Search This Blog

Tuesday, May 22, 2018

قرآن کے نزول کا مقصد

ڈاکٹر ابوالحسن الازہری
جب ہم اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے اور یہ انسان اپنی عقل کی بناء پر ہر شے کو اپنے تصرف میں لارہا ہے۔ یوں انسان اس کائنات کا بادشاہ اور شہنشاہ دکھائی دیتا ہے۔ اتنی زیادہ قوت و طاقت کی بناء پر اس کے پھسلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان سے بچانے کے لئے انسان کو باری تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن عطا کیا ہے اور بلاشبہ انسان اور قرآن اس کائنات کی دو مسلمہ حقیقتیں ہیں اور ان دونوں میں سے قرآن نے انسان کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ انسان کیا ہے، اب انسان کے لئے سب زیادہ ضروری ہے کہ قرآن کو پڑھے، سمجھے اور بار بار اس میں غوروفکر کرے تاکہ وہ اپنی انسانیت کی حقیقت کو پاجائے اور قرآن کے نزول سے لے کر اور ہدایت کی فراہمی اور رسانی تک سارے امور قرآن کو بخوبی جان لے اور دوسروں کو اس قرآن کی آفاقی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ کرے۔ انسان کو بندہ رحمن بننے کے لئے قرآن سے بہتر کوئی چیز راہنمائی نہیں دے سکتی۔ اب ہم قرآن ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ یہ کب نازل ہوا اور اس کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے اور انسان نے اس قرآن کے بارے میں کیا نقطہ نظر اپنایا ہوا ہے؟ سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔
(البقرة، 2: 185)
ہماری خوش نصیبی ہے کہ باری تعالیٰ نے ہمیں اپنی زندگی میں شہر رمضان عطا فرمایا اور یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور وہ قرآن جو لوگوں کے لئے اس لئے نازل کیا گیا تاکہ وہ اس قرآن کے ذریعے ہدایت پائیں اور اس قرآن کے ذریعے حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کریں اور اس قرآن کو اپنے لئے ساری زندگی میں سرچشمہ ہدایت’’هدی للناس‘‘ سمجھیں اور اس کی ’’بيِّنٰت‘‘ سے مستفید ہوں اور اس قرآن سے راہنمائی حاصل کریں۔

