Search This Blog

Tuesday, November 20, 2018

ذہین افراد کی چودہ نشانیاں

کیا آپ غیر معمولی ذہانت کے حامل ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں ہر کوئی خاص طور پرنوجوان نسل بہت متجسس رہتی ہے۔
عموما مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جو افراد ذہین یا حد سے زیادہ ذہین ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں ان کی علمی صلاحیت اس پیمانے پر پورا نہیں اترتی، کیونکہ ذہین اور عملی طور پر تیز ہونا 2 علیحدہ خصوصیات ہیں، ضروری نہیں کہ جو لوگ عملی زندگی میں نہایت کامیاب ہوں، وہ ذہین بھی ہوں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غیر معمولی دماغی صلاحیتوں کے حامل افراد عملی زندگی میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں،اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا وجدان عام افراد سے مختلف ہوتا ہے اور اپنے طے کردہ اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔
لیکن ہم آپ کو اس ویڈیو کے ذریعے ذہین افراد کی ایسی عام نشانیاں بتائیں گے، جن سے یہ پتہ لگانا ممکن بن جاتا ہے کہ کون ذہین ہے اور کون نہیں، یہ یاد رہے کہ یہ نشانیاں مختلف سائنسی رسائل میں شائع ان تحقیقاتی رپورٹس میں بتائی گئیں، جو ماہرین نے کئی سال تک دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر تحقیق کے بعد تیار کیں۔
کئی سال کی تحقیقات کا نچوڑ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص مندرجہ ذیل 14 یا ان میں سے زیادہ تر عادات کا  مالک ہے تو بلاشبہ اس کا شمار ذہین یا غیر معمولی ذہین افراد میں کیا جائیگا۔
1۔یکسانیت
ان خصوصیات میں صف اول پر انسانی ذہن کا ارتکاز ہے، اگر کوئی شخص سالہا سال یا لمبے عرصے تک اپنی توجہ ایک ہی کام پر مبذول رکھ کراس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لے تو بلاشبہ وہ غیر معمولی ذہنی صلاحیتیوں کا حامل ہے، ایسے افراد ثانوی باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی توجہ جزیات پر رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اپنا مقصد یا منزل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
2۔کم سونا
دوسرے نمبر پر انسان کے سونے اور جاگنے کا معمول ہے، عمو ما مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جو بچے زیادہ ذہین ہوں، وہ دوسرے بچوں کی نسبت نہ صرف کم سوتے ہیں، بلکہ ان کے سونے جاگنے کے اوقات بھی ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ جان بوجھ کر کم سونا شروع کردیں ، اگر ایسا کریں گے تو آپ کی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ کم سونا ذہین افراد کی نشانی تو ہے لیکن ذہین بننے کی دوا یا کشتہ  نہیں ہے۔

3۔اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنا
تیسری خصوصیت کا تعلق انسانی رویے سے ہے، غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے حامل افراد سخت مزاج نہیں ہوتے، وہ لچک دار رویے کے ساتھ خود کو بہت جلد نئے ماحول میں ڈھال لینے اور نئے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کے عادی ہوتے ہیں۔
اگرچہ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے کے باعث عموما ذہین افراد کو مغرور سمجھا جاتا ہے، مگر در حقیقت وہ نرم دل اور معاون فطرت رکھتے ہیں، ہزاروں افراد پر نفسیاتی تحقیق کا نچوڑ بتاتا ہے کہ وہ افراد جو اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کرکے نہ صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں بلکہ اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ماحول، دوستوں اور عزیز و اقرباء میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے سر گرم رہتے ہیں وہ بلاشبہ غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں۔
