Search This Blog

Sunday, April 30, 2017

پنجاب میں گندم کی خریداری اور متعلقہ افسران کی لوٹ مار

پنجاب میں گندم کی خریداری اور متعلقہ افسران کی لوٹ مار
فی مربع تقریبا40ہزار روپے کی گندم مفت میں لوٹ لی جاتی ہے۔
اس طرح بغیر کسی لکھت پڑت کے کروڑوں روپے کی خرد برد ہوتی ہے۔
(سیدعبدالوہاب شیرازی)


ان دنوں پنجاب میں گندم کا سیزن عروج پر ہے، کٹائی کے بعد خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس سال حکومت نے گندم خریداری کا ہدف 40 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے۔ گذشتہ روز وزیر اعلی کے کوارڈینیٹر رانا مبشر اقبال نے کہا کہ کاشتکاروں سے گندم کا ایک ایک دانہ خریدیں گے، گندم کی خریداری مہم میں کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خریداری مہم میں کسی بددیانتی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے اور حکومت پنجاب کی اس ضمن میں زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔
پنجاب میں گندم کی خریداری کے لئے حکومت کسانوں کو بوریاں فراہم کرتی ہے۔ فی ایکڑ 10 بوریاں دی جاتی ہیں اور انہیں بوریوں میں گندم خریدی جاتی ہے۔ گندم کی یہ بوریاں حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ کئی کئی دن لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ پھر کس نے کتنے ایکڑ پر گندم لگائی اس کا حساب کتاب پٹواری کرتے ہیں، اور وہ جس کے بارے لکھ دیتے ہیں کہ اس نے اتنے ایکڑ رقبے پر گندم لگائی ہے اسے ہی اتنی بوریاں ملتی ہیں۔ ہمارے ملک میں پٹواریوں کا جو حال ہے اس اندازہ ہوتا ہے کہ یقینا ایسا بھی ہوتا ہو گا کہ کوئی شخص ایک انچ بھی گندم کاشت نہ کرتا ہو لیکن پٹواری کو بھاری حصہ دے کر اپنے نام ہزاروں بوریاں وصول کرلیتا ہوگا اور پھر لوگوں سے سستے داموں گندم خرید کر 1300 یا جو بھی حکومتی ریٹ ہے اس کے مطابق حکومت کو گندم بیچ دیتا ہوگا۔جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ غریب اور چھوٹے کسان حکومتی بوریاں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اور مجبورا انہیں عام منڈی میں حکومتی ریٹ سے سو ڈیڑھ سو روپے کم ریٹ پر گندم بیچنی پڑتی ہے۔

گندم کی خریدای میں دوسرا بڑا فراڈ محکمہ فود کے افسران کرتے ہیں۔ یعنی وہ افسران جو گندم کی خریداری کے لئے متعلقہ سینٹرز پر ڈیوٹی دیتے ہیں۔ جب حکومت گندم خریدتی ہے تو گندم کی بوری 50 کلو تول کر لی جاتی ہے۔ یعنی حکومتی ریٹ چالیس کلو کا نہیں بلکہ پچاس کلو کا ہوتا ہے۔ اب جس وقت کسان اپنی گندم متعلقہ سینٹر پر جمع کروانے جاتے ہیں تو ہرہر بوری کا باقاعدہ وزن کیا جاتا ہے اور پچاس کلو کے ساتھ ایک پاو اضافی وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پاو اضافی لینا کسانوں کے ساتھ نہ صرف زیادتی ہے بلکہ شریعت کے خریدوفروخت کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ ہم نے گندم سٹاک کرنی ہوتی ہے اس لئے اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کچھ گندم خراب ہوجائے۔ یا کسی بوری پر پانی ٹپک پڑے، یا گھن لگ جائے، یا کسی بوری میں معمولی سا سوراخ ہو اس طرح جو گندم ضائع ہوتی ہے اس کا حساب فی پچاس کلو پر ایک پاو اضافی لے کر ایڈوانس میں ہی پورا کردیا جاتا ہے۔ عقلا بھی یہ بوجھ فروخت کنندہ پر ڈالنا زیادتی ہے کیونکہ فروخت کنندہ آئندہ ہونے والے کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں۔

