سونے اور چاندی کے
انباروں سے زیادہ خطرناک وہ طرزِ معاشرت ہے جو امیر وغریب میں امتیاز قائم کرکے
غریب کے دل میں سرمایہ داری کی ہوس اور شاہ پرستی کا شوق پیدا کرتی ہے۔۔۔۔اس سے
ناداروں کے دلوں میں حرص وطمع کی وہ خواہش پیدا ہوتی ہے جو ان کو زیادہ رشوت
ستانی، چوری، خیانت، استحصال بالجبر اور عصمت فروشی وغیرہ پر آمادہ کردیتی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمہ اللہ
#نکتہ
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمہ اللہ
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی اللہ کا کرم ہے
کہ اکثر لوگ
دین کے معاملے میں بات کرنے والے کی بات کو ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ بوتھی دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔
#نکتہ
دین کے معاملے میں بات کرنے والے کی بات کو ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ بوتھی دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ
مذہب کے نام پر منبر و محراب سے تفرقہ بازی کا درس دینے والے نام نہاد علما جب امن
کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے گورنر، وزیر اعلیٰ، ڈی سی او یا ڈی پی او کے دفتر
میں جمع ہوتے ہیں تو سب اپنے اپنے اختلافات بھلا کر آپس میں شیر و شکر ہو جاتے
ہیں۔ ایک دوسرے سے مصافحہ بلکہ معانقہ کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں کے
بچھڑے ہوئے بھائی اب ملے ہیں۔ ایک ہی میز کے اردگرد بیٹھ کر سب مل کر چائے پیتے
ہیں۔ ایک دوسرے کو بسکٹ پیش کرتے ہیں۔ اپنی اپنی تقاریر میں پرجوش انداز میں امن و امان اور مسلمانوں کے درمیان محبت و اخوت اور
اتفاق و یگانگت کے فروغ کے لیے اپنی اپنی قیمتی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو
مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ ایسا ناقابل یقین منظر پیش ہوتا ہے کہ عقل
دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبانِ جبہ و دستار میں کبھی دوری تھی
نہ رنجش، سب ایک ہی فیملی کے ممبر معلوم ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال رویت ہلال کمیٹیوں
کے اجلاسوں میں ہوتی ہے۔…… لیکن افسوس! صد افسوس!! جونہی یہ حضرات واپس اپنے اصل
مقام پر پہنچتے ہیں تو پھر وہی پرانا گورکھ دھندا، وہی طعن و تشیع، وہی تفرقہ
بازی، وہی مسلکی مناقشات۔ کیا یہ مذہب کے نام پر جھوٹ، ملمع کاری اور منافقت کا
مظاہرہ نہیں؟
متین خالد
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
متین خالد
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
،،،،،،،،،،،،،،
کیا آپ کو معلوم ہے
پاکستان کون سی فرقہ واریت سے ٹوٹا؟ مذہبی؟
نہیں نہیں، مذہبی نہیں
جی ہاں، پاکستان سیاسی فرقہ واریت سے ٹوٹا۔
اور یہ سیاسی فرقہ واریت اسی پارٹی (پیپلز پارٹی) کے بانی نے کھڑی کی تھی جس کی موجودہ قیادت نے کل فوجی عدالتوں کے اجلاس کا اس لئے بائیکاٹ کرلیا کہ فوجی عدالتوں میں سیاسی لوگوں کے کیس نہیں جانے چاہیے۔
یہ عدالتیں صرف مذہبی لوگوں کو پھانسی دینے کے لئے ہونی چاہیے۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
پاکستان کون سی فرقہ واریت سے ٹوٹا؟ مذہبی؟
نہیں نہیں، مذہبی نہیں
جی ہاں، پاکستان سیاسی فرقہ واریت سے ٹوٹا۔
اور یہ سیاسی فرقہ واریت اسی پارٹی (پیپلز پارٹی) کے بانی نے کھڑی کی تھی جس کی موجودہ قیادت نے کل فوجی عدالتوں کے اجلاس کا اس لئے بائیکاٹ کرلیا کہ فوجی عدالتوں میں سیاسی لوگوں کے کیس نہیں جانے چاہیے۔
یہ عدالتیں صرف مذہبی لوگوں کو پھانسی دینے کے لئے ہونی چاہیے۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس کو میڈیا کی بلیک
میلر چھاپا مار ٹیموں کے ساتھ گھومنے سے فرصت ملےتو دھماکوں کی طرف متوجہ ہو سکے
گی۔
کچھ پولیس وزاراء کے ساتھ پروٹوکول پر لگی ہوئی ہے۔
کچھ پولیس دشمنیاں پالنے والے بڑے لوگوں کے ساتھ سیکیورٹی پر لگی ہوئی ہے۔
کچھ پولیس سرعام اور خفیہ جیسے ٹی وی پروگراموں کے بلیک میلنگ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھتے وصول کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
#نکتہ
کچھ پولیس وزاراء کے ساتھ پروٹوکول پر لگی ہوئی ہے۔
کچھ پولیس دشمنیاں پالنے والے بڑے لوگوں کے ساتھ سیکیورٹی پر لگی ہوئی ہے۔
کچھ پولیس سرعام اور خفیہ جیسے ٹی وی پروگراموں کے بلیک میلنگ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھتے وصول کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی چینلز پر مختلف
پروگرامز جیسے سرعام، خفیہ وغیرہ وہ پروگرام ہیں جن میں 80% کہانی سٹوڈیو میں بیٹھ
کر لکھی جاتی ہے اور پھر اسی طرح شوٹنگ کی جاتی ہے جیسے کسی فلم کی یعنی ایک سین
کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور پھر اسے اس طرح نشر کیا جاتا جیسے یہ سب اچانک یا
لائیو ہوا ہے۔
اس طرح کے پروگرام کرنے والے بڑے بھتہ خور ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنا،غریبوں کی ریڑھیاں، دکانے لوٹنا اور ہر شام گھر کا سارا کھانا پینا کہیں سے لوٹ کر لانا ان کا کام ہے۔
اس کام میں پولیس بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیا پولیس اس کام کے لئے ہے کہ ان کے ساتھ جاکر لوٹ مار کرے۔
یہ صحافی چرس، افیون، ہیروئن وغیرہ ساتھ لے کر جاتے ہیں اور کسی کی دکان، جیب یا دفتر میں رکھ کر بلیک میل کرتے ہیں۔
ان ٹیموں نے کبھی کسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفتر پر چھاپا نہیں مارا۔ یہ کسی غریب لاچار کو دیکھ کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے تشدد کرکے مزے لینے کے عادی بھی ہیں۔
اس دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
#نکتہ
اس طرح کے پروگرام کرنے والے بڑے بھتہ خور ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنا،غریبوں کی ریڑھیاں، دکانے لوٹنا اور ہر شام گھر کا سارا کھانا پینا کہیں سے لوٹ کر لانا ان کا کام ہے۔
اس کام میں پولیس بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیا پولیس اس کام کے لئے ہے کہ ان کے ساتھ جاکر لوٹ مار کرے۔
یہ صحافی چرس، افیون، ہیروئن وغیرہ ساتھ لے کر جاتے ہیں اور کسی کی دکان، جیب یا دفتر میں رکھ کر بلیک میل کرتے ہیں۔
ان ٹیموں نے کبھی کسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفتر پر چھاپا نہیں مارا۔ یہ کسی غریب لاچار کو دیکھ کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے تشدد کرکے مزے لینے کے عادی بھی ہیں۔
اس دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#ردالفساد
دیوبندی خارجی دہشت گرد، بریلوی مشرک، اھلحدیث گمراہ کے نعرے لگانے والوں سے آپریشن کا آغاز کیا جائے۔
ڈاکٹروں اور صحافیوں کی یونینیں ختم کی جائیں۔
ینگ ڈاکٹرز کو الٹا لٹکایا جائے۔
مکمل امن قائم ہوجائے گا۔
#نکتہ
دیوبندی خارجی دہشت گرد، بریلوی مشرک، اھلحدیث گمراہ کے نعرے لگانے والوں سے آپریشن کا آغاز کیا جائے۔
ڈاکٹروں اور صحافیوں کی یونینیں ختم کی جائیں۔
ینگ ڈاکٹرز کو الٹا لٹکایا جائے۔
مکمل امن قائم ہوجائے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانون کن لوگوں پر لاگو
ہوتا ہے۔۔؟
جعلی ادویات بنانے والوں یا بیچنے والوں کے خلاف قانون بنے تو میڈیکل سٹور والے احتجاج اور ہڑتال کردیتے ہیں۔
کسی ڈاکٹر کو کرپشن اور دیگر دہشگردانہ جرائم میں پکڑنے کی کوشش کی جائے تو ننگ ملت ڈاکٹر ہڑتال کردیتے ہیں۔
اگر کوئی صحافی کسی کی پرویسی پر ڈاکہ ڈال کر سائبر کرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو صحافی ہڑتال کردیتے ہیں۔
اوپر سے مولانا سراج الحق جیسے جید عالم دین بھی اپنی سیاست چمکانے اور خبروں میں ہردم تازہ رہنے کے لئے قانون کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ میڈیا کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔
اس طرح تو ملک ہر گز ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ جس طرح طلباء یونین پر پابندی ہے اسی طرح ڈاکٹروں، تاجروں سمیت تمام یونینیوں کو ختم کرکے ان کی بدمعاشیاں ختم کی جائیں۔
ینگ ڈاکٹرز ، میڈیکل سٹورز اور کمپنیوں کے خلاف تو ردفساد آپریشن بھی ہونا چاہیے۔
قانون صرف ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جن کی کوئی یونین نہیں، جن کی کوئی تنظیم نہیں۔
اب ہرشہر کی عوام کوبھی اپنی اپنی یونین بنا لینی چاہیے۔ ہر محلہ اپنی یونین بنائے، پھر محلوں کی یونینیں مل کر شہر کی بڑی یونین بنا لیں تو امید ہے عوام کو اپنے حقوق حاصل ہوجائیں گے۔
#نکتہ
جعلی ادویات بنانے والوں یا بیچنے والوں کے خلاف قانون بنے تو میڈیکل سٹور والے احتجاج اور ہڑتال کردیتے ہیں۔
کسی ڈاکٹر کو کرپشن اور دیگر دہشگردانہ جرائم میں پکڑنے کی کوشش کی جائے تو ننگ ملت ڈاکٹر ہڑتال کردیتے ہیں۔
اگر کوئی صحافی کسی کی پرویسی پر ڈاکہ ڈال کر سائبر کرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو صحافی ہڑتال کردیتے ہیں۔
اوپر سے مولانا سراج الحق جیسے جید عالم دین بھی اپنی سیاست چمکانے اور خبروں میں ہردم تازہ رہنے کے لئے قانون کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ میڈیا کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔
اس طرح تو ملک ہر گز ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ جس طرح طلباء یونین پر پابندی ہے اسی طرح ڈاکٹروں، تاجروں سمیت تمام یونینیوں کو ختم کرکے ان کی بدمعاشیاں ختم کی جائیں۔
