کئی ماہرین نے تو یہاں تک بھی حساب کتاب لگالیا ہے کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ کون کون سے ملک متاثر ہوں گے اور کون کون سے ملک کم متاثر ہوں گے۔ اب چونکہ واقعتا حالات تیسری جنگ عظیم کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ جہاں تک اس جنگ کی تباہ کاریوں کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ ابھی سے ہی شام کے حالات، وہاں کے مختلف شہروں ”حمص‘ وغیرہ کے کھنڈرات، کروڑوں لوگوں کی ہجرت، لاکھوں کی شہادت اور بے یارومددگار بھوکے پیاسے پڑے ہوئے لوگوں سے کیاجاسکتا ہے۔شام ہی وہ ملک ہے جو حقیقی قیامت کا میدان بنے گا، لیکن اس حقیقی قیامت کے آنے سے پہلے بھی وہاں قیامت کا منظر ہے، عجیب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف ایران ،روس اور بشارالاسد کی فوجیں ہیں تو دوسری طرف امریکا کی سربراہی میں نیٹو اتحاد۔ بظاہر دونوں کے مفادات الگ الگ ہیں لیکن دونوں فریق شام کے مظلوم مسلمانوں کو ہی بمباری کا نشانہ بنا رہے ہیں۔جبکہ تیسری طرف 34اسلامی ممالک کا اتحاد سعودی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔ اسی طرح ترکی نے بھی شام میں گھس کر کاروائیاں شروع کردی ہیں، اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کا اس طرح کاروائیاں کرنا دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دھکیلنا ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد مسلمان ممالک نے ہمت کرکے کھلے عام نہ صرف اتنا بڑا اتحاد قائم کیا ہے بلکہ سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کرکے دنیا کو واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جنگی مشقیں شروع ہوتے ہی ان کا سب سے پہلا اثر روس پر پڑا ہے چنانچہ روس نے بشارالاسد کو وارننگ دی ہے کہ شام کے مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے ورنہ روس کسی بھی وقت اس اتحاد سے الگ ہوسکتا ہے۔ان تمام حالات سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ یہ جنگ مزید تیز ہوگی، اور حالات بالکل اسی طرف جارہے ہیں جن کی طرف احادیث میں واضح طور پر اشارے موجود ہیں۔ایسے حالات میں ہمیں بھی ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت کی دعا کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

Wednesday, February 17, 2016

فرقہ واریت اور مولانا طارق جمیل

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
گذشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں زید حامد نے مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف کافی باتیں کیں، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی شور شرابہ ہوا، اور پھر ایک دو ن بعد پنجاب حکومت نے بھی تبلیغی جماعت پر تعلیمی اداروں میں تبلیغ کرنے پر پابندی لگا دی۔ چنانچہ اس شور شرابے میں مَیں اس طرف متوجہ ہوا کہ دیکھوں تو سہی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے، میں نے پہلے ایک ویڈیو دیکھی پھردوسری اور کرتے کرتے ایک ہفتے میں بیسیوں ویڈیو اور بیانات مولانا طارق جمیل صاحب کے سن لیے۔ وہ چند باتیں جو ان کے ہر بیان میں تھیں ان کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔ان باتوں کو پڑھ کر آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پابند ی کس کے حکم سے لگی۔