قرآن کا نزول ہدایت کے لئے ہے
اس آیہ کریمہ میں ’’ہدی للناس‘‘ کے الفاظ ہمیں پکار پکار کر یہ دعوت دے رہے ہیں کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے۔ قرآن ہمیں کیوں عطا کیا گیا اور قرآن کو ہمارے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کیوں کیا گیا۔ قرآن کے پڑھنے کی ہمیں ترغیب کیوں دی گئی۔ قرآن کے ایک ایک حرف کو پڑھنے پر دس نیکیوں کا وعدہ کیوں کیا گیا؟ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من قرا حرفا من کتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر امثالها ولا اقول الم حرف ولکن الف حرف و لام حرف و ميم حرف.
جس شخص نے قرآن حکیم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ اس میں الف الگ حرف ہے لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے۔ ہر ایک حرف پر ثواب دس نیکیوں کا ہے۔
(جامع ترمذی، فضائل القرآن)
قرآن کے الفاظ و کلمات کو پڑھنے پر اتنا زیادہ اجر و ثواب عطا کرنے کا وعدہ کیوں کیا گیا۔ ان ساری ترغیبات کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھنے کی طرف راغب ہوجائیں اور قرآن پڑھتے پڑھتے اس سے ہدایت اخذ کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے دین کو سیکھ لیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے مولا کو پالیں اور قرآن کے ذریعے اس کی توحید کی معرفت حاصل کرلیں اور قرآن کے ذریعے ہم اس کی بندگی کی حقیقت کو پالیں۔ حتی کہ قرآن کے ذریعے ہم اپنے مولا کی رضا کو پالیں۔
الہامی کتابوں کے نزول کا مقصد ہدایت ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ باری تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں آج تک انبیاء علیہم السلام پر نازل کی ہیں۔ ان سب کا مقصد انسانوں کی ہدایت رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو یہ صحائف اور یہ کتب اس لئے دی گئیں تاکہ ان کے ماننے والے اور ان پر ایمان لانے والے ان کتب اور صحائف سے ہدایت حاصل کریں۔ چنانچہ اس حوالے سے حضرت موسیٰ علی السلام اور آپ پر نازل کی گئی کتاب تورات کے بارے میں باری تعالیٰ سورۃ البقرہ اور سورۃ المومنون میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ.
’’اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والا (معجزہ) عطا کیا تاکہ تم راہ ہدایت پاؤ‘‘۔
(البقرة،2: 53)
سورۃ المومنون میں یوں ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ.
’’اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پا جائیں‘‘۔
(المومنون، 23: 49)
ان دونوں آیات میں یہ الفاظ ’’اذ اتينا موسیٰ الکتب‘‘ اور ’’لقد اتينا موسی الکتب‘‘ کے الفاط ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تورات عطا کی لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتاب باری تعالیٰ نے انہیں کیونکر عطا کی؟ کس مقصد کے لئے دی؟ اس کتاب کے اور دیگر کتب سماوی کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے؟ ان ہی آیات کے اگلے الفاظ ان کتابوں کے نزول کے مقصد کو واضح کررہے ہیں کہ وہ الفاظ یہ ہیں:’’لعلهم يهتدون‘‘ اور ’’لعلکم تهتدون‘‘ تاکہ وہ ہدایت پائیں اور تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ گویا کتب سماوی اور ہدایت لازم و ملزوم ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور ان کی کتب کے بغیر ہدایت کو نہیں پایا جاسکتا۔
رسول اللہ کی ذات اور قرآن ہدایت ہیں
حضرت امام مالک اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عن مالک انه بلغه ان رسول الله صلیٰ الله عليه وآله وسلم قال ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما کتاب الله وسنة نبيه. (رواه مالک والحاکم عن ابی هريره رضی الله عنه)
’’میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری تمہارے نبی کی سنت‘‘۔
یہ حدیث مبارکہ بھی ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمسک میں ہی ہدایت ہے۔ جس نے کتاب اللہ کو اور سنت رسول  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سختی سے پکڑ لیا وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوگا۔ وہ ہدایت پر ہی رہے گا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کتاب اللہ یعنی قرآن کا تمسک کیسے کیا جائے، قرآن کو مضبوطی سے کیسے پکڑا جائے، قرآن سے اپنا تعلق کیسے قائم کیا جائے اور قرآن کو اپنی زندگی میں کس طرح اختیار کیا جائے۔ قرآن کے ساتھ ہمارا ربط کیسا ہو اور قرآن ہماری زندگیوں میں کیسے نظر آئے۔ ہمارا عمل قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہمارا قول قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہمارا خلق قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہماری سیرت اور ہماری شخصیت قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہم کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ قرآن کے ساتھ ہمارا وہ تعلق قائم ہوگیا ہے جس کا حکم اللہ اور رسول نے دیا ہے اور یوں ہماری ساری زندگی قرآن کے مطابق ہو اور ہم قرآن سے باہر نہ ہوں تاکہ ہمیں قرآن کے نزول کا مقصد ہدایت عظمیٰ حاصل ہوجائے۔
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری ہدایت تک پہنچانا ہے
باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر تم قرآن کو بھی اور میرے نبی کی سنت کو بھی ایک ہی جگہ ایک شخص میں دیکھنا چاہتے ہو تو وہ میرے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔ جس نے تمہیں قرآن بھی پہنچایا اور اپنی سنت بھی تمہیں سکھائی ہے۔ اس لئے اس رسول کی یہی ذمہ داری تھی۔
وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ.
’’اور رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے‘‘۔
(النور، 24: 54)
گویا اس رسول معظم نے اللہ کے احکام کو اور اللہ کے دین کو قرآن اور اپنی سنت کے ذریعے ’’البلغ المبين‘‘ یعنی واضح طور پر پہنچادیا ہے۔
رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا فرض نبوت بتمام و کمال ادا کردیا ہے۔ اللہ کا دین تم تک پہنچادیا ہے اور اس دین کے پہنچانے پر تم بھی خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں اقرار کرچکے ہو اور اللہ بھی تمہارے اس اقرار پر گواہ و شاہد ہے۔
ہدایت کی عملی صورت اطاعت رسول ہے
اب تمہاری فقط یہی ذمہ داری ہے:
وان تطيعوه تهتدوا.
’’اگر تم ان کی (رسول کی) اطاعت کرو تو ہدایت پاجاؤ گے‘‘۔
(النور،24: 54)
گویا رسول کی اطاعت میں تمہارے لئے ہدایت کا سامان رکھ دیا گیا ہے۔اب رسول کی اطاعت تمہیں کیسے اختیار کرنی ہے۔ اس اطاعت کی عملی صورت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہی ہوئی ہر بات کو، ہر حدیث کو، ہر فرمان کو اپنا عمل بنالو۔ تم اپنی گفتار کو رسول اللہ کی گفتار پر استوار کرو۔ تم اپنے قول کو رسول اللہ کے قول سے روشنی دو۔ تم اپنے فعل کو فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راہنمائی دو۔ تم اپنے خلق کو خلق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آشنا کرو۔ تم اپنی ذات کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں اطاعت کے باب میں فنا کردو۔ ’’تھتدوا‘‘ تم ہدیات پاجاؤ گے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کی اطاعت خود اللہ کی اطاعت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ.
’’جس نے رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم مانا بےشک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا ‘‘۔
(النساء، 4: 80)
گویا قرآن اس مقام پر واضح کررہا ہے کہ تمہیں ہدایت اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک تم خود کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں ڈھال نہ لو اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا پیکر مجسم نہ بن جاؤ اور اطاعت رسول کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بنالو اور اپنی حیات کو اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آشنا نہ کردو، گویا ہدایت عطاکئے جانے کی ضمانت اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
