Search This Blog

Sunday, April 30, 2017

پنجاب میں گندم کی خریداری اور متعلقہ افسران کی لوٹ مار

پنجاب میں گندم کی خریداری اور متعلقہ افسران کی لوٹ مار
فی مربع تقریبا40ہزار روپے کی گندم مفت میں لوٹ لی جاتی ہے۔
اس طرح بغیر کسی لکھت پڑت کے کروڑوں روپے کی خرد برد ہوتی ہے۔
(سیدعبدالوہاب شیرازی)


ان دنوں پنجاب میں گندم کا سیزن عروج پر ہے، کٹائی کے بعد خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس سال حکومت نے گندم خریداری کا ہدف 40 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے۔ گذشتہ روز وزیر اعلی کے کوارڈینیٹر رانا مبشر اقبال نے کہا کہ کاشتکاروں سے گندم کا ایک ایک دانہ خریدیں گے، گندم کی خریداری مہم میں کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خریداری مہم میں کسی بددیانتی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے اور حکومت پنجاب کی اس ضمن میں زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔
پنجاب میں گندم کی خریداری کے لئے حکومت کسانوں کو بوریاں فراہم کرتی ہے۔ فی ایکڑ 10 بوریاں دی جاتی ہیں اور انہیں بوریوں میں گندم خریدی جاتی ہے۔ گندم کی یہ بوریاں حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ کئی کئی دن لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ پھر کس نے کتنے ایکڑ پر گندم لگائی اس کا حساب کتاب پٹواری کرتے ہیں، اور وہ جس کے بارے لکھ دیتے ہیں کہ اس نے اتنے ایکڑ رقبے پر گندم لگائی ہے اسے ہی اتنی بوریاں ملتی ہیں۔ ہمارے ملک میں پٹواریوں کا جو حال ہے اس اندازہ ہوتا ہے کہ یقینا ایسا بھی ہوتا ہو گا کہ کوئی شخص ایک انچ بھی گندم کاشت نہ کرتا ہو لیکن پٹواری کو بھاری حصہ دے کر اپنے نام ہزاروں بوریاں وصول کرلیتا ہوگا اور پھر لوگوں سے سستے داموں گندم خرید کر 1300 یا جو بھی حکومتی ریٹ ہے اس کے مطابق حکومت کو گندم بیچ دیتا ہوگا۔جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ غریب اور چھوٹے کسان حکومتی بوریاں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اور مجبورا انہیں عام منڈی میں حکومتی ریٹ سے سو ڈیڑھ سو روپے کم ریٹ پر گندم بیچنی پڑتی ہے۔

گندم کی خریدای میں دوسرا بڑا فراڈ محکمہ فود کے افسران کرتے ہیں۔ یعنی وہ افسران جو گندم کی خریداری کے لئے متعلقہ سینٹرز پر ڈیوٹی دیتے ہیں۔ جب حکومت گندم خریدتی ہے تو گندم کی بوری 50 کلو تول کر لی جاتی ہے۔ یعنی حکومتی ریٹ چالیس کلو کا نہیں بلکہ پچاس کلو کا ہوتا ہے۔ اب جس وقت کسان اپنی گندم متعلقہ سینٹر پر جمع کروانے جاتے ہیں تو ہرہر بوری کا باقاعدہ وزن کیا جاتا ہے اور پچاس کلو کے ساتھ ایک پاو اضافی وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پاو اضافی لینا کسانوں کے ساتھ نہ صرف زیادتی ہے بلکہ شریعت کے خریدوفروخت کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ ہم نے گندم سٹاک کرنی ہوتی ہے اس لئے اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کچھ گندم خراب ہوجائے۔ یا کسی بوری پر پانی ٹپک پڑے، یا گھن لگ جائے، یا کسی بوری میں معمولی سا سوراخ ہو اس طرح جو گندم ضائع ہوتی ہے اس کا حساب فی پچاس کلو پر ایک پاو اضافی لے کر ایڈوانس میں ہی پورا کردیا جاتا ہے۔ عقلا بھی یہ بوجھ فروخت کنندہ پر ڈالنا زیادتی ہے کیونکہ فروخت کنندہ آئندہ ہونے والے کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں۔

یہ المناک کہانی اگر یہیں ختم ہوجاتی تو اچھا ہوتا لیکن کیا کیا جائے ، اس سے بڑا ہی بھیانک فراڈ اور لوٹ مار کا بازار اس کے علاوہ بھی گرمایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حکومت نے تو ہر پچاس کلو پر ایک پاو اضافی وصول کرنے کا کہا ہوا ہے لیکن ان سینٹرز میں ہر کسان سے پچاس کلو پر ایک کلو اضافی گندم وصول کی جاتی ہے۔ یعنی ہر بوری اکیاون کلو تول کر لی جاتی ہے۔اب ذرا اس کا تھوڑا سا حساب کرلیتے ہیں کہ یہ اضافی گندم کی مقدار کتنی بنتی ہے۔ میں نے جب ایک کسان سے پوچھا کہ ایک ایکڑ میں کتنی گندم ہوتی ہے تو اس نے بتایا کہ تقریبا پینتیس من سے پچاس من کے درمیان ہوجاتی ہے۔ پچیس ایکڑ کا ایک مربع ہوتا ہے اور ایک مربع میں تقریبا ایک ہزار من سے پندرہ سو من تک گندم ہوجاتی ہے۔اور پنجاب میں اکثر کسانوں نے کم از کم ایک مربع پر تو کاشت کی ہی ہوتی ہے۔ تو اس اعتبار سے جس کسان نے ایک مربع پر کاشت کی ہے اگر اس کی کل گندم بارہ سو من بھی لگائیں تو گویا اسے فروخت کرتے وقت بارہ سو کلو(30من) گندم بغیر کسی حساب اور کھاتے کے محکمہ کے افسران کو دینی پڑتی ہے۔تیس من گندم کی قیمت تقریبا چالیس ہزار بنتی ہے۔

 تو ہر وہ کسان جس نے ایک مربع گندم لگائی ہے، چالیس ہزار روپے کی گندم مفت میں بغیر کسی لکھت پڑت کے افسران کو دینے پر مجبور ہے۔ یہ تو ایک کسان کی بات ہوئی اسی طرح کے ہزاروں کسان ہیں اور کروڑوں روپے ان افسران کی جیبوں میں جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے صرف متعلقہ سینٹر پر متعین افسران اکیلے ہی اتنی جرات نہیں کرسکتے یہ نیچے سے اوپر تک اور اوپر سے اوپر وزیر اعلی تک سب کو حصہ ملتا ہوگا، تبھی بڑے آرام سے ہر سال یہ لوٹ مار جاری وساری ہے۔
جس ملک کے حکمران ہی لٹیرے ہوں اس کا اللہ ہی حافظ۔

Wednesday, April 12, 2017

جمعیت علمائے اسلام کی صدسالہ تقریب

سید عبدالوہاب شیرازی
جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ تقریب بخیروعافیت اختتام پذیر ہوچکی ہے، جس کے ساتھ ساتھ اب فیس بک پر بھی اس تقریب کی پوسٹیں، اشتہار، لڑائیاں وغیرہ آخری مراحل میں ہیں۔

اس تقریب میں ہزاروں علمائے کرام نے شرکت کی، جس میں کثیر تعداد بڑے بڑے علمائے کرام کی بھی تھی۔ تقریب سے پہلے ، تقریب کے دوران اور ختم ہونے کے بعد بھی بہت ہی خوشی کا اظہار کیا جاتا رہا، سوشل میڈیا سمیت اجتماع گاہ کے اندر کا ماحول بھی میلے کا منظر پیش کررہا تھا، ہر کوئی خوش کے شادیانے بجا رہا تھا۔۔۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیا یہ مقام اور یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے یا استغفار کرنے کا۔؟؟
جمعیت علمائے اسلام ہو یا دیگر مذہبی جماعتیں بلاشبہ ان کی بنیاد نیک نیتی اور اسلام کی ترقی کے لئے رکھی گئی تھی۔ ہر جماعت کی کوشش یہی ہے کہ اسلام غالب ہوجائے۔ چونکہ یہ ایک نیک مقصد ہے، اور اقامت دین ایک فرض ہے تو اس اعتبار سے اس تقریب کو صدسالہ خوشی کے بجائے توبہ واستغفار کا اجتماع بنا کر انعقاد کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ شریعت نے ہمیں نماز کے بارے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد استغفار کیا جائے کہ جس طرح نماز قائم کرنے  کا حق تھا ہم اس طرح نہیں قائم کرسکے۔

