Search This Blog

Monday, February 22, 2016

تیسری جنگ عظیم شروع ہوچکی ہے۔۔؟

سعودی فوج کے میجنر جنرل فہد بن عبداللہ المطیر نے ”شمال کی گرج“ کے عنوان سے جاری فوجی مشقوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تیاری کرنا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبداللہ المطیرنے جمعہ کے روز’شمال کی گرج‘ مشقوں کا دورہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سےبڑی مشقوں کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجی افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے جنرل المطیر کا کہنا تھا کہ شمال کی گرج مشقوں میں حصہ لینے والے جوانوں کو شیڈول کے مطابق اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ہدف کے تعین، عسکری تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے عسکری اور جنگی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’شمال کی گرج‘ مشقوں کے ذریعے ہم ان مشقوں میں شامل ممالک کی فوج کی جنگی مہارتوں کو بہتربنانے میں معاونت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حربی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان مشقوں کے بہترین اور مثبت نتائج جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے جنگی مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مشقیں اسلامی دنیا کی جانب سے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا اعتراف ہے۔ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جیتنا اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن واستحکام کا پیغام پہنچانا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مشقوں ’شمال کی گرج‘ میں متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سینیگال، سوڈان، کویت، مالدیپ، مراکش، پاکستان، چاڈ، تیونس، جزائرالقمر، جیبوتی، سلطنت آف اومان، قطر، ملائیشیا، مصر، موریتانیہ، مارشیس اور دیگر ممالک کے فوجیں حصہ لے رہیں۔ یہ فوجی مشقیں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔
“شمال کی گرج” کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں شریک ممالک کی تعداد اور مختلف اقسام کے فوجی ساز وسامان کے علاوہ جدید ترین ہتھیاروں اور اسلحے کے لحاظ سے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشق ہے۔ مشقوں میں 20 ممالک کے جدید ترین جنگی طیاروں، توپوں، ٹینکوں، فوجی دستوں، طیارہ شکن نظام، بحری افواج کی وسیع پیمانے پر شرکت صلاحیتوں کے اس حجم اور اعلی درجے کی عکاس ہے جو یہ ممالک رکھتے ہیں۔یہ مشقیں اس بات کا بھی واضح پیغام ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے شریک دوست اور برادر ممالک تمام تر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور خطے کا امن واستحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ان متعدد مقاصد کو بھی باور کرا رہی ہیں جو خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے مکمل تیاری کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
گذشتہ چھ سات ماہ پہلے سے ہی حالات کے تیور دیکھ کر ہی کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ 2016کے شروع تک تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، بلکہ کئی ماہرین نے تو یہاں تک بھی حساب کتاب لگالیا ہے کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ کون کون سے ملک متاثر ہوں گے اور کون کون سے ملک کم متاثر ہوں گے۔ اب چونکہ واقعتا حالات تیسری جنگ عظیم کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ جہاں تک اس جنگ کی تباہ کاریوں کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ ابھی سے ہی شام کے حالات، وہاں کے مختلف شہروں ”حمص‘ وغیرہ کے کھنڈرات، کروڑوں لوگوں کی ہجرت، لاکھوں کی شہادت اور بے یارومددگار بھوکے پیاسے پڑے ہوئے لوگوں سے کیاجاسکتا ہے۔شام ہی وہ ملک ہے جو حقیقی قیامت کا میدان بنے گا، لیکن اس حقیقی قیامت کے آنے سے پہلے بھی وہاں قیامت کا منظر ہے، عجیب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف ایران ،روس اور بشارالاسد کی فوجیں ہیں تو دوسری طرف امریکا کی سربراہی میں نیٹو اتحاد۔ بظاہر دونوں کے مفادات الگ الگ ہیں لیکن دونوں فریق شام کے مظلوم مسلمانوں کو ہی بمباری کا نشانہ بنا رہے ہیں۔جبکہ تیسری طرف 34اسلامی ممالک کا اتحاد سعودی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔ اسی طرح ترکی نے بھی شام میں گھس کر کاروائیاں شروع کردی ہیں، اسی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کا اس طرح کاروائیاں کرنا دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دھکیلنا ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد مسلمان ممالک نے ہمت کرکے کھلے عام نہ صرف اتنا بڑا اتحاد قائم کیا ہے بلکہ سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کرکے دنیا کو واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جنگی مشقیں شروع ہوتے ہی ان کا سب سے پہلا اثر روس پر پڑا ہے چنانچہ روس نے بشارالاسد کو وارننگ دی ہے کہ شام کے مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے ورنہ روس کسی بھی وقت اس اتحاد سے الگ ہوسکتا ہے۔ان تمام حالات سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ یہ جنگ مزید تیز ہوگی، اور حالات بالکل اسی طرف جارہے ہیں جن کی طرف احادیث میں واضح طور پر اشارے موجود ہیں۔ایسے حالات میں ہمیں بھی ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت کی دعا کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

