Search This Blog

Thursday, April 26, 2018

آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرناک کھیل

(سید عبدالوہاب شیرازی)
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی۔ پہلے ایک پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں روح پھونک دی گئی۔ پھر آدم علیہ السلام کی پسلی سے حضرت حواء علیہاالسلام کی پیدائش ہوئی۔ پھر جب دونوں دنیا میں آئے تو ان سے آگے انسانی نسل پھیلی اور بچوں کی پیدائش ایک خاص عمل کے بعد عورت کے رحم سے ہوتی رہی۔ آج سے  دس ہزار سال قبل حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج سے تقریبا چندسال قبل تک بچوں کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہوتی رہی جو ہزاروں سال سے نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں،  دوسری مخلوقات اور جانوروں میں جاری و ساری ہے۔
لیکن اب اچانک سے پاک وہند میں یہ تبدیلی آئی اور پھر بہت زیادہ عام ہوگئی کہ ستر فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن سے ہورہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات مثلا کتا، بلی، بکری، بھینس وغیرہ وغیرہ ہر ایک کے ہاں بچے کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہورہی ہے جیسے پہلے ہورہی تھی ایک واحد انسان ہے جسے قصائی نما ڈاکٹروں نے اپنی پیسے کی ہوس، لالچ اور محبت نے اس غلط راستے پر زبردستی ڈال دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آج کل کی خوراک اتنی ناقص ہے کہ جس کی وجہ سے زچہ و بچہ کی صحت اس قابل نہیں ہوتی کہ آپریشن کے بغیر پیدائش ہوسکے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناقص خوراک کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی ہے یا جانور بھی ناقص خوراک ہی کھا رہے ہیں، آج کی گائے اور بھینسیں بھی یوریا اور کیمیکلز سے تیار کردہ گھاس کھا رہی ہیں، کتیا اور بلی بھی فارمی مرغیوں کی ہڈیا اور گوشت کھا رہی ہیں لیکن ان کو تو آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی آخر انسان کوہی کیوں زبردستی آپریشن پر مجبور کیا جارہا ہے۔
ہمارے خیال میں اس سارے معاملے میں سوائے پیسے کی ہوس کے اور کچھ نہیں۔ دراصل آج کا ڈاکٹر ، ڈاکٹر بنا ہی زیادہ پیسہ کمانے کے لئے ہے۔ ذرا سوچیے، والدین اپنے بچے کو کیوں ڈاکٹر بناتے ہیں، کیا ان کے ذہن میں ذرا بھی یہ تصور ہوتا ہے کہ میرا بچہ یا بچی انسانیت کی خدمت کرے گا؟ نہیں بالکل نہیں۔ والدین یہی سوچ کر ڈاکٹر بناتے ہیں کہ پیسہ زیادہ کمائے گا۔ تو پھر ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ کہنے کو تو ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن اصل میں انسانیت کو ذبح کرنے والا قصائی۔
آج کوئی بھی خاتون پیدائش کے وقت ہسپتال یا کلینک جاتی ہے تو فورا اسے نفسیاتی طور پر اتنا ہراساں کردیا جاتا ہے کہ وہ آپریشن کروانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔چونکہ آپریشن کروانے پر اچھے خاصے پیسے مریض کی جیب سے نکلوائے جاسکتے ہیں اس لیے ڈرا دھمکا کر آپریشن کرنے پر راضی کرلیا جاتا ہے۔
عالمی طور پر آپریشن کروانا اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔کیونکہ اس طرح زچہ و بچہ دونوں طرح طرح کی بیماریوں اور عمر بھر کے لئے کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جو بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں ان کے 5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات نارمل طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان بچوں کو دمہ لاحق ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ماں کے آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ جو خواتین آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرتی ہیں آئندہ ان کا اسقاط حمل ہونے اور ان کے بانجھ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے دونوں طریقوں سے پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں اور ان کی ماں کی صحت کا ریکارڈ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔
عالمی ادارہ صحت نے آپریشن کے ذریعے پیدائش کو اس کے نقصان دہ اثرات کے باعث زچگی کا ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا ہے۔ اور 10 سے 15 فیصد سالانہ سٹینڈرڈ شرح مقرر کی ہے۔ لاہور میں قائم پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام میں ہر سال لگ بھگ 24 ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 50 فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہو رہی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق سی سیکشن محض اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ جب پیٹ کاٹ دیا گیا تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا۔ کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، '' بعض اوقات کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار سے ایک لاکھ تک مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔
ڈاکٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ آپریشن سے بہت سی پیچدگیاں پیدا ہوتی ہیں ، جیسا کہ مختلف قسم کے انفکشن، وقت سے پہلے پیدائش، خواتین کا بانجھ پن، اندرونی زخم، خون کی بیماریاں، بچے کو سانس کی بیماریاں،بچے کا وزن کم ہونا،اور بعض اوقات تو اموات بھی ہوجاتی ہیں۔
ان کے بقول ایک خاتون کا دو سے تین بار آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش اس کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سیزیرئن کیسزمیں اضافے کی بڑی وجہ ملک میں کثیر تعداد میں پرائیویٹ ہسپتال اور زچہ و بچہ کے مراکز ہوسکتے ہیں، جن میں بیشتر اوقات تعینات طبی عملہ ذیادہ پیسے کمانے کی خاطر بچوں کی پیدائش کے لئے آپریشن ہی تجویز کرتا ہے ۔ ڈاکٹر عائشہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کو غیر ضروری آپریشنز کے خلاف اقدامات اٹھانے چائیں تاکہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو۔

