Search This Blog

Saturday, October 8, 2016

اتنی وضاحت کافی نہیں

مولانا الیاس گھمن کے معاملے میں اب تک تمام فریقوں کی اپنی اپنی وضاحتیں آچکی ہیں۔
چنانچہ خاتون کی طرف سے ان کے بیٹے کا خط، مولانا الیاس گھمن صاحب کی طرف سے ایک ویڈیو بیان، مفتی ریحان کی وضاحت سبوخ سید کی طرف سے اور خود سبوخ سید نے بھی اپنی وضاحتین پیش کردی ہیں۔ کل مفتی ریحان کی طرف سے ایک اور مضمون بھی آچکا ہے جس میں پہلے مضمون کے الزامات کے علاوہ مزید دو تین نئے انکشافات یا الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
البتہ اس سارے معاملے میں وہ  علمائے کرام جن کا ذکر مولانا الیاس گھمن کی جماعت چھوڑنے کی لسٹ میں آیاہے، یا وہ علماء جن کا ذکر خاتون کے خط لکھنے یا استفتاء کے حوالے سے آیا ہے وہ سب پراسرار طور پر باالکل خاموش ہیں۔ یہ خاموشی مولانا الیاس گھمن کے معاملے کو مشکوک بنا رہی ہے، کیونکہ علماء یا مدارس کے خلاف جب بھی کوئی بات ہوتی ہے سارے علماء فورا میدان میں کود پڑتے ہیں جبکہ اس معاملے میں اتنی بدنامی،اتنے الزامات کے جن کے تصور سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، کوئی مسلمان تو دور کی بات کوئی انسان بھی شاید ایسا تصور نہیں کرسکتا۔ خصوصا مفتی ریحان کے دوسرے مضمون میں جو نیا الزام لگایا ہے جس میں عمرہ کی ادائیگی پر بھیجنے کا ذکر ہے، اس بات کو دیکھ کر انسانیت شرماجاتی ہے۔
ابھی تک صورتحال کے مطابق کم از کم اتنی بات تو کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ الزامات کسی تیسرے کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی سابقہ اہلیہ ہی کی طرف سے لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح ان کی اہلیہ کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہوچکی ہے کہ یہ خط میں نے نہیں پھیلایا بلکہ کسی دارالافتاء کے مفتی نے پھیلایا ہے۔ اس بات کا جھوٹا ہونامجھے ان تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا، اور مجھے ان تصاویر میں دو ایسے شواہد ملے جن سے مجھے کنفرم ہوگیا کہ ان خطوط کی تصاویر خود ان کی اہلیہ نےاپنے  موبائل سے لی ہیں۔(ان شواہد کا ذکر میں یہاں ضروری نہیں سمجھتا)۔ خطوط کی تصاویر خود ہی لے کر پھیلانے کے لئے کسی کو فراہم کرنابھی اسی بات کی دلیل ہے کہ سابقہ اہلیہ ہی الزامات لگارہی ہےکوئی اور یہ الزامات نہیں لگا رہا۔ وہ الگ بات ہے کہ مولانا کے مخالفین بھی اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے معاملے کی خوب ایڈورٹائزنگ کررہے ہیں۔
اب اس معاملے کے دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں۔ چار پانچ دن تک سوشل میڈیا پر الزامات لگتے رہے لیکن مولانا کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا البتہ ان کے محبین اپنے طور پر معاملے کو ہینڈل کرتے رہے، گالیاں دیتے رہے، ۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ مقلدغیرمقلد کا مسئلہ ہے۔ کبھی کہاجاتا حیات ممات کا مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ بالاخر کئی دن کے بعد جب دباو شدید سے شدید تر ہونے لگا تو مولانا کی طرف سے ایک پروگرام کی چار پانچ ہیوی کیمرے لگا کر ایک ویڈیو ریکارڈ کی گئی جس میں مولانا نے کسی بھی الزام کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا البتہ اس معاملے کو ایکسپوز کرنے والی ویب سائٹس کے بارے میں کہا کہ ان کو گوگل کی طرف سے ہر کلک پر ڈالر اور مجھے نیکیاں مل رہی ہیں۔مولانا نے ان الزامات کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی اس خاتون کا نام تک لیا ، بلکہ کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے جو گزرجائے گا۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ الزامات درست ہیں اب مجھے میڈیا ٹرائل کے ذریعے سزا مل رہی ہے اور میں اس سزا کو سہہ رہا ہوں جو آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔
ہمارے خیال میں مولانا کو مختصرا یہ وضاحت بھی کردینی چاہیے  کہ آیا وہ خاتون ان کی بیوی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو جدائی یا طلاق کی وجہ کیا بنی؟ کوئی تو وجہ ہوگی، بیوی نافرمان ہوگی،بدچلن ہوگی جس کی وجہ سے طلاق تک نوبت پہنچی۔ گوگل کے ڈالر یا نیکیاں ملنا یہ کوئی وضاحت نہیں۔اور نہ ہی یہ وضاحت ہے کہ ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، جومرضی کرنا ہے کرلو۔
اس معاملے کی سنگینی اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پورا پاکستان اپنے علماء سمیت خاموش ہے، جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ معاملہ دو تین سال سے اندر ہی اندر علماء کے زیرتبصرہ رہ چکا ہے، لہٰذا اب انہیں کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو بھی یہ صورتحال نہ صرف مولانا کے لئے بلکہ تمام مدارس اور علماء کے لئے  اچھی نہیں، علماء کی خاموشی ان الزامات کو درست ثابت کررہی ہے۔
میرے خیال میں اس معاملے میں حکومتی اداروں سمیت علمائے کرام کو بیچ میں فوری طور پر آنا چاہیے۔کب تک میاں بیوی کے جھگڑے کی وجہ سے لاکھوں علماء اور طلباء گلیوں میں سرچھپائے اور سر جھکائے پھرتے رہیں گے۔ جب سے یہ معاملہ گرم ہے علماء اور طلباء کو بدکماش لوگ آوازیں کستے اور طعنے دیتے نظر آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس وقت علماء کی قیادت کرنے والا کوئی رہنماء نہیں جو اس معاملے کو فوری طور پر حل کرکے اس کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردے۔

