Search This Blog

Thursday, July 19, 2018

Reality of Bermuda Triangle and Devil Sea Explained | Part 1 | ship disa...


شیطانی سمندر، برمودا تکون اور اڑن طشتریاں یعنی (یوایف او) ایسے موضوع ہیں جو آپ مختلف انداز میں سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہوں گے۔ افسانوی قصے خوفناک داستانیں ناقابل یقین واقعات تاریخی شہادتیں ان سب کو اس طرح گڈمڈ کردیا گیا ہے کہ پڑھنے والا کسی صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ چند ویڈیوز میں یہ سربستہ راز آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے

Blackberries in Swat - Morus Nigra - Rubus



سوات میں "بلیک بیری" کو "کروہ ڑہ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک خودرو جھاڑی نما پودا ہے۔ کروہ ڑہ کو باقی کی دنیامیں "بلیک بیری" کہتے ہیں ۔
یہ ٹھنڈے علاقوں کا ایک نہایت ہی نازک اور قدرے ترشی مائل میٹھا توت یا سٹرابیری نما پھل ہے۔ اس کا باٹانیکل نام مورس نیگرا ہے (مضمون کے ٹائٹل میں صحیح تلفظ دیکھئے) جبکہ اس پودے کا تعلق "روبس" خاندان سے ہے جس میں تمام بیریز آتی ہیں۔ رسپ بیریز بھی اس خاندان کا حصہ ہےجو سوات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بلیک بیری/کروہ ڑہ کے پودے سوات کے علاقے میں خود رو پودا ہے۔ دنیا کے سرد ممالک میں یہ پودا عام پایا جاتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بلیک بیری کا پودا زیادہ تر کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور دریاوں، نہر،نالوں کے کناروں پر اُگتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کی لمبی لمبی ٹھنیاںہ ہوتی ہیں جس کو بطور بھاڑ بھی اُگایاجاسکتا ہے۔ کانٹوں سے لیس اس کی ٹہنیوں پر تین اور پانچ کی ترتیب سے پتے اُگتے ہیں اور سرے پھر پھولوں کا گچھا جس پر بعد میں پھل بنتا ہے۔ اس میں اپریل کے آخر سے لے کر جون تک گلابی یا ہلکے سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں اور پھل جون کے آخر سے جولائی سے لے کر اگست کے آخر تک لگتا ہیں۔ اس کا پھل پکنے پر سیاہی مائل جامنی رنگ کا ہوتا ہے اور پھل کی شکل توت سے زیادہ ملتی ہے۔ ذائقے میں ترش میٹھا ہوتا ہے۔ سوات میں بلیک بیری/کروہ ڑہ کے کچھ اور اقسام بھی پائی جاتی ہیں جن کو رسپ بیریز یا گولڈن ہمالین بیریز کہتے ہیں۔ سوات کے علاقے میں یہ پودا خود روجنگلی پودوں کی اقسام میں سے ہے۔ پھل کے موسم میں اکثر گاؤں کی غریب آبادی اس کا پھل اکٹھا کرکے بازار
میں بیچتی ہے مگر بہت کم دستیاب ہوتا ہے۔ 
یورپی ممالک میں " بلیک بیری " کی کاشت تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور باقی دنیا کے ممالک کو بھی یہ پھل برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ پھل کئی بڑے بڑے ڈپارٹمینٹل سٹورز میں دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے اسلام آباد کے ایک بڑے سٹور سے یہ بلیک بیری تقریباً نو سو روپے کے عوض لی تھی۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت نے اس پھل کی پیداوار اور اس کی تجارتی بنیاد پر کاشت پر ابھی تک کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ سوات کا علاقہ اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے۔ سوات کے علاقہ مدین میں ایک عزیز کے گھر اس کا قلمی پودا دیکھا جو وہ اپنے ساتھ جرمنی سے لے کر آئے تھے، اُن کے مطابق اس پودے کا پھل عام جنگلی بلیک بیری سے سائز میں بڑا اور زیادہ بھی لگتا ہے۔ سرد علاقوں اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں کی نسبتاً ٹھنڈی جگہوں پر بھی اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اب پودوں کی کسی بھی اچھی نرسریز سے اس کی امپورٹد ہائبرڈ اقسام کے پودے حاصل کئے جاسکتے ہیں جن کو آسانی سے گھروں، باغوں میں کیاریوں یا گملوں میں اُگایاجاسکتا ہے۔ تیزاور زیادہ دھوپ سے بچا کر کسی بھی دھوپ چھاوں والی جگہ پر اس کو لگایا جاسکتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ میدانی علاقوں جہاں موسم قدرے ٹھنڈا ہوتا ہے میں بھی یہ بلیک بیری کا پودا قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ شبقدر، چارسدہ کے علاقوں میں سے جہاں سے دریائے سوات کا گزر ہے کے آس پاس کے علاقوں میں بھی یہ پودا پایا جاتا ہے اور پھل بھی خوب لگتے ہیں۔ اگر حکومت اس طرف توجہ دے تو کوئی شک نہیں کو آج جو قدرتی طور پر جنگلی پھل ہم دیکھ رہے ہیں یہ کل کو ہمارے لئے ایک اچھا خاصہ زرمبادلہ بھی کمائے۔ اس پودے کے بارے میں گوگل میں سرچ کرنے پر بہت ساری معلومات مل سکتی ہیں۔
Blackberries & Bluebarries

Wednesday, July 18, 2018

Wild Mock Strawberry - Duchesnea fragiformis - جنگلی سٹرابیری

1
Mock Strawberry is known as Wild Strawberry too. Its Latin name is Duchesnea indicait is a medicinal plant. Its medicinal values and other details are here in English & Urdu:
Synonyms: Duchesnea fragiformis, Fragaria indica, Potentilla indica
Family: Rosaceae (Rose Family)
جنگلی سٹرابیری