اللہ کے واسطے میری سنو! آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو،فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو، مسلم بن کے رہو،مومن بن کے رہو۔جس فرقے سے ہو تمہیں مبارک ہو،جس مسلک پر ہو تمہیں مبارک ہو۔ اللہ کے واسطے اور وںکو بھی مسلمان سمجھو۔اوروں کو بھی ایمان والا سمجھو، اوروں کے لئے بھی جگہ بناو۔اوروں کو بھی راستہ دو، جنت بہت بڑی ہے۔خود جنت کے ٹھیکیدار نہ بنو، اسلام کے ٹھیکیدار نہ بنو، اللہ کے ٹھیکیدار نہ بنو، تھانیدار نہ بنو اوروں کے لئے بھی راستہ کھلا رکھو۔جوبھی تمہارا مسلک ہے دل میں رکھو، اوپر چھاپ نہ لگاو، چھاپ امت کی لگاو۔ایک دوسرے پر توپیں کَسی ہوئی ہیں، یہ کافر وہ کافر۔پھر دنیا میں مسلمان ہے کون؟میری فریاد ہے، نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، شہائیوں میں کسی کا نوحہ کون سنتا ہے؟لیکن میں کہوں گا(روتے ہوئے)مجھے پتا ہے میں اس فرقہ واریت کی آگ کو نہیں بجھا سکتا لیکن میں اللہ کی بارگاہ میں ابراہیم کا کبوتر بن کر پیش ہوں گا۔
ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں علماءسے کہتا ہوں اللہ کے واسطے امت کو دین سمجھاو فرقے نہ سمجھاو۔ اس ممبر کو محبت کے لئے باقی رکھو۔ اس ممبر سے آگ نہ بڑکاونفرتوں کی۔میں تمہیں کہتا ہوں بچو ایسی تقریروں سے ایسی کتابوں سے جن سے تم دوسرے مسلمان کے لئے نفرت لے کر اٹھو۔ہروقت دوسروں پر چڑہائی، کبھی اپنے اوپر بھی چڑہائی کیا کرو۔میں علماءکو ہاتھ جوڑتا ہوں، ہاتھ جوڑتا ہوں جب ممبر پر آو تو اسلام پیش کرو، امت کو ٹکڑوں میں تقسیم مت کرو۔
ایک اور بیان میں کہا:
مجھے بتاو تم میرے نبی کے ساتھ کیا کررہے ہو؟ وہ تمہیں فرقوں میں بانٹ کر گئے تھے یا امت بنا کر گئے تھے؟ کیوں اس نادان کھیل میں اپنی زندگی برباد کرتے ہو؟کیوں نہیں مسلمان بن کر رہتے ہو؟ اس امت میں اختلاف شروع سے ہے ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک نہ جاو کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا شروع کردو۔سنیوں نے کہا وہابی کافر، وہابیوں نے کہا سنی کافر۔بریلویوں نے کہا دیوبندی کافر، دیوبندیوں نے کہا بریلوی کافر۔جنت میں کون جائے گا؟کچھ بھائیو میرے نبی کی محنت کی قدر کرو۔میرے نبی تو غیروں کو اپنا بنانے آئے تھے ہم نے اپنوں کو غیر بنادیا۔اس نفرت کی آگ سے کتنے سر کٹ چکے، کتنے سہاگ اجڑ گئے،کتنی مائیں بے آسرا ہوگئیں، کتنی جوان بیٹیوں کی مانگ ویران ہوگئی،(روتے ہوئے) کیا اسی کا نام اسلام ہے؟ اسی کا نام عشق رسول ہے؟اسی کو دین کہتے ہیں؟
ایک دوسرے کی مسجدوں میں نہیں جاتے ہو، ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھتے ہو۔جنت کے ٹھیکیدار بن گئے ہو۔میرے نبی تو عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھانے کھڑے ہو گئے تھے، جس کا کفر ابوجہل سے بھی بڑا ہے۔ ابوجہل اوپر کی دوزخ میں ہے، عبداللہ بن ابی نیچے کی دوزخ میں ہے۔یہ دین تم کہاں سے لائے ہو جس میں تم فرقوں میں بٹ گئے ہو۔نفرتوں کی آگ تم نے لگا دی ہے۔ یہ کہاں سے اسلام آیا ہے؟میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں امت بن کر رہو، مسلم بن کر رہو۔ اپنے اپنے عقیدے پر پکے رہو، دوسرے کے لئے گنجائش رکھو۔
پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
 ہائے کفر کے فتوے،میں دھماکوں سے اتنا پریشان نہیں، کیونکہ جو مررہے ہیں شہید ہو رہے ہیں، اور جو ظالم ہیں اگر یہاں نہ پکڑے گئے تو ایک دن اللہ نے رکھا ہے۔ اس سے میرا ملک تباہ نہیں ہوگا اس سے میرے ملک میں طاقت آئے گئی، کیونکہ قربانی سے طاقت آتی ہے۔حضرت حسین نے قربانی دی جبکہ شمر،یزید نے ظلم کیا ان کا نام ونشان مٹ گیا۔جوچیز مجھے تڑپاتی ہے، رولاتی بھی پھر میں فریاد بن کر بولتا ہوں۔فرقہ واریت،فرقہ واریت،فرقہ واریت۔ممبر رسول محبت کے لئے ہے فرقہ واریت کے لئے نہیں ہے۔لیکن ہمارا خطیب آتا ہے ایسی تقریر کرتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں آگ لگا دیتا ہے۔اور ایک کو دوسروں سے متنفر کرکے نکل جاتا ہے، وہ اپنے پیسے کھرے کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں آگ بھر کے چلا جاتا ہے۔یہ میرے دیس کا سب سے بڑا روگ ہے۔معاملات میں سود،سود ، سب سے بڑا روگ ہے۔دین میں فرقہ واریت سب سے بڑا روگ ہے۔اور معاشرت میں بداخلاقی سب سے بڑا روگ ہے۔یہ وہ سوراخ ہیں جہاں سے پانی گیا تو کشتی ڈوب جائے گی، ملاحوں کو کیا گلا دینا کہ جب مسافر ہی کلہاڑیاں لے کر، کدالیں لے کر، آریاں لے کر تختوں کو کاٹ رہے ہیں۔میں ہواوں کو کیا کہوں میں طوفانوں کا کیوں گلہ کروں۔
تواِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں،تیری رہبری کا سوال ہے
انگلینڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
اللہ کے واسطے امت بنو، اس امت میں اختلاف رہے گا۔ اختلاف کے باوجود محبت کا حکم دیا گیا ہے۔لیکن ہماری نفرت یہاں تک چلی گئی ہے کہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے،ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں۔ کسی کو کافر کہنا اتنا آسان ہے؟، اچھا چلو وہ اگر کافر ہے لیکن کہتا یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں تو ایسے شخص کو میرے نبی نے سینے سے لگانا سکھایا ہے، دھکہ دینا تو نہیں سکھایا۔عبداللہ بن ابی سے بڑکر کون کافر ہوگا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا۔ جہنم کے ساتھ قید خانے ہیں، ۱۔جہنم۲۔حطمہ۳۔لظی۴۔سعیر۵۔سقر۶۔جحیم۷۔ہاویہ۔ ابوجہل چھٹے درجے جحیم میں ہے جبکہ عبداللہ بن ابی ساتویں درجے ہاویہ میںہے۔میرے نبی نے تو منافقوں کو بھی سینے سے لگایا، (اس کا جنازہ پڑھایا،کرتا دیا، اپنا لعاب اس کے منہ میں ڈالا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا)۔عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اپنے باپ کو دیا تو اس نے یہ کہہ کر پینے سے انکار کردیا کہ پیشاب لے آو وہ پی لوں گا یہ نہیں پیوں گا۔ اس کے بیٹے نے اپنے باپ اس توہیں پر قتل کرنے کی اجازت مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لوگ کہیں گے محمد اپنے پاس بیٹھنے والوں کو قتل کرتا ہے۔تم اس کی امت ہوکر فرقہ واریت میں بٹ گئے، تم کیا میسج دے رہے ہو پوری دنیا کے مسلمانوں کو۔چھوٹے چھوٹے اختلاف پر یہ کافر وہ کافر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک منافق کا پتا تھا کہ فلاں فلاں منافق ہے لیکن آپ نے زندگی بھر کسی کو نہیں بتایا، سب کو سینے سے لگایا ہے۔
اپنے مدرسے کے طلباءکو خطاب کرتے ہوئے کہا:
 میں آپ سے کہتا ہوں اپنے عقائد پر پختہ رہو لیکن دیوبندی بن کرنہ چلو، بلکہ امتی بن کر چلوامتی بن کرچلو، اس بھڑکتی آگ کو بجھانا ہے، بڑھانا نہیں بجھانا ہے۔تبلیغ کے کام نے یہ فاصلے مٹائے ہیں، تبلیغ کا کام نہ ہوتا تو کتنی بڑی تباہیاں انسانیت کو دیکھنی پڑتیں۔تو آپ کا سال شروع ہورہا ہے، آپ بہت اچھے بچے ہو، بہت نیک بچے ہو۔میری مدد کرو میں آپ کی مدد کا محتاج ہوں۔جس کی اتنی زیادہ اولاد ہو،دو تین سو بیٹے ہوں اور سارے دعا کررہے ہوں تو اللہ کسی کی تو سنے گانا، ایک یہ کہتا ہوں کہ دیوبندی بن کر نہ چلوامت بن کر چلو، ہم عقائد میں اہل سنت والجماعت ہیں۔بریلوی مفتی محمدخان قادری صاحب کی اس بات پر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ دیوبندی، بریلوی،اہل حدیث سب اہل سنت والجماعت ہیں۔میں یہ سینہ دیکھنا چاہتا ہوں، گھٹا ہوا سینہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ آپ اپنے سوا کسی کو جنتی ہی نہ سمجھو، اپنے سوا سب کو گمراہ سمجھو۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
