Search This Blog

Saturday, July 29, 2017

پاکستان میں سود کے خاتمہ کی جدو جہد اور اسکا مختصر سا جائزہ

(مخشف حامد)

24 جون 2002 👈
پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا
جاسکتا ہے، اِس دن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سود کے خاتمے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ قرار دیا۔ اِس افسوسناک اور شرمناک فیصلے نے ناصرف یہ کہ پاکستان کی معیشت کو اسلامی اصلاحات سے مزین کرنے کے عمل کا رستہ روکا بلکہ اِس کی وجہ سے اُس بتیس سالہ جدوجہد کا خاتمہ کردیا گیا جو پاکستان میں سود کے خاتمے سے متعلق کی جارہی تھی۔ ویسے تو اِن کوششوں کا سلسلہ پاکستان بننے کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔
........................ ................
آئیے پاکستان میں سرکاری سطح پر سود کے خاتمے کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1969👈
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے ایک انکوائری کے بعد ڈھاکہ میں دسمبر 1969 میں اسلامی مشاورتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ جس میں قرضوں پر اضافی وصولی، سیونگ سرٹیفیکیٹس، پرائز بونڈز اور پوسٹل لائف انشورنس کو سود کی مختلف شکلیں قرار دیت ہوئے سود سے پاک معیشت کے قیام کی خاطر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی۔
1973👈
پاکستان کے نئے آئین کے آرٹیکل 38 کے مطابق حکومت کو پابند کیا گیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو ملک سے سود کا خاتمہ کیا جائے۔
1977👈
29 ستمبر 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی تاکہ وہ سود سے پاک معیشت کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ کونسل میں ممتاز بینکار اور ماہرین اقتصادیات شامل تھے جنھوں نے انتھک محنت اور تحقیق کے بعد اپنی تجاویز پیش کیں۔
1980👈
جنرل ضیاءالحق کے کہنے پر 25 جون 1980 کو اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک اور نظر ثانی شدہ رپورٹ پیش کی۔ جسے ڈاکٹر اسرار احمد کی خواہش پر عوام کے سامنے بھی لایا گیا۔ اِس رپورٹ کا ایک خلاصہ صدیقی ٹرسٹ کراچی نے شائع بھی کیا تھا۔
1981👈
ایک وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔ لیکن مالی معاملات اِن کے دائرہ کار سے باہر رکھ کر اِن کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے۔ سود کے متبادل کے طور پر پی ایل ایس اور مارک اپ کے طریقے رائج کیے گئے۔ جس پر علمائے کرام نے اِسے نئی بوتل میں پرانی شراب قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔۔۔
1988👈
15 جون 1988 کو صدر ضیاء الحق نے نفاذ شریعت آرڈیننس جاری کیا۔ اور کراچی یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر احسان رشید کی سربراہی میں ایک اسلامی معیشت کمیشن تشکیل دیا۔ لیکن 2 مہینے بعد جنرل ضیاء الحق کے طیارے حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو نے نئی حکومت قائم ہوتےہی کمیشن کو تحلیل کردیا اور نفاذ شریعت آرڈیننس کو بھی پارلیمنٹ میں منظوری کی خاطر پیش نہ ہونے دیا گیا۔

1991👈
وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر ایک کمیٹی پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ جس کا کام غیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے ملک کو نکال کرخود انحصاری کی جانب گامزن کرنے کی خاطر اصلاحات کی جامع پالیسی مرتب کرنا تھا۔ یہ رپورٹ انتہائی مختصر وقت میں وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی۔
ایک اور کمیشن اسٹیٹ بنک اف پاکستان کے تحت قائم کیا گیا۔ جس کا کام ملک کو اسلامی معیشت کی جانب گامزن کرنے کی خاطر اصلاحات سے متعلق تجاویز پیش کرنا تھا۔ لیکن 1993 میں معین قریشی حکومت کے آتے ہی کمیشن تحلیل کردیا گیا۔
ایک اور کمیٹی مولانا عبد الستار خان نیازی کی قیادت میں بنائی گئی جس کا کام سود سے پاک معیشت کے قیام کی خاطر ایک رپورٹ تیار کرنا تھا۔۔۔ یہ رپورٹ بھی جلد وزیر اعظم کو پیش کردی گئی۔
14 نومبر 1991 کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا تاکہ ملکی معیشت کو سود سے پاک کیا جاسکے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اِس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ آنے والے آٹھ سال تک ایک کے بعد دوسری کسی نہ کسی وجہ کو بہانہ بناتے ہوئے اِس اپیل کی سماعت نہ ہوسکی۔ اور معاملے کو کھٹائی میں ڈالا جاتا رہا۔۔۔
1997👈
23 فروری1997 کو وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی گئی جس کا کام خدشات و اعتراضات کو سامنے رکھکر سود سے پاک معیشت کے قیام کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ لیکن حسبِ روایت کوئی عملی نتائج سامنے نہ آئے
1999👈
شریعت ایپلیٹ بینچ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی اور اپیل کو خارج کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور حکومت کو ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے 30 جون 2001 تک کا وقت دیا۔
2001👈
پرویز مشرف حکومت کی جانب سے درپردہ ایک پرائیویٹ بنک یو بی ایل کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک اور اپیل دائر کروائی گئی۔ جس کی سماعت کرتے ہوئے شریعت ایپلیٹ بینچ نے وفاقی حکومت کو مزید ایک سال کا وقت دیا کہ وہ ملک سے سود کا خاتمہ کرے۔
2002👈
مئی 2002 میں ایڈوکیٹ جنرل اف پاکستان نے حکومتِ پاکستان کو تنبیہ کی کہ ایسے علمائے کرام سے ہرگز مشاورت نہ کی جائے جو بنکوں کے سود کو حرام قرار دیتے ہیں۔
24 جون 2002 کو ایپلیٹ بینچ کے ججوں کو حکومت کی جانب سے تبدیل کیا جاچکا تھا۔ شامل کردہ نئے جج صاحبان نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت کو سودی معیشت جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں سود کے خاتمے کے لیے پاکستان میں کی جانے والی بتیس سالہ کوششوں کا خاتمہ ہوا۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

No comments:

Post a Comment