Search This Blog

Sunday, May 28, 2017

تراویح کے لئےخلاصہ قرآن کریم

خلاصہ قرآن مجید
قرآنی سورتوں کا نہایت ہی مختصر اور جامع خلاصہ
ریڈیو پاکستان کے صوت القرآن چینل پر سنایا جانے والا مختصر خلاصہ قرآن حکیم
2 Mb

Thursday, May 25, 2017

Wifaq ul Madaris Arabia Result 2017 And Position Holders

wifaq result 2017

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا رزلٹ 2017 دیکھنے کے لئے

یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء اور طالبات کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔

صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء  کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔

صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والی طالبات کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔


Tuesday, May 23, 2017

استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد

(سید عبدالوہاب شیرازی)
استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد
حضورﷺ استقبال رمضان میں تین بار صحابہ سے پوچھتے تھے:
مَاذا یَستَقبِلُکم وَ تَستَقبِلُون؟ قالھا ثلاثا، فقال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ: یا رسول اللہ وحی نزل؟ قالا لا۔ قال: عدو حضر؟ قال لا۔ قال فماذا؟ قال: ان اللہ یغفر فی اول لیلة من شہر رمضانَ لکل اہل ہذہ القبلة۔ واشار بیدہ الیہا (ابن خزیمہ۔ شعب الایمان۔ منذری۔ الترغیب والترہیب)
کون تمہارا استقبال کررہا ہےا ور تم کس کا استقبال کررہے ہو؟۔ یا فرمایا: ایک آنے والا تمہارے سامنے آرہا ہے اور تم اس کا استقبال کروگے۔؟ حضرت عمرضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا کوئی وحی آنے والی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ عرض کیا : کیا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کیا پھر کیا بات ہے؟۔ فرمایا:
عن انس بن مالک: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اذا دخل رجب قال اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان(احمد۔بیہقی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو حضور ﷺ دعا فرماتے: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔

صحابہ کرام کی تیاری
وعن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، انہ قال : کان اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا نظروا الی ھلال شعبان اکبوا علی المصاحف یقرء ونھا ، واخرج المسلمون زکوۃ اموالھم لیتقوی بھا الضعیف والمسکین علی صیام شہر رمضان ، و دعا الولاۃ اھل السجن ، فمن کان علیہ حد اقاموہ علیہ والا خلوا سبیلہ ، وانطلق التجار فقضوا ما علیھم و قبضوا مالھم حتی اذا نظروا الی ھلال رمضان اغتسلوا واعتکفوا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ماہ شعبان کا چاند دیکھتے تو قرآن کو سینہ سے لگائے رہتے اور تلاوت میں مصروف رہتے۔ مسلمان اپنے اموال کی زکوة نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین اس کو حاصل کرکے ماہ رمضان کے روزے رکھنے پر قوت حاصل کریں۔ حکام قیدیوں کو طلب کرتے اور ان میں جو حد شرعی کے مستحق تھے ان پر حد جاری کرتے ورنہ ان کو رہا کردیتے۔ تاجر حضرات اپنے ذمہ جو حقوق ہیں انہیں ادا کردیتے اور جو چیزیں وصول طلب تھیں انہیں حاصل کرلیتے حتی کہ جب رمضان کا چاند دیکھ لیتے تو غسل کرکے اعتکاف کا اہتمام کرتے۔
ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا۔ روزے فرض ہوئے۔ جنگ بدر ہوئی۔ فتح مکہ ہوا۔ شب قدر رکھ دی گئی۔ ہر دن رات کو رحمتوں اور برکتوں سے بھر دیا گیا۔ لہٰذا اس مہینے کے شایان شان اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ رمضان المبارک سے قبل ہی ہم اپنے ظاہر وباطن کو اس کے لئے تیار کرلیں۔ ظاہر وباطن کو پاک کرنے میں سب سے زیادہ مددگار روزہ ہے، اسی لئے حضور ﷺ شعبان میں روزے رکھتے تھے۔

زکوة
زکوة کا تعلق اگرچہ رمضان سے نہیں لیکن رمضان میں لوگ اس لئے ادا کرتے ہیں کہ اول تو انہیں اپنی تاریخ یاد نہیں ہوتی اس لئے لوگ رمضان کو مقرر کردیتے ہیں کہ چلو ہر سال رمضان میں زکوة ادا کریں گے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ رمضان میں نوافل اور فرائض کی ادائیگی کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اس لئے بھی لوگ رمضان میں زکوة ادا کرتے ہیں۔


اقامت دین کی جدجہد کرنے والوں کے لئے زکوة کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ سورہ حج آیت نمبر41 میں اسلامی ریاست کے اصول چہارگانہ بیان فرماتے ہیں:
اَلذین اِن مکنٰہم فی الارضِ اَقامواالصلوة واٰتَوالزکوہ وَامَروا باالمعروف ونہوعن المنکر۔
(اہل حق، اللہ کی مدد ونصرت کے مستحق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں اقتدار عطا کریں تو یہ نظام صلوة قائم کریں۔ زکوة ادا کریں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔
تو جب تک ہمارے پاس ملک کا اقتدار نہیں اس وقت تک ہم اپنے گھر میں تو نظام صلوة وزکوة قائم کریں جہاں بلاشرکت غیرے ہماری مکمل حکومت قائم ہے۔ اگر ہم اپنے گھر میں نظام صلوة نہیں قائم کرسکتے۔ اگر ہم اپنی بیوی سے ہی زکوة نہیں لے سکتے ، اگر ہم اپنے گھر میں امرباالمعروف نہی عن المنکر کا نظام نہیں نافذ کرسکتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد پورے ملک میں کرلیں گے۔؟؟
آج جو عذر ہمارے پاس اس چھوٹی سی حکمرانی میں ہیں یہ عذر بڑی حکمرانی ملنے کے بعد مزید بڑھ جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حکمران کیوں اسلام نافذ نہیں کرتے ؟ ان کے پاس بھی اسی طرح کے عذر ہیں جو ہمارے پاس گھر میں اسلامی ماحول بنانے میں درپیش ہوتے ہیں۔اس لئے اپنے جسم پر نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں اسلام نافذ کریںتاکہ بڑی حکمرانی چلانے کا تجربہ حاصل ہو۔

