Search This Blog

Saturday, July 30, 2016

کارو کاری یا طور طورہ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
ہرسال دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں ہزاروں عورتوں کو ان ہی کے عزیز و اقارب کی جانب سے خاندان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ قاتلوں کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی شناخت خاندان کے نام و شہرت سے جڑی ہے۔چنانچہ جب بھی خاندان کو بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے، رشتے دار قاتل بن جاتے ہیں۔ وہ قتل ہی کو صورت حال کا واحد حل تصور کرتے ہیں۔ یہ رسم پاکستان،بھارت سمیت عرب ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح غیر مسلم ممالک، یورپی ممالک اور امریکا میں بھی ہر سال ہزاروں عورتوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ صرف امریکا میں ہرسال تین ہزار عورتیں گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کے چکر میں قتل ہوجاتی ہیں۔پاکستان کے چاروں صوبوں یہ رسم پائی جاتی ہے۔ یہاں کے قبائل کے خیال میں اس طرح کا قتل نہ صرف جائز بلکہ اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔
سیاہ کاری ،کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے۔مذکورہ نام ایک دوسرے کے مترادف ہیں جو مختلف علاقوں میں بولی جانیوالی زبانوں کے مطابق بنائے گئے ہیں۔بلوچستان میں اسے ’’سیاہ کاری‘‘ کہا جاتاہے جس کا معنی بدکاری ،گنہگار ہے۔ سندھ میں اسے ’’کاروکاری‘‘ کہا جاتا ہے کاروکامطلب سیاہ مرد اور کاری کا مطلب سیاہ عورت ہے۔ پنجاب میں’’ کالا کالی‘‘ اور خیبرپختون خواہ میں ’’طور طورہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ کالے رنگ کے مفہوم کی حامل یہ اصطلاحات زناکاری اوراس کے مرتکب ٹھہرائے گئے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔سیاہ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر نکا ح کے بغیر جنسی تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق رکھنے والی عورت کو سیاہ یا سیاہ کار کہتے ہیں۔اور ایسے مجرم کو قتل کرنے کے عمل’’ کو قتلِ غیرت ‘‘ اور انگریزی میں ’’Honour Killings‘‘کہتے ہیں۔کاروکاری اور قتل غیرت میں معمولی سا فرق بھی ہے۔ وہ یہ کہ کاروکاری میں قبیلے یا خاندان کے بڑے جمع ہوکر ایک جرگے کی صورت میں قتل کا فیصلہ سناتے ہیں اور پھر قتل کیا جاتا ہے۔ جبکہ قتل غیرت میں خاندان کا کوئی فرد از خود غیرت میں آکر بغیر کسی جرگے کے قتل کردیتا ہے۔ 
یہاں یہ نکتہ بتانا بھی نہایت ضروری ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا اور اس کے صحافی قتل کے فریق قبائلیوں،ودیڑوں،اور اس رسم کو اپنی ہزاروں سال پرانی تہذیب کہنے والوں کو اپنے پروگرام میں مدعو نہیں کرتے بلکہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے فورا اپنے پروگرام میں کسی ایسے مولوی کو بلا لیا جاتا ہے، جس بیچارے کو شاید کاروکاری کا معنی بھی نہ آتا ہو۔ سوچنے کی بات ہے قتل بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں قبائلی جرگے کے حکم پر ہوا اور میڈیا کے کرائم رپورٹر تفتیش راولپنڈی کے کسی محلے کے امام مسجد سے کررہے ہوتے ہیں۔ بات تو تب بنے کہ یہ رپورٹ اور اینکر ذرا بلوچستان کے اس قبیلے میں جاکر ان سے پوچھیں کہ قتل کیوں کیا؟تمہارے پاس قتل کا کیا جواز ہے؟پھر پتا چلے کہ اینکر میں کتنا دم خم ہے۔ ساری بھڑاس بیچارے بیوقوف مولوی پر نکال لی جاتی ہے جو ٹی وی پر آنے کے شوق میں ایسے پروگراموں میں پہنچ جاتا ہے۔