اطاعت رسول کا نتیجہ صراط مستقیم ہے
قرآن ہدایت کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ لازم و ملزوم کرتا ہے۔ اس لئے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سراپا ہدایت ہے اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ نے ساری کائنات کے لئے ہادی بنایا ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
وَاِنَّکَ لَتَهْدِيْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ.
’’اور بے شک آپ ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیں‘‘۔
(الشوریٰ، 42: 52)
اس آیت کریمہ نے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف ہی صراط مستقیم کی ہدایت عطا کرنے والا کرایا ہے اور آپ کی ذات سے وابستہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو صراط مستقیم کی ہدایت مل گئی اور انسان کو وہ ہدایت مل گئی جو اس کی زندگی کا حاصل ہے۔ جو اس کا زندگی کا مقصود ہے۔
اتباع فنائیت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی صورت اطاعت رسول ہے جس کا ذکر ہم کرچکے، دوسری صورت کا بھی قرآن ذکر کرتا ہے اور وہ ہے اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ.
’’اور تم انہی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاسکو‘‘۔
(الاعراف، 7: 158)
اب اس آیت کریمہ میں ہدایت عطا کئے جانے کا انحصار رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع پر رکھ دیا گیا ہے جو اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈھلے گا وہی ہدایت پانے والا ہوگا جو خودکو اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر بنائے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔ جو خود کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں فنا کرے گا وہی ہدایت کا حقدار ہوگا۔ اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقوش پا کی تلاش میں خود کو فنا کردینا ہے۔ اتباع میں دل کا غلبہ ہوتا ہے اور اطاعت میں عقل کا غلبہ ہوتا ہے۔اطاعت، قول و فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ جانتی ہے۔ اتباع، قول و فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ بھی نہیں جانتی۔
تصور اطاعت اور اتباع کا باہمی تعلق
اطاعت میں محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ ہوتا ہے اور اتباع میں عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ و تفوق ہوتا ہے۔ اطاعت، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی اداؤں کو اختیار کرنے کا نام ہے اور اتباع، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ اطاعت میں اپنی شخصیت کا احساس رہتا ہے اور اتباع میں رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت ہی باقی رہ جاتی ہے۔ اطاعت میں اپنے وجود کا خیال رہتا ہے۔ اتباع میں اپنا وجود بھی وجود مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کردیا جاتا ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
واتبعوه لعلکم تهتدون
’’اس رسول کی اتباع میں ڈھل جاؤ تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ‘‘۔
رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی انسان کو ’’لعلکم تهتدون‘‘ کا اعزاز بھی دیتی ہے اور ’’يحببکم الله‘‘ کا مقام رفیع اور اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا انعام، سب سے بڑا اکرام اور شان بندگی کا سب سے بڑا مقام بھی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی عطا کرتی ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ وَيَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ.
’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔
(آل عمران، 3: 31)
فرمایا اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تم کوئی معمولی چیز نہ سمجھو یہی وہ اتباع ہے جو تم کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی مقرب بناسکتی ہے اور رب کا بھی محبوب بناسکتی ہے۔ اگر تم رب کی محبوبیت چاہتے ہو اور اس کی محبت چاہتے ہو، اس کی بندگی کی معرفت چاہتے ہو اور اس کا ہوجانا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ خود کو اتباع مصطفی میں ڈھال لو۔ اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرلو، تمہیں مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مل جائے گا خدا بھی مل جائے گا اور ہدایت بھی مل جائے گی اور خدا کے محبوب بھی ہوجاؤ گے۔
لیلۃ القدر اور قرآن کا نزول
اس قرآن کو کتاب ہدایت کی صفت عظیم کے ساتھ متصف کرکے باری تعالیٰ نے لیلۃ القدر کی ساعتوں میں زمین پر اتارا ہے۔ لیلۃ القدر کو نزول قرآن کی وجہ سے جو فضیلت و اہمیت حاصل ہے خود قرآن اس کا ذکر یوں کرتا ہے:
اِنَّآ اَنْزَلَنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ.
’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔
(القدر، 97: 1تا3)
آج کی رات نزول قرآن کی رات ہے۔ نزول قرآن ہونے کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کانام دیا گیا ہے۔ یہ رات ہزار راتوں سے افضل رات ہے۔ یہ رات اللہ کی رحمت کی رات ہے اور یہ رات نزول ملائکہ اور نزول روح الامین کی رات ہے۔ اس رات کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت کا ہے۔ اس رات کاایک ایک پل سلامتی کا ہے۔ یہ رات غروب آفتاب سے فجر تک سلامتی کی رات ہے اور یہ اللہ کے فضل و کرم کی رات ہے۔ نزول قرآن کی یہ رات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ.
’’بے شک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے‘‘۔
(الحجر، 15: 9)
ہم نے اس قرآن کو سفینوں میں محفوظ کردیا ہے اور ہم نے اس قرآن کو سینوں میں بھی محفوظ کردیا ہے۔ صحیفوں، سفینوں میں چودہ سو سال سے محفوظ چلا آرہا ہے اور سینوں میں بھی چودہ سو سال سے محفوظ چلا آرہا ہے اور ہر رمضان المبارک میں صلاۃ الراویح کی صورت میں یہ سینے قرآن کے محفوظ ہونے کی زندہ علامت اور شہادت بن جاتے ہیں۔ کوئی ہے جو اب بھی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس زندہ معجزہ کا انکار کرے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ.
’’پس (اے گروہ جنّ و انسان) تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘۔
(الرحمن، 55: 13)
قرآن اپنی ہدایت عظمیٰ پر خود شہادت ہے
قرآن ہمارے اندر اللہ کی وحدانیت اور اس کی توحید کی ایک ابدی شہادت بن کر موجود ہے۔ قرآن ہمارے اندر رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی ایک روشن علامت بن کر موجود ہے اور دین اسلام کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن ہے۔ یہ ایک کتاب زندہ ہے۔ یہ کتاب مردہ دلوں کو زندگی دیتی ہے۔ یہ کتاب مردہ سوچوں کو افکار تازہ دیتی ہے۔ یہ کتاب انسانی عملوں کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ کتاب انسانی رویوں کو درست کرتی ہے حتی کہ اس کتاب کا موضوع ہی ’’ہدی للناس‘‘ ہے اور یہ کتاب ’’وبینت من الھدی والفرقان‘‘ ہدایت کی نشانیوں سے مملو ہے اور حق و باطل کے امتیازات سے بھرپور ہے اور کل عالم انسانیت میں ہر دور میں اور ہر زمانے میں اور آج تک کوئی کتاب یہ دعویٰ کرسکی ہے اور نہ کرسکے گی اور یہ اس کتاب قرآن کا کھلا چیلنج ہے۔ قرآن اپنے اس چیلنج کو ہر زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہوکر یوں کرتا ہے:
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ.
’’بے شک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے ‘‘۔
(بنی اسرائيل،17: 9)
یہ قرآن ہی سب سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ قرآن کی ہدایت سے بڑھ کر کوئی ہدایت نہیں اور قرآن کی ہدایت سے بڑھ کر کوئی ہدایت اقوم سیدھی اور مضبوط اور مستحکم نہیں۔
……….

