Search This Blog

Wednesday, January 13, 2016

ہم کس دور میں موجود ہیں

اس وقت امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان سخت پریشان ہیں، پریشانیوں کی وجوہات بہت ساری ہیں لیکن میں آج ایک خاص پریشانی کے حوالے سے چند گذارشات پیش کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شاءاللہ اس پریشانی کا کافی وشافی علاج اور حل بھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔
پریشانی یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی اندوہناک حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس وقت یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درست تھا یا غلط تھا، جائز ہے یا ناجائز ہے، اس میں کون ملوث ہے؟ کسی مسلمان نے کیا یا کافر نے کیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ عدل وانصاف ہے یا ظلم اور سربریت ہے؟ ایسی صورتحال میں لوگوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو ناجائز اور حرام قرار دے دیتا ہے، دوسرا وہ جو جائز بلکہ افضل اور بہتر قرار دیتا ہے اور تیسرا وہ گروہ جو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں احادیث کی روشنی میں دے کر پھر اس کے حل اور بچاو کی طرف آتا ہوں۔
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچابنایا جائے گا، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا، اور ان میں ”رویبضہ“ بات کریں گے، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد،السنن الواردہ فی الفتن)۔ اس دور پر یہ حدیث کتنی مکمل صادق آتی ہے، نام نہاد مہذب دنیا کا بیان کردہ جھوٹ جس کو پڑھے لکھے لوگ بھی سچ مان لیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے سچ ہیں جن پر دنیا کے دجالی میڈیا نے لفاظی اور فریب کی اتنی تہیں جما دی ہیں کہ عام انداز میں ساری عمر بھی کوئی ان کو صاف کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے اگر میڈیا اس کو دبا دے تو وہ دب جاتا ہے(جیسے تھر میں روزانہ اوسطا دس بچے بھوک سے مرجاتے ہیں) اور اگر کسی واقعہ کو میڈیا اچھال دے تو ہر آدمی کا موضوع سخن وہی ہوتا ہے۔
ابوداود کی ایک روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ دو خیموں(جماعتوں) میں تقسیم ہو جائیںگے ، ایک اہل ایمان جن میں بالکل نفاق نہیں ہوگا اور ایک اہل نفاق جن میں بالکل ایمان نہیں ہوگا تو تم دجال کا انتظار کرو کہ آج نکلے یا کل نکلے۔
 یہ دو خیمے(جماعتیں) مسلمان خود تو نہ بنا سکے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کام کفر کے سردار سابق صدر بش سے لیا، چنانچہ اس نے نائن الیون کے بعد واضح اعلان کیا کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے ساتھ نہیں؟ اس اعلان کے فوری بعد دنیا کے مختلف خطوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران اور دیگر بے شمار لوگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ لوگ درمیان میں ہی رہے اور اس وقت سے آج تک یہ چھانٹی جاری ہے اور لوگ مسلسل دو حصوں میں تقسیم ہورہے ہیں، اور ہر گروہ باقی لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
”دجال “ دجل سے ہے اور دجل دھوکہ وفریب کو کہتے ہیں چنانچہ یہ دھوکہ وفریب اس وقت عروج پر ہے ۔ ضروری نہیں کہ کوئی شخص بظاہر معزز داڑھی والا لگ رہا ہے اور میڈیا پر بہت خوبصورت انداز میں بول لیتا ہے یا بہترین پیرائے میں لکھ لیتا ہے اپنے نام کے ساتھ سید،صدیقی یا فاروقی لکھتا ہے تو وہ دھوکہ نہیں دے رہا ہوگا، اصل دھوکہ تو یہی ہے کہ چار دن بہت اچھی بات بول کر یا لکھ کر پانچویں دن ایسی بات کردی کہ دوسرے کا ایمان اس کے دل سے ایسے نکال دیا جیسے مکھن سے بال۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دجال اور اس کے آنے سے پہلے والا دور سارا کا سارا دجل وفریب اور دھوکہ پر مبنی ہوگا لہٰذا آج ہم اسی دور میں موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں اس کے حل کی طرف: اس دجل سے بچنے اور فتنہ وفساد سے اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دجل سے ہمارا ایمان خراب کرنے کی کوشش کرے اور ہم اس کو پہچان لیں اور اپنے ایمان کو بھی محفوظ کرلیں، ساری دنیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھائے لیکن ہمیں جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ نظر آئے۔ جی ہاں! ایسا ممکن ہے ایک حدیث میں حضرت خذیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا اس فتنہ اور فساد سے بچنے کا کوئی حل ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی ایسا فتنہ نہیں جس سے نجات نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث ہے جو ابوداود، مسلم،ترمذی،احمداور نسائی میں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنے سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے ، اس کی تلاوت دجال کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے ۔اس میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں سے متاثر ہو جائے گی اس سورت کی تلاوت کرنے والا اللہ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا، دجالی فتنہ اور میڈیا اس کے دل ودماغ کو متاثر نہیں کرسکے گا۔ ان شکوک شبہات اور دھوکہ وفریب سے بچنے کے لئے اپنا معمول بنائیں ہرروز صبح سورہ کہف یا کم از کم ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کریں، ان شاءاللہ فریب کے پردوں کے پیچھے حقیقت کیا ہے وہ خود آپ کو نظر آئے گی اور جان وایمان کی حفاظت بھی ہوگی۔لیکن یاد رکھیں اصل فائدہ تبھی ہوگا جب ہم سورہ کہف کو سمجھ کر پڑھیں یا کم از کم اس کی تعلیمات کا استحضار ہو کہ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا سبق دیا ہے۔
ظہور امام مہدی،خروج دجال اور نزول عیسی علیہ السلام کے قریبی زمانے کی بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں جنہیں علامات قیامت کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کو مکمل طور پر اس مختصر مضمون میں لکھنا ممکن نہیں البتہ صرف ان علامات کی ایک فہرست بتادیتا ہوں، تاکہ ہمیں یہ احساس ہوسکے کہ ہم کس دور میں موجود ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
۱۔پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا،۲۔مساجد کو سجانا، ۳۔مدینے سے آگ کا نکلنا، ۴۔سود کا عام ہوجانا، ۵۔خلافت کا ختم ہوجانا، ۶۔علماءکا پے درپے قتل ہونا، ۷۔ فالج کا عام ہوجانا، ۸۔وقت کا تیزی سے گزرنا، ۹۔چاند کی پہلی تاریخ میں اختلاف ہونا، ۰۱۔جدید ٹیکنالوجی،کمپیوٹرز، چِپ اور ریکارڈنگ سسٹم کا عام ہوجانا، ۱۱۔منافق لوگوں کا حکمران بننا،۲۱۔تیسری جنگِ عظیم، ۳۱۔ فتنوں کا ظہور ،۴۱۔ دین پر چلنا اتنا مشکل ہوجائے کہ جیسے ہاتھ میں انگارے پکڑنا(یاد رہے دین صرف نماز روزے کا نام نہیں،بلکہ دین عقائد،عبادات،رسومات، معاشرت،معیشت،اور سیاست کے مجموعے کا نام ہے۔ آج کل پہلی تین چیزوں پر چلنا آسان ہے جبکہ دوسری تین چیزوں پر شریعت کے مطابق عمل کرنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔)،۵۱۔شہروں میں اپنا دین ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا، وہی محفوظ ہو گا جو پہاڑوں یا دور دراز دیہاتوں میں نکل جائے، ۶۱۔مسلمان ممالک خاص طور پر عراق،شام وغیرہ پر اقتصادی پابندیاں لگنا، ۷۱۔اہل شام پر غلہ اور پیسہ بند کردیا جائے گا، ۸۱۔عرب کی بحری ناکہ بندی، ۹۱۔مدینہ کی ناکہ بندی، ۰۲۔مسجد نبوی کا دور سے سفید محل کی طرح نظر آنا، ۱۲۔یمن اور شام میں بڑے بڑے فتنوں اور شیطان کے سینگ کا ظاہر ہونا، ۲۲۔بیت المقدس میں یہودیوں کا قوت پکڑنا، ۳۲۔عرب عورت پچیس درہم میں فروخت ہوگی، ۴۲۔دریائے فرات پر جنگ۔
خروج امام مہدی کی چند علامات: ۵۲۔حج کے موقع پر منی میں قتل عام ہوگا، ۶۲۔رمضان میں ایک آواز آئے گی جس سے لوگ بیہوش اور بہرے ہونگے، ۷۲۔ایک سفیانی شخص شام سے نکلے گا جس کا سر بڑا،چہرہ چیچک زدہ اور آنکھ میں سفید دھبہ ہوگا، شروع میں اسے ایک نجات دہندہ کے طورپر متعارف کرایا جائے گا لیکن بعدمیں وہ بہت قتل عام کرے گا یہاں تک کے عورتوں کے پیٹ سے بچے نکال نکال کر قتل کرے گا،۸۲۔نفس زکیہ یعنی کسی نیک ہستی بزرگ کا قتل ہوگا جس پر ساری امت یہاں تک کہ فرشتے بھی غضبناک ہوں گے اس کے فورا بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا، ۹۲۔خراسان سے کالے جھنڈوں کا نکلنا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور احادیث کے لئے دجال،امام مہدی کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں دجال کے دجل اور فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین


Monday, January 11, 2016

بچے،قرآن اور ہماری ذمہ داری

بچے اورقرآن، ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا میں قرآن کے ماہرین بچپن ہی سے قرآن سے جڑے ہوئے تھے۔ جن بچوں کو ان کے والدین نے چھوٹی عمر میں قرآن سے جوڑا ، ان بچوں کا قرآن سے تعلق ساری زندگی مضبوط رہا، یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بچپن سے قرآن کے ساتھ جوڑنے سے مراد یہ نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے، یعنی بچے کو سکول سے واپس لاکر آدھے گھنٹے کے لئے مسجد کے قاری صاحب کے حوالے کردینا، جب کہ وہ بچہ انتہائی تھکاوٹ کا شکارہوتا ہے، اور پھر والدین نے بھی ساری ذمہ داری قاری صاحب ڈال رکھی ہوتی ہے، سالوں گزر جاتے ہیں اور والدین کبھی قاری صاحب سے ملاقات تک نہیں کرتے۔
اگر چہ موجودہ دور میں الحمدللہ حفظ قرآن کا رجحان زیادہ ہوا ہے لیکن پھر بھی عموما یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کسی ایک بچے کو حفظ کروا کر دس افراد کی بخشش کے پرانے پر خود ہی دستخٰط کرکے بیٹھ جاتے ہیں، یعنی اب جو بھی ہوہم بخشے بخشائے ہیں۔ چنانچہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کو پاکیزہ ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، بچہ مدرسے سے آکر گھر میں موجود شیطانی آلات سے بھی مستفید ہورہا ہوتا ہے، فلمیں ڈرامے اور کارٹون کی شکل میں دجالی ہدایات کے انجکشن اس کے قلب ودماغ پر لگتے رہتے ہیں۔
حفظ کے رجحان میں اضافے کے باوجود اب بھی نوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں جو بچے کو بچپن کی عمر میں قرآن سے نہیں جوڑتے بلکہ جدیدزبانیں اور علوم ہی بچپن میں پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ جو بچے بچپن میں حفظ کرلیتے ہیں ان کا حافظہ دوسرے بچوں سے زیادہ قوی ہوتا ہے، چنانچہ اگر بچوں کو سب سے پہلے یعنی پانچ چھ سال کی عمر میں حفظ کروانا شروع کردیا جائے تو باقی چیزیں بعد میں بچہ بہت اچھی طرح سیکھ لیتا ہے۔
دوسری بات یہ بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بچے کو چھوٹی عمر میں جو چیز سکھائی جائے گی ساری عمر اسی چیز کی چھاپ اس کی عملی زندگی میں بھی نظر آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا حالانکہ سات سال کے بچے پر ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی،ابھی تو مزید سات سال ہیں نماز فرض ہونے میں،یہ سارا ہتمام اسی وجہ سے ہے۔
طبرانی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ:اپنے نبی ﷺ کی محبت، اور ان کے اہل بیت کی محبت، اور قرآن کریم کی تلاوت، اس لئے کہ قرآن کریم کو یاد کرنے والے اللہ کے عرش کے سائے میں انبیاء اور منتخب لوگوں کے ساتھ اس روز ہوں گے جس روز اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔(تربیت الاولاد فی الاسلام،شیخ عبداللہ ناصح علوان)
مسلمان علماء تربیت نے بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اور رسول اللہ ﷺ کے غزوات کی تعلیم اور مسلمانوں کے عظیم قائدوں کے کارنامے بتلانے اور سکھلانے کے ضروری ہونے کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔
امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہ وصیت کی ہے کہ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔
علامہ ابن خلدون نے مقدمہ ابن خلدون میں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے اور یاد کرانے کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی تعلیم ہی اساس اور بنیاد ہے، اس لئے کہ قرآن کریم دین کے شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ مضبوط اور ایمان راسخ ہوتا ہے۔
ابن سینا نے ’’کتاب السیاسۃ‘‘ میں یہ نصیحت لکھی ہے کہ جیسے ہی بچہ جسمانی اور عقلی طور سے تعلیم وتعلم کے لائق ہو جائے تو اس کی تعلیم کی ابتداء قرآن کریم سے کرنا چاہیے تاکہ اصل لغت اس کی گھٹی میں پڑے اور ایمان اور اس کی صفات اس کے نفس میں راسخ ہوجائیں۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ فضل بن زید نے ایک دیہاتی عورت کے بچے کو دیکھا اور بہت متعجب ہوا، اس عورت سے اس بچے کے بارے میں سوال کیا تو اس عورت نے کہا: جب اس بچے کی عمر پانچ سال ہو گئی تو میں نے اسے استاد کے حوالے کردیا، اور اس نے قرآن کریم یاد کرلیا، اور تلاوت وتجوید سیکھ لی، پھر اسے عمدہ اشعار یاد کرائے اور سکھائے اور اپنی قوم کے قابل فخر کارناموں کی تعلیم دی گئی، اور اس کے آباء واجداد کے کارنامے بتائے، جب وہ بلوغ کی عمر کو پہنچ گیا تو میں نے اسے گھوڑوں پر سوار کرایا اور وہ بہترین مشاق شہسوار بن گیا اور ہتھیار سے لیس ہو کر محلہ کے گھروں کا محافظ بن گیا اور مدد کے لئے پکارنے والوں کی آواز کی جانب متوجہ رہنے لگا۔
پہلے زمانے کے لوگ اپنے بچوں کی تربیت کا نہایت اہتمام کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کو جب اساتذہ کے ھوالے کرتے اور ان حضرات و سب سے پہلے جو مشورہ دیتے اور جس بات کی انہیں نصیحت کرتے وہ یہ تھی کہ ان بچوں کو سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم دیں، اس کی تلاوت سکھائیں اور اسے انہیں یاد کرائیں تاکہ ان کی زبان درست ہو اور ان کی ارواح میں پاکیزگی وبلندی اور دلوں میں خشوع وخضوع 
پیدا ہو اور آنکھوں میں آنسو آئیں اور ان کے نفوس میں ایمان اور یقین راسخ ہو جائے۔

