Search This Blog

Saturday, October 8, 2016

اتنی وضاحت کافی نہیں

مولانا الیاس گھمن کے معاملے میں اب تک تمام فریقوں کی اپنی اپنی وضاحتیں آچکی ہیں۔
چنانچہ خاتون کی طرف سے ان کے بیٹے کا خط، مولانا الیاس گھمن صاحب کی طرف سے ایک ویڈیو بیان، مفتی ریحان کی وضاحت سبوخ سید کی طرف سے اور خود سبوخ سید نے بھی اپنی وضاحتین پیش کردی ہیں۔ کل مفتی ریحان کی طرف سے ایک اور مضمون بھی آچکا ہے جس میں پہلے مضمون کے الزامات کے علاوہ مزید دو تین نئے انکشافات یا الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
البتہ اس سارے معاملے میں وہ  علمائے کرام جن کا ذکر مولانا الیاس گھمن کی جماعت چھوڑنے کی لسٹ میں آیاہے، یا وہ علماء جن کا ذکر خاتون کے خط لکھنے یا استفتاء کے حوالے سے آیا ہے وہ سب پراسرار طور پر باالکل خاموش ہیں۔ یہ خاموشی مولانا الیاس گھمن کے معاملے کو مشکوک بنا رہی ہے، کیونکہ علماء یا مدارس کے خلاف جب بھی کوئی بات ہوتی ہے سارے علماء فورا میدان میں کود پڑتے ہیں جبکہ اس معاملے میں اتنی بدنامی،اتنے الزامات کے جن کے تصور سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، کوئی مسلمان تو دور کی بات کوئی انسان بھی شاید ایسا تصور نہیں کرسکتا۔ خصوصا مفتی ریحان کے دوسرے مضمون میں جو نیا الزام لگایا ہے جس میں عمرہ کی ادائیگی پر بھیجنے کا ذکر ہے، اس بات کو دیکھ کر انسانیت شرماجاتی ہے۔
ابھی تک صورتحال کے مطابق کم از کم اتنی بات تو کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ الزامات کسی تیسرے کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی سابقہ اہلیہ ہی کی طرف سے لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح ان کی اہلیہ کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہوچکی ہے کہ یہ خط میں نے نہیں پھیلایا بلکہ کسی دارالافتاء کے مفتی نے پھیلایا ہے۔ اس بات کا جھوٹا ہونامجھے ان تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا، اور مجھے ان تصاویر میں دو ایسے شواہد ملے جن سے مجھے کنفرم ہوگیا کہ ان خطوط کی تصاویر خود ان کی اہلیہ نےاپنے  موبائل سے لی ہیں۔(ان شواہد کا ذکر میں یہاں ضروری نہیں سمجھتا)۔ خطوط کی تصاویر خود ہی لے کر پھیلانے کے لئے کسی کو فراہم کرنابھی اسی بات کی دلیل ہے کہ سابقہ اہلیہ ہی الزامات لگارہی ہےکوئی اور یہ الزامات نہیں لگا رہا۔ وہ الگ بات ہے کہ مولانا کے مخالفین بھی اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے معاملے کی خوب ایڈورٹائزنگ کررہے ہیں۔
اب اس معاملے کے دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں۔ چار پانچ دن تک سوشل میڈیا پر الزامات لگتے رہے لیکن مولانا کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا البتہ ان کے محبین اپنے طور پر معاملے کو ہینڈل کرتے رہے، گالیاں دیتے رہے، ۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ مقلدغیرمقلد کا مسئلہ ہے۔ کبھی کہاجاتا حیات ممات کا مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ بالاخر کئی دن کے بعد جب دباو شدید سے شدید تر ہونے لگا تو مولانا کی طرف سے ایک پروگرام کی چار پانچ ہیوی کیمرے لگا کر ایک ویڈیو ریکارڈ کی گئی جس میں مولانا نے کسی بھی الزام کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا البتہ اس معاملے کو ایکسپوز کرنے والی ویب سائٹس کے بارے میں کہا کہ ان کو گوگل کی طرف سے ہر کلک پر ڈالر اور مجھے نیکیاں مل رہی ہیں۔مولانا نے ان الزامات کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی اس خاتون کا نام تک لیا ، بلکہ کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے جو گزرجائے گا۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ الزامات درست ہیں اب مجھے میڈیا ٹرائل کے ذریعے سزا مل رہی ہے اور میں اس سزا کو سہہ رہا ہوں جو آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔
ہمارے خیال میں مولانا کو مختصرا یہ وضاحت بھی کردینی چاہیے  کہ آیا وہ خاتون ان کی بیوی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو جدائی یا طلاق کی وجہ کیا بنی؟ کوئی تو وجہ ہوگی، بیوی نافرمان ہوگی،بدچلن ہوگی جس کی وجہ سے طلاق تک نوبت پہنچی۔ گوگل کے ڈالر یا نیکیاں ملنا یہ کوئی وضاحت نہیں۔اور نہ ہی یہ وضاحت ہے کہ ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، جومرضی کرنا ہے کرلو۔
اس معاملے کی سنگینی اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پورا پاکستان اپنے علماء سمیت خاموش ہے، جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ معاملہ دو تین سال سے اندر ہی اندر علماء کے زیرتبصرہ رہ چکا ہے، لہٰذا اب انہیں کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو بھی یہ صورتحال نہ صرف مولانا کے لئے بلکہ تمام مدارس اور علماء کے لئے  اچھی نہیں، علماء کی خاموشی ان الزامات کو درست ثابت کررہی ہے۔
میرے خیال میں اس معاملے میں حکومتی اداروں سمیت علمائے کرام کو بیچ میں فوری طور پر آنا چاہیے۔کب تک میاں بیوی کے جھگڑے کی وجہ سے لاکھوں علماء اور طلباء گلیوں میں سرچھپائے اور سر جھکائے پھرتے رہیں گے۔ جب سے یہ معاملہ گرم ہے علماء اور طلباء کو بدکماش لوگ آوازیں کستے اور طعنے دیتے نظر آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس وقت علماء کی قیادت کرنے والا کوئی رہنماء نہیں جو اس معاملے کو فوری طور پر حل کرکے اس کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردے۔

No comments:

Post a Comment