Search This Blog

Wednesday, December 21, 2016

اسلامی تحریکوں کے کارکن متوجہ ہوں

سیدعبدالوہاب شیرازی
میری یہ تحریر ان لوگوں کے لئے ہے جو دینی اور مذہبی جماعتوں یا اسلامی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔
عامر: تبلیغی جماعت دین کا بہت بڑا کام کررہی ہے ، وہ جو کام کررہی ہے کوئی جماعت نہیں کررہی۔
جاوید: مجھے آپ کی اس بات سے باالکل اتفاق نہیں کیونکہ تبلیغی جماعت فلاں فلاں کام نہیں کرتی، وہ دین کی پوری فکر لوگوں کو نہیں دیتی، وہ تو بس میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں۔دین کا بہت بڑا حصہ ان کا موضوع ہی نہیں اور نہ ہی وہ اس طرف آرہی ہے۔
عامر: بھائی آپ کو آدھا گلاس خالی ہی دکھتا ہے، آدھا بھرا ہوا کیوں نہیں دکھتا۔ آدھا گلاس خالی ہی دکھنا منفی سوچ ہے، آپ اس منفی سوچ سے باہر نکلیں اور مثبت سوچیں۔
جاوید: میں یہ کہہ رہا................
عامر: ایک منٹ مجھے بات مکمل کرنے دیں اب مجھے تھوڑا سا بولنے دیں۔ جس طرح آپ سوچ رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت یا آپ کی جماعت کے علاوہ کوئی بھی دوسری جماعت فلاں فلاںکام نہیں کررہی یہی اعتراض آپ پر بھی ہوسکتا ہے کہ آپ بھی تو دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہے۔ آپ نے بھی ایک ہی شعبے کو اختیار کیا ہوا ہے اور بیسیوں سال گزر گئے صرف وہی ایک کام کرتے جارہے ہیں۔
          دیکھیں ہمارے معاشرے میں چوڑے چمار بھی ہیں، کیا وہ انسان نہیں، کیا وہ کتے بلیاں ہیں؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ رسول کی طرف آئیں، عمل کریں اور جنت کے مستحق ٹھہریں۔ ان کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ ان کا دادا یہ کام کرتا تھا، پھر باپ کرتا تھا اور اب وہ بھی یہی کام کررہے ہیں ان کی یہی ساری دنیا ہے، انہیں کون جاکر بتائے گا کہ بھائی یہی ساری زندگی نہیں، یہ آپ کا فن یہ ذریعہ روزگار ہے اصل زندگی کچھ اور ہے۔ تبلیغی جماعت کے علاوہ کون سی جماعت ہے جو معاشرے کے ایسے نچلے اور پسے ہوئے طبقات کو احساس ذمہ داری دلاتی ہے۔ آپ غور کریں کبھی آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی وفد ایسے لوگوں سے ملا؟ ان کو دعوت دین دی؟ یا کم از کم اپنی میٹنگ میں ہی ان کا تذکرہ کیا؟ ۔ یقینانہیں۔ ہاں جب گٹر بند ہوا ہوگا تو لازما فون کرکے بلایا ہوگا اور پھر سو پچاس دے کر فارغ کردیا ہوگا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تبلیغی جماعت کے اس مثبت کام پرنظر رکھیں اور خود بھی مثبت سوچیں۔
          کیا آپ کی جماعت نے کبھی اس بارے مشورہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں ہزاروں کی تعداد میں ہیجڑے بھی ہیں، وہ بھی انسان ہیں اور اللہ کے احکامات کے اسی طرح مکلف ہیں جس طرح 22گریڈ کا افسریا اونچے سٹیٹس ،مرسڈیزگاڑی،کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس شخص۔؟ کتنے ہیجڑوں کو آپ راہ راست پر لائے؟ آپ کی جماعت کے رجسٹر ممبران میں کتنے ہیجڑے ہیں جو آپ کی تحریک سے وابستہ ہیں۔؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ کے دین کا وہ کام کریں جو آپ کرکے شاید اللہ پر احسان کررہے ہیں۔ تبلیغی جماعت نے ہزاروں ہیجڑوں پر محنت کی انہیں ٹھیک کیا اور اب وہ اپنے غلط کام چھوڑ کر ایک عام مسلمان کی طرح زندگی بھی گزار رہے ہیں اور اپنے باقی ساتھیوں پر بھی محنت کررہے ہیں۔
          کیا کبھی آپ نے یاآپ کی جماعت کے وفد نے لاہور اور ملتان کی ہیرا منڈی کا دورہ کیا۔؟ وہاں کی عورتوں سے ملاقات کی۔؟ آپ کی نظر میں تو وہ بازاری عورت ہے، اس کا کیا کام کہ وہ توبہ کرے، وہ غلط کام چھوڑے، وہ نماز پڑھے، وہ پردہ کرے؟ ۔ ہاں آپ نے دو چار کتبے ضرور لکھے ہوں گے فحاشی بندکرو، اخباری بیان اور جلسے کی تقریر میں ضرور انہیں بُرا بھلا کہا ہوگا۔ ان کا صرف اتنا قصور ہے کہ سینکڑوں سال سے وہ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کے آباءواجداد سے نسل در نسل یہی ان کا پیشہ ہے۔انہیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ زندگی صرف یہی نہیں بلکہ اصل زندگی کچھ اور ہے۔ جی ہاں تبلیغی جماعت نے بے شمار طوائفوں کے سر پر شفقت کی چادر رکھی، ان کو یہ احساس دلایاکہ یہ اصل زندگی نہیں، ان سے توبہ کروائی، انہیں قرآن پڑھنے پر لگایا، انہیں نمازی بنایا، انہیں باعزت زندگی عطاءکی، ان کی شادیاں کروا کررخصت کیا۔
          کیا آپ گونگوں ،بہروں اور نابینوں کو انسان سمجھتے ہیں یا نہیں۔؟ کیا وہ صرف اس لئے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ پر معذوری کا نشان ڈال دیا جائے اور معذوروں کی کیٹگری میں شمار کیا جائے۔؟ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بھی پیدائشی نابینا تھے، لیکن صحابہ نے ان سے یہ کام لیا کہ جنگوں میں لشکر کا علم ان کے ہاتھ میں پکڑا ہوتا تھا اور قادسیہ کی جنگ میںمیدان جنگ میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپ کی جماعت میں کتنے نابینا، کتنے گونگے وہ دین کا کام کررہے ہیںجو آپ نے امیروں، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے سنبھال کررکھا ہوا ہے۔ تبلیغی جماعت میں سینکڑوں نابینا، گونگے بہرے دین کی محنت کررہے ہیں، ان کا الگ اجتماع ہوتا ہے، ان کی جماعتیں نکلتی ہیں، جو دوسرے گونگوں کو اپنی مخصوص اشاروں والی زبان میں دین سکھاتی ہیں۔
          ہمارے معاشرے میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو کروڑوں میں ہے، جو اَن پڑھ ہیں، یا انتہائی کم تعلیم یافتہ ہیں، مزدور ہیں، جو اپنی مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں سمجھتے، ہمارے نزدیک ان کی حیثیت بس یہی ہے کہ ہم سے پیسے لے کر ہمارے کام کریں، ہماری گاڑی صاف کریں، ہمارے پودوں کو پانی لگائیں، ہمارا فرش دھوئیں، ہمارے دروازے پر پہرہ دیں اورہمارے بچوں کو بیکن ہاوس چھوڑ آئیں۔لیکن ان لوگوں کے دل میں ایمانی چنگاری جب بھڑکتی ہے تو پھر یہ آپ کے گھر کا سارا کام نمٹا کر عصر کے بعد محلے کی مسجد میں پندرہ بیس منٹ تعلیم وگشت کی مجلس میں شرکت کرتے ہیں،سورة اخلاص اور التحیات کے تلفظ درست کرتے ہیں، کیونکہ وہاں پر ان کی ذہنی قابلیت کے برابر دین کی بات سمجھائی جاتی ہے، انہیں عزت دی جاتی ہے۔ جبکہ عین اسی وقت آپ شیشے کے محل میں، سرخ کالینوںپر، سرینا ہوٹل کے بڑے ہال میں کیمروں کے جھرمٹ میں تقریر کررہے ہوتے ہیں کہ اسلامی نظام ایسے ایسے آئے گا، پھر تکبیر کے نعرے لگتے ہیں، ٹی وی پر خبر چلتی ہے اور آپ اپنے بیڈ پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنے بچوں کو کہہ رہے ہوتے ہیںکہ ذرا دوسرا چینل لگاو انہوں نے خبر دی یا نہیں۔؟
          جی ہاں تبلیغی جماعت یہ سب کررہی ہے۔ وہ جو نہیں کررہی تو وہ آپ کررہے ہیں ، یااگر نہیں کررہے تو کرناشروع کردیں۔تبلیغی جماعت کبھی آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر ان کے ساتھ چلیں۔
          یہاں تک دین کا صرف ایک شعبہ بیان ہوا ہے۔ دین کا ایک شعبہ دین اسلام کی علمی میراث بھی ہے جو سینکڑوں سال سے سینہ بہ سینہ اور کتابوں کی شکل میں منتقل ہوتی آرہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو اس کام پر لگایا ہوا ہے، یہ لوگ دنیا جہاں کی رنگینیوں سے بے خبریہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کا اپنا طریقہ ہے، وہ اپنے کام کو بحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی تنخواہوں میں اضافے کے لئے احتجاج نہیں کیا، آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ آج ظہر کی نماز نہیں ہوگی کیوں کہ ہڑتال ہے۔ وہ ینگ ڈاکٹرز کی طرح تڑپتے لاشے چھوڑ کر او پی ڈی بند نہیں کرتے۔ وہ اگر کسی دینی مطالبے کے لئے ہڑتال کرتے بھی ہیں تو ان کے کام اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہر سال ایک لاکھ حافظ قرآن پیدا کرتے ہیں، ہر سال تیس سے چالیس ہزار کے لگ بھگ علماءپیدا کررہے ہیںجن میں60فیصد خواتین اور40فیصد مرد ہوتے ہیں۔
          دین کا ایک شعبہ سیاست بھی ہے۔ پھر سیاست کے مختلف پہلو ہیں۔ موجودہ دور میں جب کہ دین مغلوب ہے، مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کفر کے سامنے ایک طرف دیوار سے لگ جائیں۔ چنانچہ کچھ لوگ سفارتکاری کرتے ہوئے ان طاغوتوں سے اٹھتے بیٹھتے ہیں ، مسلمانوں اور ان کی تحریکوں کے لئے بیچ بچاو کرانے میں لگے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ جتنا ممکن ہو ان کو غلط کاموں سے روکنے کی حتی المقدور کوششیں کررہے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ان ہی کفریہ طاغوتوں کے کھلے چھوڑے راستوں پر دینی محنت کررہے ہیں۔
           جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان تمام سے ہٹ کر لوگوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی مراحل سے گزار کر جماعت تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بعثت قرآن میں تین بار ایک ہی الفاظ کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن اور شریعت دے کر دین اسلام غالب کرنے کے لئے بھیجا اور آپ نے اپنی زندگی میں اسے جزیرة العرب کی حد تک غالب کرکے دکھایا، پھر صحابہ کرام نے بائیس لاکھ مربع میل تک غالب کیا اور پھر آہستہ آہستہ مغلوب ہوتے ہوتے مکمل مغلوب ہوگیا۔ اس لئے بحیثیت مسلمان غلبہ دین بھی بہت بڑا فریضہ ہے جسے سیکھنا،سکھانا،سمجھنا،سمجھانا اور اس کے لئے جدجہد کرنا بھی فرض ہے۔
تبلیغی جماعت سمیت کوئی بھی جماعت،تحریک یاتنظیم ، دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہیں۔ اور نہ ہی کوئی جماعت دین کے سارے شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ قدرتی طور پر خدائی نظام ہے کہ دین کے سارے شعبوں میں کام ہورہا ہے، ہرمیدان آباد ہے ۔ یہ مختلف موتی ہیں، جب اللہ کو منظور ہوگا یہ سب ایک لڑی میں پرو دیے جائیں گے۔ اہل حق کی کسی بھی جماعت میں حق اس طرح بند نہیں کہ کہیں اور موجود نہ ہو۔ اس لئے اللہ نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے آپ اس صلاحیت کے مطابق ان تمام اسلامی تحریکوں،جماعتوں اور تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، اس کے ساتھ کام کریں اور باقی تحریکوں کے کام کی قدر دانی کریں، حتی المقدور ان کے ساتھ بھی تعاون کریں، خاص طور پر تبلیغی جماعت جو اسلام کی نرسری ہے، اسی نرسری سے پودے مختلف باغوں میں جاتے ہیں اور پھر پھل دیتے ہیں۔بس بات اتنی سی ہے جو اس نرسری کے خلاف جتنی نفرت پھیلاتاہے اسے اتنے ہی کم پودے یہاں سے ملتے ہیں۔ جن جن باغبانوں کا اس نرسری سے اچھے تعلقات ہیں انہیں اتنے ہی زیادہ پودے اپنے باغ کے لئے یہاں سے مل جاتے ہیں۔