قرآن
دنیا میں بعض چیزیں بعض سے افضل ہوتی ہیں۔ جس چیز کی بھی نسبت قرآن سے جڑی ہے وہ افضل ترین ہو گئی ہے۔ چنانچہ جو فرشتہ قرآن لے کر آیا وہ سب فرشتوں سے افضل۔ جس رسول پر قرآن آیا وہ رسول سارے رسولوں سے افضل۔ جس مہینے میں قرآن آیا وہ سارے مہینوں سے افضل، جس رات میں قرآن آیا وہ سب راتوں سے افضل۔ جس شہر میں قرآن آیا وہ سب شہروں سے افضل۔ پھر جس بھی انسان کی نسبت قرآن کے ساتھ جڑ گئی، جو قرآن کی تعلیم وتعلم سے جڑا وہ سب انسانوں سے افضل ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ
تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
احادیث میں قرآن اور رمضان کے تعلق اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور قرآن کا دور کرتے تھے۔
دن کا روزہ رات کا قیام
رمضان کی خصوصی عبادات میں سے ایک دن کا روزہ اور رات کا قیام بھی ہے۔چنانچہ اس تعلق اور اس کے فوائد کو ایک حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت والے دن روزہ اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا میں نے اسے کھانے پینے سے روکے رکھا لہٰذا اے میرے رب میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا میں نے اسے رات کو آرام سے روکے رکھا اے میرے رب میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول کرلی جائے گی۔
اسلاف کاتعلق باالقرآن اور رمضان
٭امام مالکؒ رمضان المبارک میں احادیث کا پڑھنا پڑھانا بند کردیتے تھے اور سارا وقت قرآن کی تلاوت میں صرف کرتے۔
٭امام بخاریؒ تراویح کے بعد روزانہ رات کو دس سپارے تلاوت کرتے، دن کی تلاوت اس کے علاوہ ہوتی تھی۔
٭سفیان ثوری ؒرمضان میں تمام نفلی عبادات ترک کرکے صرف تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے۔
٭شیخ الہندؒ پوری رات مختلف حفاظ سے قرآن سنتے رہتے تھے۔ ایک بار گھر والوں نے حافظ سے کہا تم بیماری کا بہانہ کرکے چھٹی کرلو تاکہ حضرت صاحب کو آج آرام کرنے کا موقع ملے۔ حافظ صاحب تراویح کے بعد چھٹی کرکے سو گئے، آدھی رات کو کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ الہندؒ ان کے پاوں دبا رہے ہیں اور فرمایا آپ بیمار ہیں اس لئے آپ کے پاوں دبا رہا ہوں۔
٭شاہ عبدالرحیمؒ ملاقات اور ڈاک بند کردیتے تھے۔ خاص خدام سے بھی صرف چائے کے وقفے کے دوران بات چیت کرتے۔
پلاننگ
کوئی بھی کام بغیر پلاننگ کے نہیں ہوتا۔ جس طرح دنیا کی کامیابی بہترین پلاننگ سے ملتی ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے۔
1۔ رمضان المبارک کے معمولات کا تعین کریں۔
2۔دکان اور کاروبار کا وقت مقرر کریں۔
3۔ رزق کے معاملے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ اور یقین پختہ کریں۔ ایک مہینہ کاروبار سے مکمل یا جزوی چھٹی کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
4۔ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور دینی مشاغل کے لئے وقف کریں۔
5۔ روزے کے ساتھ ساتھ تلاوت اور فہم قرآن کا اہتمام بھی کریں۔
6۔ زیادہ سے زیادہ انفاق کریں۔ حضورﷺ سب سے زیادہ سخی تھے لیکن آپ کی سخاوت رمضان میں مزید بڑھ جاتی تھی۔
غلط فہمی
بعض احباب اور رفقاءانفاق تو خوب کرتے ہیں لیکن اقامت دین کی عملی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتے۔ قرآن حکیم میں اس رویے کی مذمت کی گئی ہے:
سورہ توبہ(18) میں پہلے اللہ تعالیٰ تعمیر مساجد میں حصہ لینے والوں کے اوصاف ارشاد فرماتے ہیں:
اِنما یَعمُرمساجد اللہ مَن اٰمن باللہ والیوم الاٰخرِ واقام الصلوة واٰتی الزکوة ولم یخش الااللہ فعسٰی اولئک اَن یکونوا من المہتدین۔
اللہ کی مسجدں کو تو وہی لوگ اباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
اَجَعَلتُم سِقایة الحآج وعمارة المسجد الحرام کَمَن اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وجٰہَدَ فی سبیل اللہ لا یستون عنداللہ واللہ لایہدی القومَ الظٰلمین۔الذین امنوا وھاجروا وجاہدوا فی سبیل اللہ باموالہم وانسفسہم اعظم درجة عنداللہ واولئک ہم الفائزون۔
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے ( اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
7۔دعاوں کا اہتمام کریں۔ اقامت دین کی جدوجہد، قبولیت اور کامیابی کے لئے دعا کریں۔
8۔ دعوت کا کام بڑھا دیں۔ رمضان المبارک میں لوگوں کے دل دعوت حق کو قبول کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
اعتکاف
اعتکاف اجتماعی عبادت نہیں بلکہ انفرادی اور تعبدی چیز ہے۔ اس میں اللہ سے لو لگائیں۔ فطرتا انسان اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق اور باتیں کرنا چاہتا ہے اس کے لئے وہ رہبانیت کے راستے پر چلتا ہے ۔ اسلام میں اس رہبانیت کی گنجائش نہیں جسے سابقہ اقوام نے اختیار کیا تھا۔ البتہ اعتکاف کے دس دن اس طرح گزارنے کی گنجائش ہے۔
رمضان اور اقامت دین
اسلامی تاریخ کے تین اہم واقعات رمضان میں ہوئے۔
1....٭ قرآن کا نزول رمضان یں ہوا۔ لہٰذا ہم قران کے ساتھ تعلق رمضان میں بڑھا دیں۔
2....٭ حق وباطل کا پہلا معرکہ رمضان میں ہوا۔ یہ واقعہ حق وباطل کے فرق کو کھول کر رکھنے کا واقعہ ہے۔ حق کے علمبردار اللہ کی عطاءکردہ نعمتوں کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں۔ عقل وفہم، علم وتجربہ، تمام تر صلاحیتیں اور مال وجان سب اللہ کے حوالے کردیا۔ عقل تو کہتی ہے کہ تین سو تیرا کا مقابلہ ایک ہزار سے مشکل ہے۔ علم وتجربہ اور مشاہدہ کہتا ہے کہ دو گھوڑوں اور آٹھ تلواروں سے ایک ہزار کا مقابلہ نہیں ہوسکتا، لیکن حق والے یہ تمام باتیں چھوڑ کر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کود پڑتے ہیں۔اس لئے جب تک اس درجے کا یقین پیدا نہیں ہوگا کامیابی تو درکنار اللہ کی مدد ونصرت بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
یہ فضائے بدر کیا ہے؟ فضائے بدر تعداد کا نام نہیں، فضائے بدر اسلحہ اور ہتھیاروں کا نام نہیں، فضائے بدر،اسباب و وسائل کا نام نہیں، بلکہ فضائے بدر اللہ کی ذات پر یقین کا نام ہے، کہ اللہ ہے باقی کچھ بھی نہیں۔
3....٭ تیسرا واقعہ فتح مبین یعنی فتح مکہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ باالاخر حق کے علمبردار سرخروئی حاصل کریں گے۔.... اس واقعہ سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ حق والوں کو جب کامیابی ملتی ہے توہ وہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔

Thursday, May 11, 2017

Shab E Barat Ki Haqiqat | Fazil | Islamic Solution | Urdu

شب برات کی حقیقت، اس رات کے حوالے سے پھیلائے جانے والی
غلط فہمیاں۔
اللہ تعالی نے معافی کو کسی خاص رات میں بند نہیں کیا۔
ہر رات معافی کی رات ہے، ہر رات توبہ کی رات ہے۔ ہر رات
عبادت کی رات ہے۔ جس بات کا حکم واضح طور پر قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
عملی لائف میں موجود ہے اس حکم کو چھوڑ کر من گھڑت پیکج تلاش کرنا نری گمراہی اور
ضلالت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر رات تہجد پڑھتے تھے۔ قرآن
رات کی عبادت کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں توبہ کو کسی رات کے ساتھ نہیں
باندھا۔۔
کیا صحابہ کرام کا یہی تصور تھا کہ سارا سال اپنی مرضی
سے گزارو اور پھر کسی خاص رات میں حلوے اور کھانے تقسیم کر کے صلوۃ تسبیح پڑھ لو
اور پھر اگلے سال کے لیے حرام خوری اور حرام کاری کی تیاری کر لو۔ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم تو روزانہ ستر سے زائد مرتبہ استغفار کریں، ہر روز یا ہر ہفتے یا
ہر مہینے صلوۃ تسبیح کی خواہش کریں اور ہم اسے کسی رات کے ساتھ خاص کر دیں۔ یاللعجب









