Search This Blog

Thursday, October 16, 2014

فحاشی کے خاتمے کے لئے اچھی مثال

(سید عبدالوہاب شیرازی)
چند سال پہلے کی بات ہے جب تبلیغی جماعت کے مفتی زین العابدین رحمہ اللہ نے فیصل آباد میں فحاشی کے اڈے کے خلاف تقریریں اور شعلے برسانے کے بجائے عجیب فیصلہ کیا، اس واقع کی تفصیل جناب مصطفی صادق صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتے ہیں:
آج کل وقتا فوقتا اجتماعی شادیوں کا ذکر پڑھنے اور سننے میں آتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ اجتماعی شادیوں کی ایک تاریخی روایت جو ہر لحاظ سے مثالی نوعیت کی روایت قراردی جاسکتی ہے مفتی زین العابدین صاحب رحمہ اللہ نے قائم کی تھی۔
اجتماعی شادیوں کا یہ واقعہ عملا رونما نہ ہو چکا ہوتا تو شاید اس پر یقین کرنا چنداں آسان نہ ہوتا۔ لیکن اسے قدرت کا کرشمہ کہئے یا حضرت مفتی صاحب کی کرامت اور ان کے مخلص دوستوں اور متعلقہ سرکاری حکام کی معاونت کا اعجاز قرار دیجئے کہ فیصل آباد کے چنیوٹ بازار کے باسیوں میں ایسی42 خواتین بھی تھیں جو مسلمان معاشرے پر سیاہ دھبوں کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان خواتین کی کونسی مجبوریاں تھیں جو انہیں اس بازار میں لانے پر مجبور کر چکی تھیں۔ اس کا دانشورانہ تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت مفتی صاحب نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو تبلیغی مشن کا حصہ بناتے ہوئے اس مہم پر صَرف کرنے کا فیصلہ کیا کہ ان خواتین کے لئے مسلمان معاشرے کی شایانِ شان زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔


چنانچہ اپنے دو اہم معاونین مولانا عبدالرحیم اشرف اور خان شیریں گل کے ساتھ شبانہ روز مشوروں کے بعد اس وقت کے پولیس حکام کو اعتماد میں لیا گیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان خواتین کو چنیوٹ بازار سے نقل مکانی کے لئے آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیپلز کالونی میں اعلیٰ پائے کے چند مکانات کا انتظام بھی کر لیا گیا۔ مرحلہ وار پروگرام کے مطابق جب تمام خواتین پیپلز کالونی میں اعلیٰ پائے کے چند مکانات میں قیام پذیر ہوگئیں تو حضرت مفتی صاحب کے تعاون سے بعض شرفا نے خاموشی کے ساتھ ان خواتین کے گھر بسانے کے مناسب انتظامات کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ جب ان خواتین کو ایک وسیع ہال میں جمع کیا گیا ، مفتی صاحب نے اپنی اہلیہ سمیت بعض دوسرے دوستوں کی بیگمات کو بھی ان خواتین کے ساتھ میل جول کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا اور انہیں مناسب مشورے بھی دیئے۔ اس کے بعد وہ اہم ترین مرحلہ آتا ہے جو عملی طور پر مفتی صاحب زندگی بھر تبلیغ وارشاد اور توبہ واستغفار کے لئے جانے کہاں کہاں کیا کیا معرکے سر انجام دیتے ہوں گے لیکن آج کے اس معرکے کا اپنا ہی ایک مقام تھا۔ کوئی دوسرا نہیں خود حضرت مفتی صاحب کی اہلیہ محترمہ کی روایت اس ناچیز تک پہنچی ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے توبہ واستغفار کےموضوع پر جو کچھ بھی فرمایا اس کے اثرات ایسے انمٹ اور نمایاں تھے کہ بس آنسووں کی لڑی تھی جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر رکھا تھا۔داستان بہت طویل ہے، خلاصہ یہ کہ ایک ایک خاتون کی رخصتی کا اہتمام کیا گیا،نکاح اور رخصتی میں دلچسپی لینے والے شرفا نے انہیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی طرح رخصت کیا سوائے ایک خاتون کے سب کے نکاح ہوئے۔
بلاشبہ یہ ایک مثالی واقعہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی طرح ایسی عورتوں کو عزت کا مقام دے کر ان کی شادیاں کرائی جائیں۔مفتی صاحب کی یہی خصوصیات ان کے شاگرد مولانا طارق جمیل صاحب میں بھی ہیں چنانچہ اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کئی معاشرے گندے طبقے کے لوگوں پر محنت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی ایسی خواتین، ہیجڑے اور ایکٹر راہ راست پر آگئے۔
جیسا کہ میں نے گذشتہ مضمون میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اصل بات یہ ہے کہ خواتین کی تعداد ہر زمانے میں مردوں سے زیادہ رہتی ہے، اسی وجہ سے اللہ نے مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت بھی دی ہے، اگر تعداد برابر ہوتی تو شاید یہ اجازت نہ ہوتی۔ لیکن ہم نے دوسری شادی، بیوہ کی شادی، رنڈے کی شادی کو گناہ کا کام سمجھنا شروع کردیا ہے جس کا نتیجہ زنا،معاشرتی بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔آئیے ذرا اس جھلک کو دیکھیں کہ دورِ صحابہ میں نکاح کیسے ہوتے تھے، اور اس وقت زیادہ شادیاں کرنے کی وجہ سے عورت کتنی قیمتی ہوتی تھی اس کی ویلیو کتنی زیادہ تھی چندواقعات ملاحظہ کریں۔
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے شوہر نے طلاق دی تو حضرت معاویہ اور ابوالجہم رضی اللہ عنہما نے نکاح کا پیغام بھیجا، ایک طلاق یافتہ عورت کی طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے قریشی سردار ابن سردار اور حضرت ابوالجہم بیک وقت دوشخصیات نکاح کا پیغام بھیج رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت قیس کے اولیا سے فرمایا کہ “اما معاویہ فصعلوک” یعنی معاویہ انتہائی فقیر ومسکین ہیں ، لہٰذا ان سے اپنی بچی کا نکاح نہ کرو اور “اما ابوالجہم” رہے ابوالجہم “فلا یضع عصاہ عن عاتکہ” تو وہ ایسی سخت طبیعت کے ہیں کہ ان کی لاٹھی ان کے کندے سے کبھی نہیں اترتی، لہٰذا ان دونوں کو چھوڑ کر اسامہ بن زید سے نکاح کرو۔دیکھیں کیسا معاشرہ تھا کہ بیوہ کے لئے اتنے بڑے بڑے رشتے آرہے ہیں کہ نبی صلی اللہ کو مداخلت کرکے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب تعدد ازواج کی برکات تھیں۔
