Search This Blog

Tuesday, January 31, 2017

رویہ کیسے درست کریں۔؟ قاسم علی شاہ

انسان کے دنیا میں آنے کے بعد جس شخصیت کے ساتھ پہلا تعلق بنتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے. ماں ایک رویے کا نام ہے کیونکہ یہ شفقت ہوتی ہے جو بچے کو بتاتی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے۔ زندگی کے شروع کا طویل عرصہ ایسا ہوتا ہے جس میں انسان میں پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ جو کچھ سنتا دیکھتا ہے، قبول کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی شخصیت میں رویے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، پھر وہی رویے اس کی ذات کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، وہ رویےغلط بھی ہوتے ہیں اور صحیح بھی، مثال کے طور پر بندہ جب غلطی کرتا ہے تواس کے جواب میں اسے ڈانٹ پڑتی ہے. اب ڈانٹ ایک رویہ ہے، ممکن ہے یہ رویہ ٹھیک نہ ہو، یا اتنی مقدارمیں ٹھیک نہ ہو جتنی مقدار میں ملا ہو۔

زندگی کے مختلف دور ہیں. ایک دور وہ ہوتا ہے جب انسا ن اپنے والدین کے زیرِسایہ ہوتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے جب اسے آزادی مل جاتی ہے، اس وقت جو کچھ اس نے لاشعوری طور پر سیکھا ہوتا ہے، اس کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے، بقول شیکسپئر زندگی ایک سٹیج ہے، اس میں ہر شخص اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ زندگی کے معاملات میں جب انسان دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہے تواس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا رویہ اچھا ہے یا اس کا رویہ اچھا نہیں ہے، جب اس کی وجہ تلاش کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ اس نے شروع میں لاشعوری طور پرجو رویے سیکھے تھے، وہ اس کی ذات کا حصہ بن گئے۔ بچپن میں چونکہ انسان کو سمجھ بوجھ نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کے پاس پرکھنے کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اندر ہر طرح کے رویے پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن انسان کو چاہیے کہ جب شعور آئے تو ان رویوں پر غور و غوص کرنا شروع کر دے کیونکہ شعور کا دور بڑا قیمتی ہوتا ہے، اسی دور میں زندگی بننی ہوتی ہے۔
وہ منفی رویے جو مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں، ان میں ایک رویہ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کا رویہ ہوتا ہے، اس رویے کو زندگی سے نکال دینا چاہیے، یہ رویہ بندے کو اکیلا کر دیتا ہے۔ بابا جی اشفاق احمدؒ فرماتے ہیں کہ مکھی کی چھیاسی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن بیٹھتی پھر بھی وہ گند پر ہی ہے. لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی ساری ذہانت دوسروں کے گند کو تلاش کرنے میں لگا رہی ہوتی ہے. کسی نے بڑی خوبصورت بات کی کہ اپنے بارے میں کبھی برا نہ سوچیں کیونکہ یہ کام آپ کے رشتہ دار بڑے بھلے سےایک عرصہ سے کر رہے ہیں۔ ایک رویہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کام کی بات نہیں سیکھنی بلکہ بے مقصد بات ہی سیکھنی ہے. لوگوں کو دنیا جہاں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے، جبکہ اپنے بارے میں وہ لاعلم ہوتے ہیں، اس رویے کو بھی زندگی سے نکال دینا چاہیے۔ دوسروں کی بلاوجہ بےعزتی کرنا، یہ ایک ایسا رویہ ہے جس میں بندہ چھلانگیں لگاتا ہے، اور ایسی ایسی حرکتیں کر جاتا ہےکہ حیرانگی ہوتی ہے، ایسے رویے کو بھی زندگی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ زندگی میں ابھی کچھ بنے ہوتے نہیں ہیں، لیکن پہلے سے ہی محسوس کرانا شروع کر دیتے ہیں، جیسے کئی افسروں کے بچے اپنے آپ کو افسر محسوس کراتے ہیں. کسی وزیرکا بچہ پطرس بخاری صاحب کے پاس رزلٹ کا پتہ کرنے چلا گیا اس وقت رزلٹ آنے میں ایک دو دن باقی تھے، بچے نے ان سے کہا کہ رزلٹ تو کل آنا ہے، لیکن آپ مہربانی کریں اور مجھے آج ہی رزلٹ بتا دیں، پطرس صاحب نے کہا میں تو رزلٹ آج نہیں بتا سکتا، بچے نے کہا آپ کو پتہ نہیں میں کس کا بیٹا ہوں، پطرس صاحب نے کہا مجھے نہیں پتہ، بچے نے پھر کہا کہ آپ کو نہیں پتہ میں کس کا بیٹا ہوں، پطرس صاحب نے اس بچے کے والد کوفون کیا اور کہا کہ آپ کا بیٹا پاگل ہوگیا ہے، بار بار مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ کو پتہ ہے میں کس کا بیٹا ہوں، اگر کہیں ایسا رویہ ہے تواسے بھی نکال دینا چاہیے۔
اپنے رویوں کی فہرست بنائیں، روزانہ دن کے پانچ واقعات لکھیں، مثال کے طور پر آپ دفتر میں بیٹھے تھے، کسی نے آ کر کہا آپ کی گاڑی کا کوئی شیشہ توڑ گیا، آپ فوری اس کا ردِعمل ظاہرکریں گے، آپ کا یہ ردِعمل ایک رویہ ہے اس کو لکھ لیں، اسی طرح اور معاملات پر جو رویے ہوں ان کو لکھیں، روز ایسا کرنے سے 35 رویے سامنے آ جائیں گے، اس میں سے کچھ رویے ایسے ہوں گےجو دوبارہ آئے ہوں گے، جو رویے دوبارہ آئے ہوں ان کو نکال دیں، جب یہ کانٹ چھانٹ ہو جائےگی تو یہ 20 سے زیادہ نہیں بنیں گے، اب ان رویوں پر غور کریں کہ ہمارے پاس ایک ہفتہ ہے، ہفتے میں سات دن ہیں، اور ان سات دنوں 20 رویوں کا استعمال ہوتا ہے، پھر ان کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان میں سے کون سے ایسے ہیں جن کو سیکھنا ہے، کون سے ہیں جن کو چھوڑنا ہے، کون سے ہیں جن کو قائم رکھنا ہے۔
رویوں کے سیکھنےکے حوالے سے ہمارے پاس شاندار مثالیں ہیں، ان کو دیکھ کر رویوں کو سیکھا جا سکتا ہے، ان میں بہتری لائی جا سکتی ہے، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رویے کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ اگر جنگ میں پانی آ رہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زخمی ہیں، ایک دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ آپ پی لیں، دوسرا تیسرے کو کہہ رہا ہے کہ آپ پی لیں، تیسرا چوتھے کو کہہ رہاہے کہ آپ پی لیں، یہاں تک کہ سارے شہید ہو جاتے ہیں اور پانی وہیں رہ جاتا ہے۔ ایک رویہ یہ کہ صحابی رضی اللہ عنہ کے گھر میں مہمان آتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ اسے کھانا پیش کرتے ہیں، ساتھ ہی چراغ گل کر دیتے ہیں اور ایسے ایکٹ کرتے ہیں کہ جیسے کھانا کھایا جا رہا ہے، اور یوں مہمان سیر ہو کر کھانا کھا لیتا ہے، یہ حضوراکرم ﷺ کی وہ تربیت تھی جس سے یہ رویے پیدا ہوئے۔
ہم معاف تو کر دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصے میں کہہ رہے ہوتے ہیں، یہ میری عاجزی ہے، یہ بہت بڑا تضاد ہے، اس تضاد کو ختم کریں اور معافی کا جواز تلاش نہ کریں، اگر آج آپ کسی کو معاف کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے کل کوئی آپ کے بیٹے کو معاف کر دے۔
زندگی سے لالچ کو ختم کریں اور ہاتھ کھلا کریں، دوسروں کواپنےکھانے میں شامل کریں، اگر ایسی عادت بن جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ دل میں وسعت پیدا کردے گا۔ انسان کے لیے سب سے مشکل کام اپنی کمائی سے دوسروں کو کھلانا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں امیر ہوں گا تومیں ہاتھ کا کھلا بنوں گا، یہ غلط ہے، اگر آج غربت میں ہاتھ نہیں کھلا تو پیسہ آنے پر بھی نہیں کھلے گا۔
درج ذیل باتوں کو اپنا کر اپنے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے.
دوسروں کو آسانیاں دیں اور اپنی آسانیوں میں شامل کریں، یہ توقیق ہے اور یہ توفیق اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو دیتا ہے۔ جس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، کم از کم اس کے لیے دعا ضرور کریں۔ کسی کی تکلیف دیکھ کر کبھی خوش نہ ہوں بلکہ اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ آسانیاں بانٹیں گے توآسانیاں ملیں گی۔
دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانا چھوڑ دیں، روز محشر بندہ اور اللہ تعالیٰ جانے، ویسے بھی زندگی مختصر ہے، اگر وہ بھی دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانے میں صرف کر دی تو پھر خود کو جج کرنے کا وقت نہیں ملے گا اور آخرت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔
مددگار بنیں، لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں، پتہ نہیں کہ ہم سے منسلک بندہ کل کو کہاں پہنچ جائے۔ اگر آج کسی کی زندگی ہمارے اچھے رویے سے بن رہی ہے تواس نیکی کی اینٹ کو ضرور لگائیں تو پھر یہی نیکی ایک چین کی صورت اختیار کر لےگی اور صدقہ جاریہ ہوگی۔
اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، دنیا کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں، اگر آپ ٹھیک ہوگئے تو دنیا خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے۔ آمین