#نکتہ

Wednesday, May 10, 2017

مشال خان واقعہ پر زبردست تجزیہ

►►======مفتی منیب الرحمن======►►

اب جب کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سانحے کی جذباتی کیفیت میں ٹھیراؤ آگیا ہے، پختونخوا کی پولیس نے تفتیش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، تو اب مناسب ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں پر غیر جذباتی انداز میں گفتگو کی جائے۔ اکثر پرائیویٹ چینلز نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا، ایک تو میں اس دوران اَسفار میں تھا، دوسرا یہ کہ ہمیں پوری بات کرنے کا موقع نہیں ملتا اور سیاق وسباق سے ہٹ کر ہماری بات کا کوئی جملہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا جاتا ہے یا کسی جملے کو اپنے کڑوے کسیلے تبصرے کا ہدف بنا کر چاند ماری شروع کردی جاتی ہے۔ یہ اعزا ز صرف جناب شیخ رشید کو حاصل ہے کہ وہ بعض اوقات تین چار ٹیلیویژن چینلز کے اینکر پرسنز کو ون آن ون بیٹھ کر انگلی پکڑ کر چلا رہے ہوتے ہیں، نوکری اور ریٹنگ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دو متوازی شریعتیں چل رہی ہیں، ایک شریعتِ اسلامی اور دوسری لبرل ازم اور تجدُّد کی خود ساختہ شریعت ہے،جس کو مختلف زبانوں کے کم وبیش سو چینلز کی خدمات رضاکارانہ طور پر دستیاب ہیں، این جی اوز، سوشل میڈیا کی مختلف اصناف اور پرنٹ میڈیا کی خدمات اضافی ہیں۔ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنا ہوتا ہے،جب کہ شریعتِ اسلامی کے لیے یہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔لبرل عناصر سیاست دانوں کی طرح علماء کو بھی وقتاً فوقتاً آمنے سامنے بٹھاکر مناظرے کراتے ہیں تاکہ ناظرین کو شعور ی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ مذہب کا کام توڑنا ہے، جوڑنا نہیں ہے۔ یہ مناظرین اپنے اپنے حلقوں میں جاکر داد وتحسین کی سوغات وصول کرتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ مجالسِ مناظرہ برپا کرنے والوں کو ان میں سے کسی کے مسلک سے غرض نہیں ہے، ان کانشانہ مذہب ہے اور نئی نسل کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ جو چند مذہبی چینل ہیں، وہ اپنے برانڈ کو لے کر چل رہے ہوتے ہیں، وہ اچھے بچوں کی طرح پروگراموں کو چلاتے ہیں، کیونکہ نہایت اخلاص کے ساتھ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہے، ملکوں ملکوں جانا ہے، سو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے لیے دروازے بند ہوجائیں۔اس لیے دین کا پورا موقف اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ عوام کے سامنے آنا مشکل ہے۔

صرف جناب جاوید غامدی کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اپنی پسند کا عنوان چن کر اپنی پسند کے میزبان کے ساتھ پروگرام کریں۔ سوال وجواب بھی اپنی پسند کے ہوں اور ہر مسئلے میں اباحت کی گنجائش بھی نکال دی جائے، تو لبرل طبقے میں پذیرائی ملنا یقینی ہے۔ان کی فکر کے ایک شارح کہہ چکے ہیں کہ کفر وشرک، نفاق، ضلالت، فسق وفجور اور حق وباطل کے لیے دارالافتاء حشر میں کھلے گا یا عدالت لگے گی، اس دنیا میں ان باتوں کی اجازت ریاست کے سوا کسی کو نہیں ہونی چاہیے اور ریاست کو کیا پڑی ہے کہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالے؟ کیونکہ ان کی آرزو عافیت کے ساتھ حکمرانی سے لطف اندوز ہونا ہے۔

سو ہم بھی کہتے ہیں :قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے، انار کی نہیں پھیلنی چاہیے،اسی طرح انسانی میت کی بے حرمتی کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی،لیکن یہ تخیلاتی معراج وہاں ہوسکتی ہے،جہاں قانون،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں مکمل با اختیار ہوں، ہر ادارہ کسی جبر واکراہ اور خوف کے بغیر اپنا کام کر رہا ہو، سب اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ سمجھیں اور آئین وقانون کی مکمل بالادستی ہو، لیکن ہمارے ہاں چند مستثنیات کے سوا ایسا نہیں ہے۔جنابِ عمران خان چار سال سے پختونخوا پولیس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں، ہماری نظر میں اُن کے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے، کیونکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے سانحے میں مذہبی جماعتیں اور مذہبی افراد ملوث نہیں ہیں، یونیورسٹی میں لبرل سیکولر جماعت اے این پی کی چھاپ واضح ہے، اسٹوڈنٹس تنظیموں میں بھی ان کی ذیلی تنظیم نمایاں ہے، اس لیے اس واردات کا ملبہ مذہبی عناصر پر براہ راست نہیں ڈالا جاسکا، اس میں پی ٹی آئی اورپی پی پی کے لوگ بھی شامل تھے۔ لہٰذا اس وقوعے کا ایک واضح پیغام یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز بلکہ پورے خطے کے مسلمان، خواہ وہ عام معنوں میں با عمل مسلمان نہ ہوں، دینی مقدسات کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔

چنانچہ مردان میں کل جماعتی ’’دینی محاذ‘‘تشکیل پاچکا ہے، وہ مردان اور چارسدہ میں بڑے احتجاجی جلوس نکال چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور شعائرِ دین کی توہین اتنی خباثت کے ساتھ کی گئی ہے کہ کوئی مسلمان نہ اس کا تصور کرسکتا ہے اور نہ اسے نقل کرسکتا ہے، یہ سب کچھ وہاں کے لوگوں کے پاس ریکارڈ اور شہادت کے لیے موجود ہے۔لہٰذا اس مقدمے کی تحقیقات جامع انداز میں ہونی ضروری ہے، اس کے لیے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز سیل کو بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا جائے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں کہ اس سارے موادکی شروعات کہاں سے ہوئیں، اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔جناب خان سے گزارش ہے کہ ان سب امور کی غیر جانبدارانہ مکمل تحقیقات کرائیں، ورنہ آئندہ الیکشن پر بھی یہ مقدمہ سایہ فگن رہے گا۔سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے بتایا کہ مردان میں ایک کذاب مدعیِ نبوت کو لوگوں نے پولیس کے حوالے کیا، ایس ایس پی کے سامنے بھی اس نے اقرار جرم کیا، لیکن اس کے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکمرانوں کو کسی غیر قانونی طریقۂ کار کی مذمت کا حق توحاصل ہے، لیکن عدالتی تحقیق سے پہلے کسی کی براء ت کا اعلان درست نہیں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پختونخوا جناب پرویز خٹک نے ایسا ہی کیا ہے۔

اسی طرح الیکٹرانک میڈیا پر جو لبرل مفتیانِ کرام اورمنصفین والا شان بیٹھے ہیں، وہ بھی فوری فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ 295-C کا غلط استعمال ہورہا ہے، وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یونیورسٹی پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگوں کا ادارہ ہوتا ہے، وہاں ماسٹرزسے ڈاکٹریٹ کی سطح تک تعلیم دی جاتی ہے، پھر ان میں سے ہر ایک کو سوشل میڈیا تک رسائی بھی ہوتی ہے، کیا بقائمی ہوش وحواس یہ مانا جاسکتا ہے کہ اچانک سب پر جنون طاری ہوگیا اور ہوش و خرد کھو بیٹھے۔