Tuesday, December 13, 2016

سائبر کرائم بل، مجرموں میں اچھے برے کی تفریق

جیسے کوئی شخص پستول،گن،خنجر وغیرہ استعمال کرکے کوئی جرم کرتا ہے، ایسے ہی سائبر کرائم، وہ جرائم کہلاتے ہیں جو کمپیوٹر یا الیکٹرانک ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کیے جائیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ’’سائبرکرائم‘‘ ہر ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹر یا الیکٹرانک ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف بنایا جائے، یا کوئی بھی ایسی سرگرمی سرانجام دی جائے جس کی رو سے اسلام یا پاکستان کی ساکھ یاکسی معزز شہری کو نقصان پہنچایا جائے۔ یا کوئی بھی غیرقانونی اور غیرآئینی کام سرانجام دیاجائے۔ 
ابھی حال ہی میں قومی اسمبلی سے سائبرکرائم بل منظور ہونے کے بعد باقاعدہ قانونی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس بل کی رو سے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، استحصال، سائبرحملے، سائبردہشتگردی،فحش پیغامات،فحش ویڈیوز، دھمکی آمیز پیغامات،ای میلز، کسی کے ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ جرم تصور ہوگا۔چنانچہ اس بل کی رو سے مندرجہ ذیل امورنہ صرف جرم تصور ہوں گے بلکہ ان پر جسمانی اور مالی سزائیں بھی دی جاسکیں گیں۔ پاکستان میں آئے روز نئے نئے قوانین بھی بنتے رہتے ہیں اور نئی نئی فورسز بھی بنائی جاتی رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود جرائم میں کمی دیکھنے میں نہیں آتی۔ جس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ کبھی تو قانون صرف قانون کی حد تک فائلوں میں ہی ہوتا ہے، اور اگر فائلوں سے باہر نکل کر اس پر عملدرآمد شروع بھی ہوئے جائے تو اچھے اور برے مجرم کی تفریق آڑے آجاتی ہے، ایک ہی قانون کی غریب اور امیر، سرمایہ داراور مزدور،جاگیر دار اور مزارع، سیاستدان اور عوام کے لئے الگ الگ تشریح ہوتی ہے۔ایک جرم اگر امیر کرے تو اسے اور انداز سے ڈیل کیا جاتا ہے جبکہ وہی جرم اگر غریب کرے تو اسے حقیقی مجرم کے طورپر ڈیل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی مزدور،مزارع یا عوام میں سے کوئی مجرم ہو تو اس کے ساتھ اور رویہ ہوتا ہے جبکہ وہی جرم اگر سرمایہ دار،جاگیردار یا سیاستدان اور ان کی اولادیں کرلیں تو نہ صرف قانون بلکہ پولیس،سیکورٹی اداروں اور متعلقہ حکام کا رویہ ان کے ساتھ اور ہوتا ہے۔اگر کوئی چھوٹا کاروباری معمولی سا جرم کرلے تو وہ قانون مجرم ٹھہرتے ہوئے پوری پوری سزا کا بروقت مستحق ہوجاتا ہے جبکہ وہی جرم بڑے پیمانے پر کوئی نیشنل یا ملٹی نیشنل کمپنی کرلے تو نہ صرف اس پر پردہ ڈالا جاتا ہے بلکہ کمپنی کی ساکھ کو بچانے کے لئے مکمل صرفِ نظر بھی کردیا جاتا ہے۔
چنانچہ مجرموں میں اس طرح کی تفریق کرنا ہی قانون کو غیر موثر بنادیتی ہے اور پھر چند سال کے بعد ایک نیا قانون یا فورس بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔سائبرکرائم بل کی بھی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سائبرکرائم بل کا اطلاق ٹی وی چینلز پر نہیں ہوگا۔ یعنی ایک عام شہری فیس بک پر اپنے چند سو فرینڈ تک کوئی غیرقانونی سرگرمی،فحاشی،توہین،بے عزتی کرے گا تو وہ مجرم ٹھہرے گا جبکہ ٹی وی چینل کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کرے، لوگوں کی پرائیویسی پر کیمرے لے کر ڈور پڑے،من گھڑت،جھوٹے پروپیگنڈے کرے تو یہ جرم تصور نہیں ہوگا(شاید اس لئے کہ یہ سرمایہ داروں کا ادارہ ہے اور اس سرمائے کا ایک بڑا حصہ خزانے میں بھی جمع کراتا ہے)۔ سائبرکرائم بل کی چند شقیں:
۱۔ اگر کوئی شخص فرقہ واریت اور مذہبی منافرت پھیلائے تو اسے سات سال قید ہوگی۔(جبکہ یہی جرم بہت بڑے پیمانے پر ٹی وی چینل کرے، یا تین چار مختلف فرقوں کے مولوی ٹاک شومیں بٹھا کر انہیں لڑائے اور پوری قوم کودین اسلام سے کنفیوز کرے تو جرم نہیں)۔
۲۔اگر کوئی شخص غیر اخلاقی تصاویر شائع کرے تو سات سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ ہوگا(جبکہ ٹی وی چینل تصویر تو کیا غیراخلاقی ویڈیو بھی چلادے تو یہ جرم نہیں ہوگا)۔
۳۔اگر کوئی شخص سپمینگ کرے، یعنی بغیر اجازت کسی کو موبائل یا انٹر نیٹ پر کاروباری یا تجارتی تشہیر کا میسج کرے،اگرچہ وہ میسج حقائق کے مطابق ہو تو اسے تین ماہ قید ہوسکتی ہے(جبکہ ٹی وی چینل ایسے اشتہار بھی چلائے جن میں مٹی کو سونا بناکرپیش کیا گیا ہو، پانی کی بوتل پٹرول سے مہنگی کرکے فروخت کرنے کے لئے من گھڑت باتیں بنائی گئی ہوں، یا کوئی بھی تجارتی چیز حقائق کے برخلاف مشتہر کرے تو یہ جرم نہیں)۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ خود موبائل کمپنیاں صارفین کو دن میں پانچ سے دس کاروباری تشہیر کے میسج روزانہ کرتی ہیں، بلکہ اب توکمپیوٹر کے ذریعے آٹو کال بھی کرتی ہیں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں، آدمی کسی اہم کام، پڑھائی وغیرہ میں مصروف ہوتا ہے، یا نیند میں ابھی گیا ہی ہوتا ہے کہ فون پر گھنٹی بجتی ہے اور موبائل کمپنی کے کسی پیکج کی تشہیر کی کال آرہی ہوتی ہے۔
۴۔اگر کوئی شخص کسی کا کوئی کارٹون، کامک(Comic) شیئر کرے گاتو اسے ایک سال قید کی سزا ہوگی۔(لیکن ٹی وی چینلز کے ڈمی میوزم اور بیہودہ جملوں کے تبادلے اسی طرح چلتے رہیں گے، ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا)۔
۵۔اگر کوئی شخص کسی کی تصویراس کی اجازت کے بغیر شیئر کرے گا تو ایک سال قید کی سزا ہوگی۔(جبکہ ٹی وی کے کیمرہ مین جب چاہیں، جہاں چاہیں، جیسے چاہیں، جس کو چاہیں، زبردستی اپنی کیمرے کی آنکھ سے فلمبندکرکے دکھاسکتے ہیں)۔ 
سائبرکرائم کی روک تھام کے لئے پچھلے آٹھ دس سے ایک ادارہ( نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبر کرائم) پہلے سے ہی کام کررہا ہے، جہاں آپ اس ادارے کی ویب سائٹ (www.nr3c.gov.pk) آن لائن شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

Thursday, November 10, 2016

علماء کے اختلاف کا حکمرانوں پر اثر

سیدعبدالوہاب شیرازی
علماء حق انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، ان کے کاندھوں پر وہی ذمہ داری ہوتی ہے جو انبیاء پوری کرتے آئے ہیں، چنانچہ صحیح علماء میں وہی اوصاف ہوتے ہیں جو حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم الصلوۃ و السلام کے قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ علماء کاکام انذار وتبشیر ہوتا ہے، علماء عوام کو تذکیر کراتے اور رہنمائی کرتے ہیں۔پھر سب سے بڑھ کریہ کہ علماء خود نمونہ ہوتے ہیں، جیسے تمام انبیاء اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملی نمونہ بن کر تبلیغ کی۔ جب تک علماء اس روش پر قائم رہے پوری امت مجموعی لحاظ سے صحیح ڈگر پر چلتی رہی، لیکن جیسے جیسے علماء میں خرابی پیدا ہوئی ساتھی ہی امت میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ علماء کی مثال امت کے جسم میں دل کی سی ہے، جیسا کے حدیث میں ہے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔ باالکل یہی معاملہ علماء کا ہے جب علماء ٹھیک ہوتے ہیں پوری امت ٹھیک ہوتی ہے جب علماء خراب ہوتے ہیں پوری امت خراب ہوجاتی ہے۔ 
آج کے اس مضمون ایک واقعہ کی روشنی میں اس بات کو ملاحظہ فرمائیں کہ علماء کی خرابی کا اثر حکمرانوں پر کیسے پڑتا ہے اور اس دل کی خرابی سے کتنی بڑی خرابی وجود میں آتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے سمر قند وترکستان سے کیسے خواجہ باقی بااللہ کو ہندوستان بھیج کر اصلاح کی کوششوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔
منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے ۔موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں ۔ اور اس کے دربارمیں رہے ہیں ۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا ۔ اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا ۔ اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکھے تھے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کی دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا۔ اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا ۔شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع ہونے لگے ۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی ۔ اس مقصد کے لئے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا ، ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع علماء کی تعداد ایک سو سے بھی اوپر تک پہنچ گء تھی ۔ بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے ۔ بس یہیں سے وہ حالات پیداہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا ۔
ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا ۔ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے ۔اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں مبتلا ہوتا ۔ اسی طرح بادشاہ کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو ۔
علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بیہودگی ظاہر ہوئی ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی کی اور تردید میں لگ گیا ۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں ، آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا ۔علماء کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا ۔ اس کو سخت گراں گزرا اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نا معقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں ۔ اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں ۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کے ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا ۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا ۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی ، یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ۔
درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے ۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا ۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے " ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا جو لاہور میں تھا ۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا ،حتی کے سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنہیں مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا "۔شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انہیں اختیار تھا ۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا ، مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش شروع ہوئی ۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے ۔ ایک نے دوسرے کے بابت لکھا کہ چونکہ انہیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز نا جائز ہے ۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمہارے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ اس قسم کی لا یعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا ۔
شہنشاہ اکبر ابتدامیں نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی ۔ علماء کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے ۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا ۔
ملا بدایونی لکھتے ہیں :
اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجھتا تھا ۔جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا ۔اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا ۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابوالفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں : کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی ، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔(اسباق تاریخ از مولانا عبدالقادر بدایوانی)۔
چنانچہ ابوالفضل اور فیضی جیسے لوگوں کے کہنے پر ہی ایک نئے دین’’دین الٰہی یا دین اکبری‘‘ کوبنایا گیا جس نے ہندوستان میں اسلام کی بنیادوں کو ہلاکررکھ دیا اور پھر علمائے حق جن میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سرفہرست ہیں کی کوششوں سے اس گمراہی کو مٹایا گیا۔
اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علماء کی آپس کی لڑائیوں،ضد،ہٹ دھرمی نے کتنا بڑا فتنہ کھڑا کیا۔

