از مولانا زاہد مغل
"ھم سب" پر شائع ہونے
والی 'دوپٹے کے دس فوائد' تحریر نظر سے گزری۔ تحریر کی ابتداء میں فاضل مصنفہ
فرماتی ہیں کہ تحریر سے 'زیادہ اثر کے لئے تحریر کو مذھبی و معاشرتی جذبات کو ایک
طرف رکھ کر پڑھا جائے'۔ فی الوقت تحریر کے دس مندرجات پر بحث مقصود نہیں کیونکہ ان
میں سے کوئی ایک بھی پہلو تبصرے کے لائق نہیں۔ یہاں صرف درج بالا مطالبے پر کچھ
عرض کرنا ہے۔
یہ مطالبہ عین سیکولر طرز استدلال کی بنیادی روح ہے کہ پہلے آپ مذھبی عقائد، تعلیمات و جذبات کو ایک طرف رکھ دیں پھر ہماری بات پر غور کریں۔ یعنی پہلے میں اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجاؤں پھر مخالف کی بات پر غور کروں۔ بھائی اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجانے کے بعد ظاہر ہے مجھے وہی بات معقول معلوم ہونے لگے گی جو آپ کہتے ہو، مگر اس قسم کی "داخلی معقولیت" تو دنیا کے تقریبا ہر نظرئیے میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سیکولر تعلیمات کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مذھبی جذبات و تعقل سے دستبرداری اور خود کو سیکولر تناظر میں رکھنا لازم امر ہے۔
آخری بات، اگر کوئی آپ کو شام میں بم و میزائل سے مارے جانے والے انسانوں کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہے کہ "انسانی جذبات کو ایک طرف رکھ کر دیکھئے" تو بھلا آپ کو اس میں سوائے اس کے اور کیا دکھائی دے گا جیسے ایک شیر کسی زیبرے کا شکار کرنے کی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا مرنے والے انسانوں کا ان جذبات سے ماوراء رہ کر کیا جانے والا مشاہدہ درست و بامعنی ہوسکتا ہے؟ ایک جابر مرد کسی خاتون کو پیٹ رہا ہے اور میں آپ سے کہوں کہ "فیمنسٹ اخلاقی جذبات ایک طرف رکھ کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عقلیت کے تحت مشاہدہ فرمائیں" تو کیا دکھائی دے گا؟ چنانچہ بنیادی سوال یہی ہے کہ مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دینے کے بعد جس مشاہدے کی طرف دعوت دی جارہی ہے اس کے درست ہونے کی دلیل کیا ہے؟
انسان کا مشاہدہ اس کے جذبات کے ماتحت ہے، جذبات بدل جائیں تو مشاہدہ (یعنی اس کا معنی) بدل جاتا ہے۔ معروضیت جذبات کی تطہیر سے حاصل ہوتی ہے، دماغی عقلیت (آلاتی عقلیت) کی لم ٹٹول سے نہیں۔ جو شخص مردوں کا کفن نکال کر بیچ ڈالتا ہے اسکی عقل میں نہیں جذباتی توازن میں خلل واقع ہوجاتا ہے، عقل (آلاتی) تو وہ بھی بلا کی استعمال کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ "پہلے مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دو" کا معنی اس کے سواء کچھ نہیں کہ جسے مذھب عقلی و بامعنی کہتا ہے پہلے اسے رد کردو۔ یہ طریقہ استدلال اپنی وضع میں نہ تو "تبلیغی" ہے اور نہ ہی "عقلی"، یہ صرف ایک "مناظرانہ چالاکی" ہے۔
یہ مطالبہ عین سیکولر طرز استدلال کی بنیادی روح ہے کہ پہلے آپ مذھبی عقائد، تعلیمات و جذبات کو ایک طرف رکھ دیں پھر ہماری بات پر غور کریں۔ یعنی پہلے میں اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجاؤں پھر مخالف کی بات پر غور کروں۔ بھائی اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجانے کے بعد ظاہر ہے مجھے وہی بات معقول معلوم ہونے لگے گی جو آپ کہتے ہو، مگر اس قسم کی "داخلی معقولیت" تو دنیا کے تقریبا ہر نظرئیے میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سیکولر تعلیمات کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مذھبی جذبات و تعقل سے دستبرداری اور خود کو سیکولر تناظر میں رکھنا لازم امر ہے۔
آخری بات، اگر کوئی آپ کو شام میں بم و میزائل سے مارے جانے والے انسانوں کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہے کہ "انسانی جذبات کو ایک طرف رکھ کر دیکھئے" تو بھلا آپ کو اس میں سوائے اس کے اور کیا دکھائی دے گا جیسے ایک شیر کسی زیبرے کا شکار کرنے کی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا مرنے والے انسانوں کا ان جذبات سے ماوراء رہ کر کیا جانے والا مشاہدہ درست و بامعنی ہوسکتا ہے؟ ایک جابر مرد کسی خاتون کو پیٹ رہا ہے اور میں آپ سے کہوں کہ "فیمنسٹ اخلاقی جذبات ایک طرف رکھ کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عقلیت کے تحت مشاہدہ فرمائیں" تو کیا دکھائی دے گا؟ چنانچہ بنیادی سوال یہی ہے کہ مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دینے کے بعد جس مشاہدے کی طرف دعوت دی جارہی ہے اس کے درست ہونے کی دلیل کیا ہے؟
انسان کا مشاہدہ اس کے جذبات کے ماتحت ہے، جذبات بدل جائیں تو مشاہدہ (یعنی اس کا معنی) بدل جاتا ہے۔ معروضیت جذبات کی تطہیر سے حاصل ہوتی ہے، دماغی عقلیت (آلاتی عقلیت) کی لم ٹٹول سے نہیں۔ جو شخص مردوں کا کفن نکال کر بیچ ڈالتا ہے اسکی عقل میں نہیں جذباتی توازن میں خلل واقع ہوجاتا ہے، عقل (آلاتی) تو وہ بھی بلا کی استعمال کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ "پہلے مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دو" کا معنی اس کے سواء کچھ نہیں کہ جسے مذھب عقلی و بامعنی کہتا ہے پہلے اسے رد کردو۔ یہ طریقہ استدلال اپنی وضع میں نہ تو "تبلیغی" ہے اور نہ ہی "عقلی"، یہ صرف ایک "مناظرانہ چالاکی" ہے۔
No comments:
Post a Comment