ینگ ڈاکٹرز ، میڈیکل سٹورز اور کمپنیوں کے خلاف تو ردفساد آپریشن بھی ہونا چاہیے۔
قانون صرف ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جن کی کوئی یونین نہیں، جن کی کوئی تنظیم نہیں۔
اب ہرشہر کی عوام کوبھی اپنی اپنی یونین بنا لینی چاہیے۔ ہر محلہ اپنی یونین بنائے، پھر محلوں کی یونینیں مل کر شہر کی بڑی یونین بنا لیں تو امید ہے عوام کو اپنے حقوق حاصل ہوجائیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غور طلب
غلبہ دین، اقامت دین یا اسلام کے نفاذ کے لئے سب سے پہلے تو مسالک پر لڑنے بھڑنے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عوام کو یہ حیرت انگیز خبر دینے کی ضرورت ہے کہ دیوبندی،بریلوی،اھلحدیث 95٪ پچانویں فیصد باتوں میں متفق ہیں۔ صرف پانچ فیصد یا اس سے بھی کم مسائل میں کچھ اختلاف ہے۔ اس بات کو علماء جانتے ہیں البتہ عوام کو علم نہیں، عوام سمجھتے ہیں یہ مسالک شاید الگ الگ دین ہیں۔ چنانچہ جن جن کو اس بات کا علم نہیں وہ فورا لڑنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل حدیث کے ساتھ تقلید اورسوائے نماز کے اور کوئی اختلاف نہیں۔ زکوہ میں کوئی اختلاف نہیں، روزے میں کوئی اختلاف نہیں، حج عمرہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ واحد ایک نماز ہے اس میں رفع یدین،آمین،فاتحہ کا اختلاف ہے۔
چنانچہ صرف آمین اونچی یا آہستہ کہنے پر قتل تک ہوجاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خود ایک ایسے شخص کی عیادت کی جس کی ٹانگیں صرف اس وجہ سے توڑ دی گئیں تھیں کہ اس نے اونچی آواز سے آمین کہہ دی تھی۔
دیوبندی بریلوی اختلاف کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔ ان دونوں کا کسی عبادت میں اختلاف نہیں۔کچھ چیزیں ہیں، کچھ رسومات ہیں جنہیں بریلوی حضرات عشق رسول میں کرتے ہیں اور دیوبندی کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔
جہاں تک معاملہ ہے مزارات کا جہاں کچھ شرکیہ افعال ہوتے ہیں، ان سے بریلوی علماء بری ہیں اور وقتا فوقتا اس کا اظہار تقریر وتحریر کی شکل میں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ مزارات وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے اوقاف کے قبضہ میں اس لئے اس کی ساری ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ مزارات کو اس ڈھنگ سے چلانے میں حکومت کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک کروڑوں کا چندہ اور دوسرا اختلاف ، یعنی لڑاو اور حکومت کرو۔ اس لئے حکومت کسی صورت یہ نہیں چاہتی کہ مزارات پر یہ شرک ختم ہو۔
چنانچہ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ پچانویں فیصد سے زیادہ باتوں میں اتفاق ہے ، جو تھوڑا سا معمولی اختلاف ہے بھی تو اس پر بات چیت جاری رہنی چاہیے، جھگڑا کرنا اور کفر کے فتوی لگانا مناسب نہیں۔
بات ہورہی تھی نفاذ اسلام کی۔ پہلا کام عوام میں شعور بیدار کرکے ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ پھر ساتھ ساتھ دروس قرآن کے حلقے قائم کرکےلوگوں کو قرآن کے ساتھ جوڑنا اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ تلاوت کیا کریں۔جب لوگ قرآن کے ساتھ جڑیں گے ان کی سوچ بدلے گی، سوچ بدلنے سے نظریہ اور عقیدہ بدلے گا، عقیدہ بدلنے سے توقع اور امید بدلے گی، پھر اس سے رویہ بدلے گا، رویہ بدلنے سے ترجیحات بدلیں گیں اور پھر اس سے زندگیاں بدلیں گیں، زندگیاں بدلنے سے پورے معاشرے اور ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔اور یہی تبدیلی باطل نظام سے کشمکش پیدا کرے گی، یہ کشمکش بڑا ٹکراو پیدا کرسکتی ہے ، لیکن اس صورت میں بھی فتح حق کی ہوگی کیونکہ حق پاور میں ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کشمکش کسی بڑے ٹکراو کے بغیر ہی تبدیلی لے آئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس کام کی پہلی اینٹ اختلاف کو ختم کرنا ہے۔ یہ بات باطل قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں چنانچہ وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ اختلاف ختم ہو، ان کا مفاد اسی میں ہے کہ لوگ لڑتے رہیں اور ہم حکومت کرتے رہیں۔
@syed abdulwahhab sherazi
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