مغرب سے متاثر ذہن کی تان تو اس پر آکر ٹوٹتی ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کو یکسر ختم کردیا جائے، تو کیا اس کے ذریعے آپ مسلمانوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسول مکرم ﷺ کی محبت، قرآن اور شعائرِ دین کی حرمت نکال سکیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا، اس کے پیچھے عہدِ رسالت مآب ﷺ سے لے کر عہدِ حاضر تک ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر محض شور شرابے سے مسائل کا حل ممکن ہو تو ہمارے اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں سے بڑا انقلابی اس آسمان کے نیچے اور کون ہے، کئی ایک ہیں جو ہرروز سر شام ’’حق الیقین‘‘ اور ’’اعتقاد جازم‘‘ کی حد تک قطعی فیصلے صادر کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی حیاتِ مستعار چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف چونکہ ہمارے نظام ریاست وحکومت میں ہمہ مقتدر اور عقلِ کل تھے، ڈرتے ورتے بھی کسی سے نہیں تھے، لیکن 2007ء کے بعد چشمِ فلک نے بہت کچھ دیکھا، آخرِ کار قرآن کا فرمان ہی سچ ثابت ہوتا ہے:’’اس زمین پر جو کوئی بھی ہے (ایک دن) فنا ہونے والا ہے اور (صرف) تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے، باقی رہ جائے گی، ( الرحمٰن :20-21)‘‘۔

ہم نے ہمیشہ کہا کہ دیگر تمام مقدمات کی طرح 295سی کی ایف آئی آر بھی براہ راست درج کی جائے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جس شخص پر الزام ہے، وہ پولیس کی تحویل میں چلا جائے گا اور عوام کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف نے خاص اس دفعہ کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ضابطۂ فوجداری میں یہ ترمیم کی کہ جب تک ایس ایس پی سطح کا پولیس افسر مطمئن نہ ہو، ایف آئی آردرج ہی نہیں ہوسکے گی۔عقل کا اندھا بھی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں عام آدمی کی رسائی ایس ایچ او تک ممکن نہیں ہے، ایس ایس پی تک کیسے ہوگی۔ سوآپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، جتنی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، وہ اس وقت ہوئیں جب لوگوں نے پولیس تھانوں پر چڑھائی کردی یا کسی عدالت سے حکمنامہ لے کر آئے۔

ہم نے یہ بھی تجویز کیا تھاکہ قانون میں ترمیم کر کے اس کا ٹرائل براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں کیا جائے تاکہ اگر بے قصور ہے توجلد با عزت بری ہوجائے گا اور قصور وار ہے تو سزا پائے گا۔ ہمارے میڈیا کے لبرل حضرات کا اصل ہدف قانونِ تحفظِ ناموس رسالت کا خاتمہ ہے، لیکن ایسی خواہش پالنا آسان اور پانا مشکل ہے۔ پاکستان میں مسلمان سر عام اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور مقدساتِ دین کی اہانت برداشت نہیں کریں گے۔ پس لازم ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی باتوں کی تَقْطِیْر (Filtration) کا کوئی انتظام ہو، مذہب اور اہلِ مذہب کو ملامت کرنااس مسئلے کا حل نہیں ہے، ورنہ یہ کار خیر تو ہمارے ہاں صبح وشام ہوتا ہے۔ اس ملک کو کسی غریب یا جاہل نے لوٹ کر کنگال نہیں کیا، اس کو لوٹنے والے وہ ہیں جن کے پاس پہلے سے سونے کی ایک وادی ہوتی ہے اور جو بیرون ملک یا ملک کے اندر رؤساء کے لیے قائم اداروں میں پڑھے ہوتے ہیں۔اس مسئلے کے قابل قبول اور دیر پا حل کے لیے میری تجویز ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ سرکردہ علماء کی تفصیلی میٹنگ ہو، اس میں غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب بھی ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ ہمارے مقدسات کی توہین کرنا چاہتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نہیں، اس کا غلط استعمال روکا جائے۔سوالزام کے صحیح یاغلط ہونے کا معاملہ عدالت ہی طے کرسکتی ہے،اس کے لیے تفتیشی اور عدالتی طریقۂ کار کو سہل اور تیز تر بنانے کی ضرورت ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ہجوم عدالت لگائے، بازاروں اور چوراہوں پر فیصلے ہوں، لیکن یہ بھی تو ماننا پڑے گا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب قانونی عمل مفلوج یا بے اثر ہوجاتا ہے

Monday, May 8, 2017

پورنو_گرافی_کی_تاریخ

#پورنو_گرافی_کی_تاریخ
(ضرور مطالعہ فرمائیے گا)

پورن گرافی عصر حاضر کا ایک بہت بڑا ناسور ہے ۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق دریافت نہ ہو سکا ۔لوگوں کے رویے اور انداز زندگی اسی کی بدولت جنسی خود غرضی کی بھینٹ چڑھے ......!
ہم اکثر سوچتے ہیں آخر یہ کھیل شروع کب ہوا .....؟
اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے .....؟
اس کے وجود کے بنیادی محرکات کیا تھے .....؟
آج کی تاریخ میں اس میں کیسی جدتیں لائی جارہی ہیں .....؟

قارئین .....!
تاریخ میں سب سے پہلے پورن گرافی بطور ہتھیار سلطان صلاح الدین ایوبی (1137. 1193) کے دور حکومت میں ہوئی ۔ اسے بطور ہتھیار سب سے پہلے صلیبی بادشاہوں نے استعمال کیا ۔ کہانی کچھ یوں ہے صلیبی ہر میدان میں مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں شکست فاش سے سخت پریشان تھے ۔ اسلامی افواج صلیبی جمیت اور متحدہ قوتوں پر بھاری ثابت ہورہی تھیں ۔ صلیبیوں کی سوچ کا دھارا اس وقت بدلا جب ڈیڑھ لاکھ مسلمان فوج نے بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر پندرہ لاکھ صلیبی جنگجو لاشوں کا ڈھیر کر دیئے ۔ اس موقع پر متحدہ صلیبی فوج کا بادشاہ رونالڈ پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ آخر ایک بڑی میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔ اس میٹنگ میں مسلم اور صلیبی افواج کا موازنہ کیا گیا ۔ معلوم ہوا مسلمان رات بھر سجدوں میں روتے ہیں۔ اور دن بھر میدانوں کی للکار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جسے وہ ایمان کہتے ہیں ۔ یہی ایمان انھیں دنیا کے ہر خوف و ڈر اور لذت پرستی سے بہت اوپر، انھیں بہترین جنگجو بنائے رکھتا ہے۔ جبکہ صلیبی فوجی رات بھر زنا کی محفلوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ لہذا دنیا چھوڑ کر ایک نئے جہاں کاخوف انھیں شکست فاش سے دو چار کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوران جنگ مسلمان فوجیوں کی آنکھوں سے جو وحشت ٹپکتی ہے ۔ وہ صلیبی قوتوں پر خوف طاری کر دیتی تھی ۔ اسکے ساتھ #نعرہ_تکبیر کی فلک شگاف صدائیں اور مسلمانوں کا اپنی اپنی جگہ پر فولاد بن جانا بھی صلیبیوں کیلئے ایک مسئلہ بن گیا تھا .....!

