Search This Blog

Thursday, February 23, 2017

لاپتہ افراد اور لاپتہ بھینسے


لاپتہ افراد اور لاپتہ بھینسے !
رعایت اللہ فاروقی
لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنی کوئی اصولی رائے قائم کیجئے اور رائے قائم کرنے سے قبل لاپتہ افراد کا پورا معاملہ سمجھئے۔ میرے نزدیک لاپتہ افراد 4 طرح کے ہیں۔ ایک وہ لاپتہ افراد ہیں جو مشرف دور میں دہشت گردی کے الزام میں لاپتہ کئے گئے۔ ان لاپتہ افراد کے معاملے پر ہر شخص ریاستی اداروں کے اس اقدام کا مخالف تھا کیونکہ یہ کوئی قانونی اقدام تھا اور نہ ہی اسے "غیر معمولی حالات" کے تحت کوئی قومی حمایت حاصل تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ اٹھایا تو ہر خاص و عام نے سپریم کورٹ کی حمایت کی۔ دوسری قسم ان لاپتہ افراد کی ہے جو ریاست کے خلاف لڑنے والے انہی دہشت گردوں پر مشتمل تھی اور انہیں "نیشنل ایکشن پلان" کے تحت ضرب عضب کے دوران لاپتہ کیا گیا۔ ان میں درجنوں ایسے بھی ہیں جو پولیس مقابلوں میں پار کر دیئے گئے۔ اس حوالے ریاست اعلان نہیں کرتی لیکن بادی النظر میں ملک کے تمام ادارے اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جو لوگ قتل اور بم دھماکوں جیسی سنگین واردوتوں میں ملوث ہیں لیکن ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں یا انہوں نے ثبوت چھوڑے ہی نہیں ہیں تو انہیں مزید خون ریزی کے لئے چھوڑا نہیں جائے گا بلکہ "غیر معمولی حالات" کی چھتری تلے انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ پچھلے دو سال سے ہر ہفتے نہیں تو ہر ماہ کئی افراد پولیس مقابلوں میں مارے جا رہے ہیں یا لاپتہ کئے جا رہے ہیں اور ہم نے نہیں دیکھا کہ سپریم کورٹ نے کوئی سوموٹو لیا ہو یا رضا ربانی، افراسیاب خٹک اور فرحت اللہ بابر کو کوئی بد ہضمی ہوئی ہو۔ سب آنکھ اور کان بند کر کے بیٹھے ہیں اور اس لئے یوں بیٹھے ہیں کہ یہ "نیشنل ایکشن پلان" کے تحت غیر علانیہ ریاستی پالیسی ہے اور اس پالیسی کو ریاستی اداروں کی ہی نہیں بلکہ ہم عوام کی اکثریت کی بھی حمایت حاصل ہے۔ تیسری قسم کے لاپتہ یا مارے جانے والے افراد میں لشکر جھنگوی، سپاہ محمد، لیاری گینگ وار اور ایم کیو ایم کے دہشت گرد شامل ہیں۔ یہ لوگ ریاست سے نہیں لڑ رہے بلکہ عوام پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور ہزاروں معصوم انسانوں کے قتل سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ ان چاروں گروپوں کے درجنوں افراد مارے گئے، ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لاپتہ کئے گئے۔ کیا پارلیمنٹ، سپریم کورٹ یا ہم عوام نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ؟ نہیں کیا ! اور اس لئے نہیں کیا کہ ان کے خلاف بھی ہم سب "غیر معمولی حالات" والے اصول کے تحت غیر معمولی اقدام پر متفق ہیں۔

چوتھی قسم کے لاپتہ افراد وہ ہیں جو چند روز قبل متعارف ہوئے۔ انہیں ہم "لاپتہ بھینسے" کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھینسے بھی "غیر معمولی حالات" میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت لاپتہ کئے گئے ہیں۔ مگر اس بار کچھ خواص کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ان چیخوں کی وجہ یہ ہے کہ جو لاپتہ کئے گئے ہیں وہ محض پیادے ہیں۔ ان کے "کمانڈر" صحافت اور سیاست کی کچھ نامی گرامی شخصیات ہیں۔ یہ شخصیات اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس تازہ معاملے میں بھی حسبِ روایت "ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار" پکڑ میں آ سکتے ہیں۔ یہاں میڈیا اور سیاست کے بعض اہم افراد "ماسٹر مائنڈ" کے طور پر تو کچھ نام نہاد دانشور "سہولت کار" کی حیثیت سے ممکنہ طور پر گرفت میں آ سکتے ہیں۔ اسی خوف کے تحت بعض سیاستدانوں اور میڈیا پرسنز کے ہوش اڑے ہوئے ہیں۔ ہم سب نے بچشم خود دیکھا اور بگوشِ خود سنا کہ فیس بک پر غلیظ قسم کی نفرت انگیز مہم چلانے والا خرم ذکی مارا گیا تو مین سٹریم میڈیا چار دن تک اسے "سماجی کارکن" قرار دے کر گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتا رہا۔ یہ کیا ثابت کرتا ہے ؟ یہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خرم ذکی کی جانب سے پھیلائی جانے والی منافرت کو مین سٹریم میڈیا کی حمایت حاصل تھی۔ لاپتہ بھینسے کے معاملے پر بھی میڈیا نے ایک بار پھر یہی ثابت کیا ہے کہ بھینسے کی پھیلائی جانے والی منافرت میں بھی وہ برابر کے شریک ہیں۔ اگر یہ میڈیا پرسنز اس معاملے میں ماسٹر مائنڈ نہیں بھی ہیں تو اپنی میڈیا مہم کے ذریعے "سہولت کار" کا کردار تو ادا کر ہی رہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے اس پورے معاملے پر تین طرح کی عوامی اراء ہو سکتی ہیں۔

(01) پہلی رائے ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جو ٹی ٹی پی، بلوچ عسکریت پسندوں، لشکر جھنگوی، لیاری گینگ وار اور ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی یہ موقف رکھتے تھے کہ ان کے خلاف "غیر معمولی حالات" کے تحت قانون سے ماورا ایکشن درست نہیں۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور آج بھینسے کے معاملے میں بھی ان کا وہی موقف ہے۔ ان کی رائے سے عدم اتفاق کے باوجود میں ان کا احترام کرتا ہوں کیونکہ ان کی رائے اصولی ہے۔