صدسالہ تقریب کے تین دنوں کو ایام احتساب کے طور پر منایا جاتا اور اپنا محاسبہ کیا جاتا کہ آج سے سوسال پہلے ہم جہاں کھڑے تھے، اس کے مقابلے میں اب کہاں کھڑے ہیں؟۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعد ہم جہاں کھڑے تھے اب 2017 میں کہاں کھڑے ہیں؟۔ جس مقصد کے لئے جمعیت بنی تھی اس مقصد میں کتنی پیش رفت ہوئی؟  کتنا کام باقی ہے؟ کتنی محنت کی اور کتنی مزید کرنے کی ضرورت ہے۔
تحریکیں اور جماعتیں تو بڑی چیز ہیں، جو چھوٹے چھوٹےادارے بھی اپنا احتساب نہیں کرتے، اپنی پیش رفت کا جائزہ نہیں لیتے انہیں کامیابی ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔
کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ تین دن کی تقریب میں کارکنوں کو کیا سبق دیا گیا، آئندہ کا کیا لائحہ عمل دیا گیا۔ تین دنوں میں کارکنوں کی تربیت کے حوالے سے کیا کیا گیا؟۔ اگر سٹیج سے صرف اپنی تعریفیں ہی ہوتی رہی، روایتی سیاسی نعرے ہی لگتے رہے،عام روایتی جلسوں کی طرح ایک بڑا تین روزہ جلسہ ہی کردیا گیا، اور تقریب کا وہی رنگ رہا جو عام معاشرے میں سالانہ تہواروں میں خوشی مناتے ہوئے دیکھا جاتا ہے تو کیا فائدہ۔؟
اگر عقل وشعور میں یہ بات ہو کہ میں ایک مقدس فرض کی ادائیگی کررہا ہوں تو ایسا شخص سو سال کے بعد اگر 100 فیصد بھی کامیابی حاصل کرلے پھر بھی وہ استغفار اور عاجزی ہی کرتا ہے نہ کہ خوشیاں اور تفاخر کے نعرے لگاتا ہے۔
حضور ﷺ نے بیس سالہ محنت کے بعد جب مکہ فتح کیا توصحابہ کرام نے  اتنی خوشیاں نہیں منائی  جتنی یہاں سوسال بعد صفر نتیجے پر منائی گئی ہیں۔1924 میں خلافت کا خاتمہ ہوا اگرچہ وہ برائے نام ہی تھی لیکن مسلمانوں کا ایک امیر اور حدود وتعزیرات وغیرہ نافذ تھے۔ اس وقت سے آج تک بانوے تیرانوے سالوں سے ساری دنیا کے مسلمان بغیر امیر کے ایک مسلسل گناہ کی زندگی گزار رہے ہیں، ایسے میں بجائے استغفار کرنے اور بجائے تربیت کرنے کے روایتی تہواروں سے ملتی جلتی تقریبات کا انعقاد کرنا، اپنے مدمقابل سیاسی پارٹیوں کو دکھانے کے لئے پاور شو کرنا  نہایت ہی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔

Tuesday, April 11, 2017

Gardening with Wood Chips April 2017 Kitchen Gardening Urdu Hindko

لکڑی کے برادے کو گارڈننگ میں استعمال کرنے کے زبردست فوائد

Sunday, April 2, 2017

پاکستان کی مذہبی جمعیتیں


سیدعبدالوہاب شیرازی

ویسے تو جمعیتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، پاکستان بننے سے قبل ہی مختلف ایشوز پر جمعیتیں بننا شروع ہوگئیں تھیں۔ جمعیت علمائے ہند کا قیام بھی پاکستان بننے سے قبل ہوا۔ شروع شروع میں تمام مسالک کے علماء اس کا حصہ تھے اور یہ سب علماء کی مشترکہ جمعیت تھی، لیکن آہستہ آہستہ اس جمعیت سے کئی جمعیتیں بنتی گئیں۔ آزادی کے بعد ہند اور پاکستان کے سابقے اور لاحقے کے ساتھ دو تقسیمیں تو یہی ہوگئیں تھی، پھر آہستہ آہستہ مسالک نے اپنی اپنی جمعیتیں الگ الگ بنانا شروع کردیں۔ چنانچہ ہرہرمسلک کی اپنی الگ جمعیت بن گئی۔ پھر اسی پر اکتفاء نہیں ہوا بلکہ ہرمسلک کی جمعیت نے بچے دینے شروع کردیے اور ہر مسلک میں کئی کئی جمعیتیں بن گئیں، جن میں فرق کرنے کے لئے حروف تہجی کو بریکٹ میں لکھا جانے لگا۔چنانچہ آج دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ہر مسلک میں تین تین چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ(پندرہ بیس) جمعیتیں موجود ہیں۔
اگر جمعیتوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اکثر جمعیتیں اسی طرح وجود میں آئیں جیسے کسی مارکیٹ یا کسی خاص طبقے کی یونین بنتی ہے، چنانچہ یونین کا مقصد محض اپنے مطالبات کا حصول ہوتا ہے، جب تک ان کے مخصوص مطالبات پورے ہوتے رہیں سب اچھا کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ لیکن جونہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ آئے جس سے اپنے خاص مفادات پر زد پڑتی ہو تو یونین فورا حرکت میں آجاتی ہے اور احتجاج کرتی ہے۔ مذہبی جمعیتوں کی بھی حالت اسی طرح رہی ہے یعنی ہرجمعیت ایک مارکیٹ یا خاص طبقے کی یونین کی طرح کام کرتی ہے، جہاں اپنے مفادات یا مطالبات کی بات ہو تو جمعیت حرکت میں آجاتی ہے۔
جمعیت کے برعکس تحریک کا تصور ذرا مختلف رہا ہے۔ پاکستان سے قبل بھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی ہندوپاک میں مختلف تحریکیں کھڑی ہوئیں اور اپنے مطالبات منوائے۔ جمعیت کا کام محدود ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مارکیٹ کی یونین وغیرہ۔ جبکہ تحریک کا کام بڑا اور بعض اوقات لامحدود ہوتا ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان وپاکستان میں جمعیتوں نے کوئی خاص بڑا کام نہیں کیا، ان کی جدوجہد اپنے خاص مفادات تک ہی محدود رہی ہے۔ جبکہ تحریکوں نے قومی سطح کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں ہیں۔