مذہبی تعصب کی آگ زرعی یونیورسٹی سے نہیں اٹھی، وہ گورنمنٹ کالج، گورنمنٹ یونیورسٹی سے نہیں اٹھی،وہ فیصل آباد کے آٹھ بازاروں سے نہیں اٹھی۔یہ آگ ممبر سے بھڑکائی گئی ہے۔اس کے قصور وار پروفیسر نہیں ہیں، عوام نہیں ہیں، اس کے قصور وار ممبر والے ہیں۔جو ممبر محبت کے لئے تھا وہی ممبر نفرت کی آگ آگ آگ، تقریر نہیں ہوتی شعلے نکل رہے ہوتے ہیں۔اور اس میں گھر نہیں جلتے بدن جل رہے ہیں، ایمان جل رہے ہیں۔اور اس حد تک نفرت ہے کہ ایک دوسرے کو سلام بھی نہیں کرتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔ اس نفرت کے ساتھ ہم اللہ کی قسم اللہ کی نظروں سے گِر جائیں گے۔جو تمہارا عقید ہے اس پر پکے رہو لیکن کسی کو جہنمی نہ کہو، کسی کو جھٹ سے کافر نہ کہو۔

Monday, February 15, 2016

رشتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
اس وقت پاکستان میں تین کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ تین لاکھ سے زائد لڑکیاں شادی کے خواب دیکھتے دیکھتے شادی کی عمر گزار چکی ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں دو سے زائد لڑکیاں ہیں۔ہر آٹھویں گھر میں لڑکیوں کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور انہیں موزوں رشتے دستیاب نہیں۔
لڑکیوں کے والدین اچھے کھاتے پیتے لڑکے کے انتظار میں لڑکیوں کو گھر بٹھائے رکھنے پر مجبور ہیں جب ان لڑکیوں کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور 35 سال کی ہو جاتی ہیں تو پھر وہ اَن پڑھ اور عام رشتے ہی قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جبکہ لڑکے لڑکیوں سے تعلیم کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔ بیس سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شرح دس فیصد بھی نہیں رہی لڑکے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا بہانہ اور نوکری لگنے کا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ لڑکیوں کی شرح پیدائش بھی لڑکوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں شادی مزید گھمبیر مسئلہ بن جائے گی ان خطرناک حالات میں ترغیب نہیں بھر پور تحریک کی ضرورت ہے۔
جب کسی چیز کی بہتات ہوجائے تو اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے، لوگ اس کی قدر نہیں کرتے، اس کی حفاظت نہیں کرتے، اس پر چوکیدار نہیں بٹھاتے، اسے چھپاتے نہیں، اگر کوئی اس کی ناقدری کرے تو پرواہ نہیں کرتے۔ مثلا آپ پانی کو لے لیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ نے پانی وافر مقدار میں دیا ہے ، پینے کے لئے ہمیں مفت میں دستیاب ہے، آپ کسی سے پانی کا گلاس مانگیں ، کسی ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے پانی کا گلاس پی لیں آپ سے کوئی پیسے نہیں مانگے گا، آپ پانی کا گلاس گرا دیں آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔پانی کے مقابلے میں آپ پٹرول یا سونے کو لے لیں یہ دونوں قیمتی چیزیں ہیں لوگ ان کی قدر کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، چوکیدار بٹھاتے ہیں اگر کسی کے پاس سونا ہوتو ہرکسی کو نہیں بتاتا کہ میرے پاس سونا ہے اسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہ دونوں قیمتی ہیں ، مقدار میں کم ہیں، مانگ زیادہ ہے۔یہ اصول تقریباً ہر چیز کا ہے۔بالکل اسی طرح کا معاملہ اس وقت عورت کا بھی ہے۔ دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔اس قدروقیمت کو ختم کرنے میں ہمارے دشمن کے ساتھ ساتھ ہماری عورت کا اپنا قصور بھی ہے۔لوگوں کی بیٹیوں کو رشتے نہیں مل رہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ، زنا عام ہورہے ہیں، جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہوجائے اس معاشرے میں زنا سستا ہوجاتا ہے۔آپ نکاح کا تصور کریں آپ کے ذہن میں فوراً ڈیڑھ دو لاکھ کا بجٹ آجائے گا، لیکن زنا کا سوچیں تو صرف چار پانچ سو میں دستیاب ہے(نعوذ بااللہ)۔