جنگلی سٹرابیری ٹھنڈے علاقوں میں قدرتی طور پر اُگنے والی قسم ہے۔ سوات، مالاکنڈ، ہزارہ، مری و ملحقہ علاقوں کے پہاڑوں اور سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر جزوی سایہ دار جگہوں اور ڈھلوانوں پر پائی جاتی ہے۔ سوات و ملحقہ علاقوں میں کسانوں کے فصلوں کو دیگر جڑی بوٹیوں سے پاک کرنے کیلئے زہریلی ادویات کے بے دریغ استعمال نے جہاں دیگر حیاتیاتی نظام کو تباہ کردیا ہے وہاں جنگلی سٹرابیری اور اس جیسی دیگر کئی اقسام کی جنگلی جڑی بوٹیوں کی بقاء کیلئے بھی خطرات کھڑے کردیئے ہیں بلکہ بہت حد تک تو اب یہ جڑی بوٹیاں ناپید ہوچکی ہیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب ہمارے گھر دودھ دینے والی خاتون (گوالن)آتی تھیں تو وہ اپنے ساتھ میرے لئے اپنے کھیتوں سے جنگلی سٹرابیری توڑ کر لاتی تھیں۔ جنگلی سٹرابیری کو سوات کی مقامی زبان میں "دہ زمکی توتان" یعنی زمین کے توت کہا جاتا تھالیکن اب تو بدقسمتی سے ہمارے بچے کیا بڑے بھی اس نام سے ناآشنا ہیں۔
ہمارے ہردلعزیز دوست اخلاق خان کاکڑ صاحب نے جنگلی سٹرابیری کے طبی خواص کا بہت خوبصورتی سے جائزہ لے کر درج ذیل تحقیق درج کی ہے:
جنگلی سٹرابیری کے بہت سارے طبی خواص ہیں۔ یہ خون کے گاڑھا ہونے کو روکنے والی دوا یا زریعہ، جراثیم کش اور دافعِ عفونت دوا جو زخموں میں جراثیم پیدا ہونے سے روکتی ہے۔ بخار اُتارنے کی دوا، اس کے پتوں کو مسل کر زخموں، پھوڑے پھنسی، یا جلے ہوئے زخم پر مرہم کے طور پر لگایا جاتا ہے۔ داد/دھدری، جو کہ جلدی مرض ہے جو عام طور پر برسات اور زیادہ پسینے والے موسم میں ہوتا ہے ، ورم دہن، منہ کی سوزش، منہ کے چھالوں (پک جانا)، گلے کے غدود کے ورم، سوجن کے علاج کیلئے مفید ہے۔ اس کے پھولوں کا جوشاندہ خون کی گردش کو بڑھانے میں مددگار ہے

Tuesday, July 17, 2018

Raspberries in Swat - Rubus Idaeus-Rubus Crataegifolius

1
رسپ بیری شوخ سرخ رنگ کا ایک خوبصورت، خوش نما اور خوش ذائقہ پھل ہے جو کہ سوات سمیت پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کہیں کہیں میدانی علاقوں میں جہاں آب و ہوا قدرے یخ ہوتی ہے وہاں اس کا پودا دریا ، ندی نالوں اور ایسی ہی دیگر ٹھنڈی جگہوں پر قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ رسپ بیری کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے، اس کا پودا جھاڑی نما ہوتا ہے ، پتے ایک ٹہنی پر تین سے پانچ تک ہوتے ہیں۔ تنے پر کانٹے ہوتے ہیں اور اس کی ٹہنیاں کافی لمبی ہوتی ہیں۔ اس کے پھول ہلکے گلابی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں جو کہ گچھوں کی شکل میں اُگتے ہیں ۔ اس کے پھل مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر گہرے جامنی رنگ، سرخ اور ایک اور قسم زردپیلے یا نارنجی گولڈن رنگ کا ہوتاہے۔اس کے پودے پر پھول اپریل کے وسط سے نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور جون کے آخر سے پھل پکنے لگتاہے جو جولائی کے آخرتک دستیاب ہوتاہے۔ اس کا پھل توت کے پھل کی طرح دانے دار ہوتاہے، جنگلی ؍قدرتی طور پر اُگے رسپ بیری کے پھل کا سائز چھوٹا ہوتا ہے تقریباً توت کے پھل جتنا ہی۔
انگریزی میں اس کورسپ بیریRaspberrieرسپ بیری کہا جاتا ہے۔سوات میں اس کے گہرے جامنی اور سرخ رنگ کے پھل کو "بگنئی یا باگانئی/ بګڼې" اور زردپیلے گولڈن رنگ کے رسپ بیری جن کو گولڈن ہمالین رسپ بیری کہتے ہیں کو سوات میں " گوراج/ ګوراج"کہتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں اس کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔یہ یاد رہے کہ رسپ بیری اور بلیک بیری  پودوں کے ایک ہی خاندان "روبس" سے تعلق رکھتے ہیں مگر دونوں الگ الگ پھل ہیں، یہ شکل و صورت اور کسی قدر ذائقے میں بھی "بلیک بیری" کی طرح ہی ہوتا ہے۔یہ پودے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے پودے اور پھل ایک دوسرے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ بلیک بیری کو سوات کے علاقے میں "کروڑے" کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ بلیک بیری / کروڑے کا پھل تھوڑا سے بیضوی نما اور گہرے سیاہی مائل جامنی رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ رسپ بیری شکل میں تھوڑی سی گول اور جہاں اس کی ڈنڈی لگی ہوتی ہے وہاں سے اندر کو دھنسی ہوئی ہوتی ہے اور رنگ بھی اتنا گہرا نہیں ہوتا۔
 رسپ بیری یورپ ، کینیڈا ، چین، جاپان ، کوریا،روس ، وسط ایشائی ممالک اورہندوستان و امریکہ کے سرد علاقوں میں پائے جاتے ہیں اوران ممالک میں رسپ بیری کی باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر کاشت بھی ہوتی ہے اور اس کے کئی ہائبرڈ اقسام کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔رسپ بیری کے ہائبرڈ اقسام کے پودے اب پاکستان میں بھی کسی بھی اچھی نرسری سے حاصل کئے جاتے ہیں جو خاص کر میدانی علاقوں کے لئے متعارف کروائے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پرانے پشاورموڑ کی نرسریزی میں یہ پودا دستیاب ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر بڑے شہروں میں بھی باہرممالک سے درآمد کنندگان کے پاس اس کے پودے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ہائبرڈ اقسام میں اس کے پھل کا سائز بڑا، ذائقہ خوشگوار ترشی نما میٹھا اور رنگ شفاف سرخ ہوتا ہے۔ پاکستان میں کئی بڑے سٹورز میں باہرممالک خاص کر یورپ سے درآمد کئی ہوئی رسپ بیری دستیاب ہوتی ہے لیکن قیمت میں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں، تقریباً بیس سے پچیس دانوں کی قیمت آٹھ سو سے نوسو روپے کے درمیان ہوتی ہے۔
 