 

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میرے بعد ہدایت پر ہی رہو گے۔ جب تک تم ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں میری سنت و حدیث کو تھامے رہو گے۔
ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما کتاب الله وسنة لنبيه.
’’رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے تمہارے نبی کی سنت‘‘۔
(امام مالک، الموطا کتاب القدر باب النهی عن القول بالقدر، 3: 899)

قرآن سے مسلمانوں کا تعلق

قرآن سے تعلق کمزور کرنا ہدایت الہٰی سے تعلق کمزور کرنا ہے۔ قرآن سے تعلق توڑنا ہدایت ربانی سے تعلق توڑنا ہے، قرآن کو چھوڑنا اسلام کو عملاً چھوڑنا ہے، مسلمانوں نے قرآن کو قلباً اور ذہناً نہیں چھوڑا ہے بلکہ عملاً چھوڑا ہے۔ اسی کا شکوہ قیامت کے روز رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کی بابت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یوں کریں گے۔
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا.
’’اور رسولِ (اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
(فرقان، 25: 30)
نزول بالقرآن کی نعمت ہم کو اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو مھجور بالقرآن ہونے سے کیسے بچائیں۔ ہم قرآن سے اپنے کمزور تعلق کو کیسے مضبوط کریں، ہم اتحاد بالقرآن کی کیا کیا صورتیں اختیار کریں تاکہ ہمارا قلبی اور عملی تعلق قرآنی ہدایت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے۔

