Search This Blog

Monday, March 27, 2017

ایاز نظامی اور مدرسہ

سید عبدالوہاب شیرازی
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون میں یہ بات عرض کی تھی کہ عام طور پر ہمارے ہاں پاکستان وہندوستان میں عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام قرآن کا ترجمہ پڑھے گی تو گمراہ ہوجائے گی۔ (نعوذبااللہ من ذالک)
حالانکہ قرآن کو کتاب ہدایت کہا گیا ہے، اس سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسانوں کے دل سیرات ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بدبخت بھی ہوتے ہیں جن کے حصے میں گمراہی بھی آتی ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آغاز ہی بری نیت سے کرتے ہیں، ورنہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص اخلاص کے ساتھ ہدایت کے حصول کے لئے قرآن کا ترجمہ پڑھے اور گمراہ ہوجائے۔عوام تو جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ان کی نظر ظاہری احکامات پر ہوتی ہے، مثلا نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جنت، جہنم، عذاب، اقوام سابقہ کے قصص وغیرہ۔ عوام  گہرائی میں جا ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایک عام شخص جب بھی قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے اس سے اسے ہدایت ہی ہدایت میسر آتی ہے۔
اگر ہم گمراہ لوگوں اور گمراہی کے فتنے ایجاد کرنے والوں کی فہرست پر ایک نظر دوڑائیں تو وہ ہمیں عوام نہیں بلکہ علماء ہی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی فتنے کو کھڑا کرنے کے لئے جو صلاحیت اور قابلیت چاہیے ہوتی ہے وہ عوام میں نہیں ہوتی۔ آپ ماضی کے فتنے دیکھیں یا حال پر نظر دوڑائیں تمام فتنوں کے موجد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دینی علوم میں آٹھ دس سال لگا کر مہارت حاصل کی اور پھر اس قابلیت کو گمراہی پھیلانے میں استعمال کیا۔ مثلا
ہندوستان کا سب سے بڑا فتنہ دین اکبری یا دین الہٰی تھا، جسے ایجاد کرنے والے ابوالفضل اور فیضی جیسے زبردست عالم دین تھے۔
قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد ہو یا فتنہ انکار حدیث کا موجد غلام احمد پرویز۔ دینی شعائر کی غلط تعبیر کرنے والا سرسید احمد خان ہو یا حکیم نورالدین بھیروی۔مولوی عبداللہ چکڑالوی ہو یا علامہ اسلم جیراج پوری۔
اسی طرح کئی مسائل میں اجماع امت سے کٹ کر الگ راہ اختیار کرنے والے مولانا امین احسن اصلاحی ہوں یا پھر علامہ فراہی جیسے محقق قرآن۔ جاوید احمد غامدی ہو یا جماعت المسلمین کے بانی ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی یہ سب علماء ہی ہیں۔ یاد رہے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی بنوری ٹاون کراچی کے فارغ التحصیل اور علامہ بنوری رحمہ اللہ خاص شاگرد اور معالج بھی رہے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کا دارومدار علم پر نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف دو چیزوں پر ہے: ایک انسان کی اپنی نیت وارادہ اور دوسرے اللہ کی توفیق وتیسیر۔ اگر انسان کے اپنے دل میں کجی اور نیت میں فتور ہو اور اللہ تعالیٰ بھی اپنی سنت کے مطابق کہ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم اس سے توفیق خیر سلب فرمالے تو ایسا انسان جتنا بڑا عالم وفاضل ہو گا اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھائے گا۔چنانچہ اسی بات کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں بھی اشارہ ہے:
ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، آسمان تلے کی بدترین مخلوق(نام نہاد) علماء ہوں گے، فتنے ان ہی کے اندر سے اٹھیں گے اور ان ہی میں لوٹ جائیں گے۔
اب اگر دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل ایاز نظامی کا فتنہ سامنے آیا ہے تو یہ اتنی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ایسے فتنوں کی مثال دے کر عوام کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت میں علماء ہی رکاوٹیں کھڑی کردیں

Tuesday, March 21, 2017

ڈاکٹر طاہرالقادری کوگالیاں دینے والوں کے لئے خوشخبری:

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایک سیاسی رخ ہے چنانچہ جب وہ کوئی سیاسی بیان جاری کرتے ہیں یا کوئی سیاسی ایکٹویٹی کرتے ہیں تو الیکٹرانک میڈیا دکھاتا ہے، اور کروڑوں لوگ بھی دیکھتے ہیں۔اور اس رخ میں ان سے کئی غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔
جبکہ ڈاکٹر صاحب کا ایک علمی اور فلاحی رخ بھی ہے جس سے عام طور پر بریلوی مکتبہ فکر کے علاوہ باقی لوگ واقف نہیں ہیں۔ خصوصا ان کو گالیاں دینے والے تو باالکل ہی واقف نہیں ہیں۔
 ذیل میں ان کے چند کارنامے اس غرض سے ذکر کیے جارہے ہیں تاکہ ان کو گالیاں دینے والے  شاید غصے میں آکر ہی یہ کام کرکے ملک وملت سمیت مسلمانوں کی خدمت سرانجام دے دیں، فیس بک گالیاں بکنے  اور نجی مجلسوں میں غیبتیں کرنے سے انقلاب نہیں آتے۔
منہاج القرآن 1989میں قائم ہوئی۔
اس وقت اس کے پبلک اور ماڈل سکولوں کی تعداد 600سے زائد ہے۔
آئی ٹی کالجز کی تعداد 20سے زائد ہے۔
ایک چارٹرڈ یونیورسٹی لاہور میں ہے۔
اس طرح جدید تعلیم کے کل تعلیمی اداروں کی تعداد630 ہے، جس میں ہر سال کئی مزید کا اضافہ ہورہا ہے۔
ان اداروں میں طلباء کی مجموعی تعداد 2لاکھ سے زائد ہے، جن میں ہرسال کئی ہزار کا اضافہ ریکارڈ ہورہا ہے۔جو مستقبل میں منہاج القرآن کے ہی ممبر ہیں۔
منہاج القرآن کا تعلیمی نیٹ ورک دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں باقاعدہ قائم اور کام کررہا ہے۔ ان تمام ممالک میں رہنے والے ہزاروں مسلمان اور ان کے بچے وہاں زیر تعلیم ہیں۔
میڈیا
ایک ٹی وی چینل کام کررہا ہے۔
سوشل میڈیا پر 7 عدد آفیشل پیجز کام کررہے ہیں جن کے فالورز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ یعنی وہاں شیئر کی جانے والی پوسٹ لاکھوں لوگوں کی نظر سے گزرتی ہے۔
دنیا میں بڑی سے بڑی اسلامی تنظیم یا جماعت کی ویب سائٹس کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جبکہ منہاج القرآن کی آفیشل ویب سائٹس کی تعداد 67 سے زائد ہے۔ پھر ہر ویب سائٹ کو مختلف زبانوں میں پڑھنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
ایک فلاحی ادارہ منہاج ویلفیئر فاونڈیشن بھی الگ سے قائم ہے۔
جس کے زیر اہتمام مختلف شہروں میں 5 بڑے ہسپتال اور 107 دسپنسریاں اور کچھ کلینک مفت علاج فراہم کررہے ہیں۔
یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم وتربیت کے لئے آغوش کمپلیکس لاہور میں کام کررہا ہے۔
ہزاروں غریب بچیوں کی اب تک شادیاں کروائی جاچکی ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد 1000 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
392 کتابیں اردو میں اور 48 انگلش میں شائع بھی ہوچکی ہیں۔
کتابوں اور خطبات کے صرف عنوانات کی فہرست پر مشتمل کتاب 470 صفحات کی ہے۔
ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں شہراعتکاف بسایا جاتا ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق حرم شریف کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اعتکاف ہوتا ہے۔
دس دن کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل علمی اور اصلاحی لیکچرز ہوتے ہیں۔
مرکز میں 2005 میں ایک تلاوت اور درود شریف کا حلقہ قائم کیا گیا تھا جہاں اس وقت سے لے کر اب تک بلاناغہ چوبیس گھنٹے روزے کی حالت میں ہر وقت سات افراد تلاوت قرآن اور درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔ اور یہ افراد چندگھنٹوں کے بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ معلومات ویکی پیڈیا اور کچھ دیگر ذرائع سے لی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو آپ فتنہ کہیں  یا گمراہ۔ مشرک سمجھیں یا کافر، لیکن ان کے اداروں، سکولوں، کالجز، یونیورسٹی، اور مدارس سمیت ان کی کتابوں سے مستفید ہونے والے یقینا مسلمان ہی ہیں۔
فیس بک پر گالیاں بکنے کے بجائے میدان عمل میں آئیں اور صرف 20 سال میں اتنا بڑا نیٹ ورک قائم کرکے دکھائیں۔  اپنے دشمن کا مقابلہ گالیوں سے نہیں کام سے کرکے دکھائیں۔
یہی نبی کی بھی سنت ہے اور صحابہ کی بھی ، خصوصا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ واقع یاد کریں جب وہ گردن کاٹنے کافر کے سینے پر چڑھے تو اس نے گالی دے دی تھی۔