اس رسم کا غلط استعمال بھی بہت عام ہے۔ لوگ اپنے کسی دشمن کو تنہا پا کر مار دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی خاندان کی کسی عورت کو جو بڑھیا یا بچی بھی ہو سکتی ہے، کو مار کر دشمن کی لاش کے نزدیک ڈال دیتے ہیں اور بیان دیتے تھے کہ انہیں غلط کام کرتے دیکھا گیا تھا اس لیے غیرت میں آ کران دونوں کو مار دیا گیا۔ عورتوں کے قتل کے جتنے واقعات ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر قتل، قتلِ غیرت ہی ہوکبھی خاندانی دشمنی،تقسیم میراث وغیرہ دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں موجود مغرب کی پروردہ ’’این جی اوز‘‘ ہر قتل کو قتل غیرت قرار دینے پر اصرار کرتی ہیں، اور پھر اس سانحہ کو خوب بیچا جاتا اور اس کی آڑ میں مغرب سے فنڈ وصول کیے جاتے ہیں۔پھر ہمارے معاشرے میں جتنے قتل ہوتے ہیں ان کا اگر موازنہ کیا جائے تو مردوں کے قتل کے مقابلے میں عورتوں کا قتل نصف سے بھی کم ہے۔مرد بھی آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے قتل کو قتل غیرت شمار نہیں کیا جاتا، چونکہ مردوں کے قتل پر فنڈ نہیں ملتے اس لئے مردوں کے قتل کو کوئی اور رُخ دے دیا جاتا ہے۔ مثلا مردوں کی اچھی خاصی تعداد اس لئے قتل ہوتی ہے کہ انہوں نے کسی عورت یا لڑکی کو چھڑا تھا اور پھر عورت کے رشتہ دار نے غیرت میں آکر اس چھیڑنے والے لڑکے کو قتل کردیا۔ایسے قتل آئے روز ہوتے رہتے ہیں، خصوصا قبائلی علاقوں میں تو 80فیصد مرد ہی غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں لیکن این جی اوز انہیں قتل غیرت نہیں شمار کرتیں۔ایسے کتنے ہی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں کہ قتل ہونے والا مرد کسی خاندانی یا ذاتی دشمنی میں قتل کیا گیا لیکن اصل بات پر پردہ ڈالنے کے لئے قاتل نے اسی لمحے اپنی بیوہ بہن جو بھائی کے گھر میں رہتی تھی کو قتل کرکے اس کی لاش مقتول مرد کی لاش کے ساتھ پھینک دی۔
ابھی ایک ماہ قبل مانسہرہ میں میرے گاوں کے ساتھ والے ایک گاوں میں شادی کے تین چار دن بعد شوہر اور اس کی والدہ نے نئی نویلی دلہن کو صرف چار پانچ ہزار روپے کے چکر میں رات کے وقت گلا دبا کر قتل کیا اور پھر اس کی لاش قریب فصلوں میں پھینک کر پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ دیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ یہاں اپنے آشنا کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔لیکن گرفتاری کے فورا بعد شوہر نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ میں نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت جامع فرمان احادیث میں موجود ہے:جیسا کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی پر زنا کا الزام اس وقت ثابت ہوتا ہے جب تک چار ایسے گواہ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے زنا ہوتے دیکھا گواہی نہ دے دیں۔چنانچہ اس اسلامی حکم کے تناظر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یارسول اللہ اگر ہم اپنی بیوی سے کسی کو زنا کرتے دیکھیں تو کیا ایسے موقع پر ہم گواہ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوں؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تعجب کرتے ہو سعد کی غیرت پر، مگر میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔یعنی جس اللہ نے یہ قانون بنایا ہے وہ زیادہ غیرت مند ہے لہٰذا اب گواہی کے بغیر کسی پر زنا کو ثابت کردینا اپنے آپ کو اللہ سے زیادہ غیرت مند بنانے کے مترادف ہے۔ غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جذبات آکر انسانی جان ضائع کردے۔
غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لئے چند ضروری اقدامات کرلیے جائیں تو یہ قبیح رسم ختم ہوسکتی ہے۔ 