4۔کم علمی کو ظاہر کرنا
وہ افراد جو کسی بھی واقع یا چیز کے متعلق اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے مخالف پر چڑھ دوڑنے کے بجائے اپنی کم علمی کھلے دل سے تسلیم کر تے ہوئے اپنی معلومات بڑھانے کے لیے سر گرم ہوجائیں، ذہین اور با عمل افراد میں شمار کیے جاتے ہیں، ایسے افراد میں نہ تو احساس کمتری جنم لیتی ہے نہ ہی لا علمی یا ناکامی کا خوف ان کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے، لہذا وہ عملی زندگی میں بہت کامیاب ثابت ہوتے ہیں،اس حوالے سے عام لوگوں میں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر معمولی ذہین وہ ہیں جو ہر شے کے بارے میں مکمل اور درست معلومات رکھتا ہو۔جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ذہین وہ ہے جو یہ جانتا ہے کہ اسے کس چیز کے بارے میں علم ہے اور کس سے ناواقف ہے اور اس کا اعتراف کرنے میں بلکل نہیں ہچکچاتا کہ بہت سی علوم وفنون میں وہ ہنوز کورا ہے۔
5۔متجسس ہونا
سائنسی حلقوں میں مشہور ماہر طبیعات ' البرٹ آئن سٹائن' کی غیر معمولی ذہانت ہمیشہ سے موضوع بحث رہی ہے، اور اس کے بارے میں طرح طرح کے نظریات پیش کیے جاتے ہیں، مگرخود آئن سٹائن کا کہنا تھا کہ میں قطعا غیر معمولی ذہین نہیں ہوں، مگر میں حد سے زیادہ متجسس ضرو ر ہوں ۔یعنی تجسس بھی ذہانت کی ایک واضح علامت ہے،ایک تحقیق کے مطابق بچپن کی ذہانت اور تجربات کے ساتھ زندگی بتدریج بڑھتی جاتی ہے، مگراس بڑھوتری کی رفتار ان افراد میں تیز ترین دیکھی گئی جو لوگوں، چیزوں اور رویوں سے متعلق زیادہ تجسس کا مظاہرہ کرتےہیں، وہ درسی کتابوں میں لکھے کو حرف آخر سمجھ کر رٹا مارنے کے بجائے اس کی تہہ میں پہنچ کر نئی چیزیں دریافت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
6۔کھلے ذہن کا مالک ہونا
غیر معمولی ذہین ہونے کی ایک اور علامت کھلے ذہن کا مالک ہونا بھی ہے،اگرچہ پاکستان میں 'اوپن مائنڈڈ' کو کافی حد تک غلط معنوں میں لیا جاتا ہے، یہاں سائنسی نظریات کو بھی اعتقادات، تعصب اور ذاتی پسند ناپسند کی کسوٹی پرپرکھ کر نیوٹرل افراد کو شدید لعن طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مگر درحقیقت زندگی کے ہر شعبے میں کھلی ذہنیت کا مظاہرہ کرنے والے افراد ہی ذہین شمار کیے جاتے ہیں،ایسے افراد نہ صرف نئے تصورات میں حد سے زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اپنے پرانے فرسودہ خیالات کو تبدیل کرکے دوسروں کے صحیح آئیڈیاز کو قبول کرنے میں بلکل نہیں ہچکچاتے، نفسیات دان بھی اس رائے سے متفق ہیں کہ اسمارٹ لوگ لاجک پر مبنی زمینی حقائق کو با آسانی تسلیم کرکے ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
7۔تنہائی پسند
ایک برطانوی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی نفسیاتی تحقیق کے مطابق غیر معمولی ذہین افراد زیادہ لوگوں میں گھرے رہنے کے بجائے تنہا رہنا پسند کرتے ہیں،ایسا نہیں کہ وہ بلکل ہی آدم بیزار ہوں اور دوست واحباب سے کٹ کر جینا پسند کرتے ہیں۔
نارمل افراد کی طرح ان کی بھی سوشل لائف، دوستوں کا وسیع حلقہ ہوتا ہے، مگر اکثر اوقات وہ تقریبات میں شرکت سے صرف اس لیے گریز کرتے ہیں کہ ان کا موڈ نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر معمولی ذہانت کے حامل افراد حد درجے کے موڈی ہوتے ہیں۔
8۔خود پر قابو رکھنا
