Search This Blog

Sunday, June 18, 2017

ستر سال بعد وہی دن دبارہ آگیا

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
اس سال (رمضان المبارک 2017) میں ستائیس رمضان المبارک کو وہی دن دبارہ آرہا ہے جو آج سے ستر سال قبل آیا تھا۔ یعنی 14اگست 1947ءکو جب پاکستان معرض وجود میں آیا اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ تھا، اور ستائیس ویں کی رات تھی اور اگلا دن یعنی ستائیسویں کا دن جمعہ کا دن تھا۔ اس سال پھر وہی مہینہ، وہی مبارک رات، وہی مبارک دن دبارہ آرہا ہے۔کیا آپ اس گھڑی کا تصور کرسکتے ہیں جس گھڑی میں یہ ملک بنا تھا۔27رمضان المبارک، لیلة القدر، جمعہ کی رات اور وہ بھی رات کے بارہ بجے؟ کیا ایسے میں ملک بنا کرتے ہیں۔

پاکستان اس خطہ میں وقوع پذیر ہے جس طرف سے نبی اکرم ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آئی تھی(اطیب ریح فی ارض الہند۔ الحاکم مستدرک)۔ اور پھر اس پاکستان کو بنانے میں چھ لاکھ انسان قربان ہوئے، ہزاروں عورتوں کی عزتیں پامال ہوئیں، ہزاروں بچے ذبح ہوگئے، ہزاروں علماءکو سولیوں پر لٹکا دیا گیا، توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، 1857ءکی جنگ آزادی ہوئی، تحریک شہیدین چلی، سید احمد شہیداور شاہ اسماعیل شہید نے ہندوستان سے چل کر بالاکوٹ کے پہاڑوں میں لاشے کٹوا دیے۔تحریک استخلاص وطن چلائی گئی۔تحریک ریشمی رومال چلی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ نے مالٹا کے جزائر میں چار سال تک تنہائی کی جیل کاٹی۔ پھر علامہ اقبال نے تصور پاکستان دیا، اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بہت بڑی تحریک آزادی چلی ، جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، اس نظریے پر یہ تحریک چلی کہ ہمیں ایک الگ وطن چاہیے جہاں ہم اللہ کے دین کو نافذ کرکے اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا: ہمیں پاکستان اس لئے مطلوب ہے کہ عہد حاضر میں اسلام کے اصولِ حریت واخوت ومساوات کا ایک عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔
ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا: اے اللہ ہمیں انگریز اور ہندووں کی دوہری غلامی سے نجات دے، اس لئے کہ ہم پر انگریز کی غلامی کے ساتھ ہندو کی غلامی بھی تھی۔ ہم ہندو کی معاشی غلامی میں مبتلا تھے، ہندو بنیا ایک گاوں میں بیٹھا ہوتا تھا اور وہ سود پر رقمیں دے کر مسلمانوں کی زمینیں ہتھیا لیتا تھا، ہندوستان میں پورا کاروبار، پوری صنعت ہندوں کے ہاتھ میں تھی۔ بہت سے دانشور جب پاکستان کی برکات بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پورے انار کلی بازار میں مسلمانوں کی صرف ایک دکان تھی، جبکہ آبادی میں مسلمان زیادہ تھے۔دوسری غلامی انگریز کی تھی، انگریز عسکری سیاسی اور ریاستی لحاظ سے ہمیں غلام بنائے ہوئے تھے، ہم ہندووں کے سماجی غلام تھے، ہم ہندووں کے رسوم ورواج اور تہوار مناتے تھے، تو ہم نے اللہ تعالیٰ سے ان سے نجات کی دعائیں مانگی تھیں۔چنانچہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور ہمیں ایک آزاد ملک 27رمضان المبارک جمعہ کی رات کو عطاءکیا بلکہ نازل کیا۔پھر کیا ہوا ہم اللہ سے کیے ہوئے سارے وعدے بھول گئے، ہم اپنی دنیا کی زندگی میں مست ہوگئے۔
سورہ توبہ کی آیات 75تا77 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ان میں ایک قسم ان کی ہے جنہوں نے اللہ سے ایک عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے دے گا تو ہم خوب صدقہ اور خیرات کریں گے اور نیک لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا، وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور اللہ سے اعراض کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری پیدا کردی۔
یعنی جب کوئی قوم اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اللہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیتا ہے، آج پاکستانی قوم کے ساتھ یہی کچھ ہوگیا ہے، ساری قوم کے دلوں میں نفاق پڑ چکا ہے۔
ہمارے ہاں دو قسم کے نفاق پیدا ہوچکے ہیں ایک قومی نفاق ہے۔ پہلے ہم ہندووں کے مقابلے میں ایک قوم تھے اور ہم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر تحریک آزادی چلائی تھی، لیکن آج ہم نفاقِ باہمی کا شکار ہو کر قومیتوں میں تقسیم ہوچکے ہیںہم پنجابی، پٹھان، بلوچی او رسندھی بن چکے ہیں۔ دوسرا نفاق کردار کا نفاق ہے یعنی جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت، یہ تینوں چیزیں مجموعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی آج ہر پاکستانی میں موجود ہیں۔ ہمارا لیڈر بھی جھوٹ بولتا، وعدہ خلافی کرتا اورخائن ہے ۔اور ہمارا ریڑھی والا بھی جھوٹ بولتا،وعدہ خلافی کرتا اور خائن ہے۔
سورة السجدة آیت 21 میں ارشاد ہے:
ہم انہیں مزہ چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔
چنانچہ اللہ نے بیس بائیس سال بعد ہم پر عذاب کا کوڑا برسایا اور ملک دو ٹکڑے ہوگیا، لیکن ہم پھر بھی نہ سدھرے اور نافرمانی اور وعدہ خلافی کو جاری رکھا ہوا ہے، اللہ وقتا فوقتا سیلاب، زلزلہ ، بدامنی، مہنگائی کی صورت میں ہم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے کہ ہم واپس پلٹیں اور اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔اگر ہم اسی روش پر چلتے رہے تو پھر ان چھوٹے عذابوں کے بعد بڑا عذاب بھی آئے گا اور ہماری داستان نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سال ستائیس رمضان کو اسی دن جب یہ پاکستان بنا تھا ہم اپنے عہد کو تازہ کریں، سب سے پہلے اس مبارک رات جو لیلة القدر بھی ہوسکتی ہے ہم توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں کہ ستر سال بیت گئے ہم وعدہ پورا نہیں کرسکے اس پر ہمیں معاف فرما۔ اور پھر اگلے ہی دن سے ہم یہ عزم لے کر نکلیں کہ اب ہم اس ملک میں اور پھر ساری دنیا میں اسلام کو نافذ اور قائم کرنے کی جدجہد کریں گے۔ دین کو قائم کرنا اللہ کاکام ہے، ہمارا کام اس کے لئے اپنے صلاحیت اور قابلیت کے حساب سے کوشش کرنا ہے۔ ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ دین قائم ہوا یا نہیں بلکہ ہم سے یہ سوال ہوگا تم نے کوشش کی یا نہیں۔