(۱) اولاد کے ولی اپنی اولاد پر ہمیشہ نظر رکھیں کیونکہ قتل تو ایک لمحے میں اچانک ہوجاتا ہے لیکن قتل کا سبب یعنی زنا تو اچانک نہیں ہوتا اس کے پیچھے طویل دوستیاں آشنایاں،بے حجابی،مخلوط ماحول یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، جب ان چیزوں کا سدد باب نہیں کیا جاتا تو پھر نتیجہ قتل کی صورت میں نکلتا ہے۔
(۲) پاکستان کے قوانین میں بھی کئی سقم پائے جاتے ہیں جو اس قبیح رسم کے ختم ہونے میں رکاوٹ ہیں، مثلا ایسا قتل ، قتلِ عمد نہیں سمجھا جاتا بلکہ قتلِ خطا شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے قتل کا مقدمہ خاندان ہی کے کسی فرد کی مدعیت میں درج کیا جاتا ہے اور پھر وہی مدعی(مثلا باپ) مقتول (مثلا بیٹی)کا وارث ہونے کے ناطے قاتل(مثلا بیٹے) کو معاف کردیتا ہے۔ اگر ایسا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے تو معافی کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے جو اس رسم کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔
(۳)کاروکاری کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے قبائلی معاشرے میںآج 2016 میں بھی عورت کو اپنی ملکیت اور جائیداد سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس کے خلاف شعور کا اجاگر کیا جائے۔
(۴) یہ شعور بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون کو نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کوئی شخص خود قانون کو نافذ نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں مذکورہ بالا حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے۔
(۵)میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے، ایسے کئی واقعات کا ذمہ دار میڈیا بھی، میڈیا پر دکھائے جانے والے پروگرام، فحاشی کو عام کرنے میں میڈیا کو کھلی چھوٹ بھی ایسے واقعات میں اضافے کا سبب ہے۔ حالیہ رونما ہونے والے قندیل بلوچ کے واقعہ میں میڈیا کا بھی بہت بڑا کردار ہے، قندیل بلوچ پچھلے دس سال سے اس کردار میں موجود تھی اور اس کے گھر والے اس کی کمائی کھا رہے تھے، لیکن اچانک میڈیا اس کے بھائیوں تک پہنچا، پھر اس کے دو عدد خاوند برآمد کرلیے، اس کے بچے بھی برآمد ہوگئے اور پھر قندیل قتل بھی ہوگئی۔
(۶) اسلامی تعلیمات، اور اسلامی عائلی قوانین کو درست حالت میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی پارلیمنٹ سے منظوری لے کر نافذ کیا جائے ۔
(۷) سب باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ کسی بھی چیز کا موجد اور خالق اس چیز کو استعمال کرنے کی ہدایات والا کتابچہ جو ساتھ بھیجتا ہے اگر اس کے مطابق اس چیز کو استعمال کیا جائے تو وہ چیز بھی ٹھیک رہتی ہے اور دوسروں کو فائدہ بھی دیتی ہے۔ باالکل اسی طرح اس کائنات اور انسانوں کے خالق نے بھی ایک کتاب قرآن کی شکل بھی بھیجی ہے اگر اس کے قانون اور اصولوں کے مطابق ہم معاشرے کو ڈیل کریں گے تو ساری برائیاں ختم ہوجائیں گی۔

karo kari ya tor tora ya wanni

Sunday, July 24, 2016

ڈینگی اور قوم سبا

آج ایک اخبار میں بڑی سرخی لگی ہوئی تھی کہ’’ ڈینگی سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘‘۔ اس خبر کو پڑھ کر مجھے ایک قرآنی واقعہ یاد آیا جو پیش خدمت ہے۔
22ویں پارے میں قوم سباء کے نام سے ایک سورہ مبارکہ ہے جس میں اس قوم پر اللہ کے احسانات اور پھر ناشکری کے نتیجے میں آنے والے عذاب کا ذکر ہے۔اخباری خبر میں نظر آنے والا نعرہ قوم سباء نے بھی لگایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو بہت بڑے ڈیم کی شکل میں پانی کا وافر ذخیرہ دیا تھا، اس ڈیم کے اوپر نیچے تین دروازے تھے۔ اوپر والا دروازہ جب کھولا جاتا تو تین چار مہینے تک پانی بہتا رہتا پھر جب پانی کی سطح کم ہو جاتی تو یہ لوگ نیچے والا سپل وے(دروازہ) کھول دیتے پھر اس سے تین چار مہینے پانی بہتا رہتا ۔ پھر اس سے نیچے والا کھول دیتے، اور پھر مون سون کا موسم آجاتا اور بارشوں سے پورے سال کا پانی ذخیرہ ہوجاتا۔