اسمارٹ لوگوں کی ایک اور بڑی خصوصیت جو انھیں دیگر افراد سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کا 'سیلف کنٹرول' ہے، چاہے کام کے شدید دباؤ کے باعث تھکن ہو یا کسی کی جانب سے ان کے کام میں مداخلت و مزاحمت کی گئی ہو، وہ ہر طرح کی صورتحال میں خود پر پوری طرح قابو رکھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بسا اوقات عام افراد جن باتوں پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں یا پھر صورتحال سے فرار کا راستہ ڈھونڈتے ہیں،غیر معمولی ذہین افراد پوری یکسوئی اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔
برطانوی جریدے میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق سیلف کنٹرول اور ذہانت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، انسانی دماغ کا ایک مخصوص حصہ جسے 'پری فرنٹل کورٹیکس' کہا جاتا ہے،ان عوامل کو کنٹرول کرتا ہے جس سے انسان اپنی ترجیہات وحدود اور زندگی گزارنے کے اصول متعین کرتا ہے، اور ذہین افراد کسی بھی صورت ان پر سمجھوتا نہیں کرتے۔
9۔حِس مزاح
انسانی زندگی اور تفریح کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے،سائنسدان اس امر پر متفق ہیں کہ اگر زندگی سے مزاح یا تفریح نکال دی جائے تو پھر انسان اور روبوٹ میں کوئی فرق نہیں رہے گا، غیر معمولی ذہین افراد جہاں اور بہت سی باتوں میں دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں، وہیں ان کی تیز اور بر جستہ حس مزاح بھی انھیں عام افراد سے ممتاز کرتی ہے، لیکن یہ مزاح کبھی بھی حد سے بڑھ کر نہیں ہوتا، نہ ہی کسی کی دل آزاری کا سبب  بنتا ہے۔ اس حوالے سے متعدد معروف کامیڈینز پر تحقیق کی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ تیز حس مزاح کے پیچھے دراصل ان کی غیر معمولی ذہانت کار فرما تھی۔
10۔دوسروں کا خیال رکھنا
وہ لوگ جو روز مرہ کے معمولات میں اپنے پیاروں اور دوست و احباب کے علاوہ عام افراد کے جذبات و احساسات کا بھی بھرپور خیال رکھتے ہوئے یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دوسروں کے لیے کارآمد ثابت ہو سکیں، اور کسی کی معمولی سی بھی دل آزاری کا سبب نہ بنیں،انسانی جذبات کو صحیح کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ایسے افراد 'ایموشنلی انٹیلی جنٹ ' کہلاتے ہیں، یہ لوگ نئے جگہوں پر جانا اور نئے لوگوں میں گھلنا ملنا پسند کرتے ہیں، اور سیاحت و نفسیات کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
11۔چیزوں کو مختلف زاویے سے دیکھنا
غیر معمولی ذہین افراد کی ایک اور بڑی خوبی ان کا گہرا اور سب سے مختلف وجدان یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو دیکھنے اور ایسے قدرتی مظاہر کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو عام افراد کی نظروں سے یکسر پوشیدہ ہوں،وہ عموما نئے اور اچھوتے تصورات میں دماغ کھپانا پسند کرتے ہیں، معروف صحافی چارلس ڈوہگ کی ڈزنی فلمز پر تحقیق کے مطابق 'فروزن' سمیت جن موویز نے ریکارڈ توڑ مقبولیت حاصل کی وہ ایسے ذہین افراد کی تخلیق ہیں جو پرانے آئیڈیاز کو نئے انداز میں پیش کرنے کا ہنر جانتے تھے۔
12۔کاموں میں التوا کرنا
