Search This Blog

Thursday, August 10, 2017

فکر آخرت اور اسلامی تعلیمات


تحریر :سید منور حسن امیر جماعت اسلامی پاکستان 

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدۂ آخرت ہے۔ انسانی زندگی میں بھی اس عقیدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جیسا عقیدہ ہوتا ہے ویسا ہی انسان اور اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ کوئی آدمی عقیدے میں پختہ ہو یا کمزور، یہ ضمنی بحثیں ہیں، لیکن اصلاً جس عقیدے کا حامل جو شخص ہوتا ہے اس کے اعمال، افعال، رویے اور کردار پر لازماً اس کا گہرا اثر اور چھاپ ہوتی ہے۔

عقیدۂ آخرت اس یقین کا نام ہے کہ یہ دنیا اور یہ زندگی فانی ہے۔ اس عالم کے بعد ایک دوسرا عالم وجود میں آنا ہے۔ جس طرح سے عالم دو ہیں، اس طرح سے زندگیاں بھی دو ہیں۔ گویا اس کو یوں کہا جاسکتا ہے کہ اصلاً زندگی تو ایک ہی ہے، جس چیز کا نام ہم نے موت رکھا ہوا ہے، اس کی آمد سے وقتی اور عارضی طور پر محض زندگی کا مرحلہ بدل جاتا ہے مگر زندگی اور اس کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اس زندگی کو ہم عارضی یا ناپائیدار زندگی کہتے ہیں، اور وہ زندگی جو موت کے دراوزے سے گزر کر شروع ہوتی ہے، پائیدار، باقی رہنے والی، دائمی اور ہمیشہ کی زندگی قرار پاتی ہے۔ قرآن پاک میں جابجا اس حوالے سے جواب دہی کا احساس اور آخرت کا حوالہ موجود ہے:
وَ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ (البقرہ ۲:۴) اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اَیَحْسَبُ الْاِِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًیo(القیامۃ ۷۵:۳۶) کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

تمام اعمال کی جواب دہی اسی عقیدۂ آخرت کی بنیاد پر ہے۔ محاسبۂ اعمال کی تفصیل قرآن پاک کے اوراق کے اندر بکھری ہوئی ہے۔ سورۂ واقعہ، سورۂ معارج، سورۂ حاقہ، سورۂ قیامہ، سورۂ تکویر اور سورۂ نبا، یہ وہ سورتیں ہیں کہ جن میں قیامت اور آخرت کی ہولناکیوں اور مجرمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب کا تذکرہ ہے، نیز روزِ محشر کی تفصیلات ہیں۔ سورج کا لپیٹ دیا جانا اور ستاروں کا بے نور ہو جانا، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، جو انسان جو کچھ لے کر آیا ہے، اس کو اپنا کیا دھرا سب معلوم ہوجائے گا، جب آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے اور جب دریا ایک دوسرے سے مل کر بہہ نکلیں گے، جس دن صور پھونکا جائے گا اور یکایک قبروں سے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں گے، اور اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے اور پکاریں گے: ہائے ہماری کم بختی، کس نے ہماری خواب گاہوں سے ہمیں جگادیا اور یہ تو وہی قیامت کادن ہے، جس کا حق تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے اس کے بارے میں سچی خبریں ہم تک پہنچائی تھیں___ یہ وہ منظرکشی ہے جس سے تسلسل کے ساتھ آخرت اور اس کی جواب دہی اور اس حوالے سے انسانوں کے اعمال کو دیکھا اور پرکھا جانا سامنے آتا ہے۔

عقیدۂ آخرت اور تزکیہ
ایمان کے بعد انسانی زندگی کو سنوارنے، اس کو حقیقی کردار کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اوراس کو درست رُخ دینے کے لیے اور منزل کا شعور بخشنے کے لیے اگر کوئی عقیدہ ہے تو وہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ آخرت کی فکر کے لیے یہ پوری منظرکشی قرآنِ مجید اور احادیث میں ملتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو مطلوب ہے،اس لیے کہ فکرِ آخرت انسانی جمود کو توڑنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ جب انسان بے عمل ہوجائے، غلط راہوں پر چل نکلے، گم کردۂ راہ ہوجائے، سب کچھ جانتے ہوئے عملی زندگی میں انجان سا بن جائے، تو یہ آخرت کی فکر انسان کے جمود کو توڑنے اور اس کے ایمان پر لگ جانے والے زنگ کو اُتارنے، دیگر افکار اور پریشانیوں سے کاٹ کر آخرت کے شعور کی طرف لانے کے لیے نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔

جناب صدیق اکبرؓ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرانے ساتھی تھے۔ عمر میں بھی دو ہی سال کا فرق تھا، گویا بچپن ہی سے ایک دوسرے کو دیکھتے آئے تھے۔ جناب صدیق اکبرؓ نے عرض کی: یارسولؐ اللہ! آپؐ پر تو بڑھاپا آگیا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ہاں، مجھے بوڑھا کر دیا سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ نبا اور سورۂ تکویر نے۔ (ترمذی)

ان سورتوں کی اگر تلاوت کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ وہی سورتیں ہیں جن میں قیامت اور آخرت کا بیان ہے۔ ان میں اس پکڑ، بازپُرس اور تنبیہ کا بیان ہے جو آخرت برپا ہونے سے پیش تر کی جارہی ہے۔ نبی کریمؐ ان سورتوں کی تلاوت کرتے تھے تو آپؐ پر رقت طاری ہوجاتی تھی اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی تھی۔ آپؐ چونکہ داعیِ اعظم اور داعیِ اوّل تھے، اس لیے یہ خوف بھی آپؐ کو ستاتا تھا کہ اگر یہ لوگ اس دعوت کو قبول نہیں کریں گے تو لازماً پکڑے جائیں گے،اور اس طریقے سے بارگاہِ رب العزت میں دھر لیے جائیں گے۔ یہ وہ کیفیت تھی کہ جس میں جواب دہی اور دوسروں کی نجات کے لیے فکرمند ایک داعی کی حیثیت سے آپؐ سرشار رہتے تھے۔ لوگوں تک پہنچنا، ان کے دلوں پر دستک دینا، ان کو سیدھے راستے پر لانا، جہنم کی آگ سے بچانا اور قبر کی پکڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام جتن کرنا، ان کی فکرمندی کا عنوان تھا۔

اپنی گھریلو زندگی میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فکرمندی میں گُھلے جاتے تھے۔ ان کیفیات کا تذکرہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی احادیث میں ملتا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے حضوؐر کو بارہا یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا ، ’’اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لیجیے‘‘، تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! آسان حساب کی کیا صورت ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک شخص کے اعمال نامے کو دیکھے گا اور بس اس سے صرفِ نظر فرما لے گا، تو یہ آسان حساب ہوگا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے عائشہ! اس دن جس شخص سے واقعی پوچھ گچھ ہوگئی تو وہ شخص ہلاک ہوا، وہ شخص ہلاک ہوا، وہ شخص ہلاک ہوا۔ اسی لیے آپؐ نے یہ دعا بھی سکھائی۔

موت، ایک تلخ حقیقت
موت جس چیز کا نام ہے، اور جس سے ہم بہت اچھی طرح واقف ہیں، یہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ موت کے بعد کے جو واقعات قرآن اور حدیث میں ملتے ہیں، وہ تو اور بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ ان کے تذکرے سے بھی آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اوراعمال کے اندر تضاد، تناقض اور منافقت و ریاکاری دُور کرنے کا جذبہ انسان کے اندر پروان چڑھتا ہے۔ موت سے زیادہ یقینی چیز کوئی بھی نہیں۔ یہ بڑی ہی تلخ حقیقت ہے اور اس کڑوے گھونٹ کو پیے بغیر گزارہ بھی نہیں ہے۔ اس سے انسانوں کو مَفر نہیں ہے۔

