اے میرے لخت جگر!
دس خصلتیں اور عادتیں ایسی ہیں کہ جب تک تم اپنی اہلیہ کے ساتھ معاملات میں ان کی رعایت نہ کرو تو تم اپنے گھر میں ہر گز بھی خوشی وراحت نہیں پاسکتے۔لہذا تم انہیں مجھ سے سن کر یاد رکھو اور اچھی طرح سے ان کا اہتمام کرنا۔
1۔عورتیں لاڈ پیار، مزاح کی باتوں اور محبت کے اظہار میں صراحت کو پسند کرتی ہیں، اس معاملہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بخل سے کام مت لینا۔ اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی۔
2۔اگر تم نے اس بارے میں بخل سے کام لیا تو اپنے اور اس کے درمیان بے رخی وبے مروتی اور محبت میں کمی کا حجاب وپردہ قائم کردو گے۔
3۔عورتیں انتہائی سخت اور بہت ہی محتاط مزاج مرد کو ناپسند کرتی ہیں۔ جبکہ کمزور اور نرم مزاج کو جیسے چاہتی ہیں اسی طرح استعمال بھی کرلیتی ہیں، یعنی زن مرید بنا لیتی ہیں۔ سختی اور نرمی دونوں کو مناسب طریقہ سے کام میں لاو۔اسی میں طمانیت ہے۔
4۔ جیسے مرد چاہتا ہے اس کی بیوی خوبصورت لگے اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کی شیریں گفتگو، خوبصورت نظر آنے ، لباس کی صفائی ستھرائی اور عمدہ خوشبو کو پسند کرتی ہیں۔ لہٰذا تم اس کے ساتھ ہر حال میں خوبصورت اور صاف ستھرے رہو۔
(مرد کام سے آتا ہے پسینے سے شرابور ہوتا ہے، اسے تو محسوس نہیں ہوتا لیکن عورت کی حس مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔)
5۔شوہر کا گھر عورت کی سلطنت ہوتی ہے، لہذا گھر میں اسی کا حکم چلنا چاہیے۔ خبردار تم اس کی اس سلطنت کو منہدم نہ کرنا اور تم اسے گھر کی بادشاہت کے اس تخت سے اتارنے کی کوشش مت کرنا، اگر ایسا کیا تو پھر وہی ہوگا جو کسی سے سلطنت چھیننے سے ہوتا ہے۔
(ساس بہو کے جھگڑے عام طور پر اسی وجہ سے ہوتے ہیں)
6۔عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنے شوہر کی محبت بھی حاصل ہو اور اپنے والدین کی بھی۔ خبردار! تم اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خودکو یوں ایک پلڑے میں کھڑا نہ کردینا کہ وہ یا تو تمہیں اختیار کرے یا اپنے گھر والوں کو۔ اگر اس نے اس طرح تمہیں اختیار کر بھی لیا تو رنج وغم کی کیفیت سے پورا گھر متاثر ہوگا۔
7۔ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور یہی اس کے جمال اور اس کی طرف میلان کا راز ہے۔ یہ اس میں عیب نہیں اسی ٹیڑھے پن سے اسے زینت بخشی گئی ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس پر چڑھائی کرکے اس کی کجی کی اصلاح کے پیچھے مت ہونا، ورنہ تم اسے توڑ بیٹھو گے یعنی طلاق ہوجائے گی۔اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اتنی ڈھیل بھی نہ دو کہ شیر بن جائے، سختی اور نرمی کے درمیان رہ کر برتاو کرو۔
8۔ عورت کی فطرت ہے کہ وہ شوہر کی ناشکری ہوتی ہے، اور اچھائی کا انکار کرتی ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر کبھی ایک بار ناخوشگوار سلوک کرو، تو وہ یہ کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں پائی، اس کی یہ عادت تمہیں اسے ناپسند کرنے اور اس سے متنفر ہونے نہ دے، اس لئے اگر تمہیں اس کی یہ عادت ناپسند ہو تو اس کی اور بہت ساری عادتیں تمہیں پسند ہوں گی۔
9۔عورت جسمانی کمزوری اور نفسانی تھکاوٹ کے ایسے مراحل سے گزرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان مخصوص حالات اور دنوں (حیض ونفاس) میں نماز کا فریضہ باالکل معاف کردیا ہے اور روزہ بھی وقتی طور پر معاف کردیا ہے۔لہذا ان حالات اور دنوں میں تم اس کے ساتھ ربانی برتاو کرو۔ جس طرح اللہ نے اس کے ساتھ تخفیف کا معملہ فرمایا ہے تم بھی اپنے مطالبات اور معاملات میں تخفیف کرو۔
(زیادہ تر لڑائیاں اسی پیڑیڈ میں ہوتی ہیں۔)
10۔یاد رکھو! عورت گویا تمہاری قید میں ہے یعنی تمہاری پابند ہے اس کی قید پر رحم کھاو اور اس کی خطا پر درگزر سے کام لو، تو وہ تمہارے لئے بہترین متاع اور شریک حیات ثابت ہوگی

No comments:
Post a Comment