Search This Blog

Friday, January 1, 2016

باہمی اختلافات ،ہماری سوچ اور پیغمبرانہ سوچ میں فرق

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
مولوی انیس احمدؒ ایک گمنان مجاہد ، تحریک ریشمی رومال کے سرگرم کارکن اور اسیرمالٹا تھے۔ 1912ءمیں علیگڑھ سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریز کی عطا کردہ”ڈپٹی کلکٹری“ یعنی جج کا عہدہ چھوڑ کر علومِ قرآنی حاصل کرنے کے لئے دہلی پہنچے۔ دہلی میں قائم مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے ادارے ”ادارہ نظارة المعارف“ میں داخلہ لیا، کافی عرصہ علوم قرآنی کی تحصیل کرتے رہے اور پھر سندِ فراغت لے کردیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں داخل ہوگئے۔دیوبند میں حضرت شیخ الہندؒ سے تبلیغ قرآن اور علوم دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت شیخ الہندؒ ہی کے زیرِسایہ تحریک ریشمی رومال میں سرگرم ہوگئے،تحریک میں حیدرآباد دکن کے ذمہ دار رہے۔ بعد ازاں بغاوت کے جرم میں انگریز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر کالاپانی میں قید رہے اور پھر چندسالوں کے بعد وہاں سے رہائی ہوئی۔ان کی علمی وجاہت کی یہ شان تھی کہ خواجہ حسن نظامی جیسے لوگ ان سے عاجزانہ ملتے تھے، علامہ مشرقی، علامہ اقبال، اکبر الٰہ آبادی، سرعبدالقادر سمیت بڑے بڑے لیڈر ان سے مشورے لیا کرتے اور اس کو اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔رہائی کے بعد بھی انگریز ان کو بہت تنگ کرتے رہے، ان کے بیٹے شاہداحمد کو مقابلے کے امتحانوں میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا۔
مولوی انیس احمدؒ کا مختصر تعارف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ایک کتاب ”انوارالقرآن “آج کل میرے زیر مطالعہ ہے، میری علماءسے گذارش ہے کہ وہ مولوی انیس احمدؒ کی یہ کتاب اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی کتاب ”وحدت امت “کو ضرور مطالعہ کریں۔مولوی انیس احمدؒ ”انورالقرآن“ میں لکھتے ہیں: ایک پیغمبر ”نااتفاقی “کے مقابلہ میں قوم کا عارضی ”گمراہی “میں رہنا پسند کرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوم متفق رہتی ہے اسی وقت تک عمدہ نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہوگیا ہوگا کہ قرآن شریف کا ایک حصہ کا تو مفہوم ہی بدل گیا ، ایک حصہ بھلا دیا گیا اور ایک حصے کی تعلیم کو کہانیوں کا درجہ دیا گیا ہے، اس سے مستفید ہونے کی کوشش نہیں کی جاتی، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے کہ اب قرآن مجید سے وہ نتیجے پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہیے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے ہیں۔
مولوی انیس احمدؒ کی یہ بات کہ پیغمبراناسوچ کیسی ہوتی ہے ہمیں بلاشبہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ہماری سوچ آج کیسی بن گئی ہے، معمولی اور فروعی اختلافات میں پڑھ کر ہم نے قوم کو کئی حصوں میں تقسیم بھی کیا ہوا ہے اور پھر اس بات کا رونا بھی روتے ہیں کہ اسلام غالب نہیں ہورہا۔ حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، جب حضرت موسی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا: اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہو گئے تو تم کو کیا وجہ مانع ہوئی کہ تم نے میری ہدایت کی پیروی نہ کی۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟(طہ۳۹) یعنی جب وہ گمراہ ہورہے تھے تو تم نے ان کو منع کیوں نہ کیا، توحضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا: اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑو، میں اس بات سے ڈرا کہ تم واپس آکر یہ کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی(طہ) یعنی حضرت ہارون علیہ السلام کو جب اپنی اصلاح کی کوششوں میں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کی عارضی گمراہی کو پسند کیا بجائے اس کے کہ آپ اس کو روکنے کے لئے ایسی پرزور کوشش کرتے جس سے قوم کے ٹکڑے ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت موسی کی قوم کا واقعہ اور شرک میں مبتلا ہونا محض شک والی بات نہیں تھی بلکہ واضح طور پر انہوں نے شرک کیا تھا، اب اگر ہم اپنے اردگرد کو دیکھیں، یا ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟ ہم تو محض شک اور گمان کی بنیاد پر بلادلیل کفر وشرک کے فتوے ٹھوک دیتے ہیں، اور کسی کو کافر بنانے یا گمراہ قرار دینے کا معیار ہم نے اپنا مسلک یا اپنا مدرسہ بنا دیا ہے جو ہمارے مسلک میں ہے یا ہمارے مسلک کے مدرسے میں پڑھا ہے اس کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے اورجو ایسا نہیں وہ گمراہ ہے۔
          مفتی مختار الدین شاہ مدظلہ فرماتے ہیں:محض شک اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کسی پر الزام لگانا چاہیے اور نہ ہی کفر وشرک کے فتوے،ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ”الزام“ اور ”التزام“ میں فرق ہوتا ہے، فتوی ”لازم “پر نہیں بلکہ ”التزام “پر لگتا ہے۔ بولنے والے یا لکھنے والے کی بات اور تحریر سے جو مفہوم نکلتا ہے اس کو ”لازم“ کہتے ہیں، اور معنی کا اگر صاحب تحریر اقرار اور اعتراف کرے یا اس کے کلام کا مکمل سیاق وسباق کوئی معنی متعین کرتا ہے تو اسے معنی التزامی کہتے ہیں، لہٰذا اگرصاحب تحریر کے معنی لازمی اور معنی التزامی میں فرق ہو تو معنی التزامی پر حکم یا فتویٰ لگایا جائے گا نہ کہ معنی لازمی پر۔چنانچہ صرف مفہومِ لازمی کو دیکھتے ہوئے فتویٰ یا حکم لگایا تو یہ اس شخص پرمحض الزام ،غلط اور شریعت کی حدود سے تجاوز اور ظلم ہوگا۔آج کل کی بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ متکلم اور تحریر کنندہ چینخ چینخ کرپکارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ میرے عمل یا تحریر سے نکالتے ہیں لیکن ہم اس کی بات کو سننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کے قول وفعل کو وہ غلط معنی پہناتے ہیں جس کا خود متکلم انکار کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا جسے صحیح مسلم میں نقل کیا گیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا جو مسجد نبوی سے زیادہ دور رہتا تھا اور اس کا حال یہ تھا کہ وہ ہر نماز مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا۔میں نے ایک دن اس سے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تم اندھیری راتوں میں مسجد تک سواری کے لئے ایک گدھا خرید لو، تو وہ کہنے لگا” مجھے تو یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہو“ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی، میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اس شخص کو بلایا گیا اور وضاحت طلب کی گئی تو اس نے وہی کچھ عرض کیا جو پہلے کہا تھا اور ساتھ یہ وضاحت بھی کی کہ میں نے ایسا اس لئے کہا کہ مجھے قدموں کا ثواب مل جائے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہی ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے۔(مسلم) اب بظاہر اس کی بات کا غلط مفہوم لگتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربت نہیں چاہتا،لیکن اس نے اس کی وضاحت کردی کہ میں پانچ وقت روزانہ پیدل چل کر اتنی دور سے آتا ہوں اس کا مجھے ثواب ملتا ہے۔(راہ محبت)
اس طرح کے اختلافی مسائل میں شیطان مسلمانوں کو افراط وتفریط میں مبتلا کردیتا ہے، ہر مکتبہ فکر میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو بلاتحقیق غلط پروپیگنڈا کرکے اختلافات کو پھیلاتے اور تفرقہ بازی کے مرتکب ہو کر قرآنی حکم سے روگردارنی کررہے ہیں۔خاص طور پر علماءکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلاوجہ اور بغیر تحقیق کے کسی کی نیت پر حملہ آوار ہونے کے بجائے حسنِ ظن رکھیں تاآنکہ کھلم کھلا ثبوت نہ مل جائے۔علماءکو عام اجتماعات یا عام بیانات میں اختلافی مسائل کی تبلیغ یا تردید نہیں کرنی چاہیے، امرباالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اور صرف متفقہ معروفات اور متفقہ منکرات میں ہوتا ہے، اختلافی مسائل تو ترجیحی مسائل ہیں،ان میں جو نظریہ اور رویہ جس کے نزدیک رائج ہے وہ اس کو اختیار کرلیتا ہے۔
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے مسلمانو اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(46) اتحاد واتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے، کیونکہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی، ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے گی، کبھی کسی کی تنقید پرغصہ آئے گا،کبھی کسی کی ترقی پر۔اختلاف کوصبر کے ساتھ برداشت کرنے سے اتحاد وجود میں آتا ہے۔سورہ انعام میں فرمایا: اے مسلمانو خدا سے ڈرو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو، اور اس میں متفرق نہ ہو، آپس میں اختلاف کرناآگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے، خدا کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد واتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں، اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنالیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انہیں کی طرح نہ جاو(102)
 اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو، انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد یا تو اپنے اختلاف کو ختم کردیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں، عملی زندگی میں اس اختلاف کو پھیلا کر معاشرے کو خراب نہیں کرتے۔
