سید عبدالوہاب شیرازی
ہمارے
مدارس کے درس نظامی کورس میں دوسرے سال آخری سپارے کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے،
پھرتیسرے سال 9سپاروں کا، چوتھے سال درمیان والے دس پاروں کا، اور پانچویں سال
پہلے دس سپاروں کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے، پھر چھٹے سال تفسیر جلالین کے ساتھ پورے
قرآن پاک کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔ اس دوران سالانہ چھٹیوں میں چالیس روزہ دورہ
ترجمہ قرآن بھی ہوتا ہے جو اختیاری ہوتا ہے۔
اس دوران
ترجمہ پڑھانے کا انداز کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ الفاظ کی صرفی نحوی ، اور لغوی تحقیق
اور ترکیب پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ خود ہی ایک اعتراض اٹھایا جاتا ہے اور پھر اس
کا جواب دیا جاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ ہر آیت یا رکوع یا سورہ کا شان نزول بیان
کیا جائے اور تفسیر شان نزول کے اعتبار سے ہی کی جاتی ہے۔ آیتوں کا ربط، الفاظ کا
فنی تجزیہ اور کثرت کے ساتھ شخصیتوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔
چنانچہ اس
طرح کی فنی تشریح و تفسیر سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے اسے مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ
اللہ نے نہایت افسوس کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کیا: لم یتحصَّل عندنا منہ شیءغیر
حل الالفاظ۔(فیض الباری علی صحیح البخاری) یعنی ہمیں اس انداز تفہیم سے
سوائے الفاظ کے اور کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اس طرح کے
بظاہر تحقیقی انداز تعلم سے ایک طالب علم کو سب کچھ مل جاتا ہے لیکن قرآن و سنت
کاوہ اصل مقصد حاصل نہیں ہوتاجسے خود قرآن نے ذکریٰ، تذکر، وغیرہ کے الفاظ سے
تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ ایک طالب علم آٹھ سال اس انداز تعلم سے سیکھ کر اسی طرح کا
عادی بن جاتا ہے اور جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے اور درس قرآن شروع کرتا ہے تو
اسے شکوہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کا درس نہیں سنتے، جب کہ اس کے برعکس کوئی جدید تعلیم
یافتہ نوجوان اگرچہ علمی لحاط سے اس طالبعلم کے برابر تو نہیں ہوسکتا لیکن اس نے
دو تین سال میں ترجمہ قرآن ”تذکر“ کے انداز سے پڑھا ہوتا ہے، ان کے درس قران میں
نہ صرف سامعین کا رش ہوتا ہے بلکہ پورے درس میں چڑیا پر بھی نہیں مارتی۔
قرآن کا
اپنا انداز خطبے والا ہے، یعنی روانی کے ساتھ بیان کرنا نہ کہ ایک ایک لفظ پر رک
کر بال کی کھال اتارنا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی انداز تھا کہ
آپ کبھی کسی بازار میں کھڑے ہوکر، یا مکہ کے سرداروں کے سامنے کھڑے ہو کر روانی کے
ساتھ پوری سورت سنا دیا کرتے تھے، پھر تبلیغ کے لیے صحابہ کرام کا بھی یہی انداز
تھا۔ موجودہ دور میں مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان میں تاثیر کی وجہ بھی یہی ہے
کہ وہ روانی کے ساتھ آیات پڑھتے اور ساتھ ساتھ روانی کے ساتھ ترجمہ کرتے چلے جاتے
ہیں، قرآن اتنا جامع اور پرتاثیر ہے کہ ہر سامع اس رواں ترجمے سے اپنا آپ قرآن کے
آئینے میں دیکھ لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی کسی وقت کسی خاص لفظ پر تحقیقی بحث بیان کرنا
ضروری ہو تو بیان کربھی دینی چاہیے لیکن اس انداز کو عادت بنا لینا تبلیغ قرآن اور
تذکر کے اعتبار سے درست طریقہ نہیں۔
No comments:
Post a Comment