(02) دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جو ہر طرح کے دہشت گردوں اور شرپسندوں کے خلاف پہلے بھی "غیر معمولی حالات" میں غیر معمولی اقدام کے حامی تھے اور آج بھی حامی ہیں۔ میری اپنی رائے بھی یہی ہے۔ اس رائے کا بھی احترام ہونا چاہئے کیونکہ یہ بھی اصولی رائے ہی ہے۔

(03) تیسرے وہ لوگ ہیں جو ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی، لیاری گینگ وار اور ایم کیو ایم کے خلاف غیر معمولی اقدام پر چپ تھے، اس وقت انہیں قانون یاد نہ رہا تھا لیکن جب اسی پالیسی کی زد میں ان کے اپنے بھینسے آنے لگے تو یہ یکایک قانون کے پیمبر بن گئے۔ یا وہ لوگ جنہیں مذکورہ گروہوں کے خلاف غیر معمولی اقدام پر تو اعتراض تھا لیکن جب بھینسے رگڑے میں آگئے تو اب ان کے خلاف ایکشن کے حامی بن گئے ہیں۔ یہ دونوں ہی منافق ہیں اور ان کی رائے عقل و خرد کے کسی بھی پیمانے پر اصولی نہیں بلکہ "میٹھا میٹھا، ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا، تھو تھو" کی ہے۔

معاملہ فوج پر تنقید کا ہے ہی نہیں ! اگر فوج پر تنقید کے سبب لوگوں کو اٹھایا جاتا تو یقینا غائب ہونے والوں میں میرا نام بھی شامل ہوتا کیونکہ گزشتہ دو برس کے دوران میں کئی بار سخت ترین تنقید کر چکا ہوں۔ معاملہ دشمن ممالک سے فنڈز لے کر وطن سے غداری کا ہے۔ میں دو بار مفصل پوسٹیں لکھ کر خبردار کر چکا ہوں کہ آپ کو فوج کی کسی پالیسی یا اقدام سے اختلاف ہے تو ضرور تنقید کیجئے ! اس تنقید کی بنیاد پر آپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔ ایکشن دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے۔ پہلی صورت یہ کہ آپ کی تنقید آپ کے خیالات نہ ہوں بلکہ آپ کسی سے فنڈز لے کر ان کا ایجنڈہ آگے بڑھا رہے ہوں۔ دوسری صورت یہ کہ آپ تعمیری تنقید نہیں بلکہ تذلیل کر رہے ہوں۔

غداری صرف مسلح نہیں ہوتی بلکہ غیر مسلح بھی ہوتی ہے۔ وطن دشمنوں سے فنڈز لے کر ریاست کے خلاف آپ ہتھیار کی مدد سے سرگرم ہوں خواہ زبان و قلم کی مدد سے، جرم کی نوعیت ایک ہی رہتی ہے۔ سزا دونوں طرح کی غداری کی موت ہی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ مسلح غداری میں قتل کی اضافی دفعات بھی لاگو ہو جاتی ہیں۔ آپ فوج کی کسی حکمت عملی سے متفق نہیں تو تنقید بھی کیجئے اور اپنی ناراضگی کا اظہار بھی، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی آپ پر ہاتھ ڈالے، بس تذلیل اور غداری نہ کیجیے۔

Wednesday, February 22, 2017

غور طلب

سیدعبدالوہاب شیرازی
غلبہ دین، اقامت دین یا اسلام کے نفاذ کے لئے سب سے پہلے تو مسالک پر لڑنے بھڑنے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عوام کو یہ حیرت انگیز خبر دینے کی ضرورت ہے کہ دیوبندی،بریلوی،اھلحدیث 95٪ پچانویں فیصد باتوں میں متفق ہیں۔ صرف پانچ فیصد یا اس سے بھی کم مسائل میں کچھ اختلاف ہے۔ اس بات کو علماء جانتے ہیں البتہ عوام کو علم نہیں، عوام سمجھتے ہیں یہ مسالک شاید الگ الگ دین ہیں۔ چنانچہ جن جن کو اس بات کا علم نہیں وہ فورا لڑنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل حدیث کے ساتھ تقلید اورسوائے نماز کے اور کوئی اختلاف نہیں۔ زکوہ میں کوئی اختلاف نہیں، روزے میں کوئی اختلاف نہیں، حج عمرہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ واحد ایک نماز ہے اس میں رفع یدین،آمین،فاتحہ کا اختلاف ہے۔
چنانچہ صرف آمین اونچی یا آہستہ کہنے پر قتل تک ہوجاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خود ایک ایسے شخص کی عیادت کی جس کی ٹانگیں صرف اس وجہ سے توڑ دی گئیں تھیں کہ اس نے اونچی آواز سے آمین کہہ دی تھی۔
دیوبندی بریلوی اختلاف کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔ ان دونوں کا کسی عبادت میں اختلاف نہیں۔کچھ چیزیں ہیں، کچھ رسومات ہیں جنہیں بریلوی حضرات عشق رسول میں کرتے ہیں اور دیوبندی کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔
جہاں تک معاملہ ہے مزارات کا جہاں کچھ شرکیہ افعال ہوتے ہیں، ان سے بریلوی علماء بری ہیں اور وقتا فوقتا اس کا اظہار تقریر وتحریر کی شکل میں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ مزارات وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے اوقاف کے قبضہ میں اس لئے اس کی ساری ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ مزارات کو اس ڈھنگ سے چلانے میں حکومت کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک کروڑوں کا چندہ اور دوسرا اختلاف ، یعنی لڑاو اور حکومت کرو۔ اس لئے حکومت کسی صورت یہ نہیں چاہتی کہ مزارات پر یہ شرک ختم ہو۔
چنانچہ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ پچانویں فیصد سے زیادہ باتوں میں اتفاق ہے ، جو تھوڑا سا معمولی اختلاف ہے بھی تو اس پر بات چیت جاری رہنی چاہیے، جھگڑا کرنا اور کفر کے فتوی لگانا مناسب نہیں۔
بات ہورہی تھی نفاذ اسلام کی۔ پہلا کام عوام میں شعور بیدار کرکے ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ پھر ساتھ ساتھ دروس قرآن کے حلقے قائم کرکےلوگوں کو قرآن کے ساتھ جوڑنا اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ تلاوت کیا کریں۔جب لوگ قرآن کے ساتھ جڑیں گے ان کی سوچ بدلے گی، سوچ بدلنے سے نظریہ اور عقیدہ بدلے گا، عقیدہ بدلنے سے توقع اور امید بدلے گی، پھر اس سے رویہ بدلے گا، رویہ بدلنے سے ترجیحات بدلیں گیں اور پھر اس سے زندگیاں بدلیں گیں، زندگیاں بدلنے سے پورے معاشرے اور ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔اور یہی تبدیلی باطل نظام سے کشمکش پیدا کرے گی، یہ کشمکش بڑا ٹکراو پیدا کرسکتی ہے ، لیکن اس صورت میں بھی فتح حق کی ہوگی کیونکہ حق پاور میں ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کشمکش کسی بڑے ٹکراو کے بغیر ہی تبدیلی لے آئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس کام کی پہلی اینٹ اختلاف کو ختم کرنا ہے۔ یہ بات باطل قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں چنانچہ وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ اختلاف ختم ہو، ان کا مفاد اسی میں ہے کہ لوگ لڑتے رہیں اور ہم حکومت کرتے رہیں