مولانا زاہدالراشدی مدظلہ فرماتے ہیں: ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ مزاج راسخ ہوتا جارہا ہے کہ ہم نے جس کے خلاف کچھ کہنا ہوتا ہے، اس کا موقف اس سے نہیں پوچھتے بلکہ اس کی چند عبارات کو سامنے رکھ کر خود طے کرتے ہیں اور اگر وہ جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرے تو اسے یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ماضی میں یہ طرز عمل مولانا۔۔۔۔۔۔۔۔نے اختیار کیا تھاکہ علماءکی کتابوں سے اپنے مطلب کی چند عبارات منتخب کرکے ان سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے تھے اور ان پر ایک استفتا کی بنیاد رکھ کر حرمین کے علماءکرام سے فتویٰ حاصل کیا۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر واسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے، ہرجھگڑے کو 302کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے چندواقعات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک معروف ومشہور اہل بدعت عالم جو اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں بہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، ان کا ذکر آگیا تو فرمایا: میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق معذب ہونے کا گمان نہیں، کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔(مجالس حکیم الامت)ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے کہا فلاں پیر صاحب بازاری عورتوں کو بھی مرید کرلیتے ہیں تو حضرت نانوتوی نے فورا خاموش کراتے ہوئے کہا، تم نے ان کی راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے گریہ زاری نہیں دیکھی؟۔ اسی طرح ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے سرسید احمد خان کے خلاف ایک فتویٰ آپ کو دستخط کرنے کے لئے پیش کیا، آپ نے کہا پہلے تحقیقات تو کرلو آیا وہ کافر ہے بھی یا نہیں؟ چنانچہ خود ہی سرسید احمد خان کی طرف تین سوال لکھے:۱۔خدا پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۲۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۳۔قیامت کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ سرسید احمد خان نے جواب میں لکھا:۱۔خدا تعالیٰ مالک ازلی اور صانع تمام کائنات ہے،۲۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر،۳۔قیامت برحق ہے۔ تو پھر حضرت نانوتویؒ نے فرمایا تم اس شخص کے خلاف دستخط کروانا چاہتے ہو جو پکا مسلمان ہے؟۔
حضرت کے اس فیصلے کو آج کے مفتی شاید تسلیم ہی نہ کریں، لیکن حضرت کا اعتقاد اور مقام انہیں خاموش رکھنے کے لئے کافی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طرف کوئی اعلی علمی اور قابل شخصیت ہوتی ہے لیکن اس کی باتوں کو اس لئے قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا کہ ہمارے علم میں یہ نہیں کہ اس کے اساتذہ کون ہیں، یا اگر ہیں تو وہ ہمارے خیال میں مستند نہیں ہیں۔ میں نے دو تین سال قبل ایسا ہی ایک استفتاءکسی معروف شخصیت جو اب اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں لکھا، میرا سوال یہ تھا کہ ان کی دو چار موٹی موٹی گمراہیاں بتادیں کیونکہ لاکھوں لوگ ان کی کتابیں پڑھتے اور ویڈیوز سنتے ہیں، یہ استفتاءدارالعلوم کراچی سمیت کئی بڑے بڑے جامعات کو بھیجاگیا۔ سوائے دارالعلوم کراچی کے کسی نے اس کا جواب دینا ہی نہیں دیا، اور دارالعلوم کراچی کے دارالافتاءسے جو جواب آیا وہ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی مدظلہم کا لکھا ہوا نہیں تھا بلکہ شاید ان کے علم میں بھی نہ ہو، بہر حال کسی مفتی صاحب نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے جواب میں محض اتنا لکھا کہ یہ شخص مستنداساتذہ اور مشائخ سے نہیں پڑھا ہوا لہٰذا اس کی کتابیں اور ویڈیوز نہیں دیکھنی چاہیے۔ یعنی سوال گندم، جواب جو۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جواب دینے والا مفتی محض سنی سنائی بات پر جواب دے رہا ہے۔ آج فتوی دینے کا یہی معیار رہ گیا ہے کہ نہ تحقیق کرنی ہے اور نہ اس کے بارے میں معلومات لینی ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے مدارس میں یہ وباءپھوٹ پڑی ہے کہ ایک ایک سال کے مفتی کورس کروا کر سندیں بانٹی جارہی ہیں چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کے مفتی یا لکیر کے فقیر ہیں یا سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے فتوے جھاڑتے ہیں،فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کیا چیز ہوتی ہے اس بارے میں انگریز جج کا واقعہ ملاحظہ کریں جو نہ دین اسلام سے واقف ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث اور اسلامی قانون سے، سابقہ مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ اہلِ حدیث اور حنفیوں کے درمیان” آمین “ پر لڑائی ہوگئی، خوب مارکٹائی بھی ہوئی ، بالاخر اس کا کیس انگریز جج کے پاس گیا تو اس نے کہا یہ ”آمین“ کیا چیز ہے کوئی بلڈنگ ہے یا پراپرٹی ہے؟ لوگوں نے سمجھایا کہ ایک لفظ ہے، ایک فریق کہتا ہے حدیث میں ہے اسے بلند آواز سے بولنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے حدیث میں ہے آہستہ بولنا ہے۔ تو انگریز جج نے کہا جس کو جو حدیث معلوم ہے وہ اس پر عمل کرے، لڑتے کیوں ہو؟ اور پھر اس نے تفصیلی فیصلے میں لکھا: میں ساری تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاں ”آمین“ کی تین قسمیں ہیں، ایک آمین بالجہریعنی اونچی کہنا، دوسری آمین بالسر یعنی آہستہ کہنا،جبکہ تیسری آمین بالشر یعنی لڑنے کے لئے کہنا، لہٰذا عدالت دونوں فریقوں کوفلاں فلاں سزا سناتی ہے تاکہ آئندہ نہ لڑیں۔قاری طیب صاحب انگریز جج کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ لکھا، یہ تو ہمارے دلوں کا فساد ہے کہ ہم نے مسائل کو اپنے دل کے جذبات نکالنے کی آڑبنا لیا ہے اور ہر دین کا مسئلہ جھگڑا ڈالنے اور گروہ بندیوں کے لئے رہ گیا ہے(خطابات)۔جی ہاں مفتی کی حیثیت بھی جج کی سی ہوتی ہے بس فرق یہ ہے کہ جج کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے اور انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرواتی ہے، جبکہ مفتی کا کام صرف رہنمائی کرنا اور بتانا ہوتا ہے نافذ وہ نہیں کرسکتا۔اس انگریز جج نے اس معاملے کو ویسے ہی نہیں ٹال دیا بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مطالعہ کیا، تحقیقی کی، لوگوں سے معلومات اکھٹی کیں اور پھرایسا دانشمندانہ فیصلہ دیا کہ معاشرے میں اختلاف نہ پھیلے بلکہ لوگ متفق ہو کر رہیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں۔
 قاری طیب صاحبؒ ملتان میں خیر المدارس میں آئے جلسے سے خطاب کیا اور پھر پوچھا یہاں ملتان میں کوئی اور عالم ہیں؟ بتایا گیا کہ مولانا محمد بخش ہیں لیکن بریلوی فرقے سے تعلق ہے، تو مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری طیب ؒ نے فرمایا: ہم انہیں فرقہ ہی نہیں سمجھتے، نہ ہم فرقہ نہ وہ فرقہ۔ اور پھر سب کے منع کرنے کے باوجود ان کی مسجد میں گئے اور ملاقات کی۔اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: میں ہمیشہ اس کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ بھئی منافرت مت پیدا کرو، اپنی رائے ہے، اگر آپ دیانةً صحیح سمجھتے ہو تو اس پر عمل کرو، لیکن نفرتیں پیدا کرنا یہ صحیح نہیں(خطبات حکیم الاسلام ج۵ص۴۲۲)
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ”وحدت امت“ میں ایک واقع لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں، مَیں سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے پاس حاضر ہوا تو دیکھا کہ حجرت سر پکڑے ہوئے بہت مغمم بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں ٹھیک ہی ہے، میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی۔میں نے کہا حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں صرف ہوئی ہے، اگر آپ کی عمر ضائع ہوئے تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟فرمایا تمہیں صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا حضرت آخر بات کیا ہے؟ فرمایا: ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔۔۔۔۔۔اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا: ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا؟۔۔۔۔۔۔قبر میں بھی فرشتے نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا نہ امام ابوحنیفہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔(نوٹ: یہ کافی طویل تقریر ہے جس میں سے کچھ کچھ اقوال ذکر کیے ہیں،رسالہ وحدت امت مطالعہ کریں)۔
مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس جنگ وجدل کا ایک بہت بڑا سبب فروعی اور اجتہادی مسائل میں تخرب وتعصب اور غلو ہے۔۔۔۔بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور اُن کو تارکِ قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہو۔معلوم نہیں یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفان سے واقف نہیں ؟۔۔۔۔۔۔اور اگر محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے سوال کرلیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہورہے تھے تم وراثتِ نبوت کے دعوے دار کہاں تھے؟ تو کیا ہمارا یہ جواب کافی ہو جائے گا کہ ہم نے رفع یدین کے مسئلے پر ایک کتاب لکھی تھی۔۔۔۔۔۔ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد وتلقین یا دعوت وتبلیغ کے لئے قائم ہیں۔۔۔۔اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست وبازو سمجھے تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔ علمی غلو ہر جماعت میں یہ پایا جاتا ہے کہ اپنے مجوزہ نظام عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دے دیا گیا جو شخص اس نظام عمل میں شریک نہیں اگرچہ اس کا مقصد کتنا ہی عظیم ہو اس کو اپنا بھائی نہیں سمجھا جاتا، اور اگر کوئی اس نظام عمل میں شریک تھا پھر الگ ہوگیا تو عملا اسے اصل مقصد سے منحرف سمجھ لیا جاتا ہے اگرچہ وہ اصل مقصد یعنی اقامتِ دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے۔(وحدت امت)
مفتی شفیع رحمہ اللہ کی اس دلسوز تقریر میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس سمت جارہے ہیں، کہیں کوئی نادیدہ ہاتھ مخیرحضرات کی شکل میں فنڈ دے کر فرقہ واریت اور باہمی اختلافات کو ہمارے ذریعے سے جاری تو نہیں رکھ رہا، تاکہ دینی طبقہ اسی فضول کام میں لگا رہے اور اقامت دین کی جدوجہد کی طرف اس کا دیہان ہی نہ ہو، یاد رکھیں ایسے مخیرحضرات کے پیچھے مقامی ہاتھ بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔ذرا دیہان سے!
...............
پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

