Search This Blog
Sunday, June 18, 2017
ستر سال بعد وہی دن دبارہ آگیا
Thursday, June 8, 2017
مولانا، مولوی ، ملا
Friday, June 2, 2017
فروٹ بائیکاٹ مہم
پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔ ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔ ایک ٹرک پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو فی ٹرک کمیشن ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے، اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور
حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے –
محمد ابراہیم شہزاد
پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟
ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔
سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔
سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔
اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا
Sunday, May 28, 2017
تراویح کے لئےخلاصہ قرآن کریم

Thursday, May 25, 2017
Wifaq ul Madaris Arabia Result 2017 And Position Holders
wifaq result 2017
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا رزلٹ 2017 دیکھنے کے لئے
یہاں کلک کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء اور طالبات کی لسٹ دیکھنے
کے لئے (یہاں کلک) کریں۔
صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء کی لسٹ دیکھنے
کے لئے (یہاں کلک) کریں۔
صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والی طالبات کی لسٹ دیکھنے
کے لئے (یہاں کلک) کریں۔
Tuesday, May 23, 2017
استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد
Thursday, May 11, 2017
Shab E Barat Ki Haqiqat | Fazil | Islamic Solution | Urdu
غلط فہمیاں۔
عبادت کی رات ہے۔ جس بات کا حکم واضح طور پر قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
عملی لائف میں موجود ہے اس حکم کو چھوڑ کر من گھڑت پیکج تلاش کرنا نری گمراہی اور
ضلالت ہے۔
رات کی عبادت کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں توبہ کو کسی رات کے ساتھ نہیں
باندھا۔۔
سے گزارو اور پھر کسی خاص رات میں حلوے اور کھانے تقسیم کر کے صلوۃ تسبیح پڑھ لو
اور پھر اگلے سال کے لیے حرام خوری اور حرام کاری کی تیاری کر لو۔ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم تو روزانہ ستر سے زائد مرتبہ استغفار کریں، ہر روز یا ہر ہفتے یا
ہر مہینے صلوۃ تسبیح کی خواہش کریں اور ہم اسے کسی رات کے ساتھ خاص کر دیں۔ یاللعجب
#نکتہ