خیبر پختونخوا اور اسلام آباد اور دیگر میدانی علاقوں میں کافی لوگوں نے اپنے گھروں میں اس پودے کو کامیابی سے اُگایا ہے جن پر پھل بھی خوبصورت اور صحت مند لگ رہے ہیں، لیکن مطلوبہ آب و ہوا نہ ہونے کی وجہ سے پھل اکثر ترش ہی ہوتا ہے، جبکہ شمالی علاقہ جات اور ٹھنڈے علاقوں میں اس کا پھل خوش ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اس کے پودے کو کہیں بھی سایہ دار جگہ پر کاشت کیا جاسکتا ہے جہاں میدانی علاقوں کی تیز دھوپ اس کو براہراست متاثر نہ کرسکے۔ کسی بڑے درخت کے نیچے سایہ دار جگہ اس کیلئے نہایت موزوں ہوتی ہے۔ رسپ بیری کے پودے کو نہایت آسانی سے آپ کسی بھی بڑے کنٹینر، گملے یاکیاری میں اُگا سکتے ہیں۔ نرسری سے صحت مند پودا منتخب کریں اور مطلوبہ جگہ پر اس کو کاشت کریں۔ عام طور پر یہ ندی نالوں اور کھیتوں میں پانی کی نالیوں کے ساتھ ساتھ پگڈنڈیوں پر جھاڑیوں کی شکل میں بھاڑ بنائے اُگی ہوتی ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں اس پھل کو تجاری بنیادوں پر کاشت کیا جاتا ہے ، جس کو بڑی کامیابی اور بڑی مقدار میں دنیا بھر میں برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی تجارتی مارکیٹس میں اس پھل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
یہ پھل کئی اقسام کے کھانوں، مٹھائیوں ، سویٹ ڈشز، بیکری مصنوعات سمیت عام خوراک کے طور پر زیر استعمال لایا جارتا ہے۔ اس کے کئی طبی خواص بھی ہیں جن کی وجہ سے ادویات میں بھی ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی دیہائیوں تک لوگ دیگر خطوں کے پھل اور سبزیوں سے ناواقف تھے مگر جب سے معلومات کی فراہمی اور دستیابی عام آدمی کے دسترس میں آگئی ہیں تو دنیا کے ایک خطے کے پھل اور سبزیاں دوسرے خطے کے لوگوں کی دہلیز پر پہنچنا شروع ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے علاقائی پھل، سبزی، پھول،پودوں اور طبی خواص کے جڑی بوٹیوں کی مانگ دوسرے علاقوں میں بڑھ گئی ہے۔
ہم ایک زرعی ملک ہیں مگر بدقسمتی سے زراعت کی ترقی کو وہ رفتار حاصل نہیں جو کہ عہد حاظر کی ضرورت ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں محنتی طلباء و طالبات مختلف تحقیق و تجربات کرکے کامیابی حاصل توکررہے ہیں مگر اُن کی محنت بہت کم ہی عام کاشتکاریاکسان تک پہنچتی ہے۔ رسپ بیری اور اس جیسے فائدہ مند پھل ہمارے ملک میں جنگلی دستیاب ہیں لیکن کسی بھی حکومت نے اور ہمارے زراعت سے وابستہ محکموں نے ان کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کی طرف توجہ نہیں دی۔ اگر رسپ بیری اور اس جیسے دیگر پھل،پھول،سبزیوں اور جڑی بوٹیوں (جن کی زیادہ تر اقسام ہمارے علاقوں میں قدرتی طور پر اُگتی ہیں)کی اعلیٰ اور ہائبرڈ اقسام کو ملک میں متعارف کروایا جائے ، کاشتکاروں کو ان کی کاشت ،حفاظت، پیکنگ اورمارکیٹنگ کی عملی تربیت دی جائے تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے کسان اس کی کاشت تجارتی بنیادوں پر شروع کریں گے۔ رسپ بیری اور دیگر پھلوں کی جدید طریقوں سے کاشت کاری سے ہمارے کاشتکار نہایت معقول منافع کما سکتے ہیں جن کی مانگ دیگر ممالک میں بہت زیادہ ہے اور اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ سوات، دیر،چترال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، شانگلہ، گلگت بلتستان اس پھل کیلئے نہایت موزوں علاقے ہیں جہاں یہ پودہ قدرتی طور پر بھی اُگتاہے۔ اگر ان کی قلمکاری کی جائے یا باہر کے ممالک سے ہائبرڈ اقسام کے پودے درآمد کرکے ان علاقوں میں کاشت کئے جائیں تو کوئی شک نہیں کہ اس سے نہایت اعلیٰ معیار کا پھل حاصل کیا جاسکے گا۔

گولڈن ہمالین رسپ بیریز (گورج) کی تصاویر

Monday, July 16, 2018

People of PTI Donkey hit

پی ٹی آئی والوں نے ظلم کی انتہاء کردی۔ ایک بے زبان گدھے پر پہلے نواز لکھا اور پھر اسے ڈنڈوں سے مار مار کر ٹانگیں توڑ دیں اور لہو لہان کردیا۔
The PTI People broke the legs of the donkey