Monday, December 28, 2015

کیا عوام الناس کو ترجمہ قرآن پڑھنا منع اور ناجائز ہے۔۔؟؟

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ایک غلط بات مشہور کردی گئی ہے کہ عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا یاکسی آیت،رکوع کا مفہوم علماءکی تفاسیر سے ذہن نشین کرکے بیان کرنا ناجائز ہے۔چنانچہ اس غلط بات کو پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں اور عوام نے قرآن کریم کو محض برکت حاصل کرنے کی کتاب سمجھ کا طاقِ نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہندوستان کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں 200سال تک انگریز حکومت کرکے گیا ہے، اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے جتن کیے، کبھی مدارس منہدم کیے تو کبھی علماءکو توپوں کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا گیا، کبھی علماءکو پھانسیاں دیں تو کبھی لاکھوں قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے، لیکن انگریز کو اندازہ ہوگیا کہ بزور طاقت اور اسلحہ کے بل بوتے پر ہم مسلمانوں سے اسلام اور قرآن سے لگاو نہیں ختم کرسکتے، چنانچہ انہوں نے مختلف تکنیک اور حربوں پر تحقیقات کیں اور باالاخر انگریز فرقہ واریت اور اختلافات کا بیج بو کر چلا گیا اور آج تک ہم اسی فرقہ واریت اورآپس کے فروعی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں، اسی طرح قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے ایسی باتیں مشہور کردیں کہ عوام کا تعلق قرآن سے نہ ہو۔ حالانکہ اگر ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی زندگیوں اور تحریروں کو دیکھیں تو انہوں نے ساری زندگی عوام کو قرآن سے جوڑنے میں لگائی اور اسی بات کی دہائی دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے۔
میں نے اپنے ان گناہ گار کانوں سے یہ بات بھی سنی ہے کہ اگر عام لوگ ترجمہ قرآن پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، یہ ترجمہ پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔ حیرت ہوتی ہے دشمن نے کتنی محنت کی، قرآن کریم کے متعلق کیسی کیسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں، چنانچہ آج لوگ قرآن کو ہاتھ میں لینا گوارہ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کا احترام ان کے دلوں میں بہت ہے، اسے چومتے ہیں، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، اس سے اونچا نہیں ہوتے، لیکن پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔
فہم قران کے دو پہلو ہیں، ایک تدبر فی القرآن اور دوسرا تذکّر بالقرآن۔ تدبر فی القران کے لئے بلاشبہ بہت سے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا کہ تیرا چودہ علوم پر دسترس ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ بات بھی پرانی ہوچکی ہے، آج کل تدبر فی القرآن کے لئے کم از کم بیس پچیس علوم جن میں جدید علوم اور فلسفے بھی شامل ہیںان سب پر مہارت ہونا ضروری ہے، آج کل مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب اتنا ناقص ہے کہ وہ ایسے علماءپیدا ہی نہیں کرسکتا جو تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں، چہ جائیکہ ہم دورہ حدیث سے فارغ ہوکرسند لینے والے کو اس قابل سمجھیں کہ وہ تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتا ہے۔البتہ جہاں تک تعلق ہے تذکر باالقرآن یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا تو اس بارے میں خود قرآن کہتا ہے: ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر؟ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، اور یہ نصیحت کا پہلو بلاشبہ محض ترجمہ پڑھنے والے کو بھی میسر ہوتا ہے۔
یاد رکھیئے! قرآن اللہ کی معجزانہ کتاب ہے اس کو پڑھ کر گمراہی نہیں ہدایت پھیلتی ہے، یہ انسان کے دل میں اس حقیقی ایمان کو اپیل کرتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر رکھاہوا ہے، یہ اس حقیقی ایمان کی چنگاری کے لئے پٹرول کا کام کرتا ہے،اور اسے یک دم بھڑکا دیتا ہے۔سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یورپ میں جدی پشتی انگریز غیر مسلم قرآن کریم کا محض ترجمہ پڑھ کر مسلمان کیوں ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو عربی زبان اور ناظرہ قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا، وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بھی فطری طور پر ایمان کی چنگاری موجود ہوتی ہے قرآن کو پڑھ اور سن کر وہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔یورپ کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ موبائل پر تلاوت لگا کر مارکیٹوں اور بازاروں میں غیرمسلموں کی طرف ہینڈفری آگے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیس سیکنڈ تک یہ آڈیو سن کر اپنے کمنٹس دو، چنانچہ وہ مختلف چلنے پھرنے والے خواتین وحضرات کو اس طرح قرآن سنا کر ان سے کمنٹ لیتا ہے، وہ لوگ سنتے ہوئے بہت حیران ہوتے ہیں ان کے چہرے کے تاثرات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت متاثر ہوئے ہیں، بعض تو رو بھی پڑتے ہیں۔
بی بی سی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جان بِٹ کا بیٹا یحی بِٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، مسلمان ہوگیا، پھر PHDکے لئے اسے جو مقالہ تیار کرنا تھا اس کا عنوان تھا ”یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے“چنانچہ اس نے دو تین سال تک یورپ میں اس بات پر تحقیق کی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں اس نے بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں تیرا ہزار لوگ مسلمان ہوئے جن میں سے 80%لوگ قرآن سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ انہیں میں سے ایک امریکی خاتون ”ایم کے ہرمینسن“ بھی تھی۔ جب اس سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میں سپین میں پڑھتی تھی، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیو کی سوئی گماتے گماتے اچانک ایک عجیب آواز آنا شروع ہوئی چنانچہ میں نے اسے سننا شروع کردیا، مجھے ایسے لگا کہ یہ میرے دل کے اندر سے آواز آرہی ہے، یا مجھے میرے گمشدہ متاع مل گئی ہے۔ چنانچہ میں کئی دن تک سنتی رہی، باالاخر میں نے سوچا کسی سے پوچھوں یہ کس چیز کی آواز ہے اور کیا ہے؟ میں نے جب پوچھا تو مجھے کسی نے بتایا یہ مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن ہے۔ چنانچہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگوا کر پڑھنا شروع کیا اور مکمل پڑھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو ترجمہ ہے جب تک اصل سورس کو نہ دیکھا جائے اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ اصل سورس کو سمجھنے کے لئے میں مصر گئی اور قاہرہ یونیورسٹی میں عربی زبان کو سیکھنے کے لئے داخلہ لیا، دو سالہ عربی کورس کرنے کے بعد پھر اصل عربی قرآن کو پڑھا تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔یہ ہے قرآن کی ہدایت، اسی لئے قرآن میں بار بار کہا گیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے، اس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے لیکن عوام میں یہ مشہور کردیا گیا کہ نعوذ بااللہ یہ کتاب گمراہ کرتی ہے، کتنی بڑی توہین کی بات ہے جولوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔
میرے خیال میں جتنے بھی فرقے اٹھے اور گمراہیاں پھیلی ہیں وہ عوام نے نہیں پھیلائیں، وہ ایسے لوگوں نے ہی پھیلائی ہیں جو قرآن وحدیث کے عالم تھے، مثلا مرزا غلام احمد قادیانی عام آدمی نہیں تھا، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والا تھا، تبھی تو اس نے اپنے نبی اور مہدی ہونے کی قرآن وحدیث سے من گھڑت دلیلیں بناکر دیں۔ اسی طرح غلام احمد پرویز بھی کوئی عام شخص جو محض کسی عالم کے لکھے ہوئے ترجمے پر اکتفاءکرنے والا نہیں بلکہ دینی علوم کا ماہر اورحنفی سنی گھرانے میں پیداہونے کے علاوہ چشتیہ سلسلے کے صوفی بزرگ مولوی رحیم بخش کا پوتا تھا،ابتدائی دینی تعلیم بھی اپنے والد اور دادا سے حاصل کی، تبھی توغلام احمد پرویز نے حدیث کی ایسی ایسی تعبیریں کیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ نام میں نے بطور مثال پیش کیے ہیں باقی فرقوں کے بانیوں کے نام پیش کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، ورنہ آج جتنے فرقے ہمارے ہاں ہیں ان کے بانیوں کو دیکھیں سب قرآن وحدیث کے عالم تھے، عربی کے ماہر تھے، صرف نحو، ادب، علم کلام، منطق پر عبور حاصل تھا۔ عام آدمی کے تو بس کی بات ہی نہیں کہ وہ کوئی گمراہی بنا یا پھیلا سکے، میرے پاس ایسی ایک بھی مثال نہیں کہ ایک عام آدمی جسے نہ عربی آتی ہو اور نہ دیگر علوم ، اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کوئی گمراہی ایجاد کی ہو اور پھر وہ آج تک چلی آرہی ہو، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے اس کی نظر اور دیہان قرآن کے تذکیری پہلو کی طرف ہوتا ہے، اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ شراب، جوا، سود، مردار حرام ہیں، جنت میں نعمتیں ہیں، جہنم میں عذاب ہیں، دنیا امتحان کی جگہ ہے وغیرہ۔البتہ جو خدشات اس حوالے سے پیدا ہوسکتے ہیں ان کے سدِباب کے لئے علماءکی طرف سے مسلسل ہدایات مسلمانوں کو ملتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔
یہاں اس بات سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں کہ بلاشبہ ان گمراہیوں کا سدباب بھی علمائے حق نے ہر دور میں اپنا خون دے کر کیا ہے، اور علماءکی خدمات اور محنت سے ہی یہ قرآن وسنت آج اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہیںاور آج بھی علمائے حق قرآن وسنت کی حفاظت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں، اگرچہ ایسے علماءکو وقفے وقفے سے چن چن کا ٹارگٹ بھی کیا جارہا ہے۔
اس موضوع کے حوالے سے اکابر علماءاور اسلاف کے چند اقوال پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمایئے:
حضرت شیخ الہند کے شاگردِ خاص، تحریک ریشمی رمال کے سرکردہ رکن، اسیر مالٹا مولوی انیس احمد رحمہ اللہ” انوار القرآن “میں لکھتے ہیں:
جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے جید عالم ہونے کی ضرورت ہے(صفحہ35)
شاہ اسماعیل شہید تقویة الایمان میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں دین کی بات میں جو لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں، کوئی پہلوں کی رسموں کو پکڑتے ہیں، کوئی قصے بزرگوں کے دیکھتے ہیں اور کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انہوں نے اپنی ذہن کی تیزی سے نکالی ہیںسند پکڑتے ہیں۔ اور یہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے، اس کو بڑا علم چاہیے، ہم کو وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں اور اس راہ پر چلنا پڑے، یہ بزرگوں کا کام ہے، سو ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہم کو یہی باتیں کفایت کرتی ہیں۔ سو یہ بات بہت غلط ہے، اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں باتیں بہت صاف صریح ہیں، ان کا سمجھنا مشکل نہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے میں بہت علم نہیں چاہیے کہ پیغمبر تو نادانوں کو راہ بتانے اور جاہلوں کو سمجھانے اور بے علموں کو علم سکھانے کو آئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بنا کر بھیجا، وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔(الجمعہ2)
سو جو کوئی یہ آیت سن کر پھر کہنے لگے کہ پیغمبرکی بات سوائے عالموں کے کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان کی راہ پر سوائے بزرگوں کے کوئی نہیں چل سکتا۔ سو اس نے اس آیت کا انکار کیا۔ اس بات کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک بڑا حکیم ہو اور ایک بہت بیمار، پھر کوئی شخص اس بیمار سے کہے کہ فلانے حکیم کے پاس جاو اور اس سے علاج کراوتو وہ کہے اس سے علاج کروانا تو بڑے بڑے تندرستوں کا کام ہے میں تو بہت بیمار ہوں۔ سو وہ بیمار احمق ہے اور اس حکیم(قرآن) کی حکمت سے انکار رکھتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے فارسی ترجمے ”فتح الرحمن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
جس طرح لوگ مثنوی مولانا جلال الدین، گلستان شیخ سعدی ومنطق الطیر شیخ فرید الدین عطار وقصص فارابی ونفحات مولانا عبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اسی طرح قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اگر وہ کتابیں اولیاءاللہ کا کلام ہیں تو قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اگر ان میں حکماءکے وعظ ہیں تو قرآن مجید میں احکم الحاکمین کے فرمان ہیں۔
اسیر مالٹا مولوی انیس احمد ؒ قرآن سے استفادہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ پانی سے اِس زمانے میں بھاپ حاصل کرکے مختلف کام لئے جاتے ہیں اور ریل گاڑیاں وغیرہ چلائی جاتی ہیں۔ پانی سے یہ کام صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جو سائنس(کے علم)سے واقف ہیں، لیکن ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی جاہل ہو پانی سے اپنی پیاس بجھا کر زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور روحانی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے جس آبِ حیات کی ضرورت ہے اس کو ہر شخص خواہ وہ جاہل ہو یا عالم، قران مجید کے بحرذخائر سے باآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ جو شخص زیادہ عالم ہو گا وہ علم وحکتم کے زیادہ موتی اس سمندر سے حاصل کرسکتے گا۔ہم اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں کہ چونکہ ہم بڑے عالم نہیں اور ہم قرآن مجید کے زیادہ نکات نہیں سمجھتے اس لئے ہم کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس تباہ اور برباد کردینے والی غلطی کی وجہ سے ہمیں قرآن مجید سے محرومی ہوتی جارہی ہے اور ہماری مذہبی اور روحانی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے۔(انوارالقرآن صفحہ41)
مولوی انیس احمدؒ اسے خطرناک اور تباہ وبرباد کردینے والی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ اسی بات کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے: ان اللہ یرفع بھٰذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین۔ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت ساری قوموں کو عروج اور بہتوں کو زوال دیتا ہے۔ یعنی جو اس سے تعلق توڑ دیتے ہیں وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہو جاتے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں جب سے ہم قرآن کی اصلی تعلیم سے دور ہوتے گئے ہیں ہم برابر تنزل کر رہے ہیں۔ اور جیسی قوم کی حالت ہوتی ہے ویسے ہی اس کے اخلاق ہوتے ہیں، اگر قوم زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد میں جرات، ہمت،استقلال،ترقی کی امنگ، ایثار، قربانی جیسے عمدہ اخلاق ہوتے ہیں۔ اور اگر قوم مردہ ہو تو اس کے افراد پست ہمت، سست، بزدل ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام میں اس قدراثر وہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں میں کچھ جان تھی تو اُن میں وعدہ اور قول وقرار کا دوسرا مفہوم تھا اور جب اُن پر مُردنی چھا گئی تو انہی الفاظ کا دوسرا مفہوم ہوگیا۔ چنانچہ پہلے مشہور تھا:
”قول مرداں جان دارد“
 پھر یہ حالت ہوئی
”وعدہ آساں ہے ولے اس کی وفا مشکل ہے“
 پھر اس کے بعد یہ حالت ہوگئی
”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“
اسی طرح جب ہم نے قرآن کو چھوڑا، ہماری حالت خراب ہوئی تو قرآن کے مفہوم بھی بدل گئے۔
واقعی آج ہم اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں، اس مفہوم کے بدلنے کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہماری ایسی جماعتیں جو بلاشبہ دین کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک ہی آیت کے مفہوم کو اپنے اپنے کام پر چسپاں کرنے کے لئے آپس میں ہی لڑ رہی ہیں۔جس کا نقصان دین کو بھی ہورہا ہے اور خود ان کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔
اس مضمون کی پی ڈی ایف 
Quran ka Tarjuma Paharna