قرآن کی تلاوت اور مطالعہ

قرآن اس حوالے سے بھی اپنے ماننے والوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ سورہ الکہف میں ارشاد فرمایا:
وَاتْلُ
اس قرآن کی تلاوت کیا کرو۔
(الکهف، 18: 27)
اس قرآن کو پڑھا کرو، یہ پڑھنا کبھی کبھار نہ ہو بلکہ یہ پڑھنا کثرت کے ساتھ ہو اس لئے قرآن کا معنی ہی یہ ہے: القرآن الکتاب الذی قرا مرۃ بعد مرۃ۔ ’’وہ کتاب جس کو بار بار پڑھا جائے یعنی وہ کتاب جس کو بہت زیادہ پڑھا جائے‘‘۔ اس لئے باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
واتل۔ اس قرآن کی تلاوت کیا کرو اور تلاوت اپنے اندر خود کثرت کا معنی رکھتی ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں اس کی بھی تخصیص کردی اور ارشاد فرمایا:
مَآ اُوْحِيَ اِلَيْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ
’’جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے‘‘۔
(الکهف، 18: 27)
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کیونکر ضروری ہے اس لئے کہ قرآن کی تلاوت انسان کو ہدایت تک لے جاتی ہے۔ قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی اطاعت اور بندگی پر گامزن رکھتی ہے۔ قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی فرمانبرداری پر قائم رکھتی ہے اور قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی بارگاہ سے، اس کے انعامات کا مستحق بناتی ہے اس لئے سورہ النمل میں ارشاد فرمایا:
وَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ. وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج فَمَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهِ.
’’اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں۔ نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لیے راہِ راست اختیار کی‘‘۔
(النحل، 27: 91 تا 92)

روزانہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھنا

یہ تلاوت قرآن ایسی ہو جس میں تسلسل ہو جو اگرچہ تھوڑی ہو مگر مسلسل ہو۔ کبھی بھی اس میں انقطاع نہ آئے، کبھی بھی یہ عمل تلاوت چھوٹنے نہ پائے، یہ تلاوت بالقرآن آسانی کے ساتھ سارا سال ہمیشہ جاری رہے۔ اس لئے فرمایا:
فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ.
’’پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو‘‘۔
(المزمل، 73: 20)
باری تعالیٰ فاقرء وا کے ذریعے اور واتل کے ذریعے تلاوت قرآن اور قرات قرآن کا حکم دے رہا ہے کہ قرآن کی تلاوت کیا کرو اور قرآن پڑھا کرو۔ قرآن کا تلاوت کرنا اور پڑھنا اپنے اندر ہ معنی بھی رکھتا ہے کہ قرآن کا نزول اس لئے ہوا کہ
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْئٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
’’بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔‘‘
(يوسف، 12: 2)
قرآن کی تلاوت اور قرآن کا مقصد بھی یہی ہے کہ لعلمکم تعقلون کہ قرآن کو سمجھا جائے، دوسرے مقام پر فرمایا یہ قرآن اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعے لقوم يعلمون (حم السجده/ فصلت41/ 3) علم حاصل کیا جائے۔ اس قرآن کے ذریعے نئے نئے حقائق جانے جائیں، یہ قرآن اس لئے عطا کیا گیا تاکہ اسے ماننے والے ایک موثر ذریعہ علم جانیں اور قرآن کی تلاوت اس طرح کی جائے کہ اسی قرآن کے ذریعے دیگر اقوام و ملل کے احوال جان کر نصیحت لی جائے۔

قرآن تمام انسانوں کیلئے ہدایت و نصیحت ہے

قرآن کی نصیحت ہی انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ہے اس بناء پر فرمایا:
وَيُبَيِّنُ اٰيٰـتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَکَّرُوْنَ.
’’اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں‘‘۔
(البقرة، 2: 221)
اس لئے حکم دیا کہ ان پر قرآن کی تلاوت اس طرح کریں کہ فذکر بالقرآن (ق، 50: 45) قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمایئے۔ مزید برآں فرمایا:
جو اس قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں اور اس قرآن کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ہم نے ان لوگوں کے لئے قرآن سے اخذ نصیحت کو آسان کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ.
’’اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟‘‘۔
(القمر، 54: 22)
یہ قرآن ہماری انفرادی اجتماعی اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی تذکرہ و نصیحت ہے۔ انفرادی زندگی کے لئے اس طرح کہ ان ھذہ تذکرۃ (المزمل:19) یہ قرآن نصیحت ہے اور قومی زندگی کے لئے بھی نصیحت ہے۔ انہ لذکر لک ولقومک۔ یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی پوری قوم کے لئے بھی نصیحت ہے اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی نصیحت ہے۔ ان هوا الا ذکر للعلمين (انعام: 91) یہ قرآن تمام عالم کے لئے نصیحت و ہدایت ہے۔
قرآن کی تلاوت اس لئے بھی ہے کہ ہر مسلمان تفکر فی القرآن کرے، ہر اہل ایمان قرآن میں غوروفکر کرے۔ ہر مومن سوچنے کو اپنی عادت بنائے، اعلیٰ فکر کو اختیار کرنا اپنا شعار بنائے، ارفع افکار کو اپنانا اپنا وطیرہ حیات بنائے، اپنی زندگی کو مسلمہ افکار پر ڈھالنا اپنی شناخت بنائے، اپنی سوچ و فکر کو عمدہ بنانا اپنی سیرت بنائے، اس لئے فکر، عمل کی بنیاد بنتی ہے، سوچ کسی بھی فعل کی اساس ثابت ہوتی ہے، فکر ایک بیج ہے اور عمل اس کا پھل ہے۔ اس لئے فرمایا ہر اعلیٰ فکر، قرآن کے دامن میں ہے۔