حضرت عثمانؓ قبر کو دیکھتے تھے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی تھی، اور پوچھنے پر فرمایا کرتے کہ قبر، آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، لہٰذا اس کو دیکھتا ہوں تو یہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ جس کے لیے یہ منزل آسان ہوئی، اس کے لیے ساری منزلیں آسان ہوئیں۔

حضرت سعد بن معاذؓ مشہور صحابی ہیں۔ ان کا انتقال ہوا تو نبی کریمؐ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپؐ ہی کے ہاتھوں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ جب قبر تیار ہوئی اور آپؐ اس کے سرھانے کھڑے تھے تو صحابہ کرامؓ نے سنا کہ آپؐ کی زبان سے نکلا: اللہ اکبر، اور قدرے توقف کے بعد آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ۔ صحابہ کرامؓ نے منظر کو دیکھا تو نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ یارسولؐ اللہ! ہم کچھ سمجھ نہ سکے۔ آپؐ کی زبان سے پہلے اللہ اکبر کا کلمہ بلند ہوا اور پھر کچھ وقفے کے بعد سبحان اللہ جاری ہوا، یہ کیا ماجرا ہے؟ کوئی واقعہ ہماری نظر میں نہیں آیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے اس برگزیدہ بندے پر جب قبر تنگ ہوگئی تو میری زبان سے نکلا: اللہ اکبر اور قبر کشادہ ہوگئی۔ پھر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور میری زبان سے نکلا: سبحان اللہ۔

حضرت سعد بن معاذؓ بڑے جلیل القدر صحابیؓ ہیں۔ نبی کریمؐ آپ کی نمازِ جنازہ پڑھا رہے ہیں۔ آپؐ ہی کے مبارک ہاتھوں ان کی تدفین عمل میں آرہی ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں سے قطع نظر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریمؐ کے ذریعے سے ہمیں یہ تعلیم دے رہا ہے کہ قبر کی پکڑ کسے کہتے ہیں، قبر کا سکڑ جانا اور اس کے نتیجے میں انسانوں کا بھینچا جانا کسے کہتے ہیں، اور قبر کی حقیقت کیا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے اَن گنت واقعات ہیں جو صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے ملتے ہیں کہ وہ کس فکر کے اندر غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبرؓ کہتے کہ کاش! میں تنکا ہوتا۔ اس کا کوئی حساب کتاب تو نہیں ہوتا، اور اس کی کوئی پوچھ گچھ تو نہیں ہوتی۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ کاش! کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ میں چھوٹ جاؤں۔

آخرت اور تصورِ دنیا
آخرت کا بہت گہرا تعلق فکرِ دنیا سے ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن اور اعتدال ہی انسان کو راہِ راست پر رکھتا ہے۔ اگر انسان فکرِ دنیا کے اندر دُور تک چلا جائے توفکرِ آخرت اس سے گم ہوجاتی ہے۔ اس لیے فکرِ آخرت کی دولت پانے کے لیے خود دنیا کا تصور واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت کے ساتھ چل رہے تھے کہ کوڑے کے ڈھیر پر بکری کا مرا ہوا بچہ پڑا تھا۔ آپؐ نے صحابہ کی طرف رُخ کر کے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بکری کے اس بچے کو ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرامؓ قدرے حیران ہوئے اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ تو بکری کا مرا ہوا بچہ ہے، ہم میں سے تو کوئی اس کو مفت میں لینا بھی گوارا نہیں کرے گا۔

ذرا دیکھیے کہ کس طرح آپؐ تعلیم دیتے ہیں، کیسے ذہنوں کو آمادہ کرتے اور لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حیثیت اس بکری کے مرے ہوئے بچے سے بھی کم تر ہے۔ مراد یہ ہے کہ جس دنیا کی فکر میں ہم دن رات لگے رہتے ہیں، تگ و دو کرتے ہیں اور اسی کے غم میں نڈھال ہوتے، جوانی کے اندر بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں، اس دنیا کی یہ حیثیت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں۔

آپؐ نے فرمایا: دریا کے اندر انگلی ڈالو اور باہر نکالو تو جو پانی اس انگلی کے اُوپر لگا رہ جائے گا، وہ دنیا کی زندگی ہے، اور جو ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی باقی رہے گا، وہ آخرت کی زندگی ہے۔

یہ دنیا تو لمحوں، مہینوں، اور برسوں کی اتنی طوالت کے باوجود بہت کم، بہت ہی بے مایہ اور بے حیثیت ہے، جب کہ آنے والی زندگی کبھی نہ ختم ہونے والی ہے، جس کی کامیابی اصل کامیابی اور ناکامی اصل ناکامی ہے۔ اس دنیا میں پائی جانے والی کامیابی عارضی ہے، پانی کا بُلبلہ ہے کہ ابھی ہے اور ابھی نہیں۔ یہاں کی ناکامی اور یہاں کا غم بھی بالکل عارضی ہے کہ وہ اچانک ختم ہوجاتا ہے۔ دنوں کی رفت گزشت کے نتیجے میں ذہنوں سے دُھل جاتا ہے۔ اس لیے تصورِ آخرت کے ساتھ ساتھ خود تصورِ دنیا بھی احادیث پاک میں بڑی وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے۔

حضرت ابوذر غفاریؓ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ ملازم کو دیکھا تو اس کو آواز دی اور کہا کہ جاؤدیکھو میرے اُونٹوں میں سے جو سب سے اچھا اُونٹ ہے، وہ اللہ کی راہ میں دے دو اور قربان کر دو۔ کچھ دیر کے بعد ملازم آیا اور اطلاع دی کہ کام ہوگیا ہے۔ شام کو جب آپؓ اپنے گھر پہنچے تو دیکھا کہ اُونٹوں میں سے جو سب سے اچھا سُرخ اُونٹ تھا، وہ اسی طرح زندہ سلامت کھڑا ہے۔ آپؓ نے ملازم کو بلایا اور کہا کہ نیک بخت میں نے تجھ سے کہا تھا کہ سب سے اچھا اُونٹ اللہ کے راستے میں دے دو، اور تو نے نہایت ہی مریل اُونٹ اللہ کے راستے میں قربان کردیا۔ اس نے کہا: یہ تو دراصل وہ اُونٹ ہے جو آپؓ سواری میں استعمال کرتے ہیں، بُرے وقت میں کام آتا ہے، سفر میں آپؓ کا ساتھ دیتا ہے، اس لیے میں نے اس اُونٹ کو رہنے دیا۔ حضرت ابوذرؓ نے کہا کہ ارے نیک بخت! تجھے پتا ہی نہیں کہ مجھے کس دن کی سواری کے لیے اُونٹ مطلوب تھا۔ جب کوئی سواری میسر نہ ہوگی تو اس لمحے کے لیے مجھے یہ اُونٹ مطلوب تھا۔ میں اس دن کے لیے یہ اُونٹ چاہتا تھا کہ جب کسی انسان کو سایہ بھی میسر نہ آئے گا اور کوئی بھی سہارا اس کو نہیں ملے گا___ یہ ہے تصورِ دنیا اور تصورِ آخرت۔ یہ تصور درست ہوگا تو فکر بھی درست ہوگی اور صحیح رُخ پر اس کی تشکیل ہوگی۔

آخرت اور تصورِ مال
اس زندگی میں تصورِ مال کا درست ہونا بھی بہت ضروری ہے کہ مال کی حقیقت کیا ہے؟ وہ جو واقعہ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے اور اُمہات المومنینؓ سے پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کے لیے ہے؟ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آج ایک بکری ذبح کی گئی تھی اسے محلے میں، رشتہ داروں میں اورعزیزو اقارب میں تقسیم کر دیا گیا ہے، بس دست کا ایک ٹکڑا باقی ہے۔ دیکھیے آپؐ نے کیا فرمایا؟ آپؐ نے فرمایا: جو دے دیا گیا، دراصل وہی باقی ہے اور جو رہ گیا وہ کس کے کام آنا ہے۔

اصل مسئلہ تو تصورات کا ہے۔ اگر تصورات درست ہوں گے تو فکر بھی درست اور ٹھیک ہوگی اور عمل کی وادی میں آدمی صحیح سمت کی طرف چلے گا۔ یہ تصورِ آخرت ہی تو ہے کہ جو دے دیا گیا وہی دراصل باقی ہے اور جو باقی رہ گیا، وہ بھلا کس کے کام آنا ہے۔

ہمارا روزمرہ کا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جب دینے کا موقع آتا ہے تو بھلے سے بھلا آدمی بھی یہ سوچنے لگتا ہے کہ چلو گھر کی صفائی کا نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔ لوگ پھٹے پرانے کپڑے، گھسے پٹے جوتے اور ٹوٹے پھوٹے برتن اور دوسرا سامان وغیرہ نکال نکال کر راہِ خدا میں دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات نہیں ہوتی کہ میں یہ اپنے آپ کو دے رہا ہوں، اس لیے کہ جب ہم وہاں پر پہنچیں گے تو یہی پھٹے پرانے کپڑے اور ٹوٹے پھوٹے جوتے، اور گیا گزرا سامان ہمارا انتظار کر رہا ہوگا کہ تم نے اپنے آپ کو یہی دیا تھا نا۔ اب یہی کھاؤ، پیو اور عیش کرو!