Tuesday, December 15, 2015

سود کے بعد موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں

سود کے حوالے سے آنے والے فیصلے کے بعد سود کے خاتمے کے لئے مختلف تنظیمیں اور تحریکیں احتجاج کر رہی ہیں۔ جس طرح سود حرام ہے بالکل اسی طرح جوئے کی حرمت بھی قرآن کے صریح اور واضح حکم سے ثابت ہے، ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ قرآنی احکامات سے نہ صرف روگردانی کی جارہی ہے بلکہ حکومت خود سودی اور جوئے کا کاروبار کرنے اور اس کی ترغیب اور لالچ دینے والوں کو نہ صرف اجازت بلکہ لائسنس دیتی اور رجسٹر بھی کرتی ہے۔سود کے خلاف تو کافی حد تک لوگوں میں شعور پایا جاتا ہے لیکن جوئے کی نت نئی اقسام مارکیٹ میں متعارف ہو چکی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوئے کی ان اقسام کا پوسٹ مارٹم کرکے انہیں عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے۔ امید ہے کوئی ماہر معیشت یہ خدمت سرانجام دے کر ذخیرہ آخرت کرے گا۔جوئے کی اقسام میں سے ایک قسم انشورنس ہے جس پر کافی علماء نے کتابیں لکھی ہیں۔
ابھی چند سالوں سے موبائل کمپنیاں آئی ہیں ان کا اصل کرنے کاکام تو لوگوں کو آپس میں رابطے میں رکھنا تھا لیکن حکومتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ان کمپنیوں نے کئی کئی بزنس اور عوام کو بیوقوف بنا کر لوٹنے کے طریقے شروع کررکھے ہیں۔ موبائل کمپنیوں کی روزانہ کی کمائی اربوں میں ہے جس کا اندازہ ان کمپنوں کے ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات سے ہی لگایا جاسکتا ہے، کیونکہ چینلز پر سیکنڈکے حساب سے پے منٹ کرنی ہوتی ہے جو کروڑوں میں بنتی ہے۔ ان کمپنیوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ عوام کو لوٹنے کے لئے الفاظ کا ہر پھیر کرکے طرح طرح کے پیکجز متعارف کروائے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ موبائل کمپنیوں نے سرعام جوا سکیمیں شروع کردی ہیں، اور عوام کو باربار میسجز کے ذریعے ان جوا سکیموں میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ زونگ کی طرف سے مسلسل کئی دن سے ہرروز ایک میسج موصول ہورہا جس کے شروع میں صارف کا موبائل نمبر لکھا ہوتا ہے اور آگے لکھا ہوتا ہے: اس پیغام کو نظر انداز مت کریں، زونگ نے آپ کو چنا ہے دس لاکھ کے لئے، حصہ لیں مفت ایس ایم ایس کے ذریعہ۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے یہ ایس ایم ایس مفت نہیں ہوتا بلکہ عام ایس ایم ایس سے کئی گنا مہنگا ہوتا ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
تم سے شراب اور جوئے کا جو حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔(البقرہ آیت نمبر 219 )
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں۔ شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے۔ شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ عزوجل کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے( المائدہ کی آیت نمبر 90 تا 91 )
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوا کھیلنے کے سامان سے جوا کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبودیا۔(سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 231، حدیث 3863)
حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا ’’آؤ جوا کھیلیں‘‘ تو اس کہنے والے کو چاہئے کہ صدقہ کرے (صحیح مسلم، ص 893، حدیث 1637)
محترم قارئین آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ ان میں سے 6 یہ ہیں۔
1۔لاٹری: اس طریقہ کار میں لاکھوں، کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ بھی جوا کی ایک صورت ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
2۔موبائل میسجز اور جوا: موبائل پر مختلف میسجز جوکہ سوالات پر مبنی ہوتے ہیں، بھیجے جاتے ہیں۔ جس میں مثلا کون سی ٹیم میچ جیتے گی؟ پاکستان کس دن بنا تھا؟ درست جوابات دینے والوں کے لئے مختلف انعامات رکھے جاتے ہیں۔ شرکت کرنے والے کے ’’موبائل بیلنس‘‘ سے قلیل رقم مثلا دس روپے کٹ جاتی ہے۔ جن کا انعام نہیں نکلتا، ان کی رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جوا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

3۔ پرائز بانڈ کی پرچی: حکومت پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 اور 40000 روپے کی مالیت کے انعامی بانڈز بینک کے ذریعے جاری کرتی ہے اور جدول کے مطابق ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے کروڑوں روپے کے انعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے۔ جس کا انعام نہیں نکلتا، اس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہے۔ وہ اسے جب چاہے کیش کرواسکتا ہے۔ یہ جوا ہے ۔ بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں۔ ان پرچیوں کی خرید وفروخت غیر قانونی ناجائز حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے ہیں) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جوا ہے ۔
4۔معمہ: اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سوالات حل کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابق نکل آئے، اسے انعام دیا جاتا ہے۔ انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے بھی زائد ہوتی ہے لہذا درست حل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ ہوتا ہے۔اس کھیل میں بہت سارے افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے۔
(1۔ مفت) (2۔ معمولی فیس دے کر)
اگر شرکاء سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے اور کوئی مانع شرعی نہ ہونے کی صورت میں انعام لینا جائز ہے جس میں شرکاء سے فیس لی جاتی ہے، اس میں انعام ملے یا نہ ملے، رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ صورت جوئے کی ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا: بعض دوست یا افراد مل کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا، ساری رقم اس کو ملے گی۔ یہ بھی جوا ہے کیونکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات پیسے جمع کرکے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا۔ اسے یہ کتاب دے دی جائے گی۔ یہ بھی جوا ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات خریدنے والوں کو قرعہ اندازی کرکے انعامات دیتی ہیں، یہ جائز ہے کیونکہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔

6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا: ہمارے یہاں مختلف کھیل مثلا گھڑ دوڑ، کرکٹ، کیرم، بلیئرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فلاں چیز دے گا۔ یہ بھی جوا ہے اور ناجائز و حرام۔ کیرم، بلیئرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وقت عموما یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کرے گا۔ یہ بھی جوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں میں مثلا تاش، لوڈوں پر دو طرفہ شرط لگا کرکھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعث اس میں کوئی حرج نہیں رکھتے۔ وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ جوا حرام اور جہنم میں لے جانے والاکام ہے۔
آج کل موبائل ہر ایک استعمال کرتا ہے، موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں اور ان کی ترغیب ہر کو دی جارہی ہے حکومت کو چاہیے ان سکیموں کو بندکرے اور ان کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو لوٹنے کے حربے ختم کردیں۔


Wednesday, November 4, 2015

فرقہ واریت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

(سید عبدالوہاب شیرازی)
فرقہ واریت کتنا گھناؤنا عمل ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں بارہا اس کی مذمت اور ممانعت بیان ہوئی ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے، ہمارے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کو انگریز دور میں خاص طور پر پروان چڑھایا گیا، پاکستان بننے کے بعد بھی اس سانپ کو تازہ دودھ ملتا رہا۔
دوسری طرف فرقہ واریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد جاری رہی، ہر طبقے نے اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے والے نادیدہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں، فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد نے اس گھناؤننے عمل کو اتنا بدنام کیا کہ لوگ اس نام کے اپنے اوپر چسپاں ہونے سے گھبراتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پوری دنیا خصوصا ہمارے خطے میں جو جو تبدیلیاں واقع ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے سے مذہبی فرقہ واریت پہلے کی نسبت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔ مختلف مسالک خاص طور پر اھل سنت والجماعت کے مسالک نے دوریاں ختم کی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف جلسے جلوس، فتوے اور مناظروں کے چیلنج آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
یہ تو فرقہ واریت کا وہ پہلو تھا جو معروف اور مشہور ہے اور جب بھی فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا ذہن اسی مذہبی فرقہ واریت کی طرف جاتا ہے۔ لیکن میں آج فرقہ واریت کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ ایک فکری اور انقلابی ذہن رکھنے والے کو اس فرقہ واریت کی طرف ضرور متوجہ ہونا چاہیے، نہ صرف متوجہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے سدباب اور اس شعور کو اجاگر بھی کرنا چاہیے۔ یہ فرقہ واریت کا وہ پہلو ہے جس کی تاریخ ہمیں قرآن حکیم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ملتی ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیْعًا۔فرعون نے وہاں کے لوگوں کو گِروہ گِروہ بنا رکھا تھا، یعنی فرعون اپنے شہریوں کو تقسیم کرتا اور Divide & Rule کی پالیسی پر عمل کرتا تھا، کیونکہ لوگ اگر گِروہ گِروہ نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت تختہ الٹ سکتے ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جسے ہندوستان میں انگریزوں نے اختیار کیااور پھر پچھلے ستر سال سے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے چند خاندان بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلکہ اب تو ایسی پالیساں باقاعدہ ملکوں کے خفیہ پلان کا حصہ ہوتی ہیں، چنانچہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، لسانی، علاقائی اور دیگر بے شمار اقسام کی فرقہ واریتیں حکمرانی کرنے والوں کے پلان کا حصہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نئی جماعت بنانا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص دو یا زیادہ جماعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی کوشش کرے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتے ہیں اور اس کام کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم ہر روز سنتے ہیں فلاں نے نئی جماعت بنالی، یا فلاں شخص فلاں جماعت سے الگ ہوگیا اس نے اپنا دھڑا بنا لیا، لیکن ایسا بہت کم سننے میں آتا ہے کہ فلاں دو جماعتیں آپس میں ضم ہو کر ایک جماعت بن گئیں اور ان جماعتوں کے افراد ایک ہی پرچم تلے جمع ہوگئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور دھڑا بندی مذہبی فرقہ واریت سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے جبکہ سیاست کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے ، اسلام اور مسلمانوں کی سیاسی برتری اور ترقی کے لئے پاکستان میں جتنی بھی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی لیکن کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی، نادیدہ قوتوں نے دھونس، دھمکی اور لالچ سے ایسی ہر کوشش کو مٹی میں ملا دیا، بلکہ اسی طرح کی مخلصانہ کوشش کرنے والے افراد اور علماء کو ٹارگٹ کلنگ کرکے راستے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تنبیہ کردی کہ ان کا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حضرت یحیٰ اور حضرت زکریہ علیھماالسلام کو شہید کرکے یہودیوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور اللہ کے نقد عذاب کے مستحق ہوکر ذلت اور رسوائی کے گڑھوں میں گرے تھے۔
یاد رہے یہاں سیاسی فرقہ واریت سے مراد صرف اسلامی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں تو سب سے زیادہ فرقہ واریت پھیلا رہی ہیں، اگر ہم موجودہ دور کی تین چار بڑی سیاسی پارٹیوں کے حالات کو دیکھیں تو یہاں اسی طرح کے فتوے، اور مناظروں کے چیلنج ہیں جو مذہبی فرقہ واریت کے عروج کے وقت ہوتے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اصطلاحات ، طریقہ کار اور انداز تبدیل ہوگیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے پی ٹی آئی والوں کو سیاسی گالیاں دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی پی ٹی آئی والے بددیانتی،رشوت،کرپشن وغیرہ کے فتوے ان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان جماعتوں نے مسلمانوں خصوصا باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کو فرعون کی طرح گِروہ گِروہ کررکھا ہے اور مزے سے باری باری حکمرانی کررہے ہیں۔
اس وقت اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے اسی طرح سیاسی فرقہ واریت بھی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور غلبے کے لئے ناسور اور رکاوٹ ہے۔