سُمبلُو بُوٹی/زیڑلرگے کے طبی خواص اور مہلک امراض کا علاج


سُمبلُو بُوٹی/زیڑلرگے کے طبی خواص اور مہلک امراض کا علاج
تحریر و تحقیق اخلاق خان کاکڑ
سُملو کا لاطینی نام بربیرس اریسٹاٹا ہے اور یہ نباتات کے خاندان زرشکیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ یورپ کیSimloo Flowers عام زرشک کا لاطینی نام بربیرس دیگرس ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں اسی کو سُمبل، سُمبلو یا سُملو کہتے ہیں ۔ ہندی میں اس کو دار ہلد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا عام کانٹے دار جھاڑی ہے، جس کی جڑ زرد رنگ کی ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں مانسہرہ، بالاکوٹ، کشمیر اور شمالی وزیرستان میں بھی پائی جاتی ہے۔ بلوچستان کے علاقوں زیارت ، باباخرواری، دوزخ تنگی، لورالائی، درگئی، قلعہ سیف اللہ اورسنجاوی کے اطراف میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہاں کے لوگ اسے زرل کہتے ہیں۔ بعض جگہ اسے کورئے بھی کہا جاتا ہے۔
یہ خودرو جھاڑی ہے۔ اس کے پرانے پودوں کا قد سات آٹھ فٹ ہوتا ہے۔ شاخیں اطراف میں پھیلی اور کانٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ہر کانٹا سہ شاخہ ہوتا ہے۔
پرانے پودوں کے تنے کا قطر تین چار انچ ہوتا ہے۔ جڑیں گہری بلکہ آٹھ دس فٹ زمین میں ہوتی ہیں۔ یہی جڑ کارآمد ہے۔ اسے کاٹ کر اس پر سے چھلکا اتارتے اور سائے میں خشک کر لیتے ہیں۔ یہ چھلکا زرد رنگ کا اورذائقے میں کڑوا ہوتا ہے۔ سُملوکے زرد پھول گچھوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔ پتے Simloo Fruitsلمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ پھول چند دن بعد جھڑ جاتے ہیں۔ ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے سبز دانے نکلتے ہیں جو پکنے پر سیاہ ہو جاتے ہیں۔ بچے اور بڑےانہیں شوق سے کھاتے ہیں۔اس کےپھول اور پتے بھی کھائےDaruhaldi-Berberis-Aristata-Simloo جاتے ہیں جن کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔یہ منہ اور گلے کے امراض کا علاج ہے۔ اس کی جڑ خزاں کے آخر میں نکالی جاتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کسی وقت بھی تازہ جڑ کا چھلکا اتار کر استعمال کر سکتے ہیں۔ سمبل کی جڑ کے سفوف سے سرطان کے مریضوں کا شفا بخش علاج ہوسکتا ہے۔
سرطان (کینسر) ہر قسم
سُملواور ہموزن ہلدی کوباریک پیس کر ڈبل زیرو کے کیپسول بھر لیں اور ایک کیپسول صبح وشام بعد از غذا، ہمراہ تازہ پانی یا دودھ استعمال کریں۔ انشأاللہ ایک ماہ میں کینسر کا نام نشان نہ رہے گا۔
چھاتی کا سرطان
چھاتی کے سرطان (کینسر) میں کشتہ سنکھ، ہلدی اور سُملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں اور صبح، دوپہر، شام بعد از غذا استعمال کریں۔ بفضلہٖ تین ماہ میں آرام آ جائے گا۔
صبح کو تین ماشے سُملو ایک پیالی پانی میں بھگودیں اور شام کو کھانے کے آدھ گھنٹے بعد پی لیں۔ اسی طرح شام کو بھگو کر صبح پی لیں۔ ایک ماہ کے استعمال سے چھاتی کا سرطان ختم ہو جائے گا۔
دماغی رسولی (برین ٹیومر) کا خاتمہ
درخت سَرس کی چھال، کشتہ سنکھ، سُملو اور ہلدی میں ہم وزن چینی شامل کر کے زیرو کے کیپسول میں چاررتی کے برابر بھر لیجئے۔ صبح، دوپہر اور شام بعد غذا عرق دھماسہ کے ساتھ ایک ایک کیپسول استعمال کریں۔ ذیابیطس کے مریض چینی شامل نہ کریں۔ تین سے چار ماہ تک دوا کا استعمال جاری رکھیں۔ یہ دماغی رسولی (برین ٹیومر) کا شافی علاج ہے۔
ناسور کا پھوڑا
ناسور کاپھوڑا نکل آئے توروزانہ صبح دوپہر اور شام بعد غذا ایک ایک ماشہ سُملو باریک پیس کر تازہ پانی کے ساتھ صبح و شام نوش فرمائیں۔ بیس دن میں شفا ہو گی۔
منہ کا سرطان
منہ کے سرطان کے لئے کشتہ سنکھ، ہلدی اور سُملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں اور صبح، دوپہر، شام بعد از غذا ، تین ماہ استعمال کریں۔
منہ کے امراض
سُملو کومنہ کے مختلف امراض میں استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً گلے میں تکلیف ہو تو اس کا چھلکا منہ میں رکھ کر سو جائیے۔ اس کا کڑوا پانی حلق سے اترتا رہتا ہے اور صبح تک تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ منہ میں چھالے ہوں تو ایک چٹکی سُنمبلو پوڈر منہ میں رکھنے سے گھنٹہ بھر میں تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔
دانت کا درد
دانت کا درد دور کرنے اور ہلتے ہوئے دانت قائم رکھنے کے لئے سُملو، جڑ پان اور عناب ہم وزن ملا کر ۲-۲ ماشہ صبح و شام بعد غذا لیں۔
گردن کے مہرے یا پسلیوں کا درد