یہ المناک کہانی اگر یہیں ختم ہوجاتی تو اچھا ہوتا لیکن کیا کیا جائے ، اس سے بڑا ہی بھیانک فراڈ اور لوٹ مار کا بازار اس کے علاوہ بھی گرمایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حکومت نے تو ہر پچاس کلو پر ایک پاو اضافی وصول کرنے کا کہا ہوا ہے لیکن ان سینٹرز میں ہر کسان سے پچاس کلو پر ایک کلو اضافی گندم وصول کی جاتی ہے۔ یعنی ہر بوری اکیاون کلو تول کر لی جاتی ہے۔اب ذرا اس کا تھوڑا سا حساب کرلیتے ہیں کہ یہ اضافی گندم کی مقدار کتنی بنتی ہے۔ میں نے جب ایک کسان سے پوچھا کہ ایک ایکڑ میں کتنی گندم ہوتی ہے تو اس نے بتایا کہ تقریبا پینتیس من سے پچاس من کے درمیان ہوجاتی ہے۔ پچیس ایکڑ کا ایک مربع ہوتا ہے اور ایک مربع میں تقریبا ایک ہزار من سے پندرہ سو من تک گندم ہوجاتی ہے۔اور پنجاب میں اکثر کسانوں نے کم از کم ایک مربع پر تو کاشت کی ہی ہوتی ہے۔ تو اس اعتبار سے جس کسان نے ایک مربع پر کاشت کی ہے اگر اس کی کل گندم بارہ سو من بھی لگائیں تو گویا اسے فروخت کرتے وقت بارہ سو کلو(30من) گندم بغیر کسی حساب اور کھاتے کے محکمہ کے افسران کو دینی پڑتی ہے۔تیس من گندم کی قیمت تقریبا چالیس ہزار بنتی ہے۔

 تو ہر وہ کسان جس نے ایک مربع گندم لگائی ہے، چالیس ہزار روپے کی گندم مفت میں بغیر کسی لکھت پڑت کے افسران کو دینے پر مجبور ہے۔ یہ تو ایک کسان کی بات ہوئی اسی طرح کے ہزاروں کسان ہیں اور کروڑوں روپے ان افسران کی جیبوں میں جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے صرف متعلقہ سینٹر پر متعین افسران اکیلے ہی اتنی جرات نہیں کرسکتے یہ نیچے سے اوپر تک اور اوپر سے اوپر وزیر اعلی تک سب کو حصہ ملتا ہوگا، تبھی بڑے آرام سے ہر سال یہ لوٹ مار جاری وساری ہے۔
جس ملک کے حکمران ہی لٹیرے ہوں اس کا اللہ ہی حافظ۔

Wednesday, April 12, 2017

جمعیت علمائے اسلام کی صدسالہ تقریب

سید عبدالوہاب شیرازی
جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ تقریب بخیروعافیت اختتام پذیر ہوچکی ہے، جس کے ساتھ ساتھ اب فیس بک پر بھی اس تقریب کی پوسٹیں، اشتہار، لڑائیاں وغیرہ آخری مراحل میں ہیں۔