Tuesday, November 3, 2015

جعلی حکیموں کا طریقہ

کچھ دن قبل ایک مشہور حکیم وعامل جاوید خان کو دیکھنے کے لئے کشمیر کے ضلع باغ کے علاقہ بیرپانی جانا ہوا،آج کل موصوف کا تذکرہ اور شہرت پورے پاکستان میں ہے، اس حکیم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے ساتھ افریقہ کے مشہور طبیب جنات کی ایک جماعت کام کررہی ہے چنانچہ حکیم صاحب ہر مرض کا علاج اور جنات کے ذریعہ ہر قسم خصوصا دل کا آپریشن بھی کرتے ہیں۔ مذکورہ حکیم کی سب سے اہم اور متاثر کن بات ہے کہ حکیم صاحب نے تبلیغی جماعت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے چنانچہ سر پر سُنت کے مطابق تبلیغی بھائیوں والی پگڑی، عربیوں والا جُبّہ، شلوار ٹخنوں سے اوپر اور مونچھوں پر استرا بھی پھیرا ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ موصوف نے مریضوں کی انتظار گاہ میں ایک بڑا بینر لگایا ہوا ہے جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا ہے: ”اللہ سے ہوتا ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا“۔ چنانچہ ہمارے ساتھ ایک بہت ہی سمجھدار شخصیت جو صرف اور صرف حکیم صاحب کو پرکھنے کے لئے گئی تھی اور وہاں پہنچتے ہیں انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ سب ڈھکوسلا ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس بینر پر نظر پڑتے ہی وہ بھی حکیم صاحب سے متاثر ہوگئے۔

حکیم جاوید کے ساتھ کئی لوگوں کا ایک پورا گروپ کام کررہا ہے، جن کی مختلف ذمہ داریاں ہیں، کچھ لوگ مریضوں کی رش کو کنٹرول کرتے اور لائنیں سیدھی کرنے پر مامور ہیں اور کچھ الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے چند ایک جڑی بوٹیوں کو پیسنے اور پانی میں ابال کر مکس کرکے ڈیڑھ لیٹر والی بوتلیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔جو جڑی بوٹیاں کوٹ کر مریضوں کو دی جاتی ہیں وہ کسی خاص مرض کی نہیں ہوتی بلکہ اینٹی بائیوٹیک قسم کی ہوتی ہیں یا معدہ جگر کی اصلاح اورجسم سے گرمی ختم کرنے والی ہوتی ہیں۔ پانی مختلف قسم کی چار پانچ بالٹیوں میں بھرا ہوا ہوتا ہے۔ حکیم جاوید مریض پر ”شُف“ کرتا ہے اور پھر ایک زور دار تھپڑ سینے پر مارتا ہے اور ایک پرچی پر دوائی لکھتا ہے، لکھتا کیا ہے چند ایک لکیریں پھیرتا ہے جو حکیم اور دوائی دینے والے کے درمیان کوڈ ورڈ کا کام کرتی ہیں۔حکیم کے پنسل پکڑنے کے انداز سے ہی پتا چلتا ہے کہ موصوف ”چِٹا اَن پڑھ“ ہے۔ پھر دوائی دینے والا ڈیڑھ لیٹر کی بوتل دے کر شکرانہ بکس میں اپنی مرضی سے کچھ ڈالنے کا کہتا ہے، اسی طرح پھکی دینے والا پھکی دے کر شکرانہ بکس میں کچھ رقم ڈالنے کا کہتا ہے۔اگر کوئی شخص کم رقم ڈالے تو اسی وقت میٹھی میٹھی بے عزتی بھی سب کے سامنے کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔

آپریشن کے لئے ایک بے ضرر قسم کا انجیکشن لگایا جاتا ہے ، پھر بلیڈ کے ساتھ آپریشن والے مقام پر معمولی سا کٹ لگا کر چار پانچ تھپڑ رسید کیئے جاتے ہیں اور پٹی کردی جاتی ہے۔ بے چارے لوگ گاڑیاں بک کرکے کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرکے وہاں پہنچتے ہیں، ظاہر ہے جو ایک بار اتنی دور جاتا ہے وہ دوبارہ اتنا سفر کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتا جبکہ نئے نئے مریض ایک بار آزمانے کے لئے ہمت کرلیتے ہیں۔ اس طرح یہ فراڈ کاروبار جاری ہے۔

کچھ مردوں اور عورتوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خود مریض بن کر باقی مریضوں کو جھوٹے قصے کہانیاں اور جاوید خان کی کرامات سناتے ہیںکہ ہمیں فلاں بیماری تھی ہم حکیم صاحب کے دم سے ٹھیک ہوگئے۔ مردان کا ایک سرجن ڈاکٹر دل کا مریض تھا حکیم صاحب نے جنات کے ذریعہ اس کے دل کا آپریشن کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ اس طرح کے کچھ مرد اور خواتین کو پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی چھوڑا ہوا ہے، جو مختلف پبلک مقامات مثلا پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، پارکوں، اور ہسپتالوں کی انتظار گاہوں میں لوگوں کو حکیم صاحب کی کرامات اورشفایابی کی داستانیں سناتے ہیں۔

حکیم جاوید کے ڈیڑے پر پہنچتے ہیں کچھ خواتین فورا حرکت میں آجاتی ہیں اور مریض خواتین کو گھیرنا شروع کردیتی ہیں، حکیم جاوید بظاہر کسی قسم کی رقم کا مطالبہ تو نہیں کرتا مگر ہدیہ اور شکرانے کے نام پر بے حساب اوپن چندہ بکس لگائے ہوئے ہیں جو صبح سے شم تک بھر جاتے ہیں۔ خصوصا حکیم جاوید کے منہ کے آگے رکھا ہوا بکس تو ہزار ہزار کے نوٹوں سے بھر جاتا ہے۔حکیم جاوید کے چیلوں نے تو یہ بات تک مشہور کی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ آرمی والے آئے اور حکیم جاوید کو اٹھا کر لے گئے لیکن دوسرے دن معافی مانگتے ہوئے اپنی گاڑی میں واپس لا کر چھوڑ دیا، یعنی راحیل شریف بھی حکیم صاحب کے مرید ہیں۔

ایسے جعلی حکیموں اور عاملوں کی بہتات ہے جو معروف اشتہاری مہم کی جگہ نفسیاتی طور پر متاثر کرنے والی اشتہاری مہم چلاتے ہوئے مارکیٹنگ کے لےے ایسے خواتین وحضرات کو استعمال کرتے ہیں جو خود شفایافتہ مریض بک کر پبلک مقامات پر تشہیر کرکے جعلی عاملوں اور حکیموں سے بھاری معاوضہ لیتے ہیں۔عوام کو کسی بھی دھوکہ دہی سے بچنے کے لئے ہر ایک کی بات پر یقین نہیں کرنا چہیے، اصل ذمہ داری تو حکومت کشمیر کی بنتی ہے کہ وہ اس فراڈ کو ختم کرے لیکن شاید کشمیری حکومت اس لئے کچھ نہیں کررہی کہ اس فراڈ کے چنگل میں پھنسنے والے زیادہ تر پاکستانی ہوتے ہیں اور حکومت کشمیر کو روزانہ لاکھوں روپے زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے جس سے وہاں کی حکومت چل رہی ہے


Saturday, December 20, 2014

ایک پریشان کن مسئلہ

اس وقت امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان سخت پریشان ہیں، پریشانیوں کی وجوہات بہت ساری ہیں لیکن میں آج ایک خاص پریشانی کے حوالے سے چند گذارشات پیش کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شاء اللہ اس پریشانی کا کافی وشافی علاج اور حل بھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔
پریشانی یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی اندوہناک حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس وقت یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درست تھا یا غلط تھا، جائز ہے یا ناجائز ہے، اس میں کون ملوث ہے؟ کسی مسلمان ے کیا یا کافر نے کیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ عدل وانصاف ہے یا ظلم اور سربریت ہے؟ ایسی صورتحال میں لوگوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو ناجائز اور حرام قرار دے دیتا ہے، دوسرا وہ جو جائز بلکہ افضل اور بہتر قرار دیتا ہے اور تیسرا وہ گروہ جو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں احادیث کی روشنی میں دے کر پھر اس کے حل اور بچاو کی طرف آتا ہوں۔
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچابنایا جائے گا، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا، اور ان میں ’’رویبضہ‘‘ بات کریں گے، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد،السنن الواردہ فی الفتن)۔
فائدہ: اس دور پر یہ حدیث کتنی مکمل صادق آتی ہے، نام نہاد مہذب دنیا کا بیان کردہ جھوٹ جس کو پڑھے لکھے لوگ بھی سچ مان لیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے سچ ہیں جن پر دنیا کے دجالی میڈیا نے لفاظی اور فریب کی اتنی تہیں جما دی ہیں کہ عام انداز میں ساری عمر بھی کوئی ان کو صاف کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے اگر میڈیا اس کو دبا دے تو وہ دب جاتا ہے(جیسے تھر میں روزانہ اوسطا دس بچے بھوک سے مرجاتے ہیں) اور اگر کسی واقعہ کو میڈیا اچھال دے تو ہر آدمی کا موضوع سخن وہی ہوتا ہے۔
ابوداود کی ایک روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ دو خیموں(جماعتوں) میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک اہل ایمان جن میں بالکل نفاق نہیں ہوگا اور ایک اہل نفاق جن میں بالکل ایمان نہیں ہوگا تو تم دجال کا انتظار کرو کہ آج نکلے یا کل نکلے۔
فائدہ: یہ دو خیمے(جماعتیں) مسلمان خود تو نہ بنا سکے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کام کفر کے سردار سابق صدر بش سے لیا، چنانچہ اس نے نائن الیون کے بعد واضح اعلان کیا کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے ساتھ نہیں؟ اس اعلان کے فوری بعد دنیا کے مختلف خطوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران اور دیگر بے شمار لوگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ لوگ درمیان میں ہی رہے اور اس وقت سے آج تک یہ چھانٹی جاری ہے اور لوگ مسلسل دو حصوں میں تقسیم ہورہے ہیں، اور ہر گروہ باقی لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
’’دجال ‘‘ دجل سے ہے اور دجل دھوکہ وفریب کو کہتے ہیں چنانچہ یہ دھوکہ وفریب اس وقت عروج پر ہے ۔ ضروری نہیں کہ کوئی شخص بظاہر معزز داڑھی والا لگ رہا ہے اور میڈیا پر بہت خوبصورت انداز میں بول لیتا ہے یا بہترین پیرائے میں لکھ لیتا ہے اپنے نام کے ساتھ سید،صدیقی یا فاروقی لکھتا ہے تو وہ دھوکہ نہیں دے رہا ہوگا، اصل دھوکہ تو یہی ہے کہ چار دن بہت اچھی بات بول کر یا لکھ کر پانچویں دن ایسی بات کردی کہ دوسرے کا ایمان اس کے دل سے ایسے نکال دیا جیسے مکھن سے بال۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دجال اور اس کے آنے سے پہلے والا دور سارا کا سارا دجل وفریب اور دھوکہ پر مبنی ہوگا لہٰذا آج ہم اسی دور میں موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں اس کے حل کی طرف: اس دجل سے بچنے اور فتنہ وفساد سے اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دجل سے ہمارا ایمان خراب کرنے کی کوشش کرے اور ہم اس کو پہچان لیں اور اپنے ایمان کو بھی محفوظ کرلیں، ساری دنیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھائے لیکن ہمیں جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ نظر آئے۔ جی ہاں! ایسا ممکن ہے ایک حدیث میں حضرت خذیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا اس فتنہ اور فساد سے بچنے کا کوئی حل ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی ایسا فتنہ نہیں جس سے نجات نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث ہے جو ابوداود، مسلم،ترمذی،احمداور نسائی میں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنے سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے ، اس کی تلاوت دجال کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے ۔اس میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں سے متاثر ہو جائے گی اس سورت کی تلاوت کرنے والا اللہ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا، دجالی فتنہ اور میڈیا اس کے دل ودماغ کو متاثر نہیں کرسکے گا۔ ان شکوک شبہات اور دھوکہ وفریب سے بچنے کے لئے اپنا معمول بنائیں ہرروز صبح سورہ کہف یا کم از کم ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کریں، ان شاء اللہ فریب کے پردوں کے پیچھے حقیقت کیا ہے وہ خود آپ کو نظر آئے گی اور جان وایمان کی حفاظت بھی ہوگی۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور احادیث کے لئے دجال،امام مہدی کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں دجال کے دجل اور فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