Sunday, November 6, 2016

موجودہ مزاج کے ساتھ علمائے کرام کو حکومت نہیں مل سکتی

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
اصل حکمران اور بادشاہ اللہ رب العزت کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ پوری کائنات اور سارے جہانوں کا بادشاہ ہے۔ اللہ غفورالرحیم، ستار العیوب،غفار الذنوب................ ہے۔ جبکہ ہم لوگوں کو توبہ کرنے کے بعد بھی ساری عمر معاف نہ کرنے والے ہیں۔
حکمرانی کرنے کے لئے مخلوق کی دنیوی زندگی سے متعلق خدائی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس اور پرتُو ہونا ضروری ہے، خاص طور پر مخلوقات کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہے وہ یا اس کی معمولی سی جھلک کا کسی حکمران میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ پچھلے ڈیڑھ دو سو سال سے جو مغلوبیت کا دور گزررہا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مخلوقات پر حکمرانی کرنے کی صلاحیت سے بحیثیت مجموعی ہم عاری رہے ہیں، انفرادی طور پر تو بڑے بڑے اللہ والے گزرے ہیں جو بلا شبہ خدائی صفات کا عکس تھے لیکن عمومی لحاظ سے جو مزاج رہا ہے وہ ایسا ہر گز نہیں تھا جو اللہ کی مخلوق پر حکمرانی کرنے والے کسی حکمران کا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات ویسے ہی کسی کے حوالے نہیں کردیتا۔جب مسلمانوں میں یہ صلاحیت موجود تھی تو حکمرانی ان کے ہاتھ میں تھی، پھر آہستہ آہستہ وہ صلاحیت ختم ہوئی تو اللہ نے حکومت بھی چھین لی۔ انگریز اور مغربی اقوام جیسی کیسی بھی کیوں نہ ہوں انہیں حکمرانی کرنے کا فن آتا ہے اور یہ صلاحیت ان کے پاس ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمران اور ہمیں ان کی رعایا بنایا ہوا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانے کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے جس میں ایک بات یہ بھی :”وعلم آدم الاسماءکلہا“ اس علم سے مراد صرف وہ علم نہیں جو عام طور پر درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے۔
ہمارا عمومی مزاج مسلک پرستی میں اتنا ڈوبا ہوا تھا اور اب بھی ہے کہ کسی دوسرے مسلک والے کے لئے زندہ رہنے کا حق ہم دینے کو تیار نہیں چہ جائے کہ وہ صفات الٰہی کہ اُس ذات کے منکر اور ملحد بھی دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال اور مزے کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہ ذات ڈھیل پر ڈھیل دیتی جارہی ہے۔اگر کوئی مسلک پرست حکمران بن جائے تو لوگوں کا جینا مشکل ہو جائے گا، شاید اسی نااہلیت کی وجہ سے اللہ کی مشیت نہیں ہے کہ ہمیں حکمرانی ملے۔
(نوٹ: مسلک پرستی سے مراد یہ نہیں کہ آدمی کا کوئی مسلک نہ ہوہرمسلمان کا وہی مسلک ہونا چاہیے جو صحابہ کرام اور اکابرین امت کا رہا ہے، بلکہ مسلک پرستی سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کے لئے گنجائش نہ نکالنا اور یہ سوچنا کہ میرا بس چلے تو سب کو ختم کردوں اور عملی زندگی میں ایسا ہی رویہ اختیار کرنا کہ واقعتا وہ شخص سب کو فنا کرنے کے درپے ہو۔)
تاریخ اسلام میں اس کی ایک مثال ملتی ہے جسے مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے تاریخ دعوت وعزیمت میں بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ جب ایک غالی مسلک پرست شخص حکمران بن گیا تھا، پھر جو فساد فی الارض اس نے مچایا الامان والحفیظ۔دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کا تعارف یونانی فلسفہ سے ہوایہ فلسفہ چند خیالات وقیاسات کا مجموعہ اور الفاظ کا ایک طلسم تھا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات،کلام الٰہی، رویت باری، مسئلہ عدل، تقدیر،جبرواختیار کے متعلق ایسی ایسی بحثیں اور مسائل پیدا ہوگئے جو نہ دینی حیثیت سے ضروری تھے اور نہ دنیوی حیثیت سے مفید بلکہ امت کی وحدت اور مسلمانوں کی قوت عمل کے لئے مضرتھے۔چنانچہ نئے نئے مسلک وجود میں آئے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب مامون کے دورحکومت میں اسی طرح کے ایک مسلک کا پرجوش داعی قاضی ابن ابی داود سلطنت عباسیہ کا چیف جسٹس بن گیاجس کے نتیجے میں مسلک ومذہبِ اعتزال کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوگئی۔
خود مامون بھی اس مسلک کا داعی اور مبلغ تھاچنانچہ اس کے دربار میں ایسے ہی مسلک پرستوں کا ہروقت ہجوم رہتا تھا۔عقیدہ خلق قرآن اس وقت معتزلہ کا شعار اور کفر وایمان کا معیار بن گیا تھا اور محدثین اس مسئلہ میں معتزلہ کے حریف تھے جس کی قیادت امام احمد بن حنبل کررہے تھے۔چنانچہ مامون نے سارے کام چھوڑ کر اپنے مسلک کو زبردستی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش شروع کردی اور تمام حکومتی ذمہ داران کو ہدایت جاری کی کہ وہ لوگوں خصوصا علمائے کرام کا امتحان لیں جو اس مسلک کو اختیار نہیں کرتا اسے معزول کردیا جائے۔اور سب کے لئے یہی عقیدہ اختیار کرنا ضروری قرار دے دیا جائے۔پھر سات بڑے محدثین جو اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے ان کو طلب کیا، ان سے مناظرے ہوئے کچھ کے قتل کرنے کا حکم جاری کیا اور کچھ کو قید میں ڈال دیا۔اس ساری صورتحال میں ہزاروں لوگوں نے حکومت کے شر سے بچنے کے لئے یہ عقیدہ اختیار کرلیاعلماءکی بڑی تعداد بھی پسپائی اختیار کرگئی لیکن امام احمدبن حنبل ڈٹے رہے۔ امام صاحب کو بڑی بڑی بیڑیاں ڈالی ہوتی تھیں، مختلف لوگوں سے مناظرے کروائے جاتے تھے۔ کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی اور وہ بھی اس انداز سے کہ ایک جلاد صرف دو کوڑے مارتا تھا تیسرا کوڑا مارنے کے لئے نیا جلاد بلایا جاتا تھا تاکہ کوڑے کی شدت میں کمی نہ آئے۔امام احمد بن حنبل 28مہینے تک قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے، امام احمد بن حنبل کی بے نظیرثابت قدمی اور استقامت سے یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور مسلمان اس دینی خطرے سے محفوظ ہوگئے۔
اس سارے جھگڑے میں تقریبا ایک صدی بیت گئی اور مسلمان آپس میں ہی لڑتے رہے۔جب کوئی شخص اتنا متشدد ہو او ر پھر حکمران بھی بن جائے تو ایسے ہی فساد پھوٹتا ہے ۔ آج ہماری بھی ایسی ہی حالت ہے چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں بیسیوں مسلک وجود میں آچکے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔ ہرمسلک کے اندر ایک دوسرا مسلک پیدا ہوچکا ہے، ایک ہی مسلک والا اپنے ہی مسلک میں معمولی اختلاف پر دوسری رائے رکھنے والے کو گمراہ،کافراور جہنمی قرار دے رہا ہے۔آپ خود ہی سوچیں ایسے لوگ اگر حکمران بن جائیں تو اللہ کی زمین پر کیا گل کھلائیں گے؟ یہ ایسا جھگڑا کھڑا کردیں گے جس میں لاکھوں انسان قتل ہوجائیں گے۔یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں نہیںجو برداشت کا مادہ بالکل نہیں رکھتے، ہم پر حکومت کرنے والے(زرداری،نواز شریف وغیرہ) جیسے کیسے بھی ہیںکم از کم ان کے اندر اتنی برداشت تو ہے کہ وہ اپنے مسلک کو اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں۔اگر وہ ایک مسلک کی طرف داری شروع کردیں یا مامون کی طرح ساری انتظامیہ کو حکم جاری کردیں کہ لوگوں کو فلاں مسلک پر کاربند کردیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنا بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔حکمرانی کے لئے بلاامتیاز مخلوق کی محبت اور مخلوق کی فکر بنیادی وصف ہے، چنانچہ یہی وصف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں بھی نظر آتا ہے اور وہ فرماتے ہیں:اگر(مدینہ سے سینکڑوں میل دور) دریائے نیل کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا مرگیا تو عمر سے پوچھ ہوگی۔ جس کو کتے کی اتنی فکر ہے اسے انسانوں کی کتنی فکر ہوگی۔ اللہ کی طرف سے حکمرانی بھی ایسے ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنہیں انسانوں کی فلاح وبہبود کی فکر ہو۔انسانی فلاح وبہبود کا دنیوی پہلوہمارے دینی اداروں کا موضوع ہی نہیں رہا لہٰذا اللہ کی نظر میں ہمارا دینی طبقہ دنیوی حکمرانی کا مستحق بھی نہیں رہا۔چونکہ ہمارے دینی اداروں کا موضوع صرف اخروی فلاح رہ گیا ہے اس لئے ان اداروں سے صرف امام مسجد،مدرس،اور روحانی معالج ہی پیدا ہوسکتے ہیںکوئی حکمران نہیں پیدا ہوسکتا۔حکمرانی اور نیابت کے لئے علم الاسماءاور تعلیم الاسماءکے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کے اس وصف اور رویے کا حامل ہونا بھی ضروری ہے جو انہوں نے اپنے اپنے قاتلین اور دشمنوں کے ساتھ اختیار کیا تھا، چہ جائے کہ ہمارا رویہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ۔