اس تقریب میں ہزاروں علمائے کرام نے شرکت کی، جس میں کثیر تعداد بڑے بڑے علمائے کرام کی بھی تھی۔ تقریب سے پہلے ، تقریب کے دوران اور ختم ہونے کے بعد بھی بہت ہی خوشی کا اظہار کیا جاتا رہا، سوشل میڈیا سمیت اجتماع گاہ کے اندر کا ماحول بھی میلے کا منظر پیش کررہا تھا، ہر کوئی خوش کے شادیانے بجا رہا تھا۔۔۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیا یہ مقام اور یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے یا استغفار کرنے کا۔؟؟
جمعیت علمائے اسلام ہو یا دیگر مذہبی جماعتیں بلاشبہ ان کی بنیاد نیک نیتی اور اسلام کی ترقی کے لئے رکھی گئی تھی۔ ہر جماعت کی کوشش یہی ہے کہ اسلام غالب ہوجائے۔ چونکہ یہ ایک نیک مقصد ہے، اور اقامت دین ایک فرض ہے تو اس اعتبار سے اس تقریب کو صدسالہ خوشی کے بجائے توبہ واستغفار کا اجتماع بنا کر انعقاد کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ شریعت نے ہمیں نماز کے بارے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد استغفار کیا جائے کہ جس طرح نماز قائم کرنے  کا حق تھا ہم اس طرح نہیں قائم کرسکے۔

صدسالہ تقریب کے تین دنوں کو ایام احتساب کے طور پر منایا جاتا اور اپنا محاسبہ کیا جاتا کہ آج سے سوسال پہلے ہم جہاں کھڑے تھے، اس کے مقابلے میں اب کہاں کھڑے ہیں؟۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعد ہم جہاں کھڑے تھے اب 2017 میں کہاں کھڑے ہیں؟۔ جس مقصد کے لئے جمعیت بنی تھی اس مقصد میں کتنی پیش رفت ہوئی؟  کتنا کام باقی ہے؟ کتنی محنت کی اور کتنی مزید کرنے کی ضرورت ہے۔
تحریکیں اور جماعتیں تو بڑی چیز ہیں، جو چھوٹے چھوٹےادارے بھی اپنا احتساب نہیں کرتے، اپنی پیش رفت کا جائزہ نہیں لیتے انہیں کامیابی ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔
کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ تین دن کی تقریب میں کارکنوں کو کیا سبق دیا گیا، آئندہ کا کیا لائحہ عمل دیا گیا۔ تین دنوں میں کارکنوں کی تربیت کے حوالے سے کیا کیا گیا؟۔ اگر سٹیج سے صرف اپنی تعریفیں ہی ہوتی رہی، روایتی سیاسی نعرے ہی لگتے رہے،عام روایتی جلسوں کی طرح ایک بڑا تین روزہ جلسہ ہی کردیا گیا، اور تقریب کا وہی رنگ رہا جو عام معاشرے میں سالانہ تہواروں میں خوشی مناتے ہوئے دیکھا جاتا ہے تو کیا فائدہ۔؟
اگر عقل وشعور میں یہ بات ہو کہ میں ایک مقدس فرض کی ادائیگی کررہا ہوں تو ایسا شخص سو سال کے بعد اگر 100 فیصد بھی کامیابی حاصل کرلے پھر بھی وہ استغفار اور عاجزی ہی کرتا ہے نہ کہ خوشیاں اور تفاخر کے نعرے لگاتا ہے۔
حضور ﷺ نے بیس سالہ محنت کے بعد جب مکہ فتح کیا توصحابہ کرام نے  اتنی خوشیاں نہیں منائی  جتنی یہاں سوسال بعد صفر نتیجے پر منائی گئی ہیں۔1924 میں خلافت کا خاتمہ ہوا اگرچہ وہ برائے نام ہی تھی لیکن مسلمانوں کا ایک امیر اور حدود وتعزیرات وغیرہ نافذ تھے۔ اس وقت سے آج تک بانوے تیرانوے سالوں سے ساری دنیا کے مسلمان بغیر امیر کے ایک مسلسل گناہ کی زندگی گزار رہے ہیں، ایسے میں بجائے استغفار کرنے اور بجائے تربیت کرنے کے روایتی تہواروں سے ملتی جلتی تقریبات کا انعقاد کرنا، اپنے مدمقابل سیاسی پارٹیوں کو دکھانے کے لئے پاور شو کرنا  نہایت ہی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔

Tuesday, April 11, 2017

Gardening with Wood Chips April 2017 Kitchen Gardening Urdu Hindko

لکڑی کے برادے کو گارڈننگ میں استعمال کرنے کے زبردست فوائد

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