تحریکیں کیوں کامیاب ہوئیں؟

دراصل تحریکوں کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں:  ایک وجہ اخلاص اور ایمانی جذبہ ہے۔ جتنی بھی تحریکیں کھڑی ہوئیں ان کے پیچھے ایک درد، غم، ایمان ویقین کی دولت اور اخلاص وللٰہیت، اور سخت محنت  کار فرما تھی۔
دوسری وجہ فروعی جھگڑوں، مسلکی اختلافات اور ذاتی انا سے ہٹ کر کام کرنا ہے۔چنانچہ آپ تحریک ختم نبوت کو دیکھیں یا تحریک تبلیغی جماعت کو ان دونوں کے پیچھے یہی عوامل کارفرما رہے ہیں۔  عام طور پر تحریکوں میں تمام مسالک کے لوگ مل کرکام کرتے ہیں ، تحریک ختم نبوت میں ہرمسلک نے بھرپور کام کیا، یہاں تک کہ اہل تشیع جن کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے وہ بھی اس تحریک کا حصہ رہے ہیں۔ جب اتنے اخلاص اور اتحاد کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو اللہ بھی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
ستر کی دہائی میں ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی تو قاری طیب قاسمی اور پھر ان کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ نے بھرپور تحریک چلائی ، ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بارہ سے پندرہ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے عائلی قوانین کو سابقہ اصل اسلامی حالت پر برقرار رکھنے پر نہ صرف مجبور ہوئی بلکہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے بل  پاس کرکے اسے قانون اور آئین کا حصہ بھی بنا دیا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین اسلام کے مطابق ہی رہیں گے۔
جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی میں غلام احمد پرویز منکر حدیث نے عائلی قوانین کو تبدیل کرکے غیراسلامی کرکے ملک میں نافذ کردیا اور اس وقت سے لے کر آج تک باوجود 95 فیصد مسلمان ہونے کے ہمارا عائلی قانون غیر اسلامی ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی ایسی اسمبلی گزری ہو جس میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نہ ہوں۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت یہ قوانین اسلامی تھے ، اور تقریبا پندرہ سال تک اسلامی رہے، پھر غیر اسلامی کردیے گئے اور   ہم پارلیمنٹ کے ذریعے پچھلے ساٹھ سال سے ان عائلی قوانین کو اسلامی نہیں بنا سکے۔ اس کے برعکس جن جن ایشوز پر تحریکیں چلی ہیں انہیں کامیابی ملی ہے، جیسے تحریک ختم نبوت جسے مولانا یوسف بنوری  رحمہ اللہ جیسی مخلص، بے باک اور بے غرض شخصیت کی قیادت حاصل تھی۔ اسی طرح تحریک نظام مصطفیٰ جس کے نتیجے میں کم از کم آئین تو اسلامی ہوگیا۔ آگے مزید کام بھی ہوجاتا اگر اس تحریک کو درمیان  میں ختم نہ کردیا گیا ہوتا۔
چنانچہ آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو تمام مسالک کی تمام جمعیتوں کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔ تحریکوں  کوکتنی جلدی اور کتنی بھرپور کامیابی ملتی ہے اس کا اندازہ مذہبی طبقے کونہیں  البتہ سرمایہ داروں جاگیرداروں اور ان طبقات کو اس کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا انداہ ہے جو ستر سال سے حکمران ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ طبقات اب آئندہ کے لئے کوئی تحریک شروع نہیں ہونے دیتے ۔ پچھلے پندرہ بیس سال میں مخلصین امت غیرسیاسی علمائے کرام نے کئی بار تحریک چلانے کی کوششیں کی لیکن ہمیشہ موجودہ سیاست کے حصے دار  مذہبی جماعتیں رکاوٹ بن گئیں۔ 80 کی دہائی  میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں علماء کئی دن تک سرجوڑ کر بیٹھے رہے اور بھرپور تحریک چلانے کا اعلان ہوا۔ پھر چند سالوں بعد اسی طرح سینکڑوں علماء نے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی قیادت میں بھرپور تحریک چلانے کی کوشش کی۔ پھر اس کے بعد مفتی جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی سمیت بے شمار غیر سیاسی علماء کوششیں فرماتے رہے لیکن ہمیشہ سیاسی نظام میں جڑا ہوا مذہبی طبقہ غیرمحسوس طریقے سے رکاوٹ ڈال کر ابتدا میں ہی ان تحریکوں کو ناکام بناتا رہا۔
ابھی حال ہی میں چند مہینے قبل ملک کی 36 مذہبی جماعتوں نے منصورہ میں بہت بڑی بیٹھک کی جس میں سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں مل کر نظام مصطفیٰ کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس اس بار بھی وہی ہوا جو اس سے قبل ہوتا رہا اور انہیں نے کیا جو اس سے قبل بھی کرتے رہے۔ 36 میں سے 35 جماعتوں سے پوچھ لیں اس اتحاد کو توڑنے اور اس اتفاق کو افتراق میں بدلنے کا کردار کس بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے ادا کیا۔ ؟

Monday, March 27, 2017

ایاز نظامی اور مدرسہ

سید عبدالوہاب شیرازی
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون میں یہ بات عرض کی تھی کہ عام طور پر ہمارے ہاں پاکستان وہندوستان میں عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام قرآن کا ترجمہ پڑھے گی تو گمراہ ہوجائے گی۔ (نعوذبااللہ من ذالک)
حالانکہ قرآن کو کتاب ہدایت کہا گیا ہے، اس سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسانوں کے دل سیرات ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بدبخت بھی ہوتے ہیں جن کے حصے میں گمراہی بھی آتی ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آغاز ہی بری نیت سے کرتے ہیں، ورنہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص اخلاص کے ساتھ ہدایت کے حصول کے لئے قرآن کا ترجمہ پڑھے اور گمراہ ہوجائے۔عوام تو جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ان کی نظر ظاہری احکامات پر ہوتی ہے، مثلا نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جنت، جہنم، عذاب، اقوام سابقہ کے قصص وغیرہ۔ عوام  گہرائی میں جا ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایک عام شخص جب بھی قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے اس سے اسے ہدایت ہی ہدایت میسر آتی ہے۔
اگر ہم گمراہ لوگوں اور گمراہی کے فتنے ایجاد کرنے والوں کی فہرست پر ایک نظر دوڑائیں تو وہ ہمیں عوام نہیں بلکہ علماء ہی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی فتنے کو کھڑا کرنے کے لئے جو صلاحیت اور قابلیت چاہیے ہوتی ہے وہ عوام میں نہیں ہوتی۔ آپ ماضی کے فتنے دیکھیں یا حال پر نظر دوڑائیں تمام فتنوں کے موجد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دینی علوم میں آٹھ دس سال لگا کر مہارت حاصل کی اور پھر اس قابلیت کو گمراہی پھیلانے میں استعمال کیا۔ مثلا
ہندوستان کا سب سے بڑا فتنہ دین اکبری یا دین الہٰی تھا، جسے ایجاد کرنے والے ابوالفضل اور فیضی جیسے زبردست عالم دین تھے۔
قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد ہو یا فتنہ انکار حدیث کا موجد غلام احمد پرویز۔ دینی شعائر کی غلط تعبیر کرنے والا سرسید احمد خان ہو یا حکیم نورالدین بھیروی۔مولوی عبداللہ چکڑالوی ہو یا علامہ اسلم جیراج پوری۔
اسی طرح کئی مسائل میں اجماع امت سے کٹ کر الگ راہ اختیار کرنے والے مولانا امین احسن اصلاحی ہوں یا پھر علامہ فراہی جیسے محقق قرآن۔ جاوید احمد غامدی ہو یا جماعت المسلمین کے بانی ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی یہ سب علماء ہی ہیں۔ یاد رہے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی بنوری ٹاون کراچی کے فارغ التحصیل اور علامہ بنوری رحمہ اللہ خاص شاگرد اور معالج بھی رہے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کا دارومدار علم پر نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف دو چیزوں پر ہے: ایک انسان کی اپنی نیت وارادہ اور دوسرے اللہ کی توفیق وتیسیر۔ اگر انسان کے اپنے دل میں کجی اور نیت میں فتور ہو اور اللہ تعالیٰ بھی اپنی سنت کے مطابق کہ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم اس سے توفیق خیر سلب فرمالے تو ایسا انسان جتنا بڑا عالم وفاضل ہو گا اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھائے گا۔چنانچہ اسی بات کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں بھی اشارہ ہے:
ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، آسمان تلے کی بدترین مخلوق(نام نہاد) علماء ہوں گے، فتنے ان ہی کے اندر سے اٹھیں گے اور ان ہی میں لوٹ جائیں گے۔
اب اگر دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل ایاز نظامی کا فتنہ سامنے آیا ہے تو یہ اتنی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ایسے فتنوں کی مثال دے کر عوام کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت میں علماء ہی رکاوٹیں کھڑی کردیں

Tuesday, March 21, 2017

ڈاکٹر طاہرالقادری کوگالیاں دینے والوں کے لئے خوشخبری:

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایک سیاسی رخ ہے چنانچہ جب وہ کوئی سیاسی بیان جاری کرتے ہیں یا کوئی سیاسی ایکٹویٹی کرتے ہیں تو الیکٹرانک میڈیا دکھاتا ہے، اور کروڑوں لوگ بھی دیکھتے ہیں۔اور اس رخ میں ان سے کئی غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔
جبکہ ڈاکٹر صاحب کا ایک علمی اور فلاحی رخ بھی ہے جس سے عام طور پر بریلوی مکتبہ فکر کے علاوہ باقی لوگ واقف نہیں ہیں۔ خصوصا ان کو گالیاں دینے والے تو باالکل ہی واقف نہیں ہیں۔
 ذیل میں ان کے چند کارنامے اس غرض سے ذکر کیے جارہے ہیں تاکہ ان کو گالیاں دینے والے  شاید غصے میں آکر ہی یہ کام کرکے ملک وملت سمیت مسلمانوں کی خدمت سرانجام دے دیں، فیس بک گالیاں بکنے  اور نجی مجلسوں میں غیبتیں کرنے سے انقلاب نہیں آتے۔
منہاج القرآن 1989میں قائم ہوئی۔
اس وقت اس کے پبلک اور ماڈل سکولوں کی تعداد 600سے زائد ہے۔
آئی ٹی کالجز کی تعداد 20سے زائد ہے۔
ایک چارٹرڈ یونیورسٹی لاہور میں ہے۔
اس طرح جدید تعلیم کے کل تعلیمی اداروں کی تعداد630 ہے، جس میں ہر سال کئی مزید کا اضافہ ہورہا ہے۔
ان اداروں میں طلباء کی مجموعی تعداد 2لاکھ سے زائد ہے، جن میں ہرسال کئی ہزار کا اضافہ ریکارڈ ہورہا ہے۔جو مستقبل میں منہاج القرآن کے ہی ممبر ہیں۔
منہاج القرآن کا تعلیمی نیٹ ورک دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں باقاعدہ قائم اور کام کررہا ہے۔ ان تمام ممالک میں رہنے والے ہزاروں مسلمان اور ان کے بچے وہاں زیر تعلیم ہیں۔
میڈیا
ایک ٹی وی چینل کام کررہا ہے۔
سوشل میڈیا پر 7 عدد آفیشل پیجز کام کررہے ہیں جن کے فالورز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ یعنی وہاں شیئر کی جانے والی پوسٹ لاکھوں لوگوں کی نظر سے گزرتی ہے۔
دنیا میں بڑی سے بڑی اسلامی تنظیم یا جماعت کی ویب سائٹس کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جبکہ منہاج القرآن کی آفیشل ویب سائٹس کی تعداد 67 سے زائد ہے۔ پھر ہر ویب سائٹ کو مختلف زبانوں میں پڑھنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
ایک فلاحی ادارہ منہاج ویلفیئر فاونڈیشن بھی الگ سے قائم ہے۔
جس کے زیر اہتمام مختلف شہروں میں 5 بڑے ہسپتال اور 107 دسپنسریاں اور کچھ کلینک مفت علاج فراہم کررہے ہیں۔
یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم وتربیت کے لئے آغوش کمپلیکس لاہور میں کام کررہا ہے۔
ہزاروں غریب بچیوں کی اب تک شادیاں کروائی جاچکی ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد 1000 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
392 کتابیں اردو میں اور 48 انگلش میں شائع بھی ہوچکی ہیں۔
کتابوں اور خطبات کے صرف عنوانات کی فہرست پر مشتمل کتاب 470 صفحات کی ہے۔
ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں شہراعتکاف بسایا جاتا ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق حرم شریف کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اعتکاف ہوتا ہے۔
دس دن کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل علمی اور اصلاحی لیکچرز ہوتے ہیں۔
مرکز میں 2005 میں ایک تلاوت اور درود شریف کا حلقہ قائم کیا گیا تھا جہاں اس وقت سے لے کر اب تک بلاناغہ چوبیس گھنٹے روزے کی حالت میں ہر وقت سات افراد تلاوت قرآن اور درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔ اور یہ افراد چندگھنٹوں کے بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ معلومات ویکی پیڈیا اور کچھ دیگر ذرائع سے لی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو آپ فتنہ کہیں  یا گمراہ۔ مشرک سمجھیں یا کافر، لیکن ان کے اداروں، سکولوں، کالجز، یونیورسٹی، اور مدارس سمیت ان کی کتابوں سے مستفید ہونے والے یقینا مسلمان ہی ہیں۔
فیس بک پر گالیاں بکنے کے بجائے میدان عمل میں آئیں اور صرف 20 سال میں اتنا بڑا نیٹ ورک قائم کرکے دکھائیں۔  اپنے دشمن کا مقابلہ گالیوں سے نہیں کام سے کرکے دکھائیں۔
یہی نبی کی بھی سنت ہے اور صحابہ کی بھی ، خصوصا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ واقع یاد کریں جب وہ گردن کاٹنے کافر کے سینے پر چڑھے تو اس نے گالی دے دی تھی۔