Thursday, October 6, 2016

مفتی ریحان: مستقبل کی دنیا میں۔

مفتی ریحان مستقبل کی دنیا میں
یہ 2041 کی ایک صبح ہے۔ ملک کی سرکاری زبان اردو ہوچکی ہے۔
قومی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو ادب  کی کلاس شروع ہے۔ پروفیسرمختارسوہانی سٹوڈنٹ کا ہوم ورک چیکک کررہے ہیں۔
 ہوم ورک چیک کرنے کے بعد اردو ادب کے استعاروں پرلیکچر ہونا ہے، جس کا اعلان پروفیسر صاحب کل ہی کرچکے تھے۔
 کلاس کا ماحول یہ ہے کہ جس دن جس موضوع پر بات ہونی ہوتی ہے اس دن پوری کلاس میں پورا ماحول ہی اس طرح بنا دیا جاتا ہے۔
 لہٰذا آج آپس کی گفتگو میں بھی استعاروں کا استعمال ہوگا، کسی کو ڈانٹ پڑے گی تو وہ بھی استعارے کی لاٹھی کے ساتھ۔
 ایک سٹوڈنٹ نے ہوم ورک بالکل بھی نہیں کیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے غصے میں کہا: ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟
 سٹوڈنٹ نے کہا: سرجی! دراصل کل جب میں گھر پہنچا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
 سٹوڈنٹ نے پوری ایک سٹوری سنا دی، لیکن وہ بھول گیا کہ یہ 2041ء ہے، سٹوڈنٹ سکول پہنچایا نہیں، گھرپہنچا یا نہیں، ہوم ورک کیا یا کھیلتا ہی رہا۔ پل پل کی بات بذریعہ ڈیوائس استاد اور والدین کے درمیان شئیر ہورہی ہے۔کہاں کہاں گیا ساری لوکیشنز سیو ہورہی ہیں۔
چنانچہ پروفیسر صاحب نے کہا:
مفتی ریحان مت بنو سیدھی سیدھی بات بتاو۔
 پھراسی سے آگے اس دن کا لیکچر شروع ہوگیا اور پروفیسر صاحب نے بتاناشروع کیا کہ مفتی ریحان بطور استعارہ اردو میں کب اور کیوں شامل ہوا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ:
 اس استعارے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، یہی کوئی بیس پچیس سال پہلے اکتوبر 2016 کے دن تھے۔
اقتصادی #راہداری پرکام تیزی سے جاری تھا، چین کے سفارت کار  نے اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب میں پریسس کانفرنس بھی کردی تھی۔آل پارٹی کانفرنس شیدا ٹلی کو دعوت دیے بغیر ہوچکی تھی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی شروعع ہوچکا تھا،بابا عمران خان مرحوم نے بائیکاٹ بھی کردیا تھا۔کراچی میں ایم کیوایم کھڈ لائن لگ چکی تھی، عمران خان مرحوم نے محرم کے بعد کی تاریخ دی ہوئی تھی، پرویز مشرف امریکا میں ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کے باوجود بیوی کے ساتھ ٹھمکے لگا رہا تھا۔لال حویلی کو اس وقت آثار قدیمہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔مری روڈ کے اوپر جو پل ہے اس پر لال رنگ کی بسیں چلاکرتی تھیں۔جمعیت علمائے اسلام کےموجودہ سربراہ مولانا اسد محمود کے والد اس وقت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔اس وقت کشمیر ہندووں کے قبضے میں تھااور کنٹرول لائن پر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ بول ٹی وی پر پابندی تھی، اس کے صحافی بیروزگار تھے، کئی ایسے تھے جنہوں نے جیب خرچے کے لئے ویب سائٹس بھی بنوائی ہوئی تھیں، ان دنوں ایک بیروزگار صحافی نے کافی پرانے افسوس ناک کو واقعے کو پالش پولش کرکےاسٹوری لکھی اور بے غیرتی یہ کی کہ فرضی نام مفتی ریحان کے نام سے شائع کردی۔ ملحدین، سیکولڑ اور لبڑل خوشی کے شادیانے بجارہے تھے۔
تو پیارے بچو! یہ مفتی ریحان کا #استعارہ اس وقت سے اردو ادب کا حصہ ہے جو فرضی نام پر بے غیرتی کرنے کے لئے مستعمل ہے۔
#نکتہ  
Syed Abdulwahhab Sherazi