بعض والدیں اپنی بیٹیوں کو کسی کے ساتھ دوستی لگاتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں مگر صرف نظر کرلیتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ کسی طریقے سے دوستی لگ جائے اور ہماری بیٹی کو رشتہ مل جائے۔اگر آج کے مسلمان نبیوں اور صحابہ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے ایک سے زائدشادیاں کرنا شروع کردیں تو کنواری عورتوں کی تعداد کم ہوجائے گی، جس سے ان کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا۔ مانگ زیادہ ہوگی تو قیمت بڑھ جائے گی، لوگ اپنی بیٹی کو چھپا کر رکھیں گے بے دین بھی اپنی بیٹی سے پردہ کروائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے سے پیدا کی ہے:(انا کل شءخلقناہ بقدر)ہم نے ہر چیز کو ایک متعین اندازے سے پیدا کیا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شی کو حکمت کے ساتھ ایک اندازے سے پیدا کیا ہے تو جس خالق نے مردوں میں عورتوں سے زائد جنسی رغبت رکھی اس نے اسی حساب سے مردوں کے مقابلے میں زائد عورتوں کو پیدا بھی کیا ہوگا، تاکہ ایک مرد اپنی اس فطرت کے موافق عورتوں کو خواہ وہ عورتیں اپنی قوم کی ہوں یا اگر اپنی قوم میں عورتوں کی تعداد کم ہو تو دوسری اقوام کی عورتوں سے نکاح کرکے بیک وقت متعدد کو بسہولت نکاح میں جمع بھی کرسکتے۔بیل ، گائے، بکرا، بکری اور مرغا، مرغی وغیرہ میں نرومادہ کی شرح پیدائش اس لئے برابر ہوتی ہے کہ ان اجناس میں ”نر“ ذبح ہونے اور گوشت کھانے کے لئے یا کسی اور طرح سے مرنے کے لئے ہوتے ہیں، توالدوتناسل کے لئے صرف ایک نر متعدد مادہ کے لئے رکھا جاتا ہے۔عین اسی اصول کے مطابق عجیب بات ہے کہ وہ قوم جس کے مرد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے کثرت سے قربان اور شہید ہونے لگیں تو مشاہدہ ہے کہ اس قوم میں اللہ تعالیٰ لڑکوں کی شرح پیدائش بڑھادیتے ہیں۔چنانچہ افغانوں کے ہاں سنا ہے کہ لڑکوں کی شرح پیدائش لڑکیوں سے زیادہ ہے۔فلسطین میں بھی یہی صورتحال ہے۔
اولیا کی طرف سے نکاح میں بے جا تاخیربھی تشویش ناک صورتحال اختیار کرچکی ہے،بعض والدین کی یہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچی کے لئے آنے والے پیغام نکاح کو فضول قسم کی باتوں کی وجہ سے رد کردیتے ہیں۔ مثلا بعض والدین کئی کئی پیغام نکاح مہر کی زیادتی کی تلاش میں ٹھکرا دیتے ہیں، بعض لڑکے میں یا اس کے خاندان میں فضول قسم کے عیب نکال کر پیغام نکاح ٹھکرا دیتے ہیں، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی عمر کا ایک بہترین حصہ گزار لیتی ہے اس کے بعد اس کے پیغام آنا بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ ساری عمر گھر میں گزارتی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب کسی گھر میں کوئی بچی جوان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کے دل میں یہ الہام کرو کہ وہ جا کر اس بچی کا رشتہ مانگیں ، فرشتے مختلف لوگوں کے دلوں میں یہ الہام کرتے ہیں کہ وہ جا کر فلاں لڑکی کا رشتہ اپنےلڑکے کے لئے مانگیں ، اس طرح کچھ لوگ اس بچی کا رشتہ مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔ اب اگر بچی کے والدین سمجھدار ہوں تو وہ اس پیغام نکاح کو قبول کرلیتے ہیں ورنہ جب وہ اس پیغام نکاح کو ٹھکراتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اب اپنی بچی کے لئے رشتہ خود تلاش کرو اس طرح پھر انہیں رشتہ نہیں ملتا اور وہ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ ہماری بچی کا رشتہ نہیں آرہا۔