Thursday, June 8, 2017

مولانا، مولوی ، ملا

( مولانا، مولوی ، ملا وغیرہ کے سلسلے میں مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تحقیق)
مولانا :۔ یہ لقب دو لفظوں سے مرکب ہے ، ایک ’’مولی‘‘ اور دوسرا ضمیر ’’نا‘‘ مولیٰ کے معنی یہاں پر آقا اور سردار کے ہیں، اور ’’نا‘‘ جمع متکلم کی ضمیر ہے ، دونوں کی ترکیب سے ’مولانا‘‘ ہوا، جس کے معنی ہمارے سردار اور آقا کے ہیں ۔
یہ لفظ اس اضافت کی شکل میں عہد صحابہ و تابعین میں علمائے دین اور دوسرے عمائد امت اور امراء کے لئے رائج ہوا، چنانچہ حضرت حسن بصری ؒ متوفی ۱۱۰؁ھ کے تذکرے میں علامہ ابن سعد لکھتے ہیں ۔
ان انس بن مالک سئل عن مسئلۃ فقال علیکم مولانا الحسن ، فقالوا یا ابا حمزۃ نسألک و تقول سلوا مولانا الحسن فقال انا سمعنا و سمع فحفظ و نسینا۔  حضرت انس بن مالک ؓ سے ایک مرتبہ ایک سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ تم لوگ مولانا حسن کے پاس جاو ٔ ، سائلوں نے کہا ابوحمزہ ہم تو آپ سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ مولانا حسن سے پوچھو اس  پر آپ نے فرمایا کہ ہم نے اور انھوں نے علم پڑھا اور سنا مگر انھوں نے یاد رکھا اور ہم بھول گئے ( یہ حضرت انسؓ کی کسر نفسی اور خدا پرستی پر دلیل ہے)
اس میں مولانا کا لفظ خاص طور سے امام حسن بصری کے لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ا ستعمال فرمایا ہے اور سائلوں نے بھی اسے دہرایا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ارباب علم و فضل کے لئے یہ لفظ بولا جانے لگا تھا ، البتہ اصطلاحی طور سے اس کا عام رواج نہیں ہوا تھا ۔
اسی طرح علامہ ابن ندیم نے کتاب الفہرست میں ایک شیعی فقیہ کے تذکرے میں لکھا ہے ۔
الحسن بن محبوب السراد ،وھو الزراد من اصحاب مولانا الرضا ومحمد ابنہ۔  (کتاب الفہرست ص:۲۰۹،طبع مصر) 
حسن بن محبوب سراد جسے زراد کہتے ہیں مولانا رضا اور ان کے صاحبزادے محمد کے شاگردوں میں سے ہے۔
حضرت امام رضا کے لئے مولانا کا یہ لفظ بتا رہا تھا کہ چوتھی صدی ہجری میں ارباب دین و دیانت اور اہل علم و فضل کے لئے یہ لقب جاری تھا ۔ ابن ندیم نے اپنی کتاب ۳۷۷؁ھ میں لکھی ہے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ابتداء میں لفظ مولانا صرف علمائے دین ہی کیلئے خاص نہیں تھا بلکہ خلفاء سلاطین ، امراء وزراء اور دوسرے ارباب خدم و حشم کے لئے عوام اور خواص تعظیم کے لئے مولانا کا لفظ استعمال کرتے تھے ۔
چنانچہ امیر مصر کافوراخشیدی کے تذکرے میں علامہ ابن خلکان نے ابوالفضل بن سحباس کا یہ دعائیہ جملہ نقل کیا ہے ۔ ادام اللہ ایام مولانا ، یعنی مولانا کے اقبال کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رکھے ، اس عبارت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ کافور اخشیدی متوفی ۳۵۶؁ھ کے لئے مولانا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔(تفصیل کے لئے ابن خلکان ج:۲ص:۲ ملاحظہ ہو)
البتہ اب یہ لفظ صرف علمائے دین کے لئے استعمال ہونے لگا ہے بلکہ اب تو عوام کی علوم دین پر جفا کاری کا یہ حال ہے کہ بے لکھے پڑھے لوگوں کوداڑھی کو دیکھ کر مولانا کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں ، اور یہ جہلاء اس پر خوش ہوکر اپنے جہل سے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
مولوی :۔ علمائے دین اور دوسرے ارباب عزت و شرف کے لئے ’’مولوی‘‘کا عظیم الشان لقب غالباً ترکی زبان کالفظ ہے ۔
       صاحب غیاث اللغات نے  لفظ ’’مولوی‘‘ کی تحقیق میں لکھا ہے کہ :
’’مولوی بفتح میم و فتح لام منسوب بمولی ٰکہ بمعنی خداونداست بعد الحاق یای نسبت الفی را رابع بود بواوبدل شد زیراکہ الف مقصورہ درآخر کلمہ سہ حرفی و چہار حرفی بوقت نسبت بواو بدل می شود ( غیاث اللغات ص:۴۷۶)
خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ’’مولیٰ‘‘کی طرف منسوب ہے اور نسبت کے وقت آخر کا لفظ واو سے بدل گیا ہے ۔ گویا ’’مولانا‘‘ کی طرح مولوی کا لفظ بھی ’’مولیٰ‘‘ سے بنایا گیا ہے ، اور مولانا میں جمع متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، اور مولوی میں واحد متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، حالانکہ یہ تحقیق صحیح نہیں ہے اور مولوی کا لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے لفظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر مولوی کا لفظ مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنا ہوتا تو پھر اس پر الف اور لام داخل نہیں ہو سکتا ، حالانکہ عام طور سے ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا پایا جاتا ہے ، مثال کے طور پر علامہ چلپی جیسے علوم اسلامیہ کے محقق کی کتاب ’’کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ‘‘میں دیکھا جائے کہ جگہ جگہ مصنفین کے نام کے ساتھ ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا ہے چنانچہ جلال الدین رومی المولوی اور شیخ اسماعیل الفردی المولوی الف لام کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ (کشف الظنون ج:۱ص:۲۰۹)نیز اس قسم کی بہت سی مثالیں کشف الظنون اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔ پس اگر مولوی کالفظ اضافت کے ساتھ ہوتا تو مولانا کی طرح مولوی پر بھی الف لام داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔
نیز علامہ ابوالفداء صاحبِ حماۃ کو جب سلطان مصر محمد بن قلاؤذون نے حماۃ ( شام) کی سلطنت دی تو ان کو ان القاب سے نوازا ’’ المقام الشریف العالی المولوی السلطانی العمادی الملکی الموئدی ان کے شاہی القاب میں بھی ’’المولوی‘‘ کا لفظ الف لام کے ساتھ موجود ہے۔(تاریخ صلاح صفدی)
مولانا کی طرح مولوی کا لقب بھی ابتدا میں علماء کے لئے خاص نہ تھا ، بلکہ امراء و سلاطین کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جیسا کہ ابھی ابوالفداء صاحبِ حماۃ ۷۳۲؁ھ کے لقب میں معلوم ہوا۔ 
ابتدا میں مولوی کا لقب نہایت عظیم الشان لقب تھا اور آج کی طرح پامال نہیں تھا ۔ اس کی عظمت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ سلطان مصر محمد بن قلاؤذن نے اپنے تمام امراء کو حکم دیا تھا کہ الملک الموئد ابوالفداء کے القاب میں وہ مولوی بھی لکھا کریں مگر خود سلطان مصر جب ابوالفداء کو خط لکھا کرتا تھا تو ’’مولوی‘‘ کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتا تھا کیونکہ اسی نے ابوالفداء کو حماۃ کا سلطان بنایا تھا ۔
اس لفظ مولوی کی عظمت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شیخ جلال الدین رومی صاحب مثنوی جیسے اونچے انسان کو مولوی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا چنانچہ ایک شعر میں ہے :
  مثنوی    مولویٔ    معنوی  ہست قرآں در زبان پہلوی 
مولانا روم خود ایک شعر میں فرماتے ہیں :
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم  تا غلام شمس  تبریزی  نہ  شد
ہمارے اردو کے ایک شاعر نے مولوی کی اہمیت و عظمت کو ایک شعر میں یوں ظاہر کیا ہے۔
     علم مولیٰ ہو جسے ہے مولوی جیسے حضرت مولویٔ معنوی
آٹھویں صدی کے بعد ’’مولوی‘‘ کا لفظ عام طور سے مدرسین حضرات کے لئے استعمال ہونے لگا اورا س کا رواج زیادہ تر علمائے کرام کے یہاں ہوا ،ا ور پھر وہاں سے عجم میں پھیلا حتی کہ بعض علماء مولوی زادہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آج یہی مولوی کا لفظ عوام اور خود علماء کے نزدیک بہت ہی معمولی حیثیت کا رہ گیا ہے ۔ اور کسی عالم کو صرف مولوی کہنا یا لکھنا اس کی شان کم کردینے کے مرادف ہو جاتا ہے اورویسے بھی  ہرکہ ومہ کے لئے ا ستعمال ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭
ملا ۔منلا۔ مولٰی:۔ ملا ، منلا اور مولیٰ کے القاب بھی مولوی کے ساتھ کی پیداوار ہیں اور ان کا استعمال بھی اہل علم کیلئے  ہی علماء روم سے شروع ہوا اور بڑے بڑے فضلائے روزگاراور یکتائے زمانہ ان القاب سے یاد کئے جاتے تھے۔ حضرت شیخ الرحمن جامی ؒ کو ملا اور منلا کہا جاتا تھا ۔ ملا جلال الدین بیضاوی کے محشی منلا عوض وغیرہ اس لقب کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں ، کشف الظنون میں متاخرین کے بڑے بڑے ماہرین فن اور مصنفین کے لئے یہ الفاظ ملتے ہیں ، آخر زمانہ تک یہ الفاظ علمی عظمت اور فنی مہارت کی خبردیا کرتے تھے ، چنانچہ ملا محمود جونپوری ، ملا مسکین ، ملا محب اللہ بہاری، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ، ملا علی قاری جیسے اکابر علم و فضل ان القاب و خطابات کے مستحق قرار پائے ہیں ، انگریزی حکومت میں بھی پہلے سرکاری امتحانات میں ملا فاضل کا امتحان ہوتا تھا اورا سکی سند دی جاتی تھی ۔
)المرسل: ضیاء الحق خیرآبادی ، مدرسہ تحفیظ القرآن ۔سکٹھی ، مبارکپور)