Monday, March 20, 2017

تصوف کی حقیقت


حبیب الرحمن اعظمی


                احسان یا بالفاظ متعارف تصوف کیاہے؟ انسانی روح کا اپنے مطلوبِ حقیقی سے ملنے کا شدید اشتیاق؟ تصوف کیاہے؟ اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال، شریعت اسلامی اس کی اساس اور قرآن و حدیث اس کا سرچشمہ، چناں چہ سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی کا بڑے واضح الفاظ میں اعلان ہے کہ:
”ایں راہ کسے یابد کہ کتاب بردست راست گرفتہ باشد وسنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بردست چپ و در روشنائی ایں دوشمع می رود تانہ در مغاک شبہت افتد نہ درظلمت بدعت۔“
اس راہ کو وہی پاسکتا ہے جو کتاب اللہ کو داہنے ہاتھ میں اور سنت رسول کو بائیں ہاتھ میں لیے ہواور ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک طے کرے تاکہ گمراہی اور بدعت کی تاریکی میں نہ گرے۔
                حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو متقدمین صوفیاء میں امتیازی مقام و مرتبہ کے حامل تھے فرماتے ہیں: اصولنا سبعة اشیاء التمسک بکتاب اللّٰہ والاقتداء بسنة رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واکل الحلال وکف الاذی واجتناب المعاصی والتوبة واداء الحقوق (التاج المکلل) ہمارے سات اصول ہیں کتاب اللہ پر مکمل عمل، سنت رسول کی پیروی، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دینا، گناہوں سے بچنا، توبہ واستغفار، اور حقوق کی ادائیگی۔
                سلطان الہند شیخ معین الدین اجمیری کا یہ مقولہ تاریخِ اجمیر میں درج ہے۔
”اے لوگو تم میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ترک کرے گا وہ شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم رہے گا۔“
                حضرت میر سید اشرف سمنانی مدفون کچھوچھا ضلع فیض آباد فرماتے ہیں:
”یکے از ہم شرائط ولی است کہ تابع رسول علیہ السلام قولاً وفعلاً واعتقاداً بود (الطائف اشرفی)
ولی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قول، فعل اور اعتقاد میں پیروہو۔“
                تصوف دراصل وہ رہنما ہے جو سالک کو ہر آن باخبر رکھتا ہے کہ دیکھنا کہیں مقصود نگاہ سے اوجھل نہ ہوجائے وہ ہدایت کرتا ہے کہ جب تو بارگاہِ خداوندی میں نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ دیکھے کہ قبلہ رو ہے یا نہیں، جائے نماز اورکپڑے پاک ہیں یا نہیں، تو اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھ کہ تیرا تصور پاک ہے یا نہیں، دل مالک کائنات کی طرف ہے یا نہیں، غرض تصوف ہر ہر قدم پر سالک کو خبردار رکھتا ہے کہ مقصود اصلی خدائے ذوالجلال والاکرام کے خیال سے دل غافل نہ ہونے پائے، ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے تلامذہ نے ان سے سوال کیا کہ آپ بشر حانی کے پاس کیوں جاتے ہیں وہ تو عالم ومحدث نہیں ہیں؟ توامام صاحب نے فرمایا کہ میں کتاب اللہ سے واقف ہوں مگر بشر اللہ سے واقف ہیں۔ عارف ہندی اکبرالہ آبادی مرحوم نے بہت خوب کہا ہے۔
قرآن رہے پیش نظر ، یہ ہے شریعت
اللہ رہے پیش نظر ، یہ ہے طریقت
                اس حقیقت کویوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ فقیہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ، اے بندے اللہ کا نام لے، اور صوفی بھی یہی کہتا ہے کہ اللہ کا نام لے مگر اس طرح کہ وہ تیرے دل میں اتر جائے، یعنی صوفی کا کہنا یہ ہے کہ صرف زبان سے اللہ کا نام لینا کافی نہیں ہے، زبان کے ساتھ تیرا دل بھی ذاکر ہونا چاہیے، حاصل کلام یہ نکلا کہ تصوف یا احسان دل کی نگہبانی کا اصطلاحی نام ہے، حدیث جبرئیل میں ”ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانّہ یراک“ کا جملہ اسی دل کی نگہبانی کی انتہائی بلیغ اور پیغمبرانہ تعبیر ہے،امام العرفاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جملے سے احسان یا تصوف کی پوری حقیقت بیان فرمادی ہے کیوں کہ راہِ تصوف کے تمام جہد و عمل، ذکر وفکر، محاسبہ و مراقبہ وغیرہ کا منشاء و مقصد یہی ہے کہ دل مشاہدہ و حضور کی متاعِ عزیز سے ہم کنار ہوجائے۔
                تصوف کی مستند کتابوں مثلاً قوت القلوب از شیخ ابوطالب مکی، طبقات الصوفیہ از شیخ عبدالرحمن سلمی، حلیة الاولیا از ابو نعیم اصفہانی، الرسالة القشیریة از امام قشیری کشف المحجوب ازشیخ علی بن عثمان ہجویری مدفون لاہور، تذکرة الاولیاء از شیخ فرید الدین عطار، عوارف المعارف از شیخ سہروردی، فوائد الفواد ملفوظات شیخ نظام الدین اولیاء، خیرالمجالس ملفوظات شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی وغیرہ کے صفحے کے صفحے الٹ جائیے صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً بھی کتاب و سنت کی تلقین ملے گی،اور معتمد طور پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اکابر صوفیاء کے مجاہدات، ریاضات اور مراقبات کی اساس و بنیاد قرآن وحدیث کی تعلیمات ہی ہیں، اور ان کی پاکیزہ زندگیاں اسلام کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔
                اسلامی تعلیمات میں محبت الٰہی، مکارم اخلاق اور خدمت خلق کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، تصوف کی تعلیمات بھی انھیں ارکانِ ثلثہ پر مبنی ہیں، تاریخی شواہد کی بنیادپر بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حضرات صوفیاء ہی نے اپنی عملی جدوجہد کے ذریعہ ہر زمانے میں اسلام کے اخلاقی و روحانی نظام کو زندہ رکھا، صوفیاء سے بڑھ کر تبلیغ اور تعمیرِ سیرت کا فریضہ کسی جماعت نے انجام نہیں دیا، متکلمین، معتزلہ اور حکماء نے صرف دماغ کی آبیاری کی جب کہ صوفیاء نے دماغ کے ساتھ دل کی تربیت اوراصلاح کی اہم ترین خدمت بھی انجام دی اوریہ بات کسی بیان و تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ اسلام میں اصلی چیز دل ہے نہ کہ دماغ اگر دل فاسد ہوجائے تو دماغ کا فاسد ہوجانا یقینی ہے، چناں چہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”الا ان فی الجسد مضغة اذا صَلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وہی القلب“ انسان کے جسم میں ایک عضو ہے اگر وہ صالح ہوجائے تو سارا جسم صالح ہوجائے اوراگر وہ فاسد ہوجائے تو سارا جسم فاسد ہوجائے، آگاہ ہوجاؤ وہ قلب ہے۔
                حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جب کہ حضرات صوفیاء نے اپنے اعمال و اخلاق اور سیرت و کردار سے اسلام کی صداقت کو مبرہن اور آشکارا کیا، اس لیے تصوف یا طریقت شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں تصوف اسلام کا عطر اور اس کی روح ہے، لیکن کوئی انسانی تحریک خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو جب افراط و تفریط عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہے تواس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی، چناں چہ متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہیں، لیکن آگے چل کر جب علم کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا تو یہی علم کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا، یہی حال تصوف کا بھی ہوا کہ تصوف کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دلعزیزی دیکھ کر جاہل یا نقلی ارباب غرض صوفیوں کے بھیس میں اس جماعت صوفیہ صافیہ میں درآئے اور اپنی مقصد برآری کے لیے شریعت و طریقت میں تفریق کا نظریہ شائع کردیا، مجاز پرستی، قبرپرستی، نغمہ و سرود کو روحانی ترقی کا لازمی جزو بنادیا اور دنیاپرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دیدی مگر ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ محققین صوفیا نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے، اور ان فاسد عناصر کو تصوف سے خارج کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔
                اس جعلی اور غیر اسلامی تصوف کی بنا پر سرے ہی سے تصوف کا انکار کردیا جائے اوراسے نوع انسانی کے لیے بمنزلہٴ افیون بتایاجائے اورالزام عائد کیا جائے کہ تصوف زندگی کے حقائق سے گریز کی تعلیم دیتا ہے اوراس نے مسلمانوں کے قوائے عمل کو مضمحل یا مردہ بنادیا ہے تو یہ سراسر ناانصافی اور اسلامی تصوف پر ظلم ہوگا۔
                بدقسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ جو براہ راست اسلام اوراسلامی مآثر کا مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مصنّفین کے واسطہ اورانھیں کی مستعار عینک سے اسلامی علوم و معارف کو دیکھنے کا عادی ہے، اسلامی تصوف پر اسی قسم کے بیجا اور غلط اعتراضات کرتا رہتا ہے، یہ بات حق و صداقت اورانصاف و عدالت سے کس قدر بعید ہے کہ ہدفِ ملامت تو بنایا جائے اسلامی تصوف کو اور قبائح مدنظر رکھی جائیں غیراسلامی تصوف کی، اسلام کے ان نادان دوستوں نے اپنے اس رویہ سے نہ صرف علم و تحقیق کا خون کیا بلکہ لاکھوں بندگانِ خدا کو تصوف کی حسنات و برکات سے محروم کردیا۔ فالی اللّٰہ المشتکی 
$ $ $
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء

Sunday, March 19, 2017

کیا امیر ہونا بری بات ہے۔۔؟

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
بہت عرصے سے میں اس موضوع پر لکھنے کے لئے سوچ رہا تھالیکن اس کی موضوع کی حساسیت کی وجہ سے ٹالتا رہا کیونکہ ہمارے ہاں مفت کے مفتیوں کی بھر مار ہے جو فتوی چھوڑتے ہوئے دیر نہیں لگاتے۔ لیکن دو دن قبل دوران مطالعہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی ایک تقریر سے مجھے اپنے موقف کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اس لئے اب اس موضوع پر چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
سب سے پہلے تو مولانا کی تقریر کے الفاظ پڑھیں وہ کیا فرمارہے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غریب تھے(نعوذبااللہ) تو سمجھ لو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اختیاری تھا۔ اضطراری نہ تھا، فقر وہ ہے کہ جس کا فقر اضطراری ہو۔حضرت ابراہیم بن ادھم نے سلطنت چھوڑ دی تھی تو کیا ان کو فقیر کہا جائے گا، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اخیتار سے فقر اختیار کیا تھا اور اختیاری بھی کیسا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آپ پسند فرمائیں تو خدا تعالیٰ آپ کے لئے جبل احد کو سونا کردیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلا کرے۔تو آپ نے فرمایا کہ اے جبریل میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاوں اور ایک دن بھوکا رہوں۔۔۔۔۔۔تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ حضور غریب تھے اور غریب ہونے کی وجہ سے تشریف لے گئے بلکہ آپ سلطان تھے اعتقادا اور واقعة بھی۔(خطبات حکیم الامت، جلد 3ص213)۔

تھانوی صاحب رحمہ اللہ کے اس بیان سے معلوم ہوا حضورﷺ کا فقر اختیاری تھا، اور مقصد امت کے اضطراری غریبوں کی حوصلہ افزائی کرنابھی تھا۔ ورنہ یہ ایسی ہی بری بات ہوتی تو آپ کے وہ پیارے صحابہ جن کو دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنائی گئی، حضرت عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کبھی بھی ارب پتی نہ ہوتے۔عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک ایک دن میں سو سو اونٹ نفع ہوتا تھا۔ سو اونٹ کا مطلب آج کل کے حساب سے ڈیڑھ کروڑ بنتا ہے، یعنی ایک دن میں ڈیڑھ کروڑ روپے منافع، سبحان اللہ۔یہی حال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام کا تھا۔ جبکہ دوسری طرف ایک بہت بڑی تعداد غراباءصحابہ کرام کی بھی تھی۔
جہاں تک حضورﷺ کی زندگی مبارک کا تعلق ہے تو آپ نے اپنی کسی بھی بیوی کو 500درہم(آج کل کے حساب سے 90ہزارروپے) سے کم مہر نہیں دیا، البتہ بعض بیویوں کو اس سے زیادہ بھی دیا۔ ایک بیو ی کو تقریبا 8لاکھ روپے مہر دیا۔ آج کل کتنے دیندار ہیں جو اپنی بیوی کو90ہزار مہر دیتے ہیں۔ آج کل تو دیندار اس بات کا نام رکھ دیا گیا ہے کہ مہر500رکھو۔ ایک دوہفتے قبل ایک نکاح پڑھایا میں نے پوچھا مہر کتنا ہے تو لڑکے کا باپ بڑے فخر سے کہنے لگامبلغ ایک ہزار روپے، میںنے فورا اسے ٹوکتے ہوئے کہا ایک ہزار میں نکاح نہیں ہوتا کم از کم دس درہم(2ہزار روپے) ہے چنانچہ پھر5ہزار مہر طے کیا گیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے پتا چلتا ہے کہ مدنی زندگی کے آٹھ دس سالوں تک ایک اونٹنی ہر وقت آپ کے پاس ہوتی تھی، اونٹ اس وقت کا جہاز تھا۔پھر بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے خریدے اور بیچے، گھوڑا اس وقت کی مرسڈیز تھی۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ ہزاروں چاندی کے درہم ایک دن میں صدقہ کیے، میں نے جب انہیں پاکستانی روپوں میں کنورٹ کیا تو دوکروڑ روپے بنتے تھے۔ ایک دن میں دو کروڑ صدقہ کرنا معمولی عمل نہیں اور ظاہر ہے یہ رقم پاس تھی تو صدقہ بھی کی۔
اسی طرح حضور ﷺ کی مکی زندگی میں بھی اور مدنی زندگی میں بھی یہ بات ملتی ہے کہ آپ کے پاس نوکر بھی رہے، ازواج مطہرات کے پاس بھی اکثر نوکرانیاں رکھی ہوئی ہوتی تھیں۔ صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد بھی اپنے پاس نوکررکھتی تھی۔
احادیث میں فقرا ، مساکین کے فضائل اور ترک دنیا کی جو ترغیب آئی ہے، اسے اکثر ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ شاید امیر ہونا نہایت ہی برا عمل ہے۔ اسی طرح بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بھی اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی غریب تھے اور بڑی کسمپرسی کی حالت میں آپ نے زندگی گزاری۔ ظاہر ہے اس تصور کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کسی بھی امتی کو اچھا مکان،اچھالباس،اچھی سواری کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔چنانچہ جو شخص ذرا سا دیندار بنتا ہے اسے نہ صرف کاروبار،تجارت بلکہ امیروں سے نفرت ہوجاتی ہے اور وہ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ یہ تصور دیندار لوگوں کے ذہن میں ایک سازش کے تحت ڈالا گیا تاکہ کوئی دیندار شخص معاشرے پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشرے میں اچھی شہرت، اچھی معاشی حالت رکھنے والا شخص بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں غریب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں وہ کیا کسی دوسرے کے بارے سوچے گا۔ چنانچہ اکثر امیر لوگ ہی دنیا پر حکمرانی کرتے نظر آتے ہیں، کوئی غریب یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ ایک معمولی سا ایس ایچ او بھی لگ سکے۔دولت اگر اللہ اور اس کے رسول کے لائے ہوئے دین پر عمل کرتے ہوئے مل جائے یا حلال طریقے سے حاصل کرلی جائے تو بری چیز نہیں۔ بس اس میں اللہ کا حق اور خوب صدقہ وخیرات ہوتا رہے، تو بہت بڑی نعمت ہے۔غلبہ دین کی محنت کرنے والے دیندار مسلمانوں کی معاشی حالت کا بہتر ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ اسباب کی دنیا میں جہاں تیر تلوار، گھوڑا اونٹ، زرہ اور خود کا استعمال کیا گیا ہے وہیں حضور ﷺ نے چندے کے طور پر صحابہ کرام سے جنگی تیاری کے لئے مال بھی جمع کیا تھا۔ یہ انسانی ضرورت ہے اور خصوصا اقامت دین کی جدجہد میں جہاں اخلاص، للٰہیت،ایمان ویقین، صبر،ثابت قدمی اور ہمت و عزم کی ضرورت ہے وہیں اچھی معاشی حالت کا ہونا بھی نہایت ہی ضروری ہے۔جس ملک کی معاشی حالت جتنی مضبوط ہوتی ہے اتنا ہی اس کی دفاعی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔لہٰذا یہ مفروضہ ذہن سے نکال لینا چاہیے کہ دیندار تبھی کہلایا جاسکتا ہے جب معاشی حالت خراب ہوجائے، کپڑے پھٹ جائیں، اور آدمی بسوں میں دھکے کھاتا پھرے