Wednesday, February 17, 2016

فرقہ واریت اور مولانا طارق جمیل

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
گذشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں زید حامد نے مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف کافی باتیں کیں، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی شور شرابہ ہوا، اور پھر ایک دو ن بعد پنجاب حکومت نے بھی تبلیغی جماعت پر تعلیمی اداروں میں تبلیغ کرنے پر پابندی لگا دی۔ چنانچہ اس شور شرابے میں مَیں اس طرف متوجہ ہوا کہ دیکھوں تو سہی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے، میں نے پہلے ایک ویڈیو دیکھی پھردوسری اور کرتے کرتے ایک ہفتے میں بیسیوں ویڈیو اور بیانات مولانا طارق جمیل صاحب کے سن لیے۔ وہ چند باتیں جو ان کے ہر بیان میں تھیں ان کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں پیش خدمت ہے۔ان باتوں کو پڑھ کر آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پابند ی کس کے حکم سے لگی۔
اللہ کے واسطے میری سنو! آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، آپس کی نفرتوں کو مٹاو، فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو،فرقہ واریت کی آگ میں مت جلو، مسلم بن کے رہو،مومن بن کے رہو۔جس فرقے سے ہو تمہیں مبارک ہو،جس مسلک پر ہو تمہیں مبارک ہو۔ اللہ کے واسطے اور وںکو بھی مسلمان سمجھو۔اوروں کو بھی ایمان والا سمجھو، اوروں کے لئے بھی جگہ بناو۔اوروں کو بھی راستہ دو، جنت بہت بڑی ہے۔خود جنت کے ٹھیکیدار نہ بنو، اسلام کے ٹھیکیدار نہ بنو، اللہ کے ٹھیکیدار نہ بنو، تھانیدار نہ بنو اوروں کے لئے بھی راستہ کھلا رکھو۔جوبھی تمہارا مسلک ہے دل میں رکھو، اوپر چھاپ نہ لگاو، چھاپ امت کی لگاو۔ایک دوسرے پر توپیں کَسی ہوئی ہیں، یہ کافر وہ کافر۔پھر دنیا میں مسلمان ہے کون؟میری فریاد ہے، نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، شہائیوں میں کسی کا نوحہ کون سنتا ہے؟لیکن میں کہوں گا(روتے ہوئے)مجھے پتا ہے میں اس فرقہ واریت کی آگ کو نہیں بجھا سکتا لیکن میں اللہ کی بارگاہ میں ابراہیم کا کبوتر بن کر پیش ہوں گا۔
ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں علماءسے کہتا ہوں اللہ کے واسطے امت کو دین سمجھاو فرقے نہ سمجھاو۔ اس ممبر کو محبت کے لئے باقی رکھو۔ اس ممبر سے آگ نہ بڑکاونفرتوں کی۔میں تمہیں کہتا ہوں بچو ایسی تقریروں سے ایسی کتابوں سے جن سے تم دوسرے مسلمان کے لئے نفرت لے کر اٹھو۔ہروقت دوسروں پر چڑہائی، کبھی اپنے اوپر بھی چڑہائی کیا کرو۔میں علماءکو ہاتھ جوڑتا ہوں، ہاتھ جوڑتا ہوں جب ممبر پر آو تو اسلام پیش کرو، امت کو ٹکڑوں میں تقسیم مت کرو۔
ایک اور بیان میں کہا:
مجھے بتاو تم میرے نبی کے ساتھ کیا کررہے ہو؟ وہ تمہیں فرقوں میں بانٹ کر گئے تھے یا امت بنا کر گئے تھے؟ کیوں اس نادان کھیل میں اپنی زندگی برباد کرتے ہو؟کیوں نہیں مسلمان بن کر رہتے ہو؟ اس امت میں اختلاف شروع سے ہے ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک نہ جاو کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا شروع کردو۔سنیوں نے کہا وہابی کافر، وہابیوں نے کہا سنی کافر۔بریلویوں نے کہا دیوبندی کافر، دیوبندیوں نے کہا بریلوی کافر۔جنت میں کون جائے گا؟کچھ بھائیو میرے نبی کی محنت کی قدر کرو۔میرے نبی تو غیروں کو اپنا بنانے آئے تھے ہم نے اپنوں کو غیر بنادیا۔اس نفرت کی آگ سے کتنے سر کٹ چکے، کتنے سہاگ اجڑ گئے،کتنی مائیں بے آسرا ہوگئیں، کتنی جوان بیٹیوں کی مانگ ویران ہوگئی،(روتے ہوئے) کیا اسی کا نام اسلام ہے؟ اسی کا نام عشق رسول ہے؟اسی کو دین کہتے ہیں؟
ایک دوسرے کی مسجدوں میں نہیں جاتے ہو، ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھتے ہو۔جنت کے ٹھیکیدار بن گئے ہو۔میرے نبی تو عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھانے کھڑے ہو گئے تھے، جس کا کفر ابوجہل سے بھی بڑا ہے۔ ابوجہل اوپر کی دوزخ میں ہے، عبداللہ بن ابی نیچے کی دوزخ میں ہے۔یہ دین تم کہاں سے لائے ہو جس میں تم فرقوں میں بٹ گئے ہو۔نفرتوں کی آگ تم نے لگا دی ہے۔ یہ کہاں سے اسلام آیا ہے؟میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں امت بن کر رہو، مسلم بن کر رہو۔ اپنے اپنے عقیدے پر پکے رہو، دوسرے کے لئے گنجائش رکھو۔
پنجاب کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
 ہائے کفر کے فتوے،میں دھماکوں سے اتنا پریشان نہیں، کیونکہ جو مررہے ہیں شہید ہو رہے ہیں، اور جو ظالم ہیں اگر یہاں نہ پکڑے گئے تو ایک دن اللہ نے رکھا ہے۔ اس سے میرا ملک تباہ نہیں ہوگا اس سے میرے ملک میں طاقت آئے گئی، کیونکہ قربانی سے طاقت آتی ہے۔حضرت حسین نے قربانی دی جبکہ شمر،یزید نے ظلم کیا ان کا نام ونشان مٹ گیا۔جوچیز مجھے تڑپاتی ہے، رولاتی بھی پھر میں فریاد بن کر بولتا ہوں۔فرقہ واریت،فرقہ واریت،فرقہ واریت۔ممبر رسول محبت کے لئے ہے فرقہ واریت کے لئے نہیں ہے۔لیکن ہمارا خطیب آتا ہے ایسی تقریر کرتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں آگ لگا دیتا ہے۔اور ایک کو دوسروں سے متنفر کرکے نکل جاتا ہے، وہ اپنے پیسے کھرے کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں آگ بھر کے چلا جاتا ہے۔یہ میرے دیس کا سب سے بڑا روگ ہے۔معاملات میں سود،سود ، سب سے بڑا روگ ہے۔دین میں فرقہ واریت سب سے بڑا روگ ہے۔اور معاشرت میں بداخلاقی سب سے بڑا روگ ہے۔یہ وہ سوراخ ہیں جہاں سے پانی گیا تو کشتی ڈوب جائے گی، ملاحوں کو کیا گلا دینا کہ جب مسافر ہی کلہاڑیاں لے کر، کدالیں لے کر، آریاں لے کر تختوں کو کاٹ رہے ہیں۔میں ہواوں کو کیا کہوں میں طوفانوں کا کیوں گلہ کروں۔
تواِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں،تیری رہبری کا سوال ہے
انگلینڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
اللہ کے واسطے امت بنو، اس امت میں اختلاف رہے گا۔ اختلاف کے باوجود محبت کا حکم دیا گیا ہے۔لیکن ہماری نفرت یہاں تک چلی گئی ہے کہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے،ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں۔ کسی کو کافر کہنا اتنا آسان ہے؟، اچھا چلو وہ اگر کافر ہے لیکن کہتا یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں تو ایسے شخص کو میرے نبی نے سینے سے لگانا سکھایا ہے، دھکہ دینا تو نہیں سکھایا۔عبداللہ بن ابی سے بڑکر کون کافر ہوگا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا۔ جہنم کے ساتھ قید خانے ہیں، ۱۔جہنم۲۔حطمہ۳۔لظی۴۔سعیر۵۔سقر۶۔جحیم۷۔ہاویہ۔ ابوجہل چھٹے درجے جحیم میں ہے جبکہ عبداللہ بن ابی ساتویں درجے ہاویہ میںہے۔میرے نبی نے تو منافقوں کو بھی سینے سے لگایا، (اس کا جنازہ پڑھایا،کرتا دیا، اپنا لعاب اس کے منہ میں ڈالا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا)۔عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اپنے باپ کو دیا تو اس نے یہ کہہ کر پینے سے انکار کردیا کہ پیشاب لے آو وہ پی لوں گا یہ نہیں پیوں گا۔ اس کے بیٹے نے اپنے باپ اس توہیں پر قتل کرنے کی اجازت مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لوگ کہیں گے محمد اپنے پاس بیٹھنے والوں کو قتل کرتا ہے۔تم اس کی امت ہوکر فرقہ واریت میں بٹ گئے، تم کیا میسج دے رہے ہو پوری دنیا کے مسلمانوں کو۔چھوٹے چھوٹے اختلاف پر یہ کافر وہ کافر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک منافق کا پتا تھا کہ فلاں فلاں منافق ہے لیکن آپ نے زندگی بھر کسی کو نہیں بتایا، سب کو سینے سے لگایا ہے۔
اپنے مدرسے کے طلباءکو خطاب کرتے ہوئے کہا:
 میں آپ سے کہتا ہوں اپنے عقائد پر پختہ رہو لیکن دیوبندی بن کرنہ چلو، بلکہ امتی بن کر چلوامتی بن کرچلو، اس بھڑکتی آگ کو بجھانا ہے، بڑھانا نہیں بجھانا ہے۔تبلیغ کے کام نے یہ فاصلے مٹائے ہیں، تبلیغ کا کام نہ ہوتا تو کتنی بڑی تباہیاں انسانیت کو دیکھنی پڑتیں۔تو آپ کا سال شروع ہورہا ہے، آپ بہت اچھے بچے ہو، بہت نیک بچے ہو۔میری مدد کرو میں آپ کی مدد کا محتاج ہوں۔جس کی اتنی زیادہ اولاد ہو،دو تین سو بیٹے ہوں اور سارے دعا کررہے ہوں تو اللہ کسی کی تو سنے گانا، ایک یہ کہتا ہوں کہ دیوبندی بن کر نہ چلوامت بن کر چلو، ہم عقائد میں اہل سنت والجماعت ہیں۔بریلوی مفتی محمدخان قادری صاحب کی اس بات پر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ دیوبندی، بریلوی،اہل حدیث سب اہل سنت والجماعت ہیں۔میں یہ سینہ دیکھنا چاہتا ہوں، گھٹا ہوا سینہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ آپ اپنے سوا کسی کو جنتی ہی نہ سمجھو، اپنے سوا سب کو گمراہ سمجھو۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
مذہبی تعصب کی آگ زرعی یونیورسٹی سے نہیں اٹھی، وہ گورنمنٹ کالج، گورنمنٹ یونیورسٹی سے نہیں اٹھی،وہ فیصل آباد کے آٹھ بازاروں سے نہیں اٹھی۔یہ آگ ممبر سے بھڑکائی گئی ہے۔اس کے قصور وار پروفیسر نہیں ہیں، عوام نہیں ہیں، اس کے قصور وار ممبر والے ہیں۔جو ممبر محبت کے لئے تھا وہی ممبر نفرت کی آگ آگ آگ، تقریر نہیں ہوتی شعلے نکل رہے ہوتے ہیں۔اور اس میں گھر نہیں جلتے بدن جل رہے ہیں، ایمان جل رہے ہیں۔اور اس حد تک نفرت ہے کہ ایک دوسرے کو سلام بھی نہیں کرتے۔ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔ اس نفرت کے ساتھ ہم اللہ کی قسم اللہ کی نظروں سے گِر جائیں گے۔جو تمہارا عقید ہے اس پر پکے رہو لیکن کسی کو جہنمی نہ کہو، کسی کو جھٹ سے کافر نہ کہو۔