Friday, June 2, 2017

فروٹ بائیکاٹ مہم

پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔  ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔  ایک ٹرک  پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو  فی ٹرک کمیشن  ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔  جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے،  اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان  کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ  زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور

حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے – 


محمد ابراہیم شہزاد

 پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟

ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔

سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔

سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔

اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا

Sunday, May 28, 2017

تراویح کے لئےخلاصہ قرآن کریم

خلاصہ قرآن مجید
قرآنی سورتوں کا نہایت ہی مختصر اور جامع خلاصہ
ریڈیو پاکستان کے صوت القرآن چینل پر سنایا جانے والا مختصر خلاصہ قرآن حکیم
2 Mb

Thursday, May 25, 2017

Wifaq ul Madaris Arabia Result 2017 And Position Holders

wifaq result 2017

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا رزلٹ 2017 دیکھنے کے لئے

یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء اور طالبات کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔

صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء  کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔

صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والی طالبات کی لسٹ دیکھنے

کے لئے (یہاں کلک) کریں۔


Tuesday, May 23, 2017

استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد

(سید عبدالوہاب شیرازی)
استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد
حضورﷺ استقبال رمضان میں تین بار صحابہ سے پوچھتے تھے:
مَاذا یَستَقبِلُکم وَ تَستَقبِلُون؟ قالھا ثلاثا، فقال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ: یا رسول اللہ وحی نزل؟ قالا لا۔ قال: عدو حضر؟ قال لا۔ قال فماذا؟ قال: ان اللہ یغفر فی اول لیلة من شہر رمضانَ لکل اہل ہذہ القبلة۔ واشار بیدہ الیہا (ابن خزیمہ۔ شعب الایمان۔ منذری۔ الترغیب والترہیب)
کون تمہارا استقبال کررہا ہےا ور تم کس کا استقبال کررہے ہو؟۔ یا فرمایا: ایک آنے والا تمہارے سامنے آرہا ہے اور تم اس کا استقبال کروگے۔؟ حضرت عمرضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا کوئی وحی آنے والی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ عرض کیا : کیا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کیا پھر کیا بات ہے؟۔ فرمایا:
عن انس بن مالک: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اذا دخل رجب قال اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان(احمد۔بیہقی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو حضور ﷺ دعا فرماتے: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔

صحابہ کرام کی تیاری
وعن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، انہ قال : کان اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا نظروا الی ھلال شعبان اکبوا علی المصاحف یقرء ونھا ، واخرج المسلمون زکوۃ اموالھم لیتقوی بھا الضعیف والمسکین علی صیام شہر رمضان ، و دعا الولاۃ اھل السجن ، فمن کان علیہ حد اقاموہ علیہ والا خلوا سبیلہ ، وانطلق التجار فقضوا ما علیھم و قبضوا مالھم حتی اذا نظروا الی ھلال رمضان اغتسلوا واعتکفوا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ماہ شعبان کا چاند دیکھتے تو قرآن کو سینہ سے لگائے رہتے اور تلاوت میں مصروف رہتے۔ مسلمان اپنے اموال کی زکوة نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین اس کو حاصل کرکے ماہ رمضان کے روزے رکھنے پر قوت حاصل کریں۔ حکام قیدیوں کو طلب کرتے اور ان میں جو حد شرعی کے مستحق تھے ان پر حد جاری کرتے ورنہ ان کو رہا کردیتے۔ تاجر حضرات اپنے ذمہ جو حقوق ہیں انہیں ادا کردیتے اور جو چیزیں وصول طلب تھیں انہیں حاصل کرلیتے حتی کہ جب رمضان کا چاند دیکھ لیتے تو غسل کرکے اعتکاف کا اہتمام کرتے۔
ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا۔ روزے فرض ہوئے۔ جنگ بدر ہوئی۔ فتح مکہ ہوا۔ شب قدر رکھ دی گئی۔ ہر دن رات کو رحمتوں اور برکتوں سے بھر دیا گیا۔ لہٰذا اس مہینے کے شایان شان اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ رمضان المبارک سے قبل ہی ہم اپنے ظاہر وباطن کو اس کے لئے تیار کرلیں۔ ظاہر وباطن کو پاک کرنے میں سب سے زیادہ مددگار روزہ ہے، اسی لئے حضور ﷺ شعبان میں روزے رکھتے تھے۔

زکوة
زکوة کا تعلق اگرچہ رمضان سے نہیں لیکن رمضان میں لوگ اس لئے ادا کرتے ہیں کہ اول تو انہیں اپنی تاریخ یاد نہیں ہوتی اس لئے لوگ رمضان کو مقرر کردیتے ہیں کہ چلو ہر سال رمضان میں زکوة ادا کریں گے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ رمضان میں نوافل اور فرائض کی ادائیگی کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اس لئے بھی لوگ رمضان میں زکوة ادا کرتے ہیں۔