اگر پسلیوں یا گردن کے مہروں میں درد ہو تو سُملو کا پوڈر، ایک ماشہ رات کونیم گرم دودھ سے لیں۔
بہترین منجن
اگر دانتوں میں درد ہو یا مسوڑھوں سے خون آتا ہو، تو کسی اچھے منجن میں اس کی نصف مقدار کے ہم وزن سُملو ملائیں اور دانتوں پر بطور منجن ملیں، ان شاء اللہ دنوں میں خون رک جائے گا اور دانتوں کا درد بھی کافور ہو گا۔
غدہ درقیہ (تھائیرائڈ گلینڈز) کی سوجن
اگر غدہ درقیہ (تھائرمائڈ گلینڈز) بڑھ جائے تو کشتہ سنکھ، ہلدی ، سُملوپوڈر اور آرسینک پاؤڈر نمبر ۲ ہم وزن لیں اور صبح و شام بعد از غذا زیرو کا کیپسول بھر کر استعمال کریں۔ دو سے تین ماہ میں بڑھا ہوا غدہ معمول پر آ جائے گا۔ بڑھے ہوئے ٹانسلز میں سُملو بوٹی ورم دور کرتی ہے، اس کے چھلکے کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر رات کو سونے سے اس کا رس آہستہ آہستہ ٹانسلز کو ختم کر دیتا ہے۔
پرانے زخم
سُملو کا سفوف روزانہ چھڑکنے سے پرانے سے پرانا زخم ہفتہ بھر میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی دن میں دو بار کھانے کے بعد پانی کے ہمراہ سفوف کی دو تین چٹکیاں لینی چاہییں۔
ذیابیطس (شوگر)
ذیابیطس کے مریض سُملو پوڈر کی دو تین چٹکیاں دن میں دو بار دودھ سے پھانک لیں، تو شکر کی سطح معمول پر آ جاتی ہے۔ ذیابیطس سے نجات پانے کے لئے،سُملو ۳ ماشہ کا ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلےیہ پانی پی لیں۔پھرپیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پیجئے۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگوئیے۔ یہ نسخہ پندرہ، بیس روز استعمال کریں۔
گورکھ پان، برگ نیم، سُملو کی جڑ کا چھلکا، کرنجوا، گڑمار بوٹی، رسونت مصفّیٰ، چاکسو چرائتہ نیپالی اور نرکچور، ہر ایک دس تولہ لیجئے اور سب کو باریک پیس کر ملا کر رکھ لیں اور ۳-۳ ماشہ صبح و شام بعد غذا استعمال کریں۔ یہ دوا ذیابیطس دور کرنے کے علاوہ پیشاب کی بدبو اور زیادتی سے بھی نجات دلاتی ہے۔
یہ نسخہ ایک ماہ استعمال کریں: سُملو، کلونجی، تخم میتھی، کاسنی ہندی ہم وزن لے کر ۵-۵ ماشہ یعنی ۱-۱ چمچ صبح و شام بعد غذا استعمال کریں۔ رات کو خشخاش ایک چمچ دودھ کے ساتھ کھا لیں۔
داغ دھبے اور چھائیاں
نوجوانوں کے چہروں پر اکثر سیاہ چھائیاں اور داغ دھبے پڑ جاتے ہیں یا دانےنکل آتے ہیں۔ اس کے لئے کشتہ سنکھ، سُملو، ہلدی اور آم کے درخت کی چھال چاروں ہم وزن باریک پیس کر چہرے کی کسی اچھی کریم میں ملا لیں اوررات کو چہرے پر لگائیں۔ کریم ان چاروں کے مجموعے کے برابر ہونی چاہیے۔ صبح ڈیٹول، نیم یا گندھک کے صابن سے منہ دھو لیں۔
خارش، داد، پھوڑے
جسم پر خارش، داد چنبل، پھوڑے پھنسی ہوں یا سر پر دانے نکل آئیں، تو سُملو کی جڑ ۵ تولہ باریک پیس کر بیس تولہ سرسوں کے تیل میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔ پندرہ دن میں فائدہ ہو گا۔ مرض پرانا ہو، تو نسخہ ایک تا دو ماہ استعمال کریں۔
گردے بہتر بنائیے
اگر گردے میں رسولی ہو یا ان کی صفائی (ڈائیالیسس) ہو رہی ہو تو، ایک چاول کشتہ سونا، ایک چاول آرسینک نمبر ۲، ایک رتی کشتہ سنکھ، ایک ماشہ سُملو ملا کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھریں اور صبح و شام بعد غذا، عرق منجشٹھا کے ساتھ استعمال کریں۔ اگر ڈائیالیسس روزانہ بھی ہو رہا ہو تو نسخے کے ایک ہفتہ استعمال سے ہر دوسرے روز ہونے لگے گا اور چالیس روز کے استعمال سے ہر پندرہ روز بعد۔
جسمانی درد سے نجات پائیے
درد جسم کے کسی بھی حصے میں ہو، جوڑوں کا درد ہو یا کندھوں کا، ٹانگوں میں ہو یا کولہوں میں، عرق النساء ہو یا سر درد ، مندرجہ ذیل نسخہ استعمال کرنے سے بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ کشتہ سنکھ ۴ تولہ، سُملو ۴ تولہ، کچلہ مدبر ایک تولہ، کشتہ شنگرف ۶ ماشہ، کشتہ بارہ سنگھا ۶ ماشہ، آرسینک پاؤڈر نمبر ۲ ایک تولہ۔
یہ ادویہ باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول میں بھر لیں اور صبح و شام بعد از غذا ایک پاؤ دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ ایک ماہ تک کھانے سے ہر قسم کا درد ختم ہو جائے گا۔
جوڑوں کا درد
جوڑوں کے درد میں سوتے وقت دو تین چٹکیاں سفوف پدودھ سے لے لیں۔ تین چار روز یہ عمل دہرانے سے درد رفع ہو جاتا ہے۔
سُملو کی ٹہنیوں کو جوش دے کر پینے سے پسینہ اور دست آتے ہیں اور جوڑوں کا درد رفع ہو جاتا ہے۔ جوڑوں کے ہر قسم کے درد، گنٹھیا اور بولی تیزاب (یورک ایسڈ) سے نجات پانے کے لئے، سملو ۳ ماشہ کا ایک ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلےیہ پانی پی لیں۔پھرپیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پیجئے۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگوئیے۔ یہ نسخہ پندرہ بیس روز استعمال کریں۔