ہمارے ذہن میں یہ بات آتی ہی نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ خیال تو یہی ہوتا ہے کہ راہِ خدا میں دیا جا رہا ہے۔ اگر انسانی ذہن اس بات کو سوچنے اور بالآخر اس کے مطابق اپنے یقین کو پختہ کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے کہ یہ دراصل میں اپنے آپ کو دے رہا ہوں، یہ فی الحقیقت خود میری ذات کے لیے سرمایہ کاری ہے، تو اس کا رویہ بدل جائے گا۔ پھر وہ بہتر سے بہتر دے گا، اچھے سے اچھا دے گا، جس چیز سے محبت کرتا ہے، اسی سے انفاق کرے گا۔ اس لیے تصورِ مال کا درست ہونا، تصورِ دنیا کا درست ہونا ضروری ہے اور اسی کے نتیجے میں تصورِ آخرت درست ہوتا ہے جو مطلوب ہے۔

روزِ محشر کا منظر
حضرت ابوسعید خدریؓ مشہور صحابی ہیں۔ نبی کریمؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے سورۂ مطففین کی آیت: یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (وہ دن جب تمام انسانوں کو بارگاہِ رب العزت میں لاکھڑا کیا جائے گا۔۸۳:۶) کی تلاوت کی اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! روزِ محشر جو ہزار سال سے بھی بڑا دن ہوگا، کس کے اندر یہ طاقت اور مجال ہوگی کہ اللہ کی بارگاہ میں کھڑا رہ سکے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ابوسعید! وہ دن نافرمانوں اور مجرموں اور باغیوں کے لیے بڑا سخت ہوگا۔

مصیبت کا دن تو ویسے ہی بڑا سخت ہوتا ہے۔ مصیبت کی گھڑی ٹلنے کو نہیں آتی۔ کسی آزمائش سے انسان دوچار ہوجائے تو لگتا ہے کہ نہ معلوم کب سے اس آزمایش کے اندر گھرا ہوا ہے۔ کچھ یاد بھی نہیں آتا کہ کبھی خوشی و مسرت سے بھی ہم کنار ہوا تھا لیکن آپؐ نے فرمایا کہ مومنوں کے لیے اس دن کو آسان بنا دیا جائے گا اور وہ اپنے رب کے جلوے سے سرفراز ہوں گے، اور ان کے چہرے شاداں و فرحاں ہوں گے، سورۂ قیامہ کی آیت کَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ oوَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ oوُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ (۷۵: ۲۰۔۲۲) کی گویا آپؐ نے تشریح فرمائی کہ اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، شاداں و فرحاں ہوں گے، چمکتی دمکتی پیشانیوں کے ساتھ پُرامید نگاہوں کے ساتھ، اپنے رب کی طرف بڑھ رہے ہوں گے، اس نعمت کو لینے کے لیے اور انعامات کا مستحق ٹھیرنے کے لیے اور اپنے رب کے دربار سے سرخ رُو ہونے کے لیے۔

ایک طرف یہ منظر ہے کہ لوگ شاداں و فرحاں ہوں گے اور اُمید بھری نگاہوں سے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرا منظر بھی ہے۔ کچھ چہرے اُداس ہوں گے، آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، اور ان کو یہ خیال ستا رہا ہوگا کہ عنقریب ایک کمرتوڑ سلوک ان کے ساتھ کیا جانے والا ہے۔ ماننے والوں اور انکار کرنے والوں کی تصویر میں یہ فرق بڑا واضح ہوگا۔ ایک گروہ رحمتِ الٰہی کی اُمیدیں لیے ہشاش بشاش ہوگا، چمکتی پیشانیوں اور کھِلے چہروں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوگا، وہیں دوسرا گروہ عذابِ الٰہی کے اندیشوں سے بدحواس، اور اپنے رب کی پکڑ اور اس کے دربار میں جو سلوک اس کے ساتھ کیا جانا ہے اس کی سختی سے بے حال ہوگا۔

روزِ محشر کا یہ بیان قرآن پاک کے اندر اور بہت سے مقامات پر موجود ہے اور احادیث میں نبی اکرمؐ نے تفصیل سے اسے بیان فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ میدانِ حشر کا یہ منظر موت کے دروازے سے گزر کر ہی نظر آئے گا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہم تو اس کے تذکرے سے بھی تھوڑے سے گریزاں اور کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نبی کریمؐ کی مجلسوں کا موضوع تو آخرت اور موت کی یاد ہوا کرتا تھا۔ لوگ اس حوالے سے اپنی پوری زندگی کو استوار کرتے اور اس کو بنیاد بناتے تھے۔ ادھر ہمارے ہاں اگر بھری بزم کے اندر کوئی موت کا تذکرہ لے بیٹھے تو لوگ اسے بدشگونی سمجھتے ہیں۔

جاں کنی کا مرحلہ
پھر وہ مرحلہ آجاتا ہے جب پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی، وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ(القیامۃ ۷۵:۲۹)، یعنی جاں کنی کا مرحلہ۔ جب انسان نہ چل سکے گا، انھی پنڈلیوں کے بل پر ہی تو انسان چلتا پھرتا اور جولانیاں دکھاتا ہے۔ ادھر سے مال بھیجا، اُدھر سے چھڑا لیا، اُدھر اتنے لینے کے دینے اور اِدھر اتنے دینے کے لینے، یہاں اکاؤنٹ کھولا اور وہاں اکاؤنٹ کھولا، لمحوں کے اندر دولت مند بن گیا۔ اِدھر لوگوں کو ملازم رکھا اوراُدھر برطرف کر دیا، ایک قلم اور ایک دستخط سے نہ جانے کتنے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرڈالا۔

پھر جب رب کی طرف لوٹنے کا سفر شروع ہوتا ہے تو ایک ایک کر کے منظر بدلتے چلے جاتے ہیں۔ کسی موذی بیماری یا طویل علالت کا زمانہ شروع ہوتا ہے تو وہی جہاں دیدہ، مشہور و معروف، محفل کی جان اور اپنے بچوں کے لیے آسمان کے تارے توڑ لانے کے لیے سرگرم فرد بستر سے لگا پڑا ہوتا ہے۔ کہتا ہے کہ میرے بچوں کو بلاؤ، مگر بچے مال و دولت سمیٹنے میں اور مینجمنٹ کی ذمہ داریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ پیغام ملتے ہی کہتے ہیں کہ کس مصروف وقت میں ابّاحضور یا دادا جان نے ناگاہ طلب فرمایا ہے۔ ایک اُکتاہٹ، ایک بے زاری کی کلونس چہرے پر چھا جاتی ہے، اور جب آتے ہیں تو جلد واپس جانے کا بہانہ پہلے ہی سے گھڑ کے ساتھ لاتے ہیں۔ ابا حضور کی آنکھیں توو ہی ہوتی ہیں لیکن دھندلائی ہوئی اور دیکھنے سے انکاری۔ وہی کان ہوتے ہیں لیکن سننے سے عاری ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے پہچاننے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ زبان سے کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن کہہ نہیں پاتے۔ کہتے کچھ ہیں، مگر ادا کچھ ہوتا ہے۔ اس لمحے کوئی سعادت مند بچہ پکارتا ہے کہ بلاؤ ڈاکٹر یا حکیم کو، بلاؤ قاری صاحب کو کہ آیت کریمہ کا ختم کرائیں، سورۂ یٰس کی تلاوت شروع کر دو۔