Wednesday, November 5, 2014

شداد کی جنت

تفسیر فتح العزیز میں لکھا ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا تجھے کسی کی روح قبض کرتے ہوئے رحم آیا؟ تو ملک الموت نے کہا ہاں، دو آدمیوں کی روح قبض کرتے وقت مجھے بہت ترس آیا،اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ان کی روح قبض نہ کرتا۔
یہ دو آدمی کون تھے ان کا ذکر اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکرتھوڑا سا آگے جاکرکروں گا،پہلے ایک عجیب واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
سمندر میں ایک جہاز نہایت سکون کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا،اور مسافر بھی پرسکون تھے، ان مسافروں میں ایک ایسی عورت بھی موجود تھی جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی، چاروں طرف دور دور تک زمین نظر نہیں آرہی تھی، پرسکون سمندر کی لہریں آہستہ آہستہ تیزہوتی جارہی تھیں اور ساتھ ہی ہوا بھی تیز ہوتی جارہی تھی،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کی لہروں اور ہوا میں کافی تیزی آگئی اور مسافروں سے بھرا یہ جہاز ڈولنے لگا، مسافروں میں بے چینی کی کیفیت بڑھتی جارہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ لہریں اور ایک سخت طوفان میں تبدیل ہوگئیں اور جہاز ان لہروں سے ٹکرا ٹکرا کر الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ کچھ لوگ پانی میں گِر گئے اور کچھ ان ٹکڑوں کے اوپر پڑے اپنی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے، وہ عورت جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی وہ بھی ایک تختے کے اوپر بے ہوش پڑی تھی اور تختہ لہروں کے رحم وکرم ایک سمت بہتا ہوا جارہا تھا، اسی بے ہوشی کی حالت میں اس عورت کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی، بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اللہ کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ اس عورت کی روح قبض کر لی جائے۔ملک الموت نے فورا اس کی روح قبض کرلی، جبکہ بچہ اس تختے پر اسی طرح پڑا رہا، سمندری لہریں اس تختے کو بہاتے بہاتے خشکی تک لے گئیں۔
جس وقت تختہ کنارے پر پہنچا تو وہاں موجود ایک آدمی نے اسے پکڑلیا، عورت کو تو ایک گڑھا کھود کر دفنا دیا البتہ بچہ جو کہ ابھی زندہ تھا اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا، چونکہ اس آدمی کی اولاد نہیں تھی اس لئے اس کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی بھی بہت خوش تھی، میاں بیوی نے اس بچے کا نام’’ شداد‘‘ رکھا۔
جب شداد ساتھ برس کا تھا ایک روز گاؤں کے باہر شداد بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک ہی شور اٹھا کہ بادشاہ کی سواری آرہی ہے۔یہ سنتے ہی سارے بچے بادشاہ کے ڈر سے بھاگئے لیکن شداد قریب کے ایک ٹیلے میں چھپ کر بادشاہ کی سواری اور شاہی لشکر کا نظارہ دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ تمام لشکر گزر گیا اور بادشاہ کی سواری گزرنے کے بعد کچھ پیادے، گری پڑی ہوئی چیزوں کی خبر گیری کے واسطے لشکر کے پیچھے پیچھے آئے۔ ان پیادوں میں سے ایک پیادے نے راستے میں ایک پوٹلی پڑی ہوئی پائی۔ اس نے جب پوٹلی کو کھولکر دیکھا تو اس میں ایک سرمے دانی تھی۔ وہ پیادا اپنے ساتھیوں سے بولا:’’میں نے سرمہ پایا ہے۔۔۔ اگر تمہاری اجازت ہو تو میں اسے اپنی آنکھوں میں لگاؤں کیونکہ میری بنائی بھی کچھ کمزور ہو گئی ہے شاید اس سے کچھ فائدہ ہو جائے۔اس کے ساتھیوں نے جواب دیا بغیر آزمائے ہوئے آنکھوں میں ہر گز مت لگانا کبھی فائدے کے اور نقصان نہ ہوجائے۔ پہلے کسی اور کی آنکھوں میں لگا کر دیکھ۔یہ سن کر پیادے نے ادھر اْدھر دیکھا تو اسے شداد ایک ٹیلے کی اوٹ میں کھڑا نظر آیا۔ پیادے نے اسے بڑے پیار سے بلایا اور کہا۔ آبیٹا ! ہم تیری آنکھوں میں سرمہ لگادیں تاکہ تیری آنکھیں اچھی لگیں۔
شدادنے پیادے سے سرمے دانی اور سلائی لیکر اپنی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ سرمہ لگاتے ہی شداد کے چودہ طبق روش ہوگئے اور اسے زمین کے اندر چھپے ہوئے تمام خزانے بالکل اسی طرح سے نظر آنے لگے جیسے صاف شفاف پانی میں چیزیں نظر آتی ہیں۔ شداد حد سے زیادہ چالاک تو تھا ہی لہٰذا اپنی چالاکی اور عقل مندی سے چلایا۔۔۔ اے خانہ خراب ظالموں !۔۔۔ تم نے میری آنکھیں پھوڑ دیں۔۔۔ ہائے میں اندھا ہو گیا۔۔۔ یہ میری آنکھ میں کیسا زہر لگوا دیا ۔۔۔ ہائے اب میں بادشاہ کے پاس جاکر فریاد کروں گا اور تم کو سزا دلواؤنگا۔پیادوں نے جو یہ سنا تو مارے خوف کے سرمہ وہیں چھوڑ کربھاگ کھڑے ہوئے اورشداد اپنی چالاکی اور پیادوں کی بزدلی پر خوب ہنسا اورسرمہ دانی لیکر اپنے گھر آگیا اور اپنے باپ سے ساراواقعہ بیان کر دیا۔اس کا باپ اپنے بیٹے کی ہوشیاری سے بہت خوش ہوا اور بولا۔ ’’رات کو جب سب لوگ سو جائیں گے تو ہم اپنے بھروسے کے مزدوروں کے ساتھ پھاؤڑے وغیرہ لیکر چلیں گے اور جہاں بھی تجھ کو خزانے نظر آئیں گے ہم وہاں سے کھود کر نکال لیں گے۔اور اپنے گدھوں اور خچروں پر لاد کر خزانہ لے آئیں گے۔
اس طرح شداد نے بہت سا مال و دولت اورجواہر اکٹھے کر لئے تھے۔ اور سب گاؤں والوں کو آئے دن دعوتیں کر کر کے اپنا ہم دردو رفیق بنا لیا تھا۔ کچھ عرصے بعد شداد نے اس گاؤں کے سردار کو قتل کر کے اس کی جگہ پر خود سردار بن بیٹھا۔ ہوتے ہوتے یہ خبر دوسرے حاکموں اور فوجداروں کو پہنچی تو انہوں نے شداد کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر گزرنے، شداد نے بھی اپنی ایک فوج تیار کر لی اور ان حاکموں فوجداروں سے مقابلہ کیا اور اپنی ذہانت اور بہادوری سے سب حاکموں کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دیا اور اس طرح سے بڑھتے بڑھتے شداد بادشاہ بن بیٹھا۔
شداد نے بے پناہ خزانے جمع کرلئے تھے، اپنی طاقت اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے شداد نے اپنی سلطنت کو کمال عروج بخشا تھا۔بے پناہ خزانوں اور مال و دولت ، وسیع و عریض سلطنت ، عظیم الشان لاؤ لشکر اور اپنی ذہانت و طاقت کی وجہ سے شداد اب غرور اور تکبر میں مبتلا ہو گیاتھا،اور اس نے دعویٰ خدائی کر ڈالا۔عالموں اور واعظوں(یا اس وقت کے نبیوں) نے اس ملعون کو حق تعالیٰ کے خوف اور اس کی عبادت کی طرف رغبت 
دلانے کی بہت کوششیں کیں لیکن شداد کا کہنا تھا کہ دولت و حکومت جاہ ثروت، عزت وشہرت اور حشمت سب کچھ میرے پاس موجود ہے تو مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی خدا کی اطاعت کروں۔عالموں نے سمجھایا کہ یہ سب ملک و دولت فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں جنت عطاکرینگے جو اس دنیا سے کروڑہا درجے بہتر ہوگی۔شداد نے پوچھا کہ اس جنت میں کیا خوبی ہے ؟تو عالموں نے جو کچھ بھی خوبیاں اور تعریفیں جنت الفردوس کی تھیں وہ سب اس کے سامنے بیان کر دیں۔ عالموں کی باتیں سنکر شداد نے حقارت سے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’مجھے اس جنت کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی مجھے وہ جنت چاہئے۔ کیونکہ مجھ میں اتنی طاقت اور قوت ہے کہ میں اس سے بھی اچھی جنت اس دنیا میں بنا سکتا ہوں۔
لہٰذا تمام عالموں واعظوں اور کو دکھلانے کی خاطر شدادنے اپنی جنت بنانے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے معتبر سرداروں میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کر کے انہیں جنت بنانے کے لئے نگراں مقرر کیا اور ہر ایک سردار کے ساتھ ہزار ہزار آدمی متعین کئے،زمین میں دفن تمام خزانے نکلوائے گئے اور معدنوں سے سونا چاندی نکلو ا کر ان کی انیٹیں تیار کروائیں اور کوہ عدن سے متصل ایک شہر مربع کی شکل میں دس کوس لمبا ، دس کوس چوڑا اور چالیس کوس اونچامقام بنانے کا حکم دیا۔اس شہر کی بنیادیں اس قدر کھودیں گئیں کہ پانی کے قریب جا پہنچیں اور پھر ان بنیادوں کو سنگ سلیمانی سے بھروایا گیا جب بنیادیں زمین کے برابر ہو گئیں تو اس پر سونے اور اشرفیوں کی انیٹوں سے دیواریں چننی شروع کی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس قدر زیادہ تھی کہ جب آفتاب طلوع ہوتا تھا تو اس کی چمک سے دیواروں کی روشنی پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔شہر کی چہار دیواری کے اندر ہزار ہزار محل تیار کئے گئے اور ہر محل ہزار ستونو ں کا اور ہر ہر ستون ، جو اہرات سے جڑا ہوا تھا اورشہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور ہر مکان میں حوض بنوائے گئے اور شہر کے ہر ہر مکان تک ایک ایک نہر پہنچائی گئی، حوضوں کے فرش پر یاقوت ، زمرد، مرجان اور نیلم کی تہیں بچھائی گئیں اور ا ن کے کناروں پر درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی اور شاخیں اور پتے زمرد کے اور پھول و پھل انکے موتی اور یاقوت کے اور دیگرجواہرات کے بنوا کر لٹکائے گئے۔
مکانوں کی دیواروں پر زعفران اور عنبرسے گل کاری کی گئی اور یاقوت ودیگر جواہرکے خوب صورت ، خوش آواز جانور بنوا کر درختوں پر بٹھائے گئے اور ہر درخت کے پاس ایک پہرے دار کو تعینات کیا گیا۔
جب اس انداز کا شہر بن کر تیار ہوا تو حکم دیا کہ سارے شہر میں قالین اور فرش پر ریشمی زرلفت بچھادئیے جائیں اور سب مکانوں میں ترتیب سے سونے چاندی کے برتن چنوادئیے گئے اور حوضوں میں دودھ، شراب، شہد اور شربت انواع اقسام کے جاری کرادئیے گئے۔ بازاروں میں دکانوں کو بھی کمخواب زردوزی کے پردوں سے مزین کیا گیا اور ہر پیشہ اور ہنروالے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے پیشہ اور ہنرمیں مشغول ہو جائیں اور انواع انواع اقسام کے میوے، طرح طرح کے عمدہ و لذیذ پکوان ہمیشہ ہی سبھی شہر والوں کو پہنچایا کریں۔
غرض کہ بارہ بر س میں یہ شہر بے مثال اس سجاوٹ کے ساتھ تیار ہوا تو تمام سرداروں کوحکم دیاگیا کہ وہ زینت کے ساتھ اس شہر میں جا کر رہیں اور خود بھی اپنی فوج ولشکر کو ساتھ لیکر کمال عذور وتکبر سے شہر کی طرف کوچ کیا اور راستے میں عالموں اور واعظوں کو جلانے کی خاطر کچھ دیر رک کر ان سے تکبر اور حقارت کے ساتھ کہا ’’تم اسی جنت کے واسطے مجھے اس کے سامنے ،جس کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ہو، سر جھکانے اور ذلیل ہونے کے لئے کہتے تھے نا! اب تم کو میری قدرت اور ثروت دیکھنی ہو تو میرے ساتھ چلو! میں نے اس ان دیکھی جنت سے بھی زیادہ حسین و دلکش اور خوبصورت جنت بنوائی ہے جس کو دیکھ کر لینے کے بعد تم اپنے خدا کی جنت کو بھی کم سمجھوگے۔
شداد جب اپنی بنائی ہوئی جنت کے قریب پہنچا تو اس شہر کے باشندوں کے غول اس کے استقبال کے لئے شہر کے دروازے سے باہر آکر اس پرزرو جواہر نچھاور کرنے لگے۔ اس طرح سے جب شداد شہرکے دروازے پر پہنچا تو اس کا ایک قدم دروازے کے باہر اور ایک قدم اندر تھا کہ آسمان سے ایک ایسی سخت کڑک دار آواز آئی جس سے تمام مخلوق ہلاک ہوگئی اور بادشاہ بھی وہیں دروازے پر گر پڑا اور مر گیا۔اس شہر کو دیکھنے کی حسرت کہ کس محنت اور مشقت سے اس کو تیار کیاتھا دل میں لے گیا۔
جس مکالمے کا ذکر شروع میں آیا تھا ، یعنی ملک الموت نے کہا مجھے دو آدمیوں کی روح نکالتے وقت بہت ترس آیا : ایک تو وہ بچہ تھا جس کا واحد سہارا اس کی ماں تھی اور مجھے اس کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا ، اور دوسرا وہ بادشاہ تھا جس نے اتنی آرزوں سے شہر تعمیر کیا اور جب وہ اس کو دیکھنے کے لئے پہنچا تو مجھے روح قبض کرنے کا حکم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بناکسی سہارے کے سمندر کی تیز وتندلہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا۔
ہمارے ہاں بھی اس سے کچھ کچھ کم درجے کے شداد موجود ہیں جو ساری عمر قوم کی دولت لوٹ لوٹ کر اپنی جنت تعمیر کرتے ہیں لیکن اجل اس جنت کے مزے لینے سے پہلے ہی انہیں اُچک لیتی ہے۔ اللھم احفظنا۔ آمین