بانجھ پن دور کیجئے
بانجھ پن اور اٹھرا کے لئے کشتہ سنکھ، ہلدی اور سُملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں اور صبح، دوپہر، شام بعد از غذا ، چھ ماہ تک دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
خون کا زہر (سیرم ٹرائی گلیسرائڈ)
خون میں اگر سیرم ٹرائی گلیسرائیڈزبڑھ جائے تو سنکھ کا کشتہ، سُملو اور ہلدی ہم وزن ملا کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول عرق ذیابیطس چوتھائی پیالی کے ساتھ صبح و شام، بعد غذا، استعمال کریں۔
امساک
سُملو کی گولیاں امساک کے مریضوں کو فائدہ دیتی ہیں۔ ۵ تولہ سملو ایک کلو پانی میں بارہ گھنٹے تک بھگو ئیں، پھر اسے آگ پر چڑھا دیں۔ جب آدھا پانی رہ جائے تو سُملو چھان کر خشک کر لیں اور چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔ رات سوتے وقت دو گولی ہمراہ ڈیڑھ پاؤ دودھ استعمال کریں۔
بلند فشار خون معمول پر لائیے
سُملو بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) میں بھی مفید ہے۔ ایک پاؤ سُملو باریک پیس لیں، اس میں پانچ تولہ تازہ کھجور کی گھٹلی نکال کر ملائیں اور چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔ پہلے ایک ہفتہ صبح، دوپہر اور شام بعد غذا، ایک ایک گولی استعمال کریں۔ دوسرے ہفتے صبح و شام بعد غذا لیں۔ تیسرے ہفتہ صرف شام کو بعد غذا ایک گولی استعمال کریں۔ بفضلہٖ تعالیٰ خون کا دباؤ معمول پر آجائے گا۔
تپ دق اور پرانا بخار
سُملو، کشتہ گئودنتی، ست گلو اور افسنتین دس دس تولہ، اجوائن خراسانی دو تولہ اور نمک خوردنی ایک تولہ، ان سب کو ملا کر باریک پیس لیں اور ایک ایک ماشہ صبح و شام بعد غذا ہمراہ چائے استعمال کریں۔ چند دن میں بخار ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا۔
ٹوٹی ہڈی
اگر کسی انسان کی ہڈی ٹوٹ جائے تو انڈے کی سفیدی میں سُملو پیس کر لگائیں اور اگر ممکن ہو تو کَس کر باندھ بھی دیں۔ انشاٗاللہ بیس دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔
اگر کسی جانور کی ہڈی ٹوٹ جائے تومکئی کے آٹے میں سُملو ملا کر پانی میں آمیزہ تیار کریں اورجانورکی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر لیپ کر دیں۔ اللہ کے فضل سے بیس دن میں ہڈی بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔
ٹوٹی ہوئی ہڈی پر سُملو اور ارجن کا چھلکا ہم وزن باریک پیس کر انڈے کی سفیدی میں ملا کر صبح اور رات لگائیں۔ بیس دن میں ٹوٹی ہوئی ہڈی ٹھیک ہو جائے گی۔
عرق النّساء
عرق النّساء عورتوں کی کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک رگ ہے جو کولہےکی ہڈی سے لے کر پاؤں تک جاتی ہے، جب اس میں شدید درد ہو تو انسان چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ سُملو، چاکسو، سونٹھ اور مرچ سیاہ۵-۵ تولے لے کر ایک کلو شہد میں حل کر دیں اور صبح دوپہر شام ۲-۲ چھوٹے چمچ استعمال کریں۔ پندرہ دن میں عرق النّساء کی تکلیف ختم ہو جائے گی۔
ایک پاؤ سُملو باریک پیس کر چار کلو دودھ میں ملا کر پکائیں۔ جب دو کلو رہ جائے تو اسے برفی کی طرح کاٹ کر صبح و شام بعد غذا ایک ایک ٹکڑا کھائیں۔ دودھ میں حسب ذائقہ چینی شامل کی جا سکتی ہے۔
عرق النّساء، جوڑوں کے ہر قسم کے درد، گنٹھیا اور بولی تیزاب (یورک ایسڈ) سے نجات پانے کے لئے سُملو ۳ ماشہ کا ایک ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلےیہ پانی پی لیں۔ پھرپیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پی لیں۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگودیں۔ یہ نسخہ پندرہ بیس روز استعمال کریں۔
یرقان سے نجات
یرقان (ہیپاٹائٹس) سے نجات پانے کے لئے،سُملو ۳ ماشہ کا ٹکڑا رات کو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں، صبح ناشتہ سے آدھ گھنٹہ پہلےیہ پانی پی لیں۔پھرپیالی میں مزید پانی ڈال دیں۔ اسے نماز عصر کے بعد پیجئے۔ اب بوٹی ضائع کر دیں اور رات کو نئی بوٹی پانی میں بھگوئیے۔ یہ نسخہ مکمل آرام آنے کے بعد بھی چھ ماہ تک مزیداستعمال کریں۔
تلی یا جگر بڑھنا
سُملوکا جوشاندہ تیار کریں اور صبح و شام بعد غذا نوش فرمائیں۔ تلی اور جگر بڑھ جانے میں بیحد مفید ہے۔
پیٹ کے کیڑے: پیٹ کے کیڑے نکالنے کیلئے صبح نہار منہ دو تین چٹکیاں سفوف پانی سے لے لیں۔ تین چار روز یہ عمل دہرانے سے پیٹ کے کیڑوں سے نجات مل جاتی ہے۔
دست اور مروڑ
سُملو کی جڑ کی چھال اور سونٹھ ہموزن پیس کر دن میں تین بار لینے سے دست بند ہو جاتے ہیں۔
تحریر و تحقیق اخلاق خان کاکڑ