یہ کوئی انوکھا منظر نہیں ہے، یہ عمل تو روز ہمارے گھروں میں ہوتا ہے۔ اس منظر سے تو ہم روز گزرتے ہیں اور پھر اُس کے بعد اُٹھ کر چلے آتے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے کہ جو گن کر بتا سکے کہ اس نے کتنے لوگوں کو کندھا دے کر قبر تک پہنچایا ہے۔ ہم اَن گنت اور لاتعداد لوگوں کے جنازوں کو کندھا دیتے ہیں۔ وہ بھی اَن گنت اور لاتعداد ہیں کہ جن کی قبر کے کنارے کھڑے ہوکر، انسان کو قبر میں اُتارنے کا منظر ہم دیکھتے ہیں اور کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ذرا اس قبر کو اور گہرا کھودو اور میت کو مزید نیچے اُتارو۔ اسے نیچے اُتارنے میں پانچ چھے منٹ لگتے ہیں اور مٹی ڈالنے میں مزید چند منٹ۔ پھر اس کے اُوپر مٹی یا پتھر رکھنے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہوا کا تازہ جھونکا تک اسے نہ پہنچ پائے۔ مٹی ڈال کر اس دنیا سے اس کا رابطہ اور ناتا بالکل منقطع اور ختم کر دیا جاتا ہے___ مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ’اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا، اور اسی میں ہم تمھیں لوٹا رہے ہیں، اور اسی سے ہم تمھیں دوبارہ اٹھائیں گے‘‘۔

اس طرح سب لوگ جمع ہوکر میت کو منّوں مٹی تلے دبا دیتے ہیں۔ اس دوران میں کسی کو کوئی خوف نہیں آتا کہ یہ میرا دوست ہے، یہ میرا بھائی ہے، یہ میرا باپ ہے، یہ میرا بیٹا ہے، یہ میری ماں ہے، جسے ہم منوں مٹی تلے دبا رہے ہیں۔ یہ سارے دوست، احباب اور رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔ یہ پرائے نہیں، بلکہ اپنے ہوتے ہیں،یہ غیر نہیں، بلکہ دلوں میں بسے ہوتے ہیں کہ جن کی جدائی کے غم سے آنکھوں کے اندر نمی تیر رہی ہوتی ہے، جن کے لیے دلوں کے اندر گداز ہوتا ہے، خود خوف و خشیت کے اندر مبتلا ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جیسے باقی سب کوتو مرنا ہے، لیکن مجھے تو زندہ رہنا ہے ع
سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

موت کی یاد
موت کے جس دروازے سے گزر کر حشر کا میدان آتا ہے، اس موت کے بارے میں کوئی بات ایسی نہیں ہے کہ جو ہم سے پوشیدہ ہو، یاجس سے ہم لاعلم ہوں۔ ابتدا میں، مَیں نے چند احادیث کے ذریعے عرض کرنے کی جسارت کی ہے کہ موت کس طرح زندگی کا تعاقب کرتی ہے اور پھر موت خود زندگی بن جاتی ہے۔ کیسا ہی باصلاحیت اور بااختیار انسان ہو یا کتنا ہی تندرست و توانا انسان ہو، بالآخر موت کے ہاتھوں زچ ہو جاتا ہے۔ پھر چاروں طرف یہ خبر پھیل جاتی ہے۔ بہت سے لوگ سوگوار ہوجاتے ہیں لیکن اس خبر کو تو پھیلنا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہم ہیں کہ اس کی آمد کا انکار کرتے ہیں۔ وہ جن کے ہاتھوں نہ معلوم کتنے سیکڑوں ہزاروں انسانوں کو شفا ہوئی ہوتی ہے، اور جن کے ہاتھوں لوگوں کے بقول ہمیشہ کامیاب آپریشن ہوتا ہے، خود اسی مرض کے اندر چلے جاتے ہیں۔ گویا جو دوسروں کے لیے مسیحا ہوتے ہیں، اپنی مدد آپ نہیں کرپاتے۔ کون کون سا منظر ہے، جسے ہم نے نہیں دیکھا ہے اور جس سے ہم ناواقف ہوں۔

اس لیے موت کی یاد کے حوالے سے، جوانتہائی یقینی حقیقت ہے، اور جس سے زیادہ کوئی یقینی بات نہیں ہے، اس سے غفلت کو دُور کرنا، غفلت کے پردوں کو ہٹانا، اور یہ بھولا بسرا سبق ذہنوں کے اندر تازہ کرنا، دانش مندی بھی ہے اور سعادت مندی بھی کہ یہ دنیا فانی ہے۔ اس کو ہرگز دوام اور بقا نہیں ہے، جب کہ موت کے بعد کی زندگی کو بقا اوردوام ہے۔

شیخ جمال الدین کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ انھیں تاتاریوں نے گرفتار کرلیا اور موت بالکل آنکھوں کے سامنے تھی۔ تاتاری سردار نے تضحیک کے انداز میں ان سے پوچھا کہ شیخ تم زیادہ اچھے ہو کہ یہ کتا زیادہ اچھا ہے؟ شیخ نے ایک لمحے توقف کے بعد کہا کہ اگر میں اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں کہ میرا ایمان سلامت رہے تو میں اس کتے سے بہتر ہوں، لیکن اگر اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں کہ میرا ایمان سلامت نہ رہے تو یہ کتا مجھ سے بہتر ہے۔

وہ تاتاری سردار کی تضحیک کا نشانہ بھی نہ بنے اور پتے کی بات بھی کہہ گئے کہ اصل پہچان تو انسان کا ایمان ہے۔ یہ پہچان باقی ہے، تو پھر انسان ان راہوں پر چلتا ہے کہ جو مطلوب ہیں اور منزل کی طرف لے جانے والی ہیں۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ارادے اور عزمِ مصمم کا تعلق مضبوط ایمان سے ہے۔ محض ایمان لانے کے اعلان کے نتیجے میں کسی ارادے پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل انسانی زندگی کو سنوارنے، حقیقی کردار کے سانچے میں ڈھالنے اور درست رُخ دینے اور منزل کا شعور بخشنے کے لیے آخرت ہی وہ عقیدہ ہے جو بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی سے فکرِدنیا اور فکرِآخرت میں اعتدال و توازن پیدا ہوتا ہے اور انسان کا تصورِ زندگی درست ہوتا ہے۔موت وہ اٹل حقیقت ہے جس کے تذکرے سے آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور اعمال کے اندر تضاد، تناقض اور منافقت و ریاکاری کو دُور کرنے کے لیے انسان کے اندر جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں موت کی ہولناکی، اور روزِمحشر کے مناظر کو بار بار تازہ کرنے سے انسان خدا کی اطاعت و بندگی کے لیے فکرمند ہوتا ہے ۔ وہ راہِ خدا میں بہترین مال دیتا ہے کہ اصل دینا یہی ہے۔ وہ علم و عمل میں مطابقت پیدا کرتا ہے۔ ہرلمحے اپنے جائزے اور احتساب کا اہتمام کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں جان و مال لٹا کر سبقت لے جانے والوں میں ہوجاتا ہے۔ یقیناًایسے ہی لوگ روزِ محشر شاداں و فرحاں اپنے رب کی رضا و خوش نودی اور اس کی جنت کے مستحق ٹھیریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں استقامت دے اور اپنی رضا و خوش نودی کا مستحق ٹھیرائے، آمین!