اقامت دین کی جدجہد کرنے والوں کے لئے زکوة کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ سورہ حج آیت نمبر41 میں اسلامی ریاست کے اصول چہارگانہ بیان فرماتے ہیں:
اَلذین اِن مکنٰہم فی الارضِ اَقامواالصلوة واٰتَوالزکوہ وَامَروا باالمعروف ونہوعن المنکر۔
(اہل حق، اللہ کی مدد ونصرت کے مستحق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں اقتدار عطا کریں تو یہ نظام صلوة قائم کریں۔ زکوة ادا کریں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔
تو جب تک ہمارے پاس ملک کا اقتدار نہیں اس وقت تک ہم اپنے گھر میں تو نظام صلوة وزکوة قائم کریں جہاں بلاشرکت غیرے ہماری مکمل حکومت قائم ہے۔ اگر ہم اپنے گھر میں نظام صلوة نہیں قائم کرسکتے۔ اگر ہم اپنی بیوی سے ہی زکوة نہیں لے سکتے ، اگر ہم اپنے گھر میں امرباالمعروف نہی عن المنکر کا نظام نہیں نافذ کرسکتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد پورے ملک میں کرلیں گے۔؟؟
آج جو عذر ہمارے پاس اس چھوٹی سی حکمرانی میں ہیں یہ عذر بڑی حکمرانی ملنے کے بعد مزید بڑھ جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حکمران کیوں اسلام نافذ نہیں کرتے ؟ ان کے پاس بھی اسی طرح کے عذر ہیں جو ہمارے پاس گھر میں اسلامی ماحول بنانے میں درپیش ہوتے ہیں۔اس لئے اپنے جسم پر نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں اسلام نافذ کریںتاکہ بڑی حکمرانی چلانے کا تجربہ حاصل ہو۔

قرآن
دنیا میں بعض چیزیں بعض سے افضل ہوتی ہیں۔ جس چیز کی بھی نسبت قرآن سے جڑی ہے وہ افضل ترین ہو گئی ہے۔ چنانچہ جو فرشتہ قرآن لے کر آیا وہ سب فرشتوں سے افضل۔ جس رسول پر قرآن آیا وہ رسول سارے رسولوں سے افضل۔ جس مہینے میں قرآن آیا وہ سارے مہینوں سے افضل، جس رات میں قرآن آیا وہ سب راتوں سے افضل۔ جس شہر میں قرآن آیا وہ سب شہروں سے افضل۔ پھر جس بھی انسان کی نسبت قرآن کے ساتھ جڑ گئی، جو قرآن کی تعلیم وتعلم سے جڑا وہ سب انسانوں سے افضل ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ
تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
احادیث میں قرآن اور رمضان کے تعلق اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور قرآن کا دور کرتے تھے۔
دن کا روزہ رات کا قیام
رمضان کی خصوصی عبادات میں سے ایک دن کا روزہ اور رات کا قیام بھی ہے۔چنانچہ اس تعلق اور اس کے فوائد کو ایک حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت والے دن روزہ اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا میں نے اسے کھانے پینے سے روکے رکھا لہٰذا اے میرے رب میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا میں نے اسے رات کو آرام سے روکے رکھا اے میرے رب میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول کرلی جائے گی۔
اسلاف کاتعلق باالقرآن اور رمضان
٭امام مالکؒ رمضان المبارک میں احادیث کا پڑھنا پڑھانا بند کردیتے تھے اور سارا وقت قرآن کی تلاوت میں صرف کرتے۔
٭امام بخاریؒ تراویح کے بعد روزانہ رات کو دس سپارے تلاوت کرتے، دن کی تلاوت اس کے علاوہ ہوتی تھی۔
٭سفیان ثوری ؒرمضان میں تمام نفلی عبادات ترک کرکے صرف تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے۔
٭شیخ الہندؒ پوری رات مختلف حفاظ سے قرآن سنتے رہتے تھے۔ ایک بار گھر والوں نے حافظ سے کہا تم بیماری کا بہانہ کرکے چھٹی کرلو تاکہ حضرت صاحب کو آج آرام کرنے کا موقع ملے۔ حافظ صاحب تراویح کے بعد چھٹی کرکے سو گئے، آدھی رات کو کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ الہندؒ ان کے پاوں دبا رہے ہیں اور فرمایا آپ بیمار ہیں اس لئے آپ کے پاوں دبا رہا ہوں۔
٭شاہ عبدالرحیمؒ ملاقات اور ڈاک بند کردیتے تھے۔ خاص خدام سے بھی صرف چائے کے وقفے کے دوران بات چیت کرتے۔
پلاننگ
کوئی بھی کام بغیر پلاننگ کے نہیں ہوتا۔ جس طرح دنیا کی کامیابی بہترین پلاننگ سے ملتی ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے۔
1۔ رمضان المبارک کے معمولات کا تعین کریں۔
2۔دکان اور کاروبار کا وقت مقرر کریں۔
3۔ رزق کے معاملے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ اور یقین پختہ کریں۔ ایک مہینہ کاروبار سے مکمل یا جزوی چھٹی کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
4۔ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور دینی مشاغل کے لئے وقف کریں۔
5۔ روزے کے ساتھ ساتھ تلاوت اور فہم قرآن کا اہتمام بھی کریں۔
6۔ زیادہ سے زیادہ انفاق کریں۔ حضورﷺ سب سے زیادہ سخی تھے لیکن آپ کی سخاوت رمضان میں مزید بڑھ جاتی تھی۔
غلط فہمی
بعض احباب اور رفقاءانفاق تو خوب کرتے ہیں لیکن اقامت دین کی عملی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتے۔ قرآن حکیم میں اس رویے کی مذمت کی گئی ہے:
سورہ توبہ(18) میں پہلے اللہ تعالیٰ تعمیر مساجد میں حصہ لینے والوں کے اوصاف ارشاد فرماتے ہیں:
اِنما یَعمُرمساجد اللہ مَن اٰمن باللہ والیوم الاٰخرِ واقام الصلوة واٰتی الزکوة ولم یخش الااللہ فعسٰی اولئک اَن یکونوا من المہتدین۔
اللہ کی مسجدں کو تو وہی لوگ اباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
اَجَعَلتُم سِقایة الحآج وعمارة المسجد الحرام کَمَن اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وجٰہَدَ فی سبیل اللہ لا یستون عنداللہ واللہ لایہدی القومَ الظٰلمین۔الذین امنوا وھاجروا وجاہدوا فی سبیل اللہ باموالہم وانسفسہم اعظم درجة عنداللہ واولئک ہم الفائزون۔
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے ( اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
7۔دعاوں کا اہتمام کریں۔ اقامت دین کی جدوجہد، قبولیت اور کامیابی کے لئے دعا کریں۔
8۔ دعوت کا کام بڑھا دیں۔ رمضان المبارک میں لوگوں کے دل دعوت حق کو قبول کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
اعتکاف
اعتکاف اجتماعی عبادت نہیں بلکہ انفرادی اور تعبدی چیز ہے۔ اس میں اللہ سے لو لگائیں۔ فطرتا انسان اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق اور باتیں کرنا چاہتا ہے اس کے لئے وہ رہبانیت کے راستے پر چلتا ہے ۔ اسلام میں اس رہبانیت کی گنجائش نہیں جسے سابقہ اقوام نے اختیار کیا تھا۔ البتہ اعتکاف کے دس دن اس طرح گزارنے کی گنجائش ہے۔
رمضان اور اقامت دین
اسلامی تاریخ کے تین اہم واقعات رمضان میں ہوئے۔
1....٭ قرآن کا نزول رمضان یں ہوا۔ لہٰذا ہم قران کے ساتھ تعلق رمضان میں بڑھا دیں۔
2....٭ حق وباطل کا پہلا معرکہ رمضان میں ہوا۔ یہ واقعہ حق وباطل کے فرق کو کھول کر رکھنے کا واقعہ ہے۔ حق کے علمبردار اللہ کی عطاءکردہ نعمتوں کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں۔ عقل وفہم، علم وتجربہ، تمام تر صلاحیتیں اور مال وجان سب اللہ کے حوالے کردیا۔ عقل تو کہتی ہے کہ تین سو تیرا کا مقابلہ ایک ہزار سے مشکل ہے۔ علم وتجربہ اور مشاہدہ کہتا ہے کہ دو گھوڑوں اور آٹھ تلواروں سے ایک ہزار کا مقابلہ نہیں ہوسکتا، لیکن حق والے یہ تمام باتیں چھوڑ کر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کود پڑتے ہیں۔اس لئے جب تک اس درجے کا یقین پیدا نہیں ہوگا کامیابی تو درکنار اللہ کی مدد ونصرت بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
یہ فضائے بدر کیا ہے؟ فضائے بدر تعداد کا نام نہیں، فضائے بدر اسلحہ اور ہتھیاروں کا نام نہیں، فضائے بدر،اسباب و وسائل کا نام نہیں، بلکہ فضائے بدر اللہ کی ذات پر یقین کا نام ہے، کہ اللہ ہے باقی کچھ بھی نہیں۔
3....٭ تیسرا واقعہ فتح مبین یعنی فتح مکہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ باالاخر حق کے علمبردار سرخروئی حاصل کریں گے۔.... اس واقعہ سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ حق والوں کو جب کامیابی ملتی ہے توہ وہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔

Thursday, May 11, 2017

Shab E Barat Ki Haqiqat | Fazil | Islamic Solution | Urdu

شب برات کی حقیقت، اس رات کے حوالے سے پھیلائے جانے والی
غلط فہمیاں۔
اللہ تعالی نے معافی کو کسی خاص رات میں بند نہیں کیا۔
ہر رات معافی کی رات ہے، ہر رات توبہ کی رات ہے۔ ہر رات
عبادت کی رات ہے۔ جس بات کا حکم واضح طور پر قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
عملی لائف میں موجود ہے اس حکم کو چھوڑ کر من گھڑت پیکج تلاش کرنا نری گمراہی اور
ضلالت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر رات تہجد پڑھتے تھے۔ قرآن
رات کی عبادت کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں توبہ کو کسی رات کے ساتھ نہیں
باندھا۔۔
کیا صحابہ کرام کا یہی تصور تھا کہ سارا سال اپنی مرضی
سے گزارو اور پھر کسی خاص رات میں حلوے اور کھانے تقسیم کر کے صلوۃ تسبیح پڑھ لو
اور پھر اگلے سال کے لیے حرام خوری اور حرام کاری کی تیاری کر لو۔ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم تو روزانہ ستر سے زائد مرتبہ استغفار کریں، ہر روز یا ہر ہفتے یا
ہر مہینے صلوۃ تسبیح کی خواہش کریں اور ہم اسے کسی رات کے ساتھ خاص کر دیں۔ یاللعجب