Saturday, October 8, 2016

اتنی وضاحت کافی نہیں

مولانا الیاس گھمن کے معاملے میں اب تک تمام فریقوں کی اپنی اپنی وضاحتیں آچکی ہیں۔
چنانچہ خاتون کی طرف سے ان کے بیٹے کا خط، مولانا الیاس گھمن صاحب کی طرف سے ایک ویڈیو بیان، مفتی ریحان کی وضاحت سبوخ سید کی طرف سے اور خود سبوخ سید نے بھی اپنی وضاحتین پیش کردی ہیں۔ کل مفتی ریحان کی طرف سے ایک اور مضمون بھی آچکا ہے جس میں پہلے مضمون کے الزامات کے علاوہ مزید دو تین نئے انکشافات یا الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
البتہ اس سارے معاملے میں وہ  علمائے کرام جن کا ذکر مولانا الیاس گھمن کی جماعت چھوڑنے کی لسٹ میں آیاہے، یا وہ علماء جن کا ذکر خاتون کے خط لکھنے یا استفتاء کے حوالے سے آیا ہے وہ سب پراسرار طور پر باالکل خاموش ہیں۔ یہ خاموشی مولانا الیاس گھمن کے معاملے کو مشکوک بنا رہی ہے، کیونکہ علماء یا مدارس کے خلاف جب بھی کوئی بات ہوتی ہے سارے علماء فورا میدان میں کود پڑتے ہیں جبکہ اس معاملے میں اتنی بدنامی،اتنے الزامات کے جن کے تصور سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، کوئی مسلمان تو دور کی بات کوئی انسان بھی شاید ایسا تصور نہیں کرسکتا۔ خصوصا مفتی ریحان کے دوسرے مضمون میں جو نیا الزام لگایا ہے جس میں عمرہ کی ادائیگی پر بھیجنے کا ذکر ہے، اس بات کو دیکھ کر انسانیت شرماجاتی ہے۔
ابھی تک صورتحال کے مطابق کم از کم اتنی بات تو کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ الزامات کسی تیسرے کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی سابقہ اہلیہ ہی کی طرف سے لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح ان کی اہلیہ کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہوچکی ہے کہ یہ خط میں نے نہیں پھیلایا بلکہ کسی دارالافتاء کے مفتی نے پھیلایا ہے۔ اس بات کا جھوٹا ہونامجھے ان تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا، اور مجھے ان تصاویر میں دو ایسے شواہد ملے جن سے مجھے کنفرم ہوگیا کہ ان خطوط کی تصاویر خود ان کی اہلیہ نےاپنے  موبائل سے لی ہیں۔(ان شواہد کا ذکر میں یہاں ضروری نہیں سمجھتا)۔ خطوط کی تصاویر خود ہی لے کر پھیلانے کے لئے کسی کو فراہم کرنابھی اسی بات کی دلیل ہے کہ سابقہ اہلیہ ہی الزامات لگارہی ہےکوئی اور یہ الزامات نہیں لگا رہا۔ وہ الگ بات ہے کہ مولانا کے مخالفین بھی اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے معاملے کی خوب ایڈورٹائزنگ کررہے ہیں۔
اب اس معاملے کے دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں۔ چار پانچ دن تک سوشل میڈیا پر الزامات لگتے رہے لیکن مولانا کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا البتہ ان کے محبین اپنے طور پر معاملے کو ہینڈل کرتے رہے، گالیاں دیتے رہے، ۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ مقلدغیرمقلد کا مسئلہ ہے۔ کبھی کہاجاتا حیات ممات کا مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ بالاخر کئی دن کے بعد جب دباو شدید سے شدید تر ہونے لگا تو مولانا کی طرف سے ایک پروگرام کی چار پانچ ہیوی کیمرے لگا کر ایک ویڈیو ریکارڈ کی گئی جس میں مولانا نے کسی بھی الزام کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا البتہ اس معاملے کو ایکسپوز کرنے والی ویب سائٹس کے بارے میں کہا کہ ان کو گوگل کی طرف سے ہر کلک پر ڈالر اور مجھے نیکیاں مل رہی ہیں۔مولانا نے ان الزامات کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی اس خاتون کا نام تک لیا ، بلکہ کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے جو گزرجائے گا۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ الزامات درست ہیں اب مجھے میڈیا ٹرائل کے ذریعے سزا مل رہی ہے اور میں اس سزا کو سہہ رہا ہوں جو آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔
ہمارے خیال میں مولانا کو مختصرا یہ وضاحت بھی کردینی چاہیے  کہ آیا وہ خاتون ان کی بیوی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو جدائی یا طلاق کی وجہ کیا بنی؟ کوئی تو وجہ ہوگی، بیوی نافرمان ہوگی،بدچلن ہوگی جس کی وجہ سے طلاق تک نوبت پہنچی۔ گوگل کے ڈالر یا نیکیاں ملنا یہ کوئی وضاحت نہیں۔اور نہ ہی یہ وضاحت ہے کہ ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، جومرضی کرنا ہے کرلو۔
اس معاملے کی سنگینی اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پورا پاکستان اپنے علماء سمیت خاموش ہے، جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ معاملہ دو تین سال سے اندر ہی اندر علماء کے زیرتبصرہ رہ چکا ہے، لہٰذا اب انہیں کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو بھی یہ صورتحال نہ صرف مولانا کے لئے بلکہ تمام مدارس اور علماء کے لئے  اچھی نہیں، علماء کی خاموشی ان الزامات کو درست ثابت کررہی ہے۔
میرے خیال میں اس معاملے میں حکومتی اداروں سمیت علمائے کرام کو بیچ میں فوری طور پر آنا چاہیے۔کب تک میاں بیوی کے جھگڑے کی وجہ سے لاکھوں علماء اور طلباء گلیوں میں سرچھپائے اور سر جھکائے پھرتے رہیں گے۔ جب سے یہ معاملہ گرم ہے علماء اور طلباء کو بدکماش لوگ آوازیں کستے اور طعنے دیتے نظر آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس وقت علماء کی قیادت کرنے والا کوئی رہنماء نہیں جو اس معاملے کو فوری طور پر حل کرکے اس کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردے۔

Thursday, October 6, 2016

مفتی ریحان: مستقبل کی دنیا میں۔

مفتی ریحان مستقبل کی دنیا میں
یہ 2041 کی ایک صبح ہے۔ ملک کی سرکاری زبان اردو ہوچکی ہے۔
قومی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو ادب  کی کلاس شروع ہے۔ پروفیسرمختارسوہانی سٹوڈنٹ کا ہوم ورک چیکک کررہے ہیں۔
 ہوم ورک چیک کرنے کے بعد اردو ادب کے استعاروں پرلیکچر ہونا ہے، جس کا اعلان پروفیسر صاحب کل ہی کرچکے تھے۔
 کلاس کا ماحول یہ ہے کہ جس دن جس موضوع پر بات ہونی ہوتی ہے اس دن پوری کلاس میں پورا ماحول ہی اس طرح بنا دیا جاتا ہے۔
 لہٰذا آج آپس کی گفتگو میں بھی استعاروں کا استعمال ہوگا، کسی کو ڈانٹ پڑے گی تو وہ بھی استعارے کی لاٹھی کے ساتھ۔
 ایک سٹوڈنٹ نے ہوم ورک بالکل بھی نہیں کیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے غصے میں کہا: ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟
 سٹوڈنٹ نے کہا: سرجی! دراصل کل جب میں گھر پہنچا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
 سٹوڈنٹ نے پوری ایک سٹوری سنا دی، لیکن وہ بھول گیا کہ یہ 2041ء ہے، سٹوڈنٹ سکول پہنچایا نہیں، گھرپہنچا یا نہیں، ہوم ورک کیا یا کھیلتا ہی رہا۔ پل پل کی بات بذریعہ ڈیوائس استاد اور والدین کے درمیان شئیر ہورہی ہے۔کہاں کہاں گیا ساری لوکیشنز سیو ہورہی ہیں۔
چنانچہ پروفیسر صاحب نے کہا:
مفتی ریحان مت بنو سیدھی سیدھی بات بتاو۔
 پھراسی سے آگے اس دن کا لیکچر شروع ہوگیا اور پروفیسر صاحب نے بتاناشروع کیا کہ مفتی ریحان بطور استعارہ اردو میں کب اور کیوں شامل ہوا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ:
 اس استعارے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، یہی کوئی بیس پچیس سال پہلے اکتوبر 2016 کے دن تھے۔
اقتصادی #راہداری پرکام تیزی سے جاری تھا، چین کے سفارت کار  نے اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب میں پریسس کانفرنس بھی کردی تھی۔آل پارٹی کانفرنس شیدا ٹلی کو دعوت دیے بغیر ہوچکی تھی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی شروعع ہوچکا تھا،بابا عمران خان مرحوم نے بائیکاٹ بھی کردیا تھا۔کراچی میں ایم کیوایم کھڈ لائن لگ چکی تھی، عمران خان مرحوم نے محرم کے بعد کی تاریخ دی ہوئی تھی، پرویز مشرف امریکا میں ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کے باوجود بیوی کے ساتھ ٹھمکے لگا رہا تھا۔لال حویلی کو اس وقت آثار قدیمہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔مری روڈ کے اوپر جو پل ہے اس پر لال رنگ کی بسیں چلاکرتی تھیں۔جمعیت علمائے اسلام کےموجودہ سربراہ مولانا اسد محمود کے والد اس وقت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔اس وقت کشمیر ہندووں کے قبضے میں تھااور کنٹرول لائن پر ہلکی پھلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ بول ٹی وی پر پابندی تھی، اس کے صحافی بیروزگار تھے، کئی ایسے تھے جنہوں نے جیب خرچے کے لئے ویب سائٹس بھی بنوائی ہوئی تھیں، ان دنوں ایک بیروزگار صحافی نے کافی پرانے افسوس ناک کو واقعے کو پالش پولش کرکےاسٹوری لکھی اور بے غیرتی یہ کی کہ فرضی نام مفتی ریحان کے نام سے شائع کردی۔ ملحدین، سیکولڑ اور لبڑل خوشی کے شادیانے بجارہے تھے۔
تو پیارے بچو! یہ مفتی ریحان کا #استعارہ اس وقت سے اردو ادب کا حصہ ہے جو فرضی نام پر بے غیرتی کرنے کے لئے مستعمل ہے۔
#نکتہ  
Syed Abdulwahhab Sherazi