Monday, August 7, 2017

اعجاز الحق کا حلقہ اور بے شعور عوام

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
میں نے پوچھا اعجازالحق صاحب کو جانتے ہیں؟ کہا جی ہاں کیوں نہیں وہ تو جنرل ضیاءالحق کے بیٹے تھے۔ میں نے کہا ”تھے“ نہیں بلکہ ہیں۔ تو حیرانگی سے سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ،ابھی وہ زندہ ہیں؟ کہاں ہیں؟ میں نے کہاں اسلام آباد پارلیمنٹ میں نوکری کرتے ہیں اور راولپنڈی میں رہتے ہیں۔کہنے لگے تو پھر ان کا کوئی بیان، کوئی انٹرویو، کوئی ٹاک شو، کوئی جلسہ ، بھلے اپنے حلقے میں ہی ہو، کوئی اَتا پتا؟ میں نے کہا وہ خاموش پارلیمنٹیریئر ہیں۔ کہنے لگے اتنی خاموشی تو ہم نے مردوں کی نہیں دیکھی، بھٹو کو دیکھیں چالیس سال قبل پھانسی ہوئی تھی لیکن آج بھی زندہ ہے، بے نظیر کو بھی آٹھ نوسال ہوگئے ہیں ہم سے رخصت ہوئے لیکن وہ آج بھی بلاول ہاوس میں زندہ ہے۔ میں نے کہا اعجاز الحق صاحب ہوں یا ان جیسے دیگر پسماندہ علاقوں کے جمہوری نمائندے ان کی خاموشی میں خود ان کا اتنا قصور نہیں جتنا وہاں کی بے شعور عوام کا ہے۔
پاکستان 1947ءمیں بنا تھا، اس کے بعد 70 سال بیت گئے ہیں ضلع بہاولنگر کے مختلف علاقوں اور وہاں بسنے والے بے شعور لوگوں کو دیکھ لیں، آج بھی وہی بلیک اینڈ وائٹ تصویر آپ کو نظر آئے گی جو ستر سال قبل تھی۔ گیس کا تو نام ونشان نظر نہیں آتا، سڑکیں کچی، وہی گدھا گاڑیاں، بس اتنا فرق پڑا ہے کہ کچھ لوگوں نے گدے کی جگہ ڑیڑے کے آگے چائنہ کا موٹر سائیکل باندھ لیا ہے۔ہر طرف مٹی ہی مٹی، کیچڑ ہی کیچڑ، اینٹ اور گاڑھے کے بنے مکان، گوبر سے لپٹی دیواریں، گندا پانی۔ضلع بہاولنگر شاید رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا سب سے بڑا ضلع ہوگا۔ بہاولنگر کے حلقہ این اے 191 سے مرد مومن مرد حق اعجاالحق صاحب الیکٹ ہوکر اسمبلی میں جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت ہرسال حصہ بقدر جثہ کے حساب سے ہر قومی نمائندے کو کروڑوں روپے فنڈ دیتی ہے، یہ فنڈ کہاں چلاجاتا ہے کچھ معلوم نہیں۔2015ءمیں بلدیاتی الیکشن ہوئے، ہریونین کونسل سے کئی کئی بلدیاتی نمائندے منتخب ہوئے اور پچھلے دو سال سے وہ بھی فنڈ لے رہے ہیں۔ بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس اور اس کے مختلف علاقے مروٹ وغیرہ پرانے زمانے کی یاد دلاتے ہیں، جب لوگ جوہڑکا پانی پیتے، دیواروں کو گوبر سے لیپاکرتے تھے۔بازار اور گلیاں کچی اور گھروں کا پانی گلیوں میں گرتا ہے، سیوریج کا کوئی نظام نہیں۔یہاں سے منتخب ہونے والے قومی، صوبائی اور بلدیاتی نمائندے سالوں سال گزر جاتے ہیں اور ایک ٹکے کا کام نہیں کرتے، لوگ زیرزمین زہرآلود پانی پینے پر مجبور ہیں، سپلائی کے ذریعے جو پانی بعض علاقوں میں دیا گیا ہے وہ بھی نہر کا گندا اور آلودہ پانی ہے۔
پچھلے دوسالوں سے میرا آنا جانایہاں بہت ہوا ہے، میں نے اعجازالحق صاحب کے حلقے اور خصوصا مروٹ میں دیکھا ہے کہ بمشکل صاف پانی کا ایک فلٹریشن پلانٹ منظور ہوا اور وہ بھی حیلے بہانے سے 2018کے الیکشن تک ملتوی کیا جارہا ہے تاکہ عین الیکشن کے دنوں میں فلٹریشن پلانٹ کے نام پر ووٹ کھرے کیے جاسکیں۔اس کے علاوہ واٹر سپلائی کی ایک چھوٹی سی باالکل معمولی سی سکیم بھی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔آج اکیسویں صدی میں میں بھی اس واٹر سپلائی سکیم میں عام ہلکی پلاسٹک کے پائپ(بجلی کی  وائرنگ والے پائپ) استعمال کیے جارہے ہیں۔ یقینا وفاقی حکومت نے تو فنڈ اس حساب سے نہیں دیے ہوں گے کہ آپ واٹر سپلائی کے لئے بجلی کی وائرنگ والے پائپ استعمال کریں، انہوں نے لوہے یا اعلیٰ کوالٹی کے پی وی سی پائپ کے حساب سے فنڈز دیے ہوں گے، لیکن کرپشن کی انتہاءکرتے ہوئے پہلے تو ہرسکیم ہی پوری کی پوری ہضم کردی جاتی ہے اور اگر ایک آدھ لگانا بھی شروع کریں بیس فیصد پیسہ بھی نہیں لگایا جاتا۔
اگر طبی سہولیات کو دیکھا جائے تو پوری تحصیل بلکہ ضلع کی سطح پر بھی کوئی قابل ذکر ہسپتال نہیں، تحصیلوں میں تو معمولی معمولی ڈسپنسریاں ہیں، چنانچہ لوگ اپنا ضلع اور اپنا حلقہ چھوڑ کر دوسرے ضلعے بہاولپور کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ڈینٹل سرجن کا تصور تو خواب میں ہی کیا جاسکتا ہے، بازاروں میں جمور(پلاس) لیے (لوہار) لوکل سرجن بہت مل جاتے ہیں جن کا دانت نکالنے کا طریقہ وہی  ہوتا ہے کہ لوہار  دانت کو جمور ڈال کر زور لگاتے ہیں اور ساتھ مریض کو بھی کہتے ہیں تم پیچھے کو زور لگاو۔یہی صورتحال تعلیم کی بھی ہے جس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔
میرے خیال میں اس سارے معاملے میں اصل قصور وار وہ لوگ ہی ہیں جو ووٹ دے کر ان کو منتخب تو کرلیتے ہیں لیکن پھر اپنا حق ان سے وصول نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں، لوگوں کی اکثریت کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارا کونسلر کون ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ مجھے اپنے ضلع مانسہرہ اور بہاولنگر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہاولنگر ہم سے بیس سال پیچھے جارہا ہے، یعنی اس قسم کی صورتحال وہاں آج سے بیس سال قبل نوے کی دہائی میں تھی۔لیکن آج وہاں یہ صورتحال ہے کہ دور دراز پہاڑوں میں ایک ایک گھر تک بجلی اور پکی سڑک گئی ہوئی ہے۔ وہاں سیوریج کا نظام نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ پہاڑی علاقہ ہے پانی خود نیچے ندی کی طرف بہہ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ عوامی نمائندوں سے کام لینا جانتے ہیں، وہاں 2015ءکے بلدیاتی الیکشن میں جو نمائندے منتخب ہوئے ہیں وہ سر پیٹ رہے ہیں کہ کن لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑ گیا ہے ہماری جان ہی نہیں چھوڑتے۔عوامی نمائندوں کے پاس فنڈآنے سے پہلے ہی لوگوں کو پتا چل جاتا ہے کہ اس کے پاس فلاں سکیم کے لئے اتنا اتنا فنڈآنے والا ہے۔
بہرحال عوام کے بے شعور ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اعجازالحق صاحب کی کوئی ذمہ داری نہیں یا سارے فنڈز ان کے لئے حلال ہوگئے ہیں، انہیں چاہیے اپنے والد کی نیک نامی پر دھبہ نہ آنے دیں، اپنے حلقے کی عوام کو اکیسویں صدی کی سہولیات خصوصا بنیادی ضروریات صاف پانی، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دیں۔