Thursday, April 12, 2018

سہانجنا مورنگا معلومات



مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔





 سہانجنا اور دیگر اجناس کی غزایئت کا چارٹ

سہانجنا (مورنگا) کے پتے دودھ دینے والے جانوروں کے لیے غزائی افادیت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ھیں. اگر انھیں مویشیوں کی خوراک میں باقاعدگی سے شامل کرلیا جائے تو 15 لیٹر سے کم دودھ دینے والے جانوروں کو کسی قسم کے ونڈے اور منرلز مکسچرز کی ضررورت باقی نہیں رھتی, سہانجنے کے پتے انرجی, پروٹین, منرلز اور وٹامنز سے بھرپور ھوتے ھیں, خوراک کے ساتھ ساتھ یہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ھیں, معدے کی اصلاح کرتے ھیں اور جگر کو زھریلے مادوں سے پاک کرکے تازہ اور صحت مند خون پیدا کرنے کے قابل بناتے ھیں, ان پتوں کو کھانے والے جانور وائی بادی, ساڑو,زھرباد اور کئی دیگر بیماریوں سے محفوظ رھتے ھیں. دنیا مورنگا کو ٹری آف لائف ,کرشماتی پودا, ٹری آف سینچری اور اس کی پروڈکٹس کو سپر فوڈ کا درجہ دے چکی ھے, ھمارا پڑوسی ملک بھارت پوری دنیا میں مورنگا کے بیج اور پتے ایکسپورٹ کر رھا ھے, اس کے برعکس ھم ابھی تک امپورٹ کررھے ھیں, جبکہ شمالی علاقہ جات کے علاوہ پاکستان بھر میں اس کی کاشت باآسانی کی جا سکتی ھے, رانا محمد خاں... مینجنگ ڈرائکٹر الصادق ڈیری سلیوشنز

مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔



Sunday, April 8, 2018

Moringa pterygosperma مورنگا، سوہانجنا

Moringa pterygosperma

نباتاتی نام : مورنگا پٹیروگاسپرما Botanical Name: Moringa pterygosperma Gaertn.de.Fruct
خاندان ©: مورنگیسی Family:Moringaceae
انگریزی نام: ہارس ریڈش ٹری Horse-raddish tree
دیسی نام: سوہانجنا Sohanjana
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاکستان اور سب ہمالیہ۔اور راولپنڈی میں پایاجاتا ہے۔
قسم: پت جھاڑ
شکل:                         قد: 10-12 میٹر
پتے : مرکب ہیں70-30 سینٹی میٹر لمبے،پتیاں سیدھی ہیں اور چھال مڑی ہوئی ہے ۔
پھولوں کا رنگ: سفید ،                   پھول آنے کا وقت: فروری اور اپریل۔پھول 2.4 سینٹی میٹر لمبے اور شہد کی خوشبو جیسے،لمبی پینسل کی طرح
پھل : پھل لمبا اور کیپسول کی طرح 50-25 سینٹی میٹر لمبا۔بیج اگست میں پکتا ہے اور 2.4 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔
جگہ کا انتخاب:ایک بہت غیر روادار درخت جو کے ایک اچھی قسم والی جگہوں پر پایا جاتا ہے اور نکاسی والی جگہوں پر اچھی پیدا وار ہوتی ہے۔
نمایاں خصوصیات:تیزی سے بڑھنے والا درخت،سایہ دار جس میں لگنے والی پھلیاں کھائی جاتی ہیں       
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار : اس کی بڑھوتری اوسط درمیانی ہے۔
لکڑی کی خصوصیات
دانہ ©: سیدھا
رنگ: ہلکا
کثا فت : درمیانی
مظبوطی : نرم،کمزور،خانہ دار۔
استعمال ©:زیبائشی ،چارہ،درخت سے گوند نکلتی ہے ،بیج سے تیل اور رنگ حاصل ہوتا ہے،پھل پکایا اور کھایا جاتا ہے،درخت کی جڑیں ہارس ریڈش
 (horse raddish)کہلاتی ہیں

مورنگا ( سہا نجنہ) کرشماتی پودا مورنگا کثیرالمقاصد کرشماتی خوبیاں رکھنے والا پودا ہے۔ یہ نیچرل ملٹی وٹامن ہے، غذائیت سے مالا مال ہے۔ انسانوں اور جانوروں کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ مورنگا کاتعارف نباتاتی نام ۔ مورنگا اولیفیرا Moringa Olifera
ہے۔ پھولوں کی رنگت کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں سفید اور سرخ پھولوں والا۔ تیل۔ مورنگا کے بیجوں سے 36٪ تیل نکلتا ہے۔ یہ تیل بے بو اور بے ذائقہ ہوتا ہے ۔ مدتوں پڑا رہنے سے بھی خراب نہیں ہوتا۔ ذائقہ ۔ قدرے تلخ مزاج ۔ گرم خشک درجہ سوم۔ افعال و استعمال ۔ مورنگا کے پھولوں پتوں گوںد اور جڑوں کو سرد بلغمی امراض میں مدتوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ نیوٹریشن کے لحاظ سے مورنگا کی اہمیت مورنگا کاپودا نہایت قیمتی اور کرشماتی خصوصیات کا حامل ہے اس پودےمیں تقریباً 92 غذائی اجزا یعنی نیوٹرینٹ اور 46 قدرتی انٹی آکسیڈنٹ (مانع عملِ تکسید مادے) موجود ہیں کوئی ایسا وٹامن ابھی تک دریافت نہیں ہوا جو اس پودے میں موجود نہ ہو۔ مورنگا کی ان خصوصیات کی وجہ سے اگر اس پودے کو غذائیت کا پاور ہائوس کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ نیو ٹرین ویلیو کے حساب سے اگر مورنگا کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے کوئی دوسرا درخت یا پودا اس کا مقابلہ نہیں کرتا۔ مورنگا کے پتوں کے 100 گرام پوڈر میں پروٹین کی مقدار دودھ اور دہی کی نسبت 2 گنا سے زیادہ ہے وٹامن سی کی مقدار 7 عدد سنگتروں سے زیادہ ہے وٹامن اے کی مقدار گاجر کی نسبت 4 گنا سے زیادہ ہے۔ آئرن کی مقدار بادام کی نسبت 3گنا زیادہ ہے۔ وٹامن ای کی مقدار پالک کی نسبت 3گنا سے زیادہ ہے۔ مورنگا انسان دوست کسان دوست اور غریب پرور درخت ہے۔ مورنگا میں بے پناہ شفائی خصوصیات پائی جاتی ہیں جدید تحقیق کے مطابق مورنگا سے سینکڑوں بیماریوں کاعلاج کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ ایور وید ک طریقہ علاج میں 300 بیماریوں کا علاج مورنگا سے کیا جاتا ہے۔ مورنگا کے پتے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ غذائی قلت دور کرنے کیلئے مورنگا کادرخت ایک بہتریں حل ہے۔
مورنگا ایک کثیرالمقاصد پودا ہے۔ غذائیت اور شفائی اجزا کی بدولت مورنگا کثیرالمقاصد پودا ہے۔ ہم اس کے ذریعے فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتے ہین۔ اس کو پانی صاف کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پودے کو لائو سٹاک کی خوراک کے طور پر استعمال کرکے مویشیوں کو صحت مند اور فربہ کیاجاسکتا ہے اورانکے دودھ میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے۔ اس تیل کو ناسا جیسے ادارے سپیس انویسٹی گیشن کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ غذائی اہمیت مورنگا کے پتوں کا 50گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کیلئے کا فی ہے اورجسم میں غذائیت کے مختلف اجزائ کی کمی نہیں ہوتی۔ گوشت اور پھلوں جیسی مہنگی خوراک کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس سے ایک غریب آدمی آسانی سے اپنی غذائی ذروریات پوری کر سکتا ہے۔اپنے آپ کو صحت مند اور توانا رکھ سکتا ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