اس تربیلا ڈیم کی طرز کے عظیم الشان ڈیم سے آگے دس بارہ نہریں نکلتی تھیں جو آگے کی تمام آبادیوں کو سیراب کرتی، باغ اور فصلیں خوب ہوتی تھیں۔ روایات کے مطابق اتنا پھل ہوتا تھا کہ کوئی شخص خالی ٹوکری سر پر رکھے باغ سے گزرتا تو خود بخود گرنے والے پھلوں سے وہ ٹوکری بھر جاتی۔ اس قوم پر اللہ نے ایک احسان یہ بھی کیا تھا کہ ان راستے آج کل کے راستوں کی طرح تھے، یعنی ہر آٹھ دس میل کے بعد کوئی نہ کوئی آبادی اور بازار آجاتا تھا چنانچہ ان لوگوں کے قافلوں کو کسی قسم کی پریشانی کا مظاہر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اس قوم کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی پیغمبروں کو بھیجا، وہ دعوت وتبلیغ کرتے رہے لیکن مجموعی لحاظ سے قوم ہدایت سے دور ہی رہی، اس قوم کی تاریخ اور مقدس کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب اس ڈیم کی بنیادوں میں چوہے پڑ جائیں گے، وہ چوہے اس کی بنیادوں کو کمزور کریں گے اور پھر ایک دن اچانک یہ بند ٹوٹ جائے گا جس کے نتیجے میں ساری قوم ڈوب کر ہلاک ہوجائے گی۔ یہ بات اس قوم کے بڑوں کو معلوم تھی، لیکن ان کا ذہن چونکہ سیکولر تھا اس لئے انہوں نے بجائے اس کے کہ اللہ کی طرف رجوع کرتے، توبہ استغفار کرتے، نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات پر عمل کرتے۔ الٹا اللہ کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ جب ناشکری اور نافرمانی حد سے بڑھ گئی، رسولوں اور ان کی تعلیمات کا استہزاء ہونے لگا تو اس ڈیم کی بنیادوں میں چوہے پیدا ہوگئے، جب قوم نے چوہوں کو دیکھا تو لوگوں کے دو گروہ بن گئے، ایک اقلیتی گروہ تھا جس کا کہنا تھا وہ عذاب ہم پر آنے والا ہے جس کا ہماری کتابوں اور پیغمبروں کی تعلیمات میں ذکر ہے اس لئے ہمیں توبہ استغفار کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جبکہ دوسرا گروہ جو اکثریت میں تھا کہنے لگا ، چوہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوء ان چوہوں کا خاتمہ کردیں گے۔ چنانچہ اس وقت کے لحاظ سے جو دستیاب ٹیکنالوجی چوہوں کو ختم کرنے کے لئے تھی اسے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت چوہوں کو ختم کرنے کے لئے بلیوں کا استعمال کیا جاتا تھا، چنانچہ سینکڑون بلیاں جمع کرکے ڈیم کے آس پاس اور اس کی بنیادوں میں چھوڑ دی گئیں۔ اقلیتی گروہ نے قوم کے سیانوں اور لیڈروں کو بہتیرا سمجھایا کہ بھائی اللہ کے عذاب کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ توبہ استغفار کے دو کلمات ہمیں اس عذاب سے بچا سکتے ہیں۔لیکن اس اکثریتی روشن خیال طبقے نے اقلیتی گروہ کی باتوں کو دقیانوسی قرار دے کر بنیاد پرست، جاہل،اجڈ اور تاریک خیال ہونے کے طعنے دیتے ہوئے ان کی نصیحت کو رد کردیا۔چنانچہ وہ اقلیتی گروہ وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ جو اس وقت غیر آباد تھا یہاں آکر آباد ہوگیا اور پھریہی مدینہ کی آبادی کا سبب بنا۔ جبکہ دوسرا گروہ بلیاں چھوڑ کر اللہ کے عذاب کا مقابلہ کرنے میں لگا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے چوہوں کو اتنا بڑا کردیا کہ وہ الٹا بلیوں کو کھانے لگے، اور بلیاں ان سے جان بچا کر بھاگ جاتیں تھیں، چوہے حکم الٰہی کے مطابق ڈیم کی بنیادوں کو کمزور کرتے رہے، اور پھر ایک دن جب ڈیم بھرا ہوا تھا،اچانک اس کا بند ٹوٹا اور وہ تباہی پھیلی جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔لوگ ہلاک اور تباہ وبرباد ہوگئے، فصلیں ختم ہوگئیں، باغات اجڑ گئے، زمین بنجر ہوگئی۔ عمدہ قسم کے باغات کی جگہ جھاو اور بیری کے چند ایک درخت اگ گئے اور ہرطرف ویرانی ہی ویرانی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم ناشکری کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