Monday, February 15, 2016

رشتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
اس وقت پاکستان میں تین کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ تین لاکھ سے زائد لڑکیاں شادی کے خواب دیکھتے دیکھتے شادی کی عمر گزار چکی ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں دو سے زائد لڑکیاں ہیں۔ہر آٹھویں گھر میں لڑکیوں کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس میں بوڑھے ہو رہے ہیں اور انہیں موزوں رشتے دستیاب نہیں۔
لڑکیوں کے والدین اچھے کھاتے پیتے لڑکے کے انتظار میں لڑکیوں کو گھر بٹھائے رکھنے پر مجبور ہیں جب ان لڑکیوں کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور 35 سال کی ہو جاتی ہیں تو پھر وہ اَن پڑھ اور عام رشتے ہی قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جبکہ لڑکے لڑکیوں سے تعلیم کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔ بیس سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شرح دس فیصد بھی نہیں رہی لڑکے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا بہانہ اور نوکری لگنے کا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ لڑکیوں کی شرح پیدائش بھی لڑکوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں شادی مزید گھمبیر مسئلہ بن جائے گی ان خطرناک حالات میں ترغیب نہیں بھر پور تحریک کی ضرورت ہے۔
جب کسی چیز کی بہتات ہوجائے تو اس کی قیمت کم ہوجاتی ہے، لوگ اس کی قدر نہیں کرتے، اس کی حفاظت نہیں کرتے، اس پر چوکیدار نہیں بٹھاتے، اسے چھپاتے نہیں، اگر کوئی اس کی ناقدری کرے تو پرواہ نہیں کرتے۔ مثلا آپ پانی کو لے لیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ نے پانی وافر مقدار میں دیا ہے ، پینے کے لئے ہمیں مفت میں دستیاب ہے، آپ کسی سے پانی کا گلاس مانگیں ، کسی ہوٹل کے پاس سے گزرتے ہوئے پانی کا گلاس پی لیں آپ سے کوئی پیسے نہیں مانگے گا، آپ پانی کا گلاس گرا دیں آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔پانی کے مقابلے میں آپ پٹرول یا سونے کو لے لیں یہ دونوں قیمتی چیزیں ہیں لوگ ان کی قدر کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، چوکیدار بٹھاتے ہیں اگر کسی کے پاس سونا ہوتو ہرکسی کو نہیں بتاتا کہ میرے پاس سونا ہے اسے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہ دونوں قیمتی ہیں ، مقدار میں کم ہیں، مانگ زیادہ ہے۔یہ اصول تقریباً ہر چیز کا ہے۔بالکل اسی طرح کا معاملہ اس وقت عورت کا بھی ہے۔ دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔اس قدروقیمت کو ختم کرنے میں ہمارے دشمن کے ساتھ ساتھ ہماری عورت کا اپنا قصور بھی ہے۔لوگوں کی بیٹیوں کو رشتے نہیں مل رہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں ، زنا عام ہورہے ہیں، جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہوجائے اس معاشرے میں زنا سستا ہوجاتا ہے۔آپ نکاح کا تصور کریں آپ کے ذہن میں فوراً ڈیڑھ دو لاکھ کا بجٹ آجائے گا، لیکن زنا کا سوچیں تو صرف چار پانچ سو میں دستیاب ہے(نعوذ بااللہ)۔بعض والدیں اپنی بیٹیوں کو کسی کے ساتھ دوستی لگاتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں مگر صرف نظر کرلیتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ کسی طریقے سے دوستی لگ جائے اور ہماری بیٹی کو رشتہ مل جائے۔اگر آج کے مسلمان نبیوں اور صحابہ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے ایک سے زائدشادیاں کرنا شروع کردیں تو کنواری عورتوں کی تعداد کم ہوجائے گی، جس سے ان کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا۔ مانگ زیادہ ہوگی تو قیمت بڑھ جائے گی، لوگ اپنی بیٹی کو چھپا کر رکھیں گے بے دین بھی اپنی بیٹی سے پردہ کروائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے سے پیدا کی ہے:(انا کل شءخلقناہ بقدر)ہم نے ہر چیز کو ایک متعین اندازے سے پیدا کیا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شی کو حکمت کے ساتھ ایک اندازے سے پیدا کیا ہے تو جس خالق نے مردوں میں عورتوں سے زائد جنسی رغبت رکھی اس نے اسی حساب سے مردوں کے مقابلے میں زائد عورتوں کو پیدا بھی کیا ہوگا، تاکہ ایک مرد اپنی اس فطرت کے موافق عورتوں کو خواہ وہ عورتیں اپنی قوم کی ہوں یا اگر اپنی قوم میں عورتوں کی تعداد کم ہو تو دوسری اقوام کی عورتوں سے نکاح کرکے بیک وقت متعدد کو بسہولت نکاح میں جمع بھی کرسکتے۔بیل ، گائے، بکرا، بکری اور مرغا، مرغی وغیرہ میں نرومادہ کی شرح پیدائش اس لئے برابر ہوتی ہے کہ ان اجناس میں ”نر“ ذبح ہونے اور گوشت کھانے کے لئے یا کسی اور طرح سے مرنے کے لئے ہوتے ہیں، توالدوتناسل کے لئے صرف ایک نر متعدد مادہ کے لئے رکھا جاتا ہے۔عین اسی اصول کے مطابق عجیب بات ہے کہ وہ قوم جس کے مرد اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے کثرت سے قربان اور شہید ہونے لگیں تو مشاہدہ ہے کہ اس قوم میں اللہ تعالیٰ لڑکوں کی شرح پیدائش بڑھادیتے ہیں۔چنانچہ افغانوں کے ہاں سنا ہے کہ لڑکوں کی شرح پیدائش لڑکیوں سے زیادہ ہے۔فلسطین میں بھی یہی صورتحال ہے۔
اولیا کی طرف سے نکاح میں بے جا تاخیربھی تشویش ناک صورتحال اختیار کرچکی ہے،بعض والدین کی یہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بچی کے لئے آنے والے پیغام نکاح کو فضول قسم کی باتوں کی وجہ سے رد کردیتے ہیں۔ مثلا بعض والدین کئی کئی پیغام نکاح مہر کی زیادتی کی تلاش میں ٹھکرا دیتے ہیں، بعض لڑکے میں یا اس کے خاندان میں فضول قسم کے عیب نکال کر پیغام نکاح ٹھکرا دیتے ہیں، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی عمر کا ایک بہترین حصہ گزار لیتی ہے اس کے بعد اس کے پیغام آنا بند ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ ساری عمر گھر میں گزارتی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب کسی گھر میں کوئی بچی جوان ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کے دل میں یہ الہام کرو کہ وہ جا کر اس بچی کا رشتہ مانگیں ، فرشتے مختلف لوگوں کے دلوں میں یہ الہام کرتے ہیں کہ وہ جا کر فلاں لڑکی کا رشتہ اپنےلڑکے کے لئے مانگیں ، اس طرح کچھ لوگ اس بچی کا رشتہ مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔ اب اگر بچی کے والدین سمجھدار ہوں تو وہ اس پیغام نکاح کو قبول کرلیتے ہیں ورنہ جب وہ اس پیغام نکاح کو ٹھکراتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اب اپنی بچی کے لئے رشتہ خود تلاش کرو اس طرح پھر انہیں رشتہ نہیں ملتا اور وہ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ ہماری بچی کا رشتہ نہیں آرہا۔
ایسے والدین کے بارے میں علمائے حنابلہ جن کا مذہب ہے کہ بلا اجازت ولی عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک بھی اگر کسی لڑکی کا باپ زیادہ مہر کی لالچ میں لڑکی کو گھر میں بٹھائے رکھے اور پے درپے متوجہ ہونے والے رشتوں کو مسلسل رد کرکے بچی کے نکاح میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بن رہا ہو تو اس عمل سے لڑکی کے باپ کی ولایت ساقط ہو جائے گی۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک جید حنبلی عالم شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ ایک فتوے میں فرماتے ہیں:آپ نے بعض لوگ دیکھے ہوں گے کہ جنہیں ان کی بچی کےلئے نکاح کا پیغام بھیجا جاتا ہے اور پیغام بھیجنے والا اس لڑکی کا ہم پلہ(کفو) بھی ہوتا ہے مگر اس کا باپ اسے مسترد کردیتا ہے، پھر ( اس جیسا) کوئی دوسرا پیغام بھیجتا ہے اسے بھی اور پھر اس کے بعدایسے کسی تیسرے کو بھی مسترد کرتا رہتا ہے تو جو شخص ایسی عادت کا ہو تو بچی کے نکاح کے معاملے میں اس کی ولایت ساقط ہوجائے گی اور اس باپ کے سوا کسی دوسرے قریبی ولی کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرادے(اگرچہ باپ راضی نہ ہو)۔
آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔
 خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
poly

Tuesday, February 2, 2016

اپنے بچوں کو سوشل سائنس پڑھائیں

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
دنیا کے کامیاب ترین لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یا دنیا پر حکمرانی کرنے والے لوگ کیا پڑھتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اور اس پر کچھ تبصرہ آج کا میرا موضوع ہے۔دنیا میں کامیاب ترین رہنماوں کی 55فیصد تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سائنسی علوم نہیں حاصل کیے، بلکہ ان کی کامیابی کا راز غیر سائنسی علوم تھے۔یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ برٹش کونسل کی ایک تحقیق اور سروے کی رپورٹ ہے جو اس نے 30سے زائد ممالک کے 1700افراد پر کی۔تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماوں نے سوشل سائنس اور ہیو مینٹیز کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیو مینٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔
پولٹیکل سائنس اور سوشل سائنس یعنی سماجی علوم یا معاشرتی علوم وہ علوم ہیں جن میں ہم لوگ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ یہی وہ علوم ہیں جن کو پڑھ کر یا مہارت حاصل کرکے کچھ لوگ دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں، چونکہ ان کو ان علوم کی اہمیت کا خود اندازہ ہے اسی لئے وہ اپنے بچوں کو بھی یہی علوم پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ یورپ وغیرہ میں ڈاکٹری،انجینئرنگ وغیرہ سیکھنے یا پڑھنے کا اتنا زیادہ رجحان نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک کے ڈاکٹر اور انجینئرز دھڑا دھڑ یورپ ایکسپورٹ ہورہے ہیں۔ یورپ والوں کی نظر میں میڈیکل سائنس، الیکٹریکل سائنس، کمپیوٹر سائنس وغیرہ عام سے کام ہیں اسی لئے ان کاموں کے لئے وہ دوسرے محکوم ممالک سے لوگوں کو بلاکر ملازم رکھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ڈاکٹری ایک پیشہ ہے لہٰذا وہ اس پیشے والے کو تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں جبکہ اپنے بچوں کو وہ سوشل سائنس،پولٹیکل سائنس پڑھاتے ہیں تاکہ ہمارے بچے حکمرانی کریں اور باقی لوگ ڈاکٹر،انجینئرز وغیرہ ہمارے ملازم ہوں اور ہمارے ماتحت رہ کر ہماری خدمت کریں۔ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی سے فراغت حاصل کرکے پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والے لڑکوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات کی لالچ دے کر امریکا لے گیا۔ میرا ایک جاننے والا سپین میں رہتا ہے ایک دن فون پر بات ہورہی تھی اس نے کہا میرے دانت میں درد ہے آج ڈاکٹر کے پاس گیا تھا اس نے ٹوکن دے دیا ہے اب پندرہ دن بعد میری باری آئے گی پھر وہ چیک کرے گا اور دوا دے گا، اس نے بتایا یہاں ڈاکٹر بہت کم ہیں اس لئے چیک اپ کروانے کے لئے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ ہمارے پاکستان میں ہسپتالوں میں مریضوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں، اگر کسی مریض کو دس منٹ بھی انتظار کرنا پڑے تو منہ چڑھا لیتا ہے۔ہرسال ہزاروں پاکستانی میڈیکل،انجینئرنگ اور دیگر فنون میں اعلیٰ تعلیم سے فراغت کے بعد بڑی آسانی سے یورپ میں سیٹ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہاں ان کی بہت ڈیمانڈ ہے وہاں کے مقامی لوگ ان چیزوں میں خود دلچسپی نہیں رکھتے وہ یہ کام دوسرے لوگوں سے لیتے ہیں، خود نگرانی اور ایڈمنسٹریشن کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی جو چند خاندان پچھلے ساٹھ ستر سال سے سیاست کرتے آرہے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو سوشل سائنس اور پولٹیکل سائنس ہی پڑھاتے ہیں کیونکہ ان کو بھی اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔
یہ علوم اصل میں تو ایک مسلمان کے لئے ضروری تھے، کیونکہ اللہ نے اسے زمین پر اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا، نبی اللہ کے خلیفہ ہوتے تھے،اللہ کا آخری خلیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے، پھر ان کے بعد نائبین تھے۔ لیکن مسلمانوں نے نبی کا نائب بننے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی چنانچہ آج غیرمسلم اقوام دنیا پر حکمرانی کررہی ہیں اور مسلمان ان کی غلامی میں ان کی خدمت اور محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے بھی بکریاں چَرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں، میں قریش کی بکریاں چرایا کرتا تھا چند قیراط پر(مشکوة)۔ علماءنے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی نے آگے جاکر قوم کی قیادت کرنی ہوتی ہے، قوم کو لے کر چلنا ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ بچپن میں نبی سے بکریاں چروا کر اس کی تربیت فرماتے ہیں ، کیونکہ ایک چرواہا سینکڑوں بکریوں کو کنٹرول کرتا ہے کبھی کوئی بکری ایک طرف بھاگتی ہے کبھی دوسری طرف اسے بھاگ بھاگ کر ان کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اس طرح اس کی تربیت ہوتی ہے کہ انسانوں کے بے لگام ہجوم کو کس طرح اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔
موجودہ دور میں جس طرح ہر چیز نے ترقی کی ہے اسی طرح بکریاں چروا کر جو تربیت ہوتی تھی وہ بھی اب باقاعدہ ایک علم بن گیا، جو بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔اسی علم کو آج سوشل سائنس، پولٹیکل سائنس ،عمرانیات وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے۔سمجھدار لوگ ان علوم میں مہارت حاصل کرکے لوگوں کے دل ودماغ اور وجود سے کام لیتے ہیں ۔سوشل سائنس اور سماجی علوم کی کئی شاخیں ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے اپنے کاروبار چلاتی ہیں، وہ ماہرین لوگوں کی نفسیات کے مطابق پروڈکٹ میں تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں، اسی طرح ایڈورٹائزنگ کا شعبہ بھی ایسے ہی لوگ چلاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی طبقہ جن کے اخلاص للٰہیت اور دینی خدمات میں کوئی شک نہیں، بدقسمتی سے ان علوم سے نابلد رہا۔ بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ایک خاص سازش کے تحت اس طبقے کو باقاعدہ منظم منصوبہ بندی سے محروم رکھا گیا، اور اس کام کے لئے علماءکی سادگی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ جس طرح ایک تین چار سال کا بچہ ضدی ہوتا ہے، کبھی اسے کہیں دودھ پیو تو وہ کہتا ہے میں نہیں پیوں گا۔ پھر اسے کہو یہ دودھ نہیں پینا تو وہ کہتا ہے میں ضرور پیوں گا، اسی طرح علماءکو مرحلہ وار اس سٹیج پر لایا گیا کہ وہ ضد میں آگئے اور انہوں نے جدید علوم کو سیکھنے سکھانے سے انکارکردیا۔ جن لوگوں نے اس سٹیج تک لایا انہوں نے اس بات پر اور پکا کرنے کےلئے کئی حربے آزمائے، الٹے سیدھے کام کرکے علماءکو کہتے کہ یہ پڑھاو ، علماءضد میں آکر کہتے نہیں ہم نہیں پڑھائیں گے۔ چنانچہ اس طرح پچھلی دو صدیوں سے دینی طبقے کو بالکل دیوار سے لگا دیا گیا۔ اب چند سال ہوئے کہ دینی طبقے کو ہوش آیا اور انہوں نے کچھ نہ کچھ اس طرف توجہ کی ہے،لیکن ظاہر ہے اس کے نتائج برآمد ہونے میں چالیس پچاس سال تو لگیں گے، اگر یہ کام پچاس سال پہلے کیا ہوتا تو آج بڑے بڑے دینی ماہرین حکومت،فوج،عدلیہ اور دیگر اداروں میں قیادت کررہے ہوتے۔ان علوم سے ناواقفیت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ علماءکو یہ لوگ اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس بات کا احساس تک علماءکو نہیں ہوتا، ویسے تو اس کی کئی مثالیں ہیں لیکن میں ایک مثال دیتا ہوں، چند سال قبل ایک چینل پر ایک طویل ڈرامہ قسط وار چلنا شروع ہوا، اس چینل نے روٹین کے مطابق اس کی ایڈورٹائزنگ کی یعنی ٹی وی، اخبارات وغیرہ میں۔ اس کے ساتھ ساتھ علماءکے ذریعے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ کرانے کا فیصلہ ہوا، چنانچہ چند لوگوں کوایسے مختلف علماءکے پاس بھیجاجو خطیب اور مقرر تھے، ان لوگوں نے مختلف شہروں میں علماءسے مل کر انتہائی نیازمندی سے کہاحضرت فلاں چینل پر ایک ڈرامہ شروع ہونے والا ہے، اس ڈرامے میں قرآن پاک کی توہین کی گئی ہے،آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ چنانچہ خطیب صاحبان نے نہ تحقیق کی اور معلومات لیں، بس ایک سنی سنائی بات پر جمعے کی تقریروں میں مسجد کے ممبر ومحراب سے اس ڈرامے کی ایڈورٹائزنگ شروع ہوگئی،کہ فلاں ڈرامے کو بندکیا جائے، حکومت ایکشن لے، اب لوگوں میں بھی تجسس پیدا ہوا اور پورے ملک کی عوام اس ڈرامے کو دیکھنے لگی۔ ظاہر ہے اس ڈرامے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی اس لئے حکومت یا عدلیہ کو کسی قسم کا ایکشن لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
اگر ہم ان مفید علوم سے اسی طرح کنارہ کش رہے تو دوسرے لوگ ہمیں اسی طرح اپنے اپنے مقاصد میں استعمال کرتے رہیں گے۔ اگر ہم قوم کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں قیادت کرنے علوم میں مہارت ،تعلیم اور تربیت بھی ضرور حاصل کرنی ہوگی۔ڈاکٹر محمد رفعت پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ لکھتے ہیں: مسلمان طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ سماجی علوم کی اہمیت کو طبعی علوم سے کم نہ سمجھیں۔ ان علوم کو مغربی دنیا میں جس طرح ترتیب دیا گیا ہے اس کا تنقیدی جائزہ لیں۔ صحیح اور غلط تصور کائنات میں امتیاز کریں اور انسانی وجود اور کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ان نشانیوں کا ادراک کریں جو درست تصور کائنات کی تصدیق کرتی ہیں۔ مغربی افکار پر تنقید کے ساتھ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ مبنی برحقیقت تصور انسان و کائنات کے مطابق، معلومات کو ترتیب دیں اور نئی معلومات کی دریافت و تحقیق کا کام اس جذبے کے ساتھ انجام دیں کہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جو ان عالم گیر قدروں پر استوار ہو جن کو انسان کی فطرت صالحہ پہچانتی ہے اور وحی الٰہی جن کی تصدیق کرتی ہے۔

