Search This Blog

Friday, June 2, 2017

حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے – 


محمد ابراہیم شہزاد

 پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟

ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔

سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔

سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔

اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا

No comments:

Post a Comment