Saturday, April 7, 2018

Health Benefits Of Moringa | Sohanjna سوہانجنا

Click Here یہاں کلک کریں۔

سوہانجنہ یا مورنگا کے عجیب و غریب فوائد کے پیش نظر اپنے گھر میں ضرور اس کا پودا لگائیں۔
See What Happens To Your Body When You Drink Moringa Everyday
Moringa or moringa oleifera is becoming more and more popular each day. It is a fast growing, deciduous tree which is native to
India. It’s widely cultivated in tropical and subtropical areas all over Asia, South America and Africa.
It is also known as drumstick tree, mother’s best friend, Horseradish tree and West Indian ben.Although, moringa has become
popular as a leaf powder supplement, the roots, pods, bark, seeds, flower and fruits are also edible.
Moringa is rich in vitamins, proteins and minerals. It’s a source of vitamin A, vitamin B1 (thiamine), B2 (riboflavin), B3 (niacin), B6,
folate and vitamin C. It’s also a source of potassium, iron, calcium, magnesium, zinc and phosphorus.
Moringa is not in vain called the miracle tree. Here are some of its amazing benefits.
Health benefits Of Moringa
1. Cures Stomach Disorders
Moringa contains isothiocyanates, which are very effective in the treatment of abdominal disorders like ulcerative colitis, gastritis
and constipation. There are studies which have shown that moringa can be used as an effective herbal substitute for a range of
commercially available antacids.
According to a research, it can effectively cure ulcerative colitis. Moringa also contains antibacterial and antibiotic properties which
prevent the growth of various pathogens, including helicobacter pylori bacteria and coliform bacteria which trigger conditions like
diarrhea.
2. Protects the Liver
Moringa consists of phytochemicals like epicatechin, ferulic acid, catechin, and vitamin C. These nutrients are very helpful in
protecting the liver. They help to restore the levels of glutathione content in the body and also prevent radiation –induced hepatic
lipid peroxidation. According to a research, moringa leaves are effective against liver damage caused by anti­tubercular drugs, as well
as in speeding up the recovery process.
3. Prevents Neurodegenerative Diseases
According to a recent study, moringa extracts are effective in altering brain monoamines like norepinephrine, dopamine
and serotonin. It can even protect your brain from deficiencies which are related to Alzheimer’s disease.
4. Provides Excellent Nutritional Support
Moringa is packed with nutrients. There’s 17 times more calcium in Moringa than in milk, 25 times more iron than in spinach and 10
times more beta­carotene than in carrots. It is also rich in minerals like zinc, potassium, iron and also in vitamin C and B complex
vitamins. It is rich in proteins as well­ it contains 4 times of what eggs provide.