#نکتہ

Wednesday, May 10, 2017

مشال خان واقعہ پر زبردست تجزیہ

►►======مفتی منیب الرحمن======►►

اب جب کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سانحے کی جذباتی کیفیت میں ٹھیراؤ آگیا ہے، پختونخوا کی پولیس نے تفتیش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، تو اب مناسب ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں پر غیر جذباتی انداز میں گفتگو کی جائے۔ اکثر پرائیویٹ چینلز نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا، ایک تو میں اس دوران اَسفار میں تھا، دوسرا یہ کہ ہمیں پوری بات کرنے کا موقع نہیں ملتا اور سیاق وسباق سے ہٹ کر ہماری بات کا کوئی جملہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا جاتا ہے یا کسی جملے کو اپنے کڑوے کسیلے تبصرے کا ہدف بنا کر چاند ماری شروع کردی جاتی ہے۔ یہ اعزا ز صرف جناب شیخ رشید کو حاصل ہے کہ وہ بعض اوقات تین چار ٹیلیویژن چینلز کے اینکر پرسنز کو ون آن ون بیٹھ کر انگلی پکڑ کر چلا رہے ہوتے ہیں، نوکری اور ریٹنگ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دو متوازی شریعتیں چل رہی ہیں، ایک شریعتِ اسلامی اور دوسری لبرل ازم اور تجدُّد کی خود ساختہ شریعت ہے،جس کو مختلف زبانوں کے کم وبیش سو چینلز کی خدمات رضاکارانہ طور پر دستیاب ہیں، این جی اوز، سوشل میڈیا کی مختلف اصناف اور پرنٹ میڈیا کی خدمات اضافی ہیں۔ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنا ہوتا ہے،جب کہ شریعتِ اسلامی کے لیے یہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔لبرل عناصر سیاست دانوں کی طرح علماء کو بھی وقتاً فوقتاً آمنے سامنے بٹھاکر مناظرے کراتے ہیں تاکہ ناظرین کو شعور ی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ مذہب کا کام توڑنا ہے، جوڑنا نہیں ہے۔ یہ مناظرین اپنے اپنے حلقوں میں جاکر داد وتحسین کی سوغات وصول کرتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ مجالسِ مناظرہ برپا کرنے والوں کو ان میں سے کسی کے مسلک سے غرض نہیں ہے، ان کانشانہ مذہب ہے اور نئی نسل کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ جو چند مذہبی چینل ہیں، وہ اپنے برانڈ کو لے کر چل رہے ہوتے ہیں، وہ اچھے بچوں کی طرح پروگراموں کو چلاتے ہیں، کیونکہ نہایت اخلاص کے ساتھ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہے، ملکوں ملکوں جانا ہے، سو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے لیے دروازے بند ہوجائیں۔اس لیے دین کا پورا موقف اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ عوام کے سامنے آنا مشکل ہے۔

صرف جناب جاوید غامدی کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اپنی پسند کا عنوان چن کر اپنی پسند کے میزبان کے ساتھ پروگرام کریں۔ سوال وجواب بھی اپنی پسند کے ہوں اور ہر مسئلے میں اباحت کی گنجائش بھی نکال دی جائے، تو لبرل طبقے میں پذیرائی ملنا یقینی ہے۔ان کی فکر کے ایک شارح کہہ چکے ہیں کہ کفر وشرک، نفاق، ضلالت، فسق وفجور اور حق وباطل کے لیے دارالافتاء حشر میں کھلے گا یا عدالت لگے گی، اس دنیا میں ان باتوں کی اجازت ریاست کے سوا کسی کو نہیں ہونی چاہیے اور ریاست کو کیا پڑی ہے کہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالے؟ کیونکہ ان کی آرزو عافیت کے ساتھ حکمرانی سے لطف اندوز ہونا ہے۔

سو ہم بھی کہتے ہیں :قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے، انار کی نہیں پھیلنی چاہیے،اسی طرح انسانی میت کی بے حرمتی کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی،لیکن یہ تخیلاتی معراج وہاں ہوسکتی ہے،جہاں قانون،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں مکمل با اختیار ہوں، ہر ادارہ کسی جبر واکراہ اور خوف کے بغیر اپنا کام کر رہا ہو، سب اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ سمجھیں اور آئین وقانون کی مکمل بالادستی ہو، لیکن ہمارے ہاں چند مستثنیات کے سوا ایسا نہیں ہے۔جنابِ عمران خان چار سال سے پختونخوا پولیس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں، ہماری نظر میں اُن کے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے، کیونکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے سانحے میں مذہبی جماعتیں اور مذہبی افراد ملوث نہیں ہیں، یونیورسٹی میں لبرل سیکولر جماعت اے این پی کی چھاپ واضح ہے، اسٹوڈنٹس تنظیموں میں بھی ان کی ذیلی تنظیم نمایاں ہے، اس لیے اس واردات کا ملبہ مذہبی عناصر پر براہ راست نہیں ڈالا جاسکا، اس میں پی ٹی آئی اورپی پی پی کے لوگ بھی شامل تھے۔ لہٰذا اس وقوعے کا ایک واضح پیغام یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز بلکہ پورے خطے کے مسلمان، خواہ وہ عام معنوں میں با عمل مسلمان نہ ہوں، دینی مقدسات کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔

چنانچہ مردان میں کل جماعتی ’’دینی محاذ‘‘تشکیل پاچکا ہے، وہ مردان اور چارسدہ میں بڑے احتجاجی جلوس نکال چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور شعائرِ دین کی توہین اتنی خباثت کے ساتھ کی گئی ہے کہ کوئی مسلمان نہ اس کا تصور کرسکتا ہے اور نہ اسے نقل کرسکتا ہے، یہ سب کچھ وہاں کے لوگوں کے پاس ریکارڈ اور شہادت کے لیے موجود ہے۔لہٰذا اس مقدمے کی تحقیقات جامع انداز میں ہونی ضروری ہے، اس کے لیے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز سیل کو بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ بنایا جائے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں کہ اس سارے موادکی شروعات کہاں سے ہوئیں، اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔جناب خان سے گزارش ہے کہ ان سب امور کی غیر جانبدارانہ مکمل تحقیقات کرائیں، ورنہ آئندہ الیکشن پر بھی یہ مقدمہ سایہ فگن رہے گا۔سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے بتایا کہ مردان میں ایک کذاب مدعیِ نبوت کو لوگوں نے پولیس کے حوالے کیا، ایس ایس پی کے سامنے بھی اس نے اقرار جرم کیا، لیکن اس کے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکمرانوں کو کسی غیر قانونی طریقۂ کار کی مذمت کا حق توحاصل ہے، لیکن عدالتی تحقیق سے پہلے کسی کی براء ت کا اعلان درست نہیں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پختونخوا جناب پرویز خٹک نے ایسا ہی کیا ہے۔

