Search This Blog

Thursday, November 10, 2016

علماء کے اختلاف کا حکمرانوں پر اثر

سیدعبدالوہاب شیرازی
علماء حق انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، ان کے کاندھوں پر وہی ذمہ داری ہوتی ہے جو انبیاء پوری کرتے آئے ہیں، چنانچہ صحیح علماء میں وہی اوصاف ہوتے ہیں جو حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم الصلوۃ و السلام کے قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ علماء کاکام انذار وتبشیر ہوتا ہے، علماء عوام کو تذکیر کراتے اور رہنمائی کرتے ہیں۔پھر سب سے بڑھ کریہ کہ علماء خود نمونہ ہوتے ہیں، جیسے تمام انبیاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملی نمونہ بن کر تبلیغ کی۔ جب تک علماء اس روش پر قائم رہے پوری امت مجموعی لحاظ سے صحیح ڈگر پر چلتی رہی، لیکن جیسے جیسے علماء میں خرابی پیدا ہوئی ساتھی ہی امت میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ علماء کی مثال امت کے جسم میں دل کی سی ہے، جیسا کے حدیث میں ہے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔ باالکل یہی معاملہ علماء کا ہے جب علماء ٹھیک ہوتے ہیں پوری امت ٹھیک ہوتی ہے جب علماء خراب ہوتے ہیں پوری امت خراب ہوجاتی ہے۔ 
آج کے اس مضمون ایک واقعہ کی روشنی میں اس بات کو ملاحظہ فرمائیں کہ علماء کی خرابی کا اثر حکمرانوں پر کیسے پڑتا ہے اور اس دل کی خرابی سے کتنی بڑی خرابی وجود میں آتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے سمر قند وترکستان سے کیسے خواجہ باقی بااللہ کو ہندوستان بھیج کر اصلاح کی کوششوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔
منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے ۔موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں ۔ اور اس کے دربارمیں رہے ہیں ۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا ۔ اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا ۔ اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکھے تھے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا۔ اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا ۔شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع ہونے لگے ۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی ۔ اس مقصد کے لئے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا ، ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بھی اوپر تک پہنچ گء تھی ۔ بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے ۔ بس یہیں سے وہ حالات پیداہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا ۔
ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا ۔ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے ۔اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں مبتلا ہوتا ۔ اسی طرح بادشاہ کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو ۔
علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بیہودگی ظاہر ہوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا ۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں ، آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا ۔علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا ۔ اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں ۔ اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں ۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا ۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا ۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی ، یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ۔
درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے ۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا ۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا جو لاہور میں تھا ۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا ،حتی کے سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنہیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا "۔شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انہیں اختیار تھا ۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا ، مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی ۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے ۔ ایک نے دوسرے کے بابت لکھا کہ چونکہ انہیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز نا جائز ہے ۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمہارے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا ۔
شہنشاہ اکبر ابتدامیں نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے ۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا ۔
ملا بدایونی لکھتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجھتا تھا ۔جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا ۔اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا ۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی ، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔(اسباق تاریخ از مولانا عبدالقادر بدایوانی)۔
چنانچہ ابوالفضل اور فیضی جیسے لوگوں کے کہنے پر ہی ایک نئے دین’’دین الٰہی یا دین اکبری‘‘ کوبنایا گیا جس نے ہندوستان میں اسلام کی بنیادوں کو ہلاکررکھ دیا اور پھر علمائے حق جن میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سرفہرست ہیں کی کوششوں سے اس گمراہی کو مٹایا گیا۔
اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علماء کی آپس کی لڑائیوں،ضد،ہٹ دھرمی نے کتنا بڑا فتنہ کھڑا کیا۔