Tuesday, October 4, 2016

کیا حقیقت کیا فسانہ

یہ معاملہ انتہائی سنگین اور گھمبیر صورتحال کی طرف جارہا ہے۔ اگرایک طرف معروف ومشہور شخصیت ہے تو دوسری طرف پورا خاندان ہی پوری دنیا کا مشہور ومعروف حسنی سید خاندان ہے۔ مفتی زین العابدین رحمہ اللہ جن کا نام بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس رحمہ اللہ کے بعد پاکستان سے بیرون پوری دنیا میں تبلیغ کی محنت کو زندہ کرنے والے بانی کے طور پر مشہور ہے۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں باون(52) حج کیے۔ یہ بات لکھنا اور منہ سے کہنا آسان ہے ورنہ جو ایک بار حج کرلے ساری زندگی حاجی صاب کہلاتا ہے۔ مفتی صاحب کے یہ سارے حج کے سفر دراصل تبلیغی محنت کو زندہ کرنے اور پوری دنیا سے آئے ہوئے حاجیوں کے مکہ میں تبلیغی جوڑ کے سلسلے میں ہوتے تھے چنانچہ اس طرح انہوں نے پوری دنیا میں پچاس ساٹھ سال محنت کرکے تبلیغ کی محنت کو زندہ کیا۔ پھر جس خاتون کا معاملہ ہے وہ ان کی واقعتا چہیتی اور لائق بیٹی ہیں، بلکہ فیصل آباد میں تبلیغ کی محنت سے جڑی خواتین کی امیر بھی ہیں۔ ہندوستان کے تبلیغی بزرگان سمیت حاجی عبدالوہاب صاحب جب بھی فیصل آباد آتے اپنی اس بچی کے گھر بھی ضروری آتے تھے۔
یہ معاملہ تقریبا تین سال پرانا ہے ،اس معاملے کا مجھے ایک ہفتہ قبل ایک پوسٹ سے پتا چلا، جس میں مولانا الیاس گھمن صاحب کو برا بھلا کہا گیا تھا۔چنانچہ غیرت ایمانی کا تقاضا سمجھتے ہوئے میں نے پوسٹ لکھنے والے سے میسج میں بحث شروع کردی۔ چونکہ اس شخص کا تعلق میری معلومات کے مطابق جماعت اسلامی سے تھا تو جماعت اسلامی کیذمہ داران کو بھی شکایت کی کہ آپ کی جماعت کا بندہ علماء4 کے خلاف اس طرح پروپیگنڈہ کررہا ہے اسے منع کریں۔ چنانچہ ان صاحب نے مجھے میسج میں کچھ خطوط، استفتاء4 اور اس کے جواب میں مفتی زرولی خان صاحب کا فتوی۔ ہندوستان کے مشہور عالم مولانا ابوبکر غازی پوری کا خط اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا جواب۔ اور وفاق کے میگزین کااشتہار بھیج دیا۔ ان صاحب کو جواب دینے کے لئے اب میرے پاس کچھ نہیں تھا۔چنانچہ اب اس معاملے کی تحقیق کے لئے فریقین سے رابطہ کرنے کا ارادہ کیا۔
سب سے پہلے میں نے الیاس گھمن صاحب کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا یہ بات مجھ سے پوچھنے کی نہیں۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے میں اسے سچ سمجھوں تو تب انہوں نے کہا کہ بھیا یہ پروپیگنڈا ہے۔اس کے بعد میں نے دوسرے فریق سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، چونکہ مفتی صاحب کی بیٹی سے میری وائف کا پرانا تعلق تھا(ہمارا اور ان کا خاندان ایک ہی یعنی سید ہے)البتہ کافی عرصہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا، آخری بار رابطہ الیاس گھمن صاحب کی شادی کی مبارک باد دینے کے لئے ہوا تھا۔اس لئے تین چار گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے بعدوائف کا بذریعہ فون رابطہ ہوگیا۔ چنانچہ سب سے پہلے فیس بک پر گردش کرتے خط کے بارے پوچھا تو مفتی صاحب رحمہ اللہ کی بیٹی نے اس خط کی تصدیق کی کہ وہ میرا ہی خط ہے اور میں نے ہی یہ خط مفتی زرولی خان صاحب کو فتویٰ پوچھنے کے لئے بھیجا تھا۔