صلیبیوں کی اس تاریخی میٹنگ میں ہرمن نامی انٹیلی جنس آفیسر بھی موجود تھا ۔یہ وہ شخص ہے جس نے صلیبی تاریخ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہچایا ۔ یہ نہایت شاطر اور ذہین و فطین شخص تھا ۔اس نے مسلمان اور صلیبی نوجوان کی نفسیات پر بات کرتے واضح کیا ۔ میری ساٹھ سالہ زندگی کا تجربہ ہے کہ ایک عیاشی پسند وجود کبھی بھی زندگی کے میدان میں بہترین سپاہی نہیں بن سکتا ۔ خصوصا وہ لوگ جو سیکس کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انکی جسمانی و روحانی طاقتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اگر میں مسلم فوج کی بات کروں تو مسلمان فوج میں ایسے نوجوانوں کی اکثریت ہے جو سیکس کی لذت سے یکسر نا آشنا ہیں ۔ان میں سے جو شادی شدہ بھی ہیں وہ بھی اس چیز کو ایک حد تک آزما پاتے ہیں ۔ تصور کی رعنائیاں اور خوبصور ت نظارے ہمیشہ ان کی پہنچ سے دور رہے ہیں ۔ انھیں مذہب سے آگے اور پیچھے کچھ نہیں دکھائی دیتا ۔ لہذا ہم اگر ان میں جنسی بھوک کو پیدا کر دیں تو ان کی سوچ اور نظریات کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کی ایک مثال وہ مسلمان بادشاہ اور وزرا بھی ہیں جو شروع میں سطان ایوبی کے ساتھ تھے لیکن ہماری خوبصور ت لڑکیوں نے جب سے انھیں اپنی حسین اداؤں کا اسیر کیا تب سے وہ خدا اور رسول کو جانتے ہی نہیں ہیں انھیں سلطان ایوبی اپنا سب سے بڑا دشمن نظر آتا ہے ۔ ان مسلمان وظیفہ خوروں میں سے وہ جرنیل بھی شامل ہیں جن کی حکمت عملیاں اور بہادریاں میدانوں کے نقشے بدل ڈالا کرتی تھیں ۔ آج وہ صلیبیوں سے نگاہیں جھکا کر بات کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم انکے اندر عورت اور جنسیات کی روح داخل کرچکے ہیں ۔ اگر یہی حربہ پوری مسلمان فوج پر آزمایا جائے تو یقیناً ہم کامیاب ہونگے ۔ کیونکہ مسلمان نوجوان کیلئے یہ ایک بالکل نئی چیز ہوگی اور وہ اس کیلئے جنونی ہوسکتے ہیں .....!

ہرمن کے اس خیال پر رونالڈ نے نقطہ اٹھایا ۔ اس نے کہا :
" ہم متعدد بار نہایت خوبصورت لڑکیاں مسلمان فوج میں داخل کر چکے ہیں ۔ اس کام میں ہمیں شدید تخریب کاری کرنا بھی پڑی تھی ۔ لیکن مسلمان فوج ان حسین لڑکیوں کی طرف دیکھنے کا تکلف ہی نہیں کرتی ہے ۔اور متعدد لڑکیاں مسلمان فوج کا کردار دیکھ صلیبی حمایت چھوڑ چکی ہیں ۔ لہذا تمھارا یہ منصوبہ ناکام ہے .....! "

ہرمن نے فوری جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا :
" حضور جب تک آپ کے اندر کسی چیز کا تصور موجود نہ ہو اسکا ہونا نہ ہونا بے معنی ہوتا ہے ۔ ہمیں مسلم فوج میں جنسی دنیا کا تصور پیدا کرنا ہے ۔ایسا تصور جو ان کی سوچ کی راہداریوں میں برہنہ عورتوں کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے ۔ اسکے بعد وہ خود ہماری ثقافت کے حوالے کر دیں گے کیونکہ یہ ہماری ایجاد ہوگی، یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم مسلمان کو شکست دے سکتے ہیں .....! "

رونالڈ ہرمن کی اس بات پر بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور سرگوشی بھرے لہجے میں بولا :
" آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو .....! "

ہرمن نے نہایت شاطرانہ انداز میں تاریخ کا سب سے بھیانک منصوبہ رونالڈ کے سامنے پیش کر دیا ۔ دنیا کے سامنے یہ منصوبہ آرٹ پورن گرافی کے نام سے سامنے آیا۔ اس منصوبے کے ایک سال بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاح ملی کہ فوج کے کچھ نوجوان رات کوغائب پائے جاتے ہیں۔ نوجوانوں میں اکثر جنسی گفتگو بھی سنی گئی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس چیز کو اتنا سنجیدگی سے لیا کہ خود بھیس بدل کر ان نوجوانوں کا پیچھا کیا ۔ یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ سلطان ایوبی بذات خود بھیس اور آواز بدلنے کے ماہر تھے۔ تاریخ میں متعدد بار ان کی ایک دوسری شخصیت کے روپ میں دشمن کے ساتھ ملاقات کی روایات موجود ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں شکست کے بعد صلیبی اعلی افسران کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا ۔ سلطان نے ایک افسر سے پوچھا :
" رات جس شخص سے تم نے کہا تھا میں ایوبی کو اسکی سانس کی مہک سے پہچان سکتا ہوں بتاؤ وہ کون تھا ......!"

وہ صلیبی افسر بولا :
" حضور وہ ایک عربی تاجر تھا جس کی غلط بیانی نے ہمیں آپ کے سامنے لا کھڑا کیا .....!'

سلطان ایوبی نے مسکراتے ہوئے کہا :
" وہ میں خود تھا .....! "

وہ حیرت زدہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو تکتا رہ گیا .....

دوستوں فوج کے کچھ نوجوانوں کی پرسرار حرکتوں پر سلطان ایوبی خود انکے پیچھے گئے تو معلوم ہوا فوجی قیام گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک قافلہ رکا ہے ۔ جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے پاس فحش تصاویر کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔ جب سلطان نے وہ تصاویر دیکھیں تو دنگ رہ گئے ۔ ان میں ایسی منظر کشی کی گئی تھی کہ کوئی بھی نوجوان سیکس کیلئے جنونی ہوسکتا تھا ۔اسی دوران سلطان صلاح الدین ایوبی کو دمشق اور مصر کے دیگر شہروں سے اطلاعات ملیں کہ شہر میں فحش تصاویر کے قبہ خانے کھل گئے ہیں ۔ جہاں جنسی اشتعال انگیز تصاویر دکھائی جاتی ہیں ۔ نوجوانوں کو جنسیات کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے ۔ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمان نوجوان بڑی تیزی سے برائی کی طرف مائل ہو رہے ہیں .....!

سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوری اپنی جنگی پیش قدمی روکی اور پورن گرافی کے اس ناسور کے خلاف محاظ کھولا ۔ اس حوالے سطان صلاح الدین ایوبی نے ایک تاریخی تقریر میں کہا تھا :
" ہر قوم کی طاقت اسکا اچھا یا برا کردار ہوا کرتا ہے، دشمن ہماری اصل طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے۔ اب وہ سامنے کی جنگ کبھی نہیں کرے گا ۔ اسی لیے دشمن اب ہمارے قومی کردار پر حملہ آور ہوا ہے، کیونکہ ضروری نہیں جنگ میدانوں میں ہو ۔ جنگ سوچ اور رویوں کی بھی ہوتی ہے۔ جو قوم اس پر غالب آجاتی ہے وہ فتح یاب ہوتی ہے .....!

میرے معزز قارئین ....!
صلیبی انٹیلی جنس آفیسر ہرمن ایک نہایت ذہین اور شاطر انسان تھا ۔اگر آپ پوری صلیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ شخص پوری تاریخ میں چھایا ہوا نظر آئے گا ۔ صلیبی جب ہمت ہار چکے تھے تو اس شخص نے ان میں جان ڈال دی ۔ اسی کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دنیا کے مشہور مصور اور منظر نگار وں کو منہ مانگی قیمت پر خریدا گیا ۔ ان سے ایسی فحش تصویر کشی کروائی گئی کہ دیکھ کر نظریں ہٹانا مشکل ہوجاتا تھا۔ وہ سیکس جس پر لوگ ایک حد تک توجہ دیتے تھے پھر اسے بے حد سوچنے لگے ۔ صلیبی بادشاہوں نے جب اپنے اس منصوبے کو سو فیصد کامیاب ہوتے دیکھا تو اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ بڑی شان سے کیا .....!

اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس زہر کو مارنے کی پوری کوشش کی ۔ لیکن اس مسئلے کا پوری طرح ادراک نہ ہوسکا ۔ کیونکہ اس زہر کے اثر کو دیکھتے ہوئے حسن بن سباح کے فرقے نے اسے بطور ہتھیار اپنایا ۔ صلیبیوں سے اس آرٹ گرافی کی نئی جدتوں پر مانگ کی ۔ یوں حسن بن سباح کی پہاڑوں میں بنائی ہوئی پرسرار جنت میں ایک اور ہتھیار کا اضافہ ہوا اور اسی دوران سلطان بیت المقدس کی فتح کے بعد چل بسے ۔ صلیبی اپنا دم خم کھو چکے تھے لیکن انکا تیار کردہ زہر پورن گرافی مسلسل فحاشی کے جراثیم پھیلاتا رہا ۔ یوں صدیاں بیت گئیں ۔ زمانے کے رنگ ڈھنگ بدل گئے اور کئی ثقافتیں آئیں اور مٹ گئیں .....!

آخر اٹھارویں صدی کا سورج طلوع ہوا ۔ یہ وہ صدی ہے جب سائنس کے علم میں انقلاب کی فضا پیدا ہونا شروع ہوئی تھی ۔ نئی جدتیں اور نئی منزلیں روشن ہو رہیں تھیں ۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں پورن گرافی پر ایک بار پھر نئے انداز میں کام شروع ہوا۔ اس بار پورن گرافی کیلئے لکڑی کا استعمال ہوا ۔ اس کے علاوہ درختوں کو بھی کانٹ چھانٹ کر جنسی عضو کی طرح بنا دیا گیا فرانس میں ہوئے اس تماشے پر لوگوں کا ہجوم لگ گیا ۔ لوگ بے پناہ دلچسپی سے لکڑی کے بنے جنسی سامان اور درختوں پر ہوئی زیادتی دیکھنے جوک در جوک آرہے تھے ۔اس وڈ پورن گرافی پر لوگوں میں جنسی آزاد خیالی پیدا ہوئی ۔ لہذا لوگوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے امریکہ، فرانس اور لندن میں وڈ پورن گرافی کے چھوٹے چھوٹے پورن ہاوس کھل گئے، جو ایک چھوٹا سا جنگل ہوتا تھا ۔ جس میں پورن گرافی کے فن پارے درختوں پر عیاں ہوتے تھے .....!

دوستوں ....!
1839 میں کیمرہ ایجاد ہوا ...
اس ایجاد نے جہاں سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا جادو کیا، وہیں یہ بہت جلد پورن گرافی کا اہم ہتھیار بن گیا ... 1855 میں پہلی باراسے پورن گرافی کیلئے استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس پورن گرافی میں مسئلہ یہ تھا کہ کیمرہ تصویر کی صرف ایک کاپی بناتا تھا ۔ اس تصویر کو بہت زیادہ شیئر نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اسی لیے پورن گرافی کا جن مشکل کا شکار ہوگیا ...
لیکن یہ مسئلہ اس وقت مسئلہ نہ رہا جب 1863 میں پرنٹر ایجاد ہوا ۔ اس ایجاد کے ساتھ ہی سیکس تصاویر سے بھرپُور پلے کارڈز اور جنسی خاکے لوگوں کے ہاتھ میں آچکے تھے ...
1871 میں جنسی تصاویر بلیک اینڈ وائٹ رزلٹ میں پوری شدت کے ساتھ مارکیٹ آچکی تھیں ۔ ان مارکیٹوں میں فرانس کی مارکیٹ سب سے آگے رہی ...
دوستوں ...! 1876 ویڈیو کیمرہ ٹیکنالوجی منظر عام پر آئی۔ اس ٹیکنالوجی میں ویڈیو کیمرہ ایک منٹ میں ساٹھ تصاویر کو کیپچر کرتا تھا ۔ پھر ان تصاویر کو چرخا نما مشین پر ایک بڑے رول بنڈل کی صورت چڑھایا جاتا ۔ پھر اس چرخے کو ہاتھ سے چلایا جاتا ۔ اس سے تصویر اس تیزی سے گھومتی تھی مانو ...! ایسے لگتا جیسے ویڈیو پلے ہو رہی ہو۔ اسی طریقہ عمل کو آگے چل کر ٹی وی ٹیکنالوجی میں استعمال کیا گیا ۔ آج جو ہم حرکت کرتی اور زندہ محسوس ہوتی HD ویڈیوز دیکھتے ہیں دراصل یہ ہزاروں تصاویر کا مجموعہ ہوتی ہیں ۔ جو اس تیزی اور صفائی سے پلے ہوتی ہیں کہ ہمیں تصویر حرکت کرتی نظر آتی ہے .....!

دوستو .....!
ویڈیو ٹیکنالوجی کے وجود میں آتے ہی یورپی ممالک میں فلم ساز انڈسٹری کا ابتدائی ڈھانچہ بننا شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ پورن انڈسٹری کا آغاز ہوا .....!

پہلی پورن فلم 1895 میں ریلیز ہوئی ۔اسے لومئیر برادرز انڈسٹری نے پہلی بار عوامی نمائش کیلئے فرانس میں پیش کیا ۔اسکے ڈرائکٹر مسٹر البرٹ کرچنر تھے ۔ پہلی پورن فلم سولہ منٹ کی تھی جس میں ایک عورت کو برہنہ انداز میں ہوش ربا ادائیں دکھاتے ہوئے پیش کیا گیا۔ یہ فلم نہایت منافع بخش ریکارڈ کے ساتھ مقبول ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی سیکس کی خواہش ضرورت سے بڑھ کر جنون میں بدل گئی ۔یورپ کے گلی کوچوں میں لوگ بے ہودہ مذاق اور چھیڑ خوانی کرنے لگے۔ پھر یہی چیز آگے چل کر یورپی ثقافت کا حصہ بن گئی .....!

انیسویں صدی کے آغاز میں کیمرہ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی ۔ منظر پہلے سے زیادہ صاف اور معیاری ریکارڈ ہونے لگے۔ اس کے ساتھ ہی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے سرکاری سطح پر پورن تھیٹر کھول دیئے ۔ جہاں پورن اداکاروں کی پیداوار کا سلسلہ شروع ہوا .....!

1920 تک یورپی تہذیب پورن گرافی کے اس زہر میں ڈوب چکی تھی ۔ عوام سر عام سڑکوں کو بیڈ روم بنائے اپنا شوق پورا کرنے لگی ۔ ساحل سمندر عیاشی کے اڈے بن گئے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے .....!

1970 میں پورن گرافی کا زہر برصغیر میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پہلے پہل یہ صرف تصاویر پر مشتمل تھا ۔ اسے ویڈیو دکھانے کیلئے یورپی کمپنیز نے پاکستان و بھارت میں پورن سینما کی اجازت چاہی ۔ اس کے جواب میں صرف انکار ہی نہیں کیا گیا بلکہ پورن گرافی کو باقاعدہ ایک جرم قرار دیا گیا .....!

