"مغرب کے حصے میں ھاکنگ جیسے معذور سائنس دان ہیں جبکہ ہمارے حصے میں ھود بائی جیسے بھینگے سائنس دان ہیں۔
مغربی سائنسدان خلا سے آگےنکل گئے اور اب مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ ہود بھائی کو ٹاک شوز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔
مغربی سائنسدان گھر سے نکلتا ہے اور ناسا کے دفتر میں پہنچ کر کائنات کی وسعتوں میں کارخانہ قدرت کا مشاہدہ کرکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا بیچارہ ہود بھائی قائداعظم یونیورسٹی سے نکلتا ہے اور تین میل دور جیو کے دفتر میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں سے نکلتا ہے موم بتی لے کر ڈی چوک میں کھڑا ہو جاتا ہے، وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو گھر کی چھت پر لگی سولر پلیٹوں پر کپڑا پھیر کر صاف کرتا ہے، پھر رات کو دماغ کی صلاحیت کو یہ سوچتے سوچتے کہ (مولوی اتنا طاقتور کیوں ہے) خرچ کرتا ہے۔
مغربی سائنسدان خلا سے آگےنکل گئے اور اب مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ ہود بھائی کو ٹاک شوز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔
مغربی سائنسدان گھر سے نکلتا ہے اور ناسا کے دفتر میں پہنچ کر کائنات کی وسعتوں میں کارخانہ قدرت کا مشاہدہ کرکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا بیچارہ ہود بھائی قائداعظم یونیورسٹی سے نکلتا ہے اور تین میل دور جیو کے دفتر میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں سے نکلتا ہے موم بتی لے کر ڈی چوک میں کھڑا ہو جاتا ہے، وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو گھر کی چھت پر لگی سولر پلیٹوں پر کپڑا پھیر کر صاف کرتا ہے، پھر رات کو دماغ کی صلاحیت کو یہ سوچتے سوچتے کہ (مولوی اتنا طاقتور کیوں ہے) خرچ کرتا ہے۔
................
کیا کوئی غریب اس کا تصور کرسکتا ہے کہ ایک معمولی سا سپاہی اسے جرمانہ کردے اور وہ عام شہری آگے سے ڈٹ جائے کہ میں نے جرمانہ نہیں ادا کرنا۔؟
کل آپ نے امیرنواز نظام کا یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب ملک کے قاضی القضاۃ ثاقب نثار نے ایک جاگیر دار، سرمایہ دار، ارب پتی وکیل اعتزاز احسن کو صرف دس ہزار روپے جرمانہ کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ یہاں پیٹھ پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا اس لیے قاضی صاحب اپنے عائد کردہ جرمانے کو نہ واپس کرسکتے تھے اور نہ وصول۔
لہذا عزت بچانے کے لئے یہ سوشہ چھوڑا کہ اعتزاز احسن کا جرمانہ میرے بیٹے نے ادا کردیا ہے۔ اور فلاں ہسپتال میں صدقہ کردیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کرپشن نہیں، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ سرکار کے پیسے سے آپ صدقے کریں۔ کیا اس پر آپ کی نااہلی نہیں بنتی۔ ؟ کیا کرپشن نہیں۔؟ بھٹو اب مر چکا ہے گھبرائیں نہیں اور مہربانی فرما کر وہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔
#نکتہ
کل آپ نے امیرنواز نظام کا یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب ملک کے قاضی القضاۃ ثاقب نثار نے ایک جاگیر دار، سرمایہ دار، ارب پتی وکیل اعتزاز احسن کو صرف دس ہزار روپے جرمانہ کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ یہاں پیٹھ پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا اس لیے قاضی صاحب اپنے عائد کردہ جرمانے کو نہ واپس کرسکتے تھے اور نہ وصول۔
لہذا عزت بچانے کے لئے یہ سوشہ چھوڑا کہ اعتزاز احسن کا جرمانہ میرے بیٹے نے ادا کردیا ہے۔ اور فلاں ہسپتال میں صدقہ کردیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کرپشن نہیں، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ سرکار کے پیسے سے آپ صدقے کریں۔ کیا اس پر آپ کی نااہلی نہیں بنتی۔ ؟ کیا کرپشن نہیں۔؟ بھٹو اب مر چکا ہے گھبرائیں نہیں اور مہربانی فرما کر وہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔
#نکتہ
.........
No comments:
Post a Comment