اسما بنت عمیس جو اپنے جوان شوہر جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے غزوہ موتہ میں شہیدہونے کے بعد بیوہ ہو گئیں ان کے بارے میں روایات میں ہے:کہ ابھی عدت گزری ہی تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا جسے حضرت اسما نے قبول کرلیا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح فرمایا اور پھر ولیمہ کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی مگر حضرت اسما بنت عمیس نے یوں کہہ کر انکار کردیا : اے ابوالحسن آپ رہنے دیں کیونکہ آپ ایک ایسے شخص ہیں کہ جن کی طبیعت میں سنجیدگی نہیں۔دیکھیں اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اگر یہ سوچتے کہ میں تو پہلے ہی دو شادیاں کر چکا ہوں مزید ایک اور شادی سے کہیں پہلی دو کا ثواب بھی کم نہ ہو جائے یا خواہ مخواہ میں مجھے خود پر اتنے سارے بال بچوں کی فکر مسلط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بیویوں میں عدل نہ ہوسکا تو قیامت میں اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا لہٰذا اطمینان قلب کے ساتھ دین ودنیا کے کاموں میں ہمہ تن مشغول رہنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اسما بنت قیس کی طرف حضرت علی نے دوبارہ پیغام نکاح بھیجا جو انہوں نے قبول کرلیا۔
صحابہ کرام کے واقعات میں آپ کو ایسا بکثرت ملے گا کہ ایک ایک عورت چار چار مرتبہ بیوہ ہوئی اور کبھی بھی اس کو شادی میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا نہ تو وظیفے پڑھے اور نہ ہی بزرگوں سے دعائیں کروانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام نکاح بھیجا، انہوں نے یہ کہہ کر پیغام مسترد کردیا کہ مجھے ان سے نکاح میں کوئی رغبت نہیں۔
امیرالمومنین نے ایک پیغام ام ابان بنت عتبہ بن شیبہ کی طرف بھیجا ام ابان رضی اللہ عنہ نے بھی یہ کہہ کر انکار کردیاکہ سخت طبیعت کے ہیں۔یہ سارے انکار اس لئے ہو رہے تھے کہ ان کو یقین تھا کہ ہمیں اپنی مرضی کا رشتہ مل جائے گا۔
عربوں اور افغانوں کے وہ قبائل اور وہ ممالک جہاں تعددازدواج کا رواج ہے ہمارے معاشرے کے برعکس کوئی مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین روزگار کا حامل ہو اپنی پھوپھی زاد ، چچازاد یا ماموزاد بہنوں سے نکاح کی کوشش کرت ہے اور یوں واہاں تعلیم سے عاری اور غریب خواتین کے والدین بھی اپنے خاندان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار مردوں کو چھوڑ کر خاندان سے باہر رشتے تلاش کرنے اور خاک چھاننے پر مجبور نہیں ہوتے۔
ہمارے معاشرے میں عورت پر ظلم ہوتا ہے ، افغانوں کے ہاں ہمارے بالکل برعکس مرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکی کے والدین اپنے داماد کی اچھی خاصی کھال کھینچ لیتے ہیں ، مہر کی رقم کے علاوہ لڑکی کا باپ داماد سے اپنی جیب بھرنے کے لئے بھی اچھی خاصی رقم وصول کرتا ہے اور کئی کئی لاکھ روپے وصول کرکے اپنی بچی کے نکاح پر آمادہ ہوتا ہے، یہ رسم بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے اور شریعت اس کی حوصلہ افزائی ہر گز نہیں کرتی مگر ان باتوں کے باوجود اس سے اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں نکاح کے حق میں عورت کی کیا قدروقیمت ہے۔
ہمارے معاشرے کی بے حسی دیکھیں کہ لڑکا شادی کی پہلی رات بھی عورت کے بستر پر گزارتا ہے اور بالکل شرم محسوس نہیں کرتا، ساری زندگی عورت کے برتن اور فرنیچر استعمال کرتا ہے۔