Sunday, November 6, 2016

موجودہ مزاج کے ساتھ علمائے کرام کو حکومت نہیں مل سکتی

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
اصل حکمران اور بادشاہ اللہ رب العزت کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ پوری کائنات اور سارے جہانوں کا بادشاہ ہے۔ اللہ غفورالرحیم، ستار العیوب،غفار الذنوب................ ہے۔ جبکہ ہم لوگوں کو توبہ کرنے کے بعد بھی ساری عمر معاف نہ کرنے والے ہیں۔
حکمرانی کرنے کے لئے مخلوق کی دنیوی زندگی سے متعلق خدائی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس اور پرتُو ہونا ضروری ہے، خاص طور پر مخلوقات کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہے وہ یا اس کی معمولی سی جھلک کا کسی حکمران میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ پچھلے ڈیڑھ دو سو سال سے جو مغلوبیت کا دور گزررہا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مخلوقات پر حکمرانی کرنے کی صلاحیت سے بحیثیت مجموعی ہم عاری رہے ہیں، انفرادی طور پر تو بڑے بڑے اللہ والے گزرے ہیں جو بلا شبہ خدائی صفات کا عکس تھے لیکن عمومی لحاظ سے جو مزاج رہا ہے وہ ایسا ہر گز نہیں تھا جو اللہ کی مخلوق پر حکمرانی کرنے والے کسی حکمران کا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات ویسے ہی کسی کے حوالے نہیں کردیتا۔جب مسلمانوں میں یہ صلاحیت موجود تھی تو حکمرانی ان کے ہاتھ میں تھی، پھر آہستہ آہستہ وہ صلاحیت ختم ہوئی تو اللہ نے حکومت بھی چھین لی۔ انگریز اور مغربی اقوام جیسی کیسی بھی کیوں نہ ہوں انہیں حکمرانی کرنے کا فن آتا ہے اور یہ صلاحیت ان کے پاس ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمران اور ہمیں ان کی رعایا بنایا ہوا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانے کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے جس میں ایک بات یہ بھی :”وعلم آدم الاسماءکلہا“ اس علم سے مراد صرف وہ علم نہیں جو عام طور پر درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے۔
ہمارا عمومی مزاج مسلک پرستی میں اتنا ڈوبا ہوا تھا اور اب بھی ہے کہ کسی دوسرے مسلک والے کے لئے زندہ رہنے کا حق ہم دینے کو تیار نہیں چہ جائے کہ وہ صفات الٰہی کہ اُس ذات کے منکر اور ملحد بھی دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال اور مزے کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہ ذات ڈھیل پر ڈھیل دیتی جارہی ہے۔اگر کوئی مسلک پرست حکمران بن جائے تو لوگوں کا جینا مشکل ہو جائے گا، شاید اسی نااہلیت کی وجہ سے اللہ کی مشیت نہیں ہے کہ ہمیں حکمرانی ملے۔
(نوٹ: مسلک پرستی سے مراد یہ نہیں کہ آدمی کا کوئی مسلک نہ ہوہرمسلمان کا وہی مسلک ہونا چاہیے جو صحابہ کرام اور اکابرین امت کا رہا ہے، بلکہ مسلک پرستی سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کے لئے گنجائش نہ نکالنا اور یہ سوچنا کہ میرا بس چلے تو سب کو ختم کردوں اور عملی زندگی میں ایسا ہی رویہ اختیار کرنا کہ واقعتا وہ شخص سب کو فنا کرنے کے درپے ہو۔)
تاریخ اسلام میں اس کی ایک مثال ملتی ہے جسے مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے تاریخ دعوت وعزیمت میں بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ جب ایک غالی مسلک پرست شخص حکمران بن گیا تھا، پھر جو فساد فی الارض اس نے مچایا الامان والحفیظ۔دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کا تعارف یونانی فلسفہ سے ہوایہ فلسفہ چند خیالات وقیاسات کا مجموعہ اور الفاظ کا ایک طلسم تھا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات،کلام الٰہی، رویت باری، مسئلہ عدل، تقدیر،جبرواختیار کے متعلق ایسی ایسی بحثیں اور مسائل پیدا ہوگئے جو نہ دینی حیثیت سے ضروری تھے اور نہ دنیوی حیثیت سے مفید بلکہ امت کی وحدت اور مسلمانوں کی قوت عمل کے لئے مضرتھے۔چنانچہ نئے نئے مسلک وجود میں آئے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب مامون کے دورحکومت میں اسی طرح کے ایک مسلک کا پرجوش داعی قاضی ابن ابی داود سلطنت عباسیہ کا چیف جسٹس بن گیاجس کے نتیجے میں مسلک ومذہبِ اعتزال کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوگئی۔