آج کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا اس امت کو بھی ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس امت کو اس طرح مجموعی لحاظ سے ساری کی ساری ہلاک نہیں کرے گا جس طرح پہلی قومیں ہلاک ہوا کرتی تھیں، لیکن چھوٹے چھوٹے عذاب اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگتے ہیں۔ آج بھی نہایت ہی اقلیتی تعداد میں ناصحین امت اس امت کے رہنماوں اور لیڈروں کو یہی سبق دے رہے ہیں کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، توبہ استغفار کیا جائے، فحاشی، بے حیائی،ارتداد،الحاد اور دین بیزاری کو روکا جائے لیکن نا م لبرل اور نہاد روشن خیال طبقے کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، اوروہ قوم کو اللہ کا مقابلہ کرنے کا سبق پڑھا رہے ہیں، ایسے نعرے لگائے جارہے ہیں کہ ہم نے عذاب سے ڈرنا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا ہے، یہ نعرے باقاعدہ بڑی پلاننگ اور سوچ بچار سے ملحدین تیار کرتے اور پھر عام کیے جاتے ہیں، ان نعروں کی آڑ میں نہ صرف دین بیزاری بلکہ اللہ بیزاری کا بیج خفیہ طریقے سے قوم کے ذہنوں میں بویا جارہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دین دار طبقات، مصلحین امت اور خیرخواہان قوم لوگوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کریں۔

Sunday, July 10, 2016

10 جولائی 2007

آ ج صبح آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل زور دار دھماکوں سے اچانک میری آنکھ کھلی، پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوتا اور میرے کمرے کی کھڑکی لرزجاتی۔ایسی گھبراہٹ جو عام طور پر کسی اچانک واقع یا زلزلے سے ہوتی ہے اور آدمی فورا ادھر ادھر بھاگتا ہے ایسی گھبراہٹ تو نہیں ہوئی۔ لیکن کلیجہ منہ کو آرہا تھا اور میں خلاف معمول اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا، یہ دھماکے ایک تسلسلے کے ساتھ تقریبا ہمارے گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہورہے تھے۔ میں گھر کے باہر سروس روڈ کے کنارے لگے درختوں کے نیچے فٹ پاتھ پر کافی آگے تک ٹہلتا اور پھر دوسری طرف ٹہلتا ٹہلتا کافی دور تک چلا جاتا۔
یہ باالکل ایسا ہی منظر تھا جیسے کسی پھانسی کے مجرم کو گھر والوں سےآدھی رات کو آخری ملاقات کروائی جاتی ہے اور پھر وہ جیل کے باہر فجرکا انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ اپنے پیارے کی لاش وصول کرلیں۔ جی باالکل میں بھی اسی کیفیت میں فجر اور پھر فجر کے بعد والی صورتحال کے انتظار میں ٹہلتا رہا۔
دھماکے مارٹر گولوں اور راکٹ لانچر کے لگ رہے تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک آدھ دھماکہ اتنا زور دار ہوتا کہ زمین بھی کانپ جاتی،شاید ٹینک یا توپ کا گولا فائر ہوتا ہوگا۔اب دھماکوں کے ساتھ ساتھ گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی شروع ہوچکی تھی، کچھ دیر کے بعد ہمارے محلے کی الفلاح مسجدکے موذن نے فجر کی آذان دی،اس کی آواز بھی دھیمی تھی، غم اور دکھ کی کپکپاہٹ سے بھری آذان ختم ہوئی تو میں سیدھا مسجد گیا،وضو کیا، موذن صاحب دوست تھے ہم نے خلاف معمول ایک دوسرے سے صرف نظریں ہی ملائیں بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