Monday, March 20, 2017

تصوف کی حقیقت


حبیب الرحمن اعظمی


                احسان یا بالفاظ متعارف تصوف کیاہے؟ انسانی روح کا اپنے مطلوبِ حقیقی سے ملنے کا شدید اشتیاق؟ تصوف کیاہے؟ اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال، شریعت اسلامی اس کی اساس اور قرآن و حدیث اس کا سرچشمہ، چناں چہ سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی کا بڑے واضح الفاظ میں اعلان ہے کہ:
”ایں راہ کسے یابد کہ کتاب بردست راست گرفتہ باشد وسنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بردست چپ و در روشنائی ایں دوشمع می رود تانہ در مغاک شبہت افتد نہ درظلمت بدعت۔“
اس راہ کو وہی پاسکتا ہے جو کتاب اللہ کو داہنے ہاتھ میں اور سنت رسول کو بائیں ہاتھ میں لیے ہواور ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک طے کرے تاکہ گمراہی اور بدعت کی تاریکی میں نہ گرے۔
                حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو متقدمین صوفیاء میں امتیازی مقام و مرتبہ کے حامل تھے فرماتے ہیں: اصولنا سبعة اشیاء التمسک بکتاب اللّٰہ والاقتداء بسنة رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واکل الحلال وکف الاذی واجتناب المعاصی والتوبة واداء الحقوق (التاج المکلل) ہمارے سات اصول ہیں کتاب اللہ پر مکمل عمل، سنت رسول کی پیروی، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دینا، گناہوں سے بچنا، توبہ واستغفار، اور حقوق کی ادائیگی۔
                سلطان الہند شیخ معین الدین اجمیری کا یہ مقولہ تاریخِ اجمیر میں درج ہے۔
”اے لوگو تم میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ترک کرے گا وہ شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم رہے گا۔“
                حضرت میر سید اشرف سمنانی مدفون کچھوچھا ضلع فیض آباد فرماتے ہیں:
”یکے از ہم شرائط ولی است کہ تابع رسول علیہ السلام قولاً وفعلاً واعتقاداً بود (الطائف اشرفی)
ولی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قول، فعل اور اعتقاد میں پیروہو۔“
                تصوف دراصل وہ رہنما ہے جو سالک کو ہر آن باخبر رکھتا ہے کہ دیکھنا کہیں مقصود نگاہ سے اوجھل نہ ہوجائے وہ ہدایت کرتا ہے کہ جب تو بارگاہِ خداوندی میں نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ دیکھے کہ قبلہ رو ہے یا نہیں، جائے نماز اورکپڑے پاک ہیں یا نہیں، تو اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھ کہ تیرا تصور پاک ہے یا نہیں، دل مالک کائنات کی طرف ہے یا نہیں، غرض تصوف ہر ہر قدم پر سالک کو خبردار رکھتا ہے کہ مقصود اصلی خدائے ذوالجلال والاکرام کے خیال سے دل غافل نہ ہونے پائے، ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے تلامذہ نے ان سے سوال کیا کہ آپ بشر حانی کے پاس کیوں جاتے ہیں وہ تو عالم ومحدث نہیں ہیں؟ توامام صاحب نے فرمایا کہ میں کتاب اللہ سے واقف ہوں مگر بشر اللہ سے واقف ہیں۔ عارف ہندی اکبرالہ آبادی مرحوم نے بہت خوب کہا ہے۔
قرآن رہے پیش نظر ، یہ ہے شریعت
اللہ رہے پیش نظر ، یہ ہے طریقت
                اس حقیقت کویوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ فقیہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ، اے بندے اللہ کا نام لے، اور صوفی بھی یہی کہتا ہے کہ اللہ کا نام لے مگر اس طرح کہ وہ تیرے دل میں اتر جائے، یعنی صوفی کا کہنا یہ ہے کہ صرف زبان سے اللہ کا نام لینا کافی نہیں ہے، زبان کے ساتھ تیرا دل بھی ذاکر ہونا چاہیے، حاصل کلام یہ نکلا کہ تصوف یا احسان دل کی نگہبانی کا اصطلاحی نام ہے، حدیث جبرئیل میں ”ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانّہ یراک“ کا جملہ اسی دل کی نگہبانی کی انتہائی بلیغ اور پیغمبرانہ تعبیر ہے،امام العرفاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جملے سے احسان یا تصوف کی پوری حقیقت بیان فرمادی ہے کیوں کہ راہِ تصوف کے تمام جہد و عمل، ذکر وفکر، محاسبہ و مراقبہ وغیرہ کا منشاء و مقصد یہی ہے کہ دل مشاہدہ و حضور کی متاعِ عزیز سے ہم کنار ہوجائے۔
                تصوف کی مستند کتابوں مثلاً قوت القلوب از شیخ ابوطالب مکی، طبقات الصوفیہ از شیخ عبدالرحمن سلمی، حلیة الاولیا از ابو نعیم اصفہانی، الرسالة القشیریة از امام قشیری کشف المحجوب ازشیخ علی بن عثمان ہجویری مدفون لاہور، تذکرة الاولیاء از شیخ فرید الدین عطار، عوارف المعارف از شیخ سہروردی، فوائد الفواد ملفوظات شیخ نظام الدین اولیاء، خیرالمجالس ملفوظات شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی وغیرہ کے صفحے کے صفحے الٹ جائیے صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً بھی کتاب و سنت کی تلقین ملے گی،اور معتمد طور پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اکابر صوفیاء کے مجاہدات، ریاضات اور مراقبات کی اساس و بنیاد قرآن وحدیث کی تعلیمات ہی ہیں، اور ان کی پاکیزہ زندگیاں اسلام کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔
                اسلامی تعلیمات میں محبت الٰہی، مکارم اخلاق اور خدمت خلق کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، تصوف کی تعلیمات بھی انھیں ارکانِ ثلثہ پر مبنی ہیں، تاریخی شواہد کی بنیادپر بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حضرات صوفیاء ہی نے اپنی عملی جدوجہد کے ذریعہ ہر زمانے میں اسلام کے اخلاقی و روحانی نظام کو زندہ رکھا، صوفیاء سے بڑھ کر تبلیغ اور تعمیرِ سیرت کا فریضہ کسی جماعت نے انجام نہیں دیا، متکلمین، معتزلہ اور حکماء نے صرف دماغ کی آبیاری کی جب کہ صوفیاء نے دماغ کے ساتھ دل کی تربیت اوراصلاح کی اہم ترین خدمت بھی انجام دی اوریہ بات کسی بیان و تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ اسلام میں اصلی چیز دل ہے نہ کہ دماغ اگر دل فاسد ہوجائے تو دماغ کا فاسد ہوجانا یقینی ہے، چناں چہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”الا ان فی الجسد مضغة اذا صَلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وہی القلب“ انسان کے جسم میں ایک عضو ہے اگر وہ صالح ہوجائے تو سارا جسم صالح ہوجائے اوراگر وہ فاسد ہوجائے تو سارا جسم فاسد ہوجائے، آگاہ ہوجاؤ وہ قلب ہے۔
                حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جب کہ حضرات صوفیاء نے اپنے اعمال و اخلاق اور سیرت و کردار سے اسلام کی صداقت کو مبرہن اور آشکارا کیا، اس لیے تصوف یا طریقت شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں تصوف اسلام کا عطر اور اس کی روح ہے، لیکن کوئی انسانی تحریک خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو جب افراط و تفریط عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہے تواس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی، چناں چہ متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہیں، لیکن آگے چل کر جب علم کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا تو یہی علم کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا، یہی حال تصوف کا بھی ہوا کہ تصوف کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دلعزیزی دیکھ کر جاہل یا نقلی ارباب غرض صوفیوں کے بھیس میں اس جماعت صوفیہ صافیہ میں درآئے اور اپنی مقصد برآری کے لیے شریعت و طریقت میں تفریق کا نظریہ شائع کردیا، مجاز پرستی، قبرپرستی، نغمہ و سرود کو روحانی ترقی کا لازمی جزو بنادیا اور دنیاپرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دیدی مگر ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ محققین صوفیا نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے، اور ان فاسد عناصر کو تصوف سے خارج کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔
                اس جعلی اور غیر اسلامی تصوف کی بنا پر سرے ہی سے تصوف کا انکار کردیا جائے اوراسے نوع انسانی کے لیے بمنزلہٴ افیون بتایاجائے اورالزام عائد کیا جائے کہ تصوف زندگی کے حقائق سے گریز کی تعلیم دیتا ہے اوراس نے مسلمانوں کے قوائے عمل کو مضمحل یا مردہ بنادیا ہے تو یہ سراسر ناانصافی اور اسلامی تصوف پر ظلم ہوگا۔
                بدقسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ جو براہ راست اسلام اوراسلامی مآثر کا مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مصنّفین کے واسطہ اورانھیں کی مستعار عینک سے اسلامی علوم و معارف کو دیکھنے کا عادی ہے، اسلامی تصوف پر اسی قسم کے بیجا اور غلط اعتراضات کرتا رہتا ہے، یہ بات حق و صداقت اورانصاف و عدالت سے کس قدر بعید ہے کہ ہدفِ ملامت تو بنایا جائے اسلامی تصوف کو اور قبائح مدنظر رکھی جائیں غیراسلامی تصوف کی، اسلام کے ان نادان دوستوں نے اپنے اس رویہ سے نہ صرف علم و تحقیق کا خون کیا بلکہ لاکھوں بندگانِ خدا کو تصوف کی حسنات و برکات سے محروم کردیا۔ فالی اللّٰہ المشتکی 
$ $ $
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء

Sunday, March 19, 2017

کیا امیر ہونا بری بات ہے۔۔؟

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
بہت عرصے سے میں اس موضوع پر لکھنے کے لئے سوچ رہا تھالیکن اس کی موضوع کی حساسیت کی وجہ سے ٹالتا رہا کیونکہ ہمارے ہاں مفت کے مفتیوں کی بھر مار ہے جو فتوی چھوڑتے ہوئے دیر نہیں لگاتے۔ لیکن دو دن قبل دوران مطالعہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی ایک تقریر سے مجھے اپنے موقف کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اس لئے اب اس موضوع پر چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
سب سے پہلے تو مولانا کی تقریر کے الفاظ پڑھیں وہ کیا فرمارہے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غریب تھے(نعوذبااللہ) تو سمجھ لو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اختیاری تھا۔ اضطراری نہ تھا، فقر وہ ہے کہ جس کا فقر اضطراری ہو۔حضرت ابراہیم بن ادھم نے سلطنت چھوڑ دی تھی تو کیا ان کو فقیر کہا جائے گا، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اخیتار سے فقر اختیار کیا تھا اور اختیاری بھی کیسا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آپ پسند فرمائیں تو خدا تعالیٰ آپ کے لئے جبل احد کو سونا کردیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلا کرے۔تو آپ نے فرمایا کہ اے جبریل میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاوں اور ایک دن بھوکا رہوں۔۔۔۔۔۔تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ حضور غریب تھے اور غریب ہونے کی وجہ سے تشریف لے گئے بلکہ آپ سلطان تھے اعتقادا اور واقعة بھی۔(خطبات حکیم الامت، جلد 3ص213)۔