Friday, January 29, 2016

امیر ہونے کا نسخہ

یہ خواہش تو ہر ایک کے دل میں ہوتی ہے کہ میں امیر ہوجاوں۔ امیر ہونے کا نسخہ ایک اعتبار سے نہایت آسان بھی ہے اور ثابت قدمی دکھانے کے اعتبار سے نہایت مشکل بھی۔تو لیجئے چند واقعات ملاحظہ کریں اور پھرہوجائیں امیرترین۔
اس وقت دنیا کی امیر ترین قوم یہودی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے مال میں سے 20% نکال کر خیرات کرلیتے ہیں، چونکہ اللہ کا یہ قانون دنیا میں سب کے لئے برابر ہے کہ خرچ کرنے والے کو 10 گنا منافع ملے گا، اسی وجہ سے ان کو اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔یہ بات بڑی عجیب سی ہے کہ صرف ایک کروڑ یہودی دنیا کی 60 پرسنٹ دولت کے مالک ہیں جب کہ سات ارب انسان 40 پرسنٹ دولت پر تصرف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اہم ترین 90فیصد ادارے ان کے ہیں مثلاآئی ایم ایف،نیویارک ٹائمز، فنانشل ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ریڈرزڈائجسٹ، سی این این، فاکس ٹی وی، وال سڑیٹ جرنل، اے ایف پی، اے پی پی، سٹار ٹی وی کے چاروں سٹیشن سب یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ شائد ہم میں سے چند ایک نے ہی اس بات پر غور کیا ہوکہ یہودیوں کی دن دوگنی رات چوگنی دولت بڑھنے کا راز کیا ہے؟عقدہ یہ کھلا کہ ہزاروں سال سے یہ قوم اس بات پر سختی سے قائم ہے کہ ہر یہودی اپنی آمدنی کا 20 فیصد لازمی طور پر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں فیس بک کے مالک نے اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں اپنی دولت میں سے 45ارب ڈالر خیرات کرلئے۔
لاہور میں ایک ہسپتال ہے شائد آپ میں سے کسی نے دیکھی ہو، اس ہسپتال کا نام ہے منشی ہسپتال۔یہ ہسپتال جس شخص نے بنایا اس کا نام منشی محمد تھا یہ نہایت ہی غریب شخص تھا ، بازار میں کھڑا ہوکر کپڑا بیچا کرتا تھا، اسے کسی نے بتایا تم اپنے مال میں سے کچھ فیصد مقرر کرکے مستحق لوگوں پر خرچ کرو بہت فائدہ ہوگا، چنانچہ اس نے 4فیصد مقرر کردیئے اور ہر مہینے اپنے منافع میں سے 4فیصد خرچ کرتا رہا ، کچھ ہی عرصے بعد اس کا کاروبار بڑھنے لگا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فیکٹری کا مالک بن گیا وہ اسی طرح چار فیصد خرچ کرتا رہا اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ اس کی آمدن کا چار فیصد کروڑوں میں نکلنے لگا،چنانچہ اس نے کروڑوں روپے مالیت کی ایک ہسپتال بنائی، جنرل ضیاالحق نے اس کا افتتاح کیا ، وہ ہسپتال آج بھی لاہور میں منشی ہسپتال کے نام سے فلاحی کام کررہی ہے۔
میرے ایک جاننے والے نے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے باقاعدگی کے ساتھ پانچ فیصد خرچ کروں گا چنانچہ اس نے اپنے جیب پرس کے ایک خانے میں ٹرسٹ قائم کیا، بال پن کے ساتھ اس پر ٹرسٹ بھی لکھ دیا اور پھروہ اپنی تنخواہ جو اس وقت 8000ہزار تھی اس میں سے ہر مہینے 5فیصد نکال کر کسی مسجد مدرسے یا غریب کو دینے لگا ، وہی آٹھ ہزار جن سے اس کے اپنے ذاتی اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے ان میں اتنی برکت ہوگئی کہ اس نے گھر والوں کو بھی دینا شروع کردیا ، کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے کام چھوڑ کر ایک اور جگہ پر گیا وہاں اس کی تنخواہ صرف چھ ہزار مقرر ہوئی یعنی آٹھ سے دو ہزار کم، لیکن وہ پانچ فیصد دیتا رہا اللہ نے ان چھ ہزار میں اتنی برکت رکھی کہ پہلے تو آٹھ ہزار سے اپنے ذاتی خرچے پورے نہیں کرسکتا تھا لیکن اب ایک سال بعد مہنگائی کے باوجود صرف چھ ہزار میں نہ صرف اپنے بلکہ اپنے بیوی بچوں کے تمام اخراجات پورے کرنے لگا۔اس دوران اسے کیا کیا اور کیسے کیسے فائدے ہوئے وہ بیان نہیں کرسکتا اس سے متاثر ہو کر اس نے پانچ فیصد کو بڑھا کر 10 فیصد کردیا جس سے مزید مجھے فائدہ ہونا شروع ہوا، پھر ایک سال کے بعد اس نے مزید اضافہ کر کے 20 فیصد کردیا اور اب الحمداللہ میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ 20 فیصد اپنی آمدن میں سے فورا نکال لیتا ہے۔اس کا کہنا ہے مجھے احساس ہے کہ میں ابھی بھی کوئی کمال نہیں کررہا کیونکہ 20 فیصد تو یہودی بھی خرچ کرتے ہیں انشااللہ میرا عزم ہے کہ عنقریب میں بحیثیت مسلمان ہونے کے یہودیوں کو پیچھے چھوڑوں گا۔
لاہور کے ایک نوجوان نے 1997میں ایم ایس سی کیا، پھر وہ جاب کے سلسلے میں بہت پریشان تھا، اسلام آباد میں ایک روحانی بزرگ کے پاس دعا کروانے کے لئے حاضر ہوا، انہوں نے اس نوجوان سے کہا بیٹا دو کام کرو، ایک تو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرو اور دوسرا اس کاروبار میں اللہ کو اپنا پارٹنر بنالو، یہ کام مردوں کا ہے ، صرف عزم با لجزم رکھنے والا مرد ہی کر سکتا ہے اگر کاروبار کے نیٹ پرافٹ میں پانچ فیصد اللہ تعالیٰ کا شیئر رکھ کر اللہ تعالی کے بندوں کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری نہ کریں تو لازما آپ کا کاروبار دن رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا۔یہ 1997 کا سال تھا ،اس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ تھا ، اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اسی ایک ہزار روپے سے اس نے بچوں کے پانچ سوٹ خریدے اور انار کلی بازار میں ایک شیئرنگ سٹال پر رکھ دیے۔دو دن میں تین سو روپے پرافٹ ہواتھا تین سو روپے میں سے اس نے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کی راہ میں دے دیئے تھے۔پھر اور سوٹ خریدتا اور اصل منافع میں سے پانچ پرسنٹ اللہ تعالی کے نام کا شیئر مخلوق پر خرچ کرتارہا۔ یہ پانچ پرسنٹ بڑھتے بڑھتے چھ ماہ بعد 75 روپے روزانہ کے حساب سے نکلنے لگے یعنی روزانہ کی آمدنی تقریبا سات سو روپے ہو گئی ایک سال بعد ڈیڑھ سو روپے ، تین سال بعد روزانہ پانچ پرسنٹ کے حساب سے تین سو روپے نکلنے لگے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ تین سال بعد اسے روزانہ چھ ہزار بچنا شروع ہو گئے تھے۔ اب سٹال چھوڑ کر اس نے تین کروڑ روپے کی دوکان لے لی تھی۔اس نے بتایا کہ روزانہ میری آمدن کا پانچ فیصد ایک ہزار نکل آتا ہے جو خلق خدا پر خرچ کر دیتا ہے۔گویا اب آمدنی روزانہ بیس ہزار روپے ہے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ " بزنس" میں اس نے آج تک بےمانی نہیں کی۔
ایک محاورہ ہے " دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنا" آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد کا کیا وطیرہ ہے۔
٭51 سالہ ٹی وی میزبان " اوہراہ دنفرے " ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی مالک ہے وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بے سہارا بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کرتی ہے۔
٭ اٹلی کے سابق وزیراعظم "سلویابرلسکونی" اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ مشہور زمانہ فٹبال کلب " اے سی میلان" انہی کی ملکیت ہے۔ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں ، سالانہ تقریبا پانچ کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔
٭ بل گیٹس دس سال تک دنیا بھر کا امیر ترین شخص رہا، اس کی دولت کا اندازہ 96 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، وہ اپنی آرگنائزیشن "بل اینڈ اگیٹس فاونڈیشن" کے پلیٹ فارم سے سالانہ 27 کروڑ ڈالر انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔
٭ مشہورومعروف یہودی " جارج ساروز" دس ارب ڈالر سے زائد کے مالک ہیں ہر سال دس کروڑ ڈالر انسانی فلاحی اداروں کو دیتے ہیں۔
 انفاق فی سبیل اللہ قرآن کی ایک خاص اصطلاح ہے جو تقریبا ہر سپارے میں آپ کو نظر آئے گی۔قرآن حدیث میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :اے ایمان والو جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کر لو اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ بیع ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارش۔یعنی قیامت سے پہلے پہلے ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ خرچ کرلو کیونکہ قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ وہاں دنیا کی طرح خرید وفروخت نہیں ہوگی کہ آپ پیسہ لگا کر کسی کو خرید لو اور وہ تمہاری جان بچا لے ، نہ ہی وہاں دنیا کی طرح دوستیاں کام آئیں گیں اور نہ ہی سفارشیں چلیں گیں۔ایک اور جگہ فرمایا:اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتاہے۔ یعنی سود سے بظاہر کتنا ہی مال بڑھتا رہے مگر انجام کار نقصان ہوگا، اور صدقات سے بظاہر کتنا ہی مال کم ہوتا رہے مگر اللہ تعالیٰ اس آدمی کے مال کو بڑھاتے ہیں۔اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں دس گنا فائدہ دیتے ہیں اور آخرت میں ستر گنا منافع ملے گا۔
ایک بار مدینے میں قحط آگیا بازاروں سے بھی غلہ ختم ہوگیا، لوگ سخت پریشان تھے، اچانک لوگوں نے دیکھا کہ 1200 اونٹ غلے کے مدینے کی منڈی میں آگئے لوگ حیران تھے کہ کس تاجر کا مال ہے ، پھر پتا چلا کہ یہ مال حضرت عثمان کا ہے جو انہوں نے شام سے منگوایا ہے ، چنانچہ مدینے کے تمام تاجر مال خریدنے کے لئے آگئے ، بولی لگنا شروع ہوئی کسی نے کہا ہم 40 روپے من کے حساب سے لیں گے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کم ہے ، دوسرے تاجر نے کہا میں 50 روپے من کے حساب سے لوں گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کم ہے الغرض بولی بڑتی رہی اور بالاخر ایک جگہ پر آکر تمام تاجر خاموش ہوگئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے اس سے زیادہ بولی تو کوئی تاجر نہیں دے گا آپ کو کتنا منافع چاہئے؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس تاجر سے میں نے سودا لگایا ہوا ہے وہ مجھے دس گنا منافع دے گا اور آخرت میں ستر گنا دے گا یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سارا مال لوگوں میں فری تقسیم کردیا۔
 حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے زمانے میں دو بھائی تھے جنہیں ایک وقت کا کھانا میسرآتا تھاتو دوسرے وقت فاقہ کرنا پڑتا تھا۔ ایک دن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی خدمت میں عرض کیا:آپ جب کوہ طور پر تشریف لے جائیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ ہماری قسمت میں جو رزق ہے وہ ایک ہی مرتبہ عطا کر دیا جائے تاکہ ہم پیٹ بھر کر کھالیں" چنانچہ بارگاہ الہیٰ میں دعا قبول ہوئی اور دوسرے دن انسانی شکل میں فرشتوں کے ذریعے تمام رزق دونوں بھائیوں کو پہنچا دیا گیا۔انہوں نے پیٹ بھر کر تو کھایا لیکن رزق خراب ہونے کے ڈر سے انہوں نے تمام رزق اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا۔ اگلے دن پھر ملائکہ کے ذریعے انہیں رزق مہیا کر دیا گیاجو کہ شام کو پھر مخلوق خدا میں تقسیم کر دیا گیا اور روزانہ ہی خیرات ہونے لگی۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: یا باری تعالی ان دونوں بھائیوں کی قسمت میں تو تھوڑاسا رزق تھا۔ پھر یہ روزانہ انہیں بہت سا رزق کیسے ملنے لگ گیا؟۔ندا آئی موسیٰ جو شخص میرے نام پر رزق تقسیم کر رہا ہے اسے میں وعدے کے مطابق دس گنا رزق عطا کرتا ہوں۔ یہ روزانہ میرے نام پر خیرات کرتے ہیں اور میں روزانہ انہیں عطا کرتا ہوں۔
اگر کسی کو یہ توفیق مل جائے تو اس عمل کو برقرار رکھنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، ایک ریاکاری سے بچیں اور دوسری تکبر سے بچیں کیونکہ انسان کے دل میں خیال آتا ہے کہ میرا پیسہ بہت لوگوں میں تقسیم ہورہا ہے ، چنانچہ شیطان دل میں تکبر پیدا کرتا ہے اور پھر یہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔

Monday, January 18, 2016

امت اور فرقہ

’’امت‘‘ امت ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو ہم خیال اور ہم مقصد لوگوں پر مشتمل ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 23سال محنت کرکے امت بنائی، اور ایسی امت بنائی کہ دشمن بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسی تعلیمات دیں کہ ان تعلیمات کو صرف دیکھ کر ہی کافر،دشمن،منافق مسلمان ہوجاتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے امت کو توڑ کر فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک حدیث میں ہے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطہ حیات اور نظام علم وعمل ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرات سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ،کتاب العلم)
چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فرقہ باز علماء( اتنے سخت حالات میں بھی جب پوری دنیا کا کفر ایک ایک کرکے مسلمان ملکوں میں تباہی پھیلا رہا ہے) فرقہ پرستی پھیلا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر اور شرک کے فتوے دیے جارہے ہیں۔ انڈیا کے ایک شہر مراد آباد میں ایک بریلوی مسلک کا شخص فوت ہوگیا، اس کا جنازہ دیوبندی مولوی نے پڑھایا تو ایک مفتی نے فتویٰ دے دیا جس جس نے اس دیوبندی کے پیچھے جنازہ پڑھا ہے ان سب کا نکاح ٹوٹ گیا، چنانچہ جوجو لوگ اس مفتی کی بات پر یقین کرنے والے تھے ان سب کا اجتماعی نکاح ایک حال میں ہورہا تھا جسے انڈیا کا میڈیا بریکنگ نیوز کے طور پر دکھا رہا تھا۔ اسی طرح ایک مفتی نے فتویٰ دیا کہ مسجد نبوی اور حرم کے اماموں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، سوچنے کی بات ہے کہ ہم تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کو گھسنے نہیں دیتے جبکہ اللہ اتنا کمزور ہوگیا کہ اس کے محبوب کی مسجد پر صدیوں سے گستاخ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں؟۔ ایسے مولوی،مفتی اور نام نہاد علماء زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہیں جو امت کو توڑ توڑ کر فرقوں میں تقسیم کرکے ان کے مال پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔کبھی یہ فتوے دیے جاتے ہیں کہ فلاں مسجد میں نماز نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں مسجد سوائے اللہ کے کسی کی نہیں ہے۔ ہارون الرشید نے ایک بار غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تو آج رات تک میرے ملک سے باہر نہ نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ بعد میں ہارون الرشید نے فورا علماء کو طلب کیا کہ اس کا کوئی حل بتائیں، سب نے کہا اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ رات آنے سے پہلے پہلے اپنی بیوی کو اپنے مُلک سے باہر نکال دیں، لیکن ملک اتنا بڑا تھا کہ یہ ناممکن تھا کہ رات آنے سے پہلے باہر نکال دیا جائے۔ پھر ہارون الرشید نے کہا امام ابوحنیفہ کا کوئی شاگرد ہو تو اسے بلائیں اس سے بھی کوئی حل پوچھ لیتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب کے شاگرد یعقوب (قاضی ابویوسف) کو بلایا گیا، انہوں نے کہا اس کا تو آسان حل ہے، اپنی بیوی کو آج رات مسجد میں ٹھہرا دو، کیونکہ مسجد آپ کا ملک نہیں یہ اللہ کا گھر ہے کسی کی ملکیت نہیں اور دلیل قرآن سے دی کہ: وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ مسجدیں اللہ کی ہیں پس اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
آج ہم نے مسجدوں کو تفرقہ بازی کا مورچہ بنالیا ہے، مسجد کا ممبر جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور وہ ممبر رسول ہے، اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہاں سے مسلمانوں کے لئے کفر کے فتوے سنائے جارہے ہیں۔ چلیں باالفرض اگر کسی مسلک والا کافر بھی ہو کیا اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا جائز ہے جیسا رویہ ہم اپنے مقتدیوں اور شاگردوں کو سکھا رہے ہیں؟ ابی ابن کعب سے بڑا کافر کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے بھی کافر تھے ان کے بارے میں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو نہیں معلوم تھا، ایک عبداللہ بن ابی تھا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ یہ پکا منافق ہے، اس کی اسلام اور رسول دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی رہے تھے،عبداللہ بن ابی کے بیٹا جو پکا مسلمان تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا پانی مجھے دے دیں میں اپنے والد کو پلاوں گا شاید وہ ٹھیک ہوجائے۔ چنانچہ وہ جوٹھا پانی اپنے والد کے پاس لے گیا اور پیش کیا کہ یہ پانی پی لیں،عبداللہ بن ابی نے کہا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے کہارسول اللہ کا جوٹھا ہے۔ تو اس بدبخت نے کہا پیشاب لے آو وہ پی لوں گالیکن یہ نہیں پیوں گا۔بیٹے کو سخت غصہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل کردوں لیکن آپ نے اجازت نہ دی کہ لوگ کہیں گے یہ رسول اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے(کیونکہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتا تھا اورمسلمانوں میں شمار ہوتا تھا)۔ اس منافق کی موت قریب آئی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتا مانگا کہ اس میں اسے کفن دینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا اپنا کرتا اس منافق کے کفن کے لئے دے دیا، پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا، حالانکہ قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ اے رسول آپ 70مرتبہ بھی جنازہ پڑھائیں میں نہیں بخشوں گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی پڑھایا کہ اللہ نے مجھے پڑھانے سے منع تو نہیں کیا شاید اللہ بخش دے۔ پھر اس سے بھی آگے جب اسے قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے دوبارہ قبر سے نکلوایا اور اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اپنا لعاب مبارک لگایا اور اس لعاب کو اس کے منہ میں ڈال دیا، اس عمل کو دیکھ کر ایک سو منافق پکے مسلمان بن گئے۔ آپ اندازہ لگا لیں یہ منافق ابوجہل سے بھی بڑا کافر تھا کیونکہ ابوجہل جہنم کے چھٹے درجے میں ہوگا جبکہ یہ ساتویں درجے میں ہوگا، ابوجہل سے بھی نیچے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیمات دیں کہ جو بھی کلمہ پڑھتا ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے۔ آج ہم بات بات پر گمراہی اور کفر کے فتوے دیتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ امت میں انتشار اور افتراق ہے ،جس کی وجہ سے کفر اور ان کے ایجنٹ اسلام کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔وہ ہمارے اسی طرح کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور فرقہ باز مولویوں کو مخیرحضرات بن کر خوب چندے بھی دیتے ہیں تاکہ یہ فرقہ بازی والا کام اسی طرح چلتا رہے۔
آج جس ممبر رسول سے محبت پھیلنی چاہیے تھے وہاں سے نفر پھیلائی جارہی ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: اَیُّ عُرِی الاسلام اَوْثَقْ؟ یعنی اسلام کا مضبوط ترین عمل کون سا ہے؟صحابہ کرام نے فرمایا: نماز۔ آپ نے فرمایا نماز بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: زکوۃ، تو آپ نے فرمایازکوۃ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: روزہ۔ آپ نے فرمایا روزہ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: حج۔ آپ نے فرمایاحج بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا:جہاد۔ آپ نے فرمایا جہاد بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر خود ہی آپ نے فرمایا اسلام کا سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کے لئے بغض کیا جائے۔بریلوی،دیوبندی،اھل حدیث سب ایک اللہ ایک قرآن ایک رسول کو مانتے ہیں، سب مسلمان ہیں سب کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسلام کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اختلافی اور فروعی مسائل میں عوام کو ڈال کر فرقہ وایت پھیلائی جائے۔


Wednesday, January 13, 2016

ہم کس دور میں موجود ہیں

اس وقت امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان سخت پریشان ہیں، پریشانیوں کی وجوہات بہت ساری ہیں لیکن میں آج ایک خاص پریشانی کے حوالے سے چند گذارشات پیش کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شاءاللہ اس پریشانی کا کافی وشافی علاج اور حل بھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔
پریشانی یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی اندوہناک حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس وقت یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ آیا یہ درست تھا یا غلط تھا، جائز ہے یا ناجائز ہے، اس میں کون ملوث ہے؟ کسی مسلمان نے کیا یا کافر نے کیا، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ عدل وانصاف ہے یا ظلم اور سربریت ہے؟ ایسی صورتحال میں لوگوں کے تین گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو ناجائز اور حرام قرار دے دیتا ہے، دوسرا وہ جو جائز بلکہ افضل اور بہتر قرار دیتا ہے اور تیسرا وہ گروہ جو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی سے دوچار ہوجاتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں احادیث کی روشنی میں دے کر پھر اس کے حل اور بچاو کی طرف آتا ہوں۔
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچابنایا جائے گا، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنا دیا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا، اور ان میں ”رویبضہ“ بات کریں گے، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد،السنن الواردہ فی الفتن)۔ اس دور پر یہ حدیث کتنی مکمل صادق آتی ہے، نام نہاد مہذب دنیا کا بیان کردہ جھوٹ جس کو پڑھے لکھے لوگ بھی سچ مان لیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے سچ ہیں جن پر دنیا کے دجالی میڈیا نے لفاظی اور فریب کی اتنی تہیں جما دی ہیں کہ عام انداز میں ساری عمر بھی کوئی ان کو صاف کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے اگر میڈیا اس کو دبا دے تو وہ دب جاتا ہے(جیسے تھر میں روزانہ اوسطا دس بچے بھوک سے مرجاتے ہیں) اور اگر کسی واقعہ کو میڈیا اچھال دے تو ہر آدمی کا موضوع سخن وہی ہوتا ہے۔
ابوداود کی ایک روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ دو خیموں(جماعتوں) میں تقسیم ہو جائیںگے ، ایک اہل ایمان جن میں بالکل نفاق نہیں ہوگا اور ایک اہل نفاق جن میں بالکل ایمان نہیں ہوگا تو تم دجال کا انتظار کرو کہ آج نکلے یا کل نکلے۔
 یہ دو خیمے(جماعتیں) مسلمان خود تو نہ بنا سکے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کام کفر کے سردار سابق صدر بش سے لیا، چنانچہ اس نے نائن الیون کے بعد واضح اعلان کیا کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے ساتھ نہیں؟ اس اعلان کے فوری بعد دنیا کے مختلف خطوں پر حکمرانی کرنے والے حکمران اور دیگر بے شمار لوگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ لوگ درمیان میں ہی رہے اور اس وقت سے آج تک یہ چھانٹی جاری ہے اور لوگ مسلسل دو حصوں میں تقسیم ہورہے ہیں، اور ہر گروہ باقی لوگوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
”دجال “ دجل سے ہے اور دجل دھوکہ وفریب کو کہتے ہیں چنانچہ یہ دھوکہ وفریب اس وقت عروج پر ہے ۔ ضروری نہیں کہ کوئی شخص بظاہر معزز داڑھی والا لگ رہا ہے اور میڈیا پر بہت خوبصورت انداز میں بول لیتا ہے یا بہترین پیرائے میں لکھ لیتا ہے اپنے نام کے ساتھ سید،صدیقی یا فاروقی لکھتا ہے تو وہ دھوکہ نہیں دے رہا ہوگا، اصل دھوکہ تو یہی ہے کہ چار دن بہت اچھی بات بول کر یا لکھ کر پانچویں دن ایسی بات کردی کہ دوسرے کا ایمان اس کے دل سے ایسے نکال دیا جیسے مکھن سے بال۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دجال اور اس کے آنے سے پہلے والا دور سارا کا سارا دجل وفریب اور دھوکہ پر مبنی ہوگا لہٰذا آج ہم اسی دور میں موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں اس کے حل کی طرف: اس دجل سے بچنے اور فتنہ وفساد سے اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی دجل سے ہمارا ایمان خراب کرنے کی کوشش کرے اور ہم اس کو پہچان لیں اور اپنے ایمان کو بھی محفوظ کرلیں، ساری دنیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھائے لیکن ہمیں جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ نظر آئے۔ جی ہاں! ایسا ممکن ہے ایک حدیث میں حضرت خذیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا اس فتنہ اور فساد سے بچنے کا کوئی حل ہے تو انہوں نے فرمایا: کوئی ایسا فتنہ نہیں جس سے نجات نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث ہے جو ابوداود، مسلم،ترمذی،احمداور نسائی میں ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنے سے محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے ، اس کی تلاوت دجال کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے ۔اس میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں سے متاثر ہو جائے گی اس سورت کی تلاوت کرنے والا اللہ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا، دجالی فتنہ اور میڈیا اس کے دل ودماغ کو متاثر نہیں کرسکے گا۔ ان شکوک شبہات اور دھوکہ وفریب سے بچنے کے لئے اپنا معمول بنائیں ہرروز صبح سورہ کہف یا کم از کم ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کریں، ان شاءاللہ فریب کے پردوں کے پیچھے حقیقت کیا ہے وہ خود آپ کو نظر آئے گی اور جان وایمان کی حفاظت بھی ہوگی۔لیکن یاد رکھیں اصل فائدہ تبھی ہوگا جب ہم سورہ کہف کو سمجھ کر پڑھیں یا کم از کم اس کی تعلیمات کا استحضار ہو کہ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا سبق دیا ہے۔
ظہور امام مہدی،خروج دجال اور نزول عیسی علیہ السلام کے قریبی زمانے کی بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں جنہیں علامات قیامت کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کو مکمل طور پر اس مختصر مضمون میں لکھنا ممکن نہیں البتہ صرف ان علامات کی ایک فہرست بتادیتا ہوں، تاکہ ہمیں یہ احساس ہوسکے کہ ہم کس دور میں موجود ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
۱۔پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا،۲۔مساجد کو سجانا، ۳۔مدینے سے آگ کا نکلنا، ۴۔سود کا عام ہوجانا، ۵۔خلافت کا ختم ہوجانا، ۶۔علماءکا پے درپے قتل ہونا، ۷۔ فالج کا عام ہوجانا، ۸۔وقت کا تیزی سے گزرنا، ۹۔چاند کی پہلی تاریخ میں اختلاف ہونا، ۰۱۔جدید ٹیکنالوجی،کمپیوٹرز، چِپ اور ریکارڈنگ سسٹم کا عام ہوجانا، ۱۱۔منافق لوگوں کا حکمران بننا،۲۱۔تیسری جنگِ عظیم، ۳۱۔ فتنوں کا ظہور ،۴۱۔ دین پر چلنا اتنا مشکل ہوجائے کہ جیسے ہاتھ میں انگارے پکڑنا(یاد رہے دین صرف نماز روزے کا نام نہیں،بلکہ دین عقائد،عبادات،رسومات، معاشرت،معیشت،اور سیاست کے مجموعے کا نام ہے۔ آج کل پہلی تین چیزوں پر چلنا آسان ہے جبکہ دوسری تین چیزوں پر شریعت کے مطابق عمل کرنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔)،۵۱۔شہروں میں اپنا دین ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا، وہی محفوظ ہو گا جو پہاڑوں یا دور دراز دیہاتوں میں نکل جائے، ۶۱۔مسلمان ممالک خاص طور پر عراق،شام وغیرہ پر اقتصادی پابندیاں لگنا، ۷۱۔اہل شام پر غلہ اور پیسہ بند کردیا جائے گا، ۸۱۔عرب کی بحری ناکہ بندی، ۹۱۔مدینہ کی ناکہ بندی، ۰۲۔مسجد نبوی کا دور سے سفید محل کی طرح نظر آنا، ۱۲۔یمن اور شام میں بڑے بڑے فتنوں اور شیطان کے سینگ کا ظاہر ہونا، ۲۲۔بیت المقدس میں یہودیوں کا قوت پکڑنا، ۳۲۔عرب عورت پچیس درہم میں فروخت ہوگی، ۴۲۔دریائے فرات پر جنگ۔
خروج امام مہدی کی چند علامات: ۵۲۔حج کے موقع پر منی میں قتل عام ہوگا، ۶۲۔رمضان میں ایک آواز آئے گی جس سے لوگ بیہوش اور بہرے ہونگے، ۷۲۔ایک سفیانی شخص شام سے نکلے گا جس کا سر بڑا،چہرہ چیچک زدہ اور آنکھ میں سفید دھبہ ہوگا، شروع میں اسے ایک نجات دہندہ کے طورپر متعارف کرایا جائے گا لیکن بعدمیں وہ بہت قتل عام کرے گا یہاں تک کے عورتوں کے پیٹ سے بچے نکال نکال کر قتل کرے گا،۸۲۔نفس زکیہ یعنی کسی نیک ہستی بزرگ کا قتل ہوگا جس پر ساری امت یہاں تک کہ فرشتے بھی غضبناک ہوں گے اس کے فورا بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا، ۹۲۔خراسان سے کالے جھنڈوں کا نکلنا۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات اور احادیث کے لئے دجال،امام مہدی کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں دجال کے دجل اور فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین


Monday, January 11, 2016

بچے،قرآن اور ہماری ذمہ داری

بچے اورقرآن، ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا میں قرآن کے ماہرین بچپن ہی سے قرآن سے جڑے ہوئے تھے۔ جن بچوں کو ان کے والدین نے چھوٹی عمر میں قرآن سے جوڑا ، ان بچوں کا قرآن سے تعلق ساری زندگی مضبوط رہا، یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بچپن سے قرآن کے ساتھ جوڑنے سے مراد یہ نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے، یعنی بچے کو سکول سے واپس لاکر آدھے گھنٹے کے لئے مسجد کے قاری صاحب کے حوالے کردینا، جب کہ وہ بچہ انتہائی تھکاوٹ کا شکارہوتا ہے، اور پھر والدین نے بھی ساری ذمہ داری قاری صاحب ڈال رکھی ہوتی ہے، سالوں گزر جاتے ہیں اور والدین کبھی قاری صاحب سے ملاقات تک نہیں کرتے۔
اگر چہ موجودہ دور میں الحمدللہ حفظ قرآن کا رجحان زیادہ ہوا ہے لیکن پھر بھی عموما یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کسی ایک بچے کو حفظ کروا کر دس افراد کی بخشش کے پرانے پر خود ہی دستخٰط کرکے بیٹھ جاتے ہیں، یعنی اب جو بھی ہوہم بخشے بخشائے ہیں۔ چنانچہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کو پاکیزہ ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، بچہ مدرسے سے آکر گھر میں موجود شیطانی آلات سے بھی مستفید ہورہا ہوتا ہے، فلمیں ڈرامے اور کارٹون کی شکل میں دجالی ہدایات کے انجکشن اس کے قلب ودماغ پر لگتے رہتے ہیں۔
حفظ کے رجحان میں اضافے کے باوجود اب بھی نوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں جو بچے کو بچپن کی عمر میں قرآن سے نہیں جوڑتے بلکہ جدیدزبانیں اور علوم ہی بچپن میں پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ جو بچے بچپن میں حفظ کرلیتے ہیں ان کا حافظہ دوسرے بچوں سے زیادہ قوی ہوتا ہے، چنانچہ اگر بچوں کو سب سے پہلے یعنی پانچ چھ سال کی عمر میں حفظ کروانا شروع کردیا جائے تو باقی چیزیں بعد میں بچہ بہت اچھی طرح سیکھ لیتا ہے۔
دوسری بات یہ بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بچے کو چھوٹی عمر میں جو چیز سکھائی جائے گی ساری عمر اسی چیز کی چھاپ اس کی عملی زندگی میں بھی نظر آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا حالانکہ سات سال کے بچے پر ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی،ابھی تو مزید سات سال ہیں نماز فرض ہونے میں،یہ سارا ہتمام اسی وجہ سے ہے۔
طبرانی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ:اپنے نبی ﷺ کی محبت، اور ان کے اہل بیت کی محبت، اور قرآن کریم کی تلاوت، اس لئے کہ قرآن کریم کو یاد کرنے والے اللہ کے عرش کے سائے میں انبیاء اور منتخب لوگوں کے ساتھ اس روز ہوں گے جس روز اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔(تربیت الاولاد فی الاسلام،شیخ عبداللہ ناصح علوان)
مسلمان علماء تربیت نے بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اور رسول اللہ ﷺ کے غزوات کی تعلیم اور مسلمانوں کے عظیم قائدوں کے کارنامے بتلانے اور سکھلانے کے ضروری ہونے کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔
امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہ وصیت کی ہے کہ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔
علامہ ابن خلدون نے مقدمہ ابن خلدون میں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے اور یاد کرانے کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی تعلیم ہی اساس اور بنیاد ہے، اس لئے کہ قرآن کریم دین کے شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ مضبوط اور ایمان راسخ ہوتا ہے۔
ابن سینا نے ’’کتاب السیاسۃ‘‘ میں یہ نصیحت لکھی ہے کہ جیسے ہی بچہ جسمانی اور عقلی طور سے تعلیم وتعلم کے لائق ہو جائے تو اس کی تعلیم کی ابتداء قرآن کریم سے کرنا چاہیے تاکہ اصل لغت اس کی گھٹی میں پڑے اور ایمان اور اس کی صفات اس کے نفس میں راسخ ہوجائیں۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ فضل بن زید نے ایک دیہاتی عورت کے بچے کو دیکھا اور بہت متعجب ہوا، اس عورت سے اس بچے کے بارے میں سوال کیا تو اس عورت نے کہا: جب اس بچے کی عمر پانچ سال ہو گئی تو میں نے اسے استاد کے حوالے کردیا، اور اس نے قرآن کریم یاد کرلیا، اور تلاوت وتجوید سیکھ لی، پھر اسے عمدہ اشعار یاد کرائے اور سکھائے اور اپنی قوم کے قابل فخر کارناموں کی تعلیم دی گئی، اور اس کے آباء واجداد کے کارنامے بتائے، جب وہ بلوغ کی عمر کو پہنچ گیا تو میں نے اسے گھوڑوں پر سوار کرایا اور وہ بہترین مشاق شہسوار بن گیا اور ہتھیار سے لیس ہو کر محلہ کے گھروں کا محافظ بن گیا اور مدد کے لئے پکارنے والوں کی آواز کی جانب متوجہ رہنے لگا۔
پہلے زمانے کے لوگ اپنے بچوں کی تربیت کا نہایت اہتمام کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کو جب اساتذہ کے ھوالے کرتے اور ان حضرات و سب سے پہلے جو مشورہ دیتے اور جس بات کی انہیں نصیحت کرتے وہ یہ تھی کہ ان بچوں کو سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم دیں، اس کی تلاوت سکھائیں اور اسے انہیں یاد کرائیں تاکہ ان کی زبان درست ہو اور ان کی ارواح میں پاکیزگی وبلندی اور دلوں میں خشوع وخضوع 
پیدا ہو اور آنکھوں میں آنسو آئیں اور ان کے نفوس میں ایمان اور یقین راسخ ہو جائے۔

