مفتی
ریحان مستقبل کی دنیا میں
یہ 2041 کی ایک صبح ہے۔ ملک کی سرکاری زبان اردو ہوچکی ہے۔
قومی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو ادب کی کلاس شروع ہے۔ پروفیسرمختارسوہانی سٹوڈنٹ کا ہوم ورک چیکک کررہے ہیں۔
ہوم ورک چیک کرنے کے بعد اردو ادب کے استعاروں پرلیکچر ہونا ہے، جس کا اعلان پروفیسر صاحب کل ہی کرچکے تھے۔
کلاس کا ماحول یہ ہے کہ جس دن جس موضوع پر بات ہونی ہوتی ہے اس دن پوری کلاس میں پورا ماحول ہی اس طرح بنا دیا جاتا ہے۔
لہٰذا آج آپس کی گفتگو میں بھی استعاروں کا استعمال ہوگا، کسی کو ڈانٹ پڑے گی تو وہ بھی استعارے کی لاٹھی کے ساتھ۔
ایک سٹوڈنٹ نے ہوم ورک بالکل بھی نہیں کیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے غصے میں کہا: ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟
سٹوڈنٹ نے کہا: سرجی! دراصل کل جب میں گھر پہنچا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
سٹوڈنٹ نے پوری ایک سٹوری سنا دی، لیکن وہ بھول گیا کہ یہ 2041ء ہے، سٹوڈنٹ سکول پہنچایا نہیں، گھرپہنچا یا نہیں، ہوم ورک کیا یا کھیلتا ہی رہا۔ پل پل کی بات بذریعہ ڈیوائس استاد اور والدین کے درمیان شئیر ہورہی ہے۔کہاں کہاں گیا ساری لوکیشنز سیو ہورہی ہیں۔
چنانچہ پروفیسر صاحب نے کہا:
مفتی ریحان مت بنو سیدھی سیدھی بات بتاو۔
پھراسی سے آگے اس دن کا لیکچر شروع ہوگیا اور پروفیسر صاحب نے بتاناشروع کیا کہ مفتی ریحان بطور استعارہ اردو میں کب اور کیوں شامل ہوا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ:
اس استعارے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، یہی کوئی بیس پچیس سال پہلے اکتوبر 2016 کے دن تھے۔
اقتصادی #راہداری پرکام تیزی سے جاری تھا، چین کے سفارت کار نے اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب میں پریسس کانفرنس بھی کردی تھی۔آل پارٹی کانفرنس شیدا ٹلی کو دعوت دیے بغیر ہوچکی تھی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی شروعع ہوچکا تھا،بابا عمران خان مرحوم نے بائیکاٹ بھی کردیا تھا۔کراچی میں ایم کیوایم کھڈ لائن لگ چکی تھی، عمران خان مرحوم نے محرم کے بعد کی تاریخ دی ہوئی تھی، پرویز مشرف امریکا میں ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کے باوجود بیوی کے ساتھ ٹھمکے لگا رہا تھا۔لال حویلی کو اس وقت آثار قدیمہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔مری روڈ کے اوپر جو پل ہے اس پر لال رنگ کی بسیں چلاکرتی تھیں۔جمعیت علمائے اسلام کےموجودہ سربراہ مولانا اسد محمود کے والد اس وقت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔اس وقت کشمیر ہندووں کے قبضے میں تھااور کنٹرول لائن پر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ بول ٹی وی پر پابندی تھی، اس کے صحافی بیروزگار تھے، کئی ایسے تھے جنہوں نے جیب خرچے کے لئے ویب سائٹس بھی بنوائی ہوئی تھیں، ان دنوں ایک بیروزگار صحافی نے کافی پرانے افسوس ناک کو واقعے کو پالش پولش کرکےاسٹوری لکھی اور بے غیرتی یہ کی کہ فرضی نام مفتی ریحان کے نام سے شائع کردی۔ ملحدین، سیکولڑ اور لبڑل خوشی کے شادیانے بجارہے تھے۔
تو پیارے بچو! یہ مفتی ریحان کا #استعارہ اس وقت سے اردو ادب کا حصہ ہے جو فرضی نام پر بے غیرتی کرنے کے لئے مستعمل ہے۔
#نکتہ Syed Abdulwahhab Sherazi
یہ 2041 کی ایک صبح ہے۔ ملک کی سرکاری زبان اردو ہوچکی ہے۔
قومی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو ادب کی کلاس شروع ہے۔ پروفیسرمختارسوہانی سٹوڈنٹ کا ہوم ورک چیکک کررہے ہیں۔
ہوم ورک چیک کرنے کے بعد اردو ادب کے استعاروں پرلیکچر ہونا ہے، جس کا اعلان پروفیسر صاحب کل ہی کرچکے تھے۔
کلاس کا ماحول یہ ہے کہ جس دن جس موضوع پر بات ہونی ہوتی ہے اس دن پوری کلاس میں پورا ماحول ہی اس طرح بنا دیا جاتا ہے۔
لہٰذا آج آپس کی گفتگو میں بھی استعاروں کا استعمال ہوگا، کسی کو ڈانٹ پڑے گی تو وہ بھی استعارے کی لاٹھی کے ساتھ۔
ایک سٹوڈنٹ نے ہوم ورک بالکل بھی نہیں کیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے غصے میں کہا: ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟
سٹوڈنٹ نے کہا: سرجی! دراصل کل جب میں گھر پہنچا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
سٹوڈنٹ نے پوری ایک سٹوری سنا دی، لیکن وہ بھول گیا کہ یہ 2041ء ہے، سٹوڈنٹ سکول پہنچایا نہیں، گھرپہنچا یا نہیں، ہوم ورک کیا یا کھیلتا ہی رہا۔ پل پل کی بات بذریعہ ڈیوائس استاد اور والدین کے درمیان شئیر ہورہی ہے۔کہاں کہاں گیا ساری لوکیشنز سیو ہورہی ہیں۔
چنانچہ پروفیسر صاحب نے کہا:
مفتی ریحان مت بنو سیدھی سیدھی بات بتاو۔
پھراسی سے آگے اس دن کا لیکچر شروع ہوگیا اور پروفیسر صاحب نے بتاناشروع کیا کہ مفتی ریحان بطور استعارہ اردو میں کب اور کیوں شامل ہوا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ:
اس استعارے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، یہی کوئی بیس پچیس سال پہلے اکتوبر 2016 کے دن تھے۔
اقتصادی #راہداری پرکام تیزی سے جاری تھا، چین کے سفارت کار نے اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب میں پریسس کانفرنس بھی کردی تھی۔آل پارٹی کانفرنس شیدا ٹلی کو دعوت دیے بغیر ہوچکی تھی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی شروعع ہوچکا تھا،بابا عمران خان مرحوم نے بائیکاٹ بھی کردیا تھا۔کراچی میں ایم کیوایم کھڈ لائن لگ چکی تھی، عمران خان مرحوم نے محرم کے بعد کی تاریخ دی ہوئی تھی، پرویز مشرف امریکا میں ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کے باوجود بیوی کے ساتھ ٹھمکے لگا رہا تھا۔لال حویلی کو اس وقت آثار قدیمہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔مری روڈ کے اوپر جو پل ہے اس پر لال رنگ کی بسیں چلاکرتی تھیں۔جمعیت علمائے اسلام کےموجودہ سربراہ مولانا اسد محمود کے والد اس وقت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔اس وقت کشمیر ہندووں کے قبضے میں تھااور کنٹرول لائن پر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ بول ٹی وی پر پابندی تھی، اس کے صحافی بیروزگار تھے، کئی ایسے تھے جنہوں نے جیب خرچے کے لئے ویب سائٹس بھی بنوائی ہوئی تھیں، ان دنوں ایک بیروزگار صحافی نے کافی پرانے افسوس ناک کو واقعے کو پالش پولش کرکےاسٹوری لکھی اور بے غیرتی یہ کی کہ فرضی نام مفتی ریحان کے نام سے شائع کردی۔ ملحدین، سیکولڑ اور لبڑل خوشی کے شادیانے بجارہے تھے۔
تو پیارے بچو! یہ مفتی ریحان کا #استعارہ اس وقت سے اردو ادب کا حصہ ہے جو فرضی نام پر بے غیرتی کرنے کے لئے مستعمل ہے۔
#نکتہ Syed Abdulwahhab Sherazi

No comments:
Post a Comment