Tuesday, October 4, 2016

کیا حقیقت کیا فسانہ

یہ معاملہ انتہائی سنگین اور گھمبیر صورتحال کی طرف جارہا ہے۔ اگرایک طرف معروف ومشہور شخصیت ہے تو دوسری طرف پورا خاندان ہی پوری دنیا کا مشہور ومعروف حسنی سید خاندان ہے۔ مفتی زین العابدین رحمہ اللہ جن کا نام بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس رحمہ اللہ کے بعد پاکستان سے بیرون پوری دنیا میں تبلیغ کی محنت کو زندہ کرنے والے بانی کے طور پر مشہور ہے۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں باون(52) حج کیے۔ یہ بات لکھنا اور منہ سے کہنا آسان ہے ورنہ جو ایک بار حج کرلے ساری زندگی حاجی صاب کہلاتا ہے۔ مفتی صاحب کے یہ سارے حج کے سفر دراصل تبلیغی محنت کو زندہ کرنے اور پوری دنیا سے آئے ہوئے حاجیوں کے مکہ میں تبلیغی جوڑ کے سلسلے میں ہوتے تھے چنانچہ اس طرح انہوں نے پوری دنیا میں پچاس ساٹھ سال محنت کرکے تبلیغ کی محنت کو زندہ کیا۔ پھر جس خاتون کا معاملہ ہے وہ ان کی واقعتا چہیتی اور لائق بیٹی ہیں، بلکہ فیصل آباد میں تبلیغ کی محنت سے جڑی خواتین کی امیر بھی ہیں۔ ہندوستان کے تبلیغی بزرگان سمیت حاجی عبدالوہاب صاحب جب بھی فیصل آباد آتے اپنی اس بچی کے گھر بھی ضروری آتے تھے۔
یہ معاملہ تقریبا تین سال پرانا ہے ،اس معاملے کا مجھے ایک ہفتہ قبل ایک پوسٹ سے پتا چلا، جس میں مولانا الیاس گھمن صاحب کو برا بھلا کہا گیا تھا۔چنانچہ غیرت ایمانی کا تقاضا سمجھتے ہوئے میں نے پوسٹ لکھنے والے سے میسج میں بحث شروع کردی۔ چونکہ اس شخص کا تعلق میری معلومات کے مطابق جماعت اسلامی سے تھا تو جماعت اسلامی کیذمہ داران کو بھی شکایت کی کہ آپ کی جماعت کا بندہ علماء4 کے خلاف اس طرح پروپیگنڈہ کررہا ہے اسے منع کریں۔ چنانچہ ان صاحب نے مجھے میسج میں کچھ خطوط، استفتاء4 اور اس کے جواب میں مفتی زرولی خان صاحب کا فتوی۔ ہندوستان کے مشہور عالم مولانا ابوبکر غازی پوری کا خط اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا جواب۔ اور وفاق کے میگزین کااشتہار بھیج دیا۔ ان صاحب کو جواب دینے کے لئے اب میرے پاس کچھ نہیں تھا۔چنانچہ اب اس معاملے کی تحقیق کے لئے فریقین سے رابطہ کرنے کا ارادہ کیا۔
سب سے پہلے میں نے الیاس گھمن صاحب کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا یہ بات مجھ سے پوچھنے کی نہیں۔ میں نے کہا اس کا مطلب ہے میں اسے سچ سمجھوں تو تب انہوں نے کہا کہ بھیا یہ پروپیگنڈا ہے۔اس کے بعد میں نے دوسرے فریق سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، چونکہ مفتی صاحب کی بیٹی سے میری وائف کا پرانا تعلق تھا(ہمارا اور ان کا خاندان ایک ہی یعنی سید ہے)البتہ کافی عرصہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا، آخری بار رابطہ الیاس گھمن صاحب کی شادی کی مبارک باد دینے کے لئے ہوا تھا۔اس لئے تین چار گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے بعدوائف کا بذریعہ فون رابطہ ہوگیا۔ چنانچہ سب سے پہلے فیس بک پر گردش کرتے خط کے بارے پوچھا تو مفتی صاحب رحمہ اللہ کی بیٹی نے اس خط کی تصدیق کی کہ وہ میرا ہی خط ہے اور میں نے ہی یہ خط مفتی زرولی خان صاحب کو فتویٰ پوچھنے کے لئے بھیجا تھا۔اور اسی طرح کے خطوط کراچی، لاہور ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، اکوڑ خٹک بھی بھیجے گئے تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم یہ زر ولی صاحب والا فتویٰ اتنے عرصے بعد کس نے فیس بک پر دے دیا، میں اگر چاہتی تو دو سال پہلے ہی میڈیا کو بلا کر رسوا کردیتی لیکن میں نے تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا ہوا ہے،اللہ خود انتقام لے گا۔ خواتین کی اس تفصیلی گفتگو کو میں نے خود سنا۔ اس گفتگو میں انہوں نے ایک اور بات بھی بتائی کہ میرے یتیم بچوں کا مکان بھی بیچ کر مدرسے کی تعمیر میں لگوا دیا تھا اب میں کرائے کے مکان میں رہتی ہوں۔
بہرحال اس کے دو دن بعد یعنی کل مفتی ریحان کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔ چونکہ کئی باتیں مجھے خود اس خاتون کے ذریعے معلوم ہوچکی تھیں اس لئے جب اس مضمون کو پڑھا تو آدھے سے زیادہ باتیں وہی تھیں جو خاتون نے بتائی تھیں البتہ کچھ باتیں نئی تھیں، مثلا دو لڑکوں والا معاملہ۔ اسی طرح گھریلو ملازمہ والا معاملہ۔ چنانچہ آج پھر دوبارہ مفتی ریحان کے بارے تحقیق شروع کی تو خاتون کا کہنا تھا میں اسے نہیں جانتی کون ہے۔اور نہ ہی لڑکوں والے معاملے کی تصدیق یا تردید کی۔
لیکن میراخیال اور وجدان یہ کہتا ہے کہ یہ مفتی ریحان فرضی نام ہے اصل میں یہ مضمون جیونیوز کے سابق رپورٹر سبوح سید جو آج کل غالبا بول ٹی وی میں ہیں ان کا لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے موصوف غامدی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور ایک جید عالم دین کا بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اس مضمون میں موصوف نے چند باتیں اصل خط والی لکھ کر ساتھ مرچ مصالحہ اپنی طرف سے لگا دیا ہے۔ آج سے تقریبا چار سال قبل کی بات ہے ایک تقریب جس میں، میں بھی شریک تھا سبوح سید نے اس وقت تقریر کرتے ہوئے الیاس گھمن کو امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا خاص ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریمنڈڈیوس کی ڈائری سے الیاس گھمن کا نمبر ایجنسیوں کو ملا ہے۔ چنانچہ سبوح سید کو الیاس گھمن یا دیگر علمائے کرام سے خصوصی نفرت ہے چنانچہ اس قسم کے چٹکلے وہ اپنے مضامین میں اکثر چھوڑٹے رہتے ہیں۔بہرحال مضمون میں خط سے زیادہ اپنی طرف سے اضافہ بھی کیا گیا ہے۔مضمون میں مردان کی جس خاتون کا ذکر کیا گیا ہے مفتی صاحب کی بیٹی نے اس کی بھی تصدیق کی اور بتایا کہ پٹھانوں نے قتل کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا ہم بولی نہیں گولی کی زبان سمجھتے ہیں۔، البتہ معافی والی بات صرف مضمون میں ہی لکھی ہوئی ہے۔چونکہ یہ معاملہ دو سال پرانا ہے اس لئے اس دوران علماء کے اندر ہی اندر کئی حالات وواقعات پیش آئے، بے شمار ایسے علماء جو مولانا الیاس گھمن کی جماعت کے تھے انہیں چھوڑ گئے۔وہ جید اور ممتاز علماء کرام جو الیاس گھمن صاحب کی جماعت کے سرکردہ رکن تھے اور اب دو تین سال کے دوران ایک ایک کرکے گھمن صاحب کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں یہ ہیں:
مولانا منیر احمد منور۔مولانا انور اوکاڑوی۔علامہ عبدالغفار ذھبی۔مولانا محمود عالم صفدر ۔مولانا عبدالشکور حقانی۔مولانا عبداللہ عابد ۔مولانا شفیق الرحمان۔مولانا محمد رضوان عزیز۔مولانا مقصود احمد ۔مولانا محمد عرفان بھیروی۔مولانا محمد بلال جھنگوی۔مولانا عبداللہ معتصم۔مولانا عبدالغنی طارق۔مولانا امداد اللہ انور۔قاری محمد رفیق صاحب جدہ۔قاری محمد اسامہ رفیق جدہ۔ڈاکٹر محمد الیاس فیصل مدینہ منورہ ۔مولانا محمد ابو بکر اوکاڑوی۔مولانا شاھد طوفانی۔مولانا انصر باجوہ۔مولانا محمد بلال منڈی بہاؤالدین۔شیخ سجاد الحسن الحجانی مردان۔
یہ تمام حضرات ان کے جماعت کے تھے اور معاون بھی تھے ان سب حضرات نے گھمن صاحب سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ان کے ہر قسم کے قول و فعل سے اعلان برا?ت کر چکے ہیں۔اس لسٹ میں چند نہایت ہی نامور شخصیات ہیں جنہیں ہر آدمی جانتا بھی نہیں۔اس کے علاوہ مولانا سلیم اللہ خان اور وفاق المدارس کا اعلان برات تو وفاق کے میگزین میں آپ نے دیکھ لیا ہوگا۔
اب جہاں تک اس معاملے کی حقیقت کا ذکر ہے تو خاتون کی طرف سے تو مکمل خاموشی ہے جیسا کہ انہوں نے فون پر کہا بھی کہ میں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا ہوا ہے اللہ خود انتقام لے گا میں تو دو سال سے خاموش ہوں، بس اپنے رب سے اس معاملے میں رابطہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف احناف میڈیا سروس کے لوگ پوری طرح گالم گلوچ کی تیروں اور برچھوں سمیت مختلف پوسٹوں پر کمنٹ کررہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں یہ عورت کئی مردوں سے دوستی رکھتی تھی اور کبھی کہتے ہیں اس نے چالیس لاکھ روپے مانگے تھے جس سے اختلاف پیدا ہوا۔ اور کبھی کہتے ہیں اس واقعہ کی کوئی حقیقت نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا یہ مماتیوں کا پروپیگنڈا ہے۔
ہمارے لئے اس میں یہ ہے کہ سنی سنائی باتوں پر کان نہ دھریں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ایک متاثرہ فریق سے براہ راست خود معلوم کی گئی ہے۔ اب آگے کا معاملہ وفاق المدارس اور اکابرین کے حل کرنے کا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ علماء کی بدنامی ہورہی ہے اسے دبا دینا چاہیے۔ بھائی دبانے سے بدنامی ختم نہیں ہوتی۔ آج سے دیڑھ سو سال پہلے سپیکر کی حرمت پر جو فتویٰ دیا گیا تھا وہ آج تک سیکولر اور لبرل لوگ علماء کو طعنے دے رہے ہیں کہ تم تو وہ ہو جنہوں نے سپیکر کو حرام قرار دیا تھا۔ حالانکہ ایک صدی سے بھی پرانا واقعہ ہے، اسی طرح یہ واقعہ بھی اگر اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الزام دینے کے لئے باقی رہے گا۔ اکابرین دونوں فریقوں کا موقف سننے کے بعد مجرم کا تعین کریں۔ وہ کوڑے تو نہیں لگا سکتے لیکن تعین کرکے بتا تو سکتے ہیں کہ فلاں مجرم ہے اس کا علماء سے کوئی تعلق نہیں۔ جرائم معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر جرم کی سزا مل جائے تو دھبے دھل جاتے ہیں ورنہ ہمیشہ یاد باقی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی شیطان کے شر سے حفاظت فرمائے۔

