(عبدالوہاب شیرازی)
بہت سارے لوگ لبڑل ازم
اور سیکولڑ ازم کا لفظ اکثر سنتے ہوں گے لیکن ان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہوگی کہ
آخر یہ کیا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بڑے بڑے تفصیلی مضامین اور تحریریں بھی موجود ہیں
جن لوگوں نے ان کو پڑھا پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ لبرل ازم اور سیکولرازم کیا ہے
تو آج نہایت مختصر الفاظ اور آسان انداز میں اس قضیے کو حل کیے دیتے ہیں۔
لبرل ازم کا مکمل خلاصہ اس تصویر
میں نظر آنے والے مختصر سے جملے میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی
میرا جسم میری مرضی
انسانوں کی اجتماعی
زندگی کے تین گوشے ہوتے ہیں۔
ایک معاشرت۔ دوسرا
معیشت۔ تیسرا سیاست
یعنی ہر آدمی ان تین
گوشوں کا کسی نہ کسی طرح حصہ ہوتا ہے۔
1۔ اس تصویر میں جو
جملہ لکھا ہوا ہے وہ لبرل ازم اور سیکولر ازم کے نزدیک معاشرتی گوشے کی تصویر ہے۔
یعنی جب جسم میرا ہے تو مرضی بھی میری چلے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام یہ
کہتا ہے نہ جسم تیرا ہے نہ مرضی تیری چلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ خود کشی حرام ہے
کیونکہ جسم میرا نہیں اللہ کی امانت ہے۔
2۔ اب آتے ہیں دوسرے
گوشے معیشت کی طرف۔ ہرانسان کسی نہ کسی طور معیشت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ لبرل
ازم اور سیکولرازم کا تصور یہ ہے کہ:
میرا مال میری مرضی۔
یعنی مال میں نے کمایا
لہٰذا میری مرضی۔
جبکہ اسلام کہتا ہے مال
اللہ کا ہے، آپ کے پاس امانت ہے۔ لہٰذا امانت میں آپ کی مرضی نہیں ہے۔ آپ مال
کمانے میں بھی اللہ کے پابند ہیں اور خرچ کرنے میں بھی اللہ کے پابند ہیں۔
3۔ اب آتے ہیں تیسرے
گوشے کی طرف یعنی سیاست۔ ہر انسان کسی نہ کسی طور پر کچھ نہ کچھ سیاسی زندگی یا
سیاسی سوچ بھی رکھتا ہے۔
لبرل ازم اور سیکولرازم
کا ماننا ہے کہ میرا ملک میری مرضی۔ میرا قانون میری مرضی۔
جبکہ اسلام یہ کہتا ہے
للہ ملک السموات والارض۔ زمین و آسمان کا مالک اللہ ہے۔
ان الحکم الاللہ۔
حاکمیت اللہ کی ہے۔ جبکہ بندہ نائب اور خلیفہ ہے۔ لہٰذا وہ نائب ہونے کی حیثیت سے
اللہ ہی کے قانون کا پابند ہے۔
امید ہے آپ کو
سیکولرازم کی سمجھ آگئی ہو گی۔
کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
#نکتہ

No comments:
Post a Comment