Tuesday, January 5, 2016

تدبیر ،رد عمل اور ہیجانی تقاریر

ایک بہترین قائد اور رہنما میں یہ وصف ہونا چاہیے کہ وہ اپنی محنت سے اکھٹی کی ہوئی جمع پونجی(کارکنان) کی حفاظت کا پورا خیال رکھے۔آپ کے لئے یہ بات حیرت سے کم نہ ہوگی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ستائیس جنگوں میں حصہ لیا اور پچپن سریے روانہ کیے، لیکن مدنی زندگی کے دس سالوں اور ان تمام جنگوں میں مجموعی لحاظ سے صرف اور صرف 969 لوگ قتل اور شہید ہوئے، وہ بھی کافروں اور مسلمانوں کو ملا کر۔حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب کو تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب قرار دیا جاتا ہے لیکن اتنے بڑے انقلاب اوردس سالوں میںصرف1000سے بھی کم لاشیں گریں۔ جبکہ ہمارے ہاں اشتعال انگیز اور ہیجانی تقاریر کرکے ہزاروں نوجوانوں کو ساکت دیواروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا شہید کرایا گیا، ان بیچاروں کو ہم شہید ہی کہیں گے کیونکہ ان کی اکثریت دین کے جذبے سے تو سرشار تھی لیکن دین کی حکمت اور تعلیم سے بے بہرہ تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت اور تدبیر سے مکمل جہالت ،کفراور اندھیر نگری میں اپنی ٹیم پیدا بھی کی اور مسلسل اوپر کی طرف سفر کیا جب کہ ہمارے ہاں ایسے لیڈروں نے ایک دم اوپر کو چھلانگ لگائی اور پھر واپس تندور میں گرپڑے۔چنانچہ وہی لیڈر آج کل سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرکے کوئی تو تندور پر روٹیاں بنانے کا طریقہ سکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کوئی حجامہ سینٹر کھول کر حجامہ کی ٹریننگ اور فضائل سنارہے ہیں۔
مولانا جلال الدین رومی مشہور صوفی بزرگ اور شاعر گزرے ہیں۔ انہوں نے 26ہزار اشعار پر مشتمل مثنوی معنوی لکھی جو آج تک دنیا میں مقبول ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مثالوں کے ذریعے مسلمانوں کو دینی اور دنیوی ترقی کا سبق دیا ہے۔ جب1258میں تاتاریوں نے بغداد تباہ کرکے عباسی سلطنت کا خاتمہ کردیاتھا اس وقت مولانا روم بھی موجود تھے، تاتاریوں نے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے لیکن مسلمان بے بس ولاچار بنے ہوئے تھے۔ ایسے سخت حالات میں مولانا روم نے اس وقت کے مسائل کے حل کے لئے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں ایک مثال بیان کی ہے، وہ لکھتے ہیں:ایک جنگل میں شیر نے تباہی مچائی ہوئی تھی، سارے جنگل کے جانور شیر سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کا ایک حل نکالا، انہوں نے شیر سے بات کرکے اس کو اس پر راضی کیا کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے۔اس تجویز پر عمل ہونے لگا، اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ اندازی کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا، جس جانور کے نام قرعہ نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے۔ آخر کار قرعہ ایک خرگوش کے نام نکلا، یہ خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے تھا کہ جب میرے نام قرعہ نکلے گا تو میں اپنے آپ کو شیر کی خوراک نہیں بننے دوں گا، بلکہ تدبیر کے ذریعہ خود شیر کو ہلاک کردوں گا۔ چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خرگوش ایک گھنٹہ تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا، شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کو ڈانٹنے لگا، دوسرا غصہ اس بات پر بھی تھا کہ خرگوش چھوٹا سا جانور ہے۔ خرگوش نے نہایت ہی نرمی اور لجاجت سے کہا کہ حضور! بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا ہے، آپ کی خوراک کے لئے دو عدد خرگوش بھیجے گئے تھے مگر راستے میں اس دوسرے شیر نے ایک خرگوش کھا لیا میں بڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں۔ اس بات سے شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مُڑ گیا، اس نے چلّا کر کہا: وہ دوسرا شیر کہاں ہے؟ خرگوش نے نہایت ادب سے کہا چلئے حضور میں آپ کو بتاتا ہوں، خرگوش اس کو ایک کنویں پر لے گیا اور کہا نیچے دیکھئے وہ ہے۔ شیر نے نیچے دیکھا تو اپنا عکس پانی میں نظر آیا۔ شیر غرایا تو کنویں کے اندر سے دوسرے شیر کے غرانے کی آواز بھی آئی چنانچہ شیر نے اس پر حملہ کرنے کے لئے کنویں میں چھلانگ لگادی اور کچھ دنوں کے بعد بھوکا مرگیا۔مولانا روم فرماتے ہیں خرگوش کی تدبیر کا جال شیر کی موت کا پھندا تھا۔ یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا نے اپنے وقت کے مسلمانوں کو تاتاریوں کے خلاف دی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تدبیر کے ساتھ کام کرنے سے بڑے سے بڑے اور مشکل سے مشکل کام نہایت آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ہمیں کوئی بھی کام سرانجام دیتے ہوئے جذبات، اشتعال انگیزی اور غصے میں اپنے آپ کو بے قابو کرکے دشمن کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننا چاہیے، ہماری اس طرح کی روش سے آج دشمن ہمیں اپنے مقاصد میں استعمال کررہے ہیں ۔بدقسمتی سے آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تو وہ ہے جو شیر کے منہ کا نوالا بننے کے لئے بالکل ہاتھ باندھ کر تیار بیٹھا ہے اور اپنی باری کا انتظار کررہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بغیر کسی تدبیر،تنظیم،تربیت اور تعلیم کے محض اشتعال انگیزی کرکے اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کررہا ہے۔ ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم موقع محل، اوروقت کے تقاضوں سے آگاہ ہوں، کس وقت کیا کرنا ہے اور کس وقت کیا کہنا ہے اس کی قابلیت ہم رکھتے ہوں۔میرے خیال میں ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم دین اور دنیا دونوں سے آگاہ ہوں۔ ہماری یہ دونوں آنکھیں کھلی ہوئی ہوں۔ دشمن نے ہماری قوم کو ایسا تقسیم کردیا ہے کہ کچھ لوگوں نے دین کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دنیا کی آنکھ بند کرلی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے دنیا کی آنکھ کھلی رکھی ہوئی ہے تو دین کی آنکھ مکمل بند کرلی ہے۔ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ ہم مخالف کے اندر چھپی اس کی کمزوری کو تلاش کریں، اور پھر اس کا رُخ اس طرف موڑ لیں، یاد رکھیں جب دریا بپھرتا ہے تو اس کے سامنے نازک بندباندھنے یا اس کے سامنے کھڑا ہونے سے اسے نہیں روکا جاسکتا،بلکہ ایسے موقع پر اس کا رخ دوسری طرف موڑ کر یا اس کے پانی کو کئی راستوں پر ڈال کر تقسیم کرنے سے ہم اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔آج یہ صلاحیت ہمارے دشمنوں کے پاس ہے وہ میڈیا کے ذریعے ہر روز ہمارے ذہنوں کو کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف موڑ دیتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔ جس طرح کوئی شخص ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے اپنی مرضی سے گیم کے کردار کو آگے پیچھے کرتا یا فاتح اور شکست خوردہ بناتااور اپنا دل بہلاتا ہے بالکل آج ہمارے ساتھ ایسا ہی مغربی قومیں کررہی ہیں، وہ جب چاہتے ہیں اور جدھر چاہتے ہیں ہمیں موڑ لیتے ہیں۔
حضرت ابراہیم بن عیلہ کو خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی نے بلایا، اور اُن کو مصر کے محکمہ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اس کا ہل نہیں ہوں۔ خلیفہ ہشام کو غصہ آگیا، اس نے کہا کہ آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا ورنہ آپ کو سخت سزا دی جائے گی۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے نہایت ہی نرمی کے ساتھ کہا: ”اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں، ہم نے زمین وآسمان کو یہ امانت پیش کی مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا۔ تو جب خدائے بزرگ وبرتر ذمہ داری قبول نہ کرنے پر خفا نہیں ہوئے تو آپ کیوں مجھ پر خفا ہورہے ہیں؟“۔خلیفہ یہ بات سن کر خاموش ہوگیا اور ابراہیم بن عیلہ کو چھوڑ دیا۔
خلیفہ کو پہلے غلطی ابراہیم بن عیلہ میں نظر آرہی تھی لیکن ان کے حکمت بھرے اور موقع محل کی مناسبت سے قرآنی جواب کو سُن کر خلیفہ کو غلطی اپنے میں نظر آنا شروع ہوگئی، اور اس احساس نے اس کی سوچ کو بدل دیا،ظاہر ہے خلیفہ بھی مسلمان تھا،قرآن کے سامنے جرات نہیں کرسکتا تھا، ابراہیم بن عیلہ نے اسی نکتے کو پکڑا۔اس طرح کے واقعات اور مواقع کا ہر آدمی کو سامنا کرنا پڑتا ہے، جب بھی ایسی صورت حال پیش آئے آدمی اچھے رد عمل کے ذریعے ساری مخالف صورت حال کو اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔ یہ ایک فطری ہتھیار ہے جسے استعمال کرنے کا طریقہ ہم سیکھ سکتے ہیں، بس اس کے لئے ایسے مواقع پر دل ودماغ کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم تُندوتیز جوابی تیر برسائیں گے یا مخالفانہ کاروائی کریں گے تو ظاہر ہے معاملہ سنورنے کے بجائے بگڑتا ہی جائے گا۔امام زین العابدین کی لونڈی آپ کو وضوءکرانے کے لئے پانی سے بھرا لوٹا لائی، اچانک اس کے ہاتھ سے وہ لوٹا آپ پر گر گیا۔اور آپ کے کپڑے بھیگ گئے، آپ نے غصے سے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے فوراً قرآن کی آیت پڑھی”والکاظمین الغیظ،اور غصہ پینے والے“۔یہ سن کر آپ نے فرمایا میں نے غصہ پی لیا۔ وہ پھر بولی”والعافین عن الناس، اور لوگوں کو معاف کرنے والے“۔آپ نے فرمایا میں نے معاف کیا، رب تجھے معافی دے۔وہ پھر بولی ”واللہ یحب المحسنین،بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو“۔ آپ نے فرمایا جا تو فی سبیل اللہ آزاد ہے۔پہلے زمانے کی لونڈیاں بھی قرآن کے ساتھ اتنا شغف رکھتی تھیں کہ موقع محل پر مناسب آیت پڑھ لیں، لیکن آج کل بڑی بڑی ڈگریاں اٹھائے لوگ پھرتے ہیں مگر اپنے والد کے جنازے کے موقع پر ڈر لگا رہتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے ہی نہ کہہ دیں اپنے والد کا جنازہ پڑھاو۔ہمیں ہر معاملے میں آسمانی ہدایات سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:برائی کو بھلائی اور احسان کے ساتھ دفع کرو اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے گا(حم سجدہ)