نکاح یا سوداگری
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نکاح میں چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں:
۱۔خاندان، ۲۔دین، ۳۔حسن، ۴۔مال اور پھر فرمایا تم دین کو ترجیح دو۔
اور حدیث کا مفہوم ہے کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں اخراجات کم سے کم ہوں۔
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کی روشنی میں صحابہ کرام نے رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے نکاحوں کو انتہائی سادہ بنا دیا، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے نکاحوں میں برکت رکھ دی۔
لیکن آج ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرام کی سنت سے اعراض کیا جس کی وجہ سے ساری برکتیں سلب ہوگئیں۔ آج شادیاں ہوتی ہیں جن کے لئے لوگ ساری ساری زندگی کماتے ہیں اور پھر شادی کے دو دنوں میں پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں۔مقابلہ بازی ہوتی ہے کہ فلاں نے اپنی شادی میں اتنا پیسہ ناچنے والوں پر خرچ کیا تھا ہم اتنا خرچ کریں گے۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر سرخی دیکھی تو فرمایا یہ کیا ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا حضور میں نے نکاح کیا ہے، اللہ اکبر ایک چھوٹی سے بستی میں بسنے والوں کو بھی خبر ہی نہ ہوئی کہ اس بستی کا سب سے امیر ترین انسان نکاح کرتا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔
جس دور میں ہم جی رہے ہیں آج نکاح بہت کم ہوتے ہیں ، یا مقابلہ بازی ہوتی ہے، یا ریاکاری ہوتی ہے، یا سوداگری ہوتی ہے۔
شاید آپ کو یہ لفظ بہت عجیب لگے کہ نکاح کے بجائے سوداگری کا کیا مطلب ہے؟
جی جناب آج کے دور میں بہت سارے لوگ سوداگری بھی کرتے ہیں۔ یعنی بولی لگاتے ہیں اتنی اتنی رقم دو گے تو نکاح ہوگا۔
ظاہر بات ہے جب اس طرح دونوں طرف سے جب سودا کیا جاتا ہے تو پھر وہ محبت اور پیار کبھی بھی پیدا نہیں ہو سکتا جو ایثار کے جذبے سے اللہ تعالیٰ پیدا فرمادیتے ہیں۔ چنانچہ میاں بیوی دونوں اپنے اپنے ہتھیار استعمال کرنے کی ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں نکاح میں کم سے کم خرچ کیا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثار والا معاملہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے دل میں اس ایثار کی وجہ سے محبت اور الفت پیدا فرماتے ہیں اور اس طرح ان کی ساری زندگی اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کرتے ہوئے گزرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دوسری بڑی خرابی رشتے کے انتخاب میں غلط ترجیحات ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ترجیح بتائی وہ "دین " ہے ، یعنی لوگوں کی مختلف ترجیحات ہوتی ہیں بعض حسن کوترجیح دیتے ہیں اور بعض خاندان کو، بعض مال کو اور بعض دین ، ان میں سب اعلیٰ چیز جسے ترجیح دینی چاہئے اور ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھنا چاہئے وہ دین ہے۔ ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں اس کا خیال بھی رکھا جا سکتا ہے لیکن دین کے بعد یعنی پہلی ترجیح دین ہونا چاہئے اس کے بعد باقی تین چیزوں میں جیسے مناسب ہو کر لیا جائے ، مثلا
۱۔ دین۲۔خاندان ۳۔مال ۴۔حسن
۱ٍ۔دین ۲۔مال ۳۔حسن ۴۔خاندان
۱۔دین ۲۔حسن ۳۔خاندان ۴۔مال
۱۔دین ۲۔خاندان ۳۔حسن ۴۔مال
ایک صاحب کہنے لگے یہ بچے میری پہلی بیوی سے ہیں جن کو میں نے طلاق دے دی تھی ، جب ان سے پوچھا کیوں طلاق دی ؟ کہنے لگے بدزبان تھی، اس پوچھا اب اس کا نکاح ہوگیا؟ کہنے لگے تھوکے ہوئے مال کو کون چاٹتا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟ (استغفراللہ)