Wednesday, July 11, 2018

کراچی شہر میں علاقوں کے عجیب و غریب اور ہنسانے والے نام


آپ جس علاقے یا جس شہر گاوں یا قصبے میں رہتے ہوں گے، وہاں کا کوئی نہ کوئی نام ضرور ہوگا، اور ہوسکتا ہے وہ نام انتہائی دلچسپ وجہ تسمیہ بھی رکھتا ہو۔ہندوپاک میں اکثر جگہوں کے نام بہت ہی عجیب و غریب اور کسی بھی زبان و بیان کے ادب سے ماورا ، حیرت انگیز اور ہوش اڑا دینے والے بھی ہیں
کراچی کی گلیاں اور چوبارے: دلچسپ نام، منفرد وجہ شہرت
پاکستان کا ساحلی شہر کراچی اپنے آپ میں بہت سی دلچسپیاں رکھتا ہے۔ ان میں سے کچھ بہت انوکھی تو کچھ عجیب و غریب ہیں۔ مثلاً یہاں کے علاقوں، گلیوں، محلوں اور چوباروں یعنی چوراہوں کے نام ہی دیکھ لیجئے ۔ بعض نام بڑے منفرد تو بعض بہت عجیب و غریب ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا صحیح صحیح جواب دینا تو شاید کسی کے بس میں نہیں البتہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ نام خود ہی پڑتے چلے گئے۔ ان ناموں کو پڑھیے، ذرا سا غور کیجئے تو آپ خود بھی اندازہ لگالیں گے کہ ایسے دلچسپ اور انوکھے نام رکھنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔
حدود شہر میں۔۔ دیہات ، قصبے اور ٹاوٴن
کہنے کو تو کراچی سب سے بڑاشہر ہے مگر اس شہر میں قصبے بھی ہیں اورٹاوٴن بھی۔ مثلاًقصبہ کالونی، قصبہ موڑ، اورنگی ٹاوٴن، بلدیہ ٹاوٴن، گڈاپ ٹاوٴن، سرجانی ٹاوٴن، پتھر ٹاوٴن، گولڈن ٹاوٴن، گرین ٹاوٴن اور بھنگوریہ ٹاوٴن!!!
پھرسندھی زبان میں ’گوٹھ‘ کے معنی گاوٴں یا دیہات ہیں اور بظاہر شہر اور دیہات ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں مگر کراچی 'شہر' ہونے کے باوجود کئی گوٹھوں کا مالک ہے۔ مثلاًسہراب گوٹھ، صفورہ گوٹھ، پہلوان گوٹھ، انگارہ گوٹھ، جمعہ گوٹھ، ناتھا خان گوٹھ، بلوچ گوٹھ، یوسف گوٹھ، فقرا گوٹھ، میمن گوٹھ، عبداللہ گوٹھ، ملاعیسی گوٹھ، ریہڑی گوٹھ، صالحہ محمد گوٹھ، ابراہیم حیدری گوٹھ اورچنیسر گوٹھ۔
کچھ نام او ر بھی زیادہ دلچسپ ہیں مثلاً 'گولی مار'۔۔ لالو کھیت۔۔۔ حالانکہ اب یہاں نہ لالو رہتا ہے اور نہ کھیت ہی موجود ہے۔
 ایک جگہ کا نام سوکوارٹر۔۔ آدھی اردو آدھی انگریزی۔۔ اسی طرح ڈولی کھاتہ، گاڑی کھاتہ، چھوٹا میدان، بڑا میدان، منوڑہ، جٹ لین، ب زرٹہ لین، لیاری، کورنگی، لانڈھی، کیماڑی، کمہارواڑہ، چاکی واڑہ، لسبیلہ، نمائش، پرانی نمائش۔۔ سب کے سب ایسے نام ہیں جو آپ کو کسی اور ملک یا شہر میں سنائی نہیں دیں گے۔
یہ گلیاں یہ چوبارہ۔۔۔
ناظرین: یہ اعزاز بھی شہر قائد ہی کوحاصل ہے کہ یہاں کی گلیاں اور محلے بھی منفرد ناموں کے حامل ہیں، مثلاًبوتل گلی، صرافہ گلی، موچی گلی، دوپٹہ گلی، قوال گلی اور۔۔ فنکار گلی!!
چوراہے کی بات کریں تو سب سے پہلے یہ جان لیجئے کہ عام طور پر جس مقام پر چار راستے (یاراہیں) ایک جگہ آکر ملتے ہیں اسے ’چوراہا ‘کہا جاتا ہے مگر جانے کیوں کراچی میں ہر چوراہے کو ’چورنگی‘ کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے معنی ’چار رنگ‘ ہونے چاہئیں لیکن باوجود اس کے شہر کا ہر چھوٹا بڑا چوراہا ’ چورنگی‘ کہلاتا ہے۔ ان ’چورنگیوں‘ کے بھی کچھ دلچسپ نام سن لیجئے جو ہوسکتا ہے آپ کو عجیب بھی لگیں مثلا، ناگن چورنگی، نورس چورنگی، چمڑا چورنگی، ہینو چورنگی، غنی چورنگی اور ناظم آباد چورنگی!! دو ایک سادے سے نام والے چوراہے بھی ہیں مثلاً پاکستان چوک، بہادرآباد چورنگی اور حسن اسکوائر۔
عجیب و غریب' موڑ'
دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ’موڑ‘ یا ٹرننگ نہ آتی ہومگر کراچی میں ایک دو نہیں متعدد موڑ ایسے ہیں جن کے باقاعدہ نام ' رجسٹرڈ' ہیں مثلاً موچی موڑ، انڈا موڑ اور ڈی کا موڑ!!!
آپ نے رنگ برنگی ڈھیروں چیزوں کے نام سنے ہوں گے ۔۔ مگر کیا کبھی رنگ برنگے اسکولوں کے نام بھی سنے ہیں؟ نہیں ناں؟ مگر کراچی ایسا شہر ہے جہاں آپ کو رنگ برنگی بسیں، منی بسیں اور ٹرک کے ساتھ ساتھ اسکول بھی رنگ برنگے دیکھنے کو ملیں گے۔ مثلاً پیلا اسکول، لال اسکول، سفید اسکول۔ ایک اور اسکول بھی ہے مگر وہ 'بے رنگ' ہے ۔ جی ہاں آپ میں سے کچھ لوگوں نے صحیح پہچانا ۔ وہ ہے' کھڈا اسکول'۔ یہاں تو ہوٹل بھی آپ کو عجیب و غریب ملیں گے مثلاً کاموکا ہوٹل، اپنا ہوٹل، اچانک ہوٹل اور دھماکا ہوٹل۔ پھر اس شہر میں 'فرنچائز' ہوٹلز کی بھی کوئی کمی نہیں مثلاًسندھی ہوٹل ۔ جو نئی کراچی میں بھی ہے اور لیاقت آباد میں بھی۔
بھول جایئے ہوٹلوں اور اسکولوں کو۔۔ کراچی میں تو مارکیٹس کے بھی ایک سے بڑھ کر ایک نام ہیں؛ مثلاً کالی مارکیٹ، لال مارکیٹ، گھانس منڈی، پان منڈی، جیکسن مارکیٹ، کباڑی بازار، کھڈا مارکیٹ، شومارکیٹ ، کاغذی بازار، کپڑا مارکیٹ، جامع کلاتھ، سولجر بازار اورباڑہ مارکیٹ!! باڑہ مارکیٹ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والا نام ہے۔ حیدری، نیوکراچی اور دیگر علاقوں میں نئی نئی باڑہ مارکیٹس بن گئی ہیں ۔ باڑہ مارکیٹ سے مراد ایسی مارکیٹ لی جاتی ہے جہاں نسبتاً کم داموں میں چیزیں ملتی ہوں۔ جبکہ باڑہ کے معنی چار دیواری کے ہیں۔ جہاں بھینس رکھی جاتی ہوں اور ان کادودھ فروخت ہوتا ہو وہ مقام بھی باڑہ کہلاتا ہے ۔ اب اندازہ لگایئے کہ نام باڑہ اور چیزیں عام استعمال کی۔ مثلاً الیکڑونک و کپڑا مارکیٹ کے بھی اب باڑے ہونے لگے۔