Saturday, July 29, 2017

پاکستان میں سود کے خاتمہ کی جدو جہد اور اسکا مختصر سا جائزہ

(مخشف حامد)

24 جون 2002 👈
پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا
جاسکتا ہے، اِس دن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سود کے خاتمے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ قرار دیا۔ اِس افسوسناک اور شرمناک فیصلے نے ناصرف یہ کہ پاکستان کی معیشت کو اسلامی اصلاحات سے مزین کرنے کے عمل کا رستہ روکا بلکہ اِس کی وجہ سے اُس بتیس سالہ جدوجہد کا خاتمہ کردیا گیا جو پاکستان میں سود کے خاتمے سے متعلق کی جارہی تھی۔ ویسے تو اِن کوششوں کا سلسلہ پاکستان بننے کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔
........................ ................
آئیے پاکستان میں سرکاری سطح پر سود کے خاتمے کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1969👈
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے ایک انکوائری کے بعد ڈھاکہ میں دسمبر 1969 میں اسلامی مشاورتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ جس میں قرضوں پر اضافی وصولی، سیونگ سرٹیفیکیٹس، پرائز بونڈز اور پوسٹل لائف انشورنس کو سود کی مختلف شکلیں قرار دیت ہوئے سود سے پاک معیشت کے قیام کی خاطر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی۔
1973👈
پاکستان کے نئے آئین کے آرٹیکل 38 کے مطابق حکومت کو پابند کیا گیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو ملک سے سود کا خاتمہ کیا جائے۔
1977👈
29 ستمبر 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی تاکہ وہ سود سے پاک معیشت کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ کونسل میں ممتاز بینکار اور ماہرین اقتصادیات شامل تھے جنھوں نے انتھک محنت اور تحقیق کے بعد اپنی تجاویز پیش کیں۔
1980👈
جنرل ضیاءالحق کے کہنے پر 25 جون 1980 کو اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک اور نظر ثانی شدہ رپورٹ پیش کی۔ جسے ڈاکٹر اسرار احمد کی خواہش پر عوام کے سامنے بھی لایا گیا۔ اِس رپورٹ کا ایک خلاصہ صدیقی ٹرسٹ کراچی نے شائع بھی کیا تھا۔
1981👈
ایک وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔ لیکن مالی معاملات اِن کے دائرہ کار سے باہر رکھ کر اِن کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے۔ سود کے متبادل کے طور پر پی ایل ایس اور مارک اپ کے طریقے رائج کیے گئے۔ جس پر علمائے کرام نے اِسے نئی بوتل میں پرانی شراب قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔۔۔
1988👈
15 جون 1988 کو صدر ضیاء الحق نے نفاذ شریعت آرڈیننس جاری کیا۔ اور کراچی یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر احسان رشید کی سربراہی میں ایک اسلامی معیشت کمیشن تشکیل دیا۔ لیکن 2 مہینے بعد جنرل ضیاء الحق کے طیارے حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو نے نئی حکومت قائم ہوتےہی کمیشن کو تحلیل کردیا اور نفاذ شریعت آرڈیننس کو بھی پارلیمنٹ میں منظوری کی خاطر پیش نہ ہونے دیا گیا۔

1991👈
وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر ایک کمیٹی پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ جس کا کام غیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے ملک کو نکال کرخود انحصاری کی جانب گامزن کرنے کی خاطر اصلاحات کی جامع پالیسی مرتب کرنا تھا۔ یہ رپورٹ انتہائی مختصر وقت میں وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی۔
ایک اور کمیشن اسٹیٹ بنک اف پاکستان کے تحت قائم کیا گیا۔ جس کا کام ملک کو اسلامی معیشت کی جانب گامزن کرنے کی خاطر اصلاحات سے متعلق تجاویز پیش کرنا تھا۔ لیکن 1993 میں معین قریشی حکومت کے آتے ہی کمیشن تحلیل کردیا گیا۔
ایک اور کمیٹی مولانا عبد الستار خان نیازی کی قیادت میں بنائی گئی جس کا کام سود سے پاک معیشت کے قیام کی خاطر ایک رپورٹ تیار کرنا تھا۔۔۔ یہ رپورٹ بھی جلد وزیر اعظم کو پیش کردی گئی۔
14 نومبر 1991 کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا تاکہ ملکی معیشت کو سود سے پاک کیا جاسکے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اِس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ آنے والے آٹھ سال تک ایک کے بعد دوسری کسی نہ کسی وجہ کو بہانہ بناتے ہوئے اِس اپیل کی سماعت نہ ہوسکی۔ اور معاملے کو کھٹائی میں ڈالا جاتا رہا۔۔۔
1997👈
23 فروری1997 کو وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی گئی جس کا کام خدشات و اعتراضات کو سامنے رکھکر سود سے پاک معیشت کے قیام کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ لیکن حسبِ روایت کوئی عملی نتائج سامنے نہ آئے
1999👈
شریعت ایپلیٹ بینچ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی اور اپیل کو خارج کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور حکومت کو ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے 30 جون 2001 تک کا وقت دیا۔
2001👈
پرویز مشرف حکومت کی جانب سے درپردہ ایک پرائیویٹ بنک یو بی ایل کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک اور اپیل دائر کروائی گئی۔ جس کی سماعت کرتے ہوئے شریعت ایپلیٹ بینچ نے وفاقی حکومت کو مزید ایک سال کا وقت دیا کہ وہ ملک سے سود کا خاتمہ کرے۔
2002👈
مئی 2002 میں ایڈوکیٹ جنرل اف پاکستان نے حکومتِ پاکستان کو تنبیہ کی کہ ایسے علمائے کرام سے ہرگز مشاورت نہ کی جائے جو بنکوں کے سود کو حرام قرار دیتے ہیں۔
24 جون 2002 کو ایپلیٹ بینچ کے ججوں کو حکومت کی جانب سے تبدیل کیا جاچکا تھا۔ شامل کردہ نئے جج صاحبان نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت کو سودی معیشت جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں سود کے خاتمے کے لیے پاکستان میں کی جانے والی بتیس سالہ کوششوں کا خاتمہ ہوا۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

Friday, July 21, 2017

نظام کی تبدیلی یا خلافت علی منہاج النبوة کیسے ممکن ہے۔

سیدعبدالوہاب شیرازی
اس وقت ملک خداد پاکستان میں بے شمار مذہبی اور سیاسی جماعتیں نظام کی تبدیلی کا دعویٰ لیے کام کررہی ہیں۔جن میںتحریک انصاف،ڈاکٹر طاہرالقادری، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی،جمعیت علمائے اسلام، تبلیغی جماعت وغیرہ وغیرہ سرفہرست ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ان حضرات اور جماعتوں کے نزدیک نظام کی تبدیلی سے کیا مراد ہے لیکن اکثر وبیشتر ان جماعتوں کے قائدین خلافت راشدہ کا حوالہ دیتے رہتے ہیں، جس سے یہی پتا چلتا ہے کہ ان کے نزدیک تبدیلی سے مراد ایسی تبدیلی ہے جو ہمارے اس بوسیدہ نظام کو خلافت راشدہ جیسا یا اس کے قریب قریب بنا دے۔ لہٰذا میں اس تحریر میں اسی بات کا مختصر جائزہ لوں گا کہ تبدیلی کیا ہوتی ہے اور کیسے ممکن ہے۔؟
پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ تبدیلی کے لئے ایک لفظ انقلاب بھی بولا جاتا ہے، اور یہ لفظ بھی ہرجماعت اور ہر لیڈر کی زبان پر اکثر وبیشتر سنا جاسکتا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انقلاب کسے کہتے ہیں؟ کیا انقلاب پولیس کے محکمے کو ٹھیک کرنے کا نام ہے؟ کیا انقلاب لاکھوں سکول بنانے کا نام ہے؟ کیا انقلاب کروڑوں درخت لگانے یا سڑکوں کا جال بچھانے اور موٹر وے کا نام ہے؟کیا انقلاب جمعے کی چھٹی بحال کرنے کا نام ہے؟ کیا انقلاب مدارس کی اسناد ہائرایجوکیشن سے ایم اے کے برابر کروانے کا نام ہے؟