Tuesday, January 5, 2016

تدبیر ،رد عمل اور ہیجانی تقاریر

ایک بہترین قائد اور رہنما میں یہ وصف ہونا چاہیے کہ وہ اپنی محنت سے اکھٹی کی ہوئی جمع پونجی(کارکنان) کی حفاظت کا پورا خیال رکھے۔آپ کے لئے یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ستائیس جنگوں میں حصہ لیا اور پچپن سریے روانہ کیے، لیکن مدنی زندگی کے دس سالوں اور ان تمام جنگوں میں مجموعی لحاظ سے صرف اور صرف 969 لوگ قتل اور شہید ہوئے، وہ بھی کافروں اور مسلمانوں کو ملا کر۔حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب کو تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب قرار دیا جاتا ہے لیکن اتنے بڑے انقلاب اوردس سالوں میںصرف1000سے بھی کم لاشیں گریں۔ جبکہ ہمارے ہاں اشتعال انگیز اور ہیجانی تقاریر کرکے ہزاروں نوجوانوں کو ساکت دیواروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا شہید کرایا گیا، ان بیچاروں کو ہم شہید ہی کہیں گے کیونکہ ان کی اکثریت دین کے جذبے سے تو سرشار تھی لیکن دین کی حکمت اور تعلیم سے بے بہرہ تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت اور تدبیر سے مکمل جہالت ،کفراور اندھیر نگری میں اپنی ٹیم پیدا بھی کی اور مسلسل اوپر کی طرف سفر کیا جب کہ ہمارے ہاں ایسے لیڈروں نے ایک دم اوپر کو چھلانگ لگائی اور پھر واپس تندور میں گرپڑے۔چنانچہ وہی لیڈر آج کل سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرکے کوئی تو تندور پر روٹیاں بنانے کا طریقہ سکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کوئی حجامہ سینٹر کھول کر حجامہ کی ٹریننگ اور فضائل سنارہے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی مشہور صوفی بزرگ اور شاعر گزرے ہیں۔ انہوں نے 26ہزار اشعار پر مشتمل مثنوی معنوی لکھی جو آج تک دنیا میں مقبول ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مثالوں کے ذریعے مسلمانوں کو دینی اور دنیوی ترقی کا سبق دیا ہے۔ جب1258میں تاتاریوں نے بغداد تباہ کرکے عباسی سلطنت کا خاتمہ کردیاتھا اس وقت مولانا روم بھی موجود تھے، تاتاریوں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے لیکن مسلمان بے بس ولاچار بنے ہوئے تھے۔ ایسے سخت حالات میں مولانا روم نے اس وقت کے مسائل کے حل کے لئے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ایک مثال بیان کی ہے، وہ لکھتے ہیں:ایک جنگل میں شیر نے تباہی مچائی ہوئی تھی، سارے جنگل کے جانور شیر سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کا ایک حل نکالا، انہوں نے شیر سے بات کرکے اس کو اس پر راضی کیا کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے۔اس تجویز پر عمل ہونے لگا، اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ اندازی کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا، جس جانور کے نام قرعہ نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے۔ آخر کار قرعہ ایک خرگوش کے نام نکلا، یہ خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے تھا کہ جب میرے نام قرعہ نکلے گا تو میں اپنے آپ کو شیر کی خوراک نہیں بننے دوں گا، بلکہ تدبیر کے ذریعہ خود شیر کو ہلاک کردوں گا۔ چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خرگوش ایک گھنٹہ تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا، شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کو ڈانٹنے لگا، دوسرا غصہ اس بات پر بھی تھا کہ خرگوش چھوٹا سا جانور ہے۔ خرگوش نے نہایت ہی نرمی اور لجاجت سے کہا کہ حضور! بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا ہے، آپ کی خوراک کے لئے دو عدد خرگوش بھیجے گئے تھے مگر راستے میں اس دوسرے شیر نے ایک خرگوش کھا لیا میں بڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں۔ اس بات سے شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مُڑ گیا، اس نے چلّا کر کہا: وہ دوسرا شیر کہاں ہے؟ خرگوش نے نہایت ادب سے کہا چلئے حضور میں آپ کو بتاتا ہوں، خرگوش اس کو ایک کنویں پر لے گیا اور کہا نیچے دیکھئے وہ ہے۔ شیر نے نیچے دیکھا تو اپنا عکس پانی میں نظر آیا۔ شیر غرایا تو کنویں کے اندر سے دوسرے شیر کے غرانے کی آواز بھی آئی چنانچہ شیر نے اس پر حملہ کرنے کے لئے کنویں میں چھلانگ لگادی اور کچھ دنوں کے بعد بھوکا مرگیا۔مولانا روم فرماتے ہیں خرگوش کی تدبیر کا جال شیر کی موت کا پھندا تھا۔ یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا نے اپنے وقت کے مسلمانوں کو تاتاریوں کے خلاف دی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تدبیر کے ساتھ کام کرنے سے بڑے سے بڑے اور مشکل سے مشکل کام نہایت آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ہمیں کوئی بھی کام سرانجام دیتے ہوئے جذبات، اشتعال انگیزی اور غصے میں اپنے آپ کو بے قابو کرکے دشمن کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننا چاہیے، ہماری اس طرح کی روش سے آج دشمن ہمیں اپنے مقاصد میں استعمال کررہے ہیں ۔بدقسمتی سے آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تو وہ ہے جو شیر کے منہ کا نوالا بننے کے لئے بالکل ہاتھ باندھ کر تیار بیٹھا ہے اور اپنی باری کا انتظار کررہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بغیر کسی تدبیر،تنظیم،تربیت اور تعلیم کے محض اشتعال انگیزی کرکے اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کررہا ہے۔ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم موقع محل، اوروقت کے تقاضوں سے آگاہ ہوں، کس وقت کیا کرنا ہے اور کس وقت کیا کہنا ہے اس کی قابلیت ہم رکھتے ہوں۔میرے خیال میں ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم دین اور دنیا دونوں سے آگاہ ہوں۔ ہماری یہ دونوں آنکھیں کھلی ہوئی ہوں۔ دشمن نے ہماری قوم کو ایسا تقسیم کردیا ہے کہ کچھ لوگوں نے دین کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دنیا کی آنکھ بند کرلی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے دنیا کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دین کی آنکھ مکمل بند کرلی ہے۔ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم مخالف کے اندر چھپی اس کی کمزوری کو تلاش کریں، اور پھر اس کا رُخ اس طرف موڑ لیں، یاد رکھیں جب دریا بپھرتا ہے تو اس کے سامنے نازک بندباندھنے یا اس کے سامنے کھڑا ہونے سے اسے نہیں روکا جاسکتا،بلکہ ایسے موقع پر اس کا رخ دوسری طرف موڑ کر یا اس کے پانی کو کئی راستوں پر ڈال کر تقسیم کرنے سے ہم اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔آج یہ صلاحیت ہمارے دشمنوں کے پاس ہے وہ میڈیا کے ذریعے ہر روز ہمارے ذہنوں کو کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف موڑ دیتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔ جس طرح کوئی شخص ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے اپنی مرضی سے گیم کے کردار کو آگے پیچھے کرتا یا فاتح اور شکست خوردہ بناتااور اپنا دل بہلاتا ہے بالکل آج ہمارے ساتھ ایسا ہی مغربی قومیں کررہی ہیں، وہ جب چاہتے ہیں اور جدھر چاہتے ہیں ہمیں موڑ لیتے ہیں۔
حضرت ابراہیم بن عیلہ کو خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی نے بلایا، اور اُن کو مصر کے محکمہ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اس کا ہل نہیں ہوں۔ خلیفہ ہشام کو غصہ آگیا، اس نے کہا کہ آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا ورنہ آپ کو سخت سزا دی جائے گی۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے نہایت ہی نرمی کے ساتھ کہا: ”اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں، ہم نے زمین وآسمان کو یہ امانت پیش کی مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا۔ تو جب خدائے بزرگ وبرتر ذمہ داری قبول نہ کرنے پر خفا نہیں ہوئے تو آپ کیوں مجھ پر خفا ہورہے ہیں؟“۔خلیفہ یہ بات سن کر خاموش ہوگیا اور ابراہیم بن عیلہ کو چھوڑ دیا۔
خلیفہ کو پہلے غلطی ابراہیم بن عیلہ میں نظر آرہی تھی لیکن ان کے حکمت بھرے اور موقع محل کی مناسبت سے قرآنی جواب کو سُن کر خلیفہ کو غلطی اپنے میں نظر آنا شروع ہوگئی، اور اس احساس نے اس کی سوچ کو بدل دیا،ظاہر ہے خلیفہ بھی مسلمان تھا،قرآن کے سامنے جرات نہیں کرسکتا تھا، ابراہیم بن عیلہ نے اسی نکتے کو پکڑا۔اس طرح کے واقعات اور مواقع کا ہر آدمی کو سامنا کرنا پڑتا ہے، جب بھی ایسی صورت حال پیش آئے آدمی اچھے رد عمل کے ذریعے ساری مخالف صورت حال کو اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔ یہ ایک فطری ہتھیار ہے جسے استعمال کرنے کا طریقہ ہم سیکھ سکتے ہیں، بس اس کے لئے ایسے مواقع پر دل ودماغ کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم تُندوتیز جوابی تیر برسائیں گے یا مخالفانہ کاروائی کریں گے تو ظاہر ہے معاملہ سنورنے کے بجائے بگڑتا ہی جائے گا۔امام زین العابدین کی لونڈی آپ کو وضوءکرانے کے لئے پانی سے بھرا لوٹا لائی، اچانک اس کے ہاتھ سے وہ لوٹا آپ پر گر گیا۔اور آپ کے کپڑے بھیگ گئے، آپ نے غصے سے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے فوراً قرآن کی آیت پڑھی”والکاظمین الغیظ،اور غصہ پینے والے“۔یہ سن کر آپ نے فرمایا میں نے غصہ پی لیا۔ وہ پھر بولی”والعافین عن الناس، اور لوگوں کو معاف کرنے والے“۔آپ نے فرمایا میں نے معاف کیا، رب تجھے معافی دے۔وہ پھر بولی ”واللہ یحب المحسنین،بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو“۔ آپ نے فرمایا جا تو فی سبیل اللہ آزاد ہے۔پہلے زمانے کی لونڈیاں بھی قرآن کے ساتھ اتنا شغف رکھتی تھیں کہ موقع محل پر مناسب آیت پڑھ لیں، لیکن آج کل بڑی بڑی ڈگریاں اٹھائے لوگ پھرتے ہیں مگر اپنے والد کے جنازے کے موقع پر ڈر لگا رہتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے ہی نہ کہہ دیں اپنے والد کا جنازہ پڑھاو۔ہمیں ہر معاملے میں آسمانی ہدایات سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:برائی کو بھلائی اور احسان کے ساتھ دفع کرو اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے گا(حم سجدہ)