Monday, February 20, 2017

کیا سیکولرازم لادینیت کانام ہے

کیا سیکولرازم لادینیت کا نام ہے۔۔؟
آصف محمود

کس معصومیت اور تجاہل عارفانہ سے سوال اٹھایا جاتا ہے کیا سیکولرزم لادینیت کا نام ہے؟اور پھر سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیا جاتا ہے کہ سیکولرزم تو محض انسان دوستی اور اعلی اخلاقیات کا نام ہے اسے لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے معاملے میں جملہ کوتاہیوں کے باوجود جب مذہب کی بات آتی ہے تو ’دل ہے کہ کھنچتا سا چلا جائے ہے‘ والا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔ایسے معاشرے میں مذہب کو عظوِمعطل بنانا آسان کام نہیں ہوتا۔چنانچہ اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے سیکولرزم کی داعی قوتوں نے سماج کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ سیکولرزم تو محض اخلاقیات، انسانیت اور محبت کا نام ہے جو کسی طرح بھی مذہب سے متصادم نہیں۔یہ الجھن اب ایک ہی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ ہم مغرب کے اپنے علمی ماخذ کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ سیکولرزم کا مطلب کیا ہے.

انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے مطابق:’’سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد عام پندونصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہواور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو۔سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلا خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے‘‘

وبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امیرکن لینگوئج میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:’’سیکولرزم اعتقاد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرتا ہو۔‘‘اسی ڈکشنری میں لفظ سیکولرائز کے معنی ہیں :’’کسی چیز سے مذہبی کردار کو نکال دینا‘‘.

اب آپ غور فرمائیے،مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرنا،گویا مذہب کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور مذہبی کردار کو نکالے بغیر کوئی چیز سیکولرائز نہیں ہو سکتی۔ یہ لادینیت نہیں تو کیا ہے؟

پھر بھی کوئی خوش فہمی باقی ہو تو انسائیکلو پیڈیا آف ری لی جن کھول لیجئے،اس کے مطابق:’’سیکولرزم ایک ایسا نظریہِ حیات ہے جو غیر مذہبی اور مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے۔مختصر یہ کہ سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل ہے جس میں مذہبی حساسیت،فعالیت اور مسلمہ مذہبی قوانین اپنی سماجی وقعت کھو دیتے ہیں‘‘۔

غور فرمائیے، سیکولرزم مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے اور اس میں مسلمہ مذہبی قوانین اپنی وقعت کھو بیٹھتے ہیں ،مذہبی حساسیت بھی ختم ہو جاتی ہے فعالیت بھی ، لیکن کس بے نیازی سے کہا جا رہا ہے کہ سیکولرزم لادینیت نہیں ہے۔یہ احباب بتایں گے کہ اگر یہ سب کچھ لادینیت نہیں تو لادینیت اور کیا ہوتی ہے؟کیا اس رویے کو فکری دیانت کے باب میں لکھا جا سکتا ہے؟

انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی کو بھی دیکھتے جائیے:’’سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر جیسے آراء ، رسوم و رواج،سماجی طرزِعمل حتی کہ اشیاء اور انسانوں پر بھی اس بات کی پابندی ہو کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں‘‘۔۔

آپ کو پابند کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنی رائے ، رسوم و رواج اور طرز عمل کا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں لیکن ساتھ ہی کہا جا رہا ہے کہ پیارے بھائی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ،سیکولرزم کا مطلب لادینیت تو نہیں ہے۔

لرنر ٹائپ کنسائز انگلش ڈکشنری کے مطابق سیکولرزم وہ نظریہ ہے ’’جو مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دے‘‘۔

اصطلاحات قابلِ غور ہیں، مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی ۔لیکن فکری بد دیانتی دیکھیں پھر بھی ہمیں کہا جا رہا ہے ’ سیکولرزم لادینیت تو نہیں ہے‘۔

اب اسلام کے سارے قوانین آپ نے ایک طرف رکھ چھوڑے۔اس کا نظامِ تعزیر،اس کا قانونِ شہادت،اس کا معاشی ضابطہ،اس کے فیملی لاز،سب آپ نے چھوڑ دیے۔عقیدے کی کسی بھی صورت کی آپ نے نفی کردی،اپنی رائے،اپنی ذت،اپنے طرزِعمل اور اپنی پوری حیاتِ اجتماعی پر آپ نے قدغن لگا دی کی یہ اپنا تعین مذہب کے حوالے سے نہیں کر سکتے،آپ نے مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرنے والا طرزِحیات اپنا لیا،آپ نے مذہبی حساسیت،مذہبی فعالیت اور مذہبی قوانین کو معمولی سی اہمیت دینے سے بھی انکار کر دیااور آپ نے مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دی۔۔۔۔اگر یہ سب دین کی نفی نہیں ہے تو کیا ہے۔یہ لادینیت نہیں تو اور کیا ہے؟ اہم چیز یہ. نہیں کہ سیکولرازم آپ کو انفرادی طور پر مذہب پر عمل. پیرا ہونے کی جزوی آزادی دیتا ہے یا نہیں اہم چیز یہ ہے کہ سیکولرازم اللہ کی حاکمیت اعلی کی نفی کرتا ہے.