Saturday, March 18, 2017

اختلاف کب رحمت کب زحمت

(سید عبدالوہاب شیرازی)

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔
ماضی قریب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری بہت بڑے مناظر تھے، قادیانیوں،عیسائیوں،آریوں سمیت مختلف فرق باطلہ سے مناظرے کیے لیکن مناظرے کے بعد مخالف فریق نہ صرف کھانا کھلاتے بلکہ اس دن لازما اپنے گھر ٹھہرا کر خوب مہمان نوازی کرتے تھے۔
تفرقہ کیسے بنتا ہے؟
ایک طبقہ دین کا ایک شعبہ لے کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ دوسرا طبقہ دین کا دوسرا شعبہ پکڑ کر اسی کو سارا دین سمجھنا شروع کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچ، وفاداریاں ہرچیز تقسیم ہوجاتی ہے۔ پھر محبت بھی تقسیم ہوجاتی ہے، چنانچہ ایک کہتا ہے محبت صرف اللہ کے لئے خالص ہے۔ دوسرا کہتا ہے محبت رسول اللہ کے لئے ہے، تیسرا کہتا ہے صحابہ کے لئے ہے ۔چوتھا محبت کو صرف اہل بیت کے لئے خالص کردیتا ہے۔اس طرح دین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ہر طبقہ اپنی اسی سوچ کے ساتھ تعبیر وتشریح کرتا ہے۔
موجودہ صدی میں بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی، جنہوں نے لوگوں کو سنگل پوائنٹ ایجنڈا دیا، اور اسی سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کیا۔ دراصل سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر لوگوں کو برین واش کرنا نہایت ہی آسان معاملہ ہے۔ دین کا ہمہ گیر تصور دینا اور اس پر لوگوں کو اکھٹا کرنا مشکل کام ہے چنانچہ لوگوں نے دین کا ہمہ گیر تصور ایک طرف رکھتے ہوئے سنگل پوائنٹ ایجنڈے سے کام لیا اور کسی ایک بات یا نظریے پر لوگوں کو اس طرح اکھٹا کرنا شروع کیا کہ اب ہرجماعت اور طبقہ کے لوگ صرف اسی ایک بات کو مکمل دین سمجھتے ہوئے باقی تمام جماعتوں اور دین کے شعبوں کا انکار کررہے ہیں۔ لیکن عموما ہوتا یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر اور علم بڑھتا ہے اور چالیس پنتالیس سال کی عمر میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ میری پچھلی ساری سوچیں غلط اور محدود تھیں۔

اس صورت میں ایک اور نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسا شخص اپنے ان اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے متنفر ہوجاتا ہے جن کے پاس اس نے آٹھ دس سال لگائے تھے اور انہوں نے اسے وہ سوچ نہیں دی جو اسے چالیس سال کی عمر میں مختلف تجربات ، مشاہدات، معاشرے کے رویوں، خارجی مطالعے، اور ٹھوکریں کھا کر حاصل ہوئی۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا مسلک ضرور پڑھایا جائے لیکن اسے اختلاف کی حد تک رکھتے ہوئے خلاف سے بچنے کی تعلیم بھی دی جائے اور بچوں کو سمجھایا جائے کہ اصول اور فروع میں فرق کیا ہے۔ اصول اور فروع میں وہی فرق ہے جو فرض اور واجب یا فرض اور سنت یا فرض اور مستحب میں ہے۔ جب تک یہ فرق نہ سمجھ آئے چھوٹا ذہن ہر اختلاف کو فرض اور حرام کا فرق سمجھتے ہوئے اپنے مسلک کے علاوہ ہر مسلک کو مکمل باطل،مردود اور کافر تک سمجھتا ہے، پھر جب وہ عملی طور پر معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو انتشار ، افتراق و تشتت پیدا کرتا ہے۔
ہم جب مسلکی جھگڑے چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلک کو چھوڑدیا جائے بلکہ اس کا مطلب وہی ہوتا ہے جو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ دوسرے کا مسلک چھیڑو نہ۔ ہر کوئی اپنے مسلک میں رہتے ہوئے اس جھگڑے کو ختم کرسکتا ہے۔ دلائل کے ساتھ اپنا مسلک اپنے طلباءکو ضرور سمجھایا جائے لیکن اسے عوام میں بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں پائے جانے والے تینوں مسالک یعنی دیوبندی، بریلوی،اہلحدیث کا صرف پانچ فیصد باتوں میں اختلاف ہے باقی پچانویں فیصد باتوں میں مکمل اتفاق ہے۔ پھر ان پانچ فیصد میں سے بھی تین فیصد میں محض ظاہری اختلاف یا تعبیر کا فرق ہے بات دونوں فریق ایک ہی کررہے ہوتے ہیں محض تعبیر کا فرق ہوتا ہے، یعنی دونوں ایک ہی کان پکڑ رہے ہوتے ہیں بس ایک دائیں طرف سے تو دوسرا بائیں طرف سے۔ یہ غلط فہمی آپس میں مل بیٹھنے سے ختم ہوسکتی ہے۔ جب آپس میں دوریاں ہوتی ہیںاور ملنا ملانا نہیں ہوتا تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر علماءآپس میں ملنا ملانا رکھیں تو یہ تین فیصد مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور محض دو فیصد واقعی اختلاف رہ جائے گا جو فطری عمل ہے کوئی بری چیز نہیں۔اپنی جماعت اور اپنے مسلک پرلوگ کتنے سخت ہیں اور ان کا رویہ کیاہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت بھی ہوا جب میں نے فیس بک پر فرقہ واریت کے حوالے سے مختلف علماءکے اقوال پوسٹ کرنا شروع کیے، جب ایک مسلک کے علماءکے اقول پیش کیے تو کوئی خاص ہلچل نہیں مچی مگر جب میں نے دوسرے مسلک کے علماءکے فرقہ واریت کے خلاف اقول پیش کرنا شروع کیے تو بے شمار لوگ اشتعال میں آگئے، یعنی وہ کسی دوسرے مسلک والے کی بات سننے تک گوارا نہیں کرسکتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ اس کا نام لکھنا گوارا کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے ہی مسلک کے اکابرین کے مسلک پرستی اور فرقہ واریت کے خلاف موقف کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں.