Friday, January 1, 2016

باہمی اختلافات ،ہماری سوچ اور پیغمبرانہ سوچ میں فرق

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
مولوی انیس احمدؒ ایک گمنان مجاہد ، تحریک ریشمی رومال کے سرگرم کارکن اور اسیرمالٹا تھے۔ 1912ءمیں علیگڑھ سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریز کی عطا کردہ”ڈپٹی کلکٹری“ یعنی جج کا عہدہ چھوڑ کر علومِ قرآنی حاصل کرنے کے لئے دہلی پہنچے۔ دہلی میں قائم مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے ادارے ”ادارہ نظارة المعارف“ میں داخلہ لیا، کافی عرصہ علوم قرآنی کی تحصیل کرتے رہے اور پھر سندِ فراغت لے کردیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں داخل ہوگئے۔دیوبند میں حضرت شیخ الہندؒ سے تبلیغ قرآن اور علوم دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت شیخ الہندؒ ہی کے زیرِسایہ تحریک ریشمی رومال میں سرگرم ہوگئے،تحریک میں حیدرآباد دکن کے ذمہ دار رہے۔ بعد ازاں بغاوت کے جرم میں انگریز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر کالاپانی میں قید رہے اور پھر چندسالوں کے بعد وہاں سے رہائی ہوئی۔ان کی علمی وجاہت کی یہ شان تھی کہ خواجہ حسن نظامی جیسے لوگ ان سے عاجزانہ ملتے تھے، علامہ مشرقی، علامہ اقبال، اکبر الٰہ آبادی، سرعبدالقادر سمیت بڑے بڑے لیڈر ان سے مشورے لیا کرتے اور اس کو اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔رہائی کے بعد بھی انگریز ان کو بہت تنگ کرتے رہے، ان کے بیٹے شاہداحمد کو مقابلے کے امتحانوں میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا تھا۔
مولوی انیس احمدؒ کا مختصر تعارف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ایک کتاب ”انوارالقرآن “آج کل میرے زیر مطالعہ ہے، میری علماءسے گذارش ہے کہ وہ مولوی انیس احمدؒ کی یہ کتاب اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی کتاب ”وحدت امت “کو ضرور مطالعہ کریں۔مولوی انیس احمدؒ ”انورالقرآن“ میں لکھتے ہیں: ایک پیغمبر ”نااتفاقی “کے مقابلہ میں قوم کا عارضی ”گمراہی “میں رہنا پسند کرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوم متفق رہتی ہے اسی وقت تک عمدہ نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب ظاہر ہوگیا ہوگا کہ قرآن شریف کا ایک حصہ کا تو مفہوم ہی بدل گیا ، ایک حصہ بھلا دیا گیا اور ایک حصے کی تعلیم کو کہانیوں کا درجہ دیا گیا ہے، اس سے مستفید ہونے کی کوشش نہیں کی جاتی، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے کہ اب قرآن مجید سے وہ نتیجے پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہیے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے ہیں۔
مولوی انیس احمدؒ کی یہ بات کہ پیغمبراناسوچ کیسی ہوتی ہے ہمیں بلاشبہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ہماری سوچ آج کیسی بن گئی ہے، معمولی اور فروعی اختلافات میں پڑھ کر ہم نے قوم کو کئی حصوں میں تقسیم بھی کیا ہوا ہے اور پھر اس بات کا رونا بھی روتے ہیں کہ اسلام غالب نہیں ہورہا۔ حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، جب حضرت موسی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا: اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہو گئے تو تم کو کیا وجہ مانع ہوئی کہ تم نے میری ہدایت کی پیروی نہ کی۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟(طہ۳۹) یعنی جب وہ گمراہ ہورہے تھے تو تم نے ان کو منع کیوں نہ کیا، توحضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا: اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑو، میں اس بات سے ڈرا کہ تم واپس آکر یہ کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی(طہ) یعنی حضرت ہارون علیہ السلام کو جب اپنی اصلاح کی کوششوں میں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کی عارضی گمراہی کو پسند کیا بجائے اس کے کہ آپ اس کو روکنے کے لئے ایسی پرزور کوشش کرتے جس سے قوم کے ٹکڑے ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت موسی کی قوم کا واقعہ اور شرک میں مبتلا ہونا محض شک والی بات نہیں تھی بلکہ واضح طور پر انہوں نے شرک کیا تھا، اب اگر ہم اپنے اردگرد کو دیکھیں، یا ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟ ہم تو محض شک اور گمان کی بنیاد پر بلادلیل کفر وشرک کے فتوے ٹھوک دیتے ہیں، اور کسی کو کافر بنانے یا گمراہ قرار دینے کا معیار ہم نے اپنا مسلک یا اپنا مدرسہ بنا دیا ہے جو ہمارے مسلک میں ہے یا ہمارے مسلک کے مدرسے میں پڑھا ہے اس کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے اورجو ایسا نہیں وہ گمراہ ہے۔
          مفتی مختار الدین شاہ مدظلہ فرماتے ہیں:محض شک اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کسی پر الزام لگانا چاہیے اور نہ ہی کفر وشرک کے فتوے،ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ”الزام“ اور ”التزام“ میں فرق ہوتا ہے، فتوی ”لازم “پر نہیں بلکہ ”التزام “پر لگتا ہے۔ بولنے والے یا لکھنے والے کی بات اور تحریر سے جو مفہوم نکلتا ہے اس کو ”لازم“ کہتے ہیں، اور معنی کا اگر صاحب تحریر اقرار اور اعتراف کرے یا اس کے کلام کا مکمل سیاق وسباق کوئی معنی متعین کرتا ہے تو اسے معنی التزامی کہتے ہیں، لہٰذا اگرصاحب تحریر کے معنی لازمی اور معنی التزامی میں فرق ہو تو معنی التزامی پر حکم یا فتویٰ لگایا جائے گا نہ کہ معنی لازمی پر۔چنانچہ صرف مفہومِ لازمی کو دیکھتے ہوئے فتویٰ یا حکم لگایا تو یہ اس شخص پرمحض الزام ،غلط اور شریعت کی حدود سے تجاوز اور ظلم ہوگا۔آج کل کی بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ متکلم اور تحریر کنندہ چینخ چینخ کرپکارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ میرے عمل یا تحریر سے نکالتے ہیں لیکن ہم اس کی بات کو سننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کے قول وفعل کو وہ غلط معنی پہناتے ہیں جس کا خود متکلم انکار کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا جسے صحیح مسلم میں نقل کیا گیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا جو مسجد نبوی سے زیادہ دور رہتا تھا اور اس کا حال یہ تھا کہ وہ ہر نماز مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا۔میں نے ایک دن اس سے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تم اندھیری راتوں میں مسجد تک سواری کے لئے ایک گدھا خرید لو، تو وہ کہنے لگا” مجھے تو یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ہو“ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی، میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اس شخص کو بلایا گیا اور وضاحت طلب کی گئی تو اس نے وہی کچھ عرض کیا جو پہلے کہا تھا اور ساتھ یہ وضاحت بھی کی کہ میں نے ایسا اس لئے کہا کہ مجھے قدموں کا ثواب مل جائے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہی ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے۔(مسلم) اب بظاہر اس کی بات کا غلط مفہوم لگتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربت نہیں چاہتا،لیکن اس نے اس کی وضاحت کردی کہ میں پانچ وقت روزانہ پیدل چل کر اتنی دور سے آتا ہوں اس کا مجھے ثواب ملتا ہے۔(راہ محبت)
اس طرح کے اختلافی مسائل میں شیطان مسلمانوں کو افراط وتفریط میں مبتلا کردیتا ہے، ہر مکتبہ فکر میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو بلاتحقیق غلط پروپیگنڈا کرکے اختلافات کو پھیلاتے اور تفرقہ بازی کے مرتکب ہو کر قرآنی حکم سے روگردارنی کررہے ہیں۔خاص طور پر علماءکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلاوجہ اور بغیر تحقیق کے کسی کی نیت پر حملہ آوار ہونے کے بجائے حسنِ ظن رکھیں تاآنکہ کھلم کھلا ثبوت نہ مل جائے۔علماءکو عام اجتماعات یا عام بیانات میں اختلافی مسائل کی تبلیغ یا تردید نہیں کرنی چاہیے، امرباالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اور صرف متفقہ معروفات اور متفقہ منکرات میں ہوتا ہے، اختلافی مسائل تو ترجیحی مسائل ہیں،ان میں جو نظریہ اور رویہ جس کے نزدیک رائج ہے وہ اس کو اختیار کرلیتا ہے۔
سورہ انفال میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے مسلمانو اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(46) اتحاد واتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے، کیونکہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی، ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے گی، کبھی کسی کی تنقید پرغصہ آئے گا،کبھی کسی کی ترقی پر۔اختلاف کوصبر کے ساتھ برداشت کرنے سے اتحاد وجود میں آتا ہے۔سورہ انعام میں فرمایا: اے مسلمانو خدا سے ڈرو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو، اور اس میں متفرق نہ ہو، آپس میں اختلاف کرناآگ کے کنارے کھڑا ہونا ہے، خدا کے نزدیک وہی لوگ کامیاب ہیں جو خصوصی اہتمام کے ذریعہ ہر حال میں اپنے اندر اتحاد واتفاق کی فضا کو باقی رکھتے ہیں، اس سے پہلے خداوندی علم کی امانت یہود کو دی گئی تھی مگر وہ تفریق اور اختلاف میں پڑ گئے اور اس کے نتیجہ میں اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق بنالیا۔ ان کے انجام سے ڈرو اور تم بھی انہیں کی طرح نہ جاو(102)
 اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اختلاف کی کوئی صورت پیدا نہ ہو، انسانوں کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوں وہ معاملہ کی وضاحت کے بعد یا تو اپنے اختلاف کو ختم کردیتے ہیں اور اگر پھر بھی اختلاف باقی ہو تو وہ اس کو اپنے ذہن تک محدود رکھتے ہیں، عملی زندگی میں اس اختلاف کو پھیلا کر معاشرے کو خراب نہیں کرتے۔