آیات میں تفکر و تدبر کا لازمی حکم

ارفع فکر قرآن سے تفکر اور تدبیر کے ذریعے ہی میسر آسکتی ہے اس لئے فرمایا کہ قرآن کی تلاوت اس طرح کرو کہ آیات قرآن میں تفکر کرتے چلے جائو۔ آیات الہٰیہ میں غورو فکر کو اپناتے جائو، اس لئے کہ قرآن کے نزول اور قرآن کی تلاوت کا ایک مقصد تفکر فی القرآن ہے، اس لئے تلاوت قرآن حکیم کے دوران تفکر فی القرآن اور تفکر فی آیات القرآن کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے‘‘۔
 (النحل، 16: 69)، (الروم، 30: 21)، (الرعد، 13: 3)، (الجاثية، 45: 13)
اسی طرح سورہ یونس میں ارشاد فرمایا:
کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں جو تفکر سے کام لیتے ہیں‘‘۔
(يونس، 10: 24)
ارشاد فرمایا:
اَوَلَمْ يَتَفَکَّرُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ.
’’کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا‘‘
(الروم، 30: 8)
قرآن تفکر فی الآیات اور تفکر فی الذات کی ترغیب دے کر انسانوں کو عرفان الغایہ (منزل کی معرفت ارائۃ الطریق (راستہ کا دکھانا) اور ایصال الی المطلوب (منزل تک پہنچا دینے) تک لے جاتا ہے، اس تفکر کے ذریعے انسان اھدنا الصراط المستقیم کے مقصد حیات کو پالیتا ہے۔

معرفت قرآن کے لئے تدبر فی القرآن ضروری ہے

قرآن تفکر بالقرآن کے اسی عمل کو تدبر بالقرآن کے ذریعے بھی بیان کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
افَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ.
’’تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے ‘‘۔
(النساء، 4: 82)
اگر وہ قرآن میں غورو فکر کریں تو وہ قرآن کے سب رازوں کو پالیں گے۔ حقائق کائنات ان پر منکشف ہوجائیں گے، قرآن کی صداقت بھی ان پر آشکار ہوجائے گی۔ اللہ کی معرفت کے راز بھی ان پر کھل جائیں گے۔ اس لئے آیت کے اگلے حصے میں فرمایا:
وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا کَثِيْرًا.
’’اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے‘‘۔
(النساء، 4: 82)
قرآن تفکر فی القرآن اور تدبر فی القرآن کے عمل کو لازمی بنیادوں پر اختیار کرنے کے حوالے سے اہل ایمان اور اہل اسلام کو جھنجھوڑتے ہوئے یوں بیان کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَفَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا.
’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں‘‘۔
(محمد، 47: 24)

تفکر فی القرآن ہر مسلمان کیلئے ایک لازمی امر ہے

تدبر فی القرآن اور تفکر فی القرآن کی اس سے بڑھ کر کوئی ترغیب نہیں ہوسکتی۔ قرآن میں تفکر اور تدبر کرنا یہ عمل کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر قرآن کے یہ الفاظ شاہد ہیں، افلا یتدبرون القرآن۔ قرآن اپنے ماننے والوں کو جھنجھوڑتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا ہے تو تفکر فی القرآن کا عمل اختیار کرو۔ قرآن کو جاننا ہے تو تدبر فی القرآن کا وظیفہ اپنائو، قرآن میں فہم حاصل کرنا ہے تو تذکیر بالقرآن پر عمل کرو، قرآن سے ہدایت لینی ہے تو تمسک بالقرآن پر کاربند ہوجائو۔ قرآن سے قول و فعل اور خلق و سیرت کی خیرات اور روشنی لینی ہے تو تلاوت بالقرآن کو اپنا معمول بنائو۔ اقوامِ عالم میں عزت اور رفعت کے ساتھ جینا ہے تو ہدیات بالقرآن کو اپنا قومی وملی شعار بنائو۔