ایسے والدین کے بارے میں علمائے حنابلہ جن کا مذہب ہے کہ بلا اجازت ولی عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک بھی اگر کسی لڑکی کا باپ زیادہ مہر کی لالچ میں لڑکی کو گھر میں بٹھائے رکھے اور پے درپے متوجہ ہونے والے رشتوں کو مسلسل رد کرکے بچی کے نکاح میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بن رہا ہو تو اس عمل سے لڑکی کے باپ کی ولایت ساقط ہو جائے گی۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک جید حنبلی عالم شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ ایک فتوے میں فرماتے ہیں:آپ نے بعض لوگ دیکھے ہوں گے کہ جنہیں ان کی بچی کےلئے نکاح کا پیغام بھیجا جاتا ہے اور پیغام بھیجنے والا اس لڑکی کا ہم پلہ(کفو) بھی ہوتا ہے مگر اس کا باپ اسے مسترد کردیتا ہے، پھر ( اس جیسا) کوئی دوسرا پیغام بھیجتا ہے اسے بھی اور پھر اس کے بعدایسے کسی تیسرے کو بھی مسترد کرتا رہتا ہے تو جو شخص ایسی عادت کا ہو تو بچی کے نکاح کے معاملے میں اس کی ولایت ساقط ہوجائے گی اور اس باپ کے سوا کسی دوسرے قریبی ولی کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرادے(اگرچہ باپ راضی نہ ہو)۔
آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔
 خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
poly

Tuesday, February 2, 2016

اپنے بچوں کو سوشل سائنس پڑھائیں

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
دنیا کے کامیاب ترین لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یا دنیا پر حکمرانی کرنے والے لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اور اس پر کچھ تبصرہ آج کا میرا موضوع ہے۔دنیا میں کامیاب ترین رہنماوں کی 55فیصد تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سائنسی علوم نہیں حاصل کیے، بلکہ ان کی کامیابی کا راز غیر سائنسی علوم تھے۔یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ برٹش کونسل کی ایک تحقیق اور سروے کی رپورٹ ہے جو اس نے 30سے زائد ممالک کے 1700افراد پر کی۔تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماوں نے سوشل سائنس اور ہیو مینٹیز کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیو مینٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔
پولٹیکل سائنس اور سوشل سائنس یعنی سماجی علوم یا معاشرتی علوم وہ علوم ہیں جن میں ہم لوگ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ یہی وہ علوم ہیں جن کو پڑھ کر یا مہارت حاصل کرکے کچھ لوگ دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں، چونکہ ان کو ان علوم کی اہمیت کا خود اندازہ ہے اسی لئے وہ اپنے بچوں کو بھی یہی علوم پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ یورپ وغیرہ میں ڈاکٹری،انجینئرنگ وغیرہ سیکھنے یا پڑھنے کا اتنا زیادہ رجحان نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک کے ڈاکٹر اور انجینئرز دھڑا دھڑ یورپ ایکسپورٹ ہورہے ہیں۔ یورپ والوں کی نظر میں میڈیکل سائنس، الیکٹریکل سائنس، کمپیوٹر سائنس وغیرہ عام سے کام ہیں اسی لئے ان کاموں کے لئے وہ دوسرے محکوم ممالک سے لوگوں کو بلاکر ملازم رکھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ڈاکٹری ایک پیشہ ہے لہٰذا وہ اس پیشے والے کو تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں جبکہ اپنے بچوں کو وہ سوشل سائنس،پولٹیکل سائنس پڑھاتے ہیں تاکہ ہمارے بچے حکمرانی کریں اور باقی لوگ ڈاکٹر،انجینئرز وغیرہ ہمارے ملازم ہوں اور ہمارے ماتحت رہ کر ہماری خدمت کریں۔ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی سے فراغت حاصل کرکے پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والے لڑکوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات کی لالچ دے کر امریکا لے گیا۔ میرا ایک جاننے والا سپین میں رہتا ہے ایک دن فون پر بات ہورہی تھی اس نے کہا میرے دانت میں درد ہے آج ڈاکٹر کے پاس گیا تھا اس نے ٹوکن دے دیا ہے اب پندرہ دن بعد میری باری آئے گی پھر وہ چیک کرے گا اور دوا دے گا، اس نے بتایا یہاں ڈاکٹر بہت کم ہیں اس لئے چیک اپ کروانے کے لئے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ ہمارے پاکستان میں ہسپتالوں میں مریضوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں، اگر کسی مریض کو دس منٹ بھی انتظار کرنا پڑے تو منہ چڑھا لیتا ہے۔ہرسال ہزاروں پاکستانی میڈیکل،انجینئرنگ اور دیگر فنون میں اعلیٰ تعلیم سے فراغت کے بعد بڑی آسانی سے یورپ میں سیٹ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہاں ان کی بہت ڈیمانڈ ہے وہاں کے مقامی لوگ ان چیزوں میں خود دلچسپی نہیں رکھتے وہ یہ کام دوسرے لوگوں سے لیتے ہیں، خود نگرانی اور ایڈمنسٹریشن کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی جو چند خاندان پچھلے ساٹھ ستر سال سے سیاست کرتے آرہے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو سوشل سائنس اور پولٹیکل سائنس ہی پڑھاتے ہیں کیونکہ ان کو بھی اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔
یہ علوم اصل میں تو ایک مسلمان کے لئے ضروری تھے، کیونکہ اللہ نے اسے زمین پر اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا، نبی اللہ کے خلیفہ ہوتے تھے،اللہ کا آخری خلیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے، پھر ان کے بعد نائبین تھے۔ لیکن مسلمانوں نے نبی کا نائب بننے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی چنانچہ آج غیرمسلم اقوام دنیا پر حکمرانی کررہی ہیں اور مسلمان ان کی غلامی میں ان کی خدمت اور محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے بھی بکریاں چَرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں، میں قریش کی بکریاں چرایا کرتا تھا چند قیراط پر(مشکوة)۔ علماءنے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی نے آگے جاکر قوم کی قیادت کرنی ہوتی ہے، قوم کو لے کر چلنا ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ بچپن میں نبی سے بکریاں چروا کر اس کی تربیت فرماتے ہیں ، کیونکہ ایک چرواہا سینکڑوں بکریوں کو کنٹرول کرتا ہے کبھی کوئی بکری ایک طرف بھاگتی ہے کبھی دوسری طرف اسے بھاگ بھاگ کر ان کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اس طرح اس کی تربیت ہوتی ہے کہ انسانوں کے بے لگام ہجوم کو کس طرح اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔
موجودہ دور میں جس طرح ہر چیز نے ترقی کی ہے اسی طرح بکریاں چروا کر جو تربیت ہوتی تھی وہ بھی اب باقاعدہ ایک علم بن گیا، جو بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔اسی علم کو آج سوشل سائنس، پولٹیکل سائنس ،عمرانیات وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے۔سمجھدار لوگ ان علوم میں مہارت حاصل کرکے لوگوں کے دل ودماغ اور وجود سے کام لیتے ہیں ۔سوشل سائنس اور سماجی علوم کی کئی شاخیں ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے اپنے کاروبار چلاتی ہیں، وہ ماہرین لوگوں کی نفسیات کے مطابق پروڈکٹ میں تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں، اسی طرح ایڈورٹائزنگ کا شعبہ بھی ایسے ہی لوگ چلاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی طبقہ جن کے اخلاص للٰہیت اور دینی خدمات میں کوئی شک نہیں، بدقسمتی سے ان علوم سے نابلد رہا۔ بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ایک خاص سازش کے تحت اس طبقے کو باقاعدہ منظم منصوبہ بندی سے محروم رکھا گیا، اور اس کام کے لئے علماءکی سادگی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ جس طرح ایک تین چار سال کا بچہ ضدی ہوتا ہے، کبھی اسے کہیں دودھ پیو تو وہ کہتا ہے میں نہیں پیوں گا۔ پھر اسے کہو یہ دودھ نہیں پینا تو وہ کہتا ہے میں ضرور پیوں گا، اسی طرح علماءکو مرحلہ وار اس سٹیج پر لایا گیا کہ وہ ضد میں آگئے اور انہوں نے جدید علوم کو سیکھنے سکھانے سے انکارکردیا۔ جن لوگوں نے اس سٹیج تک لایا انہوں نے اس بات پر اور پکا کرنے کےلئے کئی حربے آزمائے، الٹے سیدھے کام کرکے علماءکو کہتے کہ یہ پڑھاو ، علماءضد میں آکر کہتے نہیں ہم نہیں پڑھائیں گے۔ چنانچہ اس طرح پچھلی دو صدیوں سے دینی طبقے کو بالکل دیوار سے لگا دیا گیا۔ اب چند سال ہوئے کہ دینی طبقے کو ہوش آیا اور انہوں نے کچھ نہ کچھ اس طرف توجہ کی ہے،لیکن ظاہر ہے اس کے نتائج برآمد ہونے میں چالیس پچاس سال تو لگیں گے، اگر یہ کام پچاس سال پہلے کیا ہوتا تو آج بڑے بڑے دینی ماہرین حکومت،فوج،عدلیہ اور دیگر اداروں میں قیادت کررہے ہوتے۔ان علوم سے ناواقفیت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ علماءکو یہ لوگ اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس بات کا احساس تک علماءکو نہیں ہوتا، ویسے تو اس کی کئی مثالیں ہیں لیکن میں ایک مثال دیتا ہوں، چند سال قبل ایک چینل پر ایک طویل ڈرامہ قسط وار چلنا شروع ہوا، اس چینل نے روٹین کے مطابق اس کی ایڈورٹائزنگ کی یعنی ٹی وی، اخبارات وغیرہ میں۔ اس کے ساتھ ساتھ علماءکے ذریعے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ کرانے کا فیصلہ ہوا، چنانچہ چند لوگوں کوایسے مختلف علماءکے پاس بھیجاجو خطیب اور مقرر تھے، ان لوگوں نے مختلف شہروں میں علماءسے مل کر انتہائی نیازمندی سے کہاحضرت فلاں چینل پر ایک ڈرامہ شروع ہونے والا ہے، اس ڈرامے میں قرآن پاک کی توہین کی گئی ہے،آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ چنانچہ خطیب صاحبان نے نہ تحقیق کی اور معلومات لیں، بس ایک سنی سنائی بات پر جمعے کی تقریروں میں مسجد کے ممبر ومحراب سے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ شروع ہوگئی،کہ فلاں ڈرامے کو بندکیا جائے، حکومت ایکشن لے، اب لوگوں میں بھی تجسس پیدا ہوا اور پورے ملک کی عوام اس ڈرامے کو دیکھنے لگی۔ ظاہر ہے اس ڈرامے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی اس لئے حکومت یا عدلیہ کو کسی قسم کا ایکشن لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
اگر ہم ان مفید علوم سے اسی طرح کنارہ کش رہے تو دوسرے لوگ ہمیں اسی طرح اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہیں گے۔ اگر ہم قوم کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں قیادت کرنے علوم میں مہارت ،تعلیم اور تربیت بھی ضرور حاصل کرنی ہوگی۔ڈاکٹر محمد رفعت پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ لکھتے ہیں: مسلمان طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ سماجی علوم کی اہمیت کو طبعی علوم سے کم نہ سمجھیں۔ ان علوم کو مغربی دنیا میں جس طرح ترتیب دیا گیا ہے اس کا تنقیدی جائزہ لیں۔ صحیح اور غلط تصور کائنات میں امتیاز کریں اور انسانی وجود اور کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ان نشانیوں کا ادراک کریں جو درست تصور کائنات کی تصدیق کرتی ہیں۔ مغربی افکار پر تنقید کے ساتھ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ مبنی برحقیقت تصور انسان و کائنات کے مطابق، معلومات کو ترتیب دیں اور نئی معلومات کی دریافت و تحقیق کا کام اس جذبے کے ساتھ انجام دیں کہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جو ان عالم گیر قدروں پر استوار ہو جن کو انسان کی فطرت صالحہ پہچانتی ہے اور وحی الٰہی جن کی تصدیق کرتی ہے۔