Saturday, July 30, 2016

کارو کاری یا طور طورہ

(سید عبدالوہاب شیرازی)
ہرسال دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں ہزاروں عورتوں کو ان ہی کے عزیز و اقارب کی جانب سے خاندان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ قاتلوں کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی شناخت خاندان کے نام و شہرت سے جڑی ہے۔چنانچہ جب بھی خاندان کو بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے، رشتے دار قاتل بن جاتے ہیں۔ وہ قتل ہی کو صورت حال کا واحد حل تصور کرتے ہیں۔ یہ رسم پاکستان،بھارت سمیت عرب ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح غیر مسلم ممالک، یورپی ممالک اور امریکا میں بھی ہر سال ہزاروں عورتوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ صرف امریکا میں ہرسال تین ہزار عورتیں گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کے چکر میں قتل ہوجاتی ہیں۔پاکستان کے چاروں صوبوں یہ رسم پائی جاتی ہے۔ یہاں کے قبائل کے خیال میں اس طرح کا قتل نہ صرف جائز بلکہ اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔
سیاہ کاری ،کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے۔مذکورہ نام ایک دوسرے کے مترادف ہیں جو مختلف علاقوں میں بولی جانیوالی زبانوں کے مطابق بنائے گئے ہیں۔بلوچستان میں اسے ’’سیاہ کاری‘‘ کہا جاتاہے جس کا معنی بدکاری ،گنہگار ہے۔ سندھ میں اسے ’’کاروکاری‘‘ کہا جاتا ہے کاروکامطلب سیاہ مرد اور کاری کا مطلب سیاہ عورت ہے۔ پنجاب میں’’ کالا کالی‘‘ اور خیبرپختون خواہ میں ’’طور طورہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ کالے رنگ کے مفہوم کی حامل یہ اصطلاحات زناکاری اوراس کے مرتکب ٹھہرائے گئے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔سیاہ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر نکا ح کے بغیر جنسی تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق رکھنے والی عورت کو سیاہ یا سیاہ کار کہتے ہیں۔اور ایسے مجرم کو قتل کرنے کے عمل’’ کو قتلِ غیرت ‘‘ اور انگریزی میں ’’Honour Killings‘‘کہتے ہیں۔کاروکاری اور قتل غیرت میں معمولی سا فرق بھی ہے۔ وہ یہ کہ کاروکاری میں قبیلے یا خاندان کے بڑے جمع ہوکر ایک جرگے کی صورت میں قتل کا فیصلہ سناتے ہیں اور پھر قتل کیا جاتا ہے۔ جبکہ قتل غیرت میں خاندان کا کوئی فرد از خود غیرت میں آکر بغیر کسی جرگے کے قتل کردیتا ہے۔ 
یہاں یہ نکتہ بتانا بھی نہایت ضروری ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا اور اس کے صحافی قتل کے فریق قبائلیوں،ودیڑوں،اور اس رسم کو اپنی ہزاروں سال پرانی تہذیب کہنے والوں کو اپنے پروگرام میں مدعو نہیں کرتے بلکہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے فورا اپنے پروگرام میں کسی ایسے مولوی کو بلا لیا جاتا ہے، جس بیچارے کو شاید کاروکاری کا معنی بھی نہ آتا ہو۔ سوچنے کی بات ہے قتل بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں قبائلی جرگے کے حکم پر ہوا اور میڈیا کے کرائم رپورٹر تفتیش راولپنڈی کے کسی محلے کے امام مسجد سے کررہے ہوتے ہیں۔ بات تو تب بنے کہ یہ رپورٹ اور اینکر ذرا بلوچستان کے اس قبیلے میں جاکر ان سے پوچھیں کہ قتل کیوں کیا؟تمہارے پاس قتل کا کیا جواز ہے؟پھر پتا چلے کہ اینکر میں کتنا دم خم ہے۔ ساری بھڑاس بیچارے بیوقوف مولوی پر نکال لی جاتی ہے جو ٹی وی پر آنے کے شوق میں ایسے پروگراموں میں پہنچ جاتا ہے۔
اس رسم کا غلط استعمال بھی بہت عام ہے۔ لوگ اپنے کسی دشمن کو تنہا پا کر مار دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی خاندان کی کسی عورت کو جو بڑھیا یا بچی بھی ہو سکتی ہے، کو مار کر دشمن کی لاش کے نزدیک ڈال دیتے ہیں اور بیان دیتے تھے کہ انہیں غلط کام کرتے دیکھا گیا تھا اس لیے غیرت میں آ کران دونوں کو مار دیا گیا۔ عورتوں کے قتل کے جتنے واقعات ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر قتل، قتلِ غیرت ہی ہوکبھی خاندانی دشمنی،تقسیم میراث وغیرہ دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں موجود مغرب کی پروردہ ’’این جی اوز‘‘ ہر قتل کو قتل غیرت قرار دینے پر اصرار کرتی ہیں، اور پھر اس سانحہ کو خوب بیچا جاتا اور اس کی آڑ میں مغرب سے فنڈ وصول کیے جاتے ہیں۔پھر ہمارے معاشرے میں جتنے قتل ہوتے ہیں ان کا اگر موازنہ کیا جائے تو مردوں کے قتل کے مقابلے میں عورتوں کا قتل نصف سے بھی کم ہے۔مرد بھی آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے قتل کو قتل غیرت شمار نہیں کیا جاتا، چونکہ مردوں کے قتل پر فنڈ نہیں ملتے اس لئے مردوں کے قتل کو کوئی اور رُخ دے دیا جاتا ہے۔ مثلا مردوں کی اچھی خاصی تعداد اس لئے قتل ہوتی ہے کہ انہوں نے کسی عورت یا لڑکی کو چھڑا تھا اور پھر عورت کے رشتہ دار نے غیرت میں آکر اس چھیڑنے والے لڑکے کو قتل کردیا۔ایسے قتل آئے روز ہوتے رہتے ہیں، خصوصا قبائلی علاقوں میں تو 80فیصد مرد ہی غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں لیکن این جی اوز انہیں قتل غیرت نہیں شمار کرتیں۔ایسے کتنے ہی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں کہ قتل ہونے والا مرد کسی خاندانی یا ذاتی دشمنی میں قتل کیا گیا لیکن اصل بات پر پردہ ڈالنے کے لئے قاتل نے اسی لمحے اپنی بیوہ بہن جو بھائی کے گھر میں رہتی تھی کو قتل کرکے اس کی لاش مقتول مرد کی لاش کے ساتھ پھینک دی۔
ابھی ایک ماہ قبل مانسہرہ میں میرے گاوں کے ساتھ والے ایک گاوں میں شادی کے تین چار دن بعد شوہر اور اس کی والدہ نے نئی نویلی دلہن کو صرف چار پانچ ہزار روپے کے چکر میں رات کے وقت گلا دبا کر قتل کیا اور پھر اس کی لاش قریب فصلوں میں پھینک کر پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ دیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ یہاں اپنے آشنا کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔لیکن گرفتاری کے فورا بعد شوہر نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ میں نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت جامع فرمان احادیث میں موجود ہے:جیسا کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی پر زنا کا الزام اس وقت ثابت ہوتا ہے جب تک چار ایسے گواہ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے زنا ہوتے دیکھا گواہی نہ دے دیں۔چنانچہ اس اسلامی حکم کے تناظر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یارسول اللہ اگر ہم اپنی بیوی سے کسی کو زنا کرتے دیکھیں تو کیا ایسے موقع پر ہم گواہ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوں؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تعجب کرتے ہو سعد کی غیرت پر، مگر میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔یعنی جس اللہ نے یہ قانون بنایا ہے وہ زیادہ غیرت مند ہے لہٰذا اب گواہی کے بغیر کسی پر زنا کو ثابت کردینا اپنے آپ کو اللہ سے زیادہ غیرت مند بنانے کے مترادف ہے۔ غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جذبات آکر انسانی جان ضائع کردے۔
غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لئے چند ضروری اقدامات کرلیے جائیں تو یہ قبیح رسم ختم ہوسکتی ہے۔ 
(۱) اولاد کے ولی اپنی اولاد پر ہمیشہ نظر رکھیں کیونکہ قتل تو ایک لمحے میں اچانک ہوجاتا ہے لیکن قتل کا سبب یعنی زنا تو اچانک نہیں ہوتا اس کے پیچھے طویل دوستیاں آشنایاں،بے حجابی،مخلوط ماحول یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، جب ان چیزوں کا سدد باب نہیں کیا جاتا تو پھر نتیجہ قتل کی صورت میں نکلتا ہے۔
(۲) پاکستان کے قوانین میں بھی کئی سقم پائے جاتے ہیں جو اس قبیح رسم کے ختم ہونے میں رکاوٹ ہیں، مثلا ایسا قتل ، قتلِ عمد نہیں سمجھا جاتا بلکہ قتلِ خطا شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے قتل کا مقدمہ خاندان ہی کے کسی فرد کی مدعیت میں درج کیا جاتا ہے اور پھر وہی مدعی(مثلا باپ) مقتول (مثلا بیٹی)کا وارث ہونے کے ناطے قاتل(مثلا بیٹے) کو معاف کردیتا ہے۔ اگر ایسا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے تو معافی کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے جو اس رسم کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔
(۳)کاروکاری کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے قبائلی معاشرے میںآج 2016 میں بھی عورت کو اپنی ملکیت اور جائیداد سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس کے خلاف شعور کا اجاگر کیا جائے۔
(۴) یہ شعور بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون کو نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کوئی شخص خود قانون کو نافذ نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں مذکورہ بالا حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے۔
(۵)میڈیا پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے، ایسے کئی واقعات کا ذمہ دار میڈیا بھی، میڈیا پر دکھائے جانے والے پروگرام، فحاشی کو عام کرنے میں میڈیا کو کھلی چھوٹ بھی ایسے واقعات میں اضافے کا سبب ہے۔ حالیہ رونما ہونے والے قندیل بلوچ کے واقعہ میں میڈیا کا بھی بہت بڑا کردار ہے، قندیل بلوچ پچھلے دس سال سے اس کردار میں موجود تھی اور اس کے گھر والے اس کی کمائی کھا رہے تھے، لیکن اچانک میڈیا اس کے بھائیوں تک پہنچا، پھر اس کے دو عدد خاوند برآمد کرلیے، اس کے بچے بھی برآمد ہوگئے اور پھر قندیل قتل بھی ہوگئی۔
(۶) اسلامی تعلیمات، اور اسلامی عائلی قوانین کو درست حالت میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی پارلیمنٹ سے منظوری لے کر نافذ کیا جائے ۔
(۷) سب باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ کسی بھی چیز کا موجد اور خالق اس چیز کو استعمال کرنے کی ہدایات والا کتابچہ جو ساتھ بھیجتا ہے اگر اس کے مطابق اس چیز کو استعمال کیا جائے تو وہ چیز بھی ٹھیک رہتی ہے اور دوسروں کو فائدہ بھی دیتی ہے۔ باالکل اسی طرح اس کائنات اور انسانوں کے خالق نے بھی ایک کتاب قرآن کی شکل بھی بھیجی ہے اگر اس کے قانون اور اصولوں کے مطابق ہم معاشرے کو ڈیل کریں گے تو ساری برائیاں ختم ہوجائیں گی۔

karo kari ya tor tora ya wanni

Sunday, July 24, 2016

ڈینگی اور قوم سبا

آج ایک اخبار میں بڑی سرخی لگی ہوئی تھی کہ’’ ڈینگی سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘‘۔ اس خبر کو پڑھ کر مجھے ایک قرآنی واقعہ یاد آیا جو پیش خدمت ہے۔
22ویں پارے میں قوم سباء کے نام سے ایک سورہ مبارکہ ہے جس میں اس قوم پر اللہ کے احسانات اور پھر ناشکری کے نتیجے میں آنے والے عذاب کا ذکر ہے۔اخباری خبر میں نظر آنے والا نعرہ قوم سباء نے بھی لگایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو بہت بڑے ڈیم کی شکل میں پانی کا وافر ذخیرہ دیا تھا، اس ڈیم کے اوپر نیچے تین دروازے تھے۔ اوپر والا دروازہ جب کھولا جاتا تو تین چار مہینے تک پانی بہتا رہتا پھر جب پانی کی سطح کم ہو جاتی تو یہ لوگ نیچے والا سپل وے(دروازہ) کھول دیتے پھر اس سے تین چار مہینے پانی بہتا رہتا ۔ پھر اس سے نیچے والا کھول دیتے، اور پھر مون سون کا موسم آجاتا اور بارشوں سے پورے سال کا پانی ذخیرہ ہوجاتا۔
اس تربیلا ڈیم کی طرز کے عظیم الشان ڈیم سے آگے دس بارہ نہریں نکلتی تھیں جو آگے کی تمام آبادیوں کو سیراب کرتی، باغ اور فصلیں خوب ہوتی تھیں۔ روایات کے مطابق اتنا پھل ہوتا تھا کہ کوئی شخص خالی ٹوکری سر پر رکھے باغ سے گزرتا تو خود بخود گرنے والے پھلوں سے وہ ٹوکری بھر جاتی۔ اس قوم پر اللہ نے ایک احسان یہ بھی کیا تھا کہ ان راستے آج کل کے راستوں کی طرح تھے، یعنی ہر آٹھ دس میل کے بعد کوئی نہ کوئی آبادی اور بازار آجاتا تھا چنانچہ ان لوگوں کے قافلوں کو کسی قسم کی پریشانی کا مظاہر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اس قوم کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی پیغمبروں کو بھیجا، وہ دعوت وتبلیغ کرتے رہے لیکن مجموعی لحاظ سے قوم ہدایت سے دور ہی رہی، اس قوم کی تاریخ اور مقدس کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب اس ڈیم کی بنیادوں میں چوہے پڑ جائیں گے، وہ چوہے اس کی بنیادوں کو کمزور کریں گے اور پھر ایک دن اچانک یہ بند ٹوٹ جائے گا جس کے نتیجے میں ساری قوم ڈوب کر ہلاک ہوجائے گی۔ یہ بات اس قوم کے بڑوں کو معلوم تھی، لیکن ان کا ذہن چونکہ سیکولر تھا اس لئے انہوں نے بجائے اس کے کہ اللہ کی طرف رجوع کرتے، توبہ استغفار کرتے، نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات پر عمل کرتے۔ الٹا اللہ کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ جب ناشکری اور نافرمانی حد سے بڑھ گئی، رسولوں اور ان کی تعلیمات کا استہزاء ہونے لگا تو اس ڈیم کی بنیادوں میں چوہے پیدا ہوگئے، جب قوم نے چوہوں کو دیکھا تو لوگوں کے دو گروہ بن گئے، ایک اقلیتی گروہ تھا جس کا کہنا تھا وہ عذاب ہم پر آنے والا ہے جس کا ہماری کتابوں اور پیغمبروں کی تعلیمات میں ذکر ہے اس لئے ہمیں توبہ استغفار کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جبکہ دوسرا گروہ جو اکثریت میں تھا کہنے لگا ، چوہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوء ان چوہوں کا خاتمہ کردیں گے۔ چنانچہ اس وقت کے لحاظ سے جو دستیاب ٹیکنالوجی چوہوں کو ختم کرنے کے لئے تھی اسے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت چوہوں کو ختم کرنے کے لئے بلیوں کا استعمال کیا جاتا تھا، چنانچہ سینکڑون بلیاں جمع کرکے ڈیم کے آس پاس اور اس کی بنیادوں میں چھوڑ دی گئیں۔ اقلیتی گروہ نے قوم کے سیانوں اور لیڈروں کو بہتیرا سمجھایا کہ بھائی اللہ کے عذاب کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ توبہ استغفار کے دو کلمات ہمیں اس عذاب سے بچا سکتے ہیں۔لیکن اس اکثریتی روشن خیال طبقے نے اقلیتی گروہ کی باتوں کو دقیانوسی قرار دے کر بنیاد پرست، جاہل،اجڈ اور تاریک خیال ہونے کے طعنے دیتے ہوئے ان کی نصیحت کو رد کردیا۔چنانچہ وہ اقلیتی گروہ وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ جو اس وقت غیر آباد تھا یہاں آکر آباد ہوگیا اور پھریہی مدینہ کی آبادی کا سبب بنا۔ جبکہ دوسرا گروہ بلیاں چھوڑ کر اللہ کے عذاب کا مقابلہ کرنے میں لگا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے چوہوں کو اتنا بڑا کردیا کہ وہ الٹا بلیوں کو کھانے لگے، اور بلیاں ان سے جان بچا کر بھاگ جاتیں تھیں، چوہے حکم الٰہی کے مطابق ڈیم کی بنیادوں کو کمزور کرتے رہے، اور پھر ایک دن جب ڈیم بھرا ہوا تھا،اچانک اس کا بند ٹوٹا اور وہ تباہی پھیلی جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔لوگ ہلاک اور تباہ وبرباد ہوگئے، فصلیں ختم ہوگئیں، باغات اجڑ گئے، زمین بنجر ہوگئی۔ عمدہ قسم کے باغات کی جگہ جھاو اور بیری کے چند ایک درخت اگ گئے اور ہرطرف ویرانی ہی ویرانی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم ناشکری کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
آج کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا اس امت کو بھی ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس امت کو اس طرح مجموعی لحاظ سے ساری کی ساری ہلاک نہیں کرے گا جس طرح پہلی قومیں ہلاک ہوا کرتی تھیں، لیکن چھوٹے چھوٹے عذاب اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگتے ہیں۔ آج بھی نہایت ہی اقلیتی تعداد میں ناصحین امت اس امت کے رہنماوں اور لیڈروں کو یہی سبق دے رہے ہیں کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، توبہ استغفار کیا جائے، فحاشی، بے حیائی،ارتداد،الحاد اور دین بیزاری کو روکا جائے لیکن نا م لبرل اور نہاد روشن خیال طبقے کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، اوروہ قوم کو اللہ کا مقابلہ کرنے کا سبق پڑھا رہے ہیں، ایسے نعرے لگائے جارہے ہیں کہ ہم نے عذاب سے ڈرنا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا ہے، یہ نعرے باقاعدہ بڑی پلاننگ اور سوچ بچار سے ملحدین تیار کرتے اور پھر عام کیے جاتے ہیں، ان نعروں کی آڑ میں نہ صرف دین بیزاری بلکہ اللہ بیزاری کا بیج خفیہ طریقے سے قوم کے ذہنوں میں بویا جارہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دین دار طبقات، مصلحین امت اور خیرخواہان قوم لوگوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کریں۔