Monday, April 2, 2018

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں,

* بریلوی مشرک نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ نبی علیہ السلام اور بزرگوں سے عقیدت و محبت کےاظہار میں اعتدال سےبڑھ جاتےہیں, یہ بنیادی طور پر ایک قلبی رحجان ھے فی نفسہ اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ درست سمت اور سلیقے سے ہو تو نہایت ہی پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب شرک و بدعات کے رد میں نیک جذبوں کو بھی روندتےچلےجاتےہیں یہ سوچےسمجھے بغیر کہ آپ کا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* دیوبندی اکابر پرست نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ دین کےفہم و تشریح میں باقاعدہ سند یافتہ علماء کرام اور صدیوں سے چلتی دینی روایات کو اہمیت دینے کی کوشش میں اکثر اعتدال کی راہ سے ہٹ جاتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان ھے اور درست سمت و سلیقے سے ہو تو نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب اکابر پرستی پر نقد و تبصرہ کرتےہوئے الفاظ و محاورات کےاستعمال میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھتےکہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* اہلحدیث اور سلفی حضرات بزرگوں اور پیغمبروں کی عظمت کے انکاری نہیں ہوتے, بات صرف اتنی ھے کہ اللہ کے سامنے ہردوسری ہستی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور توحید ہی کو اسلام کی اساس سمجھتےہوئےشرک کے ادنی سے شائبے کو بھی ایمان کےخلاف سمجھتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان اور اپنی حقیقت میں نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب ان کی اس حساسیت کو اپنے مسلک اور قلبی رحجان کےخلاف سمجھتےہوئے ان سے متوحش ہوتےہیں, یہ بات سمجھے بغیر کہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں,
* ان تینوں مکاتب فکر کے فالوورز اگر اس طرز پر سوچنا شروع کردیں تو بالیقین فاصلےسمٹ جائیں اور غیرضروری اختلاف کا بھی خاتمہ ہوجائے,
لیکن معاملہ چونکہ فرقہ پرستی کا ھے اور فرقہ پرستی اپنی حقیقت میں دینداری کےعنوان پر دکانداری چمکانےکا نام ھے اسلیے بےجا طورپر ایک دوسرے کے رحجانات کو بجائے خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور وسعت قلبی اپنانےکے ایک دوسرے کےرد میں کتابیں اور رسالے چھاپتےرہتےہیں,
اور بعض ظالم تو قرآن کی آیات اور احادیث نبوی کو بھی اپنےحق میں توڑ مروڑ کرپیش کرنےسے دریغ نہیں کرتے,
مجھے اچھی طرح اندازہ ھے کہ احباب فروعی اختلاف کی شدت ثابت کرنےکےلیے ان تینوں مکاتب فکر کی کتابوں سے بہت کچھ خرافات جمع کرکےلاسکتے ہیں, لیکن اپنی حقیقت میں وہ سارا مواد دریا برد کردینےکےقابل ھے, اتفاق رائے کےلیے امت کے پاس اتنا وسیع زخیرہ موجود ھے کہ اس قسم کا بےجا اختلاف سوائے اناپرستی کےاور کچھ نہیں,
* محض ان تین ہی مکاتب فکر کی بات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر) دیگر بہت سے مکاتب فکر کےہاں بھی اختلاف کی نوعیت اکثر ایسی ہی ھے کہ اپنی بنیادوں میں جسے آپ رحجانات اور بعض صورتوں میں زاویہ نگاہ کا فرق کہہ سکتےہیں,
اور جہاں اختلافات کی وجوہات گہری ہیں تب بھی قرآن جیسی محفوظ کتاب جسے اللہ نے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنےوالی کتاب کہا) اور نبی علیہ السلام کی محفوظ سنت کی موجودگی میں رائے کا اختلاف کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا, اور جو کچھ علمی اختلاف ھے بھی تو وہ ہرحال میں رہےگا اور قیامت تک رہےگا,
لوگ جب تک سوچتےرہیں گے مکاتب فکر بنتےرہیں گے, اگر یہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر اور نفرت و شرانگیزی کی حدوں تک نہیں پنہنچتا تو نبی علیہ السلام نے اس اختلاف کو امت کےلیے رحمت کہا ھے, کیونکہ اختلاف رائے سوچنےوالوں کو نئے نئے زاوئیے عطاکرتا ھے,
لہذاہ اتحاد اختلاف رائے کو ختم کرنےسے نہیں بلکہ اختلاف رائے کو گوارا کرنےسےپیدا ہوگا,
اور اس کی سب سے بڑی بنیاد تقوی اور خدا کےحضور جوابدھی کا سچا احساس ھے,
* ایک جگہ کچھ لوگ بحث و جدال میں مصروف تھے, کسی نکتےپر اتفاق ہی نہیں ہورہا تھا کہ اچانک وہاں سانپ نکل آیا, گھبرا کر سارے اس سانپ کو مارنےکےلیے متحد ہوگئے,
حالت سکون میں جو لوگ کسی بھی نکتےپر متفق نہیں تھے حالت خوف میں سوفیصد متحد اور یک جان ہوگئے,
یہی معاملہ آخرت کی جوابدھی کےخوف کا بھی ھے اگر حقیقی معنوں میں اللہ کےحضور جوابدھی کا خوف امت کےتمام طبقات میں ذندہ ہوجائے تو اتحاد کا قائم ہونا ویسا ہی یقینی ہوجائے جیسا سورج کےطلوع ہوتےہی دن کے نکلنے کا!!!