Thursday, October 16, 2014

فحاشی کے خاتمے کے لئے اچھی مثال

(سید عبدالوہاب شیرازی)
چند سال پہلے کی بات ہے جب تبلیغی جماعت کے مفتی زین العابدین رحمہ اللہ نے فیصل آباد میں فحاشی کے اڈے کے خلاف تقریریں اور شعلے برسانے کے بجائے عجیب فیصلہ کیا، اس واقع کی تفصیل جناب مصطفی صادق صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتے ہیں:
آج کل وقتا فوقتا اجتماعی شادیوں کا ذکر پڑھنے اور سننے میں آتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ اجتماعی شادیوں کی ایک تاریخی روایت جو ہر لحاظ سے مثالی نوعیت کی روایت قراردی جاسکتی ہے مفتی زین العابدین صاحب رحمہ اللہ نے قائم کی تھی۔
اجتماعی شادیوں کا یہ واقعہ عملا رونما نہ ہو چکا ہوتا تو شاید اس پر یقین کرنا چنداں آسان نہ ہوتا۔ لیکن اسے قدرت کا کرشمہ کہئے یا حضرت مفتی صاحب کی کرامت اور ان کے مخلص دوستوں اور متعلقہ سرکاری حکام کی معاونت کا اعجاز قرار دیجئے کہ فیصل آباد کے چنیوٹ بازار کے باسیوں میں ایسی42 خواتین بھی تھیں جو مسلمان معاشرے پر سیاہ دھبوں کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان خواتین کی کونسی مجبوریاں تھیں جو انہیں اس بازار میں لانے پر مجبور کر چکی تھیں۔ اس کا دانشورانہ تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت مفتی صاحب نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو تبلیغی مشن کا حصہ بناتے ہوئے اس مہم پر صَرف کرنے کا فیصلہ کیا کہ ان خواتین کے لئے مسلمان معاشرے کی شایانِ شان زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔


چنانچہ اپنے دو اہم معاونین مولانا عبدالرحیم اشرف اور خان شیریں گل کے ساتھ شبانہ روز مشوروں کے بعد اس وقت کے پولیس حکام کو اعتماد میں لیا گیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان خواتین کو چنیوٹ بازار سے نقل مکانی کے لئے آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیپلز کالونی میں اعلیٰ پائے کے چند مکانات کا انتظام بھی کر لیا گیا۔ مرحلہ وار پروگرام کے مطابق جب تمام خواتین پیپلز کالونی میں اعلیٰ پائے کے چند مکانات میں قیام پذیر ہوگئیں تو حضرت مفتی صاحب کے تعاون سے بعض شرفا نے خاموشی کے ساتھ ان خواتین کے گھر بسانے کے مناسب انتظامات کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ جب ان خواتین کو ایک وسیع ہال میں جمع کیا گیا ، مفتی صاحب نے اپنی اہلیہ سمیت بعض دوسرے دوستوں کی بیگمات کو بھی ان خواتین کے ساتھ میل جول کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا اور انہیں مناسب مشورے بھی دیئے۔ اس کے بعد وہ اہم ترین مرحلہ آتا ہے جو عملی طور پر مفتی صاحب زندگی بھر تبلیغ وارشاد اور توبہ واستغفار کے لئے جانے کہاں کہاں کیا کیا معرکے سر انجام دیتے ہوں گے لیکن آج کے اس معرکے کا اپنا ہی ایک مقام تھا۔ کوئی دوسرا نہیں خود حضرت مفتی صاحب کی اہلیہ محترمہ کی روایت اس ناچیز تک پہنچی ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے توبہ واستغفار کےموضوع پر جو کچھ بھی فرمایا اس کے اثرات ایسے انمٹ اور نمایاں تھے کہ بس آنسووں کی لڑی تھی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر رکھا تھا۔داستان بہت طویل ہے، خلاصہ یہ کہ ایک ایک خاتون کی رخصتی کا اہتمام کیا گیا،نکاح اور رخصتی میں دلچسپی لینے والے شرفا نے انہیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی طرح رخصت کیا سوائے ایک خاتون کے سب کے نکاح ہوئے۔
بلاشبہ یہ ایک مثالی واقعہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی طرح ایسی عورتوں کو عزت کا مقام دے کر ان کی شادیاں کرائی جائیں۔مفتی صاحب کی یہی خصوصیات ان کے شاگرد مولانا طارق جمیل صاحب میں بھی ہیں چنانچہ اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کئی معاشرے گندے طبقے کے لوگوں پر محنت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی ایسی خواتین، ہیجڑے اور ایکٹر راہ راست پر آگئے۔
جیسا کہ میں نے گذشتہ مضمون میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اصل بات یہ ہے کہ خواتین کی تعداد ہر زمانے میں مردوں سے زیادہ رہتی ہے، اسی وجہ سے اللہ نے مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت بھی دی ہے، اگر تعداد برابر ہوتی تو شاید یہ اجازت نہ ہوتی۔ لیکن ہم نے دوسری شادی، بیوہ کی شادی، رنڈے کی شادی کو گناہ کا کام سمجھنا شروع کردیا ہے جس کا نتیجہ زنا،معاشرتی بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔آئیے ذرا اس جھلک کو دیکھیں کہ دورِ صحابہ میں نکاح کیسے ہوتے تھے، اور اس وقت زیادہ شادیاں کرنے کی وجہ سے عورت کتنی قیمتی ہوتی تھی اس کی ویلیو کتنی زیادہ تھی چندواقعات ملاحظہ کریں۔
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے شوہر نے طلاق دی تو حضرت معاویہ اور ابوالجہم رضی اللہ عنہما نے نکاح کا پیغام بھیجا، ایک طلاق یافتہ عورت کی طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے قریشی سردار ابن سردار اور حضرت ابوالجہم بیک وقت دوشخصیات نکاح کا پیغام بھیج رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت قیس کے اولیا سے فرمایا کہ “اما معاویہ فصعلوک” یعنی معاویہ انتہائی فقیر ومسکین ہیں ، لہٰذا ان سے اپنی بچی کا نکاح نہ کرو اور “اما ابوالجہم” رہے ابوالجہم “فلا یضع عصاہ عن عاتکہ” تو وہ ایسی سخت طبیعت کے ہیں کہ ان کی لاٹھی ان کے کندے سے کبھی نہیں اترتی، لہٰذا ان دونوں کو چھوڑ کر اسامہ بن زید سے نکاح کرو۔دیکھیں کیسا معاشرہ تھا کہ بیوہ کے لئے اتنے بڑے بڑے رشتے آرہے ہیں کہ نبی صلی اللہ کو مداخلت کرکے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب تعدد ازواج کی برکات تھیں۔
اسما بنت عمیس جو اپنے جوان شوہر جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے غزوہ موتہ میں شہیدہونے کے بعد بیوہ ہو گئیں ان کے بارے میں روایات میں ہے:کہ ابھی عدت گزری ہی تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا جسے حضرت اسما نے قبول کرلیا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح فرمایا اور پھر ولیمہ کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی مگر حضرت اسما بنت عمیس نے یوں کہہ کر انکار کردیا : اے ابوالحسن آپ رہنے دیں کیونکہ آپ ایک ایسے شخص ہیں کہ جن کی طبیعت میں سنجیدگی نہیں۔دیکھیں اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اگر یہ سوچتے کہ میں تو پہلے ہی دو شادیاں کر چکا ہوں مزید ایک اور شادی سے کہیں پہلی دو کا ثواب بھی کم نہ ہو جائے یا خواہ مخواہ میں مجھے خود پر اتنے سارے بال بچوں کی فکر مسلط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بیویوں میں عدل نہ ہوسکا تو قیامت میں اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا لہٰذا اطمینان قلب کے ساتھ دین ودنیا کے کاموں میں ہمہ تن مشغول رہنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اسما بنت قیس کی طرف حضرت علی نے دوبارہ پیغام نکاح بھیجا جو انہوں نے قبول کرلیا۔
صحابہ کرام کے واقعات میں آپ کو ایسا بکثرت ملے گا کہ ایک ایک عورت چار چار مرتبہ بیوہ ہوئی اور کبھی بھی اس کو شادی میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا نہ تو وظیفے پڑھے اور نہ ہی بزرگوں سے دعائیں کروانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام نکاح بھیجا، انہوں نے یہ کہہ کر پیغام مسترد کردیا کہ مجھے ان سے نکاح میں کوئی رغبت نہیں۔
امیرالمومنین نے ایک پیغام ام ابان بنت عتبہ بن شیبہ کی طرف بھیجا ام ابان رضی اللہ عنہ نے بھی یہ کہہ کر انکار کردیاکہ سخت طبیعت کے ہیں۔یہ سارے انکار اس لئے ہو رہے تھے کہ ان کو یقین تھا کہ ہمیں اپنی مرضی کا رشتہ مل جائے گا۔
عربوں اور افغانوں کے وہ قبائل اور وہ ممالک جہاں تعددازدواج کا رواج ہے ہمارے معاشرے کے برعکس کوئی مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین روزگار کا حامل ہو اپنی پھوپھی زاد ، چچازاد یا ماموزاد بہنوں سے نکاح کی کوشش کرت ہے اور یوں واہاں تعلیم سے عاری اور غریب خواتین کے والدین بھی اپنے خاندان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار مردوں کو چھوڑ کر خاندان سے باہر رشتے تلاش کرنے اور خاک چھاننے پر مجبور نہیں ہوتے۔
ہمارے معاشرے میں عورت پر ظلم ہوتا ہے ، افغانوں کے ہاں ہمارے بالکل برعکس مرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکی کے والدین اپنے داماد کی اچھی خاصی کھال کھینچ لیتے ہیں ، مہر کی رقم کے علاوہ لڑکی کا باپ داماد سے اپنی جیب بھرنے کے لئے بھی اچھی خاصی رقم وصول کرتا ہے اور کئی کئی لاکھ روپے وصول کرکے اپنی بچی کے نکاح پر آمادہ ہوتا ہے، یہ رسم بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے اور شریعت اس کی حوصلہ افزائی ہر گز نہیں کرتی مگر ان باتوں کے باوجود اس سے اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں نکاح کے حق میں عورت کی کیا قدروقیمت ہے۔
ہمارے معاشرے کی بے حسی دیکھیں کہ لڑکا شادی کی پہلی رات بھی عورت کے بستر پر گزارتا ہے اور بالکل شرم محسوس نہیں کرتا، ساری زندگی عورت کے برتن اور فرنیچر استعمال کرتا ہے۔
نکاح یا سوداگری
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نکاح میں چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں:
۱۔خاندان، ۲۔دین، ۳۔حسن، ۴۔مال اور پھر فرمایا تم دین کو ترجیح دو۔
اور حدیث کا مفہوم ہے کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں اخراجات کم سے کم ہوں۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کی روشنی میں صحابہ کرام نے رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے نکاحوں کو انتہائی سادہ بنا دیا، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے نکاحوں میں برکت رکھ دی۔
لیکن آج ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام کی سنت سے اعراض کیا جس کی وجہ سے ساری برکتیں سلب ہوگئیں۔ آج شادیاں ہوتی ہیں جن کے لئے لوگ ساری ساری زندگی کماتے ہیں اور پھر شادی کے دو دنوں میں پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں۔مقابلہ بازی ہوتی ہے کہ فلاں نے اپنی شادی میں اتنا پیسہ ناچنے والوں پر خرچ کیا تھا ہم اتنا خرچ کریں گے۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر سرخی دیکھی تو فرمایا یہ کیا ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا حضور میں نے نکاح کیا ہے، اللہ اکبر ایک چھوٹی سے بستی میں بسنے والوں کو بھی خبر ہی نہ ہوئی کہ اس بستی کا سب سے امیر ترین انسان نکاح کرتا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔
جس دور میں ہم جی رہے ہیں آج نکاح بہت کم ہوتے ہیں ، یا مقابلہ بازی ہوتی ہے، یا ریاکاری ہوتی ہے، یا سوداگری ہوتی ہے۔
شاید آپ کو یہ لفظ بہت عجیب لگے کہ نکاح کے بجائے سوداگری کا کیا مطلب ہے؟
جی جناب آج کے دور میں بہت سارے لوگ سوداگری بھی کرتے ہیں۔ یعنی بولی لگاتے ہیں اتنی اتنی رقم دو گے تو نکاح ہوگا۔
ظاہر بات ہے جب اس طرح دونوں طرف سے جب سودا کیا جاتا ہے تو پھر وہ محبت اور پیار کبھی بھی پیدا نہیں ہو سکتا جو ایثار کے جذبے سے اللہ تعالیٰ پیدا فرمادیتے ہیں۔ چنانچہ میاں بیوی دونوں اپنے اپنے ہتھیار استعمال کرنے کی ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں نکاح میں کم سے کم خرچ کیا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثار والا معاملہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے دل میں اس ایثار کی وجہ سے محبت اور الفت پیدا فرماتے ہیں اور اس طرح ان کی ساری زندگی اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کرتے ہوئے گزرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دوسری بڑی خرابی رشتے کے انتخاب میں غلط ترجیحات ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ترجیح بتائی وہ "دین " ہے ، یعنی لوگوں کی مختلف ترجیحات ہوتی ہیں بعض حسن کوترجیح دیتے ہیں اور بعض خاندان کو، بعض مال کو اور بعض دین ، ان میں سب اعلیٰ چیز جسے ترجیح دینی چاہئے اور ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھنا چاہئے وہ دین ہے۔ ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں اس کا خیال بھی رکھا جا سکتا ہے لیکن دین کے بعد یعنی پہلی ترجیح دین ہونا چاہئے اس کے بعد باقی تین چیزوں میں جیسے مناسب ہو کر لیا جائے ، مثلا
۱۔ دین۲۔خاندان ۳۔مال ۴۔حسن
۱ٍ۔دین ۲۔مال ۳۔حسن ۴۔خاندان
۱۔دین ۲۔حسن ۳۔خاندان ۴۔مال
۱۔دین ۲۔خاندان ۳۔حسن ۴۔مال
ایک صاحب کہنے لگے یہ بچے میری پہلی بیوی سے ہیں جن کو میں نے طلاق دے دی تھی ، جب ان سے پوچھا کیوں طلاق دی ؟ کہنے لگے بدزبان تھی، اس پوچھا اب اس کا نکاح ہوگیا؟ کہنے لگے تھوکے ہوئے مال کو کون چاٹتا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟ (استغفراللہ)
ان صاحب نے جیسی بھی بات کی بہرحال ہمارے معاشرے کی صحیح تصویر کشی کی ہے۔اس کے مقابلہ میں صحابہ کے زمانے میں جو کچھ ہوتا تھا اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو قرآن میں کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم بیوگان کے نکاح میں غیر معمولی رغبت کے باعث انہیں عدت گزرنے سے قبل بھی نکاح کے سلسلے میں کسی نہ کسی طرح ضرور یاد کرو گے، لہٰذا اس رغبت وشوق کی رعایت کی خاطر تمہیں اشارہ اور گول مول طریقے سے عدت سے قبل بھی پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت ہے۔
یاد رکھیے! کل آپ کی بیٹیوں میں سے بھی کسی کو طلاق ہو سکتی ہے، اگر آپ اپنے قول وعمل سے اپنی بیوی پر اضافی ترس کا ثواب حاصل کرنے کی خاطر اپنے خاندان کا جمود توڑنے کو تیار نہیں تو ممکن ہے کہ آپ کی کسی بچی یا پوتی، نواسی کو طلاق ہو اور وہ بھی “ تھوکے ہوئے مال” کی فہرست میں اس طرح سے داخل ہو جائے کہ آپ کے خاندان کا کوئی مناسب اور اس بچی کا ہم پلہ اور کفو اس سے نکاح کو “ تھوکے ہوئے مال کو چاٹنا” سمجھے اور اس نکاح پر آمادہ نہ ہو یا ممکن ہے کہ آپ کی کوئی بچی حسن وجمال والی نہ اور آپ کا متوقع داماد یہ سوچ کر اسے مسترد کردے کہ شادی زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے، جیسا کہ آپ نے اپنی باری میں بھی یہی سوچاتھا تو مسلمانوں بتاو کیا یہ عورت پر ظلم نہیں ؟؟ اگر ظلم ہے تو ظالم کون ہے۔۔۔؟؟ کیا اب بھی وہ شخص ظالم نہیں جو استطاعت کے باوجود ان حالات میں بھی ایک زوجہ پر قناعت کو سعادت سمجھے۔۔۔۔؟
کئی ایسے واقعات بھی مشاہدے میں آتے رہتے ہیں کہ ایک شخص کی بیٹی کا رشتہ نہ ہوا، اس کی عمر بڑھنے لگی تو اس نے ہر طرف سے ناکام اور پریشان ہوکر بالاخر اپنی بیٹی کو کالج میں داخل کردیا کہ خود ہی کسی سے دوستی لگا کر شادی کرلو۔
اب آپ خود سوچیں اس صورت میں کیا ہوگا۔۔۔؟؟ کیا وہ لڑکی دوستی لگا کر شادی کرلے گی۔۔۔؟؟ کیا ہوگا یہی نا کہ وہ کبھی ایک سے دوستی لگائے گی کبھی دوسرے سے۔ لڑکوں کو تو کوئی مسئلہ نہیں شادی تو وہ اپنی مرضی سے کریں گے کیونکہ یہ زندگی میں صرف ایک بار کرنی ہے، البتہ اس لڑکی سے دوستی وقت گزاری اور شہوت پوری کرنے کے لئے لگائیں گے، اس طرح اس بے چاری کی عزت بھی تار تار ہو جائے گی اور شادی بھی نہیں ہوگی۔
 آئے دن اخبارات میں پڑھنے اور سننے میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ فلاں لڑکی اپنے اہل خانہ کی رضامندی کے بغیر اپنے ایک شناسا کے ساتھ گھر سے نکل گئی بلکہ معاملہ اب تو اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ مسلمان لڑکیاں اپنے غیر مسلم ساتھی ، عاشق اور دوست کے ساتھ نکل جارہی ہیں ، ابھی چند دن پہلے مسلمانوں کے اجتماعی و دینی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے ایک صاحب علم نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ میرے رہائشی شہر کے قریب ایک صنعتی شہر میں 200 سے زائد مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادی کرلی ہے اور اس سےبھی کربناک و افسوسناک خبر یہ کہ حیدرآباد کی ایک اعلی تعلیم یافتہ شکل و صورت کی مالک دولت مند باپ کی 24 سالہ بیٹی ایک موچی ذات کے 40 سالہ ہندو سے عشق و معاشقہ کے بعد شادی کرلیتی ہے اور جب اس شادی کو رسمی شکل دینے کی بات آئی تو اس تقریب میں اس لڑکی کا نام نہاد مسلمان باپ اپنے پچاس سے زائد رشتہ داروں کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے شرکت کرتا ہے ، یہ اور اس قسم کی خبریں جو آئے دن اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اس امر کی عکاسی کررہی ہیں کہ موجودہ دور میں مسلمان نہ صرف اپنا دین و اخلاق بلکہ اپنا تشخص بھی کھوتے جارہے ہیں۔