جی نہیں ، ان میں سے کوئی بھی تبدیلی حقیقی انقلاب نہیں کہلاتی۔ حقیقی انقلاب وہی ہوتا ہے جس میں معاشرتی، معاشی یا سیاسی میدان میں ایسی بڑی تبدیلی لائی جائے کہ پہلے والا نظام مکمل طور پر ختم ہوکر اس کی جگہ نیا نظام آجائے۔ مثلا انقلاب فرانس جس میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور اس کے نتیجے میں پورا کا پورا سیاسی نظام تبدیل ہوگیا، یعنی بادشاہت ختم ہوکر جمہوریت آگئی۔ اسی طرح انقلاب روس میں مکمل معاشی نظام تبدیل ہوا اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہوا۔
باالکل اسی طرح آج سے پندرہ سو سال قبل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو انقلاب لائے تھے اس میں تینوں گوشے مکمل تبدیل ہوگئے تھے۔ یعنی وہ انقلاب معاشرتی، معاشی اور سیاسی تینوں میدانوں میں آیا تھا۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف جس کا حوالہ ہمارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اکثر وبیشتر اپنے خطابات میں دیتے رہتے ہیں، یعنی خلافت راشدہ جیسا نظام لانا۔ پہلے تو ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ خلافت کا مقصد کیا ہے؟ خلافت کا نظام کیوں لایا جائے؟
مقاصد خلافت:
1 ۔ اقامت دین:
مقاصد خلافت میں سے ایک مقصد اقامت دین ہے۔ یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا تھا اور انہوں نے اس دین کو عرب میں قائم کرکے دکھایا تھا، اب اس دین کو دوبارہ اسی طرح قائم کرنامقاصد خلافت میں سے ایک مقصد ہے۔
2۔قوانین شریعت کا نفاذ:
خلافت کا دوسرا مقصد قوانین شریعت کا نفاظ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حدود وقصاص کے نفاذ کو فرض قرار دیا ہے، اور یہ فرض بغیرخلافت کے ادا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا خلافت اس لئے بھی قائم کرنا ضروری ہے تاکہ حدود وقصاص جیسے معطل فرائض کی ادائیگی ہوسکے۔
3۔ غلبہ اسلام:
خلافت کا تیسرا مقصد غلبہ اسلام ہے۔ قرآن حکیم میں تین مقامات پر حضور ﷺ کا مقصد بعثت ہی غلبہ دین بیان ہوا ہے، چنانچہ حضور ﷺ نے عرب کی حد تک اپنی زندگی میں ہی اس مقصد کو پورا کردیا تھا اور باقی کام امت کے حوالے کرکے اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے، اب اسلام کو غالب کرنے کے لئے نظام خلافت کا ہونا ضروری ہے۔
4۔ امت کی سیاست اور اجتماعیت:
خلافت کا چوتھا مقصد امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست اور اجتماعیت کو قائم رکھنا ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تم پر خلیفہ بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارا اتحاد رہے اور تمہارا کلمہ(مرکزیت) قائم رہے۔
5۔نظام عبادات کا قیام       6۔ نظام احتساب کا قیام      7۔ نظام جہاد کا قیام          8۔ نظام اقتصاد کا قیام
9۔عدالتی نظام کا قیام         10۔ نظام تعلیم کا قیام
یہ چند ایک چیزیں مقاصد خلافت میں سے ہیں، ان کے حصول کے لئے نظام خلافت کا ہونا ضروری ہے۔بحیثیت مسلمان اور بحیثیت امت محمدی ہونے کے مندرجہ بالا تمام امور کا قیام نہایت ہی ضروری ہے، اور یہ تمام امور بغیر نظام خلافت کے ممکن نہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خلافت کی اتنی اہمیت ہے تو کیا مسلمانوں نے اس کے لئے کبھی کوشش نہیں کی؟ مسلمانوں نے ہردور میں خصوصا پچھلے دو سو سال میں بہت کوششیں کی ہیں، اور آج بھی بہت سی مذہبی اور سیاسی جماعتیں خلافت راشدہ کا نام لیتی رہتی ہیں لیکن کامیابی کسی کو نہیں ملی۔ اگر اس ناکامی کے اسباب پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافت راشدہ کے نظام کو قائم کرنے کے لئے اب تک جتنی کوششیں ہوئی یا ہورہی ہیں ان کی ناکامی کے کچھ اسباب ہیں۔ مثلا
          1۔ غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ کار اختیار کرنا۔ مثلا انفرادی حیثیت میں حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا۔کچھ افراد اور تنظیموں نے اپنے ہی حکمرانوں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کرکے غیرفطری طریقہ کار اختیار کیا جس کا نتیجہ ناکامی کی شکل میں ظاہر ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام جب تک مکہ میں دوسرے حکمرانوں کی رعایہ کے طور پر رہتے تھے اس وقت تک آپ کو مسلح جدوجہد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہاں ان کے باطل عقائد، باطل نظریات اور باطل اعمال کا بھرپور رد کرنے کا حکم تھا لیکن ہاتھ اٹھانے کی قطعا اجازت نہیں تھی۔ جونہی آپ ہجرت کرکے مدینہ پہنچتے ہیں اور آپ کی حیثیت رعایہ سے بدل کر حکمران والی بنتی ہے تو فورا آپ مسلح جدوجہد شروع کردیتے ہیں۔
          2۔غیروںکے بنائے ہوئے نظام (جمہوریت)کے تحت جدوجہد کرنا۔ یعنی یہ کیسے ممکن ہے جس شاخ پر آپ خود بیٹھے ہوں اسی کو آپ کاٹ بھی لیں؟ ایسا ناممکن ہے۔ نظام خلافت راشدہ کو قائم کرنے کا مطلب ہے مغربی نظام کو جڑسے اکھاڑ کر پھینکنا ، اور یہ کام خود جمہوریت تو ہر گز نہیں کرے گی۔ جمہوریت میں انتخابات ان لوگوں کو منتخب کرنے کے لئے ہوتے ہیں جو اس نظام کو پانچ سال تک چلائیں، الیکشن اس لئے نہیں ہوتے کہ آپ آکر کے اس کی جڑیں کاٹیں، اگر ایسا کریں گے تو اس کے رکھوالے آپ کو دو دن بھی نہیں چھوڑیں گے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں، آپ حماس۔اخوان المسلمون۔الجزائر کی ایف آئی ایس کو دیکھ سکتے ہیںیہ سب بھاری اکثریت سے جیت کر ایوانوں میں گئے پھر ان کے ساتھ کیا ہوا۔متحدہ مجلس عمل نے پانچ سال تک ایک صوبے میں حکومت کی اور اس نظام کے تحت نٹیو کی سپلائی لائن کی حفاظت بھی کرتی رہی۔
          3۔ناکامی کا تیسرا سبب دین کے کسی ایک گوشے میں محنت کرناہے، جیسے صرف عبادات کے گوشے پر محنت کرنا۔صرف رفاہی اور تعلیمی سرگرمیوں پر اکتفاءکرنا۔مسجدیں اور مدرسے بنانا،اسلامی ویڈیوز بنانا، درس وتدریس کرنا، کتابیں لکھنا، مسلمانوں کے لئے رفاہی اور فلاحی سرگرمیاں سرانجام دینا بلاشبہ اجروثواب کے کام ہیں لیکن خلافت کا قیام صرف انہیں کاموں سے ممکن نہیں۔
نظام کی تبدیلی یا قیام خلافت کے لئے ضروری چیزیں:
نظام خلافت کے قیام یا نظام کی تبدیلی کے چند ایک چیزیں نہایت ہی ضروری ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ مثلا
1۔ منہج نبوی
نظام کی تبدیلی کے لئے سب اہم اور سب سے ضروری چیز وہ منہج اور طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جواللہ تعالیٰ نے بتایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا ۔