غلبہ دین، اقامت دین یا اسلام کے نفاذ کے لئے سب سے پہلے تو مسالک پر لڑنے بھڑنے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عوام کو یہ حیرت انگیز خبر دینے کی ضرورت ہے کہ دیوبندی،بریلوی،اھلحدیث 95٪ پچانویں فیصد باتوں میں متفق ہیں۔ صرف پانچ فیصد یا اس سے بھی کم مسائل میں کچھ اختلاف ہے۔ اس بات کو علماء جانتے ہیں البتہ عوام کو علم نہیں، عوام سمجھتے ہیں یہ مسالک شاید الگ الگ دین ہیں۔ چنانچہ جن جن کو اس بات کا علم نہیں وہ فورا لڑنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل حدیث کے ساتھ تقلید اورسوائے نماز کے اور کوئی اختلاف نہیں۔ زکوہ میں کوئی اختلاف نہیں، روزے میں کوئی اختلاف نہیں، حج عمرہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ واحد ایک نماز ہے اس میں رفع یدین،آمین،فاتحہ کا اختلاف ہے۔
چنانچہ صرف آمین اونچی یا آہستہ کہنے پر قتل تک ہوجاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خود ایک ایسے شخص کی عیادت کی جس کی ٹانگیں صرف اس وجہ سے توڑ دی گئیں تھیں کہ اس نے اونچی آواز سے آمین کہہ دی تھی۔
دیوبندی بریلوی اختلاف کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔ ان دونوں کا کسی عبادت میں اختلاف نہیں۔کچھ چیزیں ہیں، کچھ رسومات ہیں جنہیں بریلوی حضرات عشق رسول میں کرتے ہیں اور دیوبندی کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔
جہاں تک معاملہ ہے مزارات کا جہاں کچھ شرکیہ افعال ہوتے ہیں، ان سے بریلوی علماء بری ہیں اور وقتا فوقتا اس کا اظہار تقریر وتحریر کی شکل میں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ مزارات وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے اوقاف کے قبضہ میں اس لئے اس کی ساری ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ مزارات کو اس ڈھنگ سے چلانے میں حکومت کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک کروڑوں کا چندہ اور دوسرا اختلاف ، یعنی لڑاو اور حکومت کرو۔ اس لئے حکومت کسی صورت یہ نہیں چاہتی کہ مزارات پر یہ شرک ختم ہو۔
چنانچہ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ پچانویں فیصد سے زیادہ باتوں میں اتفاق ہے ، جو تھوڑا سا معمولی اختلاف ہے بھی تو اس پر بات چیت جاری رہنی چاہیے، جھگڑا کرنا اور کفر کے فتوی لگانا مناسب نہیں۔
بات ہورہی تھی نفاذ اسلام کی۔ پہلا کام عوام میں شعور بیدار کرکے ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ پھر ساتھ ساتھ دروس قرآن کے حلقے قائم کرکےلوگوں کو قرآن کے ساتھ جوڑنا اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ تلاوت کیا کریں۔جب لوگ قرآن کے ساتھ جڑیں گے ان کی سوچ بدلے گی، سوچ بدلنے سے نظریہ اور عقیدہ بدلے گا، عقیدہ بدلنے سے توقع اور امید بدلے گی، پھر اس سے رویہ بدلے گا، رویہ بدلنے سے ترجیحات بدلیں گیں اور پھر اس سے زندگیاں بدلیں گیں، زندگیاں بدلنے سے پورے معاشرے اور ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔اور یہی تبدیلی باطل نظام سے کشمکش پیدا کرے گی، یہ کشمکش بڑا ٹکراو پیدا کرسکتی ہے ، لیکن اس صورت میں بھی فتح حق کی ہوگی کیونکہ حق پاور میں ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کشمکش کسی بڑے ٹکراو کے بغیر ہی تبدیلی لے آئے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس کام کی پہلی اینٹ اختلاف کو ختم کرنا ہے۔ یہ بات باطل قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں چنانچہ وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ اختلاف ختم ہو، ان کا مفاد اسی میں ہے کہ لوگ لڑتے رہیں اور ہم حکومت کرتے رہیں۔
@syed abdulwahhab sherazi
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشمن کی چلائی سازش تو یہی ہے کہ مسلمان الگ الگ تعارف بنائیں اور پھر لڑتے رہیں
ایک مسلمان، مسلمان ہوتا ہے، اگر غلط کرے تو فاسق، بدعتی، گمراہ وغیرہ کہلایا جاسکتا ہے۔
مسلک صرف ایک ہی ہے اھل سنت والجماعت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ہمیں باتوں میں لگانے کی سو کوششیں کرلیں پر
ہم نہیں بھولیں گے
پچھلے پندرہ سالوں میں 7000000 سترلاکھ انسانوں کو قتل کرنے والے"لبرل" ہیں۔
ہیرا منڈی چلانے والے لبرل ہیں
پچھلے پندرہ سالوں میں 7000000 سترلاکھ انسانوں کو قتل کرنے والے"لبرل" ہیں۔
ہیرا منڈی چلانے والے لبرل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ پڑھ کر شراب پینے سے حلال نہیں ہوتی
نعرہ تکبیر لگا کر قتل کرنے سے جہاد نہیں بن جاتا
صدقہ کرنے اور دسترخوان لگانے سے سود حلال نہیں ہوتا۔
#شیرازی
نعرہ تکبیر لگا کر قتل کرنے سے جہاد نہیں بن جاتا
صدقہ کرنے اور دسترخوان لگانے سے سود حلال نہیں ہوتا۔
#شیرازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کی ترجیحات جس بےساختگی سے آپکی ترجیحات بنیں گی اسی نسبت سے آپکا دین، اسلام ہوتا جائےگا۔ خوش قسمت ہے وہ جو قران سے قرآن کا مضمون پڑھ لے!