دین کے ساتھ یہ مذاق نہیں ہوسکتا کہ اسے محض انفرادی معاملہ قرار دیا جائے۔دین محض انفرادی معاملہ ہے بھی نہیں۔قرآن واضح طور پر یہ کہ چکا ہے کہ ’’ ادخلو فی السلم کافۃ‘‘، یعنی پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی اجتماعی زندگی سے اس کو نکال باہر کریں اور اسے ایک فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کر دیں۔اسلام کے قوانین محض عبادات تک محدود نہیں۔یہ تعزیر سے معیشت تک پھیلے ہوئے ہیں۔حیاتِ اجتماعی کا کون سا ایسا پہلوہے جس کے بارے میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو؟اب ہمیں خود سے ایک سوال پوچھ لینا چاہیے: کیا ہم مسلمان ہیں؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں اسلام کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہیے۔دوسری صورت میں صاف کہ دینا چاہیے کہ ہمیں اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں۔دین سے بیزار لوگوں میں اتنی جرات تو ہونی چاہیے کہ وہ کھل کر بات کریں بجائے اس کے کہ وہ لادینیت کی ایک نئی تشریح پیش کرنا شروع کر دیں اور سیکولرزم کو خوش کن لبادہ اوڑھا کر قابل قبول بنانے کی کوشش کریں۔

ایک آدی مسلمان ہوتے ہوئے سیکولر نہیں ہوسکتا۔اور اگر کسی کا یہ دعوی ہے کہ وہ مسلمان بھی ہے اور سیکولر بھی تو اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا وہ خود دھوکے میں ہے یا وہ دوسروں کودھوکہ دے رہاہے۔اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکولرزم مذہب کی نفی نہیں کرتا تو وہ خود دھوکے میں ہے۔اور اگر وہ ایک اسلامی معاشرے میں اپنے نظریات کو خوش کن تصورات میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہے تا کہ انہیں قبولیت مل سکے تو وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔

احباب کہیں سیکولرزم کو اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے ردِ عمل میں ایک ناگزیر برائی کے طور پر تو نہیں لے رہے؟اگر ایسا ہے تو انہیں جان لینا چاہیے وہ ایک خوفناک غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مغرب نے جب کلیسا کے خلاف بغاوت کی تو یہ ایک قابلِ فہم بات تھی کیونکہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق بحق پوپ محفوظ تھے اور یہ تعبیر اتنی ناقص تھی کہ کسی صاحبِ فہم آدمی کیلئے اس پر صاد کرنا ناممکن تھا۔اہلِ مغرب کے پاس حقیقی دین تک پہنچنا ناممکن تھا اس لئے کلیسا کی ناقص تعبیر کے رد عمل میں وہ سیکولر ہو گئے۔ہمارا مذہبی طبقہ بھی آج اپنے مقام پرنہیں۔ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ہم اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے خلاف بغاوت کر دیں۔لیکن ہمیں سیکولر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مغرب کے بر عکس ہمارے پاس اپنا مذہب قرآن و سنت کی صورت میں حقیقی شکل میں موجود ہے۔ہم ملائیت کو رد کریں گے تو سیکولر نہیں ہوں گے بلکہ قرآن و سنت سے رجوع کریں گے ۔اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ہم مذہبی ملائیت سے بیزار ہو کر سیکولر ملائیت کی لعنت میں گرفتار کیوں ہوں؟ہم قرآن اور سنت سے رہنمائی کیوں نہ لیں؟۔۔۔۔۔نومولود سیکولر احباب اس سوال پر غور فرما سکیں تو عین نوازش ہو گی۔

   جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:سیکولرزم عملا لادینیت ہی کا نہیں انتہا پسند لادینیت کا نام ہے۔ مذہبی مُلائیت ایک انتہا ہے اور لادین مُلا ئیت یعنی سیکولرزم دوسری انتہاء۔یہ رد عمل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو اتنی ہی خوفناک ہے جتنی کہ مذہبی مُلائیت۔مُلائیت حلیے کا نہیں ، افتادِ طبع کا نام ہے۔چنانچہ اب اس سماج کو ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیکولر انتہا پسندی موجود ہے۔سماج نے اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے ان دو انتہاوں کے بیچ اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔میرے نزدیک مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر انتہا پسندی کے درمیان اعتدال کا راستہ ، اسلام ہے

Thursday, February 9, 2017

انا محترف الخط

انا محترف الخط

موبائل فون پر خطاطی کرنے کے لئے بہترین ایپ ہے، جسے پلے سٹور سے باالکل مفت انسٹال 

کیا جاسکتا ہے۔ طریقہ کار کے لئے یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں۔

نیچے تصویر میں نظر آنے والا میرا نام میں نے اسی ایپ پر لکھا ہے۔

انسٹال کرنے کے لئے پلے سٹور پر جائیں اور سرچ میں لکھیں:

انا محترف الخط




Sunday, February 5, 2017

ٹرینرز کا دور اور ایک انسانی کمزوری

ٹرینرز کا دور اور تضاد بیانیاں
(سیدعبدالوہاب شیرازی)
موجودہ دور کو ٹرینرز کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف خوبیوں کو پیدا کرنے اور خامیوں کو دور کرنے کی پریکٹس، ٹریننگ اور تربیت لینا ضروری ہوگیا ہے۔
چنانچہ آج سے چند سال پہلے تک پاکستان کے تعلیمی اداروں میں صرف کتابیں ہی پڑھائی جاتی تھیں، لیکن اب تعلیمی اداروں نے نصاب تعلیم سے ہٹ کر طلباء کی تربیت کا بھی اہتمام شروع کردیا ہے۔ یہ نہایت ہی خوش آئند عمل ہے۔ کیونکہ کتاب کا لکھے اور عملی تجربے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔آج یونیورسٹیز ہوں یا ملٹی نیشنل کمپنیاں۔ میڈیسن کمپنیاں ہوں یا مختلف سروسز فراہم کرنے والے ادارے ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تربیت کریں۔
جیسے جیسے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے ساتھ ساتھ ٹرینرز کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے، جو اپنی صلاحیتوں، تعلیمی قابلیتوں اور عملی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں لیکچرز اور ایکسرسائز کے ذریعے ٹریننگ فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض مفت ہیں، بعض آدھے مفت آدھے قیمتا، بعض سستے اور بعض بہت ہی مہنگے ہیں۔
عام طور پر مفت وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں مذہبی یا دینی ٹریننگ کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ آدھے مفت آدھے قیمتا وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں کچھ دینی اور کچھ دیگر ٖٖٖضروری ٹریننگ شامل ہوتی ہیں۔ اور صرف قیمتا وہ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ میں مذہبی یا دینی تربیت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ اپنی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق کم یا زیادہ معاوضہ لیتے ہیں۔
چنانچہ مکمل مذہبی یا دینی تربیت فراہم کرنے والے ظاہر کے اعتبار سے مکمل مذہبی حلیہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم والے آدھے تیتر آدھے بٹیر اور تیسری قسم والے مکمل دین بیزار ہوتے ہیں۔ابھی جو بات میں کرنے جارہا ہوں اس کا تعلق تیسری قسم سے نہیں اس لئے اسے سردست یہاں سے نکال لیں۔
پہلی اور دوسری قسم والوں کو چاہیے وہ اپنے اندر یہ خوبی پیدا کریں کہ ان کی کوئی گفتگو ایسی نہ ہو جس میں تضاد بیانی کا شبہ ہوجائے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف لیکچرز میں بعض ایسی باتیں کرجاتے ہیں جو ان کے کسی دوسرے لیکچر سے ٹکرا رہی ہوتی ہیں۔
میرے خیال میں ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ دوسروں کے لئے جیسا بھی ہو اپنے آپ کو ہمیشہ جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹرینرز ایک طرف تو پرسنیلٹی پر لیکچر دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کے ظاہر کا اثر اس پر خود بھی پڑتا ہے اور دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ ٹیچر ہیں اور آپ کا ظاہری حلیہ ٹیچروں والا نہیں تو آپ اپنے شاگردوں کو قائل نہیں کرسکیں گے، انہیں کلاس دے کر مطمئن نہیں کرسکیں گے۔ دیکھنے والے کی نظر آپ کے ظاہر پر پہلے پڑتی ہے جبکہ آپ کی آواز اس کے کانوں تک بعد میں پہنچتی ہے، اس لئے ظاہر کی درستگی انتہائی ضروری ہے۔ آپ کا لباس، آپ کا چال چلن، آپ کی گفتگو، آپ کی جوتی، آپ کے بال، آپ کا اٹھنا بیٹھنا ، کپڑوں اور جوتوں کا رنگ سب ایسے ایسے ٹھیک ہونا چاہیے۔
لیکن یہی ٹرینرز جب روحانیت، مذہبی یا دینی گوشوں پر بات کرنا شروع کرتے ہیں تو بیک جنبش  ظاہر کی نفی کردیتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں پاکیزگی تو بس دل کی ہونی چاہیے، انسان کی نیت صاف ہونی چاہیے، ظاہر میں کچھ نہیں رکھا، اصل تو بس باطن ہی ہے۔ ظاہر کے جبے ، قبے، اور دستار کی کوئی ویلیو نہیں ہے، اللہ دلوں کے حال جانتا ہے، بس بندے کا دل صاف ہو، وغیرہ وغیرہ۔
اب ایک ہی ٹرینر سے دو الگ الگ لیکچرز اور بعض اوقات ایک ہی لیکچر کے آغاز کی گفتگو اور  اختتام کی گفتگو میں یہ تضاد بیان سن کر آدمی کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ یہ تضاد بیانی دراصل اپنے آپ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے ہوتی ہے، انسان کے اندر جوکمزوری ہوتی ہے وہ پھر اسے اسی طرح جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا سامعین پر نہایت ہی برا اثر پرٹا ہے۔
2۔ ایک دوسری تضاد بیانی یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ کبھی کبھی کوئی ٹرینر جو کام دن رات خود کررہا ہوتا ہے اسی طرح کے اور کام  پرکسی دوسرے پر سخت تنقید کررہا ہوتا ہے۔ مثلا ایک ٹرینر کو دیکھا وہ فرمارہے تھے میرے پاس تبلیغی جماعت والے اکثرآتے رہتے ہیں میں انہیں کہتا ہوں بھائی پہلے اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو ٹھیک کرلو، اپنے محلے والوں کو ٹھیک کرلو پھر دوسرے شہر میں جاو، جب تک اپنا گھر ٹھیک نہیں ہوتا اپنا محلہ ٹھیک نہیں ہوتا دوسرے شہر میں جانا صحیح نہیں ہے۔ اب دیکھا جائے تو یہ حرکت وہ ٹرینر خود بھی کررہا ہوتا ہے، یعنی خود شہرشہر، قریہ قریہ، گھومتا ہے اور اسی اسی ہزار کا ایک لیکچر دیتا ہے، لیکن عمل کی دعوت دینے کے لئے کوئی اس کے پاس آئے تو ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تمہارے گھر والے ٹھیک ہوگئے کہ تم دوسرے شہر آئے ہو؟۔ یہ سوال تو اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ جوجو لیکچرآپ دوسروں کو دینے پورے ملک میں گھومتے ہیں کیا وہ ساری باتیں آپ کے گھر، آپ کے محلے کے ہرہرفرد میں پیدا ہوچکی ہیں کہ آپ کو دوسرے شہر نکلنے کی فرصت ملی۔
قرآن نے اور ہمارے دین نے ایسے شخص کو ملامت ضرور کیا ہے جو خود عمل نہ کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے لیکن اس بات سے منع نہیں کیا کہ جو بات ابھی آپ کے عمل میں نہیں اسے دوسروں کو نہ بتاو۔ میرے خیال میں اس طرح کی بات کرنے میں ان بچاروں کا قصور بھی نہیں کیونکہ وہ یہ بات شاید لاعلمی میں کہہ رہے ہیں، کیونکہ تبلیغی جماعت دراصل سیکھنے پر ہی زور دیتی ہے، وہ جب کسی کو نکلنے کا کہتے ہیں تو ان کے الفاظ یہ ہوتے ہیں: اللہ کے راستے میں نکل کراس کام کوسیکھیں۔ اب جو سیکھنے نکلتے ہیں انہیں ساتھ ساتھ عملی طور پر پریکٹس کروائی جاتی ہے، کہ چلو فلاں کو دعوت دے کر سیکھو،چار مہینے تک پریکٹس کرو اور پھر اپنے علاقے میں کام کرو۔
لہٰذا ہر لیکچر دینے والے کو کسی بھی ایسی بات سے بچنا چاہیے جو اس کی اپنی ہی بات کو کاٹ رہی ہو۔کیونکہ کسی کو بھی اوپر چڑھنے میں دیر لگتی ہے لیکن نیچے گرنے میں سیکنڈ لگتے ہیں، سامعین سارا  اعتماد اٹھ جاتا ہے، بیان میں وہ تاثیر نہیں رہتی جو کسی کے اندر چینج لاسکے۔