Saturday, January 21, 2017

قرآن کے حقوق اور ہمارا طرز عمل

قرآن کے حقوق اور ہمارا طرز عمل
سید عبدالوہاب شیرازی



علامہ اقبال اور خودی

علامہ اقبال اور خودی
حضرت واصف علی واصف ؒ کی ایک نایاب غیر مطبوعہ تحریر
یکے اَزنوادرات ِ واصفؒ یہ تحریر ہمیں محترم پروفیسرشوکت محمود ملک ( برادرِ اصغرحضرت واصف علی واصفؒ) کی وساطت سے موصول ہوئی۔ اِس کیلئے اِدارہ ملک صاحب کیلئے سراپا مرقع ِسپاس ہے۔
حضرت واصف علی واصف ؒ نے یہ مقالہ حضرت علّامہ محمد اقبالؒ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ۱۹۷۷ء میں گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤ ن راولپنڈی میں منعقد ایک تقریب میںپیش کیا۔” قلندر راقلندر می شناسد” کے مصداق یہ تحریرجہاں جہانِ اقبالؒ سے محرم ِ راز کی حد تک شناسائی کا ایک اعلان ہے ‘ وہاں مقالہ نگارکے اپنے تبحرِ معرفت کی ایک دستاویز بھی ہے ۔ اقبال ؒ اور خودی کے متعلق یہ تحریر آپ ؒ کے اپنے ہی قول کہ الہامی کلام کی تفسیر صاحبِ الہام ہی کرسکتاہے’ کی ایک معتبر تفسیر ہے۔ اس کلام سے اندازہ ہوتاہے کہ راز ہائے خودی آشکار کرنے والاخودی کی خلوتوں میں شوقِ تماشااورذوقِ تمنا کا خود ایک شاہکار تھا … خودی کی جلوتوں میںمصطفائی فیضِ کرم سے آج حریمِ لامکاں کا رازداں” دگر دانائے راز آید”کی ایک عملی تصویر بنا ہواہے ۔خرد اور جنوں کی سرحد پر کھڑا ایک صاحب ِ حال اس تحریر میں دراصل اپناحال بیان کررہاہے۔ روحِ اقبال ؒاپنے فکری جوہر کے اِس طرزِ پذیرائی پرعالمِ سرود و سرمستی میں ایک بار جھوم اُٹھی ہوگی۔ ۱؎ ( مدیر)
جنابِ صدر،معزز سامعین،خواتین و حضرات!…السلام علیکم
میرا آج کا موضوع ہے ”اقبالـؒ اور خودی”
پیر رومیؒ کی قیادت میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عظیم دولت سے مالا مال ہو کر اقبالؒ جب عرفانِ ذات کے سفر پر روانہ ہوا تو اُس پر وسیع و جمیل کائنات کے راز کچھ اس طرح منکشف ہونا شروع ہوئے’جیسے عجائبات کا دبستاں کھل گیا ہو۔اُس کا ذوقِ جمال اُسے سرُور و وجدان کی منزلیں طے کراتا ہوا بارگاہِ حُسنِ مطلق تک لے آیا۔کائنات اُسے مرقعِ جمال نظر آئی۔اُس نے دیکھا ‘غور سے دیکھا اور دیکھ کر محسوس کیا کہ موتی، قطرہ، شبنم، آنسو، ستارے’سب ایک ہی جلوے کے رُوپ ہیں۔ اُسے قطرہ، دریا، بادل، جھیلیں، سمندر ایک ہی وحدت میں نظر آئے۔اُسے ذرّے میں صحرا اور قطرے میں دریا نظر آیا۔ اُس نے فرد اور معاشرے کی وحدت دیکھی’ بِھیڑمیں تنہائی دیکھی اور تنہائی میں ہجوم نظر آیا۔
اقبالؒ کو یہ کائنات ایک عظیم دھڑکتے ہوئے دل کی طرح محسوس ہوئی۔اُس کے اپنے دل کی دھڑکن ‘کائنات کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو گئی۔اُس نے جلوۂ جاناں کو ہر رنگ میں آشکار دیکھا۔اقبالؒ کو عشق نے اُس مقام تک پہنچا دیا ‘جہاں انسان کو غیر از جمالِ یار کچھ نظر نہیں آتا۔اُس مقام پر انسان کہہ اٹھتاہے:

؎اب نہ کہیں نگاہ ہے ‘اب نہ کوئی نگاہ میں
محو کھڑا ہوا ہوں میں’ حُسن کی جلوہ گاہ میں

اس منزلِ دیدارِ حُسن پر پہنچ کر انسان یہ بیان نہیں کر سکتا کہ یہ کیا مقام ہے؟ صاحبِ منزل خود آئینہ ہوتا ہے’خود رُوبرو’خود نظر اورخود ہی محوِ نظارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اقبالؒ اس مقام پر ٹھہرا نہیں۔اُس نے جلوۂ حُسنِ کائنات سے معنیٔ کائنات کی طرف قدم بڑھایا۔اُسے حُسنِ فطرت نے ایک عظیم پیام عطا کیا۔اقبالؒ نے غور کیا کہ یہ کائنات کیا ہے’انسان کیا ہے’حُسن کیا ہے’عشق کیا ہے’زندگی کیا ہے’موت کیا ہے’مابعد موت کیا ہے’عمل کا مفہوم کیا ہے’عقل کیا چیز ہے’حیرت کیا ہے اور جلوہ کیا ہے’رموز کیا ہیں’ظاہر کیا ہے’باطن کیا ہے’سوز و مستی کیا ہے’سرُورِ جاوداں کیا ہے’رحیلِ کارواں کیا ہے”لا” کیا ہے”’اِلٰہ” کیا ہے’غرضیکہ یہ سب کچھ کیا ہے’کیوں ہے’کب سے ہے’کب تک ہے۔ نور و ظلمات کیاہیں۔غیاب و حضور کیا ہیں؟اسی تلاش و تجسس کے دوران اقبالؒ کو اپنے فکر کی عمیق گہرائیوں میں آخر ایک روشن نقطہ دکھائی دیا۔اور اس نقطے نے نُکتہ کھول دیا’ عقدہ کشائی کر دی’اقبالؒ کو اشیا ء و اعمال کی پہچان عطا ہوئی۔یہ نقطہ اُسے حقیقت آشنا کر گیا۔اُسے کائنات کی علامتیں نظر آئیں،شاہیں کا مفہوم سمجھ آیا،کرگس کے معنی سمجھ آئے’ صحبتِ زاغ کی خرابی سمجھ آئی۔اِسی روشن نقطے نے اسے اشیاء کے باطن سے تعارف کرایا’ رموزِ مرگ و حیات عطا کئے۔اُس نے گردشِ شام و سحر کا مقصد اِسی نقطے کی روشنی میں دریافت کیا۔یہ نقطہ پھیلتا تو کائنات بن جاتا اور سمٹتا تو آنکھ کا تِل بلکہ اقبالؒ کا دل بن جاتا۔ اسی روشن نقطے کو اقبال ؒ نے خودی کہا ہے۔

؎نقطۂ نوری کہ نام او خودی است
زیرِ خاک ما شرارِ زندگی است

چونکہ یہ روشن نقطہ ہر چیز بھی ہے،ہر شے سے الگ بھی ہے’اس لئے اس کی تعریف مشکل ہے۔خودی کیا ہے’ہر شے کی اصل ہے۔یہ Identityہے یعنی اس شے کی بنیادی فطری قدر’جس سے اس شے کا قیام ممکن ہے اور جس کے بغیر وہ شے قائم نہیں رہ سکتی۔یہ انفرادیت ہے جو اس شے کو دوسری اشیاء سے علیحدہ کرتی ہے،ممتاز کرتی ہے، Discriminate کرتی ہے۔یہ وہ تشخص ہے جس سے اس ذات کی بقا ممکن ہے۔ یہی وہ راز ہے جو کسی شے کے زندہ رہنے کا واحد جواز ہے۔اگر یہ نہ ہو تو وہ بھی نہیں۔ درحقیقت خودی ہر قابلِ ذکر وجود کے باطن کی نورانی کلید ہے۔خودی جذبۂ اظہارِ حُسنِ باطن ہے۔

؎وجود کیا ہے فقط جوہرِ نمودِ خودی
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا

خودی جوہرِ ذاتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو کسی ذات کے ہونے اور نہ ہونے کا فرق مٹ جائے۔ خودی ہر وجود میں موجود ہے اور اس کا اپنا علیحدہ وجود نہیں۔زندگی کی طرح جو’ ہر ذی جان میں ہے اور خود میں نہیں۔حُسن کی طرح جو’ ہر حسین میں ہے اور اُس کا اپنا الگ ٹھوس،قابلِ محسوس وجود نہیں۔اس لئے خودی کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر سمجھنا ممکن ہی نہیں۔خودی کے بیان میں Paradoxکا ہونا فطری ہے اور خودی کا Paradoxیا تضاد’تضاد نہیں۔کیونکہ خودی فرد بھی ہے اور معاشرہ بھی’خودی تلوار بھی ہے اور تلوار کی دھار بھی’خودی مستی ٔ لا یحزنون بھی اور سوزِ دروں بھی’خودی ضبطِ نفس کا سرمایہ بھی ہے اور اطاعت کی عظیم دولت بھی’خودی تقدیر بھی ہے اور کاتبِ تقدیر بھی’خودی نیابت ِ الہٰی کا مقام بھی ہے اور اپنی انفرادیت بھی’یہ جلوت بھی اور خلوت بھی’خودی موجِ آبِ رواں بھی اور ضبطِ فغاں بھی’خودی قریبِ رگِ جاں بھی ہے اور دُوریٔ شبِ ہجراں بھی،خودی راز بھی ہے اور محرمِ راز بھی’ناز بھی ہے نیاز بھی بلکہ بے نیاز بھی۔

اقبالؒ نے خودی کو اتنی وسعت عطا کر دی ہے کہ اس کو کسی ایک حوالے سے سمجھنا مشکل ہے۔قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کیا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اقبالؒ بہر حال اقبالؒ ہے۔وہ فقیر ہے،عارفِ حق ہے،مفکرِ فِکرصالح ہے، ملّتِ اسلامیہ کا ایک غیور فرزند،پیرِ رومیؒ کا مریدِ با وقار ہے۔ فلسفۂ شرق وغرب سے آشنا ہونے والا اقبالؒ خودی کے تصور سے جو پیغام دے رہا ہے وہ ایک عظیم پیغام ہے۔ اقبالؒ خودی کے بحرِ بے پایاں سے افکار کے گوہرِ تابدار نکالتا ہے اور قاری کے دل و دماغ کو دولتِ لا زوال سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اقبالؒ کی خودی کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان صاحبِ ادراک ہو،صاحبِ نظر ہو۔اقبالؒ نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ

نظر نہ ہو تو مرے حلقۂ سُخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال ِ تیغ ِاصیل

اقبالؒ کا تصورِ خودی عارفوں کے لئے ہے،اہلِ نظر کے لئے ہے،شب بیداروں کے لئے ہے،آہِ سحر گاہی سے آشنا روحوں کے لئے ہے،دل والوں کے لئے ہے،عشق والوں کے لئے ہے۔ یہ وہ علم ہے جو اہلِ علم کے لئے نہیں بلکہ اہلِ نظر کے لئے ہے۔اقبالؒ کہتا ہے کہ

؎ اقبالؒ یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات

خودی کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان عنوانات کو دیکھیں جن کے ماتحت اقبالؒ نے خودی کو بیان کیا۔مثلاً کائنات کی خودی …اسلام کی خودی…ملّتِ اسلامیہ کی خودی … عشق و عزم کی خودی…عمل کی خودی…فقر کی خودی…آزادی و حریت کی خودی، رفتار ِ زمانہ کی خودی اور سب سے اہم خودی’خود آگہی کی خودی۔
وقت اجازت نہیں دیتا کہ ہم ان عنوانات کا خودی کے حوالے سے مکمل جائزہ لیں’ بہر حال ایک طائرانہ نظر ہی سہی۔ کائنات خودی کی عظیم جلوہ گاہ ہے۔ اس کی بیداری اور پائیداری خودی کے دم سے ہے۔

؎ خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیداریٔ کائنات

یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار

آسماں میں راہ کرتی ہے خودی
صید مہر و ماہ کرتی ہے خودی

اقبالؒ کا مقصد یہ ہے کہ خودی کائنات کے جلووں میں جلوہ گر ہے۔جو انسان کائنات کے جلووں سے لطف اندوز نہیں ہوتا وہ ان جلووں میں خودی کی کارفرمانی کیسے دیکھ سکتا ہے؟ اقبال کہتا ہے کہ

؎ خودی جلوۂ سرمست خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند

اَزل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے

سفر اس کا انجام و آغاز ہے
یہی اس کی تقویم کا راز ہے

یہ کائنات ہے جو ہمیشہ سے آ رہی ہے اور شاید ہمیشہ رہے گی۔اس کی خودی گردش و استحکام میں ہے۔

اب آئیے اسلام کے آئینے میں خودی کی جلوہ گری دیکھیں۔اقبالؒ کے نزدیک اسلام ہی محافظِ خودی ہے اور خودی محافظِ مسلماں ہے۔ اقبالؒ  اسلام کو بقائے عالم کا ذریعہ سمجھتا ہے

؎یہ ذکرِ نیم شبی یہ مراقبے یہ سرُور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اقبال بآوازِ بلند کہتا ہے کہ

؎خودی کا سِرِ نہاں لا الہ اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ اللہ

؎خودی سے اِس طلسمِ رنگ و بُو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تُو سمجھا نہ میں سمجھا

؎حکیمی نا مسلمانی خودی کی کلیمی رمز پنہانی خودی کی

اقبالؒ خودی کو غلامی سے نجات کاذریعہ سمجھتا ہے۔خودی کے دم سے مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ حاصل ہو سکتی ہے۔اقبالؒ کے ہاں خودی King Makerبلکہ Kingdom Makerہے۔

؎ تجھے گُر فقر و شاہی کا بتا دوں
غریبی میں نگہبانی خودی کی

؎یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

؎خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجرو طغرل سے کم شکوہ فقیر

آئیے اب سب سے آخر ی لیکن سب سے اہم عنوان’خودی اور خود آگہی کی طرف۔ اقبالؒ اپنے قاری کو دعوتِ خود شناسی دیتا ہے۔اس کا پیغام یہی ہے کہ

؎ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

اپنی پہچان سے ہی اللہ کی پہچان کی طرف قدم اٹھ سکتے ہیں۔اقبالؒ خودی کو ہی پہچان کا ذریعہ مانتا ہے۔اقبالؒ انسان کو پیغام دیتا ہے کہ وہ خود رازِ فطرت ہے۔انسان ہی مقصد و مدعائے تخلیق ہے۔انسان کو اپنا مقام پہچاننا چاہیے۔انسان بالعموم اور مسلمان بالخصوص شاہکارِ فطرت اور اس کا تشخص خودی کے دم سے ہے

جو رہی خودی تو شاہی ‘نہ رہی تو روسیاہی

اسی طرح جو قوم محرومِ خودی ہو اس سے اقبالؒ یوں مخاطب ہے:

؎ اس کی تقدیر ہی محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

اقبالؒ معاشی اور سیاسی غلامی میں گرے ہوئے انسان کو بلندیوں کی طرف پکارتا ہے۔وہ اسے مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشن راہوں پر گامزن کرنا چاہتا ہے۔

؎تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا

؎تُو اپنی خودی کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر

؎ غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تُو بھی ہے آستانہ

مسلمانوں کو ان کی خودی سے آشنا کر کے اقبالؒ ان کو پیغام دیتا ہے کہ

؎ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی

؎ خودی کے ساز میں ہے عمرِ جاوداں کا سراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ

اقبالؒ کے ہاں خودی کی بلندی ہی مقصدِ حیات ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا ارادہ تقدیر بن جاتا ہے

؎خودی شہرِ مولا ‘ جہاں اس کا صید
زمیں اس کی صید ‘ آسماں اس کا صید

اقبالؒ خودی کی نگہبانی کا درس دیتا ہے۔خودداری کا پیغام دیتا ہے۔اقبالؒ کی خودی’ زندگی ہے،حیاتِ جاوداں ہے۔یہ ملّتِ اسلامیہ کے لئے ایک عظیم ذریعۂ حصول ِ قوت ہے۔ خدا ہمیں خودی کے اس بلند مقام سے آگاہ فرمائے جہاں :

خدا بندے سے خود پوچھے’بتا تیری رضا کیا ہے
۱؎ حضرت علامہ محمداقبالؒ اپنے ایک خط ‘ بنام مہاراجہ کشن پرشاد (۱۴ ۔ا پریل ۱۹۱۴ئ) لکھتے ہیں :
”یہ مثنوی جس کا نام ”’اسرارِ خودی” ہے ‘ ایک مقصد سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ میری فطرت کا طبعی اور قدرتی میلان سکر و مستی و بے خودی کی طرف ہے، مگر قسم ہے اس خدائے واحد کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان و مال و آبرو ہے’ میں نے یہ مثنوی اَز خود نہیں لکھی’ بلکہ مجھ کواِس کے لکھنے کی ہدایت ہوئی ہے ، اور میں حیران ہوںکہ مجھ کو ایسا مضمون لکھنے کیلئے کیوں انتخاب کیا گیا۔ جب تک اس کا دوسراحصہ ختم نہ ہو لے گا ‘ میری روح کو چین نہ آئے گا۔ اس وقت مجھے یہ احساس ہے کہ بس میرا یہی ایک فرض ہے اور شاید میری زندگی اصل مقصد ہی یہی ہے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ اس کی مخالفت ہوگی ‘ کیونکہ ہم سب انحطاط کے زمانے کی پیداوار ہیں اور انحطاط کا سب سے بڑا جادو یہ ہے کہ یہ اپنے تمام عناصر و اجزاء و اسباب کو اپنے شکار ( خواہ وہ شکار کوئی قوم ہو خواہ فرد) کی نگاہ میں محبوب و مطلوب بنا دیتاہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ بدنصیب شکار اپنے تباہ وبرباد کرنے والے اسباب کو اپنا بہترین مربی تصور کرتاہے… یہ بیج جو مردہ زمین میں اقبالؒ نے بویا ہے ‘ اُگے گا ‘ ضرور اُگے گا اور علی الرغم مخالفت بارآور ہوگا۔ مجھ سے اس کی زندگی کا وعدہ کیا گیا ہے ، الحمد للہ ”
(بحوالہ ”مکاتیبِ ِ برنی”)