مولانا زاہدالراشدی مدظلہ فرماتے ہیں: ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ مزاج راسخ ہوتا جارہا ہے کہ ہم نے جس کے خلاف کچھ کہنا ہوتا ہے، اس کا موقف اس سے نہیں پوچھتے بلکہ اس کی چند عبارات کو سامنے رکھ کر خود طے کرتے ہیں اور اگر وہ جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرے تو اسے یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ماضی میں یہ طرز عمل مولانا۔۔۔۔۔۔۔۔نے اختیار کیا تھاکہ علماءکی کتابوں سے اپنے مطلب کی چند عبارات منتخب کرکے ان سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کیے تھے اور ان پر ایک استفتا کی بنیاد رکھ کر حرمین کے علماءکرام سے فتویٰ حاصل کیا۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر واسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے، ہرجھگڑے کو 302کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے چندواقعات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک معروف ومشہور اہل بدعت عالم جو اکابر دیوبند کی تکفیر کرتے تھے اور ان کے خلاف بہت سے رسائل میں بہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، ان کا ذکر آگیا تو فرمایا: میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے متعلق معذب ہونے کا گمان نہیں، کیونکہ ان کی نیت ان سب چیزوں سے ممکن ہے کہ تعظیم رسول ہی کی ہو۔(مجالس حکیم الامت)ایک مرتبہ ان کی مجلس میں کسی نے کہا فلاں پیر صاحب بازاری عورتوں کو بھی مرید کرلیتے ہیں تو حضرت نانوتوی نے فورا خاموش کراتے ہوئے کہا، تم نے ان کی راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے گریہ زاری نہیں دیکھی؟۔ اسی طرح ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے سرسید احمد خان کے خلاف ایک فتویٰ آپ کو دستخط کرنے کے لئے پیش کیا، آپ نے کہا پہلے تحقیقات تو کرلو آیا وہ کافر ہے بھی یا نہیں؟ چنانچہ خود ہی سرسید احمد خان کی طرف تین سوال لکھے:۱۔خدا پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۲۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟۳۔قیامت کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ سرسید احمد خان نے جواب میں لکھا:۱۔خدا تعالیٰ مالک ازلی اور صانع تمام کائنات ہے،۲۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر،۳۔قیامت برحق ہے۔ تو پھر حضرت نانوتویؒ نے فرمایا تم اس شخص کے خلاف دستخط کروانا چاہتے ہو جو پکا مسلمان ہے؟۔
حضرت کے اس فیصلے کو آج کے مفتی شاید تسلیم ہی نہ کریں، لیکن حضرت کا اعتقاد اور مقام انہیں خاموش رکھنے کے لئے کافی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طرف کوئی اعلی علمی اور قابل شخصیت ہوتی ہے لیکن اس کی باتوں کو اس لئے قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا کہ ہمارے علم میں یہ نہیں کہ اس کے اساتذہ کون ہیں، یا اگر ہیں تو وہ ہمارے خیال میں مستند نہیں ہیں۔ میں نے دو تین سال قبل ایسا ہی ایک استفتاءکسی معروف شخصیت جو اب اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں لکھا، میرا سوال یہ تھا کہ ان کی دو چار موٹی موٹی گمراہیاں بتادیں کیونکہ لاکھوں لوگ ان کی کتابیں پڑھتے اور ویڈیوز سنتے ہیں، یہ استفتاءدارالعلوم کراچی سمیت کئی بڑے بڑے جامعات کو بھیجاگیا۔ سوائے دارالعلوم کراچی کے کسی نے اس کا جواب دینا ہی نہیں دیا، اور دارالعلوم کراچی کے دارالافتاءسے جو جواب آیا وہ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی مدظلہم کا لکھا ہوا نہیں تھا بلکہ شاید ان کے علم میں بھی نہ ہو، بہر حال کسی مفتی صاحب نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے جواب میں محض اتنا لکھا کہ یہ شخص مستنداساتذہ اور مشائخ سے نہیں پڑھا ہوا لہٰذا اس کی کتابیں اور ویڈیوز نہیں دیکھنی چاہیے۔ یعنی سوال گندم، جواب جو۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جواب دینے والا مفتی محض سنی سنائی بات پر جواب دے رہا ہے۔ آج فتوی دینے کا یہی معیار رہ گیا ہے کہ نہ تحقیق کرنی ہے اور نہ اس کے بارے میں معلومات لینی ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے مدارس میں یہ وباءپھوٹ پڑی ہے کہ ایک ایک سال کے مفتی کورس کروا کر سندیں بانٹی جارہی ہیں چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کے مفتی یا لکیر کے فقیر ہیں یا سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے فتوے جھاڑتے ہیں،فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کیا چیز ہوتی ہے اس بارے میں انگریز جج کا واقعہ ملاحظہ کریں جو نہ دین اسلام سے واقف ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث اور اسلامی قانون سے، سابقہ مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ اہلِ حدیث اور حنفیوں کے درمیان” آمین “ پر لڑائی ہوگئی، خوب مارکٹائی بھی ہوئی ، بالاخر اس کا کیس انگریز جج کے پاس گیا تو اس نے کہا یہ ”آمین“ کیا چیز ہے کوئی بلڈنگ ہے یا پراپرٹی ہے؟ لوگوں نے سمجھایا کہ ایک لفظ ہے، ایک فریق کہتا ہے حدیث میں ہے اسے بلند آواز سے بولنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے حدیث میں ہے آہستہ بولنا ہے۔ تو انگریز جج نے کہا جس کو جو حدیث معلوم ہے وہ اس پر عمل کرے، لڑتے کیوں ہو؟ اور پھر اس نے تفصیلی فیصلے میں لکھا: میں ساری تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاں ”آمین“ کی تین قسمیں ہیں، ایک آمین بالجہریعنی اونچی کہنا، دوسری آمین بالسر یعنی آہستہ کہنا،جبکہ تیسری آمین بالشر یعنی لڑنے کے لئے کہنا، لہٰذا عدالت دونوں فریقوں کوفلاں فلاں سزا سناتی ہے تاکہ آئندہ نہ لڑیں۔قاری طیب صاحب انگریز جج کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بڑا دانشمندانہ فیصلہ لکھا، یہ تو ہمارے دلوں کا فساد ہے کہ ہم نے مسائل کو اپنے دل کے جذبات نکالنے کی آڑبنا لیا ہے اور ہر دین کا مسئلہ جھگڑا ڈالنے اور گروہ بندیوں کے لئے رہ گیا ہے(خطابات)۔جی ہاں مفتی کی حیثیت بھی جج کی سی ہوتی ہے بس فرق یہ ہے کہ جج کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے اور انتظامیہ اس پر عمل درآمد کرواتی ہے، جبکہ مفتی کا کام صرف رہنمائی کرنا اور بتانا ہوتا ہے نافذ وہ نہیں کرسکتا۔اس انگریز جج نے اس معاملے کو ویسے ہی نہیں ٹال دیا بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مطالعہ کیا، تحقیقی کی، لوگوں سے معلومات اکھٹی کیں اور پھرایسا دانشمندانہ فیصلہ دیا کہ معاشرے میں اختلاف نہ پھیلے بلکہ لوگ متفق ہو کر رہیں اور آپس میں جھگڑا نہ کریں۔
 قاری طیب صاحبؒ ملتان میں خیر المدارس میں آئے جلسے سے خطاب کیا اور پھر پوچھا یہاں ملتان میں کوئی اور عالم ہیں؟ بتایا گیا کہ مولانا محمد بخش ہیں لیکن بریلوی فرقے سے تعلق ہے، تو مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری طیب ؒ نے فرمایا: ہم انہیں فرقہ ہی نہیں سمجھتے، نہ ہم فرقہ نہ وہ فرقہ۔ اور پھر سب کے منع کرنے کے باوجود ان کی مسجد میں گئے اور ملاقات کی۔اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: میں ہمیشہ اس کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ بھئی منافرت مت پیدا کرو، اپنی رائے ہے، اگر آپ دیانةً صحیح سمجھتے ہو تو اس پر عمل کرو، لیکن نفرتیں پیدا کرنا یہ صحیح نہیں(خطبات حکیم الاسلام ج۵ص۴۲۲)
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ”وحدت امت“ میں ایک واقع لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں، مَیں سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے پاس حاضر ہوا تو دیکھا کہ حجرت سر پکڑے ہوئے بہت مغمم بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں ٹھیک ہی ہے، میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی۔میں نے کہا حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں صرف ہوئی ہے، اگر آپ کی عمر ضائع ہوئے تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟فرمایا تمہیں صحیح کہتا ہوں عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا حضرت آخر بات کیا ہے؟ فرمایا: ہماری عمر کا ہماری تقریروں کا ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں۔۔۔۔۔۔اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا: ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا؟۔۔۔۔۔۔قبر میں بھی فرشتے نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا نہ امام ابوحنیفہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔(نوٹ: یہ کافی طویل تقریر ہے جس میں سے کچھ کچھ اقوال ذکر کیے ہیں،رسالہ وحدت امت مطالعہ کریں)۔
مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس جنگ وجدل کا ایک بہت بڑا سبب فروعی اور اجتہادی مسائل میں تخرب وتعصب اور غلو ہے۔۔۔۔بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور اُن کو تارکِ قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہو۔معلوم نہیں یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفان سے واقف نہیں ؟۔۔۔۔۔۔اور اگر محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے سوال کرلیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہورہے تھے تم وراثتِ نبوت کے دعوے دار کہاں تھے؟ تو کیا ہمارا یہ جواب کافی ہو جائے گا کہ ہم نے رفع یدین کے مسئلے پر ایک کتاب لکھی تھی۔۔۔۔۔۔ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد وتلقین یا دعوت وتبلیغ کے لئے قائم ہیں۔۔۔۔اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست وبازو سمجھے تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔ علمی غلو ہر جماعت میں یہ پایا جاتا ہے کہ اپنے مجوزہ نظام عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دے دیا گیا جو شخص اس نظام عمل میں شریک نہیں اگرچہ اس کا مقصد کتنا ہی عظیم ہو اس کو اپنا بھائی نہیں سمجھا جاتا، اور اگر کوئی اس نظام عمل میں شریک تھا پھر الگ ہوگیا تو عملا اسے اصل مقصد سے منحرف سمجھ لیا جاتا ہے اگرچہ وہ اصل مقصد یعنی اقامتِ دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے۔(وحدت امت)
مفتی شفیع رحمہ اللہ کی اس دلسوز تقریر میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس سمت جارہے ہیں، کہیں کوئی نادیدہ ہاتھ مخیرحضرات کی شکل میں فنڈ دے کر فرقہ واریت اور باہمی اختلافات کو ہمارے ذریعے سے جاری تو نہیں رکھ رہا، تاکہ دینی طبقہ اسی فضول کام میں لگا رہے اور اقامت دین کی جدوجہد کی طرف اس کا دیہان ہی نہ ہو، یاد رکھیں ایسے مخیرحضرات کے پیچھے مقامی ہاتھ بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔ذرا دیہان سے!
...............
پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