Friday, February 3, 2017

جنوری 2017، فیس بک کی پوسٹیں

جنوری 2017
آج رات کئی لوگ کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔
 پرویز مشرف کے دور میں جب لشکرطیبہ پر پابندی لگائی گئی تو کئی غریب کارکنوں کی حرام قسمت جاگ گئی، چنانچہ انہوں نے پولیس کے آنے سے پہلے دفاتر میں رکھا گیا کروڑوں روپے چندہ لیا اور رفو چکر ہوگئے۔ جماعت یہ سمجھتی رہی کہ چندہ پولیس لے گئی ہے لیکن وہ کارکن آج بھی مرسڈیز گاڑیوں میں پھررہے ہیں اور بڑے بڑے بزنس چلا رہے ہیں۔
 اس لحاظ سے آج کی رات یا اگلے تین چار دن بھی نہایت اہم ہیں، ممکن ہے کئی نئے کروڑپتی بن جائیں۔ کسی کے منہ میں پانی آیا ہے تو تھوک دے کیونکہ یہ چندہ ہے جو کشمیر کو فتح کرنے کے لئے اکھٹا کیا گیا ہے۔
ملینیر #نکتہ
………..
جرمنی کی حکومت نے مہاجرین کو ہفتے میں صرف دو دن مفت جرمن زبان سکھانے کا اعلان کیا ہے جس پر لبڑلز کی باچھیں کھل گئی ہیں۔ یہ کوئی کمال نہیں کہ جرمنی میں جرمن حکومت جرمن زبان سکھارہی ہے۔
اس معاملے میں پاکستان سب سے آگے ہے
 یہاں دنیا کی تمام بڑی زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ انگریزی کے تو کیا کہنے وہ تو لازم ہے۔ آپ اسلامیات میں فیل ہو جائیں سند مل جائے گی لیکن انگریزی کے بغیر نہیں مل سکتی
 یورپی ممالک سخت متعصب اور انتہاپسند ہیں وہاں اپنی زبان کے علاوہ باقی زبانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔
#نکتہ
………
علمی تحقیق کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں،خالص علمی طور پر ،هم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اهم ہیں-
 اس سے معلوم هوتا ہے کہ کم از کم موجوده علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وه فرق ختم هو چکا ہے جو قدیم زمانہ میں فرض کر لیا گیا تها-
اب عقل(reasonn) کا موقف بهی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیده کا موقف تها-
مذہب کا موقف قدیم ترین زمانہ سے یہ تها کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے،وه نہ دیکهائی دینے والی دنیا سے تعلق رکهتی ہے-
 همارے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ هم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے-
 اگر چہ وه دکهائی نہیں دیتی-
اب سائنس کا موقف بهی عین یہی هو چکا ہے- جدید سائنس کا کہنا ہے کہ هم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکهہ سکتے،هم چیزوں کے صرف ظاہری اثر کو دیکهہ سکتے ہیں-
اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے،اگر چہ بظاہر وه همارے مشاہده اور تجربہ میں نہیں آتی-
برٹرینڈرسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لیے ضروری هو جاتا ہے کہ وه قرینہ کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بهی اسی طرح مانیں جس طرح وه سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں-
ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں-
 ان حضرات کو جاننا چاہئے کہ اب ان کے لئے جن دو حالتوں کی درمیان انتخاب ہے وه انکار مذہب اور اقرار مذہب نہیں ہے بلکہ وه اقرار مذہب اور انکار خویش کے درمیان ہے-
یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر هوں تو انهیں خود اپنا انکار بهی کرنا پڑے گا-
 چونکہ ان کے لئے اپنا انکار ممکن نہیں اس لئے یہ بهی ممکن نہیں کہ وه مذہب کا انکار کریں
مولانا وحیدالدین خان