حامد کمال الدین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سود کے خاتمے کے لئے عدالت میں روزانہ کی بنیاد
پر سماعت دبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اچانک اس موقع پر سماعت شروع کرنے کا مقصد شاید یہ
بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خبر میڈیا پر نہ آئے، یا اس شور شرابے میں ڈنڈے کے زور پر سود
کے خاتمے کے لئے کوششیں کرنے والوں کو دبا دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر مہم تیز کریں۔
#نکتہ
سوشل میڈیا پر مہم تیز کریں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعلی ادوایات بنانے والے تو مجرم ہیں ہی لیکن ان
کو بچانے کے لئے ہڑتال کرنے والے اس سے بڑے قاتل ہیں۔
#ڈرگ_مافیا
#ڈرگ_مافیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب نماز کی فضیلت بتاتے ہوئے کہنے لگے
جب کسی کو ٹائم دینا ہو تو یوں کہا کریں
میں عصر کی نماز کے بعد آوں گا۔ تم عشاء کی نماز تک انتظار کرنا۔
اس طرح باتوں باتوں میں نماز کی تبلیغ ہو گی۔
چنانچہ
کچھ دیر بعد مجھے کسی کا فون آیا، اس نے پوچھا
موسم کیسا ہے؟
میں نے کہا دو دن ہوئے ہیں ظہر کی نماز دھوپ میں پڑھنا چھوڑ دی ہے۔
#نکتہ
جب کسی کو ٹائم دینا ہو تو یوں کہا کریں
میں عصر کی نماز کے بعد آوں گا۔ تم عشاء کی نماز تک انتظار کرنا۔
اس طرح باتوں باتوں میں نماز کی تبلیغ ہو گی۔
چنانچہ
کچھ دیر بعد مجھے کسی کا فون آیا، اس نے پوچھا
موسم کیسا ہے؟
میں نے کہا دو دن ہوئے ہیں ظہر کی نماز دھوپ میں پڑھنا چھوڑ دی ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#ڈرگ_مافیا لاکھوں مریضوں کا خون کرکے اپنے بچوں کو پلانا
چاہتا یے، ایسی اولاد بڑھاپے میں تمہارے ساتھ بھی یہی کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اسلامی تعلیمات کا سبق پڑھانے والا #ڈرگ_مافیا ان اسلامی تعلیمات کو یاد کرے کہ حالت جنگ میں بھی زخمیوں اور بیماروں کے ساتھ یہ رویہ اختیار
کرنے کی اجازت نہیں جو تم نے کیا ہوا ہے، لاکھوں بیمار انسانوں کو سسک سسک کر
مارنے والوں کا انجام برا ہو گا۔
اپنے چار ٹکوں کے لئے انسانیت کا قتل بند کرو۔
#نکتہ
اپنے چار ٹکوں کے لئے انسانیت کا قتل بند کرو۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ میڈیکل سٹور والے ڈاکٹر کی پرچی پڑھ کر اپنا
اجتہاد کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہوئے دوسری دوائی تھما دیتے ہیں کہ یہ بھی وہی
فارمولا ہے، ان کو بھی سوا کروڑ تک جرمانہ عائد کیا جائے۔
#نکتہ
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیکل سٹور مافیا کے خلاف حکومتی اقدامات کی سب
کو پرزور حمایت کرتے ہوئے ضرور ایک آدھ پوسٹ کرنی چاہیے۔
حکومت نے جعلی ادویات کی فروخت کے خلاف باقاعدہ ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ان لوگوں ہڑتال کردی، اس کا مطلب ہے یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔ انسانی جانوں سے کھیل کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پرجوش مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
حکومت نے جعلی ادویات کی فروخت کے خلاف باقاعدہ ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ان لوگوں ہڑتال کردی، اس کا مطلب ہے یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔ انسانی جانوں سے کھیل کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پرجوش مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول شخصے
آپ کے محلے میں بنے میڈیکل سٹور پر دو قسم کی ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ ایک اصلی دوسری جعلی۔ میڈیکل سٹور والا آپ کی بوتھی دیکھ کر طے کرتا ہے کہ آپ کو اصلی دینی ہے یا جعلی ؟ اصل دوائی پر میڈیکل سٹور والے کو 15 فیصد جبکہ جعلی ادویات پر پچاس 50 فیصد نفع ہوتا۔
#نکتہ
آپ کے محلے میں بنے میڈیکل سٹور پر دو قسم کی ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ ایک اصلی دوسری جعلی۔ میڈیکل سٹور والا آپ کی بوتھی دیکھ کر طے کرتا ہے کہ آپ کو اصلی دینی ہے یا جعلی ؟ اصل دوائی پر میڈیکل سٹور والے کو 15 فیصد جبکہ جعلی ادویات پر پچاس 50 فیصد نفع ہوتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف گوادر ہی نہیں اور غم بھی ہیں
اگر میں یوں کہوں کہ لاہور دھماکہ دبئی نے کروایا تو کسی کو برا تو نہیں لگے گا۔
#نکتہ
اگر میں یوں کہوں کہ لاہور دھماکہ دبئی نے کروایا تو کسی کو برا تو نہیں لگے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے مفادات کے لئے کسی
نہ کسی کے دوست یا دشمن ہوتے ہیں،
یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ دبئی کا شمار پاکستان کے خفیہ دشمن ممالک میں ہوتا ہے۔
یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ دبئی کا شمار پاکستان کے خفیہ دشمن ممالک میں ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید ٹیکنالوجی انسانوں پر کئی اعتبارات سے حجت
قائم کر رہی ہے۔
مثلا
پہلے کوئی تبلیغ دین کے لئے کتاب لکھتا تھا تو وہ یہ کہتے ہوئے اسے بیچتا تھا کہ میرا خرچہ ہوا ہے، اگر قیمت وصول کروں گا تو آئیندہ چھپے گی، یقینا یہ بات درست بھی تھی۔
لیکن
اب انٹرنیٹ کے آنے کے بعد کوئی شخص تبلیغ دین یا انسانوں کی بھلائی پر لکھی ہوئی کتاب انٹرنیٹ پر پڑھنے کی مفت سہولت نہیں دیتا تو سمجھا جائے گا کہ اس کا مقصد تبلیغ نہیں اور نہ ہی یہ انبیاء کرام کے اس وصف سے متصف ہے جسے قرآن نے ان الفاظ سے بیان کیا:
لا اسئلکم علیہ اجرا۔
اپنی پرنٹڈ کتاب کی قیمت ضرور وصول کریں لیکن اسے انٹرنیٹ پر ڈال کر پوری دنیا تک بھی پہنچائیں۔
اسی طرح یہ ٹیکنالوجی پڑھنے والوں کے لئے بھی حجت ہے کہ وہ اللہ کے سامنے یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، حساب کے وقت کہا جائے گا کیا ہم نے تمہیں سمارٹ فون نہیں دیا تھا؟ کیا ہم نے انٹرنیٹ کے سستے پیکج نہیں بنائے تھے؟
#نکتہ
مثلا
پہلے کوئی تبلیغ دین کے لئے کتاب لکھتا تھا تو وہ یہ کہتے ہوئے اسے بیچتا تھا کہ میرا خرچہ ہوا ہے، اگر قیمت وصول کروں گا تو آئیندہ چھپے گی، یقینا یہ بات درست بھی تھی۔
لیکن
اب انٹرنیٹ کے آنے کے بعد کوئی شخص تبلیغ دین یا انسانوں کی بھلائی پر لکھی ہوئی کتاب انٹرنیٹ پر پڑھنے کی مفت سہولت نہیں دیتا تو سمجھا جائے گا کہ اس کا مقصد تبلیغ نہیں اور نہ ہی یہ انبیاء کرام کے اس وصف سے متصف ہے جسے قرآن نے ان الفاظ سے بیان کیا:
لا اسئلکم علیہ اجرا۔
اپنی پرنٹڈ کتاب کی قیمت ضرور وصول کریں لیکن اسے انٹرنیٹ پر ڈال کر پوری دنیا تک بھی پہنچائیں۔
اسی طرح یہ ٹیکنالوجی پڑھنے والوں کے لئے بھی حجت ہے کہ وہ اللہ کے سامنے یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، حساب کے وقت کہا جائے گا کیا ہم نے تمہیں سمارٹ فون نہیں دیا تھا؟ کیا ہم نے انٹرنیٹ کے سستے پیکج نہیں بنائے تھے؟
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے غصہ سیانہ ہوتا تھا صرف کمزور پر آتا تھا
اب تو ڈر بھی سیانہ ہو گیا ہے چنانچہ مرنے والے کے کپڑوں سے ڈر لگتا ہے وہ سوٹی پر ٹانگ کر غریب کی طرف پھینک دیے جاتے ہیں لیکن اس کے سمارٹ فون سے ڈر نہیں لگتا۔
#نکتہ
اب تو ڈر بھی سیانہ ہو گیا ہے چنانچہ مرنے والے کے کپڑوں سے ڈر لگتا ہے وہ سوٹی پر ٹانگ کر غریب کی طرف پھینک دیے جاتے ہیں لیکن اس کے سمارٹ فون سے ڈر نہیں لگتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرآپ کے دنیا میں آنے سے فرق پڑا ہے تو جانے سے
بھی پڑے گا
اگر آنے سے فرق نہیں پڑا تو جانے سے بھی نہیں پڑے گا۔ #نکتہ
اگر آنے سے فرق نہیں پڑا تو جانے سے بھی نہیں پڑے گا۔ #نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف پیسہ بانٹنا کمال نہیں
اصل کمال اور خیرخواہی یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں اور ان چیزوں کو بانٹیں جن کے ذریعہ آپ کو پیسہ حاصل ہورہا ہے۔
مثلا
آپ اچھے لیکچر دے سکتے ہیں، ہرلیکچر کے آپ کو ہزاروں روپے مل جاتے ہیں تو دو چار لیکچر مفت دے کر سخاوت کریں۔
آپ اچھے کاریگر ہو، فرنیچر، الیکٹرک، ویلڈنگ، گاڑی ریپئرنگ وغیرہ وغیرہ کسی بھی چیز کے، تو صرف چار پیسے ہی غریب کو نہ دو بلکہ چار بندوں سے اپنی مزدوری لینے کے بعد پانچویں کو اپنی صلاحیت مفت بانٹو۔
اسی پر باقی ساری چیزیں قیاس کرلیں۔
#نکتہ
اصل کمال اور خیرخواہی یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں اور ان چیزوں کو بانٹیں جن کے ذریعہ آپ کو پیسہ حاصل ہورہا ہے۔
مثلا
آپ اچھے لیکچر دے سکتے ہیں، ہرلیکچر کے آپ کو ہزاروں روپے مل جاتے ہیں تو دو چار لیکچر مفت دے کر سخاوت کریں۔
آپ اچھے کاریگر ہو، فرنیچر، الیکٹرک، ویلڈنگ، گاڑی ریپئرنگ وغیرہ وغیرہ کسی بھی چیز کے، تو صرف چار پیسے ہی غریب کو نہ دو بلکہ چار بندوں سے اپنی مزدوری لینے کے بعد پانچویں کو اپنی صلاحیت مفت بانٹو۔
اسی پر باقی ساری چیزیں قیاس کرلیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس طرح جان
دی کہ وہ ناکام ترین تھے۔ نپولین نے مرتے وقت کہا تھا کہ مایوسی میرے نزدیک جرم
تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان کوئی نہیں
#نکتہ
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کسی نے ان باکس میں پوچھا:
مولانا طارق جمیل صاحب کا نمبر مل سکتا ہے؟
میں نے کہا:
۔
۔
۔
۔
۔
اللہ کسی کی محنت برباد نہیں کرتا کوشش کریں مل جائے گا۔
#نکتہ
مولانا طارق جمیل صاحب کا نمبر مل سکتا ہے؟
میں نے کہا:
۔
۔
۔
۔
۔
اللہ کسی کی محنت برباد نہیں کرتا کوشش کریں مل جائے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے علماء کو چھوڑ کر عام علماء ائمہ مساجد اور
عام مذہبی عوام مذہبی مسائل پر جھگڑتے ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، جن میں
سے ایک بڑی وجہ مذہبی اصطلاحات سے لاعلمی یا عدم توجہی ہوتی ہے۔
مثلا
فرض، واجب، سنت، مستحب، حرام، مکروہ تحریمی، تنزیہی، مباح وغیرہ وہ اصطلاحات ہیں جو الف بے کہلاتی ہیں۔ جب ان اصطلاحات کی تعریف معلوم نہیں ہوتی تو بلاوجہ کے مناظرے ہورہے ہوتے ہیں۔
اگر ان اصطلاحات کی تعریفات یاد کرلی جائیں اور پھر کسی بھی مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے اس مسئلے کو اس ترازو پر تول لیا جائے کہ وہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کرنے سے پچاس فیصد مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
اگر فرض ہے تو پھرشاید کفر اسلام کا مسئلہ ہے، اگر واجب ہے تو پھر یہ ظنی ہے اور ظنی مسئلے پر کفر اسلام کے فتوے نہیں لگتے۔
لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ترازو بہت کم لوگوں کی جیب میں ہوتا ہے چنانچہ وہ مباح مسئلے پر بھی ڈنڈے اور ہتھیار اٹھا کر نکل پڑتے ہیں۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
مثلا
فرض، واجب، سنت، مستحب، حرام، مکروہ تحریمی، تنزیہی، مباح وغیرہ وہ اصطلاحات ہیں جو الف بے کہلاتی ہیں۔ جب ان اصطلاحات کی تعریف معلوم نہیں ہوتی تو بلاوجہ کے مناظرے ہورہے ہوتے ہیں۔
اگر ان اصطلاحات کی تعریفات یاد کرلی جائیں اور پھر کسی بھی مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے اس مسئلے کو اس ترازو پر تول لیا جائے کہ وہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کرنے سے پچاس فیصد مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
اگر فرض ہے تو پھرشاید کفر اسلام کا مسئلہ ہے، اگر واجب ہے تو پھر یہ ظنی ہے اور ظنی مسئلے پر کفر اسلام کے فتوے نہیں لگتے۔
لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ترازو بہت کم لوگوں کی جیب میں ہوتا ہے چنانچہ وہ مباح مسئلے پر بھی ڈنڈے اور ہتھیار اٹھا کر نکل پڑتے ہیں۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت الدعوۃ پر
پابندی لگنے کا سب سے زیادہ فائدہ امت مسلمہ کو ہو گا۔ کیونکہ یہ لوگ کشمیر کے نام
پر چندے کر کے پاکستان میں مسجدیں فتح کرتے ہیں۔
بے نمازیوں کو پوچھتے بھی نہیں البتہ جب کوئی مسجد آنا شروع کر دے اسے فروعی مسائل میں الجھا کر شک میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
پابندی اور پکڑ دھکڑ سے اس بات کا امکان ہے کہ کچھ ہوش آجائے کہ امت کو انتشار نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔
رفع یدین، آمین ، نیت وغیرہ راجح مرجوح کے مسائل کو فرض اور ضروری قرار دے کر لوگوں کو لڑانا، اور دوسروں کے پیچھے نماز نہ ہونے کے فتوے دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ہم نے جماعۃ الدعوہ کے ایسے خطیبوں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے جمعے کی تقریر میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قسم اٹھائی کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اس سے قبل بھی جتنی تنظیموں پر پابندی لگی ہے اس سے مسلمانوں کا ہی بھلا ہوا ہے اور ان تنظیموں کی پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جس سے امت کو کافی فائدہ ہوا ہے۔
بے نمازیوں کو پوچھتے بھی نہیں البتہ جب کوئی مسجد آنا شروع کر دے اسے فروعی مسائل میں الجھا کر شک میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
پابندی اور پکڑ دھکڑ سے اس بات کا امکان ہے کہ کچھ ہوش آجائے کہ امت کو انتشار نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔
رفع یدین، آمین ، نیت وغیرہ راجح مرجوح کے مسائل کو فرض اور ضروری قرار دے کر لوگوں کو لڑانا، اور دوسروں کے پیچھے نماز نہ ہونے کے فتوے دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ہم نے جماعۃ الدعوہ کے ایسے خطیبوں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے جمعے کی تقریر میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قسم اٹھائی کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اس سے قبل بھی جتنی تنظیموں پر پابندی لگی ہے اس سے مسلمانوں کا ہی بھلا ہوا ہے اور ان تنظیموں کی پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جس سے امت کو کافی فائدہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات ممات کے جلسے