Sunday, July 10, 2016

10 جولائی 2007

آ ج صبح آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل زور دار دھماکوں سے اچانک میری آنکھ کھلی، پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوتا اور میرے کمرے کی کھڑکی لرزجاتی۔ایسی گھبراہٹ جو عام طور پر کسی اچانک واقع یا زلزلے سے ہوتی ہے اور آدمی فورا ادھر ادھر بھاگتا ہے ایسی گھبراہٹ تو نہیں ہوئی۔ لیکن کلیجہ منہ کو آرہا تھا اور میں خلاف معمول اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا، یہ دھماکے ایک تسلسلے کے ساتھ تقریبا ہمارے گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہورہے تھے۔ میں گھر کے باہر سروس روڈ کے کنارے لگے درختوں کے نیچے فٹ پاتھ پر کافی آگے تک ٹہلتا اور پھر دوسری طرف ٹہلتا ٹہلتا کافی دور تک چلا جاتا۔
یہ باالکل ایسا ہی منظر تھا جیسے کسی پھانسی کے مجرم کو گھر والوں سےآدھی رات کو آخری ملاقات کروائی جاتی ہے اور پھر وہ جیل کے باہر فجرکا انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ اپنے پیارے کی لاش وصول کرلیں۔ جی باالکل میں بھی اسی کیفیت میں فجر اور پھر فجر کے بعد والی صورتحال کے انتظار میں ٹہلتا رہا۔
دھماکے مارٹر گولوں اور راکٹ لانچر کے لگ رہے تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک آدھ دھماکہ اتنا زور دار ہوتا کہ زمین بھی کانپ جاتی،شاید ٹینک یا توپ کا گولا فائر ہوتا ہوگا۔اب دھماکوں کے ساتھ ساتھ گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی شروع ہوچکی تھی، کچھ دیر کے بعد ہمارے محلے کی الفلاح مسجدکے موذن نے فجر کی آذان دی،اس کی آواز بھی دھیمی تھی، غم اور دکھ کی کپکپاہٹ سے بھری آذان ختم ہوئی تو میں سیدھا مسجد گیا،وضو کیا، موذن صاحب دوست تھے ہم نے خلاف معمول ایک دوسرے سے صرف نظریں ہی ملائیں بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
نماز کے بعد تازہ ترین صورتحال کو جاننا پہلی ترجیح تھی، میرے پاس ٹی وی،انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولت نہیں تھی۔ چنانچہ میں انتظار کرنے لگا کہ سروس موڑ پر واقع پٹھانوں کا چائے والا چھپر ہوٹل کھلے اور وہاں ایک کپ چائے کے بدلے ٹی وی پر خبریں سن لوں۔ چنانچہ ایک بار میں وہاں گیا لیکن ابھی ہوٹل بند تھا، کچھ دیر سڑک پرٹہلتا رہا، اب دھماکوں کی آوازیں کم پڑھ گئیں تھیں لیکن گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھی بھی آرہی تھی۔ اتنے میں ہوٹل والے بھی آگئے، جنہوں نے خلاف معمول صفائی کرنے پہلے ہی ٹی وی آن کردیا، اور چند لمحوں میں ہوٹل کھچاکھچ بھر گیا۔
جب ٹی وی آن ہوا تو نیوزکاسٹر نے کہا ہم غازی عبدالرشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چنانچہ اچانک ان سے رابطہ ہوا اور انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں نیوزکاسٹر کےسوالوں کے جواب دینے کے بجائے اپنی چند وصیتیں کیں، پھر جامعہ حفصہ کی اندر کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہرطرف لاشوں کے دھیڑ لگے ہوئے ہیں، میری والدہ کو ابھی ابھی ایک گولی ہے اور میں ان کے سرہانے بیٹھا ان کو رخصت کررہا ہوں۔ یہ میرے آخری الفاظ ہیں شاید پھر میں آپ کو انٹرویو نہ دے سکوں کیونکہ ہمیں ہر صورت قتل کردیاجائے گا۔عبدالرشید غازی کی ٹیلی فون کال پر بھی مسلسل گولیوں کی آواز آرہی تھی اور پھر اچانک ٹیلی فون لائن کٹ گئی۔
پورے ہوٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا کسی کو غم کے مارے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، میں بھی گھر واپس آگیا اور پھر چند گھنٹوں کے بعد اطلاع ملی کہ مسجد فتح ہوگئی ہے اور غازی عبدالرشید اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ تو سات جولائی 2007 کا واقع ہے۔ اس سے ٹھیک ایک سال قبل جولائی کا پہلا ہفتہ تھا، میں کسی روزنامے میں ملازمت کے حصول کے لئے گیا تو انہوں نے مجھے کام کے لئے فائنل کرنے کے بعد کہا آپ کسی معروف شخصیت سے اپنے حق میں ایک تصدیق نامہ بنا کر لائیں تو آپ کو رکھ لیں گے۔ چنانچہ میں اس سلسلے میں ایک معرف صحافی جو میرے دوست تھے ان کے پاس گیا، انہوں نے اپنی طرف سے ایک چھوٹا سا خط غازی عبدالرشید کے نام لکھا کہ ان کو تصدیق نامہ بنا کردیں۔ وہ خط لے کر میں غازی عبدالرشید کے پاس گیا، جب میں جامعہ حفصہ میں داخل ہوا تو پوچھتے پوچھتے غازی صاحب کے کمرے تک پہنچا اس وقت ان کے پاس کسی یونیورسٹی کے چند سٹوڈنٹ بیٹھے ہوئے تھے، میں سلام کرنے کے بعد ایک طرف بیٹھ گیا، کافی دیر کے بعد جب وہ سٹوڈنٹ چلے گئے تو میں نے کہا کہ فلاں روزنامے میں کام کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا ہے کہ کسی مشہور شخصیت سے تصدیق نامہ بناکرلائیں، لہٰذا میں آپ کے پاس حاضرہوا ہوں کہ آپ مجھے تصدیق نامہ بنا کردیں۔ پہلے تو غازی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا میں تو مشہور شخصیت نہیں ہوں آپ کسی صحافت کی لائن کے بندے کے پاس چلے جائیں تو میں نے کہا میں فلاں صحافی کے پاس گیا تو انہوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ غازی صاحب نے میرا بہت اکرام کیا، ساری صورتحال معلوم کی اور پھر مجھے کہا کہ تصدیق نامے میں یہ لکھنا ہوتا ہے کہ  میں اس شخص کو جانتا ہوں یہ بہت ایمان دار اور اچھا انسان ہے،میں آپ کے بارے میں بدگمانی نہیں کرتا  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں، میں آپ کو جانتا نہیں، کیا جب میں ایسی بات لکھوں گا تو یہ جھوٹ نہیں ہوجائے گا؟
میں خاموش رہا ، تو انہوں نے پھر مجھے کہا آپ بتائیں نا کیا یہ جھوٹ نہیں ہوگا؟ میں نے کہا جی ! ایسا ہی ہے یہ جھوٹی تحریر ہوگی۔ تو فرمایا۔ میرے دوست میری جھوٹ بھولنے کی عادت نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں مجھے جھوٹ لکھنا چاہیے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر غازی صاحب بار بار مجھ سے سوری اور معذرت کرتے رہے کہ ناراض نہیں ہونا ، مجھے بڑے احترام سے کھڑے ہوکرملے اور رخصت کیا۔اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ٹھیک ایک سال بعد اسی جگہ اتنا عظیم سانحہ ہوگا تو شاید میں کچھ دیر اور بیٹھ کر ان سے کچھ اور باتیں بھی کرتا، لیکن اللہ کا ایک نظام ہے آنے والے لمحے کا کسی کو کچھ معلوم نہیں کیا ہوگا