Friday, March 17, 2017

::::::: اختلاف اور اخلاق :::::::​

بشکریہ :‌ عادل سہیل ظفر
خلاف اور اختلاف معروف الفاظ ہیں اور غالباً ان کے مفاہیم بھی معروف ہیں ، لغوی طور پر اختلاف کا اصل مادہ """ خَلَفَ """ ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :::

خَلَفَ ، یَخلِفُ ، خِلاف ٌ ، مُخلاف ٌ ، اور ،
باب """ اِفتَعلَ "" سے ، اَختَلفَ ، یَختلفُ ، اِختلافٌ ، مُختَلِفٌ ، ہے
مفہوم کے اعتبار سے دونوں کا ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں کہ ::: """ الخِلاف ھو ضد الاتفاق و ھو ان یذھبَ احدُھُما اِلیٰ ما یُخلاف الآخر ::: خلاف ، اتفاق کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ دو (اشخاص یا جاندار اور ذی عقل چیزوں )میں سے ایک اُس طرف جائے جو دُوسرے کے خلاف ہو """
پس خلاف اور اختلاف میں لغوی طور پر کوئی اختلاف نہیں اور اسی طرح اصطلاحی استعمال میں بھی کوئی خِلاف نہیں ،
اس کے ہم معنی الفاظ میں """ فرق ، اور ، افتراق """ ، """ نزعٌ ، اور ، اِنتَزاعٌ """ ہیں ،
اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام پاک میں ان تینوں کے مذکورہ بالا مفاہیم کے مطابق استعمال کی مثالیں میسر ہیں جو اس بات کی تائید ہیں کہ اصطلاحی طور پر بھی اِن کے مفاہیم میں کوئی فرق نہیں ،
اور یہ بھی بہت واضح ہوتا ہے کہ اختلاف ، تفرقہ ، تنازع ، اللہ کو ناپسند ہیں اور اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہیں ، اور دُنیا اور آخرت کی ذلت اور عذاب کے اسباب میں سے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے [QH] كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتَابَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النَّاسِ فِيمَا اختَلَفُوا فِيهِ وَمَا اختَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعدِ مَا جَاءتهُمُ البَيِّنَاتُ بَغياً بَينَهُم فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اختَلَفُوا فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ وَاللّهُ يَهدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّستَقِيمٍ[/QH] ::: 
پہلے سب ہی لوگ ایک اُمت تھےتو اللہ نے نبی بھیجے ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے اور اُن کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ، حق کے ساتھ ، تا کہ وہ نبی اُس کے بارے میں (اس کتاب کے ذریعے ) فیصلے کریں جِس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، اور اُس (جو کچھ ) اُنہیں دیا گیا اُس میں انہوں نے اس وقت اختلاف کیا جب کہ ان کے پاس واضح روشن دلائل آ چکے ، انہوں نے(یہ اِختلاف ) آپس میں بغاوت کرتے ہوئے کیا ، تو اللہ نے اِیمان لانے والوں کو اپنی اجازت سے حق میں سے اُس کے بارے میں ہدایت فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا ، اور اللہ جسے چاہے اِستقامت والے راستے کی ہدایت دیتا ہے ))))) سورت البقرة /آیت ۲۱۳ ،
اللہ پاک کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ اِختلاف """ کی مذمت بہت واضح ہے ، یہ صرف ایک موقع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت اور بھی کئی دفعہ فرمائی ، مثلاً :::

((((( [QH]وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ العِلمُ بَغياً بَينَهُم وَلَولَا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الكِتَابَ مِن بَعدِهِم لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ [/QH]:::
اور وہ (سابقہ اُمتیں )اُن کے پاس عِلم آنے کے بعد ہی ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور اگر اللہ کی طرف سے ایک (حساب ، اور جزا و سزا کے لیے )مقررہ وقت کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو فیصلہ ہو جاتا ، اور بے شک جنہیں اِن (اختلاف کرنے فرقوں میں بٹ جانے والوں) کے بعد کتاب کی وراثت ملی وہ بھی اُس کے بارے میں شک کا شکار ہیں )))))) [QH]سورت الشُوریٰ /آیت 14،[/QH]
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آیت مبارکہ میں [AR]""" لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِي[/AR]بٍ """" میں مذکور """ مِّنهُ """ میں سے """ ہُ""" سے مراد مُحمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ہیں ، بہر حال اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو سابقہ لوگوں امتوں کو دی گئی اور جس کا ذکر کیا گیا ، یا رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارکہ لی جائے ، بہر صورت اختلاف کو ایک مذموم عمل کے طور پر ذکر کیا گیا ،
اس نا پسندیدہ کام کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیےجائز نہ رکھتے ہوئے حُکم فرمایا ((((([QH] وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا [/QH]::: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور الگ الگ مت ہو ))))) [QH]سورت آل عمران / آیت103[/QH]
اور اس مذموم عمل یعنی اِختلاف اور گرو ہ بندی کی بہت وضاحت کے ساتھ مذمت فرماتے ہوئے ، اُس سے منع فرماتے ہوئے اور اس کا خوفناک نتیجہ بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((([QH] وَلاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواوَاختَلَفُوا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ البَيِّنَاتُ وَأُولَـئِكَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ :[/QH]:
: اور تُم لوگ اُن کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اُن کے پاس روشن نشانیاں آ جانے کے بعد (بھی)گروہوں میں بَٹ گئے اور اختلاف کیا اور وہی ہیں جِن کے لیے بڑا عذاب ہے ))))[QH]) سورت آل عمران/آیت105،[/QH]
اللہ سبُحانہ و تعالیٰ نے ہمیں مزید یہ بھی بتایا کہ اختلاف اور گروہ بندی کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہ ہو گا بلکہ دُنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب ہو گا ، پس فرمایا ((((( [AR]وَأَطِيعُوا اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذهَبَ رِيحُكُم وَاصبِرُوا إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ :[/AR]::
اور اللہ کی تابع فرمانی کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی تابع فرمانی کرو اور تنازع مت کرو ورنہ تُم لوگ ناکام ہو جاؤ گے اور تُم لوگوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ))))) [QH]سورت الأنفال / آیت46،[/QH]
اختلاف ، تنازع اور گروہ بندی کے منفی نتائج کے باوجود کئی اور ایسے ہی منفی نتائج والوں کاموں کی طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی مکمل بے عیب حکمت سے مقرر فرمایا کہ سابقہ امتوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ مذموم عمل پایا جائے گا ، اور اس کی خبر بھی فرمائی ، ((((( [QH]وَلَو شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُختَلِفِينَ O إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُم وَ تَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَملأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ:::[/QH]
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سارے ہی لوگوں کو ایک ہی اُمت بنا دیتا (لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا ) اور وہ ابھی تک مُختلف ہیں O سوائے اُن کے جِس پر آپ کے رب نے رحمت کی (اور اختلاف سے محفوظ رکھا )اور اللہ نے لوگوں کو اسی لیے ہی بنایا اور اللہ آپ کے رب کا فرمان پورا ہو(کر رہے )گا(کہ)میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جِنّات سے بھروں گا ))))) [QH]سورت هود/آیات 118 ، 119،[/QH]
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مُسلمانوں میں اختلاف ختم ہو جائے ، یہ رہے گاخواہ بہت ہی معمولی رہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہے ، پس یہ ختم نہ ہوسکنے والی چیز ہے ، لیکن یہ ضرور کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کچھ زیادہ محنت بھی درکار نہیں کہ اختلاف کی صورت میں اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کے حقوق اور احترام کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور نہ اپنے دِل میں ان کے لیے کوئی بُغض رکھا جائے ، یہاں تک کہ کسی کے بارے میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ معاذ اللہ وہ حق جانتے ہوئے باطل پر عمل پیرا ہے ،
ایسا قطعاً نا مُمکن نہیں کہ ہم اپنے اختلاف کی بنا پر وجود میں آنے والی تفریق کو صرف اُس موضوع ، اُس بات ، اُس کام کے اندر تک محدود رکھیں جس میں وہ ہوا ہے ، اور اُس اختلاف کے بارے میں بات چیت کریں ، ایک دوسرے کے دلائل سنیں ، مانیں یا رد کریں ، اور ایک دوسرے سے اسلامی بھائی چارہ بھی قائم رکھیں ،
بے شک ہم سب کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک ہر کام میں ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے ، اور معاملہ صرف نمونہ ہونے کا ہی نہیں بلکہ اُن کی اتباع فرض ہے اور ان کی عطا کردہ ہدایت اور ترغیب پر عمل کرنے سے بڑھ کر درستگی اور خیر والا کام اور کوئی نہیں ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((((([AR] خَيرُ الناس قَرنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم :[/AR]:: سب سے زیادہ خیر والے لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو ان کے بعد ہیں ، پھر جو اُن کے بعد ہیں ))))) صحیح البُخاری /حدیث 3451 /کتاب فضائل الصحابہ /باب اول ، صحیح مُسلم/حدیث ۲۵۳۳/کتاب فضائل الصحابہ /باب ۲۵،