Monday, December 28, 2015

کیا عوام الناس کو ترجمہ قرآن پڑھنا منع اور ناجائز ہے۔۔؟؟

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ایک غلط بات مشہور کردی گئی ہے کہ عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا یاکسی آیت،رکوع کا مفہوم علماءکی تفاسیر سے ذہن نشین کرکے بیان کرنا ناجائز ہے۔چنانچہ اس غلط بات کو پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں اور عوام نے قرآن کریم کو محض برکت حاصل کرنے کی کتاب سمجھ کا طاقِ نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہندوستان کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں 200سال تک انگریز حکومت کرکے گیا ہے، اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے جتن کیے، کبھی مدارس منہدم کیے تو کبھی علماءکو توپوں کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا گیا، کبھی علماءکو پھانسیاں دیں تو کبھی لاکھوں قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے، لیکن انگریز کو اندازہ ہوگیا کہ بزور طاقت اور اسلحہ کے بل بوتے پر ہم مسلمانوں سے اسلام اور قرآن سے لگاو نہیں ختم کرسکتے، چنانچہ انہوں نے مختلف تکنیک اور حربوں پر تحقیقات کیں اور باالاخر انگریز فرقہ واریت اور اختلافات کا بیج بو کر چلا گیا اور آج تک ہم اسی فرقہ واریت اورآپس کے فروعی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں، اسی طرح قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے ایسی باتیں مشہور کردیں کہ عوام کا تعلق قرآن سے نہ ہو۔ حالانکہ اگر ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی زندگیوں اور تحریروں کو دیکھیں تو انہوں نے ساری زندگی عوام کو قرآن سے جوڑنے میں لگائی اور اسی بات کی دہائی دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے۔
میں نے اپنے ان گناہ گار کانوں سے یہ بات بھی سنی ہے کہ اگر عام لوگ ترجمہ قرآن پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، یہ ترجمہ پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔ حیرت ہوتی ہے دشمن نے کتنی محنت کی، قرآن کریم کے متعلق کیسی کیسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں، چنانچہ آج لوگ قرآن کو ہاتھ میں لینا گوارہ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کا احترام ان کے دلوں میں بہت ہے، اسے چومتے ہیں، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، اس سے اونچا نہیں ہوتے، لیکن پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔
فہم قران کے دو پہلو ہیں، ایک تدبر فی القرآن اور دوسرا تذکّر بالقرآن۔ تدبر فی القران کے لئے بلاشبہ بہت سے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا کہ تیرا چودہ علوم پر دسترس ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ بات بھی پرانی ہوچکی ہے، آج کل تدبر فی القرآن کے لئے کم از کم بیس پچیس علوم جن میں جدید علوم اور فلسفے بھی شامل ہیںان سب پر مہارت ہونا ضروری ہے، آج کل مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب اتنا ناقص ہے کہ وہ ایسے علماءپیدا ہی نہیں کرسکتا جو تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں، چہ جائیکہ ہم دورہ حدیث سے فارغ ہوکرسند لینے والے کو اس قابل سمجھیں کہ وہ تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتا ہے۔البتہ جہاں تک تعلق ہے تذکر باالقرآن یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا تو اس بارے میں خود قرآن کہتا ہے: ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر؟ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، اور یہ نصیحت کا پہلو بلاشبہ محض ترجمہ پڑھنے والے کو بھی میسر ہوتا ہے۔
یاد رکھیئے! قرآن اللہ کی معجزانہ کتاب ہے اس کو پڑھ کر گمراہی نہیں ہدایت پھیلتی ہے، یہ انسان کے دل میں اس حقیقی ایمان کو اپیل کرتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر رکھاہوا ہے، یہ اس حقیقی ایمان کی چنگاری کے لئے پٹرول کا کام کرتا ہے،اور اسے یک دم بھڑکا دیتا ہے۔سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یورپ میں جدی پشتی انگریز غیر مسلم قرآن کریم کا محض ترجمہ پڑھ کر مسلمان کیوں ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو عربی زبان اور ناظرہ قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا، وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بھی فطری طور پر ایمان کی چنگاری موجود ہوتی ہے قرآن کو پڑھ اور سن کر وہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔یورپ کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ موبائل پر تلاوت لگا کر مارکیٹوں اور بازاروں میں غیرمسلموں کی طرف ہینڈفری آگے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیس سیکنڈ تک یہ آڈیو سن کر اپنے کمنٹس دو، چنانچہ وہ مختلف چلنے پھرنے والے خواتین وحضرات کو اس طرح قرآن سنا کر ان سے کمنٹ لیتا ہے، وہ لوگ سنتے ہوئے بہت حیران ہوتے ہیں ان کے چہرے کے تاثرات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت متاثر ہوئے ہیں، بعض تو رو بھی پڑتے ہیں۔
بی بی سی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جان بِٹ کا بیٹا یحی بِٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، مسلمان ہوگیا، پھر PHDکے لئے اسے جو مقالہ تیار کرنا تھا اس کا عنوان تھا ”یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے“چنانچہ اس نے دو تین سال تک یورپ میں اس بات پر تحقیق کی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں اس نے بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں تیرا ہزار لوگ مسلمان ہوئے جن میں سے 80%لوگ قرآن سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ انہیں میں سے ایک امریکی خاتون ”ایم کے ہرمینسن“ بھی تھی۔ جب اس سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میں سپین میں پڑھتی تھی، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیو کی سوئی گماتے گماتے اچانک ایک عجیب آواز آنا شروع ہوئی چنانچہ میں نے اسے سننا شروع کردیا، مجھے ایسے لگا کہ یہ میرے دل کے اندر سے آواز آرہی ہے، یا مجھے میرے گمشدہ متاع مل گئی ہے۔ چنانچہ میں کئی دن تک سنتی رہی، باالاخر میں نے سوچا کسی سے پوچھوں یہ کس چیز کی آواز ہے اور کیا ہے؟ میں نے جب پوچھا تو مجھے کسی نے بتایا یہ مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن ہے۔ چنانچہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگوا کر پڑھنا شروع کیا اور مکمل پڑھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو ترجمہ ہے جب تک اصل سورس کو نہ دیکھا جائے اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ اصل سورس کو سمجھنے کے لئے میں مصر گئی اور قاہرہ یونیورسٹی میں عربی زبان کو سیکھنے کے لئے داخلہ لیا، دو سالہ عربی کورس کرنے کے بعد پھر اصل عربی قرآن کو پڑھا تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔یہ ہے قرآن کی ہدایت، اسی لئے قرآن میں بار بار کہا گیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے، اس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے لیکن عوام میں یہ مشہور کردیا گیا کہ نعوذ بااللہ یہ کتاب گمراہ کرتی ہے، کتنی بڑی توہین کی بات ہے جولوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔
میرے خیال میں جتنے بھی فرقے اٹھے اور گمراہیاں پھیلی ہیں وہ عوام نے نہیں پھیلائیں، وہ ایسے لوگوں نے ہی پھیلائی ہیں جو قرآن وحدیث کے عالم تھے، مثلا مرزا غلام احمد قادیانی عام آدمی نہیں تھا، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والا تھا، تبھی تو اس نے اپنے نبی اور مہدی ہونے کی قرآن وحدیث سے من گھڑت دلیلیں بناکر دیں۔ اسی طرح غلام احمد پرویز بھی کوئی عام شخص جو محض کسی عالم کے لکھے ہوئے ترجمے پر اکتفاءکرنے والا نہیں بلکہ دینی علوم کا ماہر اورحنفی سنی گھرانے میں پیداہونے کے علاوہ چشتیہ سلسلے کے صوفی بزرگ مولوی رحیم بخش کا پوتا تھا،ابتدائی دینی تعلیم بھی اپنے والد اور دادا سے حاصل کی، تبھی توغلام احمد پرویز نے حدیث کی ایسی ایسی تعبیریں کیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ نام میں نے بطور مثال پیش کیے ہیں باقی فرقوں کے بانیوں کے نام پیش کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، ورنہ آج جتنے فرقے ہمارے ہاں ہیں ان کے بانیوں کو دیکھیں سب قرآن وحدیث کے عالم تھے، عربی کے ماہر تھے، صرف نحو، ادب، علم کلام، منطق پر عبور حاصل تھا۔ عام آدمی کے تو بس کی بات ہی نہیں کہ وہ کوئی گمراہی بنا یا پھیلا سکے، میرے پاس ایسی ایک بھی مثال نہیں کہ ایک عام آدمی جسے نہ عربی آتی ہو اور نہ دیگر علوم ، اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کوئی گمراہی ایجاد کی ہو اور پھر وہ آج تک چلی آرہی ہو، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے اس کی نظر اور دیہان قرآن کے تذکیری پہلو کی طرف ہوتا ہے، اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ شراب، جوا، سود، مردار حرام ہیں، جنت میں نعمتیں ہیں، جہنم میں عذاب ہیں، دنیا امتحان کی جگہ ہے وغیرہ۔البتہ جو خدشات اس حوالے سے پیدا ہوسکتے ہیں ان کے سدِباب کے لئے علماءکی طرف سے مسلسل ہدایات مسلمانوں کو ملتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔
یہاں اس بات سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں کہ بلاشبہ ان گمراہیوں کا سدباب بھی علمائے حق نے ہر دور میں اپنا خون دے کر کیا ہے، اور علماءکی خدمات اور محنت سے ہی یہ قرآن وسنت آج اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہیںاور آج بھی علمائے حق قرآن وسنت کی حفاظت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں، اگرچہ ایسے علماءکو وقفے وقفے سے چن چن کا ٹارگٹ بھی کیا جارہا ہے۔
اس موضوع کے حوالے سے اکابر علماءاور اسلاف کے چند اقوال پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمایئے:
حضرت شیخ الہند کے شاگردِ خاص، تحریک ریشمی رمال کے سرکردہ رکن، اسیر مالٹا مولوی انیس احمد رحمہ اللہ” انوار القرآن “میں لکھتے ہیں:
جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے جید عالم ہونے کی ضرورت ہے(صفحہ35)
شاہ اسماعیل شہید تقویة الایمان میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں دین کی بات میں جو لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں، کوئی پہلوں کی رسموں کو پکڑتے ہیں، کوئی قصے بزرگوں کے دیکھتے ہیں اور کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انہوں نے اپنی ذہن کی تیزی سے نکالی ہیںسند پکڑتے ہیں۔ اور یہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے، اس کو بڑا علم چاہیے، ہم کو وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں اور اس راہ پر چلنا پڑے، یہ بزرگوں کا کام ہے، سو ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہم کو یہی باتیں کفایت کرتی ہیں۔ سو یہ بات بہت غلط ہے، اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں باتیں بہت صاف صریح ہیں، ان کا سمجھنا مشکل نہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے میں بہت علم نہیں چاہیے کہ پیغمبر تو نادانوں کو راہ بتانے اور جاہلوں کو سمجھانے اور بے علموں کو علم سکھانے کو آئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بنا کر بھیجا، وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔(الجمعہ2)
سو جو کوئی یہ آیت سن کر پھر کہنے لگے کہ پیغمبرکی بات سوائے عالموں کے کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان کی راہ پر سوائے بزرگوں کے کوئی نہیں چل سکتا۔ سو اس نے اس آیت کا انکار کیا۔ اس بات کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک بڑا حکیم ہو اور ایک بہت بیمار، پھر کوئی شخص اس بیمار سے کہے کہ فلانے حکیم کے پاس جاو اور اس سے علاج کراوتو وہ کہے اس سے علاج کروانا تو بڑے بڑے تندرستوں کا کام ہے میں تو بہت بیمار ہوں۔ سو وہ بیمار احمق ہے اور اس حکیم(قرآن) کی حکمت سے انکار رکھتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے فارسی ترجمے ”فتح الرحمن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
جس طرح لوگ مثنوی مولانا جلال الدین، گلستان شیخ سعدی ومنطق الطیر شیخ فرید الدین عطار وقصص فارابی ونفحات مولانا عبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اسی طرح قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اگر وہ کتابیں اولیاءاللہ کا کلام ہیں تو قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اگر ان میں حکماءکے وعظ ہیں تو قرآن مجید میں احکم الحاکمین کے فرمان ہیں۔
اسیر مالٹا مولوی انیس احمد ؒ قرآن سے استفادہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ پانی سے اِس زمانے میں بھاپ حاصل کرکے مختلف کام لئے جاتے ہیں اور ریل گاڑیاں وغیرہ چلائی جاتی ہیں۔ پانی سے یہ کام صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جو سائنس(کے علم)سے واقف ہیں، لیکن ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی جاہل ہو پانی سے اپنی پیاس بجھا کر زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور روحانی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے جس آبِ حیات کی ضرورت ہے اس کو ہر شخص خواہ وہ جاہل ہو یا عالم، قران مجید کے بحرذخائر سے باآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ جو شخص زیادہ عالم ہو گا وہ علم وحکتم کے زیادہ موتی اس سمندر سے حاصل کرسکتے گا۔ہم اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں کہ چونکہ ہم بڑے عالم نہیں اور ہم قرآن مجید کے زیادہ نکات نہیں سمجھتے اس لئے ہم کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس تباہ اور برباد کردینے والی غلطی کی وجہ سے ہمیں قرآن مجید سے محرومی ہوتی جارہی ہے اور ہماری مذہبی اور روحانی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے۔(انوارالقرآن صفحہ41)
مولوی انیس احمدؒ اسے خطرناک اور تباہ وبرباد کردینے والی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ اسی بات کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے: ان اللہ یرفع بھٰذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین۔ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت ساری قوموں کو عروج اور بہتوں کو زوال دیتا ہے۔ یعنی جو اس سے تعلق توڑ دیتے ہیں وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہو جاتے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں جب سے ہم قرآن کی اصلی تعلیم سے دور ہوتے گئے ہیں ہم برابر تنزل کر رہے ہیں۔ اور جیسی قوم کی حالت ہوتی ہے ویسے ہی اس کے اخلاق ہوتے ہیں، اگر قوم زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد میں جرات، ہمت،استقلال،ترقی کی امنگ، ایثار، قربانی جیسے عمدہ اخلاق ہوتے ہیں۔ اور اگر قوم مردہ ہو تو اس کے افراد پست ہمت، سست، بزدل ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام میں اس قدراثر وہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں میں کچھ جان تھی تو اُن میں وعدہ اور قول وقرار کا دوسرا مفہوم تھا اور جب اُن پر مُردنی چھا گئی تو انہی الفاظ کا دوسرا مفہوم ہوگیا۔ چنانچہ پہلے مشہور تھا:
”قول مرداں جان دارد“
 پھر یہ حالت ہوئی
”وعدہ آساں ہے ولے اس کی وفا مشکل ہے“
 پھر اس کے بعد یہ حالت ہوگئی
”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“
اسی طرح جب ہم نے قرآن کو چھوڑا، ہماری حالت خراب ہوئی تو قرآن کے مفہوم بھی بدل گئے۔
واقعی آج ہم اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں، اس مفہوم کے بدلنے کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہماری ایسی جماعتیں جو بلاشبہ دین کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک ہی آیت کے مفہوم کو اپنے اپنے کام پر چسپاں کرنے کے لئے آپس میں ہی لڑ رہی ہیں۔جس کا نقصان دین کو بھی ہورہا ہے اور خود ان کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔
اس مضمون کی پی ڈی ایف 
Quran ka Tarjuma Paharna

