( مولانا، مولوی ، ملا وغیرہ کے سلسلے میں مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تحقیق)
مولانا :۔ یہ لقب دو لفظوں سے مرکب ہے ، ایک ’’مولی‘‘ اور دوسرا ضمیر ’’نا‘‘ مولیٰ کے معنی یہاں پر آقا اور سردار کے ہیں، اور ’’نا‘‘ جمع متکلم کی ضمیر ہے ، دونوں کی ترکیب سے ’مولانا‘‘ ہوا، جس کے معنی ہمارے سردار اور آقا کے ہیں ۔
یہ لفظ اس اضافت کی شکل میں عہد صحابہ و تابعین میں علمائے دین اور دوسرے عمائد امت اور امراء کے لئے رائج ہوا، چنانچہ حضرت حسن بصری ؒ متوفی ۱۱۰ھ کے تذکرے میں علامہ ابن سعد لکھتے ہیں ۔
ان انس بن مالک سئل عن مسئلۃ فقال علیکم مولانا الحسن ، فقالوا یا ابا حمزۃ نسألک و تقول سلوا مولانا الحسن فقال انا سمعنا و سمع فحفظ و نسینا۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے ایک مرتبہ ایک سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ تم لوگ مولانا حسن کے پاس جاو ٔ ، سائلوں نے کہا ابوحمزہ ہم تو آپ سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ مولانا حسن سے پوچھو اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم نے اور انھوں نے علم پڑھا اور سنا مگر انھوں نے یاد رکھا اور ہم بھول گئے ( یہ حضرت انسؓ کی کسر نفسی اور خدا پرستی پر دلیل ہے)
اس میں مولانا کا لفظ خاص طور سے امام حسن بصری کے لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ا ستعمال فرمایا ہے اور سائلوں نے بھی اسے دہرایا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ارباب علم و فضل کے لئے یہ لفظ بولا جانے لگا تھا ، البتہ اصطلاحی طور سے اس کا عام رواج نہیں ہوا تھا ۔
اسی طرح علامہ ابن ندیم نے کتاب الفہرست میں ایک شیعی فقیہ کے تذکرے میں لکھا ہے ۔
الحسن بن محبوب السراد ،وھو الزراد من اصحاب مولانا الرضا ومحمد ابنہ۔ (کتاب الفہرست ص:۲۰۹،طبع مصر)
حسن بن محبوب سراد جسے زراد کہتے ہیں مولانا رضا اور ان کے صاحبزادے محمد کے شاگردوں میں سے ہے۔
حضرت امام رضا کے لئے مولانا کا یہ لفظ بتا رہا تھا کہ چوتھی صدی ہجری میں ارباب دین و دیانت اور اہل علم و فضل کے لئے یہ لقب جاری تھا ۔ ابن ندیم نے اپنی کتاب ۳۷۷ھ میں لکھی ہے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ابتداء میں لفظ مولانا صرف علمائے دین ہی کیلئے خاص نہیں تھا بلکہ خلفاء سلاطین ، امراء وزراء اور دوسرے ارباب خدم و حشم کے لئے عوام اور خواص تعظیم کے لئے مولانا کا لفظ استعمال کرتے تھے ۔
چنانچہ امیر مصر کافوراخشیدی کے تذکرے میں علامہ ابن خلکان نے ابوالفضل بن سحباس کا یہ دعائیہ جملہ نقل کیا ہے ۔ ادام اللہ ایام مولانا ، یعنی مولانا کے اقبال کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رکھے ، اس عبارت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ کافور اخشیدی متوفی ۳۵۶ھ کے لئے مولانا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔(تفصیل کے لئے ابن خلکان ج:۲ص:۲ ملاحظہ ہو)
البتہ اب یہ لفظ صرف علمائے دین کے لئے استعمال ہونے لگا ہے بلکہ اب تو عوام کی علوم دین پر جفا کاری کا یہ حال ہے کہ بے لکھے پڑھے لوگوں کوداڑھی کو دیکھ کر مولانا کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں ، اور یہ جہلاء اس پر خوش ہوکر اپنے جہل سے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
مولوی :۔ علمائے دین اور دوسرے ارباب عزت و شرف کے لئے ’’مولوی‘‘کا عظیم الشان لقب غالباً ترکی زبان کالفظ ہے ۔
صاحب غیاث اللغات نے لفظ ’’مولوی‘‘ کی تحقیق میں لکھا ہے کہ :
’’مولوی بفتح میم و فتح لام منسوب بمولی ٰکہ بمعنی خداونداست بعد الحاق یای نسبت الفی را رابع بود بواوبدل شد زیراکہ الف مقصورہ درآخر کلمہ سہ حرفی و چہار حرفی بوقت نسبت بواو بدل می شود ( غیاث اللغات ص:۴۷۶)
خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ’’مولیٰ‘‘کی طرف منسوب ہے اور نسبت کے وقت آخر کا لفظ واو سے بدل گیا ہے ۔ گویا ’’مولانا‘‘ کی طرح مولوی کا لفظ بھی ’’مولیٰ‘‘ سے بنایا گیا ہے ، اور مولانا میں جمع متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، اور مولوی میں واحد متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، حالانکہ یہ تحقیق صحیح نہیں ہے اور مولوی کا لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے لفظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر مولوی کا لفظ مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنا ہوتا تو پھر اس پر الف اور لام داخل نہیں ہو سکتا ، حالانکہ عام طور سے ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا پایا جاتا ہے ، مثال کے طور پر علامہ چلپی جیسے علوم اسلامیہ کے محقق کی کتاب ’’کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ‘‘میں دیکھا جائے کہ جگہ جگہ مصنفین کے نام کے ساتھ ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا ہے چنانچہ جلال الدین رومی المولوی اور شیخ اسماعیل الفردی المولوی الف لام کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ (کشف الظنون ج:۱ص:۲۰۹)نیز اس قسم کی بہت سی مثالیں کشف الظنون اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔ پس اگر مولوی کالفظ اضافت کے ساتھ ہوتا تو مولانا کی طرح مولوی پر بھی الف لام داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔
نیز علامہ ابوالفداء صاحبِ حماۃ کو جب سلطان مصر محمد بن قلاؤذون نے حماۃ ( شام) کی سلطنت دی تو ان کو ان القاب سے نوازا ’’ المقام الشریف العالی المولوی السلطانی العمادی الملکی الموئدی ان کے شاہی القاب میں بھی ’’المولوی‘‘ کا لفظ الف لام کے ساتھ موجود ہے۔(تاریخ صلاح صفدی)
مولانا کی طرح مولوی کا لقب بھی ابتدا میں علماء کے لئے خاص نہ تھا ، بلکہ امراء و سلاطین کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جیسا کہ ابھی ابوالفداء صاحبِ حماۃ ۷۳۲ھ کے لقب میں معلوم ہوا۔
ابتدا میں مولوی کا لقب نہایت عظیم الشان لقب تھا اور آج کی طرح پامال نہیں تھا ۔ اس کی عظمت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ سلطان مصر محمد بن قلاؤذن نے اپنے تمام امراء کو حکم دیا تھا کہ الملک الموئد ابوالفداء کے القاب میں وہ مولوی بھی لکھا کریں مگر خود سلطان مصر جب ابوالفداء کو خط لکھا کرتا تھا تو ’’مولوی‘‘ کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتا تھا کیونکہ اسی نے ابوالفداء کو حماۃ کا سلطان بنایا تھا ۔
اس لفظ مولوی کی عظمت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شیخ جلال الدین رومی صاحب مثنوی جیسے اونچے انسان کو مولوی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا چنانچہ ایک شعر میں ہے :
مثنوی مولویٔ معنوی ہست قرآں در زبان پہلوی
مولانا روم خود ایک شعر میں فرماتے ہیں :
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نہ شد
ہمارے اردو کے ایک شاعر نے مولوی کی اہمیت و عظمت کو ایک شعر میں یوں ظاہر کیا ہے۔
علم مولیٰ ہو جسے ہے مولوی جیسے حضرت مولویٔ معنوی
آٹھویں صدی کے بعد ’’مولوی‘‘ کا لفظ عام طور سے مدرسین حضرات کے لئے استعمال ہونے لگا اورا س کا رواج زیادہ تر علمائے کرام کے یہاں ہوا ،ا ور پھر وہاں سے عجم میں پھیلا حتی کہ بعض علماء مولوی زادہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آج یہی مولوی کا لفظ عوام اور خود علماء کے نزدیک بہت ہی معمولی حیثیت کا رہ گیا ہے ۔ اور کسی عالم کو صرف مولوی کہنا یا لکھنا اس کی شان کم کردینے کے مرادف ہو جاتا ہے اورویسے بھی ہرکہ ومہ کے لئے ا ستعمال ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭
ملا ۔منلا۔ مولٰی:۔ ملا ، منلا اور مولیٰ کے القاب بھی مولوی کے ساتھ کی پیداوار ہیں اور ان کا استعمال بھی اہل علم کیلئے ہی علماء روم سے شروع ہوا اور بڑے بڑے فضلائے روزگاراور یکتائے زمانہ ان القاب سے یاد کئے جاتے تھے۔ حضرت شیخ الرحمن جامی ؒ کو ملا اور منلا کہا جاتا تھا ۔ ملا جلال الدین بیضاوی کے محشی منلا عوض وغیرہ اس لقب کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں ، کشف الظنون میں متاخرین کے بڑے بڑے ماہرین فن اور مصنفین کے لئے یہ الفاظ ملتے ہیں ، آخر زمانہ تک یہ الفاظ علمی عظمت اور فنی مہارت کی خبردیا کرتے تھے ، چنانچہ ملا محمود جونپوری ، ملا مسکین ، ملا محب اللہ بہاری، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ، ملا علی قاری جیسے اکابر علم و فضل ان القاب و خطابات کے مستحق قرار پائے ہیں ، انگریزی حکومت میں بھی پہلے سرکاری امتحانات میں ملا فاضل کا امتحان ہوتا تھا اورا سکی سند دی جاتی تھی ۔
)المرسل: ضیاء الحق خیرآبادی ، مدرسہ تحفیظ القرآن ۔سکٹھی ، مبارکپور)
No comments:
Post a Comment