تھانوی صاحب رحمہ اللہ کے اس بیان سے معلوم ہوا حضورﷺ کا فقر اختیاری تھا، اور مقصد امت کے اضطراری غریبوں کی حوصلہ افزائی کرنابھی تھا۔ ورنہ یہ ایسی ہی بری بات ہوتی تو آپ کے وہ پیارے صحابہ جن کو دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنائی گئی، حضرت عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کبھی بھی ارب پتی نہ ہوتے۔عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک ایک دن میں سو سو اونٹ نفع ہوتا تھا۔ سو اونٹ کا مطلب آج کل کے حساب سے ڈیڑھ کروڑ بنتا ہے، یعنی ایک دن میں ڈیڑھ کروڑ روپے منافع، سبحان اللہ۔یہی حال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام کا تھا۔ جبکہ دوسری طرف ایک بہت بڑی تعداد غراباءصحابہ کرام کی بھی تھی۔
جہاں تک حضورﷺ کی زندگی مبارک کا تعلق ہے تو آپ نے اپنی کسی بھی بیوی کو 500درہم(آج کل کے حساب سے 90ہزارروپے) سے کم مہر نہیں دیا، البتہ بعض بیویوں کو اس سے زیادہ بھی دیا۔ ایک بیو ی کو تقریبا 8لاکھ روپے مہر دیا۔ آج کل کتنے دیندار ہیں جو اپنی بیوی کو90ہزار مہر دیتے ہیں۔ آج کل تو دیندار اس بات کا نام رکھ دیا گیا ہے کہ مہر500رکھو۔ ایک دوہفتے قبل ایک نکاح پڑھایا میں نے پوچھا مہر کتنا ہے تو لڑکے کا باپ بڑے فخر سے کہنے لگامبلغ ایک ہزار روپے، میںنے فورا اسے ٹوکتے ہوئے کہا ایک ہزار میں نکاح نہیں ہوتا کم از کم دس درہم(2ہزار روپے) ہے چنانچہ پھر5ہزار مہر طے کیا گیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے پتا چلتا ہے کہ مدنی زندگی کے آٹھ دس سالوں تک ایک اونٹنی ہر وقت آپ کے پاس ہوتی تھی، اونٹ اس وقت کا جہاز تھا۔پھر بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے خریدے اور بیچے، گھوڑا اس وقت کی مرسڈیز تھی۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ ہزاروں چاندی کے درہم ایک دن میں صدقہ کیے، میں نے جب انہیں پاکستانی روپوں میں کنورٹ کیا تو دوکروڑ روپے بنتے تھے۔ ایک دن میں دو کروڑ صدقہ کرنا معمولی عمل نہیں اور ظاہر ہے یہ رقم پاس تھی تو صدقہ بھی کی۔
اسی طرح حضور ﷺ کی مکی زندگی میں بھی اور مدنی زندگی میں بھی یہ بات ملتی ہے کہ آپ کے پاس نوکر بھی رہے، ازواج مطہرات کے پاس بھی اکثر نوکرانیاں رکھی ہوئی ہوتی تھیں۔ صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد بھی اپنے پاس نوکررکھتی تھی۔
احادیث میں فقرا ، مساکین کے فضائل اور ترک دنیا کی جو ترغیب آئی ہے، اسے اکثر ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ شاید امیر ہونا نہایت ہی برا عمل ہے۔ اسی طرح بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بھی اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی غریب تھے اور بڑی کسمپرسی کی حالت میں آپ نے زندگی گزاری۔ ظاہر ہے اس تصور کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کسی بھی امتی کو اچھا مکان،اچھالباس،اچھی سواری کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔چنانچہ جو شخص ذرا سا دیندار بنتا ہے اسے نہ صرف کاروبار،تجارت بلکہ امیروں سے نفرت ہوجاتی ہے اور وہ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ یہ تصور دیندار لوگوں کے ذہن میں ایک سازش کے تحت ڈالا گیا تاکہ کوئی دیندار شخص معاشرے پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشرے میں اچھی شہرت، اچھی معاشی حالت رکھنے والا شخص بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں غریب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں وہ کیا کسی دوسرے کے بارے سوچے گا۔ چنانچہ اکثر امیر لوگ ہی دنیا پر حکمرانی کرتے نظر آتے ہیں، کوئی غریب یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ ایک معمولی سا ایس ایچ او بھی لگ سکے۔دولت اگر اللہ اور اس کے رسول کے لائے ہوئے دین پر عمل کرتے ہوئے مل جائے یا حلال طریقے سے حاصل کرلی جائے تو بری چیز نہیں۔ بس اس میں اللہ کا حق اور خوب صدقہ وخیرات ہوتا رہے، تو بہت بڑی نعمت ہے۔غلبہ دین کی محنت کرنے والے دیندار مسلمانوں کی معاشی حالت کا بہتر ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ اسباب کی دنیا میں جہاں تیر تلوار، گھوڑا اونٹ، زرہ اور خود کا استعمال کیا گیا ہے وہیں حضور ﷺ نے چندے کے طور پر صحابہ کرام سے جنگی تیاری کے لئے مال بھی جمع کیا تھا۔ یہ انسانی ضرورت ہے اور خصوصا اقامت دین کی جدجہد میں جہاں اخلاص، للٰہیت،ایمان ویقین، صبر،ثابت قدمی اور ہمت و عزم کی ضرورت ہے وہیں اچھی معاشی حالت کا ہونا بھی نہایت ہی ضروری ہے۔جس ملک کی معاشی حالت جتنی مضبوط ہوتی ہے اتنا ہی اس کی دفاعی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔لہٰذا یہ مفروضہ ذہن سے نکال لینا چاہیے کہ دیندار تبھی کہلایا جاسکتا ہے جب معاشی حالت خراب ہوجائے، کپڑے پھٹ جائیں، اور آدمی بسوں میں دھکے کھاتا پھرے

Saturday, March 18, 2017

اختلاف کب رحمت کب زحمت

(سید عبدالوہاب شیرازی)

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔
ماضی قریب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری بہت بڑے مناظر تھے، قادیانیوں،عیسائیوں،آریوں سمیت مختلف فرق باطلہ سے مناظرے کیے لیکن مناظرے کے بعد مخالف فریق نہ صرف کھانا کھلاتے بلکہ اس دن لازما اپنے گھر ٹھہرا کر خوب مہمان نوازی کرتے تھے۔
تفرقہ کیسے بنتا ہے؟
ایک طبقہ دین کا ایک شعبہ لے کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ دوسرا طبقہ دین کا دوسرا شعبہ پکڑ کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچ، وفاداریاں ہرچیز تقسیم ہوجاتی ہے۔ پھر محبت بھی تقسیم ہوجاتی ہے، چنانچہ ایک کہتا ہے محبت صرف اللہ کے لئے خالص ہے۔ دوسرا کہتا ہے محبت رسول اللہ کے لئے ہے، تیسرا کہتا ہے صحابہ کے لئے ہے ۔چوتھا محبت کو صرف اہل بیت کے لئے خالص کردیتا ہے۔اس طرح دین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ہر طبقہ اپنی اسی سوچ کے ساتھ تعبیر وتشریح کرتا ہے۔
موجودہ صدی میں بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی، جنہوں نے لوگوں کو سنگل پوائنٹ ایجنڈا دیا، اور اسی سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کیا۔ دراصل سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کرنا نہایت ہی آسان معاملہ ہے۔ دین کا ہمہ گیر تصور دینا اور اس پر لوگوں کو اکھٹا کرنا مشکل کام ہے چنانچہ لوگوں نے دین کا ہمہ گیر تصور ایک طرف رکھتے ہوئے سنگل پوائنٹ ایجنڈے سے کام لیا اور کسی ایک بات یا نظریے پر لوگوں کو اس طرح اکھٹا کرنا شروع کیا کہ اب ہرجماعت اور طبقہ کے لوگ صرف اسی ایک بات کو مکمل دین سمجھتے ہوئے باقی تمام جماعتوں اور دین کے شعبوں کا انکار کررہے ہیں۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر اور علم بڑھتا ہے اور چالیس پنتالیس سال کی عمر میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ میری پچھلی ساری سوچیں غلط اور محدود تھیں۔