ان صاحب نے جیسی بھی بات کی بہرحال ہمارے معاشرے کی صحیح تصویر کشی کی ہے۔اس کے مقابلہ میں صحابہ کے زمانے میں جو کچھ ہوتا تھا اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو قرآن میں کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم بیوگان کے نکاح میں غیر معمولی رغبت کے باعث انہیں عدت گزرنے سے قبل بھی نکاح کے سلسلے میں کسی نہ کسی طرح ضرور یاد کرو گے، لہٰذا اس رغبت وشوق کی رعایت کی خاطر تمہیں اشارہ اور گول مول طریقے سے عدت سے قبل بھی پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت ہے۔
یاد رکھیے! کل آپ کی بیٹیوں میں سے بھی کسی کو طلاق ہو سکتی ہے، اگر آپ اپنے قول وعمل سے اپنی بیوی پر اضافی ترس کا ثواب حاصل کرنے کی خاطر اپنے خاندان کا جمود توڑنے کو تیار نہیں تو ممکن ہے کہ آپ کی کسی بچی یا پوتی، نواسی کو طلاق ہو اور وہ بھی “ تھوکے ہوئے مال” کی فہرست میں اس طرح سے داخل ہو جائے کہ آپ کے خاندان کا کوئی مناسب اور اس بچی کا ہم پلہ اور کفو اس سے نکاح کو “ تھوکے ہوئے مال کو چاٹنا” سمجھے اور اس نکاح پر آمادہ نہ ہو یا ممکن ہے کہ آپ کی کوئی بچی حسن وجمال والی نہ اور آپ کا متوقع داماد یہ سوچ کر اسے مسترد کردے کہ شادی زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے، جیسا کہ آپ نے اپنی باری میں بھی یہی سوچاتھا تو مسلمانوں بتاو کیا یہ عورت پر ظلم نہیں ؟؟ اگر ظلم ہے تو ظالم کون ہے۔۔۔؟؟ کیا اب بھی وہ شخص ظالم نہیں جو استطاعت کے باوجود ان حالات میں بھی ایک زوجہ پر قناعت کو سعادت سمجھے۔۔۔۔؟
کئی ایسے واقعات بھی مشاہدے میں آتے رہتے ہیں کہ ایک شخص کی بیٹی کا رشتہ نہ ہوا، اس کی عمر بڑھنے لگی تو اس نے ہر طرف سے ناکام اور پریشان ہوکر بالاخر اپنی بیٹی کو کالج میں داخل کردیا کہ خود ہی کسی سے دوستی لگا کر شادی کرلو۔
اب آپ خود سوچیں اس صورت میں کیا ہوگا۔۔۔؟؟ کیا وہ لڑکی دوستی لگا کر شادی کرلے گی۔۔۔؟؟ کیا ہوگا یہی نا کہ وہ کبھی ایک سے دوستی لگائے گی کبھی دوسرے سے۔ لڑکوں کو تو کوئی مسئلہ نہیں شادی تو وہ اپنی مرضی سے کریں گے کیونکہ یہ زندگی میں صرف ایک بار کرنی ہے، البتہ اس لڑکی سے دوستی وقت گزاری اور شہوت پوری کرنے کے لئے لگائیں گے، اس طرح اس بے چاری کی عزت بھی تار تار ہو جائے گی اور شادی بھی نہیں ہوگی۔
 آئے دن اخبارات میں پڑھنے اور سننے میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ فلاں لڑکی اپنے اہل خانہ کی رضامندی کے بغیر اپنے ایک شناسا کے ساتھ گھر سے نکل گئی بلکہ معاملہ اب تو اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ مسلمان لڑکیاں اپنے غیر مسلم ساتھی ، عاشق اور دوست کے ساتھ نکل جارہی ہیں ، ابھی چند دن پہلے مسلمانوں کے اجتماعی و دینی معاملات میں دلچسپی رکھنے والے ایک صاحب علم نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ میرے رہائشی شہر کے قریب ایک صنعتی شہر میں 200 سے زائد مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلموں سے شادی کرلی ہے اور اس سےبھی کربناک و افسوسناک خبر یہ کہ حیدرآباد کی ایک اعلی تعلیم یافتہ شکل و صورت کی مالک دولت مند باپ کی 24 سالہ بیٹی ایک موچی ذات کے 40 سالہ ہندو سے عشق و معاشقہ کے بعد شادی کرلیتی ہے اور جب اس شادی کو رسمی شکل دینے کی بات آئی تو اس تقریب میں اس لڑکی کا نام نہاد مسلمان باپ اپنے پچاس سے زائد رشتہ داروں کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے شرکت کرتا ہے ، یہ اور اس قسم کی خبریں جو آئے دن اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اس امر کی عکاسی کررہی ہیں کہ موجودہ دور میں مسلمان نہ صرف اپنا دین و اخلاق بلکہ اپنا تشخص بھی کھوتے جارہے ہیں۔