آیے دیکھتے ہیں کہ تمام تر لوگوں میں سے زیادہ خیر والے لوگ جو اُن تین زمانوں میں تھے ، اُن لوگوں کا ایک دووسرے سے اختلاف ہونے کی صورت میں کیا رویہ رہتا تھا ،
أمیر المؤمنین عُمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما ، کےبارےمیں معروف ہے کہ وہ تقریباً ایک سو مسائل میں ایک دوسرے کے خِلاف تھے ، یعنی ان میں تنازع تھا ، لیکن اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہُ أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ کی یاد میں رو پڑتے اور اُن کےبارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ """""[AR] إِنَّ عُمَرَ رضي اللَّهُ عنه كان لِلإِسلامِ حِصنًا و حصيناً يَدخُلُونَ في الإِسلامِ وَلا يَخرُجُونَ فلما أُصِيبَ عُمَرُ انثَلَمَ الحِصنُ [/AR]::: عُمر رضی اللہ عنہُ اسلام کے لیے ایک قلعہ تھے کہ لوگ اِسلام میں داخل ہوتے تھے جس میں لوگ داخل ہو کر نکلتے نہ تھے جب عُمر (رضی اللہ عنہ ُ ) فوت ہو گئے تو یہ قلعہ میں دڑار پڑ گئی """ اور امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہُ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کو دوسرے شہروں میں دینی معاملات کے لیے اُستاد بنا کر بھیجتے اور اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ """"" کنیفٌ ملیء عِلماً ::: ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ) فقہ سے بھرا ہوا برتن ہیں """"""( کنیف ، مترادف وعاء اور وعا کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہی جو کسی دوسری چیز کو اپنے اندر چھپا سکے )،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ میں بھی اسی طرح دادا کی وراثت سے متعلق کئی مسائل میں اختلاف تھا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ """ کیا زید اللہ کا خوف نہیں کرتے کہ پوتے کو دادا کا وارث بتاتا ہے اور دادا کو پوتے کا نہیں """ لیکن وہ اختلاف بھی صرف مسائل کی حد تک ہی تھا اوروہ ایک دوسرےکااحترام اس طرح کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ سوار ہونے لگے تو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما زید رضی اللہ عنہ ُ کی سواری کی رکاب تھام لی تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اس کی رکاب چھوڑ دیجیے """ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ ہمیں اِسی طرح اپنے عُلماء کی عِزت کرنا سکھایا گیا ہے """" اور جب زید رضی اللہ عنہ ُ فوت ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ اس طرح عِلم ختم ہوتا ہے ، آج بہت زیادہ عِلم چلا گیا """"
یونس الصدفی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ """ میں نے (اِمام) شافعی سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں دیکھا ، ایک دِن میں نے اُن کے ساتھ کسی مسئلہ پر مناظرہ کیا اور ہم الگ الگ ہو گئے ، اُس کے بعد جب شافعی مجھے ملے تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر کہا """ عیسیٰ کے باپ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی رہیں خواہ کسی مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہ ہی ہو """"
امام الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ ابو عیسیٰ الصدفی سےپوچھا ہوا یہ سوال ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے ، اور پھر ایک دوسرے کے حقوق جانتےاورسمجھتےہوئےاورانہی ں ادا کرتے ہوئے ، اپنے اختلاف کو اپنے اخلاق کا اتلاف نہ بننے دیں ، اور کسی مسلمان کے عزت پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہیں کہ اس پر کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہوئے اس کو اسلام سے خارج قرار دیں ، اور اس کی حق تلفی سے بچے رہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت دے کہ ہم اختلافات کو بد اخلاقی اور اسلامی بھائی چارے کا قاتل نہ بننے دیں ، اختلافی مسائل اور معاملات کو اسلامی بھائی چارے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے سلجھانے کی کوشش کریں نہ کہ بد اخلاقی کر کے مزید بگاڑ پیدا کریں ، چھوٹی چھوٹی دڑاڑیں بھرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب اُنہیں بھرنے کی بجائے کِھینچا جانے لگے تو وہ بڑی بڑی خلیجیں بن جاتی ہیں جنہیں بھرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ، اور ہم مسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مُصیبت بداخلاقی،ذاتی پسند نا پسند ، شخصیت پرستی پر مبنی اختلاف بھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایسی ہی خلیجیں پیدا کرتا ہے ،
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے

اختلاف کے باوجود احترام کی ضرورت

مفتی نصیرالدین قاسمی ندوی
    مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے افراد کے درمیان متعدد موضوعات اور مسائل میں نقطہ نظر کا اختلاف پایاہے،اور اسی اختلاف کی وجہ سے الگ الگ جماعتیں اور فرقے بھی وجود میں آتے ہیں۔ان میں سے بہت سارے مسائل میں اختلاف معمولی نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔اختلافات کو اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔دوسری بات یہ کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا،سب وشتم اور طعن وتشنیع سے پرہیز کرنا اورایک دوسرے کو برداشت کرنا بھی ضروری ہے ۔یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے۔ہمیں تو یہی سوچنا ہے کہ اپنے اختلافات کے باوجود ہم کیسے ایک دوسرے سے مل کر رہ سکتے ہیں۔ ہمارے دین نے ہماری کیا رہنمائی کی ہے۔ اس سلسلے میں علمائے کرام کی ذمہ داری کیا ہے۔
قرآن پڑھیے، مومن کے اوصاف کیابیان کیے گئے ہیں؟ (أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ) مومن کے لیے یہ نرم ہوتے ہیں اور اہل کفر کے لیے سخت ہوتے ہیں۔ مومن کے اوصاف میں یہ ہے کہ مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کے لیے نرم رہے اور اہل کفر کے لیے سخت رہے۔ صحابہ کرام کے اوصاف میں بیان کیا گیا (أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُم)
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
آج ہماری فولادیت کہاں نظر آتی ہے؟ آپسی مسائل ہوتے ہیں تو ہم بڑے سخت ہوجاتے ہیں۔مسلک کو ہم نے دین کا درجہ دے رکھا ہے۔ مسلک کی تبلیغ کو دین کی تبلیغ سمجھتے ہیں اور مسلک کے دفاع کو دین کا دفاع سمجھتے ہیں۔ ہماری یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے۔ ہمارے جو اختلافات ہیں بہت معمولی ہیں ۔ پانچ سے سات فی صد مسائل ہی میں اختلاف ہوگا، لیکن یہ پانچ سات فی صد مسائل ہی ہمیشہ غالب رہتے ہیں اور یہ ترانوے چورانوے فیصد جو متفق علیہ مسائل ہیں، جن میں کوئی اختلاف نہیں ہے ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتاہے۔ کیوں ایسا ہے؟ جب ہمارا اتفاق اتنے مسائل میں ہے اور اختلاف چند مسائل میں تو پھر یہ اختلاف ہی ہمیشہ کیوں غالب رہتا ہے اور یہی ہمارے ذہنوں پر اور ہمارے معاشرے پر کیوں مسلط رہتا ہے؟
اسلامی موضوعات میں کتابوں کے اندر ایک موضوع ہے *’’أدب الخلاف‘‘* یعنی اختلاف کو کیسے برتا جائے، ہم اختلاف کے باوجود کیسے ایک دوسرے سے مل کرکے رہیں، اس موضوع پر جدید دور میں عربی زبان میں بہت کام ہوا ہے، بہت ساری کتابیں أدب الخلاف، أدب الاختلاف فی الاسلام وغیرہ نام سے آچکی ہیں، اردو میں بھی دھیرے دھیرے کام ہورہا ہے۔ ادب الخلاف کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا آپ سے مسئلے مسائل میں اختلاف ہے، اس اختلاف کے باجود ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے اور دوسرے سے قریب رہنے کی کوشش کریں،ایک دوسرے کاادب و احترام کریں۔ اس کی بڑی ساری مثالیں دے دے کر علماء نے سمجھایا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں: 
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دونوں کے درمیان سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف تھا، غور کریں،سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف تھا، لیکن کیا دونوں ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے؟ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے؟ نہیں، ان حضرات کی سوانح میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے تھے: ’’کنیف ملیء علما وفقھا آثرت بہ اھل القادسیۃ‘‘، عبد اللہ بن مسعود علم وفقہ کا پٹارہ ہیں، یہ علم وفقہ کی گٹھری ہیں، اس گٹھری کو میں اہل قادسیہ کے حوالے کرتا ہوں۔* سوچیے سو مسئلہ میں اختلاف لیکن اس کے باوجود تعریف کررہے ہیں۔ *ادھر دوسری طرف عبد اللہ بن مسعود کا حال یہ تھا کہ حضرت عمر کے انتقال کے بعدکہا کرتے تھے کہ’’رحم اللہ عمر، کان للاسلام حصنا حصینا...‘‘ اللہ رحم کرے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر، یہ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھے ، اب وہ قلعہ منہدم ہوگیا۔*
*امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی دونوں کا ایک مرتبہ کسی مسئلہ کو لے کر آپس میں اختلاف ہوا ، علی بن مدینی امام احمد بن حنبل کے پاس ایک سواری سے آئے تھے اور سواری سے اتر نے کے بعد اس مسئلہ پر بحث ومباحثہ ہوا اور راوی کہتے ہیں کہ آوازیں بلند ہوگئیں، تیز تیز آواز میں بحث ہونے لگی۔ لیکن جب بحث ختم ہوئی اورعلی بن مدینی جانے لگے تو امام احمد بن حنبل نے اٹھ کر ان کی سواری کی لگام پکڑ لی اور ان کو سواری پر بیٹھایا۔ غور کیجیے ابھی مناظرہ ہوا، اور دیکھیے احترام کا یہ عالم۔*
یہ تو ماضی بعید کی بات تھی، *ماضی قریب میں مولانا ثناء اللہ امرتسری ایک مشہور عالم گذرے ہیں، بہت بڑے مناظر تھے اور ہر مسلک کے لوگ ان کو اپنے مناظرے میں بلاتے تھے۔ انہوں نے قادیانیوں سے مناظرہ کیا، عیسائیوں سے مناظرہ کیا، آریوں سے مناظرہ کیا، جتنے فرق باطلہ تھے سب سے مناظرہ کیا۔ ان کا حال یہ ہوتا تھا کہ جب مناظرہ ختم ہوتا تو چاہے مناظر مخالف حریف کوئی بھی ہو اس کو اپنے یہاں قیام وطعام کی دعوت دیتے تھے ۔ مناظرہ کررہے ہیں، بحث ومباحثہ ہورہا ہے، مخالفت ہورہی ہے، لیکن مناظرہ ختم ہوتا ہے تو اپنے حریف سے کہتے ہیں کہ آپ کو ہمارے یہاں کھانا کھانا ہے اور ہمارے یہاں آج رات قیام کرنا ہے۔*
*مولانا اسماعیل سلفی گجرانوالہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حجاج کرام کا قافلہ حج کے لیے روانہ ہورہا تھا، حجاج کوروانہ کرنے والے لوگوں کی اسٹیشن پر بھیڑ بھاڑ تھی، نماز کا وقت ہوگیا اور لوگوں نے وہیں ایک طرف ہوکر صف لگالی، لوگوں نے مولانا اسماعیل صاحب کونماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا ،مولانا کے مصلی پر کھڑے ہونے کے بعدپیچھے سے ایک صاحب کہتے ہیں کہ مولاناآپ کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوگی ۔ مولانا نے اپنا رومال اٹھایا، کندھے پر رکھا، مصلے سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ حضرت آپ نماز پڑھا دیجیے، آپ کے پیچھے میری نماز ہوجائے گی۔ وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اور اس نے معافی مانگی اور مولانا ہی سے نماز پڑھوائی۔ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ کم سے کم اگر ہوتا تو دو جماعت تو فوراً بن جاتی۔ جاؤ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھو، ہم اپنے لوگوں کو لے کر الگ ہورہے ہیں، اور ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی تو کوئی بعید یا قابل تعجب نہیں۔*
میرے بھائیو! اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ایک دوسرے کو سمجھنا، برتنا ان سب چیزوں کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے۔ ایک عالم کسی عالم کی تنقیص کرے یا مسئلے مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اس کے پیچھے پڑ جائے ،یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ بلکہ ایسا تو ایک عام مومن کو بھی زیب نہیں دیتا چہ جائے کہ عالم ایسا کرے۔ *سفیان بن حسین یہ اسلاف میں سے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایاس بن معاویہ کے سامنے ایک آدمی کا ذرا خراب الفاظ میں تذکرہ کیا۔ ایاس بن معاویہ ایک بڑے ہی سنجیدہ اور صاحب فراست انسان تھے۔ ان کے سامنے میں نے کسی کی شکایت کی، غیبت کی۔ ایاس بن معاویہ نے مجھ کو گھور کر دیکھا اور کہا کہ أغزوت الروم؟ کیا تم روم والوں سے جنگ کرچکے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہا کہ السند والھند والصین؟ کیا تم سندھ والوں سے ، ہند والوں سے ، چین والوں سے قتال کرچکے ہو؟ لڑائی کرچکے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہا کہ سبحان اللہ، رومی تم سے محفوظ ہیں، ہندو سندھ والے تم سے محفوظ ہیں، چین والے تم سے محفوظ ہیں، لیکن تمہارا مسلمان بھائی تم سے محفوظ نہیں ہے۔؟*
میر ے بھائیو۱ ہم اپنے مسلک پر رہیں، ہم اپنے موقف پر رہیں لیکن دوسرے کا احترام کرنا جانیں، دوسرے کو سمجھنا جانیں۔اور پھر یہ بھی سوچیں کہ کچھ مسائل ہمارے ایسے ہیں جن پر غور کرنے کے لیے مسلک ومذہب سے اوپر اٹھنے کی بھی ضرورت ہے، جو مشترک مسائل ہیں، جن میں مسلک اور مذہب کا کوئی معاملہ نہیں، بلکہ انسانیت کے مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر صحت وبیمار ی کے مسائل ہیں، یہ منشیات ، یہ گٹکھا تمباکو ، کھینی ،پان مسالہ ..ہمارا نوجوان اس میں لت پت ہے، وہ مسلم ہے کہ غیر مسلم ؟ حنفی ہے کہ اہل حدیث؟ دیوبندی ہے کہ بریلوی ؟شیعہ ہے کہ سنی؟ ۔کیا ان مسائل پر غور کرنے کے لیے ہم اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ 

*ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے مسجدوں کو بانٹ رکھا ہے، ہم نے اپنے مدرسوں کو بانٹ رکھا ہے، ہم نے اپنی عبادتگاہوں کو بانٹ رکھا ہے، کتابوں کو بانٹ رکھا ہے، پھر اس کے باوجودللچائی نظروں سے دوسروں کی مسجدوں کو تاکتے رہتے ہیں ، اس کے لیے مقدمے دائر ہوتے ہیں، پیسے خرچ کیے جاتے ہیں، مسجدوں میں لڑائیاں ہو تی ہیں ، مسجدوں میں پولیس بلائی جاتی ہے اور سالہا سال تک مقدمے چلتے ہیں اور دل کھول کر پیسہ خرچ کیا جاتاہے۔کیا ایسے کاموں کی کوئی گنجائش ہے؟ کیا ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیں گے یابہ دستورغیر ضروری لڑائیوں کے ذریعے اپنے آپ کو کمزور سے کمزور تر کرتے رہیں گے ۔