اسی طرح الیکٹرانک میڈیا پر جو لبرل مفتیانِ کرام اورمنصفین والا شان بیٹھے ہیں، وہ بھی فوری فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ 295-C کا غلط استعمال ہورہا ہے، وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یونیورسٹی پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگوں کا ادارہ ہوتا ہے، وہاں ماسٹرزسے ڈاکٹریٹ کی سطح تک تعلیم دی جاتی ہے، پھر ان میں سے ہر ایک کو سوشل میڈیا تک رسائی بھی ہوتی ہے، کیا بقائمی ہوش وحواس یہ مانا جاسکتا ہے کہ اچانک سب پر جنون طاری ہوگیا اور ہوش و خرد کھو بیٹھے۔

مغرب سے متاثر ذہن کی تان تو اس پر آکر ٹوٹتی ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کو یکسر ختم کردیا جائے، تو کیا اس کے ذریعے آپ مسلمانوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسول مکرم ﷺ کی محبت، قرآن اور شعائرِ دین کی حرمت نکال سکیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا، اس کے پیچھے عہدِ رسالت مآب ﷺ سے لے کر عہدِ حاضر تک ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر محض شور شرابے سے مسائل کا حل ممکن ہو تو ہمارے اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں سے بڑا انقلابی اس آسمان کے نیچے اور کون ہے، کئی ایک ہیں جو ہرروز سر شام ’’حق الیقین‘‘ اور ’’اعتقاد جازم‘‘ کی حد تک قطعی فیصلے صادر کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان فیصلوں کی حیاتِ مستعار چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف چونکہ ہمارے نظام ریاست وحکومت میں ہمہ مقتدر اور عقلِ کل تھے، ڈرتے ورتے بھی کسی سے نہیں تھے، لیکن 2007ء کے بعد چشمِ فلک نے بہت کچھ دیکھا، آخرِ کار قرآن کا فرمان ہی سچ ثابت ہوتا ہے:’’اس زمین پر جو کوئی بھی ہے (ایک دن) فنا ہونے والا ہے اور (صرف) تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے، باقی رہ جائے گی، ( الرحمٰن :20-21)‘‘۔

ہم نے ہمیشہ کہا کہ دیگر تمام مقدمات کی طرح 295سی کی ایف آئی آر بھی براہ راست درج کی جائے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جس شخص پر الزام ہے، وہ پولیس کی تحویل میں چلا جائے گا اور عوام کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف نے خاص اس دفعہ کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ضابطۂ فوجداری میں یہ ترمیم کی کہ جب تک ایس ایس پی سطح کا پولیس افسر مطمئن نہ ہو، ایف آئی آردرج ہی نہیں ہوسکے گی۔عقل کا اندھا بھی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں عام آدمی کی رسائی ایس ایچ او تک ممکن نہیں ہے، ایس ایس پی تک کیسے ہوگی۔ سوآپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، جتنی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، وہ اس وقت ہوئیں جب لوگوں نے پولیس تھانوں پر چڑھائی کردی یا کسی عدالت سے حکمنامہ لے کر آئے۔

ہم نے یہ بھی تجویز کیا تھاکہ قانون میں ترمیم کر کے اس کا ٹرائل براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں کیا جائے تاکہ اگر بے قصور ہے توجلد با عزت بری ہوجائے گا اور قصور وار ہے تو سزا پائے گا۔ ہمارے میڈیا کے لبرل حضرات کا اصل ہدف قانونِ تحفظِ ناموس رسالت کا خاتمہ ہے، لیکن ایسی خواہش پالنا آسان اور پانا مشکل ہے۔ پاکستان میں مسلمان سر عام اللہ تعالیٰ، رسولِ مکرم ﷺ اور مقدساتِ دین کی اہانت برداشت نہیں کریں گے۔ پس لازم ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی باتوں کی تَقْطِیْر (Filtration) کا کوئی انتظام ہو، مذہب اور اہلِ مذہب کو ملامت کرنااس مسئلے کا حل نہیں ہے، ورنہ یہ کار خیر تو ہمارے ہاں صبح وشام ہوتا ہے۔ اس ملک کو کسی غریب یا جاہل نے لوٹ کر کنگال نہیں کیا، اس کو لوٹنے والے وہ ہیں جن کے پاس پہلے سے سونے کی ایک وادی ہوتی ہے اور جو بیرون ملک یا ملک کے اندر رؤساء کے لیے قائم اداروں میں پڑھے ہوتے ہیں۔اس مسئلے کے قابل قبول اور دیر پا حل کے لیے میری تجویز ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ سرکردہ علماء کی تفصیلی میٹنگ ہو، اس میں غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب بھی ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ ہمارے مقدسات کی توہین کرنا چاہتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نہیں، اس کا غلط استعمال روکا جائے۔سوالزام کے صحیح یاغلط ہونے کا معاملہ عدالت ہی طے کرسکتی ہے،اس کے لیے تفتیشی اور عدالتی طریقۂ کار کو سہل اور تیز تر بنانے کی ضرورت ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ہجوم عدالت لگائے، بازاروں اور چوراہوں پر فیصلے ہوں، لیکن یہ بھی تو ماننا پڑے گا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب قانونی عمل مفلوج یا بے اثر ہوجاتا ہے