Tuesday, December 15, 2015

سود کے بعد موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں

سود کے حوالے سے آنے والے فیصلے کے بعد سود کے خاتمے کے لئے مختلف تنظیمیں اور تحریکیں احتجاج کر رہی ہیں۔ جس طرح سود حرام ہے بالکل اسی طرح جوئے کی حرمت بھی قرآن کے صریح اور واضح حکم سے ثابت ہے، ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ قرآنی احکامات سے نہ صرف روگردانی کی جارہی ہے بلکہ حکومت خود سودی اور جوئے کا کاروبار کرنے اور اس کی ترغیب اور لالچ دینے والوں کو نہ صرف اجازت بلکہ لائسنس دیتی اور رجسٹر بھی کرتی ہے۔سود کے خلاف تو کافی حد تک لوگوں میں شعور پایا جاتا ہے لیکن جوئے کی نت نئی اقسام مارکیٹ میں متعارف ہو چکی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوئے کی ان اقسام کا پوسٹ مارٹم کرکے انہیں عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے۔ امید ہے کوئی ماہر معیشت یہ خدمت سرانجام دے کر ذخیرہ آخرت کرے گا۔جوئے کی اقسام میں سے ایک قسم انشورنس ہے جس پر کافی علماء نے کتابیں لکھی ہیں۔
ابھی چند سالوں سے موبائل کمپنیاں آئی ہیں ان کا اصل کرنے کاکام تو لوگوں کو آپس میں رابطے میں رکھنا تھا لیکن حکومتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ان کمپنیوں نے کئی کئی بزنس اور عوام کو بیوقوف بنا کر لوٹنے کے طریقے شروع کررکھے ہیں۔ موبائل کمپنیوں کی روزانہ کی کمائی اربوں میں ہے جس کا اندازہ ان کمپنوں کے ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات سے ہی لگایا جاسکتا ہے، کیونکہ چینلز پر سیکنڈکے حساب سے پے منٹ کرنی ہوتی ہے جو کروڑوں میں بنتی ہے۔ ان کمپنیوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ عوام کو لوٹنے کے لئے الفاظ کا ہر پھیر کرکے طرح طرح کے پیکجز متعارف کروائے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ موبائل کمپنیوں نے سرعام جوا سکیمیں شروع کردی ہیں، اور عوام کو باربار میسجز کے ذریعے ان جوا سکیموں میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ زونگ کی طرف سے مسلسل کئی دن سے ہرروز ایک میسج موصول ہورہا جس کے شروع میں صارف کا موبائل نمبر لکھا ہوتا ہے اور آگے لکھا ہوتا ہے: اس پیغام کو نظر انداز مت کریں، زونگ نے آپ کو چنا ہے دس لاکھ کے لئے، حصہ لیں مفت ایس ایم ایس کے ذریعہ۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے یہ ایس ایم ایس مفت نہیں ہوتا بلکہ عام ایس ایم ایس سے کئی گنا مہنگا ہوتا ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
تم سے شراب اور جوئے کا جو حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔(البقرہ آیت نمبر 219 )
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں۔ شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے۔ شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ عزوجل کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے( المائدہ کی آیت نمبر 90 تا 91 )
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوا کھیلنے کے سامان سے جوا کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبودیا۔(سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 231، حدیث 3863)
حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا ’’آؤ جوا کھیلیں‘‘ تو اس کہنے والے کو چاہئے کہ صدقہ کرے (صحیح مسلم، ص 893، حدیث 1637)
محترم قارئین آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ ان میں سے 6 یہ ہیں۔
1۔لاٹری: اس طریقہ کار میں لاکھوں، کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ بھی جوا کی ایک صورت ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
2۔موبائل میسجز اور جوا: موبائل پر مختلف میسجز جوکہ سوالات پر مبنی ہوتے ہیں، بھیجے جاتے ہیں۔ جس میں مثلا کون سی ٹیم میچ جیتے گی؟ پاکستان کس دن بنا تھا؟ درست جوابات دینے والوں کے لئے مختلف انعامات رکھے جاتے ہیں۔ شرکت کرنے والے کے ’’موبائل بیلنس‘‘ سے قلیل رقم مثلا دس روپے کٹ جاتی ہے۔ جن کا انعام نہیں نکلتا، ان کی رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جوا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

3۔ پرائز بانڈ کی پرچی: حکومت پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 اور 40000 روپے کی مالیت کے انعامی بانڈز بینک کے ذریعے جاری کرتی ہے اور جدول کے مطابق ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے کروڑوں روپے کے انعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے۔ جس کا انعام نہیں نکلتا، اس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہے۔ وہ اسے جب چاہے کیش کرواسکتا ہے۔ یہ جوا ہے ۔ بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں۔ ان پرچیوں کی خرید وفروخت غیر قانونی ناجائز حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے ہیں) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جوا ہے ۔
4۔معمہ: اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سوالات حل کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابق نکل آئے، اسے انعام دیا جاتا ہے۔ انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے بھی زائد ہوتی ہے لہذا درست حل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ ہوتا ہے۔اس کھیل میں بہت سارے افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے۔
(1۔ مفت) (2۔ معمولی فیس دے کر)
اگر شرکاء سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے اور کوئی مانع شرعی نہ ہونے کی صورت میں انعام لینا جائز ہے جس میں شرکاء سے فیس لی جاتی ہے، اس میں انعام ملے یا نہ ملے، رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ صورت جوئے کی ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا: بعض دوست یا افراد مل کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا، ساری رقم اس کو ملے گی۔ یہ بھی جوا ہے کیونکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات پیسے جمع کرکے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا۔ اسے یہ کتاب دے دی جائے گی۔ یہ بھی جوا ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات خریدنے والوں کو قرعہ اندازی کرکے انعامات دیتی ہیں، یہ جائز ہے کیونکہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔

6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا: ہمارے یہاں مختلف کھیل مثلا گھڑ دوڑ، کرکٹ، کیرم، بلیئرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فلاں چیز دے گا۔ یہ بھی جوا ہے اور ناجائز و حرام۔ کیرم، بلیئرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وقت عموما یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کرے گا۔ یہ بھی جوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں میں مثلا تاش، لوڈوں پر دو طرفہ شرط لگا کرکھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعث اس میں کوئی حرج نہیں رکھتے۔ وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ جوا حرام اور جہنم میں لے جانے والاکام ہے۔
آج کل موبائل ہر ایک استعمال کرتا ہے، موبائل کمپنیوں کی جوا سکیمیں اور ان کی ترغیب ہر کو دی جارہی ہے حکومت کو چاہیے ان سکیموں کو بندکرے اور ان کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو لوٹنے کے حربے ختم کردیں۔