دوسری طرف یورپی ممالک میں سیکس ویڈیوز کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہوئی، کیونکہ ایک ہی سین ہر فلم میں دیکھ کر عوام بور ہونے لگی ۔ دوسرا بذات خود انکا معاشرہ اتنا آزاد ہوچکا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کی ضرورت روز بروز کم ہونے لگی۔اسی صورتحال سے پریشان ہوکر پورن انڈسٹری نے پورن گرافی کی نئے انداز پر کام کرنے کے بارے میں سوچا ۔ یوں پورن کیٹیگری پراجیکٹ کا آغاز ہوا ۔ اس پورن کیٹیگری پراجیکٹ میں سیکس کو کئی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ہر قسم کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا تھا .....!

اگر آج ہم کسی پورن ویب سائٹ کو اوپن کریں تو ہمارے سامنے ایک لسٹ اوپن ہو جاتی ہے ۔ جس میں سیکس کی مختلف کیٹگریز نظر آتی ہیں۔ جب کیٹیگری پراجیکٹ یورپی عوام کے سامنے لایا گیا تو دیکھنے والوں کا ازدھام مچ گیا ۔ کیونکہ اس دفعہ فحاشی کے مناظر روایتی طریقوں سے ہٹ کر ریکارڈ کیے گئے تھے، یہ پراجیکٹ پورن انڈسٹری کیلئے آب حیات کی صورت اختیار کر گیا ۔ کیونکہ اسی کی بدولت ہر شخص کی جنسی نفسیات ابھر کر سامنے آئیں ۔ مثلا ایک شخص دھواں دار جنسی مناظر کے بجائے ریلیکس پورن دیکھنا پسند کرتا ہے، تو اس کیلئے الگ کیٹیگر ی موجود ہوگی ۔اور یقینا ًپانچ سال بعد بھی وہ ریلیکس پورن دیکھنا ہی پسند کرے گا ۔ یوں ہر شخص کی جنسی خواہش کے مطابق اسے پورن گرافی کا نشہ ملنے لگا .....!

1980 میں وی سی آر ٹیکنالوجی برصغیر میں عام ہوئی ۔ اگرچہ ستر کی دہائی میں کمپیوٹر بھی پاکستان میں اکا دکا جلوہ گر ہوچکے تھے ۔ لیکن عام لوگ اس سے نا آشنا تھے۔ لہذا لوگ پردہ سکرین سے ہٹ کر وی سی آر کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اسی دوران پاکستان فلم انڈسٹری بھی پوری شان سے ابھر کر سامنے آئی۔ یورپی کمپنیز نے جب ایشیائی لوگوں کا وی سی آر کی طرف رجحان دیکھا تو ان کی آنکھوں لالچ کی چمک پیدا ہوئی۔ یوں فحش فلمیں پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں بلیک ہوکر بکنے لگیں .....!

1998 میںیورپی پورن انڈسٹری نامعلوم ہاتھوں میں چلی گئی ۔پہلے یہ صرف جنسی کاروبار کے طور پر استعمال ہوتی تھی ۔ لیکن پھر اسے پوری دنیا کو جنسی دہشت گردی کیلئے چنا گیا ۔ پورن انڈسٹری میں ایک ایسا جنسی طریقہ متعارف کروایا گیا ۔ جو براہ راست کینسر ، گلوریا اور دیگر تباہ کن بیماریوں کا موجب ہے ۔ اس طریقہ کار کو اورل سیکس کہتے ہیں ۔ آپ نے ایک چیز اکثر نوٹ کی ہوگی ۔ پورن فلم کی چاہے کوئی بھی کیٹیگری ویڈیو دیکھ لیں ۔ فلم کے سٹارٹ میں اورل سیکس کا مظاہرہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بھی ایک باقاعدہ جنسی عمل کا حصہ ہے .....!

سائنسی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہمارے جسم میں ایک مادہ منی کے ساتھ خارج ہوتا ہے ۔ جو ڈی این اے میں اکثر خرابی کا باعث بنتا ہے ۔ اگر وہ منہ کے ذریعے معدے میں چلا جائے یا دانتوں میں اسکی کوئی باقیات رہ جائیں ۔ تو وہ منہ کے خلیات میں p16 پروٹین نامی مادہ پیدا کر دیتا ہے۔ جو منہ کے کینسر اور بلڈ پرابلمز کو جنم دیتا ہے اور یہ وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج یہودی لیبارٹریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ان بیماریوں کی تمام دوائیاں اسرائیلی کمپنیز سے نہایت مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ۔ ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے چہرے بدل جاتے ہیں اور موت سسک سسک کر آتی ہے ۔ لہذا اورل سیکس کے شوقین شوق پورا کرنے سے پہلے چشم تصور میں اپنا انجام بھی سوچ لیں .....!

اورل سیکس دراصل خفیہ یہودی ایجنسیز کا ذریعہ آمدنی ہے ۔ اسی کے ذریعے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں اور انھیں لاکھوں ڈالر لٹاتے ہیں۔ اورل سیکس کے ساتھ سکیٹ ایٹنگ اور پس ڈرنکنگ سیکس کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جو کہ یہودی ایجنسیز کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ان پورن ویڈیوز میں کام کرنے والے اداکاروں کو شوٹنگ کے فوری بعد، ان کے منہ میں مخصوص سپرے کیے جاتے ہیں جو منہ میں گری غلاظت کے تمام جراثیم ختم کر دیتے ہیں ۔ ہمارے عام علماء کا خیال ہے کہ پورن ویڈیوز صرف مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہوتی ہیں ۔ حقیقتا ایسا نہیں ہے۔ یہودی ایجنسیز کا ٹارگٹ پوری دنیا کے مذاہب ہیں ۔ کیونکہ تمام مذاہب ان کے انتہا پسند نظریات کو ہر صورت رد کرتے ہیں .....!

یہودی نہایت مہارت سے شاطرانہ چال چلتے ہوئے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔ جنھیں ون ورلڈ آرڈر کہتے ہیں ۔ یعنی ایک ایسی دنیا جہاں کسی خدا کا تصور نہ ہو، جہاں کوئی تہذیب نہ ہو، جہاں کوئی قانون نہ ہو ۔ بس ایک ہی اصول ہو اور وہ ہے یہودی غلامی، اس مشن کی تفصیلات بہت چشم کشا اور دل آویز ہیں .....!

بس اتنا کہوں گا کہ پوری دنیا پر یہودی راج کیلئے ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا جا رہا ہے جو آج کی تاریخ میں ممکن ہے ۔ لوگوں کو ہر طرف سے جنسی، نفسیاتی، سیاسی، سماجی اور مذہبی غرض ہر طرف سے پھنسایا جا رہا ہے۔ اور ہم لوگ بےخبر پھنس رہے ہیں ۔یہودی ایجنسیز کے خفیہ ہتھکنڈوں پر حقیقت کا چاقو چلانے کیلئے یوٹیوب پر الماس یعقوب نام سے ایک چینل موجود ہے۔ اسکا مطالعہ ضرور کیجئے اور اسے سبسکرائب کیجئے ۔ اس کے ساتھ اس بھائی کا شکریہ بھی ادا کیجئے ۔ جو نہایت محنت سے یہودی ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں .....!

دوستو .....!
بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا ۔ ایشیا میں ابھی دھندلے معیار کی ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ختم نہیں ہوا تھا ۔ جبکہ یورپی ممالک میں HD ٹیکنالوجی منظر عام پر آچکی تھی ۔ ہالی وڈ فلم انڈسٹری بے مثال فلمیں پروڈیوس کر رہی تھی ۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی سے بھی بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے ۔ جبکہ پاکستان میں پہلی بار انٹرنیٹ سروس 1992 میں آئی ۔ اسے ایک یورپی کمپنی برین نیٹ نے پاکستان میں پرائیویٹ طور پر لانچ کیا تھا ۔ اس کے پہلے انجینئر منیر احمد خان تھے ۔ جنھوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ سرور کو کنٹرول کیا ۔ اسکی ابتدائی سپیڈ 128k تھی .....!