مسلمان قرآن کے بغیر کچھ نہیں

اس لئے یہ بات ذہن نشین کرلو تم قرآن کے بغیر کچھ نہیں ہو۔ تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی بھی ساری عظمتیں تورات اور انجیل پر عمل کرنے سے وابستہ تھیں۔ اس حقیقت کو بھی قرآن میں یوں فرمایا گیا:
قُلْ يٰـاَهْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَئٍ حَتّٰی تُقِيْمُوا التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ.
’’فرما دیجیے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو‘‘۔
(المائدة، 5: 68)
قرآن جس طرح یہود و نصاریٰ کو مخاطب کرتا ہے کہ تم اپنی کتابوں تورات اور انجیل پر عمل کئے بغیر لستم علی شئی تم کچھ بھی نہیں ہو۔ اسی طرح قرآن زبان حال سے اپنے ماننے والوں، اہل ایمان اور اہل اسلام سے بھی مخاطب ہورہا ہے کہ تم بھی لستم علی شئی تم بھی کچھ نہیں ہو یہاں تک کہ قرآن پر عمل نہ کرلو۔
اس لئے تمہاری ساری عزتیں قرآن سے وابستہ ہیں، تمہاری ساری عظمتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری رفعتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری فضیلتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری اولیتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری بلندیاں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری تابناکیاں قرآن سے ہیں۔ قرآن تمہاری شناخت ہے، قرآن تمہاری پہچان ہے، قرآن تمہارا عمل ہے، قرآن تمہارا قول ہے، قرآن تمہارا خلق ہے، قرآن تمہاری سیرت ہے اور قرآن سے تمہاری شخصیت ہے قرآن سے تمہاری وحدت ہے اور قرآن سے تمہاری اجتماعیت ہے۔ قرآن سے تمہاری تقدسیت ہے، قرآن تمہاری زندگی ہے اور تمہاری زندگی قرآن سے ہے۔ اس راز میں تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی عزت وابستہ ہے بصورت دیگر تمہار احال اے قوم مسلم اقبال کے اس شعر کا مصداق ہوگا۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

رجوع الی القرآن کی شدید ضرورت

آیئے آج ہم قرآن کی طرف لوٹنے کا عہد کریں، قرآن سے اپنا ربط و ناطہ مضبوط کریں۔ رجوع الی القرآن کا عزم مصمم کریں، قرآن سے اکتساب فکر کریں، قرآن سے اخذ نور کریں، قرآن سے تعلیم کتاب کا تعلق قائم کریں، قرآن سے تزکیہ نفوس کریں، قرآن کی حکمت و دانش سے خود کو مملو کریں، قرآن کو کتاب ہدایت جانیں، قرآن سے تذکیر و نصیحت لیں، قرآن سے حبی و عشقی تعلق استوار کریں، قرآن کو اپنا قول و فعل بنائیں، قرآن کو اپنا خلق بنائیں، قرآن سے اپنی انفرادی زندگی سنواریں اور قرآن سے اپنی اجتماعی زندگی کی اصلاح کریں، قرآن کو رسول اللہ کا زندہ معجزہ جانیں اور قرآن کی زندہ فکر کو اپنائیں، قرآن سے اسلام کی حقانیت کو جانیں اور قرآن سے رسول اللہ سے شان ختم نبوت اور شان رسالت کو مانیں اور قرآن سے اللہ کی توحید اور معرفت کا ادراک کریں۔