٭....رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ اسلامی ریاست قائم کی ....جو کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد کے نتیجے میں مدینہ میں قائم ہوئی تھی۔
٭....اس کے بعد آپ ﷺ خلفائے راشدین اور دیگر خلفاءنے اس ریاست کو دعوت وجہاد سے پھیلایا۔
٭....یہ ریاست صرف ایک بار قائم ہوئی تھی لہٰذا جو لوگ اس خلافت کی واپسی چاہتے ہیں انہیں وہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے بارے پیشن گوئی کرتے ہوئے فرمایا تھا:
تکونُ النُبوةُ فیکم ماشاءاللہ اَن تکونَ، ثم یَرفَعُھا اذا شاءاَن یرفعَھا، ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة، فَتکونُ ماشاءاللہ اَن تکونَ، ثم یرفعُھا اذا شاءان یرفعَھا، ثم تکونُ مُلکًا عَاضًّا، فیکون ماشاءاللہ ان یکون، ثم یرفعُھا اذا شاءان یرفعھا، ثم تکونُ مُلکًا جَبرِیَّةً، فتکونُ ماشائاللہ ان تکونَ، ثم یرفعُھا اذاشاءان یرفعھا، ثم تکونُ خلافة علی منہاج النبوة،ثم سکت۔ (مسند احمد)                                                    
آخری الفاظ ہیں: اس کے بعد پھر تم میں نبوی طریقے پر خلافت قائم ہوگی ۔ علی منہاج النبوة کا ایک مطلب یہ ہے کہ نبوی طرز پر خلافت ہوگی، اور ایک مطلب ہے اسی نبوی طریقے سے خلافت قائم ہوگی جس طریقے پر نبی نے قائم کی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے نبوی طریقہ کیا ہے؟
حضور ﷺکو جب نبوت ملی تو آپ نے(1) سب سے پہلے اس دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ (2) جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا آپ نے ان کو بھرپور طریقے سے منظم کیا، انہیں آپس میں جوڑا اور ایک لڑی میں پرو دیا۔ (3) پھر آپ نے ان کی روحانی تربیت کی۔ جسمانی تربیت کرنا اس وقت کا عام معمول اور رواج ہی تھا، ہر شخص تیر تلوار اور نیزے کا استعمال جانتا تھا۔(4) دعوت کا کام بڑے پیمانے پر بڑھادیا جس کے نتیجے میں ٹکراو شروع ہوا اور جواب میں ظلم وستم ہونے لگا، لیکن آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، ظلم برداشت کیالیکن دعوت سے خاموشی نہیں اختیار کی۔(5)آپ کی دعوت کے نتیجے میں آپ کو مدینہ میں ایک ٹھکانہ میسر آگیا آپ وہاں تشریف لے گئے چند مہینے تک اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے بعد آپ نے اقدام کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ مکے کی حکومت پر معاشی ضرب لگانے کے لئے ان کے تجارتی قافلوں پر حملے شروع ہوئے اور باالاخر مسلح تصادم شروع ہوگیا اور پھر صرف آٹھ سال بعد مکہ بھی فتح ہوگیا۔
خلاصہ کلام یہ کہ ہمیں نظام کی تبدیلی کے لئے اسی طرح منہج نبوی کو اختیار کرنا ہوگا۔
2۔ضرورت جماعت
نظام کی تبدیلی کے لئے دوسری نہایت ہی اہم چیز ”جماعت“ ہے۔ یعنی یہ کام کسی ایک آدمی کے کرنے کا نہیں بلکہ اس کے لئے ایک بھرپور اور منظم جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر یامرون باالمعروف وینھون عن المنکر
٭....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظام کی تبدیلی کا کام صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ مل کر کیا۔
٭....یہ جدجہد باریک بینی اور منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے، جسے ہمیں رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق کرنا ضروری ہے۔
3۔بھرپور سیاسی تحریک
نظام کی تبدیلی کے لئے تیسری نہایت ہی اہم چیز باطل عقائد،نظریات، اور اعمال کو بے نقاب کرنے کے لئے بھرپور سیاسی تحریک چلانا ضروری ہے۔
٭....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے کے بعد تین سال تک خفیہ دعوت کے ذریعے ایک جماعت کی تشکیل فرمائی اور پھر چوتھے سال بھرپور تحریک شروع کردی۔
٭....آپ ﷺ نے مکہ کے لیڈروں، حکمرانوں اور ان کے باطل نظریات کو چیلنج کیا۔
٭....آپ ﷺ نے ان کے سردار ”ابوالحکم“ (فیصلوں کا باپ) کو ابوجہل قرار دیا۔
٭....آپ ﷺ نے ان کے دوسرے سردار ”ابولہب“ کے بارے کھل کر سورہ لہب بیان کی کہ ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور وہ نامراد ہوگیا۔
٭....آپ ﷺ نے ان کے ایک تیسرے سردار ”ولید بن مغیرہ“ کی کھل کر مذمت کی اور سورہ القلم کی آیات پڑھ پڑھ کر سنائیں:
          زیادہ قسمیں کھانے والا۔بے وقار۔ کمینہ۔ عیب گو۔ چغل خور۔ بھلائی سے روکنے والا۔ حد سے بڑھ جانے والا گنہگار۔گردن کش اور بے نسب۔
٭....اسی طرح دیگر سرداروں اور حکمرانوں میں پائی جانے والی خرابیوں کو کھل کربیان کیا۔
٭....مکہ میں ہونے والی یہ شدید جدوجہد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم خود کو صرف اپنے ذاتی اوصاف کو درست کرنے تک محدود نہیں کرسکتے، بلکہ ہمیں معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں اور باطل نظریات کو کھل کر چیلنج کرنا ہوگا، صرف امرباالمعروف سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں بھرپور طریقے سے نہی عن المنکر بھی کرنا ہوگا۔
٭....حضورﷺ نے ان کے باطل معبودوں کا کھل کر رد بیان کیا۔ جس کا ذکر مکی سورتوں میں جابجا موجود ہے۔
٭....آپ ﷺ نے ان کے غلط اعمال کا بھی کھل کر رد بیان کیا۔ جیسے: (ویل للمطففین، الذین اذاکتالو علی الناس یستوفون....الخ) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے........الخ
٭....آپ ﷺ نے کعبہ کے ننگے طواف ، بچیوں کو زندہ درگور کرنا، غلاموں پر ظلم وستم،اور دیگربرائیوں کے خلاف آواز بلند کی۔
آج ہمیں بھی باالکل اسی طرح ”سیکولرازم، لبرل ازم، الحاد، نام نہاد مساوات،سرمایہ دارانہ نظام، مغربی عدالتی نظام، معاشی نظام، اور سیاسی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔
4۔دعوت اور تحریک
٭....حضور ﷺ نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے عوام کے اندر بھرپور دعوتی کام کیا۔ اور عام وخاص ہر ایک کو اس مقدس جماعت میں شمولیت کی دعوت دی۔یہ دعوت آپ نے خفیہ بھی دی اور اعلانیہ بھی۔ گلی محلے کی سطح پر بھی دی اور بازاروں، میلوں اور موسم حج کے موقع پر بھی دی۔مکہ میں بھی دی اور مکہ سے باہر دوسرے قبائل کو بھی دی۔یہاں تک کہ مدینہ کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور آپ کو اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کا موقع ہاتھ آیا۔
الغرض یہ چار کام (1۔منہج نبوی۔2۔جماعت کا قیام۔3۔سیاسی جدوجہد۔4۔ بھرپور دعوت اور تحریک) کرکے ہی ہم نظام میں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں جوہمیں خلافت راشدہ کے نظام کے قیام کے قریب کردے