اگرچہ اس حوالے سے متعدد افراد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، مگر بہت سی تحقیقات کا نچوڑ یہ بتاتا ہے کہ ایسے افراد جو کاموں کو التوا میں ڈال دیتے ہیں وہ غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں،البتہ جو لوگ اپنی فطری کاہلی یا سستی کے باعث آج کا کام کل پر چھوڑ تے ہیں وہ ایسے لوگوں میں شمار نہیں کیے جاسکتے، جنہیں ذہین مانا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین کے کچھ لوگ اپنے کاموں کو اس امید پر ملتوی کرتے رہتے ہیں کہ شاید کل صبح تک یا 2 چار دن تک کوئی نیا آئیڈیا ذہن میں آئے اور مذکورہ کام کو زیادہ اچھے طریقے سے پای تکمیل تک پہنچایا جاسکے، یقینا ایسے افراد کا شمار غیر معمولی ذہانت رکھنے والے افراد میں کیا جاتا ہے، اور تحقیق سے مشاہدہ کیا گیا کہ ان کا التوا کبھی بھی ضائع نہیں جاتا، ان کی'مائنڈ فیکٹری ' کوئی نہ کوئی نیا اچھوتا آئیڈیا ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔
13۔کائنات کے راز جاننے کے لیے فکرمند رہنا
آخری نمبر پر ایک ایسی خصوصیت رکھی گئی ہے جس کو پڑھ کر یقینا بہت سے افراد حیرت زد رہ جائیں گے، جی ہاں، ایسے لوگ جو علم فلکیات، کونیات یا کائنات کے بارے میں حد سے زیادہ متجسس ہوں اور ان کی حقیقت کو جاننے کے لیے مستقل سرگرداں رہیں،بلاشبہ غیر معمولی ذہین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔
درحقیقت یہ ان کا حد سے بڑھا ہوا تجسس اور دوسروں سے مختلف وجدان ہوتا ہے، جو انہیں نہ صرف اپنے ماحول، کائنات اور قدرتی عوامل کی معلومات پر اکساتا ہے، بلکہ وہ اپنے تجسس کی تسکین کے لیے کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے،بلاشبہ علم فلکیات ایسے ہی غیرمعمولی ذہین افراد کا انسانیت کے نام ایک تحفہ ہے۔
14۔اپنے آپ سے باتیں کرنا
ایک تحقیق کے مطابق اپنے آپ سے باتیں کرنا فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے کسی کو بحث میں قائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں ان کا دماغ زیادہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے اور سیکھنے اور مقاصد کے حصول میں مدد دیتا ہے۔


Wednesday, November 7, 2018

چند دجالی فتنےجن کی لپیٹ میں ہم آچکے ہیں۔



ناظرین موجودہ دور دجالیت کے عروج کا دور ہے، اور یہ دجالیت کا دور ہمیں بڑی خاموشی سے دجال اکبر کے دور کی طرف تیار کرکے لے جارہا ہے۔دجالی فتنے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو شمار کرنا مشکل ہے، اس لیے بجائے ان کو تلاش کرنے کے اپنی حفاظت پر توجہ دینا زیادہ آسان کام ہے۔ البتہ آج کی اس ویڈیو میں پانچ بڑے دجالی فتنوں کے بارے آپ کو گائیڈنس دی جائے گی۔
اور وہ پانچ دجالی فتنے ہیں: 
1۔ کالا جادو        2۔ ایم کے الٹرا      3۔ مائیکرو چپس    4۔ شارٹ ویژن 5۔ بیک ٹریکنگ
اب ذرا ان پانچ چیزوں کے بارے تھوڑی سی جانکاری لیتے ہیں کہ یہ کیسے دجالی فتنے ہیں، اور کیسے ان کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے دجالی پوری دنیا کے انسانوں پر نہ صرف اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ انہیں اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کرتے ہیں۔
1۔ کالا جادو : یہودی اس میں سب سے ماہر ہیں۔ جس کا ظاہر و باطن جتنا پلید اور گندہ ہو گا اتنا وہ ماہر جادو گر ہوگا۔ اور سب سے بڑی گندگی توہین ہے۔ یعنی  اللہ کی توہین، انبیاء کی توہین، امہات المومنین کی اور صحابیات و صحابہ کی توہین۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اکثر ایسی حرکات کرتے رہتے ہیںَ
یہ کالا جادو دنیا بھر میں نشر (broadcast) ہوتا یعنی پھیلایا جاتا ہے اور جہاں جہاں اس کے وصول کنندہ ہوتے ہیں وہاں سے مزید آگے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے موبائل کی سم  اور ٹاور کام کرتا ہے۔
بالکل ایسے ہی کالے جادو کے وصول کنندہ خاص نشانات ہوتے ہیں مثلا” والٹ ڈزنی کے کارٹون فگرز، بچوں کے لئے ہیری پوٹر، مکی ماؤس، سپر مین، بیٹ مین، سپائیڈر مین وغیرہ۔ اسی طرح  بچیوں کے لئے باربی، سنڈریلا، ایلسا (فروزن) وغیرہ۔