Sunday, April 1, 2018

ھاکنگ

"مغرب کے حصے میں ھاکنگ جیسے معذور سائنس دان ہیں جبکہ ہمارے حصے میں ھود بائی جیسے بھینگے سائنس دان ہیں۔
مغربی سائنسدان خلا سے آگےنکل گئے اور اب مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ ہود بھائی کو ٹاک شوز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ 
مغربی سائنسدان گھر سے نکلتا ہے اور ناسا کے دفتر میں پہنچ کر کائنات کی وسعتوں میں کارخانہ قدرت کا مشاہدہ کرکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا بیچارہ ہود بھائی قائداعظم یونیورسٹی سے نکلتا ہے اور تین میل دور جیو کے دفتر میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں سے نکلتا ہے موم بتی لے کر ڈی چوک میں کھڑا ہو جاتا ہے، وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو گھر کی چھت پر لگی سولر پلیٹوں پر کپڑا پھیر کر صاف کرتا ہے، پھر رات کو دماغ کی صلاحیت کو یہ سوچتے سوچتے کہ (مولوی اتنا طاقتور کیوں ہے) خرچ کرتا ہے۔
................
کیا کوئی غریب اس کا تصور کرسکتا ہے کہ ایک معمولی سا سپاہی اسے جرمانہ کردے اور وہ عام شہری آگے سے ڈٹ جائے کہ میں نے جرمانہ نہیں ادا کرنا۔؟
کل آپ نے امیرنواز نظام کا یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب ملک کے قاضی القضاۃ ثاقب نثار نے ایک جاگیر دار، سرمایہ دار، ارب پتی وکیل اعتزاز احسن کو صرف دس ہزار روپے جرمانہ کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ یہاں پیٹھ پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا اس لیے قاضی صاحب اپنے عائد کردہ جرمانے کو نہ واپس کرسکتے تھے اور نہ وصول۔ 
لہذا عزت بچانے کے لئے یہ سوشہ چھوڑا کہ اعتزاز احسن کا جرمانہ میرے بیٹے نے ادا کردیا ہے۔ اور فلاں ہسپتال میں صدقہ کردیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کرپشن نہیں، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ سرکار کے پیسے سے آپ صدقے کریں۔ کیا اس پر آپ کی نااہلی نہیں بنتی۔ ؟ کیا کرپشن نہیں۔؟ بھٹو اب مر چکا ہے گھبرائیں نہیں اور مہربانی فرما کر وہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔
#نکتہ
.........