    Thursday, January 19, 2017

    حقیقی برکتِ قرآن اور احترامِ قرآن کیا ہے۔؟

    حقیقی برکتِ قرآن اور احترامِ قرآن کیا ہے۔؟
    (سید عبدالوہاب شیرازی)
    قرآن حکیم اللہ رب العزت کا وہ کلام ہے جس میں تمام انسانوں کے لئے ہدایت رکھ دی گئی ہے۔بحیثیت مسلمان قرآن حکیم کا احترام بھی ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔ اور یقینا ہر مسلمان قرآن حکیم کا احترام کرتا بھی ہے، چنانچہ قرآن حکیم کی طرف لوگ پشت نہیں پھیرتے، اگر کوئی کمرے یا مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت کررہا ہو اور کسی دوسرے شخص نے وہاں سے جانا ہوتو وہ اس جگہ تک الٹے قدموں سے چلتا ہے جہاں تک قرآن حکیم کا نسخہ سامنے نظر آرہا ہو۔ اسی طرح مسلمان قرآن حکیم کے احترام میں قرآن سے بلند نہیں ہوتے۔ علماء نے یہ بات بھی احترام قرآن میں لکھی ہے کہ دنیا کی کسی بھی کتاب کو قرآن کے اوپر نہیں رکھنا چاہیے حتی کہ احادیث کی کتب بھی قرآن کے نیچے ہی رکھنی چاہیں۔عوام الناس میں قرآن حکیم کے احترام کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی قسمیں اٹھوائی جاتی ہیں اور یہ یقین کرلیا جاتا ہے کہ قسم اٹھانے والے نے لازما قرآن کے احترام میں سچی بات کی ہوگی۔ عدالتوں اور تھانوں میں بھی قرآن حکیم کا ایک مصرف یہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کے سامنے قرآن رکھ کر گواہیاں اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بغیر وضو کے قرآن کو نہ چھونے کا تعلق بھی احترام قرآن ہی کا حصہ ہے۔اس احترام کے ساتھ ساتھ لوگوں میں قرآن سے برکت کے حصول کے تصورات بھی پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ نئی دکان کا افتتاح کسی مدرسے کے بچوں سے قرآن پڑھا کر کیا جاتا ہے۔ نئے مکان میں شفٹ ہونے سے پہلے بھی ختم قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بیٹی کی رخصتی کے وقت سرپر قرآن پکڑکر گھر سے رخصت کرنا اور جہیز میں قرآن کا نسخہ دینے کا رواج بھی عام ہے۔ہر مسلمان چاہے اسے قرآن پڑھنا آتا ہے یا نہیں، اگر پڑھنا آتا ہے تو تلاوت کرتا ہے یا نہیں، اگر تلاوت کرتا ہے تو مفہوم سمجھتا ہے یا نہیں ہر صورت میں ہر مسلمان کے گھر قرآن پاک کا ایک نسخہ غلاف میں لپٹا الماری میں ضرور رکھا ہوتا ہے، جو بوقت ضرورت حصولِ برکت کھول کر پڑھا یا چوما جاتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاں یہ رواج بھی عام ہے کہ وہ ہر روز صبح الماری سے قرآن حکیم کا نسخہ نکال کر غلاف کھولتے ہیں اور چوم کر پیشانی سے لگا کر پھر لپیٹ کر رکھ لیتے ہیں۔ بعض روزانہ یہی عمل اپنے کاروبار ، دکان پر جانے سے پہلے دہراتے ہیں۔

    یہ تو ساری وہ باتیں تھیں جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ قرآن حکیم کا اصل اور حقیقی احترام کیا ہے؟ قرآن حکیم کی اصل اور حقیقی برکت کیا ہے؟ اس حوالے سے علامہ اقبال مرحوم کے نزدیک احترام قرآن کی حقیقت ظاہری رسومات سے کہیں ماورا ہے۔چنانچہ فقیر سید وحید الدین احترام قرآن کے زیر عنوان علامہ اقبال کا یہ واقعہ لکھتے ہیں:
    "علامہ کی چھوٹی ہمشیرہ کی شاد ی وزیر آباد کے ایک گھرانے میں ہوئی تھی۔ پھر غالباً اس لئے کہ ان کے یہاں شاد ی کے بعد ایک دو سال میں کوئی اولاد نہیں ہوئی ، ان کی خو ش دامن نے سسرال میں انھیں رہنے نہ دیا ۔ تلخی اتنی بڑھی اور بات یہاں تک پہنچی کہ وہ مجبوراً میکے چلی آئیں اور کئی سال وہیں رہیں ۔ ان کی ساس نے بیٹے کی دوسر ی شاد ی کر دی۔ پھر نہ معلوم کیا واقعات پیش آئے کہ وہ اپنی اس دوسری بہو پر بھی سوکن لے آئیں۔ علامہ اقبال کے بہنوئی ایک سعادتمند بیٹے کی طرح اپنی والدہ کی زندگی بھر خدمت اور اطاعت کرتے رہے۔ ماں نے جو کہا ، اس کی تعمیل کی لیکن ان کی وفات کے بعد انھوں نے اپنی پہلی بیو ی کو گھر لے جانا چاہا اور کئی مہینے تک کوشش جاری رکھی۔ وہ بار بار علامہ کے والد کے پاس طرفین کے رشتے داروں کو مصالحت کے لئے بھیجتے رہے۔ پہلے تو ادھر سے انکار ہو تا رہا ۔ پھر بہت کچھ سو چ بچار کے بعد علامہ کے والد اور والدہ صاحبہ دونوں رضامند ہوگئے ۔ سا س اور سسر کی رضامند ی کا سہارا پاکر علامہ کے بہنوئی کچھ عزیزوں کو ساتھ لے کر اپنی سسرال آگئے ۔ اتفاق کی بات کہ ان دنوں علامہ بھی سیالکوٹ گئے ہوئے تھے ۔ انھیں جب اس کا علم ہوا کہ ان کے بہنوئی مصالحت کی غرض سے آئے ہوئے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی حد ہی نہ رہی۔ والد صاحب نے بہت کچھ سمجھایا مگر علامہ یہی کہتے رہے کہ مصالحت نہیں ہو سکتی ۔ ہر گز نہیں ہو سکتی ۔ آنے والوں کو واپس کر دیا جائے ۔ان کے والد نے جب دیکھا کہ اقبال کسی طرح رضامند ہی نہیں ہو تے تو انھوں نے خاص انداز میں کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں والصُّلحُ خَیر (صلح میں خیر ہے)فرمایا ہے ۔ اتنا سننا تھا کہ علامہ اقبال خاموش ہو گئے ۔ ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ، جیسے کسی نے سلگتی ہوئی آگ پر برف کی سل رکھ دی ہو ۔ ان کے والد نے قدرے توقف کے بعد علامہ سے پوچھا کہ پھر کیا فیصلہ کیا جائے ؟ علامہ نے جواب دیا ، وہی جو قرآن کہتا ہے ۔ چنانچہ مصالحت ہو گئی اور چند دن کے بعد ان کے بہنوئی اپنی بیو ی یعنی علامہ کی چھوٹی بہن کو رخصت کرا کے اپنے گھر لے گئے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ صلح خیر ہی ثابت ہوئی۔(روزگار فقیر)
    اس واقعے سے پتا چلتا ہےکہ علامہ اقبال مرحوم کے نزدیک قرآن حکیم کا حقیقی احترام یہ ہے کہ اس کے احکامات پر بلاچوں چرا عمل کرلیا جائے۔ادھر قرآن کا حکم سامنے آئے اور ادھر مسلمان اپنے جذبات کو دبا کر اپنی رائے کو قرآن کی رائے سے بدل دے۔
    علامہ کے ہم عصر ایم اسلم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: 
    " میں نے متعدد بار قرآن مجید کو ان کے مطالعے کے میز پر دیگر کتابوں کے ساتھ پڑا دیکھا۔ ایک مرتبہ میں نے ادب کے ساتھ انھیں اس طر ف متوجہ کیا تو فرمانے لگے : یہ کسی قیمتی اور خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اور عطر میں بسا کر اونچی جگہ پر رکھنے والی کتاب نہیں بلکہ یہ تو انسان کے ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے ۔ چونکہ مجھے اکثر اس کے حوالے کی ضرورت پیش آتی ہے اس لیے یہاں رکھی ہے۔(افکار اقبال)
    یعنی قرآن تو ایسی کتاب ہے جو ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے، غلافوں میں لپیٹ کر صرف برکت کے لئے رکھنے کی کتاب نہیں۔لیکن آج صورتحال اس کے برعکس ہے، ہم نے قرآن کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا ہے، جب اپنا دنیاوی مفاد ہوتا ہے تو ہم اسے اٹھاتے ہیں، گرد صاف کرتے ہیں اور چومتے ہیں، باقی ہمارے کاروبار زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
    علامہ اقبال ارمغان حجاز فارسی میں کہتے ہیں:
    برہمن ازبتاں طاق خو د آراست
    تو قرآں از سر طاقے نہادی 
    برہمن نے اپنے طاق کو بتوں سے سجا یا ہے اور اے مسلمان تو نے قرآن کو طاق پر رکھ چھوڑا ہے ۔
    ایک اور مقام پر ہمار ے معاشر ے کی "رسوم قرآنی "پر اپنے سوز دروں کا اظہار مسلمان کو مخاطب کر تے ہوئے یوں کر تے ہیں :
    بہ بند صو فی و ملا اسیر ی
    حیات از حکمت قرآں نگیر ی
    بآ یا تش تراکار ی جزایں نیست
    کہ از یسینِ اُو آساں بمیر ی 
    اے مسلمان! تو صوفی و ملا کے فریب کم نگہی اور کج ادائی کا اسیر ہے اور حکمت قرآں سے پیغام حیات اور اسلو ب زندگی حاصل نہیں کر رہا ۔ قرآن کی آیات سے تیرا تعلق بس اتنارہ گیا ہے کہ تیرے ہاں کسی کے وقت نزع سور ہ یسین کی تلاوت بس اس لیے کی جاتی ہے کہ مرنے والے کا دم آسانی سے نکل جائے ۔
    حضور ﷺ کا فرمان ہے:
    اے اہل قرآن اس قرآن کو پس پشت نہ ڈالو، اور اس کی تلاوت کرو جیسا اس کا حق ہے صبح اور شام، اور اس کو پھیلاو، اور اسے خوبصورت آوازوں سے پرھو، اور اس میں تدبر کرو تاکہ تم فلاح پاو۔(بیہقی)
    لاتتوسدوا یعنی پس پشت نہ ڈالو،سہارا نہ بناؤ۔ہم نے اپنے مفادات کے لئے سہارا بنادیا ہے، دکان،کاروبار کی برکت، قسمیں اٹھانے اور مرتے ہوئے شخص کے پاس سورۃ یسین پڑھ لیتے ہیں، بیٹی کو ٹی وی کے ساتھ جہیز میں قرآن بھی دے دیتے ہیں۔ ہمارے حال پر حضور ﷺ کا یہ فرمان صادق آتا ہے۔
    ان اﷲ یرفع بہذاالکتاب اقواما ویضع بہ آخرین(مسلم)
    یعنی دنیا میں بحیثیت قوم ہماری تقدیر اس کتاب سے جڑی ہوئی ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
    وقدترکت فیکم مالن تضلوا بعدہٗ ان اعتصمتم بہ کتاب اﷲ (مسلم)
    میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جارہا ہوں کہ جب تک اس کے ساتھ چمٹے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ اﷲ کی کتاب قرآن ہے۔
    چنانچہ قرآن کا حقیقی احترام یہی ہے کہ قرآنی احکامات ہماری زندگی، ہمارے گھر، ہماری دکان ، ہمارے معاشرے او ر ملک میں نظر آنے چاہیے اور قرآن کی حقیقی برکت بھی یہی ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے اس اعلان خداوندی کے مستحق ٹھہریں جو سورہ اعراف آیت96 میں فرمایا: 
    اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔

    Wednesday, January 18, 2017

    ٹرمپ ’’فاشزم کا دوستانہ چہرہ‘‘ ہیں!

    آٹھ نومبر ۲۰۱۶ء کو ڈونلڈ ٹرمپ سفید فام ووٹروں کے اشتعال اور گھٹیا رجحانات کوابھارتے ہوئے امریکا کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ٹرمپ کی یہ مہم نازی جرمنی کے ترجمان اور پروپیگنڈا کے ماہر، جوزف گوبلز کو بھی چکرا کر رکھ دیتی ہے۔ تاہم ٹرمپ کی فتح کا درحقیقت کیا مطلب ہے اور ہر صورت اپنی مرضی مسلط کرنے کے عادی اس رہنما کے ۲۰ جنوری ۲۰۱۷ء کو اقتدار سنبھالنے پر عام آدمی کی توقعات کیا ہوں گی؟ نیز ٹرمپ کے سیاسی تصورات کیا ہیں اور کیا ’’ٹرمپ ازم‘‘ کا عملاً وجود ہے؟ کیاٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی ماضی کے روایتی دھارے سے کنارا کشی کرتے ہوئے ایک الگ راہ اختیار کرے گی؟ کیا اس سے عالمی سطح پر استحکام دیکھنے میں آئے گا یا عالمی نظام لرزہ براندام ہوجائے گا؟ یہ اور ایسے ہی دوسرے بہت سے سوالات عام آدمی سے مبصرین تک سبھی کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔

    چند سال پہلے عصر حاضر کے عظیم دانشور، سیاسی مبصر اور مؤرخ نوم چومسکی نے خبردار کیا تھا کہ امریکا کا سیاسی ماحول آمریت کے لیے ساز گار ہوچکا ہے۔ نوم چومسکی نے ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے مضمرات سے متعلق بھی اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ٹرمپ اقتدار سنبھالنے والے ہیں، نوم چومسکی کی فکر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ امریکا میں منفی سوچ کی توسیع اور ٹرمپ کی فتح کو آج کی دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
    نوم چومسکی سے کیا جانے والا ایک تازہ انٹرویو ملاحظہ فرمائیے۔