اس صورت میں ایک اور نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسا شخص اپنے ان اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے متنفر ہوجاتا ہے جن کے پاس اس نے آٹھ دس سال لگائے تھے اور انہوں نے اسے وہ سوچ نہیں دی جو اسے چالیس سال کی عمر میں مختلف تجربات ، مشاہدات، معاشرے کے رویوں، خارجی مطالعے، اور ٹھوکریں کھا کر حاصل ہوئی۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا مسلک ضرور پڑھایا جائے لیکن اسے اختلاف کی حد تک رکھتے ہوئے خلاف سے بچنے کی تعلیم بھی دی جائے اور بچوں کو سمجھایا جائے کہ اصول اور فروع میں فرق کیا ہے۔ اصول اور فروع میں وہی فرق ہے جو فرض اور واجب یا فرض اور سنت یا فرض اور مستحب میں ہے۔ جب تک یہ فرق نہ سمجھ آئے چھوٹا ذہن ہر اختلاف کو فرض اور حرام کا فرق سمجھتے ہوئے اپنے مسلک کے علاوہ ہر مسلک کو مکمل باطل،مردود اور کافر تک سمجھتا ہے، پھر جب وہ عملی طور پر معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو انتشار ، افتراق و تشتت پیدا کرتا ہے۔
ہم جب مسلکی جھگڑے چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلک کو چھوڑدیا جائے بلکہ اس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ دوسرے کا مسلک چھیڑو نہ۔ ہر کوئی اپنے مسلک میں رہتے ہوئے اس جھگڑے کو ختم کرسکتا ہے۔ دلائل کے ساتھ اپنا مسلک اپنے طلباءکو ضرور سمجھایا جائے لیکن اسے عوام میں بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں پائے جانے والے تینوں مسالک یعنی دیوبندی، بریلوی،اہلحدیث کا صرف پانچ فیصد باتوں میں اختلاف ہے باقی پچانویں فیصد باتوں میں مکمل اتفاق ہے۔ پھر ان پانچ فیصد میں سے بھی تین فیصد میں محض ظاہری اختلاف یا تعبیر کا فرق ہے بات دونوں فریق ایک ہی کررہے ہوتے ہیں محض تعبیر کا فرق ہوتا ہے، یعنی دونوں ایک ہی کان پکڑ رہے ہوتے ہیں بس ایک دائیں طرف سے تو دوسرا بائیں طرف سے۔ یہ غلط فہمی آپس میں مل بیٹھنے سے ختم ہوسکتی ہے۔ جب آپس میں دوریاں ہوتی ہیںاور ملنا ملانا نہیں ہوتا تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر علماءآپس میں ملنا ملانا رکھیں تو یہ تین فیصد مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور محض دو فیصد واقعی اختلاف رہ جائے گا جو فطری عمل ہے کوئی بری چیز نہیں۔اپنی جماعت اور اپنے مسلک پرلوگ کتنے سخت ہیں اور ان کا رویہ کیاہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت بھی ہوا جب میں نے فیس بک پر فرقہ واریت کے حوالے سے مختلف علماءکے اقوال پوسٹ کرنا شروع کیے، جب ایک مسلک کے علماءکے اقول پیش کیے تو کوئی خاص ہلچل نہیں مچی مگر جب میں نے دوسرے مسلک کے علماءکے فرقہ واریت کے خلاف اقول پیش کرنا شروع کیے تو بے شمار لوگ اشتعال میں آگئے، یعنی وہ کسی دوسرے مسلک والے کی بات سننے تک گوارا نہیں کرسکتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ اس کا نام لکھنا گوارا کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے ہی مسلک کے اکابرین کے مسلک پرستی اور فرقہ واریت کے خلاف موقف کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں.

Friday, March 17, 2017

::::::: اختلاف اور اخلاق :::::::​

بشکریہ :‌ عادل سہیل ظفر
خلاف اور اختلاف معروف الفاظ ہیں اور غالباً ان کے مفاہیم بھی معروف ہیں ، لغوی طور پر اختلاف کا اصل مادہ """ خَلَفَ """ ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :::

خَلَفَ ، یَخلِفُ ، خِلاف ٌ ، مُخلاف ٌ ، اور ،
باب """ اِفتَعلَ "" سے ، اَختَلفَ ، یَختلفُ ، اِختلافٌ ، مُختَلِفٌ ، ہے
مفہوم کے اعتبار سے دونوں کا ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں کہ ::: """ الخِلاف ھو ضد الاتفاق و ھو ان یذھبَ احدُھُما اِلیٰ ما یُخلاف الآخر ::: خلاف ، اتفاق کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ دو (اشخاص یا جاندار اور ذی عقل چیزوں )میں سے ایک اُس طرف جائے جو دُوسرے کے خلاف ہو """
پس خلاف اور اختلاف میں لغوی طور پر کوئی اختلاف نہیں اور اسی طرح اصطلاحی استعمال میں بھی کوئی خِلاف نہیں ،
اس کے ہم معنی الفاظ میں """ فرق ، اور ، افتراق """ ، """ نزعٌ ، اور ، اِنتَزاعٌ """ ہیں ،
اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام پاک میں ان تینوں کے مذکورہ بالا مفاہیم کے مطابق استعمال کی مثالیں میسر ہیں جو اس بات کی تائید ہیں کہ اصطلاحی طور پر بھی اِن کے مفاہیم میں کوئی فرق نہیں ،
اور یہ بھی بہت واضح ہوتا ہے کہ اختلاف ، تفرقہ ، تنازع ، اللہ کو ناپسند ہیں اور اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہیں ، اور دُنیا اور آخرت کی ذلت اور عذاب کے اسباب میں سے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے [QH] كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتَابَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النَّاسِ فِيمَا اختَلَفُوا فِيهِ وَمَا اختَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعدِ مَا جَاءتهُمُ البَيِّنَاتُ بَغياً بَينَهُم فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اختَلَفُوا فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ وَاللّهُ يَهدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّستَقِيمٍ[/QH] ::: 
پہلے سب ہی لوگ ایک اُمت تھےتو اللہ نے نبی بھیجے ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے اور اُن کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ، حق کے ساتھ ، تا کہ وہ نبی اُس کے بارے میں (اس کتاب کے ذریعے ) فیصلے کریں جِس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، اور اُس (جو کچھ ) اُنہیں دیا گیا اُس میں انہوں نے اس وقت اختلاف کیا جب کہ ان کے پاس واضح روشن دلائل آ چکے ، انہوں نے(یہ اِختلاف ) آپس میں بغاوت کرتے ہوئے کیا ، تو اللہ نے اِیمان لانے والوں کو اپنی اجازت سے حق میں سے اُس کے بارے میں ہدایت فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا ، اور اللہ جسے چاہے اِستقامت والے راستے کی ہدایت دیتا ہے ))))) سورت البقرة /آیت ۲۱۳ ،
اللہ پاک کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ اِختلاف """ کی مذمت بہت واضح ہے ، یہ صرف ایک موقع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت اور بھی کئی دفعہ فرمائی ، مثلاً :::