اس کے علاوہ کچھ نشانات جیسے تکونیں، ایک آنکھ، ایکس X کا نشان، پائرامیڈ، اور کچھ ہندسے مثلا” 666، 322 وغیرہ
ناظرین حیرت انگیز طور پر جہاں جہاں ان کی تصاویر ہوں گے وہاں وہاں کالے جادو کے اثرات ہوں گے۔ والدین اور بڑوں کی نافرمانی، غصہ، تشدد، عدم برداشت، ٹینشن، خود پسندی اور "میں” آئے گی۔
2۔ناظرین دوسری چیز ایم کے الٹر ہے:
یہ انگریزی میں MK Ultra کہلاتا ہے یعنی ایم سے مائنڈ، کے  سے کنٹرول اور الٹرا۔
 امریکی اور دیگر ممالک کی سیکرٹ ایجنسیوں نے دنیا کی بڑی یورنیورسٹیز کے سائنسدانوں، ماہرینِ نفسیات اور ڈاکٹرز سے مل کر انسانی دماغ کو قابو کرنے کے طریقے ایجاد کئے تھے۔ یہ کئی طرح کی سائیکلوجیکل ٹیکنیکس سے مل کر بنے ہوتے ہیں۔ اس کا شکار شخص اپنے قابو میں نہیں ہوتا۔ بلکہ ایک روبوٹ کی طرح کام کرتا ہے اور دور بیٹھے لوگ ریموٹ سے اسے استعمال کرتے ہیں۔
کالا جادو اور ایم کے الٹرا کی مشترکہ مثال بھی ملاحظہ فرمائیں کہ کئی سال قبل  سعودی عرب کے سب سے دلیر بادشاہ شاہ فیصل شہید کا قاتل ان کا اپنا بھتیجا تھا۔ یہ بیرون ملک پڑھنے گیا اور ایک دجال یا شیطان کی پیروکار لڑکی کے جال میں پھنس گیا۔ اس نے اپنے حسن اور جھوٹی محبت کے علاوہ یہ دونوں طریقے اس پر چلائے اور شرط رکھی کہ اپنے چچا کو قتل کرنا ہو گا۔ چنانچہ شاہ فیصل کے بھتیجے نے کنگ شاہ فیصل کو قتل کردیا ۔ یا درہے بھتیجا قتل کے وقت مدہوشی کی سی کیفیت میں تھا۔
3۔ناظرین تیسری چیز  مائیکرو چپس ہیں:
 انسانوں یا چیزوں میں نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی چھوٹی چپس لگا دی جاتی ہیں جن کا علم نہیں ہونے دیا جاتا۔ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں ، خاص طور پر مسلمان ممالک کے اہم رہنماوں  کے جسم میں غیر محسوس طریقے سے یعنی کسی  آپریشن کے دوران جسم کے اندر کہیں ی چھوٹی چھوٹی چپس لگا دی جاتی ہیں۔ یہ چپس ہائی فریکوئنسی مائکرو بیمز خارج کرتی ہیں اور اپنے کیرئیر پر سگنلز کے ذریعے آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتی ہیں بالآخر خودکشی، مارکیٹ میں فائرنگ اور کسی بھی قسم کے کام کروا سکتی ہیں۔ اس میں مصنوعی دماغی سگنلز اور مصنوعی یاداشت۔ مثلا” EDOM (Electronic Dissolution of Memory) جس میں انسان کی یاداشت کو دور فاصلے سے ہی کنٹرول یا ختم کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ انہیں چپس کے ذریعے حکمرانوں کے دماغ کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔
4۔ ناظرین چوتھی چیز شارٹ ویژن ہے:
شارٹ ویژن  کئی قسم کی سکرینز خصوصا” ٹیلی ویژن اور سمارٹ فون کے ذریعے دیکھی جانے والی ویڈیوز میں یہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک عام ویڈیو میں فی سیکنڈ 45 ساکن فریمز یا تصاویر ہوتی ہیں۔ ان میں سے صرف ایک فریم میں اپنے مطلب کی چیزڈال کر  بار بار دکھا کر انسانی لاشعور سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ تصاویر کیوں کہ انتہائی تیزی سے گزر جاتی ہیں لہذا آنکھ سے دیکھ کر سمجھ نہیں آ پاتی لیکن لاشعور میں ان کے عکس اچھی طرح پہنچتے ہیں اور سیو ہو جاتے ہیں۔ اشتہارات حتی کہ انتخابات کے حوالے سے بھی کامیاب تجربات ہو چکے ہیں۔ عوام اور خصوصا” بچوں کو فاسٹ فوڈ کا "نشہ” بھی اس کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔
مختلف کمپنیاں اپنی ایڈورٹائزنگ میں اسی تکنیک کو اختیار کرتی ہیں۔ مثلا پیپسی پورے ملک میں اتنی چاکنگ کرتی ہے کہ آپ مشرق مغرب شمال جنوب حتی کہ اوپر کی طرف بھی دیکھتے ہیں تو دین میں سینکڑوں مرتبہ پیپسی کا لوگو، کلر اور نام آپ کی آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔
اسی طرح دنیا بھر کے معروف نیوز چینلز کے لوگو،پرومو، وغیرہ میں اس قسم کی چیزیں بار بار دکھائی جاتی ہیں۔ جیونیوز اور دیگر چینل ایک آنکھ مختلف اینگل سے بڑی تیزی کے ساتھ بار بار دکھاتے رہتے ہیں۔
5۔ناظرین پانچویں چیز  بیک ٹریکنگ ہے:
 موسیقی کو قرآن پاک اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کی آواز قرار دیا ہے۔شاید آج سے پندرہ سو سال قبل یہ بات سمجھنا مشکل ہو کہ یہ شیطانی آواز کیسے ہے لیکن اب یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ ایلومیناتی کے لوگ موسیقی کی دھنوں میں شیطانی پیغام فیڈ کرکے مشہور گیت بناتے ہیں۔
 دماغ کو کنٹرول کرنے کی اس ٹیکنیک میں موسیقی کے اندر مزید شیطانی پیغامات اور آوازیں ملا دی جاتی ہیں۔ عام طور پر یہ اس طرح کے جملے ہوتے ہیں: "میں شیطان سے محبت کرتا ہوں”، "مجھے اپنے ماں باپ سے نفرت ہے”، "میں devil ہوں” یا "Devil میرا یار” وغیرہ۔ یہ پیغامات کیوں کہ خاص سنائی نہ دینے والی فریکوئنسی میں ہوتے ہیں، یابڑی تیزی سے بولے جاتے ہیں، یا دھنو کی شکل میں ہوتے ہیں ،  لہذا کان تو نہیں سُن پاتے لیکن لاشعور میں اچھی طرح پہنچتے ہیں۔ اکثر چیزوں کے بیک گراونڈ میوزک میں یہ بیک ٹریکنگ تکنیک پائی جاتی ہے خصوصا” کارٹونز اور ویڈیو گیمز میں۔
اس کی  کئی مثالیں ہیں کہ لوگوں نے قتل و غارت کیا اور ثابت ہوا کہ یہ کسی بینڈ کے بیک ٹریک کئے ہوئے گانوں کو سننے کی وجہ سے ہوا۔ بعض موقعوں پر امریکی عدالتوں نے قاتل کے ساتھ گانا بنانے والے بینڈ کو بھی سزا سنائی۔
نوٹ: یاد رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ریسرچ یہودیوں نے کی ہے۔ اور وہ بھی بچوں پر۔ اور بچوں کے بھی تحت الشعور اور لاشعور پر۔ لہذا سب سے زیادہ بچوں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔فلسطینی تنظیم حماس کے بانی شیخ احمد یسین فرماتے تھے: "ہماری یہود سے جنگ ہمارے بچوں پر ہے۔ یا تو وہ ہمارے بچوں کو اپنے رنگ میں رنگ لیں گے یا پھر ہمارے بچے بڑے ہو کر ان سے بدلہ لیں گے
حفاظت
ناظرین اب سب سے اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کریں، کیا ہمارے پاس کوئی حفاظتی تدبیر ہے یا نہیں۔ تو ناظرین اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس طرح ہی شیطانی ہاتھوں کا کھلونا بنا کر نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ حفاظت اور نکلنے کا پورا راستہ بتایا۔ وہ الگ بات ہے کہ کوئی اگر ان تدابیر کو اختیار نہ کرے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔
چنانچہ دجالی فتنوں سے حفاظت کا سب سے بڑا ہتھیار قرآن پاک، اللہ کا ذکر اور خاص طور پر سورہ کہف کی تلاوت ہے۔ اگر ہم سورہ کہف کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیں ، یا کم از پہلے رکوع کی تلاوت کو ہی اپنا معمول بنا لیں تو یہ ایسا حفاظتی ہتھیار ہے جو آپ کو دنیا کے ہر فتنے خصوصا دجالی فتنے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ سورہ کہف کی تلاوت سے انسان کو ایسا نور عطا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ حق اور باطل، خیر اور شر، فتنے اور نعمت میں خود فرق کرسکتا ہے۔ اسی دور کے بارے فرمایا گیا تھا کہ اس وقت مومن کی خوراک اللہ کا ذکر ہوگا۔ یعنی جب دجالی قوتیں ایک مومن کو زیر کرنے کے لیے تمام راستے حتی کہ خوراک بھی بند کردیں گی تو مومن اللہ کے ذکر سے اپنی بھوک نہ صرف مٹائے گا بلکہ بھوک حقیقتا مٹے گی بھی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری تمام دجالی فتنوں اور گمراہی میں ڈالنے والے فتنوں سے حفاظت فرمائے۔