    سوال: ناقابل تصور واقعہ رونما ہوچکا ہے۔ تمام پیش گوئیوں اور اندازوں کو الٹتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو واضح طور پر مات دے دی اور مائیکل مور کا کہا بھی درست ثابت ہوچکا ہے کہ ایک ’’گھٹیا، جاہل، خطرناک، اور جزوقتی مسخرہ لیکن قطعی طور پر روایت شکن‘‘ شخص امریکا کا اگلا صدر بن جائے گا۔ آپ کے نزدیک وہ کون سے فیصلہ کن عوامل تھے، جن کی وجہ سے امریکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہمیں دکھائی دیا ہے؟
    نوم چومسکی: جواب کی طرف آنے سے پہلے چند لمحوں تک سوچنے کی ضرورت ہے کہ ۸ نومبر کو آخر ہوا کیا؟ یہ انسانی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس انداز میں دیکھتے ہیں اور اس پر ہماری فعالیت کیا ہوتی ہے۔ ۸ نومبر ۲۰۱۶ء کو آنے والی سب سے اہم خبر کو نظر انداز کردیا گیا۔ اس دن ’’ڈبلیو ایم او‘‘ (ورلڈ میٹیرولوجیکل آرگنائزیشن) نے ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر مراکش میں منعقد کی جانے والی کانفرنس (COP22) میں ایک انتہائی اہم رپورٹ پیش کی تھی۔ یہ کانفرنس پیرس معاہدے (COP21) کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے بلائی گئی۔ ڈبلیو ایم او نے رپورٹ پیش کی کہ پانچ برس کے دوران عالمگیر سطح پر حدت میں اضافہ ہوا ہے۔ قطبین، بالخصوص قطب جنوبی کے عظیم الشان گلیشیرز کی برف کے تیز تر پگھلاؤ سے سطح سمندر بلند ہورہی ہے۔ اس سے پہلے قطب شمالی کے سمندر میں گزشتہ پانچ برس کے دوران پڑنے والی برف اس سے قبل ۲۹ برس کے دوران شامل ہونے والی برف سے ۲۸ فیصد کم رہی۔ ایک طرف تو سطح سمندر بلند ہو رہی ہے اور دوسری طرف برف باری میں کمی سے ٹھنڈک میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس کے نتیجے میں عالمگیر سطح پر حدت بڑھ رہی ہے۔ ڈبلیو ایم او نے رپورٹ میں مزید کہا کہ پیرس معاہدے کے طے کردہ معیار سے درجہ حرارت خطرناک حد تک قریب ہوتا جارہا ہے۔
    ۸ نومبر کو پیش آنے والے ایک اور واقعے کی غیر معمولی حد تک تاریخی اہمیت ہے۔ ایک بار پھر اس کے غیر معمولی مضمرات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ ۸ نومبر ۲۰۱۶ء کو عالمی تاریخ کے طاقتور ترین ملک میں انتخابات ہوئے۔ اور ان کے نتائج نے مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ سبھی کا کنٹرول دنیا کی خطرناک ترین تنظیم ری پبلکن پارٹی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس جملے کے آخری حصے کے سوا تمام معروضات غیر متنازع ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ عجیب بلکہ اشتعال انگیز محسوس ہو مگر کیا یہ بات درست نہیں؟کیا حقائق اس کی غمازی نہیں کرتے؟ ری پبلکن پارٹی بہت تیزی سے منظم انسانی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاریخ اس قبیل کی کسی کاوش کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کیا یہ مبالغہ آرائی ہے؟ ذرا واقعات پر غور تو فرمائیے۔
    انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلے میں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہر امیدوار نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے دو۔ چند ایک معتدل سوچ رکھنے والوں نے، جن میں جارج واکر بش کے بھائی جیب بش بھی شامل ہیں، کہا کہ سب کچھ غیر یقینی ہے لیکن وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ کافی مقدار میں قدرتی گیس پیدا کر رہے ہیں۔ یہ گیس فریکنگ ٹیکنالوجی (زیر زمین ہائی پریشر سے پانی انجیکٹ کرکے تیل یا گیس نکالنا) سے حاصل کی جارہی ہے۔ یا پھر جان کیسک (John Kasich) نے تسلیم تو کیا کہ عالمگیر حدت ایک حقیقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اوہایو میں کوئلہ جلائیں اور اس پر معذرت خواہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے زمین سے نکالے جانے والے معدنی ایندھن کا استعمال بڑھانے، اس حوالے سے کیے جانے والے بین الاقوامی معاہدے پھاڑ کر پھینک دینے اور توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی مدد سے ہاتھ کھینچ لینے کی بات کہی۔ انہوں نے سمندری چٹانوں سے تیل اورگیس نکالنے کا کام تیز کرنے کی بھی وکالت کی۔
    ٹرمپ نے پہلے ہی تحفظِ ماحول کی ایجنسی ای پی اے کو تحلیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ اس ایجنسی کی سربراہی میرون ابیل کے سپرد کرنا چاہتے ہیں، جو ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ٹرمپ کے اہم ترین مشیر برائے توانائی تیل کے ارب پتی سوداگر ہورالڈ ہیم ہیں جنہوں نے توقع کے مطابق اپنی ترجیحات کا اعلان کردیا ہے۔ ان ترجیحات میں ریگولیشنز کی تنسیخ، صنعتوں کے لیے ٹیکسوں میں غیر معمولی رعایت، معدنی ایندھن کی غیر معمولی پیداوار ڈکوٹا ایکسس پائپ لائن پر صدر اوباما کی طرف سے عائد عارضی پابندی اٹھانا شامل ہیں۔ اس پر مارکیٹ نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ انرجی کارپوریشنز کے حصص میں تیزی آئی۔ مارکیٹ میں آنے والی تیزی کا کوئلہ نکالنے والی سب سے بڑی عالمی فرم پی باڈی انرجی کو غیر معمولی فائدہ پہنچا۔ یہ فرم دیوالیہ ہوچکی تھی لیکن ٹرمپ کی فتح کے بعد اس نے اپنا ۵۰ فیصد نقصان پورا کرلیا ہے۔
    ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ری پبلکن پارٹی کی طرف سے انکار ناقابل فہم ہے۔ اور اس کے واضح اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ پیرس معاہدے سے امید بندھی تھی کہ دنیا ایک قابلِ اعتماد معاہدے کے ذریعے ماحول کو تحفظ دینے کی طرف پیش رفت یقینی بنائے گی، ری پبلکن پارٹی تو انتہائی ضروری معاہدوں کی پابند ہونے سے بھی انکار کر رہی ہے۔
    اس رویے کے عالمی اثرات توقع سے کہیں جلد دکھائی دے رہے ہیں۔ ماحول میں حدت بڑھنے سے سمندروں کی سطح بلند ہوگی اور بنگلادیش جیسے ممالک میں چند ایک برس میں لاکھوں افراد سمندر سے متصل نشیبی علاقوں سے نقل مکانی شروع کردیں گے۔ بہت سی بستیاں زیر آب آنے لگیں گی۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے معاشی اور معاشرتی دونوں ہی سطحوں پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماحول میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں کے ایک بنگلادیشی ماہر کا کہنا ہے کہ ماحول میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والوں کو ان تبدیلیوں کے ذمہ دار ممالک میں داخل ہونے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر تمام نہیں تب بھی چند لاکھ افراد کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انصاف سے دیکھیں تو ان کی بات میں وزن ہے۔
    طاقتور ممالک امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں مگر انہوں نے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی دھن میں ایک نئے ارضی دور کو جنم دیا ہے۔ اس دور میں انسان ماحول کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دے گا۔ ان تبدیلیوں کے سنگین نتائج میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس کے اثرات صرف بنگلادیش جیسے ممالک تک محدود نہ رہیں گے۔ جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت، جو پہلے ہی غریب افراد کے لیے ناقابل برداشت ہوچکا ہے، بڑھ جانے سے ہمالیہ کے گلیشیر پگھل کر کم ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس سے تمام خطے میں ایک آبی بحران پیدا ہوجائے گا۔ بھارت میں کم و بیش ۳۰ کروڑ افراد کو پہلے ہی پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
    انسانوں کے لیے اب اپنی بقا کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ انسانی نسل کی بقا کو لاحق خطرات کا تدارک کرنے کے بجائے معاملات کو مزید الجھایا جارہا ہے یعنی خطرات بڑھائے جارہے ہیں۔ جوہری آلات سے رونما ہونے والی ممکنہ تباہی کا خطرہ سات عشروں سے ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اب اس کی سنگینی کئی گنا ہوچکی ہے۔ افسوس کہ امریکا کی حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران کسی ایک امیدوار نے بھی ماحول کو لاحق شدید ترین خطرات کی طرف ووٹروں کی توجہ دلانا یکسر ضروری نہ سمجھا۔
    جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ہلیری کلنٹن کو ملنے والے پاپولر ووٹ زیادہ تھے، یاد رکھا جائے کہ امریکا میں حتمی انتخابی فتح کا تعلق امریکی سیاست کے اُن عجیب خد و خال سے ہے جن میں سے ایک الیکٹورل کالج ہے، جس کے ذریعے اس ملک کا حصہ بننے والی مختلف ریاستوں کو ایک الائنس کی صورت اکٹھاکیا گیا ہے۔ ہر ریاست میں کانگریس کے لیے ہونے والے انتخابات ہر ضلع میں اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس سے دیہی علاقوں کے ووٹوں کا اثر بڑھ جاتا ہے (چاہے اس کے لیے حلقوں کی حدود کیوں نہ تبدیل کرنی پڑیں)۔ اس طریق کارکے تحت اگر صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوتا تو ڈیموکریٹس کو آرام سے فتح حاصل ہوجاتی کیونکہ ان کا پاپولر ووٹ زیادہ ہے لیکن پھر تو ماضی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں سے کم از کم نصف کے نتائج تسلیم کردہ نتائج سے مختلف ہوتے۔ اس طرح امریکی تاریخ کا دھارا بالکل مختلف ہوتا۔ اس حوالے سے کچھ مزید حقائق یہ ہیں کہ اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے افراد نے ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیا بلکہ سینڈرز کے نوجوان حامیوں کا تناسب تو اس سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ تو پھر ان معاملات کا انسانی مستقبل سے کتنا گہرا تعلق ہوا؟ حالیہ معلومات کے مطابق ٹرمپ کو سفید فام ووٹروں کی ریکارڈ حمایت حاصل رہی۔ ان میں درمیانی آمدنی والا محنت کش طبقہ بھی شامل ہے کہ جس کی سالانہ آمدن پچاس ہزار سے نوے ہزار ڈالر تک ہے۔ اس کے علاوہ دیہی اور نیم دیہی علاقوں کے افراد نے بھی ٹرمپ کی حمایت کی۔ یہ افراد مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ سے ناراض تھے۔ اس کا ایک اظہار بریگزٹ کے غیر متوقع نتائج اور یورپ میں مرکز مائل جماعتوں کی کمزوری سے بھی ہو رہا ہے۔ بہت سے افراد ماضی کی نسلوں کی نیو لبرل پالیسیوں سے خوش نہیں۔ ایلن گرین اسپین نے کانگرس کے سامنے ان پالیسیوں کا برملا اعتراف کیا تھا۔ اگرچہ معاشی میدان میں ان کا نام بہت احترام سے لیا جاتا تھا لیکن وہ جس معیشت کے نگران تھے وہ ۲۰۰۸۔۲۰۰۷ء میں خاک چاٹتی ہوگی۔ اس معاشی بحران نے پوری دنیا میں بھونچال سا برپا کردیا۔ گرین اسپین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی نظم و نسق میں ان کی کامیابی کا راز محنت کش طبقے کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس میں مضمر ہے۔ اگر محنت کش افراد کو کسی نہ کسی شدید خوف میں مبتلا رکھا جائے تو وہ زیادہ تنخواہ، فوائد اور جاب سکیورٹی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ اس نئے معاشی نظریے کا نشانہ بننے والے محنت کش، ظاہر ہے نتائج سے خوش نہیں۔ وہ ۲۰۰۷ء میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات سے بھی خوش نہ تھے۔ اس نیو لبرل دور میں ان کی تنخواہیں گھٹادی گئیں۔ اور پھر تنخواہوں کو ۱۹۶۰ء کی تنخواہوں کی سطح پر پہنچا دیا گیا۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی تنخواہوں میں مستقل اضافہ ہوتا رہا۔ یعنی معاشرے کے ایک قلیل التعداد طبقے کو نوازنے کا عمل عروج پر تھا۔ ڈین بیکر نے ایک حالیہ کتاب میں بتایا ہے کہ یہ سب مارکیٹ کے محرکات کا نتیجہ نہ تھا بلکہ سب کچھ بری طرح manipulate کیا گیا تھا۔ کم از کم تنخواہیں پانے والوں کے حال سے پتا چلتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پچا س اور ساٹھ کی دہائی میں معاشی شرح نمو میں اضافے کا سبب پیداوار میں اضافہ تھا اور کام کرنے والوں کو اس اضافے سے حصہ ملتا تھا۔ نیو لبرل ڈاکٹرائن نے اس کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد سے اب تک کم از کم تنخواہ بھی جمود کا شکار ہے۔ اگر یہ وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی تو آج یہ کم از کم بیس ڈالر فی گھنٹہ ہوتی لیکن حالات یہ ہیں کہ پندر ہ ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ بھی معاشی اور سیاسی انقلاب تصور کیا جائے گا۔
    کل وقتی ملازمت کی باتیں سننے کو تو مل رہی ہیں لیکن لیبر فورس کی شرکت معمول سے کہیں کم ہے۔ کام کرنے والے افراد کے لیے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کام کرنے کی بہت اہمیت ہے کیونکہ اس میں یونین کا تحفظ اور دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ عارضی طور پر کی جانے والی ملازمت میں کسی طرح کی جاب سکیورٹی نہیں ہوتی۔ تنخواہوں، فوائد اور جاب سکیورٹی کے عدم تحفظ کے علاوہ عزت و وقارکو پہنچنے والی زک اور بہتر مستقبل کے امکانات سے نا امیدی ایک مستقل خوف کا روپ دھار لیتی ہیں۔ کام کرنے والے دنیا میں اپنا کوئی مستقل کردار نہیں دیکھتے کیونکہ وہ صرف ایک دن گزارنے کے لیے جتن کر رہے ہوتے ہیں۔ اس صورت ِحال کی عکاسی Arlie Hochschild نے ٹرمپ کے مضبوط گڑھ Louisiana کی منظر کشی سے کی ہے۔ وہ خود بھی وہاں بہت دیر تک کام کرتی رہی ہیں۔ اُنھوں نے ایک سطری تصور اجاگر کیا ہے جس میں شہری کھڑے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے کی توقع میں محنت کر رہے ہیں لیکن وہ جس لکیر پر کھڑے ہیں وہاں اُن کی پوزیشن ساکت ہے۔ ان کے سامنے اور لوگ ہیں جو آگے کو چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ اُنہیں کوئی پریشانی نہیں، امریکی طریقہ یہی ہے۔ یہاں مبینہ میرٹ رکھنے والے افراد آگے بڑھ جائیں گے لیکن پیچھے کھڑے افراد پریشان ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ مبینہ میرٹ رکھنے والے افراد وہ ہیں جو کسی اصول یا قاعدے کی پیروی نہیں کرتے لیکن اُنہیں وفاقی حکومت کے بنائے گئے قواعد کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان لوگوں میں تارکین وطن بھی ہیں اور افریقی نسل کے امریکی بھی۔
    یہ سب کچھ صدر ریگن کی نسلی تقسیم پر مبنی ویلفیئر کوئینز کے نتیجے میں سامنے آرہا ہے کیونکہ سفید فاموں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے سیاہ فاموں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔ بعض اوقات ناکامی کی وضاحت بھی حکومت سے نفرت میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک مرتبہ بوسٹن میں میری ملاقات ایک ہاؤس پینٹر سے ہوئی جو ’’شیطانی حکومت‘‘ کے خلاف تھا کیونکہ واشنگٹن کے ایک سرکاری افسر نے، جسے پینٹنگ کا کچھ پتا نہ تھا، ایک میٹنگ بلاتے ہوئے پینٹنگ کا کام کرنے والوں کو لیڈ کی آمیزش رکھنے والا پینٹ استعمال کرنے سے منع کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ لیڈ کے بغیر انیمل پینٹ بن ہی نہیں سکتا، لیکن افسر کو یہ بات کو ن سمجھائے۔ اس پینٹر کا کہنا تھا کہ اس پالیسی نے اس کے چھوٹے سے کاروبار کو تباہ کردیا ہے۔ اب وہ ناقص مٹیریل رکھنے والے پینٹ سے مکانات کو رنگنے پر مجبور ہے۔ بعض اوقات سرکاری افسران کا موقف درست ہوتا ہے۔ وہ جس چیز پر پابندی لگاتے ہیں اُس کی ٹھوس وجوہ موجود ہوتی ہیں۔ Hochschild ایک آدمی کے بارے میں بیان کرتا ہے جس کی فیملی اور دوست کیمیائی آلودگی کے مہلک اثرات کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن وہ حکومت اور ’’لبرل اشرافیہ‘‘ سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ای پی اے کے قوانین اُنہیں آلودہ پانی میں مچھلی کا شکار کرنے سے روکتے ہیں۔ دوسری طرف ماحول کے تحفظ سے متعلق سرکاری ادارہ آبی آلودگی کا باعث بننے والے کیمیکل پلانٹس چلانے والوں سے کچھ نہیں کہتا۔
    اب آپ کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ ٹرمپ کو اس قدر حمایت کیوں حاصل ہوئی۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ان کے مسائل حل کردیں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی پیش کردہ تجاویز پر عمل سے رونما ہونے والے نتائج اس کے برعکس ہوں گے۔ انتخابات سے قبل کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کے جذباتی حامیوں کو یقین تھا کہ وہ ملک میں تبدیلی کے نقیب ہیں جبکہ ہلیری کلنٹن روایتی تصورات رکھنے والی امیدوار ہیں، جو اُن کی پریشانی اور دکھوں کا مداوا نہ کر پائیں گی۔
    ٹرمپ جس تبدیلی کی علامت ہیں وہ نقصان دہ ہے مگر عام امریکی انفرادی سطح پر یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ بھرپور قنوطیت ۱۹۳۰ء کی دہائی میں بھی تھی اور اب بھی ہے مگر آج کی قنوطیت مختلف ہے۔
    ٹرمپ کی کامیابی میں چند دیگر عوامل نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ تقابلی جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ سفید فام باشندوں کی حاکمیت کی گرفت امریکی کلچر پر اُس سے کہیں زیادہ ہے جس کا مظاہرہ جنوبی افریقا میں دیکھنے میں آیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سفید فام آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایک یا دو عشروں کے بعدافرادی قوت میں اُن کی تعداد کم ہوجائے گی اور اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد وہ ایک اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ سیاست میں شناخت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے روایتی قدامت پسند کلچر خطرے کی زد میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس میں سیاسی عہدے کے بجائے اشرافیہ کا عہدہ تشکیل پاتا ہے، جو چرچ جانے والے اور محنت کش محب وطن افراد اور ان کی خاندانی اقدار سے نفرت کرتا ہے۔
    امریکا کی ۴۰ فیصد آبادی عالمگیر حدت کو مسئلہ سمجھتی ہی نہیں۔ اس کا خیال ہے کہ چند عشروں کے بعد مسیح علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ دیگر ۴۰ فیصد کا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا محض چند ہزار سال قبل معرض وجود میں آئی ہے۔ اور اگر یہاں سائنس کا بائبل سے تصادم ہوتا ہے تو یہ سائنس کی بدقسمتی ہے۔ دیگر معاشروں میں ایسے رویے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ۱۹۷۰ء کی دہائی سے محنت کش افراد کے بارے میں سوچنا ترک کر رکھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب اسے محنت کش طبقے کا دشمن نمبر ون گردانا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے محنت کش طبقے کے مسائل کی بات کی ہے، انہیں روزگار دینے کا یقین دلایا ہے۔
    نظریاتی نظام کی ایک بڑی کامیابی عوامی غصے کا رخ کارپوریٹ سسٹم کی طرف سے ہٹاکر حکومت کی طرف موڑنا ہے۔ حکومت کے پیش کردہ پروگرام دراصل کارپوریٹ سیکٹر نے وضع کیے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد میڈیا کے تبصرے بھی کارپوریٹ سیکٹر کی آواز میں آواز ملالیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے تمام تر نقائص کے باجود حکومت پر عوام دباؤ ڈال سکتے ہیں لیکن کارپوریٹ سیکٹر پر اُن کا کوئی زور نہیں چلتا۔ کاروباری طبقہ نہایت کامیابی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مشکلات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی اشتعال کا رخ حکومت کی طرف موڑ دیتا ہے۔