Monday, July 4, 2016

ر سالت سے تکلیف کن لوگوں کوہے۔؟۔

فرقہ واریت کیا چیز ہے۔؟
اس امت میں جتنے فتنے اٹھے ہیں وہ سارے انکار سنت ہی کی بدولت اٹھے ہیں، چنانچہ پہلافتنہ مسیلمہ کذاب کا اٹھا، جن کا نعرہ تھا: کفاناہدایۃ القرآن۔ یعنی ہمارے لیے قرآن کی ہدایت کافی ہے۔اس خوبصورت نعرے میں ساری انکار سنت موجود ہے۔ اس کے بعد خوارج کا فتنہ کھڑا ہوا، ان کا نعرہ تھا: حسبنا کتاب اللہ، ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اسی طرح منافقین کا بھی یہی مسئلہ تھا، وہ کہتے تھے ہم اللہ کو مانتے ہیں، آخرت پر یقین ہے، ہم محمد کی شخصی اطاعت کیوں کریں، لیکن سورہ نساء میں سارا زور ہی اسی بات پر دیا گیا ہے کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی اطاعت نہ کروتمہارا ایمان معتبر ہے ہی نہیں۔یہ انکار رسالت کا فتنہ ہر دور میں رہا، یہاں تک کہ ابھی قریب کے زمانے میں غلام احمد پرویز آیاجس نے قرآن سے رسالت کا تعلق توڑنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہا، البتہ اس کا اثر کافی لوگوں پر ہوا ہے۔چنانچہ اب موجودہ زمانے میں اس شیطانی کام کا جھنڈا جاوید احمد غامدی نے تھاما ہوا ہے، اور دجالی میڈیا اور ہمارے بعض چینلز جیونیوز،دنیا نیوز وغیرہ اس نئے فرقے کو خوب پروموٹ کررہے ہیں۔
اس ضمن میں ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید کے ساتھ سنت کا تعلق کیا ہے؟ قرآن نے جس چیز کو بینہ قرار دیا ہے یعنی وہ روشن چیز جو حق وباطل میں تمیز کرے وہ اللہ کے رسول ہیں جو صحیفے پڑھتے ہوئے آئے۔ رسول کو پہلے ذکر کیا جبکہ کتابوں کو بعد میں ذکرکیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب کوہِ صفا پر کھڑے ہوکر اعلان کیا تھا، اس وقت تو یہ پورا قرآن نہ تو موجود تھا اور نہ ہی آپ نے قرآن کی طرف دعوت دی بلکہ وہاں دلیل کے طور پر اپنی ذات کو پیش کیا اور کہا میں نے تمہارے درمیان چالیس سال گزارے ہیں، میں تمہیں کہوں پہاڑی کے پیچھے لشکر ہے تو مانو گے یا نہیں۔ پھر ہماری زیادہ تر فقہ قرآن میں بعد میں آئی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پہلے سے عمل کروانا شروع کردیا تھا کیونکہ وماینطق عن الہوا ان ہوا الا وحی یوحی، آپ جو بھی بولتے تھے وہ سارا وحی ہی ہوتا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: کان خلقہ القرآن۔ یعنی حضور کی سیرت واخلاق قرآن ہی تھی۔ اوراللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے، جس کا مطلب ہے آپ کی پوری سیرت اور سنت کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ ہی نے اٹھایا ہوا ہے اور آپ کی ساری سیرت اور سنت بالکل محفوظ ہے۔
اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ فرقہ واریت کیا چیزہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تہتر فرقے بنیں گے، بہتر جہنمی ہوں گے صرف ایک جنتی ہوگا، پوچھا گیا وہ کون سا ہوگا؟ تو فرمایا: ماانا علیہ واصحابی۔ یعنی وہ فرقہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہتر فرقے کون سے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں مختلف مسالک جو بنے ہوئے ہیں وہ فرقے ہیں؟ یا ہمارے ہاں مختلف مذہبی تنظیمیں جیسے تنظیم اسلامی، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت،جمعیت علمائے اسلام وغیرہ یہ فرقے ہیں؟ اس حوالے سے اچھی طرح جان لیجئے ان میں سے کوئی بھی فرقہ نہیں ہے۔ یہ سب ماانا علیہ واصحابی پر ہی ہیں۔ فرقہ واریت کی جامع مانع تعریف یہ ہے کہ جس چیز کی دین میں گنجائش ہی نہ رکھی گئی ہو، یا جہاں دین میں اختلاف کرنے کی گنجائش نہ رکھی گئی ہو وہاں اختلاف کرنا یہ فرقہ واریت ہے۔ مثلا دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی اختلاف کرنے کی گنجائش ہے، اب یہاں جو کہے نماز فرض نہیں یا نمازیں پانچ نہیں تین ہیں تو یہ فرقہ واریت ہے کیونکہ اس بات میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی۔ جبکہ نماز پڑھنی کیسے ہے اس میں اختلاف کی گنجائش ہے لہٰذا اس اختلاف کو فرقہ واریت نہیں کہہ سکتے۔ پھر اسی طرح جہاں اللہ نے اختلاف کی گنجائش چھوڑی ہو وہاں اختلاف کی گنجائش نہ چھوڑنا یہ بھی فرقہ واریت ہے۔مثلا اللہ کے نبی نے ایک مرتبہ حکم دیا کہ جلدی سے فلاں جگہ پہنچو اور عصر کی نماز وہاں پڑھنا، اب راستے میں عصر کا ٹائم نکل رہا تھا تو کچھ صحابہ نے راستے میں ہی نماز پڑھ لی اور کچھ نے کہا نہیں ہم تو وہاں پہنچ کر نماز پڑھیں گے، بعد میں اللہ کے نبی سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا دونوں نے ٹھیک کیا۔ اسی طرح ایک حدیث میں آیا داڑھی لمبی رکھو جبکہ ایک حدیث میں داڑھی کے کچھ حساب کتاب کا ذکر بھی ہے ، اب کوئی شخص کہے کہ کسی نے داڑھی کو قینچی لگائی تو وہ بدعتی ہے تو گویا اس نے اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود نہ چھوڑی تو یہ بھی ایک نوعیت کی فرقہ واریت ہے۔
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا میرے بعد تم بہت اختلاف دیکھو گے، اس وقت تم پر لازم ہے کہ تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ پھر ان خلفاء کی تشریح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے کی ہے کہ حضور کی تین خلافتیں ہیں۔ایک آپ کی سیاسی خلافت ہے، ایک آپ کی علمی خلافت ہے اور ایک آپ کی باطنی خلافت ہے۔ یہاں سیاسی خلافت کے لئے تو ہم جدجہد کررہے ہیں کیونکہ وہ ابھی موجود نہیں ہے البتہ خاص طور پر آپ کی علمی خلافت جس کے لئے ہمارے لئے رہنماء کے طورپر چاروں ائمہ(امام ابوحنیفہ،امام شافعی،امام مالک،امام احمدبن حنبل)ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی خلافت کا حق ادا کیا ہے اس کے ساتھ وابستگی اور اس خلافت کے ساتھ چمٹنے کا حکم ہے۔اس وقت جو طرح طرح کے فتنے کھڑے ہورہے ہیں ان حالات میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس دائرے میں اپنے آپ کو پابند کریں۔جیسا کہ کہا گیا کہ درخت کی جڑوں کے ساتھ چمٹ جاو، تو وہ یہ شجرہ طیبہ ہے جس کے ساتھ چمٹنے کا حکم دیا جارہا ہے۔اگر روشن خیالی کے طوفان سے ہم بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو اس دائرے میں بند کرنا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا اصل فرقہ واریت فتنہ انکار حدیث ہے، اصل فرقہ واریت سیکولرازم ( ہمہ مذہبیت ، لادینیت ) ہے۔چنانچہ ہمارا میڈیا اس فرقہ واریت کو خوب پھیلا رہا ہے اور الزام دینی طبقات پر لگایا جارہا ہے کہ وہ فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں

Monday, June 6, 2016

سیاسی فرقہ واریت

(سید عبدالوہاب شیرازی)
سیاسی فرقہ واریت یہ عنوان شاید آپ کو عجیب سا لگے، ممکن ہے یہ لفظ آپ نے پہلے کبھی سنا بھی نہ ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کی تاریخ نہ صرف بہت پرانی ہے بلکہ یہ عنوان سیاہ ترین تاریخ رکھتا ہے۔ سیاسی تفرقہ باز ہمیشہ اپنے کالے کرتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مذہبی تفرقہ بازی کا واویلا کرتے رہے ہیں۔سیاسی تفرقہ بازی کے مختلف لیول ہیں، ایک انٹرنیشنل سطح کی سیاسی تفرقہ بازی ہے اور ایک ملکی سطح کی تفرقہ بازی۔
جس طرح تمام شعبوں میں سیاست کو تفوق حاصل ہے، باقی دنیا جہان کے شعبے سیاست کے ماتحت ہی ہیں اسی طرح فرقہ واریت میں بھی سیاسی فرقہ واریت کو باقی تمام فرقہ واریتوں پر برتری حاصل ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مذہبی فرقہ واریت کی خفیہ سرپرستی اور قیادت درحقیقت سیاسی لوگ ہی کرتے آئے ہیں، یعنی مذہبی فرقہ واریت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ سیاستدانوں کی پشت پناہی کے بغیر چل سکے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاستدان ایسا کیوں کرتے ہیں، تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے مذہبی لوگوں کو استعمال کرنا صدیوں پرانی بات ہے۔
فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کوئی بھی ہو، چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، لسانی ہو یا علاقائی ہر ایک انتہائی بُری اور بیانک نتائج رکھتی ہے۔لیکن سیاسی تفرقہ بازی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیںکہ مذہبی فرقہ واریت معاشرے کے لئے ناسور ہے۔ جی! یقینا یہ بات بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ سیاسی فرقہ واریت اور تفرقہ بازی صرف معاشرے ہی نہیں بلکہ پوری انسایت کے لئے ناسور ہے۔
اگرملکی سطح کی سیاسی فرقہ واریت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ ایک پاکستانی قوم کو سینکڑوں سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا ایسا دشمن بنا دیا گیا ہے کہ اب سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے عسکری ونگ بھی بنالئے ہیں۔ہمارے ملک میں تین چار بڑے سیاسی فرقے ہیں، باقی چھوٹی چھوٹی فرقیاں تو بے حساب ہیں۔ ان فرقوں کے نمائندے روزانہ شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک مختلف چینلز پر آکر اپنے اپنے فرقے کی مدح سرائی اور مخالف فرقے کی خرابیوں کو بیان کرنا جہاد سمجھتے ہیں۔سیاسی فرقہ بازوں میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی وقت اپنا فرقہ تبدیل کرلیتے ہیں چنانچہ کل کا یزید آج کا حسین بن جاتا ہے۔
مذہبی فرقہ واریت سے جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی درحقیقت سیاسی فرقہ واریت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ خالصتا سیاسی فرقہ واریت نے اس دنیا کو کیا دیا:
٭پچھلے چند سالوں میں صرف کراچی شہر میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں 25ہزار لوگ قتل ہوئے۔ ٭مقبوضہ کشمیر میںسیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ ٭برما میں ہزاروں مسلمانوں کو بدھ متوں نے قتل اور دو لاکھ کو ملک بدر کیا۔ ٭2001سے اب تک امریکا افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔ ٭80ءکی دہائی میں روس نے افغانستان میں15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،50لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے۔ ٭90ءکی دہائی میں امریکا نے عراق پر حملہ کرکے15لاکھ انسانوں کو قتل کیا اور بعد میں سوری کرکے فرشتہ بن گیا۔ ٭1992ءبوسنیا میں ایک لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا،20لاکھ ہجرت کرکے دربدر ہوئے،20ہزار عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1994ءمیں روانڈا (عیسائی ملک) میں صرف اور صرف100دنوں میں 10 لاکھ انسانوں کو قتل اور5لاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ٭1975ءکمبوڈیا میں صرف4سالوں میں20لاکھ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭امریکا نے پچھلے 200سال میں دنیا کے70ملکوں میں1ارب30کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔
1948 سے اب تک اسرائیل 51لاکھ فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ ٭1945ءامریکا نے ایک منٹ میں بم گرا کر80ہزار جاپانیوں کو سیاسی تفرقہ بازی میں قتل کیا۔ ٭1943ءبرطانوی حکمران چرچل نے بنگلہ دیش میں مصنوعی قحط پیدا کرکے 70لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا۔ ٭1942میں اسٹالن نے کریمیا کے اڑھائی لاکھ شہریوں کو صرف30منٹ میں شہر سے نکلنے کا حکم دیا اور پھرزبردستی اٹھا اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ٭پہلی جنگ عظیم میں2کروڑ انسان قتل کیے گئے۔ ٭دوسری جنگ عظیم میں6کروڑ انسان قتل ہوئے۔ ٭ہٹلر نے اپنے دور حکومت میں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭لینن روسی حکمران نے اپنے دور حکومت میں2کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭اسٹالن نے اپنے دور حکومت میں6کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭نپولین(عیسائی لیڈر) نے 50لاکھ انسانوں کوقتل کیا۔ ٭سری لنکا میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر حکومت اور باغیوں کی لڑائی میں ایک لاکھ انسان قتل ہوئے۔ ٭یگوڈا (کمیونسٹ پولیس آفیسر) نے 10لاکھ انسانوں کو تشدد کرکے قتل کیا۔ ٭جنرل لوتھر وون نے لمیبیا میں ایک لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭شاکازولو افریقہ کا حکمران، جس نے 20لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭ماوزے تنگ چین کے کمیونسٹ حکمران نے 5کروڑ انسانوں کو سیاسی بنیادوں پر قتل کیا۔ ٭روس نے اٹھارویں صدی کے آخر میں قفقاز کے15لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا،نقل مکانی کرنے والے اس سے الگ ہیں۔ ٭گیارہویں صدی میں سیاسی فرقہ واریت کے نتیجے میں25000000 اڑھائی کروڑ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ ٭سکندر اعظم (عیسائی حکمران) نے 10لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ ٭چنگیز خان نے ایک گھنٹے میں17لاکھ 48ہزار انسانوں کو قتل کرنے کا ریکارڈ بنایا، کل 4کروڑ انسان قتل کیے۔
یہ ساری تاریخ نہیں بلکہ چند ایک نمونے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی فرقہ واریت کو ختم کرکے پورے ملک کی عوام کو ایک امت بنایا جائے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم قرآن وسنت کی رہنمائی میں اسلام کے درخشندہ اصولوںکے مطابق اپنا سیاسی نظام وضع کریں۔