Search This Blog

Friday, February 3, 2017

جنوری 2017، فیس بک کی پوسٹیں

جنوری 2017
آج رات کئی لوگ کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔
 پرویز مشرف کے دور میں جب لشکرطیبہ پر پابندی لگائی گئی تو کئی غریب کارکنوں کی حرام قسمت جاگ گئی، چنانچہ انہوں نے پولیس کے آنے سے پہلے دفاتر میں رکھا گیا کروڑوں روپے چندہ لیا اور رفو چکر ہوگئے۔ جماعت یہ سمجھتی رہی کہ چندہ پولیس لے گئی ہے لیکن وہ کارکن آج بھی مرسڈیز گاڑیوں میں پھررہے ہیں اور بڑے بڑے بزنس چلا رہے ہیں۔
 اس لحاظ سے آج کی رات یا اگلے تین چار دن بھی نہایت اہم ہیں، ممکن ہے کئی نئے کروڑپتی بن جائیں۔ کسی کے منہ میں پانی آیا ہے تو تھوک دے کیونکہ یہ چندہ ہے جو کشمیر کو فتح کرنے کے لئے اکھٹا کیا گیا ہے۔
ملینیر #نکتہ
………..
جرمنی کی حکومت نے مہاجرین کو ہفتے میں صرف دو دن مفت جرمن زبان سکھانے کا اعلان کیا ہے جس پر لبڑلز کی باچھیں کھل گئی ہیں۔ یہ کوئی کمال نہیں کہ جرمنی میں جرمن حکومت جرمن زبان سکھارہی ہے۔
اس معاملے میں پاکستان سب سے آگے ہے
 یہاں دنیا کی تمام بڑی زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ انگریزی کے تو کیا کہنے وہ تو لازم ہے۔ آپ اسلامیات میں فیل ہو جائیں سند مل جائے گی لیکن انگریزی کے بغیر نہیں مل سکتی
 یورپی ممالک سخت متعصب اور انتہاپسند ہیں وہاں اپنی زبان کے علاوہ باقی زبانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔
#نکتہ
………
علمی تحقیق کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں،خالص علمی طور پر ،هم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اهم ہیں-
 اس سے معلوم هوتا ہے کہ کم از کم موجوده علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وه فرق ختم هو چکا ہے جو قدیم زمانہ میں فرض کر لیا گیا تها-
اب عقل(reasonn) کا موقف بهی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیده کا موقف تها-
مذہب کا موقف قدیم ترین زمانہ سے یہ تها کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے،وه نہ دیکهائی دینے والی دنیا سے تعلق رکهتی ہے-
 همارے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ هم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے-
 اگر چہ وه دکهائی نہیں دیتی-
اب سائنس کا موقف بهی عین یہی هو چکا ہے- جدید سائنس کا کہنا ہے کہ هم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکهہ سکتے،هم چیزوں کے صرف ظاہری اثر کو دیکهہ سکتے ہیں-
اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے،اگر چہ بظاہر وه همارے مشاہده اور تجربہ میں نہیں آتی-
برٹرینڈرسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لیے ضروری هو جاتا ہے کہ وه قرینہ کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بهی اسی طرح مانیں جس طرح وه سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں-
ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں-
 ان حضرات کو جاننا چاہئے کہ اب ان کے لئے جن دو حالتوں کی درمیان انتخاب ہے وه انکار مذہب اور اقرار مذہب نہیں ہے بلکہ وه اقرار مذہب اور انکار خویش کے درمیان ہے-
یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر هوں تو انهیں خود اپنا انکار بهی کرنا پڑے گا-
 چونکہ ان کے لئے اپنا انکار ممکن نہیں اس لئے یہ بهی ممکن نہیں کہ وه مذہب کا انکار کریں
مولانا وحیدالدین خان

…………..
نو ذہانتیں
زبان دانی کی مہارت (Linguistic Intelligence)۔
 زبان دانی کی صلاحیت جن لوگوں میں ہوتی ہے وہ بچپن میں بہت جلد بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ٹرانسلیٹر، سپیکر، سیاستدان اور مصنف وغیرہ بن جاتے ہیں۔
نمبروں کی ذہانت (Logical Intelligence)۔
بعض لوگوں کا دماغ نمبروں میں زیادہ چلتا ہے ایسے لوگ میتھ، اکاونٹنگ میں آگے چلے جاتے ہیں۔
بات کو سمجھانے کی ذہانت (Vocal Intelligence)۔
ایسے لوگ مقرر، سپیکر،اینکر بن سکتے ہیں۔
دیکھنے کی ذہانت (Visual Intelligence)۔
چیزوں کو آبزرو کرنے کی صلاحیت ، ایسے لوگ تخلیق کار ہوتے ہیں چیزوں کو گہرائی سے دیکھتے ہیں۔
نیچر سے دلچسپی (Naturalistic Intelligence)۔
ایسے لوگ مصور، شاعر بن جاتے ہیں
تعلق بنانے کی ذہانت (Intra person Intelligence)۔
ایسے لوگ سوشل ہوتے ہیں،اچھے ٹیچر بن سکتے ہیں
اپنے آپ کو جاننے کی ذہانت (Inter Person Intelligence)۔
خود کے ساتھ جینا۔ ایسے لوگوں کی کامیابی کا امکان بہت ہوتا ہے
نقشوں کو جاننے کی ذہانت (Map n Space related intelligence)۔
 یہ لوگ راستوں کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔ جن بچوں کو بہت مار پڑی ہو ان میں یہ صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔
محسوس کرنے کی ذہانت (Spatial Intelligence)۔
ایسے لوگ سائیکالوجسٹ یا اداکاری کی طرف چلے جاaaتے ہیں۔
اپنی ذہانت جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جو کام آپ کو ٹائم اور سپیس سے آوٹ کردے۔ یعنی جس کام میں دل لگے وہ آپ کی ذہانت ہے 
#نکتہ

…………………
ٹرمپ ساری عمر کاروبار کرتا رہا ہے، اس لئے اس کا خیال ہے جس طرح میرے کاروبار کے سارے لوگ میرے ملازم ہیں اسی طرح صدر بننے کے بعد ساری دنیا میری ملازم بن گئی ہے۔ 
پریشانی کی کوئی بات نہیں بہت جلد شانت ہوجائے گا۔
#نکتہ
…………
تبدیلی ہمیشہ افراد سے شروع ہوتی ہے۔ افراد کی تبدیلی سے خاندان تبدیل ہوتا ہے اور خاندانوں کی تبدیلی سے معاشرہ اور معاشرے کی تبدیلی سے ملک اور ملک سے دنیا میں تبدیلی آتی ہے۔ 
یہی اصول حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔ اور قرآن بھی فرد کی اصلاح پر زیادہ زور دیتا ہے۔
جبکہ ہم یہ چاہتے ہیں ہم نہ بدلیں بس دنیا بدل جائے۔
#نکتہ
…………..
ابو جہل کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ۔؟
 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے:
محمد بن عبداللّٰہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی.
ابوجہل کا نام عمرو بن ہشام تھا۔ اس کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے:
عمرو بن ہشام بن المغیرۃ بن عبد اللّٰہ بن عمر بن مخزوم بن یقظۃ بن مرۃ بن کعب بن لوی القریشی.
اس اعتبار سے ابوجہل کا شجرۂ نسب مُرَّہ بن کعب پر جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، یعنی مُرَّہ دونوں کے جد اعلیٰ ہیں۔ مُرَّہ سے نیچے دونوں شاخوں کو ترتیب سے دیکھیں تو ابو جہل بہت دور کے رشتے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد تھا، نہ کہ چچا۔

……………..
ایک صاحب کا کہنا ہے میرے ماموں انگلینڈ میں ہیلتھ کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کی تحقیق یہ ہے کہ دعاؤں، اور تعویذات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 جہاں تک دعاؤں کا مسئلہ ہے اس حوالے سے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے قرآن و حدیث کی رہنمائی کافی ہے چہ جائے کہ کسی کے ماموں کی بات پر یقین کر کے ماموں بن جائیں۔
 جبکہ تعویذات کا معاملہ ان کی حقیقت کو سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تعویذات کا تعلق قوت خیالیہ سے ہے، جسے جدید زبان میں مسمریزم یا ہپناٹزم کہا جاتا ہے۔ چنانچہ جس کی قوت خیالیہ جتنی مضبوط ہوتی ہے اس کا  دم یا تعویذ اتنا ہی اثر کرتا ہے۔ نظر لگنا بھی یہی چیز ہے، جب کوئی مضبوط قوت خیالیہ کا مالک کسی چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے تو اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ جس اللہ نے دنیا کی ہر چیز میں اثر رکھا ہے اسی اللہ نے خیال میں بھی طاقت رکھی ہے۔ الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ انسانی سوسائٹی اور سوچ کو بدل دیتے ہیں۔ آپ کسی کو گالی دیں اور دیکھیں یہ الفاظ سامع میں کتنی جسمانی تبدیلی پیدا کرتے ہیں؟ اس کے جسم میں فورا حرارت پیدا ہو گی، دماغ متاثر ہو گا، وہ حرکت کرے گا، اور پھر حسب توفیق تھپڑ،گولی یا دیگر کام سرانجام دےگا۔
معلوماتی #نکتہ
…………………
جمہوریت کے اس حسن کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ الیکشن میں جیت کر منتخب ہونے والے نمائندے معاشرے کی عکاسی کررہے ہوتے ہیں۔
یعنی جیسی عوام ہوتی ہے، ایسے ہی لوگوں کو منتخب کرتی ہے۔
کرپشن، رشوت، سود، دونمبری، فراڈ، جھوٹ وغیرہ وغیرہ
#نکتہ
………………
لوگوں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں خاص طور پر مذہبی جماعتوں کو مقدس گائے کا درجہ دے دیا ہے۔ چنانچہ تعریف کے علاوہ کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ دوسری جماعت کی تعریف سننا بھی گوارہ نہیں۔ 
#نکتہ
………………
تلک الایام نداولھا بین الناس
 ایک وقت تھا جب چند جاہل دور دراز کے چھوٹے شہروں کی مساجد میں مولوی بن کر بیٹھ گئے تھے۔ چنانچہ ان کا مشغلہ مسجد کے سپیکر کھول کر ایک دوسروں کو مناظروں کا چیلنج کرنا تھا۔ الحمدللہ علمائے حق کی محنت سے یہ سلسلہ تقریبا ختم ہوچکا ہے اور اب میڈیا کے اینکر اور میڈیا چینلز ایک دوسرے کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر چیلنج کررہے ہیں اور عوام انجوائے کررہی ہے۔
#نکتہ
……………..
اسلامی انقلاب کے تین مرحلے ہیں - (1) تبدیلئ فرد - (2) تبدیلئ شاکلہ - (3) تبدیلئ حکومت -
 اسلامی تحریک اولا فرد کو نشانہ بناتی ہے - یعنی فرد کو اللہ سے ڈرنے والا بنانا اور اس کے اندر یہ احساس ابهارنا کہ وه اپنے اعمال کے لئے آخرت میں جواب ده ہے -
 اس کے بعد دوسرا کام زمانی شاکلہ کو بدلنا ہے - دوسرے لفظوں میں اس کو فکری انقلاب کہا جا سکتا ہے - عمومی سطح پر غیر اسلامی افکار کے مقابلہ میں اسلامی فکر کو وہی غلبہ حاصل هو جائے جیسا کہ موجوده زمانہ میں شہنشاہیت کے مقابلہ میں جمہوریت کو حاصل ہے -
 یہ دو کام جب قابل لحاظ مقدار میں هو چکے هوں ، اس کے بعد ہی انسانی معاشره میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آ سکتا ہے - مزکوره دونوں کام انجام دئے بغیر اگر کسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو وه مضحکہ خیز ناکامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتی -
 مولانا وحیدالدین خان
……….
فیس بک پر سب سے زیادہ پوسٹیں منقول نامی شخص کی نظر آتی ہیں۔ لیکن اس شخص کی آئی ڈی کہیں بھی نہیں
#نکتہ
……………..
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا نواز شریف تو آئین کی شک 62،63 پر پورے نہیں اترتے تو چیف جسٹس نے کہا اس پر تو سوائے سراج الحق کے کوئی پورا نہیں اترتا۔
 اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے جواب میں فورا پی ٹی آئی کا وکیل کہتا: جناب چیف صاحب بسم اللہ کریں آغاز کریں۔ لیکن پی ٹی آئی کے وکیل نے ایسا نہیں کہا ۔ پتا ہے کیوں۔۔؟؟
 اس لئے کہ اسے پتا تھا عمران خان بھی پورا نہیں اترتے اسی لئے خاموش ہوگیا۔
………….

جاپانی اسکولوں میں چوتھی جماعت تک کوئی امتحان نہیں لیا جاتا۔ کیوں کہ ابتدائی تین سالوں میں قابلیت کو جانچا نہیں بلکہ بنایا جاتا ہے
تعلیمی #نہتی
…………..
مجھ سے کسی نے پوچھا کہ قاسم علی شاہ کیسے اتنے زبردست لیکچر دیتا ہے؟
میں نے کہا دراصل قاسم علی شاہ صاحب بہت محنتی اور مخلص شخصیت ہیں ان کاکام یہ ہے کہ
 وہ ایک پانچ سو صفحات والی کتاب اٹھاتے ہیں، اسے پڑھ کر پوری کتاب کو دس لائنوں میں کنورٹ کردیتے ہیں۔ پھر ان دس لائنوں کو اس طرح بیان کرنا شروع کرتے ہیں کہ ہر لائن پر پانچ منٹ لگاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے معاشرے میں سے مثالیں دے دے کر سمجھاتے ہیں۔
#نکتہ
……………….
یورپ سمیت عالمی طاقتوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں جتنا پیسہ جنگوں پر خرچ کیا ہے اس کا آدھا پیسہ بھی یہ تعلیم اور انسانیت سکھانے پر خرچ کرتے تو ایسے انسان ضرور پیدا ہوجاتے جنہیں انسانیت کی قدر ہوتی۔
پچھلے پندرہ بیس سالوں سے روزانہ اوسطا 8000 مسلمان قتل کر دیے جاتے ہیں، لیکن دہشت گرد کلمہ گو مقتول ہی ہے۔
 قابل غور#نکتہ
…………….
آپ نے 2016 میں کون سی کتاب پڑھی اور 2017 میں کون سی کتاب کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟؟
میں نے تو 20166 میں کئی چھوٹی کتابوں اور بے شمار تحقیقی مضامین کے علاوہ تین بڑی کتابوں کا مطالعہ مکمل کیا: 
1۔صوفی عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ کی دروس القرآن 20 جلدوں میں
2۔ مفتی شفیع رحمہ اللہ کی معارف القرآن 88جلدوں میں گہرائی کے ساتھ مطالعہ مکمل کر لیا۔ الحمد للہ۔ جبکہ اب بھی ہفتے میں دو سے تین بار لازما کھول کر دیکھنی پڑتی ہے۔
3۔ مولانا حلیل الرحمن چشتی کی کتاب قرآنی سورتوں کا نظم جلی۔762 صفحات۔
جبکہ
2017 میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تاریخ دعوت و عزیمت اور 
مولانا ابوالاعلی مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ شروع کیا ہے۔
#نکتہ
……………
 قرآن میں اصحاب رسول کی صفت اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ(فتح) بتائی گئی ہے۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔
اس کے برعکس زوال یافتہ قوموں۔ ذہنی غلاموں ( #لبرل ، #سیکولرز ) کے بارے فرمایا گیا: يُضَاهِئُـوْنَ قَوْلَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۚ قَاتَلَـهُـمُ اللّـٰهُ ۚ اَنّـٰى يُؤْفَكُـوْنَ(توبہ300) یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کرلیتے ہیں۔ اللہ انہیں تباہ کرے یہ کہاں بٹکے جارہے ہیں۔
#نکتہ
………………
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا صرف وہی لوگ استعمال کرتے ہیں جو یکم جنوری کو پیدا ہوئے۔ 
 پاکستان دشمن، لاکھوں پاکستانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے یکم جنوری کو ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے 80% لوگوں کا آج یوم پیدائش ہے۔
اس اعتبار سے آج کا دن انسانوں کا عالمی یوم پیدائش کے طور پر منایا جا سکتا ہے۔ 
#2017 کا پہلا #نکتہ
………….

No comments:

Post a Comment