Tuesday, August 19, 2014

قرآن کے حقوق


وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر
آج کل دنیا میں حقوق کی جنگ لڑی جارہی ہے ہر ایک اپنے اپنے حقوق کا طلبگار ہے، لیکن قرآن مجید کے حقوق کی طرف کسی کا دیہان نہیں۔ ضرور اس بات کی ہے کہ ہم قرآن مجید کے حقوق کو خود بھی یاد رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یاد کروائیں، مساجد اور سکول میں پڑھانے والے اساتذہ یہ حقوق بچوں کو ابھی سے یاد کروالیں۔
قرآن مجید کے حقوق
ہر مسلمان پر قران مجید کے پانچ حقوق ہیں
۱۔ایمان وتعظیم:۔۔۔۔۔۔یعنی اسے مانے ۲۔تلاوت وترتیل:۔۔۔۔۔۔یعنی اسے پڑھے
۳۔تذکر وتدبر:۔۔۔۔۔۔یعنی اسے سمجھے ۴۔حُکم واقامت:۔۔۔۔۔۔یعنی اس پر عمل کرے
۵۔تبلیغ وتبیین:۔۔۔۔۔۔یعنی اسے دوسروں تک پہنچائے
تفصیل
۱۔ایمان وتعطیم
ماننے کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اس بات کا اقرار کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو اس کے آخری پیغمبر پر نازل ہوئی اور اس بات کی دل سے تصدیق بھی کرے۔
۲۔تلاوت وترتیل
تلاوت کا مطلب ہے خشوع وخضوع کے ساتھ حصولِ برکت ونصیحت کی غرض سے قرآن کو پڑھنا۔قرآن کا پڑھنا ایک بہت بڑی عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کو تروتازہ رکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ بھی ہے ۔پھر اس تلاوت کے بھی کچھ حقوق ہیں۔
۱۔تجوید:۔۔۔۔۔۔یعنی حروف کے مخارج،صفات،رموزاوقاف اور دیگر قواعد کا جاننا بھی ضروری ہے۔
۲۔روزانہ کا معمول۔۔۔۔۔۔تلاوت ایک بار کرنا کافی نہیں بلکہ روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ روزانہ دس سپارے تلاوت کیے جائیں اگر یہ نہ ہوسکے تو روزانہ ایک منزل اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم ایک سپارہ روزانہ تلاوت ہو۔
۳۔خوش الحانی۔۔۔۔۔۔یعنی خوبصورت آواز میں پڑھنا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زینوالقرآن باصواتکم(ابوداود) قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔
۴۔آداب ظاہری وباطنی۔۔۔۔۔۔یعنی آداب کا لحاظ رکھ کرتلاوت کی جائے، تلاوت کے آداب میں باوضو ہونا،قبلہ روہونا، تعوذ وتسمیہ سے آغاز کرنا، حضور قلب اور خشوع وخضوع سے تلاوت کرنا ہے۔
۵۔ترتیل۔۔۔۔۔۔تلاوت قرآن کی اعلی صورت یہ ہے کہ نماز خصوصاً نماز تہجد میں اطمینان وسکون اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔
۶۔حف٭۔۔۔۔۔۔یعنی زیادہ سے زیادہ قرآن حفظ کیا جائے تبھی یہ ممکن ہوگا کہ نماز میں پڑھا جاسکے۔
۳۔تذکر وتدبر
تذکر کا مطلب ہے قرآن سے نصیحت حاصل کرنا اور تدبر کا مطلب ہے قرآن میں غوروفکر کرنا، یہ تبھی ممکن ہے جب قرآن کو سمجھا جائے، بغیر سمجھے قرآن پڑھنے کا جواز ایسے لوگوں کے لئے ہے جو اَن پڑھ ہیں اور عمر بھی گزر چکی ہے باقی تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ فہم قرآن کو علماء سے سیکھیں۔
۴۔حُکم واقامت
حکم واقامت کا مطلب ہے قرآن پر عمل کیا جائے، قرآن نہ تو جنتر منتر کی کتاب ہے کہ محض اس کا پڑھ لینا ہی دفع بلیات کے لئے کافی ہو اور نہ ہی محض حصولِ برکت کے لئے نازل ہوا بلکہ یہ ھدی اللناس ہے یعنی لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا کہ لوگ اس پر عمل کریں۔
۵۔تبلیغ وتبیین
اس کا مطلب ہے جو سیکھا اس کو دوسروں تک پہنچانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے بلغوا عنی ولوآیۃ، یعنی تمہیں ایک آیت آتی ہے تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔ناظرہ آتا ہے تو ناظرہ سکھاؤ، حافظ ہو تو حفظ کراؤ،ترجمہ آتا ہے تو ترجمہ سکھاؤ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔

Wednesday, June 4, 2014

مجلس صوت الاسلام کی سرگرمیاں

مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام بہت سے اہم اور مفید کورسز جاری ہیں، مجلس صوت الاسلام کا خطباءکورس بہت اہمیت کا حامل کورس ہے، دنیا میں اکثر فنون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے مدارس میں تربیت کے باقاعدہ ادارے موجود نہیں ہیں، اگرچہ انفرادی طور پر کچھ لوگ کوششیں کررہے ہیں۔
مجلس صوت الاسلام کی طرف سے خطباءکورس کا انعقاد اہم سنگ میل ہے، اس کورس سے نہ صرف سینکڑوں طلباءہر سال مستفید ہوں گے بلکہ امید ہے اس کی دیکھا دیکھی دوسرے اداروں کو بھی یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہمیں بھی خطباءکرس شروع کرنا چاہیے۔
یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے مدارس سے ہر سال نکلنے والے ہزاروں فاضلین کی زیادہ تر کھپت مساجد سنبھالنے اور مدارس میں تدریس کرنے میں ہی صَرف ہوتی ہے لیکن ان دونوں کاموں کو احسن طریقہ سے سرانجام دینے کے لئے تربیت کا کوئی انتظام نہیں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم ان دو میدانوں(تدریس،اور خطابت) کو باحسن وخوبی سرکرکے آگے بھی بڑھتے اور ہمارے فاضلین دوسرے میدانوں کو بھی سنبھالتے لیکن درحقیقت ہم نہ تو خطباءکی تربیت کررہے ہیں اور نہ ہی مدرسین کی، حالانکہ سکولوں کی طرف دیکھا جائے تو وہاں PTC وغیرہ کے کورسز مدرسین کے لئے لازمی قرار دیئے گئے ہیں۔
تربیت اور منظم ادارے مہ ہونے کا نتیجہ آج ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ مدرسے میں پڑھانے والا استاد پٹھان ہوتا ہے جبکہ پرھنے والا طالبعلم پنجابی، جو کتاب پرھائی جارہی ہے وہ فارسی میں ہوتی ہے(جیسے علم الصیغہ) اور اس کتاب میں موضوع عربی گرائمر ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں بیک وقت جب چار زبانیں اکٹھی ہوجائیں تو پھر کیسے پڑھانے یا پڑھنے کا حق ادا ہوسکتا ہے؟۔
چونکہ ہمارے مدارس کے فاضلین کی ایک بڑی تعداد مساجد میں کطابت کی ذمہ داری سنبھالتی ہے اس لئے صوت الاسلام کے زیر اہتمام یہ خطباءکورس اپنی اہمیت اور افادیت کے لحاظ سے قابل تعریف ہے۔
چونکہ ابھی تو اس کا آغاز کیا گیا ہے امید کی جاتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس کورس میں مزید بہتری لائی جائے گی اور صرف تدریس پر ہی اکتفاءنہیں کیا جائے گا بلکہ تعلیم وتربیت کے جدید طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے سماعت،عملی مشق، آڈیوز،ویڈیوز سے استفادہ وغیرہ کروا کر بھی بہتری لائی جائے گی۔
جہاں تک کورس کے مضامین کا تعلق ہے وہ بھی نہایت عمدہ تھے خصوصا مولانا زاہدالراشدی مدظلہ، مولانا سعد صدیقی مدظلہ اور مولانا یوسف فاروقی مدظلہ نے خطباءکو وہ باتیں پڑھائیں جو آٹھ سالہ تعلیمی دور میں نہ سنی اور نہ پڑھی تھیں۔
خاص طور پر مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کے تمام لیکچرز بہت اہم تھے، آج کل ہمارے حافظے اتنے اچھے نہیں کہ سن کر یاد رکھ سکیں اس لئے اگر یہ تمام مواد تحڑیری صورت میں بھی مل جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔
کورس میں شرکت کرنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اکثر باتیں پہلی مرتبہ سنیں، اس کے علاوہ خطبہ دینے کے انداز میں بھی بہتری اور ٹھہراو ¿ پیدا ہوا ہے۔ میرے خیال می اس کورس میں ایسے مشہور خطباءجو سامعین پر سکتہ طاری کردیتے ہیں اور سامعین گھنٹوں سکون کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنتے ہیں ایسے خطباءکے ویڈیوز کلپ بھی دکھانے چاہیں اور پھر طلباءسے پریکٹس کروائی جائے کہ وہ ان خطیبوں کے انداز، چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کے اشاروں وغیرہ کو اخذ کریں، سیکھنے کی غرض سے کسی بھی خطیب کی ویڈیوز سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مثلا مولانا طارق جمیل، ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ۔
مجلس صوت الاسلام کی سرگرمیاں خصوصا تقریری مقابلے کا انعقاد بھی بہت اہم ہے اللہ تعالیٰ صوت الاسلام کی سرگرمیوں میں مزید برکتیں فرمائے اور جس طرح اللہ نے وسائل دیے ہیں اسی طرح باصلاحیت ٹیم بھی عطاءفرمائے جس کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے۔ماشاءاللہ مجلس صوت الاسلام کی سرگرمیاں ،عزائم اور اردے تو بہت عظیم ہیں البتہ باصلاحیت ٹیم کی کچھ کمی نظر آرہی ہے۔


Thursday, March 27, 2014

Tuesday, January 14, 2014

Inpage Urdu 2018 Free Download

ان پیج 2018 مفت ڈاون لوڈ کریں
یہاں کلک کریں
Link 1: Download
Link 2: Download




inpage 2018