فرقہ واریت اور مذہبی انتہاء پسندی

جیسے سیاست میں بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ایسے ہی مذاہب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بنیادی اصول یہی ہے کہ آپ رواداری، بردباری اور اعتدال پسندی کو عملاً تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔
اگر آپ اس اصول کو مدنظر نہیں رکھتے تو پھر آپ فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہوے فرقہ وارانہ استعارے ہی استعمال کرتے ہیں۔ یوں فرقہ وارانہ ماحول بدستور برقرار رہتا ہے۔
اس تحریر کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ 21ویں صدی میں ہم فرقہ پرستی کے جنجال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ حیرت تو ان میڈیا دانشوروں پر ہے جو اکثر فرقہ واریت کی مخالفت بھی فرقہ وارانہ استعاروں سے کرتے ہیں۔
دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا نظریہ یا مذہب نہیں جس کے ماننے والوں میں سو فی صد ہم آہنگی ہو کہ ہر مذہب یا نظریے میں چھوٹے بڑے اختلافات موجود ہوتے ہیں۔
تنوع، رنگا رنگی یعنی diversity تو انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جبکہ یکسانیت یعنی uniformity کسی بھی لحاظ سے مثبت نہیں۔ اختلافات کی موجودگی بذات خود منفی نہیں اور اختلاف رکھنے والے اپنا اپنا الگ مکتبہ فکر یعنی School of Thought بنا لیتے ہیں۔
یہودیت، مسیحیت، اسلام، بدھ مت، ہندومت، سکھ مت ہی نہیں بلکہ سوشلسٹوں، قوم پرستوں اور لبرلوں میں بھی لاتعداد مکتبہ فکر ہیں۔ اختلافات کے عمل کو "چھری" سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ آپ اختلافی نقطہ نظر کی بدولت نئی راہیں بھی ڈھونڈھ سکتے ہیں اور انہی اختلافات کو منفی رنگ دے کر دنگے فساد کو بھی بڑھاوا دے سکتے ہیں۔
ہر مکتبہ فکر خود کو "حق" اور دوسروں کو "باطل" قرار دیتا ہے۔ اسی طرح ہر مکتبہ فکر میں اعتدال پسند اور انتہا پسند پیروکار ہوتے ہیں۔
اعتدال پسند وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر دم رواداری اور بردباری کو اولیت دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اختلافات کو گلدستے میں لگے مختلف پھولوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ جیسے گلدستہ میں مختلف پھول باہم مل کر اک ملی جلی خوشبو سے فضا معطر کرتے ہیں، ویسے ہی کسی بھی فکر، لہر یا مذہب میں موجود مختلف خیالات اس فکر ہی کو جلا بخشتے ہیں۔ اسی لیے اعتدال پسند تو معاشرے کو گلدستہ کی خوشبو ہی سے معطر کرنے پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ وہ اختلافی امور پر عام بحث نہیں کرتے کہ یہی صوفیا کا راستہ تھا۔
اس کے برعکس انتہاپسند ہر وقت اختلاف کو سامنے رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی انہی کے مکتبہ فکر کو معتبر سمجھے۔ یہی نہیں بلکہ انتہاپسند اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ وہ اگر اقلیت میں ہوں یا ان کے پاس نسبتاً کم طاقت ہو تو وہ اپنی مظلومیت کی رام کہانی سناتے ہیں اور اگر وہ اکثریت میں ہوں یا ان کے پاس اقتدار کی طاقت آ جائےتو وہ ہر مرد و عورت پر اپنی فقہہ تھوپنے کو ضروری گردانتے ہیں۔
یہ انتہا پسند ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی مکتبہ فکر کو "فرقہ" میں ڈھال دیتے ہیں۔ یوں جس نقطہ نظر پر پہرہ دینے کے لیے وہ مکتبہ فکر بنایا گیا ہوتا ہے اس کا اصل مقصد تو کہیں کھو جاتا ہے اور فرقہ پرستی ہی کو عروج حاصل ہوتا ہے۔
انتہا پسند درحقیقت، مخالف یا متحارب نقطہ نظر کو برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ اسے نیست و نابود کرنا اپنا فرض گردانتے ہیں۔ یوں یاد رکھیں، ہر انتہا پسند فرقہ پرست ہوتا ہے اور ہر فرقہ پرست انتہا پسند۔ یہ لوگ رنگارنگی یعنی diversity کے خلاف ہوتے ہیں اور اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے طاقت سے مٹانا چاہتے ہیں۔
اب ذرا ان باتوں کی روشنی میں اپنے خطے، اپنے مکتبہ فکر اور اپنے پنڈ، محلہ، خاندان، تعلیمی ادارے یا دفتر کے ماحول کا جائزہ لیں تو حقیقت حال آپ پر خود بخود واضح ہو جائے گی۔ آپ کو خود بخود معلوم ہوتا جائے گا کہ کہاں کہاں اعتدال پسند ہیں اور وہ کون ہیں جو انتہا پسندیوں اور فرقہ پرستیوں کے پرستار ہیں۔
1970 کی دہائی سے ہمارے ہاں ہر مکتبہ فکر میں انتہاپسندوں اور فرقہ پرستوں کا زور بڑھ چکا ہے جبکہ اعتدال پسند پیچھے کی صفوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔
ان انتہاپسندوں اور فرقہ پرستوں کو استعمال کرنے والے گروہ و طاقتیں بھی بہت سی ہیں۔ کیونکہ ان میں غصہ اور تعصب حد سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے انہیں استعمال کرنا بھی قدرے آسان ہوتا ہے۔ 19ویں صدی سے استوار کیے گئے جدید ریاستی بندوبست یعنی وطنی ریاستوں کی دنیا میں تو انہیں استعمال کرنا اور بھی آسان ہو چکا ہے کہ اقتدار یا طاقت کی لڑائی میں اولیت نہ ہی فقہا کو حاصل ہوتی ہے نہ ہی نظریے کو بلکہ اصل مدعا یا مقصد اقتدار پر قبضے یا طاقت کا حصول ہی ہوتا ہے۔
جہاں فرقہ پرست و انتہا پسند خیالات ہوں گے وہیں ان کو اپنے مقاصدکے تحت استعمال کرنے والوں کو بھی کامیابی ملے گی۔ جہاں نصاب اور میڈیا میں فرقہ وارانہ استعارے استعمال کرنے کی آزادی ہو وہاں باہر والوں کی تو موجیں ہو جاتی ہیں۔
یاد رکھیں کہ جب سے دنیا بنی ہے اس میں اختلافات بدرجہ اتم موجود رہے ہیں۔ کون سا گھر یا خاندان ہے جس میں اختلاف نہ ہو؟ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ "اختلافات کے ساتھ جینا" ہے۔
جنھیں اختلافات کے ساتھ جینے کا ہنر آتا ہے وہی اعتدال، رواداری اور بردباری کا رستہ اپناتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافات کو یکسر ختم کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی کوئی مثبت عمل البتہ یہ ممکن ہے کہ ہم سب اختلافات کے ساتھ جینا سیکھ جائیں۔ جو اختلافات کے ساتھ جینا نہیں جانتا وہی فرقہ پرست بھی ہے اور انتہا پسندیوں کا مبلغ بھی۔
جب 1920 میں عدم تعاون کی تحریک کو بڑھاوا دینے کے لیے تحریک خلافت کے رہنماؤں نے نومولود علیگڑھ یونیورسٹی میں چند طلباء کو ساتھ لے کر "جامعہ ملیہ" بنائی تھی تو مہاتما گاندھی نے اس مجوزہ یونیورسٹی کے لیے علامہ اقبال کو خط لکھ کر پہلا وائس چانسلر بننے کی دعوت دی تھی۔ زیرک اقبال نے مہاتما گاندھی کو جو جواب میں لکھا تھا اسے کراچی کے خرم علی شفیق نے علامہ پرلکھی جارہی 6 جلدوں پر مشتمل ضحیم سوانح کی تیسری جلد میں نقل کیا ہے۔ یہ کتابیں لاہور کی اقبال اکیڈیمی مسلسل چھاپ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ بظاہر تو مسلمانوں کی قومی تعلیم کے لیے بنائی جارہی تھی مگر اقبال کا استدلال تھا کہ مسلمانوں کی تعلیم سے قبل تمام مسلم مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی ہونا لازم ہے وگرنہ ایسی تعلیم سے فرقہ واریت پھوٹے گی۔
اقبال نے جس اندیشے کا اظہار کیا تھا وہ آج حقیقت بن چکا ہے۔ یہی استدلال انہوں نے خطبہ الہٰ آباد میں بھی دہرایا اور 11۔اگست 1947 کی تقریر میں بھی قائداعظم نے اسی سوچ کو اولیت دی تھی کہ اس میں رنگارنگی کو تسلیم کرنے اور رواداری کو اپنانے کا درس بدرجہ اتم موجود تھا۔
اب آپ سوچیں کہ ہم نے آج اس ملک میں فرقہ واریت اور انتہا پسندیوں کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں اعتدال، رواداری اور معقولاتی (Rational) سلسلوں کو ہی آگے بڑھانا ہوگا


(رائٹر نامعلوم)