خود مامون بھی اس مسلک کا داعی اور مبلغ تھاچنانچہ اس کے دربار میں ایسے ہی مسلک پرستوں کا ہروقت ہجوم رہتا تھا۔عقیدہ خلق قرآن اس وقت معتزلہ کا شعار اور کفر وایمان کا معیار بن گیا تھا اور محدثین اس مسئلہ میں معتزلہ کے حریف تھے جس کی قیادت امام احمد بن حنبل کررہے تھے۔چنانچہ مامون نے سارے کام چھوڑ کر اپنے مسلک کو زبردستی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش شروع کردی اور تمام حکومتی ذمہ داران کو ہدایت جاری کی کہ وہ لوگوں خصوصا علمائے کرام کا امتحان لیں جو اس مسلک کو اختیار نہیں کرتا اسے معزول کردیا جائے۔اور سب کے لئے یہی عقیدہ اختیار کرنا ضروری قرار دے دیا جائے۔پھر سات بڑے محدثین جو اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے ان کو طلب کیا، ان سے مناظرے ہوئے کچھ کے قتل کرنے کا حکم جاری کیا اور کچھ کو قید میں ڈال دیا۔اس ساری صورتحال میں ہزاروں لوگوں نے حکومت کے شر سے بچنے کے لئے یہ عقیدہ اختیار کرلیاعلماءکی بڑی تعداد بھی پسپائی اختیار کرگئی لیکن امام احمدبن حنبل ڈٹے رہے۔ امام صاحب کو بڑی بڑی بیڑیاں ڈالی ہوتی تھیں، مختلف لوگوں سے مناظرے کروائے جاتے تھے۔ کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی اور وہ بھی اس انداز سے کہ ایک جلاد صرف دو کوڑے مارتا تھا تیسرا کوڑا مارنے کے لئے نیا جلاد بلایا جاتا تھا تاکہ کوڑے کی شدت میں کمی نہ آئے۔امام احمد بن حنبل 28مہینے تک قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے، امام احمد بن حنبل کی بے نظیرثابت قدمی اور استقامت سے یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور مسلمان اس دینی خطرے سے محفوظ ہوگئے۔
اس سارے جھگڑے میں تقریبا ایک صدی بیت گئی اور مسلمان آپس میں ہی لڑتے رہے۔جب کوئی شخص اتنا متشدد ہو او ر پھر حکمران بھی بن جائے تو ایسے ہی فساد پھوٹتا ہے ۔ آج ہماری بھی ایسی ہی حالت ہے چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں بیسیوں مسلک وجود میں آچکے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔ ہرمسلک کے اندر ایک دوسرا مسلک پیدا ہوچکا ہے، ایک ہی مسلک والا اپنے ہی مسلک میں معمولی اختلاف پر دوسری رائے رکھنے والے کو گمراہ،کافراور جہنمی قرار دے رہا ہے۔آپ خود ہی سوچیں ایسے لوگ اگر حکمران بن جائیں تو اللہ کی زمین پر کیا گل کھلائیں گے؟ یہ ایسا جھگڑا کھڑا کردیں گے جس میں لاکھوں انسان قتل ہوجائیں گے۔یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں نہیںجو برداشت کا مادہ بالکل نہیں رکھتے، ہم پر حکومت کرنے والے(زرداری،نواز شریف وغیرہ) جیسے کیسے بھی ہیںکم از کم ان کے اندر اتنی برداشت تو ہے کہ وہ اپنے مسلک کو اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں۔اگر وہ ایک مسلک کی طرف داری شروع کردیں یا مامون کی طرح ساری انتظامیہ کو حکم جاری کردیں کہ لوگوں کو فلاں مسلک پر کاربند کردیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنا بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔حکمرانی کے لئے بلاامتیاز مخلوق کی محبت اور مخلوق کی فکر بنیادی وصف ہے، چنانچہ یہی وصف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں بھی نظر آتا ہے اور وہ فرماتے ہیں:اگر(مدینہ سے سینکڑوں میل دور) دریائے نیل کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا مرگیا تو عمر سے پوچھ ہوگی۔ جس کو کتے کی اتنی فکر ہے اسے انسانوں کی کتنی فکر ہوگی۔ اللہ کی طرف سے حکمرانی بھی ایسے ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنہیں انسانوں کی فلاح وبہبود کی فکر ہو۔انسانی فلاح وبہبود کا دنیوی پہلوہمارے دینی اداروں کا موضوع ہی نہیں رہا لہٰذا اللہ کی نظر میں ہمارا دینی طبقہ دنیوی حکمرانی کا مستحق بھی نہیں رہا۔چونکہ ہمارے دینی اداروں کا موضوع صرف اخروی فلاح رہ گیا ہے اس لئے ان اداروں سے صرف امام مسجد،مدرس،اور روحانی معالج ہی پیدا ہوسکتے ہیںکوئی حکمران نہیں پیدا ہوسکتا۔حکمرانی اور نیابت کے لئے علم الاسماءاور تعلیم الاسماءکے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کے اس وصف اور رویے کا حامل ہونا بھی ضروری ہے جو انہوں نے اپنے اپنے قاتلین اور دشمنوں کے ساتھ اختیار کیا تھا، چہ جائے کہ ہمارا رویہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ۔