اسی طرح’ اردو بازار‘ پر غور کیجئے ۔ اردوزبان کا بازار سے کوئی گہرا تعلق نہیں مثلاً عام آدمی یہ سوچ کر ہی پریشان ہوجائے گا کہ اردوزبان کا بھی کوئی بازار ہوسکتا ہے یا اردو زبان بازار میں مل سکتی ہے۔ مگر کراچی میں ایک جگہ نہیں تین جگہ اردو بازارکھلے ہوئے ہیں اور ان سے مراد کتابوں اور اسٹیشنری کی تھوک مارکیٹ ہے۔
ناظرین: آرام سے مراد ریسٹ یا سکون کے ہیں اور آرام باغ کا نام سننے سے ذہن میں یہ آتا ہے کہ شاید یہ ایک ایسا باغ ہے جہاں انسان سکون کے چند لمحے گذار سکے۔ ۔ مگر جناب کراچی میں آرام باغ فرنیچر مارکیٹ کا نام ہے۔ بکرا منڈی، عیدلاضحی کے موقع پر لگتی ہے۔ مگر یہاں فروخت کے لیے زیادہ تر گائیں لائی جاتی ہیں۔ 'سولجر' دنیا میں کہیں فروخت نہیں ہوتے مگر کراچی میں سولجر بازار بھی ہے۔
نمبر گیمز
کراچی کے مقامات اور نمبر ز ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہاں متعدد علاقوں کے نام نمبروں سے مربوط ہیں۔ مثلاً کورنگی ڈھائی نمبر، نیو کراچی پانچ نمبر، لانڈھی نمبر چھ، نیوکراچی چھ نمبر، لالوکھیت دس نمبر، فانیو اسٹار چورنگی، لانڈھی ساڑھے تین، پانچ، تین ایک، کورنگی کراسنگ، ناظم آباد ایک نمبر، دو، چار اور سات نمبر۔ اورنگی تیرہ، چودہ نمبر اور دومنٹ چورنگی۔اسی طرح مانسہرہ والوں کی 89 چورنگی۔
کراچی والوں کی پاور ہاوٴس اور واٹر پمپس سے جانے کیا مناسبت ہے کہ دو سے زائد پاور ہاوٴس اوراتنے ہی واٹر پمپس ہیں۔ پھر پٹرول پمپس کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ناظم آباد پیٹرول پمپ کے نام کی بھی جگہ بناڈالی۔ 'پاڑے' بھی کیوں بیگانے رہتے۔ لہذا بھنگی پاڑہ، لاسی پاڑہ، بنگالی پاڑہ اور پٹیل پاڑہ بھی موجود ہے۔ ' گجرنالہ' اور چڑھائی' نام کی بھی جگہیں موجود ہیں۔
انوکھے اسٹاپس
شہر قائد کی ایک روایت اور بڑی عجیب ہے مثلاً یہاں جس علاقے کا نام نہ ہو وہاں جو بھی بس یا منی بس کا آخری اسٹاپ ہو اس کے نام سے اس جگہ کو منسوب کردیا جاتا ہے۔ مثلاًسیون سی کا اسٹاپ، ساٹھ کا اسٹاپ، ڈبلیوگیارہ کا آخری اسٹاپ، فور ایچ کا آخری اسٹاپ وغیرہ وغیرہ ۔ جبکہ کچھ اسٹاپس اس کے علاوہ بھی ہیں مثلاً نیو کراچی میں واقع کریلا اسٹاپ! نالہ اسٹاپ۔
کالونیاں
آپ نے شاید دنیا کے کسی اورشہر میں جانوروں کی اتنی عزت و توقیر نہ دیکھی ہو جتنی آپ کو کراچی میں دیکھنے کو ملے گی۔ یہاں رہتے انسان ہیں مگر کالونیاں جانوروں کے نام سے منسوب ہیں۔ مثلاً گیڈر کالونی، مچھر کالونی، بھینس کالونی۔ کچھ اور کالونیاں بھی ہیں۔ مثلاً گودھرا کالونی، دھوراجی کالونی، موسیٰ کالونی۔ کچھ کالونیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں مثلاً خاموش کالونی اور عامل کالونی ۔
بھارتی ناموں کی ہجرت
معزز ناظرین: ان ناموں کی کوئی تحریری تاریخ نہیں، کوئی روایت بھی زندہ نہیں مگر پھر بھی عشروں سے انہی ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ چونکہ کراچی 1947ء کی تقسیم کے وقت ہندوستان سے پاکستان آنے والوں کی اکثریت کا شہر ہے لہذا کچھ نام انہی کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان چلے آئے ہیں، مثلاً بنارس کالونی، علی گڑھ کالونی۔ کچھ بھارتی/ہندوانہ طرز کے نام بھی ہیں جیسے رتن تلاوٴ، رنچھوڑ لائن، گورو مندر، رام سوامی، نانک واڑہ، گاندھی گارڈن ، پٹیل پاڑہ، دہلی کالونی، نارائن پورا، بھیم پورا، ممبئی بازار، دریا آباد، بہار کالونی، یو پی اور یوپی موڑ وغیرہ۔
انگریزی سے کیا گلہ
ہم نے جہاں آپ کو مقامی زبان میں اتنے سارے نام بتائے وہاں انگریزی کو کیوں ناراض کریں ۔ جی ہاں ! شہر قائد کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جوخالصتاً انگریزی نام رکھتے ہیں۔ مثلاً نیپئر روڈ، بولٹن مارکیٹ، ایمپریس مارکیٹ، پریڈی اسٹریٹ، جیکب لائن، سول لائنز، کاسموپولیٹن سوسائٹی، کلفٹن، ڈیفنس، باتھ آئی لینڈ، سی ویو، میری ویدر، لیبر اسکوائر، ویسٹ وہارف، ایسٹ وہارف، گارڈن ایسٹ، گارڈن ویسٹ۔
ان منفرد ناموں کی پہچان اس قدر عام ہے کہ لوگ معمول کے نام والی شاہراہوں اور علاقوں کو بھول سے گئے ہیں۔ مثلاً ہم کچھ شاہراوٴں کے نام آپ کو بتاتے ہیں۔ ذرا ذہن پر زور ڈالیے کہ یہ کہاں واقع ہیں۔ کوئنز روڈ، مولوی تمیز الدین خا ن روڈ یا ایم ٹی خان روڈ، ہرچند رائے روڈ، سرور شہید روڈ، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ، میر کرم علی تالپور روڈاور صہبا اختر روڈ۔۔۔!!!


Sura Yaseen Men Chupa Khazana | Quran ka Asal Wazifa | Bill Gates Money

سورہ یٰس کا ایسا وظیفہ جو آپ کو اتنی دولت دے جو کسی کافر کو نہ ملی ہو اور کبھی ختم نہ ہو۔ بل گٹس بھی حسرت سے آپ کو دیکھتا ہی رہ جائے گا۔