نماز کے بعد تازہ ترین صورتحال کو جاننا پہلی ترجیح تھی، میرے پاس ٹی وی،انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولت نہیں تھی۔ چنانچہ میں انتظار کرنے لگا کہ سروس موڑ پر واقع پٹھانوں کا چائے والا چھپر ہوٹل کھلے اور وہاں ایک کپ چائے کے بدلے ٹی وی پر خبریں سن لوں۔ چنانچہ ایک بار میں وہاں گیا لیکن ابھی ہوٹل بند تھا، کچھ دیر سڑک پرٹہلتا رہا، اب دھماکوں کی آوازیں کم پڑھ گئیں تھیں لیکن گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھی بھی آرہی تھی۔ اتنے میں ہوٹل والے بھی آگئے، جنہوں نے خلاف معمول صفائی کرنے پہلے ہی ٹی وی آن کردیا، اور چند لمحوں میں ہوٹل کھچاکھچ بھر گیا۔
جب ٹی وی آن ہوا تو نیوزکاسٹر نے کہا ہم غازی عبدالرشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چنانچہ اچانک ان سے رابطہ ہوا اور انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں نیوزکاسٹر کےسوالوں کے جواب دینے کے بجائے اپنی چند وصیتیں کیں، پھر جامعہ حفصہ کی اندر کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہرطرف لاشوں کے دھیڑ لگے ہوئے ہیں، میری والدہ کو ابھی ابھی ایک گولی ہے اور میں ان کے سرہانے بیٹھا ان کو رخصت کررہا ہوں۔ یہ میرے آخری الفاظ ہیں شاید پھر میں آپ کو انٹرویو نہ دے سکوں کیونکہ ہمیں ہر صورت قتل کردیاجائے گا۔عبدالرشید غازی کی ٹیلی فون کال پر بھی مسلسل گولیوں کی آواز آرہی تھی اور پھر اچانک ٹیلی فون لائن کٹ گئی۔
پورے ہوٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا کسی کو غم کے مارے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، میں بھی گھر واپس آگیا اور پھر چند گھنٹوں کے بعد اطلاع ملی کہ مسجد فتح ہوگئی ہے اور غازی عبدالرشید اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ تو سات جولائی 2007 کا واقع ہے۔ اس سے ٹھیک ایک سال قبل جولائی کا پہلا ہفتہ تھا، میں کسی روزنامے میں ملازمت کے حصول کے لئے گیا تو انہوں نے مجھے کام کے لئے فائنل کرنے کے بعد کہا آپ کسی معروف شخصیت سے اپنے حق میں ایک تصدیق نامہ بنا کر لائیں تو آپ کو رکھ لیں گے۔ چنانچہ میں اس سلسلے میں ایک معرف صحافی جو میرے دوست تھے ان کے پاس گیا، انہوں نے اپنی طرف سے ایک چھوٹا سا خط غازی عبدالرشید کے نام لکھا کہ ان کو تصدیق نامہ بنا کردیں۔ وہ خط لے کر میں غازی عبدالرشید کے پاس گیا، جب میں جامعہ حفصہ میں داخل ہوا تو پوچھتے پوچھتے غازی صاحب کے کمرے تک پہنچا اس وقت ان کے پاس کسی یونیورسٹی کے چند سٹوڈنٹ بیٹھے ہوئے تھے، میں سلام کرنے کے بعد ایک طرف بیٹھ گیا، کافی دیر کے بعد جب وہ سٹوڈنٹ چلے گئے تو میں نے کہا کہ فلاں روزنامے میں کام کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا ہے کہ کسی مشہور شخصیت سے تصدیق نامہ بناکرلائیں، لہٰذا میں آپ کے پاس حاضرہوا ہوں کہ آپ مجھے تصدیق نامہ بنا کردیں۔ پہلے تو غازی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا میں تو مشہور شخصیت نہیں ہوں آپ کسی صحافت کی لائن کے بندے کے پاس چلے جائیں تو میں نے کہا میں فلاں صحافی کے پاس گیا تو انہوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ غازی صاحب نے میرا بہت اکرام کیا، ساری صورتحال معلوم کی اور پھر مجھے کہا کہ تصدیق نامے میں یہ لکھنا ہوتا ہے کہ  میں اس شخص کو جانتا ہوں یہ بہت ایمان دار اور اچھا انسان ہے،میں آپ کے بارے میں بدگمانی نہیں کرتا  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں، میں آپ کو جانتا نہیں، کیا جب میں ایسی بات لکھوں گا تو یہ جھوٹ نہیں ہوجائے گا؟