1995 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ یعنی پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ آل پاکستان کیلئے خرید لیا، سن 2000 میں انٹرنیٹ پاکستانی عوام میں مقبول ہونا شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی پورن گرافی کا زہر بھی سرحدیں پھلانگتا ہو ا داخل ہوا ۔یورپی ممالک میں پہلے پہل پورن گرافی سینما میں دکھا کر یا جنسی تصویروں کے ذریعے پیسہ کمایا جاتا تھا ۔ لیکن انٹر نیٹ نے یہ جھنجھٹ ختم کردیا ۔ انٹر نیٹ نے باقاعدہ خود آن لائن مارکیٹنگ پروسیس کھول کر پورن گرافی کو بطور پراڈکٹ پیش کیا ۔ جسے عوامی طور پر اتنی پزیرائی ملی کہ سب ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ یورپی پورن انڈسٹریز کو سب سے زیادہ آن لائن ٹریفک ایشیا سے ملی .....!

2015 کی گوگل رپورٹ کے مطابق روزانہ نوے لاکھ پاکستانی پورن ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں ۔ جبکہ بھارت سے روزانہ چھ کروڑ لوگ فحش ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں، جس سے پورن انڈسٹری روزانہ کروڑوں ڈالر کا منافع کماتی ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جو ویب سائٹس بلاک ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طرح مطلوبہ سائٹس تک پہنچ ہی جاتی ہے ۔ جبکہ گوگل پر پورن تصاویر دیکھنے والوں کی تعداد پاک و بھارت میں کروڑوں میں ہے .....!

دوستو .....!
کہتے ہیں ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ لہذا دو صدیوں سے پورن گرافی دیکھنے والی عوام اکتا گئی ۔ کیونکہ پورن فلم میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں نہایت خوبصورت ہوتی ہیں ۔ اور ان کی جنسی پاور بھی زبردست ہوتی ہے۔ لیکن جب لوگ اس فعل کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تو زیادہ تر انھیں اپنے پرانے ساتھی پر گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ جو کہ عرصہ پہلے اپنی جنسی کشش کھو چکا ہوتا ہے۔ نفسیات کے اس دھارے نے پورن انڈسٹری مالکان کو ایک بار پھر سوچ کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ۔ یوں 2014 میں ایک منفرد ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔ اس ٹیکنالوجی کو سلیکون سیکس گرل کہتے ہیں ۔ اس ٹیکنالوجی میں سلیکون دھات سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کا وجود تراشا جاتا ہے۔ پھر اسے اس قدر حقیقی بنایا جاتا ہے کہ اصل وجود اور اس مجسمے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ایسے لگتا ہے جیسے یہ ابھی بول پڑے گی ۔ اس کا جسم اتنا نرم و نازک بنایا جاتا ہے کہ زندہ وجود کی نزاکت کو رد کرتا ہے ۔ ان کی خوبصورتی، جسم کی نرمی اور بناوٹ کا انداز ایسا ہے کہ بس جان ڈالنے کمی رہ گئی ہے ۔ انھیں دیکھ کر آنکھیں بار، بار دھوکہ کھاتی ہیں ۔ ان سلیکون گرلز کو جنسی خواہش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان کے مخصوص اعضا میں ایسے مصالحے استعمال کیے گئے ہیں کہ فحاشی کا سکون تین گنا بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح خواتین کیلئے سلیکون بوائز کے نہایت خوبصورت مجسمے بنائے گئے ۔ ان مجسموں کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ آپ انکی جسمانی لچک کو کسی بھی زاویے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں .....!
لیکن یاد رکھیے ....! ان سلیکون جنسی مجسموں میں کچھ ایسے راز بھی چپکے ہیں جو آپکو دائمی جنسی مریض بنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ تمام سیکس میڈیسن بھی انھیں مجسموں کے خالق بنا رہے ہیں ۔ ایک طرح سے یہ لوگ بیماری لگانے کے بھی پیسے لیتے ہیں۔علاج کے نام پر مستقل گاہک بنا کربھی لوٹتے ہیں .....!

2015 میں سلیکون مجسموں کو یورپی مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ۔ جیسے ہی یہ مجسمے مارکیٹ میں آئے تو خریداروں کے ہجوم لگ گئے ۔ انھیں مجسموں کی بدولت مرد و عورت کا آپسی جنسی تعلق بھی کمزور ہوگیا ۔ جس سے شرح پیدائش میں واضح کمی واقع ہوئی ۔ اسی کے ساتھ ورچول رئیلٹی ڈیوائس نے رہی سہی کسر پوری کردی .....!

یورپی ممالک میں شرح پیدائش تو اٹھارویں صدی سے ہی کمزور پڑ گئی تھی ۔ لیکن 2010 کے بعد یہ کمی شدید تر ہوگئی ۔ البتہ مسلم کمیونٹی برابر شرح پیدائش پر برقرار رہی ۔ اسی صورتحال سے گھبرا کر بعض ممالک میں چلڈرن ہاؤس قائم کردئیے گئے ہیں ۔ جہاں عورت و مرد کو بھاری رقم دے کر بچہ پیدا کیا جاتا ہے ۔ بچے کی تمام افزائش چلڈرن ہاؤس کے ذمہ ہوتی ہے ۔ ہالینڈ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت کو دس ہزار ڈالر دیئے جاتے ہیں ۔ جبکہ عورتوں نے انکار کیا تو رقم انکی مرضی پر متعین کی گئی ۔ہمارے علماء حضرات چاہے جو بھی خیال رکھتے ہوں، لیکن یہ سچ ہے پورن گرافی کا زیادہ نقصان خود انھیں کا ہوا جن کی ایجاد تھی .....!

آج اگرچہ مسلمان بھی اسکا شکار ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم اپنے مذہب ،ثقافت اور نسل کو لیے برابر چل رہے ہیں ۔ جبکہ مغربی معاشرہ اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ آرٹیفشل بچے پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے .....!

2013 میں امریکی پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ 2050 تک اسلام کی افرادی پاور پورے یورپ پر حاوی ہو جائے گی ۔ لہذا اسلام کو ہر طرف سے گھیر کر محدود کیا جائے ۔ لوگوں کے دلوں میں اسلام کیلئے نفرت پیدا کر کے انھیں اپنے آزاد معاشرے کا حصہ بنا یا جائے .....!

یہی وجہ ہے آج پوری دنیا میں اسلامی شدت پسندی دکھائی جا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ملحد اسلام کو نوچ رہے ہیں ۔ سیاست میں بڑے بڑے لبرل داخل کیے جا رہے ہیں ۔ مقبوضہ علاقوں مسلمانوں کا قتل عام کروایا جارہا ہے ۔ کیونکہ دشمن جان چکا ہے کہ اسکا ہتھیار خود اسکی قوم کو ختم کرچکا ہے لیکن جاتے جاتے مسلمان پر آخری وار ضرور کرتے جاؤ ......!

میرے معزز دوستوں آپ لوگوں کا اپنا قیمتی وقت دے کر اس تحریر کو مطالعہ کرنے کا بےحد شکریہ،  بس ایک آخری مہربانی یہ کرتے جائیے کہ جاتے، جاتے  ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو سکتی ہے، اور اسے شیئر کر کے تو آپ یہ غیر معمولی حقیقت اپنے دوستوں تک پہنچا کر نجانے کتنے نادانوں کو رہ راست پر لانے کا سبب بن سکتے ہیں (ان شاءاللہ تعالٰی) ....!  
جزاک اللہ خیرا کثیرا ...

#طالب_دعا : #فرحان_بن_عبدالرحمان .....