مسلمانوں سے قرآن کے خطاب کے انداز

قرآن اہل ایمان سے کبھی یوں خطاب کرتا ہے۔ افلا یتدبرون القرآن، کبھی یوں فرماتا ہے ان ہذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم و بینت من الھدی والفرقان اور کبھی لعلکم ترحمون کہ یہ قرآن تمہارے لئے رحمت الہٰی کا باعث ہے۔ کبھی فاستعذ باللہ کے ذریعے اہل ایمان کو پیغام دیتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے لئے اللہ کی طرف سے پناہ گاہ ہے۔ جیسے فرمایا:
فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ کبھی اہل ایمان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے لئے شفا ہی شفا ہے اور تمہاری ظاہری بیماریوں کے لئے بھی شفاء ہے اور تمہاری باطنی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ حتی کہ یہ قرآن سراسر تمہارے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔
وَنُـنَـزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ.
’’اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لیے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہے‘‘۔
(الاسراء، 17: 82)
تمام لوگوں سے بالعموم اور اہل اسلام سے بالخصوص قرآن یوں مخاطب ہوتا ہے:
ولقد فرينا للناس فی القرآن من کل مثل لعلهم يتذکرون.
گویا قرآن خود اعلان کررہا ہے کہ قرآن اس لئے کہ تاکہ اس کو پڑھنے اور ماننے والے لعلہم یتذکرون اس سے نصیحت حاصل کریں کبھی لعلہم یتفکرون اور لقوم یتفکرون کے ذریعے اہل ایمان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ قرآن اس لئے نازل ہوا ہے کہ اس میں تفکر اختیار کیا جائے اور غورو فکر کیا جائے۔
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْکَ الذِّکْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے وہ (پیغام اور احکام)خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں‘‘۔
(النحل: 44)
کبھی باری تعالیٰ اہل ایمان کو یوں متوجہ کرتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جس آیت پر چاہا عمل کرلیا اور جس آیت کو چاہا اسے چھوڑ دیا۔
الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ.
’’جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)‘‘۔
(الحجر، 15: 91)
کبھی باری تعالیٰ اہل اسلام کو قرآن کے بے مثل ہونے کی یوں خبر دیتا ہے:
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰی اَنْ يَاتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهِ.
’’فرما دیجیے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لا سکتے۔‘‘
(الاسراء، 17: 88)
کبھی باری تعالیٰ اہل ایمان کو لعلکم تعقلون کے ذریعے اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے قرآن تمہارے لئے عقل و حکمت کا خزانہ ہے۔ اس لئے اسے سمجھو اور اسے جانو اور اس کے ذریعے اپنی عقل و فہم کو بڑھائو۔
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْئٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
’’بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔‘‘
(يوسف، 12: 2)
یقینا قرآن عقل و دانش اور حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔ یہ اس ذات کا کلام ہے جو سب سے بڑا حکیم و دانا ہے اور جس نے حکمت و دانش کو انسانوں کے وجودوں میں پیدا فرمایا ہے۔ اس لئے رسول اللہ کے ذریعے اس امت کو حکمت و دانش کی یہ نعمت عطا کی گئی۔
وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنَ لَّدُنْ حَکِيْمٍ عَلِيْمٍ.
’’اور بے شک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے۔‘‘
(النمل، 27: 6)

خلاصہ کلام

قرآن اپنے ان خطابات کے ذریعے اور اپنی ان آفاقی آیات کے توسل سے آج امت مسلمہ کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے کہ تم اپنی دنیوی حیات کے کامیابی کے لئے اور اپنی اخروی نجات کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرلو، تمہیں اپنی انسانی زندگی کی دنیوی اور اخروی کامیابی کے لئے ایک سوچ، ایک فکر، ایک نصیحت اور ایک ہدایت کی ضرورت ہے جس پر تم نے اپنی زندگی کے اعمال کی بنیاد رکھنی ہے تو وہ سوچ و فکر اور وہ ہدایت نصیحت تمہارے لئے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔ قرآن کی اس آفاقی ہدایت کو اپنانا اور اسے اپنی زندگی میں داخل کرنا اور اپنی شخصیت سے عمل اور کردار کے ذریعے ظاہر کرنا ہی دنیوی زندگی کی ابتلاء اور آزمائش ہے۔ تمہاری روح کی صدا اور پکار یہ ہے اس قرآنی ہدایت کو اپنے وجود میں سمالو، اس آفاقی ہدایت کے ساتھ اپنے عمل میں تم ایک زندہ ثبوت بن جائو۔ تم اپنے عمل سے قرآنی ہدایت کی صداقت اور حقانیت کی شہادت اہل دنیا کو دو۔ جبکہ اسی وجود میں نفس امارہ روح کی آواز کے خلاف صدا دیتا ہے۔ وہ نفس امارہ کہتا ہے تم دنیا میں ہو تو میری کچھ دنیوی خواہشات پوری کرو، مجھے تعیشات دنیوی سے آراستہ کرو، مجھے دنیوی آسائشات کے ذریعے فرحت دو، تم اپنے وجود کو میری تمنائوں کی تکمیل پر لگادو اور میری کسی بات کو رد نہ کرو۔
انسان روح اور نفس امارہ کی اس کشمکش میں اپنی زندگی صرف کردیتا ہے۔ اگر انسانی عمل روح کی آواز بن جائے تو انسان قرآنی ہدایت کے مطابق کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر انسانی عمل نفس امارہ کی صدا میں ڈھل جائے تو انسان تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ قرآن نے اپنی آفاقی ہدایت کے ذریعے قول و عمل احسن کو انسانی زندگی کی کامیابی کی علامت ٹھہرایا ہے۔ اس لئے فرمایا:
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَکُمْ اَيُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً.
’’جس نے موت اور زندگی کو (اِس لیے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے‘‘۔
(الملک، 67: 2)
باری تعالیٰ ہمیں قرآن سے کتاب ہدایت کی حیثیت سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، جولائی 2016


No comments:

Post a Comment