…………..
نو ذہانتیں
زبان دانی کی مہارت (Linguistic Intelligence)۔
 زبان دانی کی صلاحیت جن لوگوں میں ہوتی ہے وہ بچپن میں بہت جلد بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ٹرانسلیٹر، سپیکر، سیاستدان اور مصنف وغیرہ بن جاتے ہیں۔
نمبروں کی ذہانت (Logical Intelligence)۔
بعض لوگوں کا دماغ نمبروں میں زیادہ چلتا ہے ایسے لوگ میتھ، اکاونٹنگ میں آگے چلے جاتے ہیں۔
بات کو سمجھانے کی ذہانت (Vocal Intelligence)۔
ایسے لوگ مقرر، سپیکر،اینکر بن سکتے ہیں۔
دیکھنے کی ذہانت (Visual Intelligence)۔
چیزوں کو آبزرو کرنے کی صلاحیت ، ایسے لوگ تخلیق کار ہوتے ہیں چیزوں کو گہرائی سے دیکھتے ہیں۔
نیچر سے دلچسپی (Naturalistic Intelligence)۔
ایسے لوگ مصور، شاعر بن جاتے ہیں
تعلق بنانے کی ذہانت (Intra person Intelligence)۔
ایسے لوگ سوشل ہوتے ہیں،اچھے ٹیچر بن سکتے ہیں
اپنے آپ کو جاننے کی ذہانت (Inter Person Intelligence)۔
خود کے ساتھ جینا۔ ایسے لوگوں کی کامیابی کا امکان بہت ہوتا ہے
نقشوں کو جاننے کی ذہانت (Map n Space related intelligence)۔
 یہ لوگ راستوں کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔ جن بچوں کو بہت مار پڑی ہو ان میں یہ صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔
محسوس کرنے کی ذہانت (Spatial Intelligence)۔
ایسے لوگ سائیکالوجسٹ یا اداکاری کی طرف چلے جاaaتے ہیں۔
اپنی ذہانت جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جو کام آپ کو ٹائم اور سپیس سے آوٹ کردے۔ یعنی جس کام میں دل لگے وہ آپ کی ذہانت ہے 
#نکتہ

…………………
ٹرمپ ساری عمر کاروبار کرتا رہا ہے، اس لئے اس کا خیال ہے جس طرح میرے کاروبار کے سارے لوگ میرے ملازم ہیں اسی طرح صدر بننے کے بعد ساری دنیا میری ملازم بن گئی ہے۔ 
پریشانی کی کوئی بات نہیں بہت جلد شانت ہوجائے گا۔
#نکتہ
…………
تبدیلی ہمیشہ افراد سے شروع ہوتی ہے۔ افراد کی تبدیلی سے خاندان تبدیل ہوتا ہے اور خاندانوں کی تبدیلی سے معاشرہ اور معاشرے کی تبدیلی سے ملک اور ملک سے دنیا میں تبدیلی آتی ہے۔ 
یہی اصول حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔ اور قرآن بھی فرد کی اصلاح پر زیادہ زور دیتا ہے۔
جبکہ ہم یہ چاہتے ہیں ہم نہ بدلیں بس دنیا بدل جائے۔
#نکتہ
…………..
ابو جہل کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ۔؟
 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے:
محمد بن عبداللّٰہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی.
ابوجہل کا نام عمرو بن ہشام تھا۔ اس کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے:
عمرو بن ہشام بن المغیرۃ بن عبد اللّٰہ بن عمر بن مخزوم بن یقظۃ بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی.
اس اعتبار سے ابوجہل کا شجرۂ نسب مُرَّہ بن کعب پر جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، یعنی مُرَّہ دونوں کے جد اعلیٰ ہیں۔ مُرَّہ سے نیچے دونوں شاخوں کو ترتیب سے دیکھیں تو ابو جہل بہت دور کے رشتے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد تھا، نہ کہ چچا۔

……………..
ایک صاحب کا کہنا ہے میرے ماموں انگلینڈ میں ہیلتھ کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کی تحقیق یہ ہے کہ دعاؤں، اور تعویذات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 جہاں تک دعاؤں کا مسئلہ ہے اس حوالے سے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے قرآن و حدیث کی رہنمائی کافی ہے چہ جائے کہ کسی کے ماموں کی بات پر یقین کر کے ماموں بن جائیں۔
 جبکہ تعویذات کا معاملہ ان کی حقیقت کو سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تعویذات کا تعلق قوت خیالیہ سے ہے، جسے جدید زبان میں مسمریزم یا ہپناٹزم کہا جاتا ہے۔ چنانچہ جس کی قوت خیالیہ جتنی مضبوط ہوتی ہے اس کا  دم یا تعویذ اتنا ہی اثر کرتا ہے۔ نظر لگنا بھی یہی چیز ہے، جب کوئی مضبوط قوت خیالیہ کا مالک کسی چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے تو اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ جس اللہ نے دنیا کی ہر چیز میں اثر رکھا ہے اسی اللہ نے خیال میں بھی طاقت رکھی ہے۔ الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ انسانی سوسائٹی اور سوچ کو بدل دیتے ہیں۔ آپ کسی کو گالی دیں اور دیکھیں یہ الفاظ سامع میں کتنی جسمانی تبدیلی پیدا کرتے ہیں؟ اس کے جسم میں فورا حرارت پیدا ہو گی، دماغ متاثر ہو گا، وہ حرکت کرے گا، اور پھر حسب توفیق تھپڑ،گولی یا دیگر کام سرانجام دےگا۔
معلوماتی #نکتہ
…………………
جمہوریت کے اس حسن کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ الیکشن میں جیت کر منتخب ہونے والے نمائندے معاشرے کی عکاسی کررہے ہوتے ہیں۔
یعنی جیسی عوام ہوتی ہے، ایسے ہی لوگوں کو منتخب کرتی ہے۔
کرپشن، رشوت، سود، دونمبری، فراڈ، جھوٹ وغیرہ وغیرہ
#نکتہ
………………
لوگوں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں خاص طور پر مذہبی جماعتوں کو مقدس گائے کا درجہ دے دیا ہے۔ چنانچہ تعریف کے علاوہ کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ دوسری جماعت کی تعریف سننا بھی گوارہ نہیں۔ 
#نکتہ
………………
تلک الایام نداولھا بین الناس
 ایک وقت تھا جب چند جاہل دور دراز کے چھوٹے شہروں کی مساجد میں مولوی بن کر بیٹھ گئے تھے۔ چنانچہ ان کا مشغلہ مسجد کے سپیکر کھول کر ایک دوسروں کو مناظروں کا چیلنج کرنا تھا۔ الحمدللہ علمائے حق کی محنت سے یہ سلسلہ تقریبا ختم ہوچکا ہے اور اب میڈیا کے اینکر اور میڈیا چینلز ایک دوسرے کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر چیلنج کررہے ہیں اور عوام انجوائے کررہی ہے۔
#نکتہ
……………..
اسلامی انقلاب کے تین مرحلے ہیں - (1) تبدیلئ فرد - (2) تبدیلئ شاکلہ - (3) تبدیلئ حکومت -
 اسلامی تحریک اولا فرد کو نشانہ بناتی ہے - یعنی فرد کو اللہ سے ڈرنے والا بنانا اور اس کے اندر یہ احساس ابهارنا کہ وه اپنے اعمال کے لئے آخرت میں جواب ده ہے -
 اس کے بعد دوسرا کام زمانی شاکلہ کو بدلنا ہے - دوسرے لفظوں میں اس کو فکری انقلاب کہا جا سکتا ہے - عمومی سطح پر غیر اسلامی افکار کے مقابلہ میں اسلامی فکر کو وہی غلبہ حاصل هو جائے جیسا کہ موجوده زمانہ میں شہنشاہیت کے مقابلہ میں جمہوریت کو حاصل ہے -
 یہ دو کام جب قابل لحاظ مقدار میں هو چکے هوں ، اس کے بعد ہی انسانی معاشره میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آ سکتا ہے - مزکوره دونوں کام انجام دئے بغیر اگر کسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو وه مضحکہ خیز ناکامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتی -
 مولانا وحیدالدین خان
……….
فیس بک پر سب سے زیادہ پوسٹیں منقول نامی شخص کی نظر آتی ہیں۔ لیکن اس شخص کی آئی ڈی کہیں بھی نہیں
#نکتہ
……………..
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا نواز شریف تو آئین کی شک 62،63 پر پورے نہیں اترتے تو چیف جسٹس نے کہا اس پر تو سوائے سراج الحق کے کوئی پورا نہیں اترتا۔
 اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے جواب میں فورا پی ٹی آئی کا وکیل کہتا: جناب چیف صاحب بسم اللہ کریں آغاز کریں۔ لیکن پی ٹی آئی کے وکیل نے ایسا نہیں کہا ۔ پتا ہے کیوں۔۔؟؟
 اس لئے کہ اسے پتا تھا عمران خان بھی پورا نہیں اترتے اسی لئے خاموش ہوگیا۔
………….

جاپانی اسکولوں میں چوتھی جماعت تک کوئی امتحان نہیں لیا جاتا۔ کیوں کہ ابتدائی تین سالوں میں قابلیت کو جانچا نہیں بلکہ بنایا جاتا ہے
تعلیمی #نہتی
…………..
مجھ سے کسی نے پوچھا کہ قاسم علی شاہ کیسے اتنے زبردست لیکچر دیتا ہے؟
میں نے کہا دراصل قاسم علی شاہ صاحب بہت محنتی اور مخلص شخصیت ہیں ان کاکام یہ ہے کہ
 وہ ایک پانچ سو صفحات والی کتاب اٹھاتے ہیں، اسے پڑھ کر پوری کتاب کو دس لائنوں میں کنورٹ کردیتے ہیں۔ پھر ان دس لائنوں کو اس طرح بیان کرنا شروع کرتے ہیں کہ ہر لائن پر پانچ منٹ لگاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے معاشرے میں سے مثالیں دے دے کر سمجھاتے ہیں۔
#نکتہ
……………….
یورپ سمیت عالمی طاقتوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں جتنا پیسہ جنگوں پر خرچ کیا ہے اس کا آدھا پیسہ بھی یہ تعلیم اور انسانیت سکھانے پر خرچ کرتے تو ایسے انسان ضرور پیدا ہوجاتے جنہیں انسانیت کی قدر ہوتی۔
پچھلے پندرہ بیس سالوں سے روزانہ اوسطا 8000 مسلمان قتل کر دیے جاتے ہیں، لیکن دہشت گرد کلمہ گو مقتول ہی ہے۔
 قابل غور#نکتہ
…………….
آپ نے 2016 میں کون سی کتاب پڑھی اور 2017 میں کون سی کتاب کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟؟
میں نے تو 20166 میں کئی چھوٹی کتابوں اور بے شمار تحقیقی مضامین کے علاوہ تین بڑی کتابوں کا مطالعہ مکمل کیا: 
1۔صوفی عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ کی دروس القرآن 20 جلدوں میں
2۔ مفتی شفیع رحمہ اللہ کی معارف القرآن 88جلدوں میں گہرائی کے ساتھ مطالعہ مکمل کر لیا۔ الحمد للہ۔ جبکہ اب بھی ہفتے میں دو سے تین بار لازما کھول کر دیکھنی پڑتی ہے۔
3۔ مولانا حلیل الرحمن چشتی کی کتاب قرآنی سورتوں کا نظم جلی۔762 صفحات۔
جبکہ
2017 میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تاریخ دعوت و عزیمت اور 
مولانا ابوالاعلی مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ شروع کیا ہے۔
#نکتہ
……………
 قرآن میں اصحاب رسول کی صفت اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ(فتح) بتائی گئی ہے۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔
اس کے برعکس زوال یافتہ قوموں۔ ذہنی غلاموں ( #لبرل ، #سیکولرز ) کے بارے فرمایا گیا: يُضَاهِئُـوْنَ قَوْلَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۚ قَاتَلَـهُـمُ اللّـٰهُ ۚ اَنّـٰى يُؤْفَكُـوْنَ(توبہ300) یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کرلیتے ہیں۔ اللہ انہیں تباہ کرے یہ کہاں بٹکے جارہے ہیں۔
#نکتہ
………………
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا صرف وہی لوگ استعمال کرتے ہیں جو یکم جنوری کو پیدا ہوئے۔ 
 پاکستان دشمن، لاکھوں پاکستانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے یکم جنوری کو ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے 80% لوگوں کا آج یوم پیدائش ہے۔
اس اعتبار سے آج کا دن انسانوں کا عالمی یوم پیدائش کے طور پر منایا جا سکتا ہے۔ 
#2017 کا پہلا #نکتہ
………….