یہ وہ لوگ ہیں جو امت مسلمہ میں ناسور ہیں
پچھلے بیس سال سے روزانہ 10000 مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔ باقی بچے کچے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا کام یہ لوگ کر رہے ہیں
ریمنڈ ڈیوس جب پکڑا گیا تھا اس کے پاس سے ایسے ہی لوگوں کی فہرست نکلی تھی جن کو وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے چندے بھیج کر اس قسم کے جلسے کرواتا تھا۔ ایسے ناسور ہر مکتبہ فکر میں موجود ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے درپے رہتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ دین کے غلبے، اقامت دین اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لئے کوئی جلسہ کرنا ہو تو اسے کوئی سپانسر نہیں کرتا، لیکن اس قسم کے جلسوں کو سپانسر کرنے والے نامعلوم ہاتھ بہت ہیں، غیبی قوتیں شامیانے بھی بھیج دیتی ہیں اور دیگیں بھی، جبکہ اتحاد اور امت کو جوڑنے والا پولیو زدہ دونوں ٹانگوں سے معذور مولانا اسلم شیخوپوری بھی ہو اسے نامعلوم افراد قتل کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یا للعجب
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
پچھلے بیس سال سے روزانہ 10000 مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔ باقی بچے کچے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا کام یہ لوگ کر رہے ہیں
ریمنڈ ڈیوس جب پکڑا گیا تھا اس کے پاس سے ایسے ہی لوگوں کی فہرست نکلی تھی جن کو وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے چندے بھیج کر اس قسم کے جلسے کرواتا تھا۔ ایسے ناسور ہر مکتبہ فکر میں موجود ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے درپے رہتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ دین کے غلبے، اقامت دین اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لئے کوئی جلسہ کرنا ہو تو اسے کوئی سپانسر نہیں کرتا، لیکن اس قسم کے جلسوں کو سپانسر کرنے والے نامعلوم ہاتھ بہت ہیں، غیبی قوتیں شامیانے بھی بھیج دیتی ہیں اور دیگیں بھی، جبکہ اتحاد اور امت کو جوڑنے والا پولیو زدہ دونوں ٹانگوں سے معذور مولانا اسلم شیخوپوری بھی ہو اسے نامعلوم افراد قتل کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یا للعجب
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء کا سیاست میں کیا کام ۔
جواب
کھلاڑیوں کا سیاست میں کیا کام
مولانا صاحب کو چاہیئے مسجد میں امامت کرائیں ۔جو انکا کام ہے ۔
عمران خان کو بھی چاہیئے کہ وہ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ وغیرہ کرے ۔
وکیلوں کو چاہیئے وہ وکالت کریں ۔
کاروباری لوگوں کو چاییئے اپنا کاروبار کریں ۔
جاگیر داروں کو چاہیئے اپنی جاگیریں سنبھالیں ۔
لھذا جو جس کا کام یے وہ کرے ۔
یہ قدغن صرف علماء پہ کیوں
سیاست میں ان لوگوں کا کیا کام
اور میں نے کھا آخر میں علمی۔ حقیقی اور صحیح جواب بھی سن لے ۔
کہ اسلام میں سیاست ہمیشہ علماء نے ہی کی ہے ۔
اور جب تک سیاست علماء کرام کے پاس رہی مسلمان دنیا میں معزز کھلائے ۔
اور جب سیاست جاہلوں ۔کنجروِں مراثیوں۔ جو فروشوں کے ہاتھ آئی مسلمان دنیا میں ذلیل و رسواء ہوا ۔
اور ہاں ایک اور بات بھی سنتے جاؤ
پھلے علماء کا مفہوم بھی سمجھ لو ۔
اور پھر منہ دھو کے آنا اور علماء پہ تنقید کرنا ۔
" احمد علی حضروی "
جواب
کھلاڑیوں کا سیاست میں کیا کام
مولانا صاحب کو چاہیئے مسجد میں امامت کرائیں ۔جو انکا کام ہے ۔
عمران خان کو بھی چاہیئے کہ وہ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ وغیرہ کرے ۔
وکیلوں کو چاہیئے وہ وکالت کریں ۔
کاروباری لوگوں کو چاییئے اپنا کاروبار کریں ۔
جاگیر داروں کو چاہیئے اپنی جاگیریں سنبھالیں ۔
لھذا جو جس کا کام یے وہ کرے ۔
یہ قدغن صرف علماء پہ کیوں
سیاست میں ان لوگوں کا کیا کام
اور میں نے کھا آخر میں علمی۔ حقیقی اور صحیح جواب بھی سن لے ۔
کہ اسلام میں سیاست ہمیشہ علماء نے ہی کی ہے ۔
اور جب تک سیاست علماء کرام کے پاس رہی مسلمان دنیا میں معزز کھلائے ۔
اور جب سیاست جاہلوں ۔کنجروِں مراثیوں۔ جو فروشوں کے ہاتھ آئی مسلمان دنیا میں ذلیل و رسواء ہوا ۔
اور ہاں ایک اور بات بھی سنتے جاؤ
پھلے علماء کا مفہوم بھی سمجھ لو ۔
اور پھر منہ دھو کے آنا اور علماء پہ تنقید کرنا ۔
" احمد علی حضروی "
۔۔
No comments:
Post a Comment