((((( [QH]وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ العِلمُ بَغياً بَينَهُم وَلَولَا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الكِتَابَ مِن بَعدِهِم لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ [/QH]:::
اور وہ (سابقہ اُمتیں )اُن کے پاس عِلم آنے کے بعد ہی ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور اگر اللہ کی طرف سے ایک (حساب ، اور جزا و سزا کے لیے )مقررہ وقت کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو فیصلہ ہو جاتا ، اور بے شک جنہیں اِن (اختلاف کرنے فرقوں میں بٹ جانے والوں) کے بعد کتاب کی وراثت ملی وہ بھی اُس کے بارے میں شک کا شکار ہیں )))))) [QH]سورت الشُوریٰ /آیت 14،[/QH]
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آیت مبارکہ میں [AR]""" لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِي[/AR]بٍ """" میں مذکور """ مِّنهُ """ میں سے """ ہُ""" سے مراد مُحمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ہیں ، بہر حال اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو سابقہ لوگوں امتوں کو دی گئی اور جس کا ذکر کیا گیا ، یا رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارکہ لی جائے ، بہر صورت اختلاف کو ایک مذموم عمل کے طور پر ذکر کیا گیا ،
اس نا پسندیدہ کام کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیےجائز نہ رکھتے ہوئے حُکم فرمایا ((((([QH] وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا [/QH]::: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور الگ الگ مت ہو ))))) [QH]سورت آل عمران / آیت103[/QH]
اور اس مذموم عمل یعنی اِختلاف اور گرو ہ بندی کی بہت وضاحت کے ساتھ مذمت فرماتے ہوئے ، اُس سے منع فرماتے ہوئے اور اس کا خوفناک نتیجہ بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((([QH] وَلاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواوَاختَلَفُوا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ البَيِّنَاتُ وَأُولَـئِكَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ :[/QH]:
: اور تُم لوگ اُن کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اُن کے پاس روشن نشانیاں آ جانے کے بعد (بھی)گروہوں میں بَٹ گئے اور اختلاف کیا اور وہی ہیں جِن کے لیے بڑا عذاب ہے ))))[QH]) سورت آل عمران/آیت105،[/QH]
اللہ سبُحانہ و تعالیٰ نے ہمیں مزید یہ بھی بتایا کہ اختلاف اور گروہ بندی کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہ ہو گا بلکہ دُنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب ہو گا ، پس فرمایا ((((( [AR]وَأَطِيعُوا اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذهَبَ رِيحُكُم وَاصبِرُوا إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ :[/AR]::
اور اللہ کی تابع فرمانی کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی تابع فرمانی کرو اور تنازع مت کرو ورنہ تُم لوگ ناکام ہو جاؤ گے اور تُم لوگوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ))))) [QH]سورت الأنفال / آیت46،[/QH]
اختلاف ، تنازع اور گروہ بندی کے منفی نتائج کے باوجود کئی اور ایسے ہی منفی نتائج والوں کاموں کی طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی مکمل بے عیب حکمت سے مقرر فرمایا کہ سابقہ امتوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ مذموم عمل پایا جائے گا ، اور اس کی خبر بھی فرمائی ، ((((( [QH]وَلَو شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُختَلِفِينَ O إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُم وَ تَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَملأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ:::[/QH]
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سارے ہی لوگوں کو ایک ہی اُمت بنا دیتا (لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا ) اور وہ ابھی تک مُختلف ہیں O سوائے اُن کے جِس پر آپ کے رب نے رحمت کی (اور اختلاف سے محفوظ رکھا )اور اللہ نے لوگوں کو اسی لیے ہی بنایا اور اللہ آپ کے رب کا فرمان پورا ہو(کر رہے )گا(کہ)میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جِنّات سے بھروں گا ))))) [QH]سورت هود/آیات 118 ، 119،[/QH]
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مُسلمانوں میں اختلاف ختم ہو جائے ، یہ رہے گاخواہ بہت ہی معمولی رہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہے ، پس یہ ختم نہ ہوسکنے والی چیز ہے ، لیکن یہ ضرور کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کچھ زیادہ محنت بھی درکار نہیں کہ اختلاف کی صورت میں اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کے حقوق اور احترام کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور نہ اپنے دِل میں ان کے لیے کوئی بُغض رکھا جائے ، یہاں تک کہ کسی کے بارے میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ معاذ اللہ وہ حق جانتے ہوئے باطل پر عمل پیرا ہے ،
ایسا قطعاً نا مُمکن نہیں کہ ہم اپنے اختلاف کی بنا پر وجود میں آنے والی تفریق کو صرف اُس موضوع ، اُس بات ، اُس کام کے اندر تک محدود رکھیں جس میں وہ ہوا ہے ، اور اُس اختلاف کے بارے میں بات چیت کریں ، ایک دوسرے کے دلائل سنیں ، مانیں یا رد کریں ، اور ایک دوسرے سے اسلامی بھائی چارہ بھی قائم رکھیں ،
بے شک ہم سب کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک ہر کام میں ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے ، اور معاملہ صرف نمونہ ہونے کا ہی نہیں بلکہ اُن کی اتباع فرض ہے اور ان کی عطا کردہ ہدایت اور ترغیب پر عمل کرنے سے بڑھ کر درستگی اور خیر والا کام اور کوئی نہیں ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((([AR] خَيرُ الناس قَرنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم :[/AR]:: سب سے زیادہ خیر والے لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں ، پھر جو اُن کے بعد ہیں ))))) صحیح البُخاری /حدیث 3451 /کتاب فضائل الصحابہ /باب اول ، صحیح مُسلم/حدیث ۲۵۳۳/کتاب فضائل الصحابہ /باب ۲۵،

آیے دیکھتے ہیں کہ تمام تر لوگوں میں سے زیادہ خیر والے لوگ جو اُن تین زمانوں میں تھے ، اُن لوگوں کا ایک دووسرے سے اختلاف ہونے کی صورت میں کیا رویہ رہتا تھا ،
أمیر المؤمنین عُمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما ، کےبارےمیں معروف ہے کہ وہ تقریباً ایک سو مسائل میں ایک دوسرے کے خِلاف تھے ، یعنی ان میں تنازع تھا ، لیکن اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہُ أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ کی یاد میں رو پڑتے اور اُن کےبارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ """""[AR] إِنَّ عُمَرَ رضي اللَّهُ عنه كان لِلإِسلامِ حِصنًا و حصيناً يَدخُلُونَ في الإِسلامِ وَلا يَخرُجُونَ فلما أُصِيبَ عُمَرُ انثَلَمَ الحِصنُ [/AR]::: عُمر رضی اللہ عنہُ اسلام کے لیے ایک قلعہ تھے کہ لوگ اِسلام میں داخل ہوتے تھے جس میں لوگ داخل ہو کر نکلتے نہ تھے جب عُمر (رضی اللہ عنہ ُ ) فوت ہو گئے تو یہ قلعہ میں دڑار پڑ گئی """ اور امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کو دوسرے شہروں میں دینی معاملات کے لیے اُستاد بنا کر بھیجتے اور اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ """"" کنیفٌ ملیء عِلماً ::: ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فقہ سے بھرا ہوا برتن ہیں """"""( کنیف ، مترادف وعاء اور وعا کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہی جو کسی دوسری چیز کو اپنے اندر چھپا سکے )،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ میں بھی اسی طرح دادا کی وراثت سے متعلق کئی مسائل میں اختلاف تھا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ """ کیا زید اللہ کا خوف نہیں کرتے کہ پوتے کو دادا کا وارث بتاتا ہے اور دادا کو پوتے کا نہیں """ لیکن وہ اختلاف بھی صرف مسائل کی حد تک ہی تھا اوروہ ایک دوسرےکااحترام اس طرح کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ سوار ہونے لگے تو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما زید رضی اللہ عنہ ُ کی سواری کی رکاب تھام لی تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اس کی رکاب چھوڑ دیجیے """ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ ہمیں اِسی طرح اپنے عُلماء کی عِزت کرنا سکھایا گیا ہے """" اور جب زید رضی اللہ عنہ ُ فوت ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ اس طرح عِلم ختم ہوتا ہے ، آج بہت زیادہ عِلم چلا گیا """"
یونس الصدفی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ """ میں نے (اِمام) شافعی سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں دیکھا ، ایک دِن میں نے اُن کے ساتھ کسی مسئلہ پر مناظرہ کیا اور ہم الگ الگ ہو گئے ، اُس کے بعد جب شافعی مجھے ملے تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر کہا """ عیسیٰ کے باپ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی رہیں خواہ کسی مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہ ہی ہو """"
امام الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ ابو عیسیٰ الصدفی سےپوچھا ہوا یہ سوال ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے ، اور پھر ایک دوسرے کے حقوق جانتےاورسمجھتےہوئےاورانہی ں ادا کرتے ہوئے ، اپنے اختلاف کو اپنے اخلاق کا اتلاف نہ بننے دیں ، اور کسی مسلمان کے عزت پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہیں کہ اس پر کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہوئے اس کو اسلام سے خارج قرار دیں ، اور اس کی حق تلفی سے بچے رہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت دے کہ ہم اختلافات کو بد اخلاقی اور اسلامی بھائی چارے کا قاتل نہ بننے دیں ، اختلافی مسائل اور معاملات کو اسلامی بھائی چارے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے سلجھانے کی کوشش کریں نہ کہ بد اخلاقی کر کے مزید بگاڑ پیدا کریں ، چھوٹی چھوٹی دڑاڑیں بھرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب اُنہیں بھرنے کی بجائے کِھینچا جانے لگے تو وہ بڑی بڑی خلیجیں بن جاتی ہیں جنہیں بھرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ، اور ہم مسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مُصیبت بداخلاقی،ذاتی پسند نا پسند ، شخصیت پرستی پر مبنی اختلاف بھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایسی ہی خلیجیں پیدا کرتا ہے ،
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے