Search This Blog
Saturday, March 31, 2018
The way is closed | बुद्धिमत्ता | পথপ্রদর্শন | Nukta Guidance
آگے راستہ بند ہے۔ زندگی کے سفر میں جب راستہ بند نظر آئے تو عقل مند آدمی کیا کرتا ہے۔
Friday, March 30, 2018
ڈیلیوری
سویڈن میں حمل کے پہلے مہینے سے ہر خاتون کو سپیشل نرس مل جاتی ہے جو اسے ہر مہینے بلاتی ہے اور اسکے سارے ٹیسٹ کرتی جاتی ہے اور کمپیوٹر میں اپلوڈ کرتی جاتی ہے۔ چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
چائلڈ ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسیقسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔ عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اسکا خاوند پاس کھڑا اسکا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔
ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہوجاتے ہیں اور سولہ مہینے تنخواہ کے ساتھ ماں باپ دونوں کو چھٹیاں ملتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش اچھے طریقے سے کی جاسکے۔
ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہوجاتے ہیں اور سولہ مہینے تنخواہ کے ساتھ ماں باپ دونوں کو چھٹیاں ملتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش اچھے طریقے سے کی جاسکے۔
پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کیلئے آئی خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپکی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اسکا کیس کافی خراب لگ رہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کردیا جائے۔ ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔ نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اسکے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے
Wednesday, March 28, 2018
میرا جسم میری مرضی
(عبدالوہاب شیرازی)
بہت سارے لوگ لبڑل ازم
اور سیکولڑ ازم کا لفظ اکثر سنتے ہوں گے لیکن ان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہوگی کہ
آخر یہ کیا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بڑے بڑے تفصیلی مضامین اور تحریریں بھی موجود ہیں
جن لوگوں نے ان کو پڑھا پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ لبرل ازم اور سیکولرازم کیا ہے
تو آج نہایت مختصر الفاظ اور آسان انداز میں اس قضیے کو حل کیے دیتے ہیں۔
لبرل ازم کا مکمل خلاصہ اس تصویر
میں نظر آنے والے مختصر سے جملے میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی
میرا جسم میری مرضی
انسانوں کی اجتماعی
زندگی کے تین گوشے ہوتے ہیں۔
ایک معاشرت۔ دوسرا
معیشت۔ تیسرا سیاست
یعنی ہر آدمی ان تین
گوشوں کا کسی نہ کسی طرح حصہ ہوتا ہے۔
1۔ اس تصویر میں جو
جملہ لکھا ہوا ہے وہ لبرل ازم اور سیکولر ازم کے نزدیک معاشرتی گوشے کی تصویر ہے۔
یعنی جب جسم میرا ہے تو مرضی بھی میری چلے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام یہ
کہتا ہے نہ جسم تیرا ہے نہ مرضی تیری چلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ خود کشی حرام ہے
کیونکہ جسم میرا نہیں اللہ کی امانت ہے۔
2۔ اب آتے ہیں دوسرے
گوشے معیشت کی طرف۔ ہرانسان کسی نہ کسی طور معیشت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ لبرل
ازم اور سیکولرازم کا تصور یہ ہے کہ:
میرا مال میری مرضی۔
یعنی مال میں نے کمایا
لہٰذا میری مرضی۔
جبکہ اسلام کہتا ہے مال
اللہ کا ہے، آپ کے پاس امانت ہے۔ لہٰذا امانت میں آپ کی مرضی نہیں ہے۔ آپ مال
کمانے میں بھی اللہ کے پابند ہیں اور خرچ کرنے میں بھی اللہ کے پابند ہیں۔
3۔ اب آتے ہیں تیسرے
گوشے کی طرف یعنی سیاست۔ ہر انسان کسی نہ کسی طور پر کچھ نہ کچھ سیاسی زندگی یا
سیاسی سوچ بھی رکھتا ہے۔
لبرل ازم اور سیکولرازم
کا ماننا ہے کہ میرا ملک میری مرضی۔ میرا قانون میری مرضی۔
جبکہ اسلام یہ کہتا ہے
للہ ملک السموات والارض۔ زمین و آسمان کا مالک اللہ ہے۔
ان الحکم الاللہ۔
حاکمیت اللہ کی ہے۔ جبکہ بندہ نائب اور خلیفہ ہے۔ لہٰذا وہ نائب ہونے کی حیثیت سے
اللہ ہی کے قانون کا پابند ہے۔
امید ہے آپ کو
سیکولرازم کی سمجھ آگئی ہو گی۔
کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
#نکتہ
Subscribe to:
Comments (Atom)