اور اسی طرح کے خطوط کراچی، لاہور ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، اکوڑ خٹک بھی بھیجے گئے تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم یہ زر ولی صاحب والا فتویٰ اتنے عرصے بعد کس نے فیس بک پر دے دیا، میں اگر چاہتی تو دو سال پہلے ہی میڈیا کو بلا کر رسوا کردیتی لیکن میں نے تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا ہوا ہے،اللہ خود انتقام لے گا۔ خواتین کی اس تفصیلی گفتگو کو میں نے خود سنا۔ اس گفتگو میں انہوں نے ایک اور بات بھی بتائی کہ میرے یتیم بچوں کا مکان بھی بیچ کر مدرسے کی تعمیر میں لگوا دیا تھا اب میں کرائے کے مکان میں رہتی ہوں۔
بہرحال اس کے دو دن بعد یعنی کل مفتی ریحان کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔ چونکہ کئی باتیں مجھے خود اس خاتون کے ذریعے معلوم ہوچکی تھیں اس لئے جب اس مضمون کو پڑھا تو آدھے سے زیادہ باتیں وہی تھیں جو خاتون نے بتائی تھیں البتہ کچھ باتیں نئی تھیں، مثلا دو لڑکوں والا معاملہ۔ اسی طرح گھریلو ملازمہ والا معاملہ۔ چنانچہ آج پھر دوبارہ مفتی ریحان کے بارے تحقیق شروع کی تو خاتون کا کہنا تھا میں اسے نہیں جانتی کون ہے۔اور نہ ہی لڑکوں والے معاملے کی تصدیق یا تردید کی۔
لیکن میراخیال اور وجدان یہ کہتا ہے کہ یہ مفتی ریحان فرضی نام ہے اصل میں یہ مضمون جیونیوز کے سابق رپورٹر سبوح سید جو آج کل غالبا بول ٹی وی میں ہیں ان کا لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے موصوف غامدی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور ایک جید عالم دین کا بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اس مضمون میں موصوف نے چند باتیں اصل خط والی لکھ کر ساتھ مرچ مصالحہ اپنی طرف سے لگا دیا ہے۔ آج سے تقریبا چار سال قبل کی بات ہے ایک تقریب جس میں، میں بھی شریک تھا سبوح سید نے اس وقت تقریر کرتے ہوئے الیاس گھمن کو امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا خاص ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریمنڈڈیوس کی ڈائری سے الیاس گھمن کا نمبر ایجنسیوں کو ملا ہے۔ چنانچہ سبوح سید کو الیاس گھمن یا دیگر علمائے کرام سے خصوصی نفرت ہے چنانچہ اس قسم کے چٹکلے وہ اپنے مضامین میں اکثر چھوڑٹے رہتے ہیں۔بہرحال مضمون میں خط سے زیادہ اپنی طرف سے اضافہ بھی کیا گیا ہے۔مضمون میں مردان کی جس خاتون کا ذکر کیا گیا ہے مفتی صاحب کی بیٹی نے اس کی بھی تصدیق کی اور بتایا کہ پٹھانوں نے قتل کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا ہم بولی نہیں گولی کی زبان سمجھتے ہیں۔، البتہ معافی والی بات صرف مضمون میں ہی لکھی ہوئی ہے۔چونکہ یہ معاملہ دو سال پرانا ہے اس لئے اس دوران علماء کے اندر ہی اندر کئی حالات وواقعات پیش آئے، بے شمار ایسے علماء جو مولانا الیاس گھمن کی جماعت کے تھے انہیں چھوڑ گئے۔وہ جید اور ممتاز علماء کرام جو الیاس گھمن صاحب کی جماعت کے سرکردہ رکن تھے اور اب دو تین سال کے دوران ایک ایک کرکے گھمن صاحب کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں یہ ہیں:
مولانا منیر احمد منور۔مولانا انور اوکاڑوی۔علامہ عبدالغفار ذھبی۔مولانا محمود عالم صفدر ۔مولانا عبدالشکور حقانی۔مولانا عبداللہ عابد ۔مولانا شفیق الرحمان۔مولانا محمد رضوان عزیز۔مولانا مقصود احمد ۔مولانا محمد عرفان بھیروی۔مولانا محمد بلال جھنگوی۔مولانا عبداللہ معتصم۔مولانا عبدالغنی طارق۔مولانا امداد اللہ انور۔قاری محمد رفیق صاحب جدہ۔قاری محمد اسامہ رفیق جدہ۔ڈاکٹر محمد الیاس فیصل مدینہ منورہ ۔مولانا محمد ابو بکر اوکاڑوی۔مولانا شاھد طوفانی۔مولانا انصر باجوہ۔مولانا محمد بلال منڈی بہاؤالدین۔شیخ سجاد الحسن الحجانی مردان۔
یہ تمام حضرات ان کے جماعت کے تھے اور معاون بھی تھے ان سب حضرات نے گھمن صاحب سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ان کے ہر قسم کے قول و فعل سے اعلان برا?ت کر چکے ہیں۔اس لسٹ میں چند نہایت ہی نامور شخصیات ہیں جنہیں ہر آدمی جانتا بھی نہیں۔اس کے علاوہ مولانا سلیم اللہ خان اور وفاق المدارس کا اعلان برات تو وفاق کے میگزین میں آپ نے دیکھ لیا ہوگا۔
اب جہاں تک اس معاملے کی حقیقت کا ذکر ہے تو خاتون کی طرف سے تو مکمل خاموشی ہے جیسا کہ انہوں نے فون پر کہا بھی کہ میں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا ہوا ہے اللہ خود انتقام لے گا میں تو دو سال سے خاموش ہوں، بس اپنے رب سے اس معاملے میں رابطہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف احناف میڈیا سروس کے لوگ پوری طرح گالم گلوچ کی تیروں اور برچھوں سمیت مختلف پوسٹوں پر کمنٹ کررہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں یہ عورت کئی مردوں سے دوستی رکھتی تھی اور کبھی کہتے ہیں اس نے چالیس لاکھ روپے مانگے تھے جس سے اختلاف پیدا ہوا۔ اور کبھی کہتے ہیں اس واقعہ کی کوئی حقیقت نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا یہ مماتیوں کا پروپیگنڈا ہے۔
ہمارے لئے اس میں یہ ہے کہ سنی سنائی باتوں پر کان نہ دھریں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ایک متاثرہ فریق سے براہ راست خود معلوم کی گئی ہے۔ اب آگے کا معاملہ وفاق المدارس اور اکابرین کے حل کرنے کا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ علماء کی بدنامی ہورہی ہے اسے دبا دینا چاہیے۔ بھائی دبانے سے بدنامی ختم نہیں ہوتی۔ آج سے دیڑھ سو سال پہلے سپیکر کی حرمت پر جو فتویٰ دیا گیا تھا وہ آج تک سیکولر اور لبرل لوگ علماء کو طعنے دے رہے ہیں کہ تم تو وہ ہو جنہوں نے سپیکر کو حرام قرار دیا تھا۔ حالانکہ ایک صدی سے بھی پرانا واقعہ ہے، اسی طرح یہ واقعہ بھی اگر اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الزام دینے کے لئے باقی رہے گا۔ اکابرین دونوں فریقوں کا موقف سننے کے بعد مجرم کا تعین کریں۔ وہ کوڑے تو نہیں لگا سکتے لیکن تعین کرکے بتا تو سکتے ہیں کہ فلاں مجرم ہے اس کا علماء سے کوئی تعلق نہیں۔ جرائم معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر جرم کی سزا مل جائے تو دھبے دھل جاتے ہیں ورنہ ہمیشہ یاد باقی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی شیطان کے شر سے حفاظت فرمائے۔