    سوال: کیا ٹرمپ امریکی سیاست میں فعال ہونے والی ایک نئی تحریک کی نمائندگی کر رہے ہیں یا پھر اُنہیں محض اس لیے ووٹ ملے کہ لوگ روایتی سیاست کی نمائندہ ہلیری سے تنگ آئے ہوئے تھے؟
    نوم چومسکی: یہ کوئی نئی تحریک نہیں ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں نیو لبرل دور میں دائیں بازو کی طرف بڑھیں۔ آج نئے ڈیموکریٹس وہی ہیں جنہیں ہم کبھی ’’معتدل ری پبلکنز‘‘ کہا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں برنی سینڈرز نے بجا طور پر کہا تھا کہ اُنہیں دیکھ کر آئزن ہاور کو بھی زیادہ حیرت نہ ہوتی۔ ریپبلکنز دولت مند اور متمول طبقے کی طرف اس قدر جھکاؤ رکھتے ہیں کہ اُنہیں اپنے پروگرام کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی امید ختم ہوچکی ہے۔ وہ معاشرے کے متحرک طبقوں کے قریب ہوکر اُن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان طبقوں میں نسل پرست بھی ہیں اور عالمگیریت کے شکار بھی۔ اس پالیسی کے نتائج انتخابی مہم کے ابتدائی مراحل سے نمایاں ہونے لگے تھے۔
    چاہے یہ تاثر درست ہے یا غلط، ہلیری کلنٹن ایسی پالیسیوں کی نمائندگی کرتی ہیں، جن سے لوگ خوف کھاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کو ’’تبدیلی‘‘ کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ مہم بذات خود اہم تھی کیونکہ اس میں اہم ایشوز کو نظر انداز کردیا گیا اور جیسا کہ میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے اندازہ لگایا گیا، اس نے بھی روایت سے ہٹ کر کچھ رپورٹ نہ کیا۔
    سوال: انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ تمام امریکیوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن جب قوم اتنی تقسیم ہوچکی ہے، وہ پوری قوم کی نمائندگی کس طور کرسکیں گے؟ اُنھوں نے امریکا میں موجود اقلیتوں اور خواتین سے نفرت چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ کیا آپ بریگزٹ اور ٹرمپ کی فتح کے مضمرات میں یکسانیت دیکھتے ہیں؟
    نوم چومسکی: بریگزٹ اورٹرمپ کی فتح میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں فروغ پارہی ہیں۔ ان کے لیڈر ٹرمپ کو والہانہ انداز میں کامیابی کی مبارک باد دے رہے ہیں۔ وہ نومنتخب امریکی صدر کو ’’اپنے جیسا‘‘ ہی سمجھ رہے ہیں۔ نیگل فرایج، لی پن، اوربن۔۔۔ سب ٹرمپ جیسے ہی ہیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت خطرناک ہے۔ آسٹریا اور جرمنی میں ہونے والے رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ ۱۹۳۰ء کی دہائی کی تلخ یادیں تازہ ہو جانے کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے۔ میں اُس وقت بچہ تھا لیکن مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میں نے ہٹلر کی تقاریر سنی تھیں۔ اگرچہ اُس وقت بہت سے الفاظ میری سمجھ سے ماورا تھے لیکن ان کا لہجہ اور حاضرین اور سامعین کے تاثرات دل دہلا دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلا مضمون فروری ۱۹۳۹ء میں لکھا تھا، جو بارسلونا (اسپین) کے زوال کے بارے میں تھا۔ وہاں نفرت انگیز فاشزم نے پنجے گاڑ لیے تھے۔ عجیب اتفاق ہے کہ جب حالیہ امریکی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تو میں اور میری بیوی بارسلونا میں تھے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے خدشات کو تقویت دیتے ہیں یا ان کی جڑ کاٹتے ہیں۔
    سوال: ٹرمپ کے پاس واضح سیاسی نظریہ نہیں ہے، جس سے ان کی معاشی، سماجی اور سیاسی ترجیحات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ ہاں، اُن کے رویے میں آمرانہ رجحان کی جھلک نمایاں ملتی ہے۔ توکیا اسے دیکھتے ہوئے آپ اس بیانیے کی تائید کرتے ہیں کہ ٹرمپ دراصل ’’فاشزم کا دوستانہ چہرہ‘‘ ہیں؟
    نوم چومسکی: کئی سال سے میں امریکا میں ایسے نظریات کے پروان چڑھنے کے خطرات کے بارے میں لکھ اور بول رہا ہوں، جو بظاہر بہت مخلصانہ اور عوام دوست دکھائی دیتے ہیں لیکن ان سے مستفید ہوتے ہوئے کوئی آمرانہ ذہنیت کا شخص عوام کے خوف و خدشات کو کنٹرول کرکے خطرناک سمت میں موڑ سکتا ہے۔ اس خطرے کا شکار معاشرے کے کمزور افراد اور اقلیتیں بن جائیں گی۔ اور اسی صورتحال کو Bertram Gross نے تین عشرے قبل ’’دوستانہ فاشزم‘‘ قرار دیا تھا۔ آج خطرہ پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ گلوبلائزیشن کا دور ختم ہوچکا ہے اور ٹرمپ کے ہاتھ بے انتہا طاقت آگئی ہے۔
    سوال: وائٹ ہاؤس میں ری پبلکنز آچکے ہیں۔ اور وہ دونوں ایوانوں اور سپریم کورٹ کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں تو اس صورت میں آپ اگلے چار سال تک امریکا کو کس سمت بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں؟
    نوم چومسکی: اس بات کا بڑی حد تک مدار اہم عہدوں اور مشیروں کے لیے کی جانے والی نامزدگیوں پر ہے۔ اگر نرم الفاظ بھی استعمال کیے جائیں تو بھی کہنا پڑتا ہے کہ فی الحال سامنے آنے والے نام ’’پرکشش‘‘ نہیں ہیں۔ کئی سال کے لیے سپریم کورٹ کا کنٹرول ’’ردعمل ظاہر کرنے والوں‘‘ کے ہاتھ آجائے گا اور اس کے نتائج کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ اگر ٹرمپ بھی اپنے مالیاتی پروگرام میں پال رائن (Paul Ryan) کا انداز اپناتے ہیں تو اس سے دولت مند طبقے کو بہت فائدہ ہوگا۔ اندازہ ہے کہ ٹیکس پالیسی سے وفاق ٹاپ کے صفر اعشاریہ ایک فیصد طبقے کو ٹیکس میں ۱۴ فیصد تک رعایت دے گا۔ اعلیٰ طبقے کو ٹیکس میں ملنے والی مزید رعایت اس کے علاوہ ہے۔ دوسری طرف عوام کے لیے ٹیکس میں کوئی نرمی یا رعایت نہیں۔ اور یہ سارا بوجھ عوام ہی کو برداشت کرنا ہے۔ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے معاشی نمائندے مارٹن وولف لکھتے ہیں کہ’’ٹیکس تجاویز پہلے سے ہی دولت مند امریکیوں کو بھاری فائدہ پہنچائیں گی۔‘‘ دوسری طرف عام شہریوں پر مالی دباؤ آجائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ کو فائدہ پہنچے گا لیکن اُن کے اپنے حلقے کے ووٹر دباؤ کا سامنا کریں گے۔ اس کا فوری رد ِعمل کاروباری دنیا پر دیکھنے میں آیا۔ وال اسٹریٹ، دفاعی صنعت، انرجی سیکٹر، بگ فارما اور دیگر طاقتور ادارے اپنا مستقبل روشن دیکھ رہے ہیں۔
    ایک مثبت پیش رفت انفرا اسٹرکچر پروگرام میں دیکھنے میں آئے گی، جس کا ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے (کم ازکم رپورٹنگ، اعلانات اور تبصروں کی حد تک)، لیکن فی الحال یہ حقیقت واضح نہیں کہ اوباما کے معیشت کو تقویت دینے کے پروگرام کا کیا بنا؟ یقیناً ری پبلکنز اس پروگرام کا قلع قمع کردیں گے۔ اسے صریحاً نقصان کا راستہ قرار دے کر بند کردیا جائے گا۔ اگرچہ اُن پر یہ الزام پہلے بھی لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سود کے نرخ بہت کم کردیے ہیں، لیکن اب ٹرمپ نے اپنے پروگرام میں ٹیکس کے نرخ گھٹا دیے ہیں۔ لیکن یہ نرخ صرف دولت مند طبقے کے لیے ہی کم کیے گئے ہیں۔
    سوال: ٹرمپ اور پیوٹن ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ اس باہمی تعریف کے تبادلے کو دیکھتے ہوئے ہم مستقبل میں امریکا اور روس کے تعلقات کو کس نہج پر دیکھ سکتے ہیں؟ آپ روس اور امریکا کے درمیان کوئی مشترکہ مفاد دیکھتے ہیں؟
    نوم چومسکی: ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ روس کی سرحدوں پر خطرناک تناؤ میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ یاد رہے میں روسی بارڈر کی بات کر رہاہوں، میکسیکن بارڈر کی نہیں۔ ایک کہانی ہے جسے ہم فی الحال یہاں بیان نہیں کرسکتے لیکن بہت جلدیہ سامنے آجائے گی۔ ممکن ہے کہ یورپ ٹرمپ کے امریکا سے دور ہٹ جائے۔ جرمن چانسلر، اینجلا مرکل نے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے۔ دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی امریکی طاقت کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ درحقیقت بریگزٹ کے بعد کا یورپ بھی ویسا ہی مختلف ہے جیسا ٹرمپ کے بعد کا امریکا۔ ممکن ہے کہ یورپ روس کے ساتھ اپنے تناؤ کو کم کرے اور اس کے لیے اُنہیں کسی میخائل گورباچوف جیسے لیڈر کی تلاش ہو، تاکہ فوجی اتحاد کیے بغیر یورپ کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔ فی الحال ٹرمپ اور پیوٹن کی باہم خیر سگالی سے زیادہ یورپی رد عمل کا انتظار کرنا ہوگا۔
    سوال: کیا ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی کا محور فوجی طاقت کا پھیلاؤ ہوگا یا اس میں کمی دیکھنے میں آئے گی؟ ہم اوباما انتظامیہ کا تسلسل دیکھیں گے یا بش انتظامیہ کا؟
    نوم چومسکی: ٹرمپ کے بیانات اور پالیسیاں اس قدر تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا یا ا ن کے اگلے اقدامات کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس ضمن میں بہت سے سوالات ہیں۔ لیکن ہم فی الحال یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوامی دباؤ اور منظم تحریک کے ذریعے ٹرمپ کو من مانی کرنے سے روکا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خطرہ غیر معمولی ہے۔
    (ترجمہ: محمد ابراہیم خان)