میں خاموش رہا ، تو انہوں نے پھر مجھے کہا آپ بتائیں نا کیا یہ جھوٹ نہیں ہوگا؟ میں نے کہا جی ! ایسا ہی ہے یہ جھوٹی تحریر ہوگی۔ تو فرمایا۔ میرے دوست میری جھوٹ بھولنے کی عادت نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں مجھے جھوٹ لکھنا چاہیے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر غازی صاحب بار بار مجھ سے سوری اور معذرت کرتے رہے کہ ناراض نہیں ہونا ، مجھے بڑے احترام سے کھڑے ہوکرملے اور رخصت کیا۔اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ٹھیک ایک سال بعد اسی جگہ اتنا عظیم سانحہ ہوگا تو شاید میں کچھ دیر اور بیٹھ کر ان سے کچھ اور باتیں بھی کرتا، لیکن اللہ کا ایک نظام ہے آنے والے لمحے کا کسی کو کچھ معلوم نہیں کیا ہوگا

Monday, July 4, 2016

ر سالت سے تکلیف کن لوگوں کوہے۔؟۔

فرقہ واریت کیا چیز ہے۔؟
اس امت میں جتنے فتنے اٹھے ہیں وہ سارے انکار سنت ہی کی بدولت اٹھے ہیں، چنانچہ پہلافتنہ مسیلمہ کذاب کا اٹھا، جن کا نعرہ تھا: کفاناہدایۃ القرآن۔ یعنی ہمارے لیے قرآن کی ہدایت کافی ہے۔اس خوبصورت نعرے میں ساری انکار سنت موجود ہے۔ اس کے بعد خوارج کا فتنہ کھڑا ہوا، ان کا نعرہ تھا: حسبنا کتاب اللہ، ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اسی طرح منافقین کا بھی یہی مسئلہ تھا، وہ کہتے تھے ہم اللہ کو مانتے ہیں، آخرت پر یقین ہے، ہم محمد کی شخصی اطاعت کیوں کریں، لیکن سورہ نساء میں سارا زور ہی اسی بات پر دیا گیا ہے کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی اطاعت نہ کروتمہارا ایمان معتبر ہے ہی نہیں۔یہ انکار رسالت کا فتنہ ہر دور میں رہا، یہاں تک کہ ابھی قریب کے زمانے میں غلام احمد پرویز آیاجس نے قرآن سے رسالت کا تعلق توڑنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہا، البتہ اس کا اثر کافی لوگوں پر ہوا ہے۔چنانچہ اب موجودہ زمانے میں اس شیطانی کام کا جھنڈا جاوید احمد غامدی نے تھاما ہوا ہے، اور دجالی میڈیا اور ہمارے بعض چینلز جیونیوز،دنیا نیوز وغیرہ اس نئے فرقے کو خوب پروموٹ کررہے ہیں۔
اس ضمن میں ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید کے ساتھ سنت کا تعلق کیا ہے؟ قرآن نے جس چیز کو بینہ قرار دیا ہے یعنی وہ روشن چیز جو حق وباطل میں تمیز کرے وہ اللہ کے رسول ہیں جو صحیفے پڑھتے ہوئے آئے۔ رسول کو پہلے ذکر کیا جبکہ کتابوں کو بعد میں ذکرکیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب کوہِ صفا پر کھڑے ہوکر اعلان کیا تھا، اس وقت تو یہ پورا قرآن نہ تو موجود تھا اور نہ ہی آپ نے قرآن کی طرف دعوت دی بلکہ وہاں دلیل کے طور پر اپنی ذات کو پیش کیا اور کہا میں نے تمہارے درمیان چالیس سال گزارے ہیں، میں تمہیں کہوں پہاڑی کے پیچھے لشکر ہے تو مانو گے یا نہیں۔ پھر ہماری زیادہ تر فقہ قرآن میں بعد میں آئی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پہلے سے عمل کروانا شروع کردیا تھا کیونکہ وماینطق عن الہوا ان ہوا الا وحی یوحی، آپ جو بھی بولتے تھے وہ سارا وحی ہی ہوتا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: کان خلقہ القرآن۔ یعنی حضور کی سیرت واخلاق قرآن ہی تھی۔ اوراللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے، جس کا مطلب ہے آپ کی پوری سیرت اور سنت کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ ہی نے اٹھایا ہوا ہے اور آپ کی ساری سیرت اور سنت بالکل محفوظ ہے۔
اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ فرقہ واریت کیا چیزہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تہتر فرقے بنیں گے، بہتر جہنمی ہوں گے صرف ایک جنتی ہوگا، پوچھا گیا وہ کون سا ہوگا؟ تو فرمایا: ماانا علیہ واصحابی۔ یعنی وہ فرقہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہتر فرقے کون سے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں مختلف مسالک جو بنے ہوئے ہیں وہ فرقے ہیں؟ یا ہمارے ہاں مختلف مذہبی تنظیمیں جیسے تنظیم اسلامی، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت،جمعیت علمائے اسلام وغیرہ یہ فرقے ہیں؟ اس حوالے سے اچھی طرح جان لیجئے ان میں سے کوئی بھی فرقہ نہیں ہے۔ یہ سب ماانا علیہ واصحابی پر ہی ہیں۔ فرقہ واریت کی جامع مانع تعریف یہ ہے کہ جس چیز کی دین میں گنجائش ہی نہ رکھی گئی ہو، یا جہاں دین میں اختلاف کرنے کی گنجائش نہ رکھی گئی ہو وہاں اختلاف کرنا یہ فرقہ واریت ہے۔ مثلا دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی اختلاف کرنے کی گنجائش ہے، اب یہاں جو کہے نماز فرض نہیں یا نمازیں پانچ نہیں تین ہیں تو یہ فرقہ واریت ہے کیونکہ اس بات میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی۔ جبکہ نماز پڑھنی کیسے ہے اس میں اختلاف کی گنجائش ہے لہٰذا اس اختلاف کو فرقہ واریت نہیں کہہ سکتے۔ پھر اسی طرح جہاں اللہ نے اختلاف کی گنجائش چھوڑی ہو وہاں اختلاف کی گنجائش نہ چھوڑنا یہ بھی فرقہ واریت ہے۔مثلا اللہ کے نبی نے ایک مرتبہ حکم دیا کہ جلدی سے فلاں جگہ پہنچو اور عصر کی نماز وہاں پڑھنا، اب راستے میں عصر کا ٹائم نکل رہا تھا تو کچھ صحابہ نے راستے میں ہی نماز پڑھ لی اور کچھ نے کہا نہیں ہم تو وہاں پہنچ کر نماز پڑھیں گے، بعد میں اللہ کے نبی سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا دونوں نے ٹھیک کیا۔ اسی طرح ایک حدیث میں آیا داڑھی لمبی رکھو جبکہ ایک حدیث میں داڑھی کے کچھ حساب کتاب کا ذکر بھی ہے ، اب کوئی شخص کہے کہ کسی نے داڑھی کو قینچی لگائی تو وہ بدعتی ہے تو گویا اس نے اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود نہ چھوڑی تو یہ بھی ایک نوعیت کی فرقہ واریت ہے۔
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا میرے بعد تم بہت اختلاف دیکھو گے، اس وقت تم پر لازم ہے کہ تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ پھر ان خلفاء کی تشریح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے کی ہے کہ حضور کی تین خلافتیں ہیں۔ایک آپ کی سیاسی خلافت ہے، ایک آپ کی علمی خلافت ہے اور ایک آپ کی باطنی خلافت ہے۔ یہاں سیاسی خلافت کے لئے تو ہم جدجہد کررہے ہیں کیونکہ وہ ابھی موجود نہیں ہے البتہ خاص طور پر آپ کی علمی خلافت جس کے لئے ہمارے لئے رہنماء کے طورپر چاروں ائمہ(امام ابوحنیفہ،امام شافعی،امام مالک،امام احمدبن حنبل)ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی خلافت کا حق ادا کیا ہے اس کے ساتھ وابستگی اور اس خلافت کے ساتھ چمٹنے کا حکم ہے۔اس وقت جو طرح طرح کے فتنے کھڑے ہورہے ہیں ان حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس دائرے میں اپنے آپ کو پابند کریں۔جیسا کہ کہا گیا کہ درخت کی جڑوں کے ساتھ چمٹ جاو، تو وہ یہ شجرہ طیبہ ہے جس کے ساتھ چمٹنے کا حکم دیا جارہا ہے۔اگر روشن خیالی کے طوفان سے ہم بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو اس دائرے میں بند کرنا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا اصل فرقہ واریت فتنہ انکار حدیث ہے، اصل فرقہ واریت سیکولرازم ( ہمہ مذہبیت ، لادینیت ) ہے۔چنانچہ ہمارا میڈیا اس فرقہ واریت کو خوب پھیلا رہا ہے اور الزام دینی طبقات پر لگایا جارہا ہے کہ وہ فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں